Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 11
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 11
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
بھائی کیا آپ کو بھی میری بات پر یقین نہیں ہے؟؟؟؟
شفا کو ہوش آ چکا تھا ۔۔
اس کی حالت اب خطرے سے باہر تھی ۔۔اس کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔
عمر فرش پہ جائے نماز بچھائے فجرکی نماز ادا کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی سلام پھیرا شفا نے تڑپ کر بھائی سے بغیر کچھ بھی بولے صرف جھٹ سے ایک ہی سوال کیا۔۔۔
بچہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
تم آرام کرو ۔۔۔
عمر نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔۔
نہیں بھائی آپ بتائیں نا پلیز ۔۔۔۔نن
ان دونوں کی باتوں پر سوہا بھی کرسی پر بیٹھی اونگھ رہی تھی ۔۔۔آواز سن کر بیدار ہو بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
بجو مجھے اور بھائی کو تمہاری باتوں پہ پورا یقین ہے ۔۔۔۔
بلکہ ہم سب کو پورا یقین ہے ۔۔۔۔
ہمیں پتا ہے یہ صرف ایک انسیڈنٹ تھا ۔۔۔
جو ہم لوگوں کو غلط سوچنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔
سوہا نے بہن کا ہاتھ ہلاتے ہوئے دلاسہ دیا ۔۔
جبکہ عمر خاموش تھا بس بہن کو پرسکون کرنے کے لئے اس کا سر سہلا رہا تھا ۔۔۔۔
کئی سوچیں اس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے ۔۔۔۔
وہ دونوں بہنیں ننھے حمزہ سمیت پالر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
عائشہ تو برائیڈل سیکشن میں جا چکی تھی۔۔
جبکہ ائمہ بیٹھی ہوئی تھی سیٹنگ ایریا میں ۔۔۔۔
وہحمزہ کی مزے مزے کی باتوں پر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
کیسی ہو؟؟؟؟؟
اس کے برابر میں ایک عورت آکر بیٹھیں اور بغیر کسی بھی قسم کی تمہید باندھے وہ ائمہ سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ائمہ نے چو نک کر اس کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ پتھرا سی گئی۔۔۔۔
بھابھی پلیز ایک منٹ ۔۔۔۔
بس ایک منٹ ۔۔۔۔۔
وہ اپنی سابقہ نند کو اپنے روبرو دیکھ کر کچھ پریشان سی ہو گئی تھی ۔۔۔۔
اسنے کسی خوف کے زیر اثر معصوم حمزہ کو سختی سے خود سے قریب کیا اور سحر سے کچھ بھی کہے بغیر فاصلہ قائم کرکے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوں میں تمھاری بھابھی۔۔۔۔۔۔
تم کون ہو؟؟؟۔
میں یہ بھی نہیں جانتی ۔۔۔۔
دیور جی نیگ تو میں نے وصول لیا ہے۔ ۔۔
مگر بس اب ایک آخری بہت خاص رسم باقی رہ گئی ہے ۔۔۔
غزل نے شرارتی انداز میں داود کو اور عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
جبکہ غزل سے چھوٹی سمیرا دلہن بنی عائشہ کا شرار ہ ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔
جو کچھ دیر پہلے کسی چیز میں پھنسنے کی وجہ سے موتیوں میں الجھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
ارے بھابھی جلدی کہیں ۔۔۔
آپ کی ساری شرطیں منضور ہیں مجھے ۔۔۔
ارے بھابھی کے دیور جی۔ ۔۔
منضوری بعد میں دینا ۔
پہلے زرہ رسم کے بارے میں سن تو لو۔۔۔۔۔
داؤد نے ایک بے قرار سی نظر اپنی سجی سنوری دلہن کے اوپر ڈھالی اور بے چارگی سے بھابھی کو دیکھا ۔۔۔۔
جیسے کہہ رہا ہو رحم کر دو اب تو ۔۔۔
تو آج کی رسم کے مطابق۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اپنی پیاری سی دلہن کو ذرا ہمارے سامنے۔۔۔۔
یا چلوہم آنکھیں بھی بند کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔
غزل کے اوپر تو گویا شرارت کا بھوت سوار تھا ۔۔۔۔
وہ عائشہ کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔معنی خیز نظروں سے ۔۔۔۔
خوب اچھی طرح سے دیکھ لو اپنی دلہنیا کو۔ ۔۔
اگر کوئی خاص بات کہنی ہےتو وہ بھی کان میں کہہ سکتے ہو ۔۔۔
غزل نے اپنی نشیلی آنکھیں پٹ پٹ گھماتے ہوئے کہا ۔۔۔
بھابھی آپ کتنی اچھی ہے۔۔۔۔
میں تو سوچ رہا تھا یہ موقع میرے ہاتھ کمرے میں جانے کے بعد ہی مجھے ملے گا۔۔۔۔۔
لیکن آپ نے تو مجھے کھلا میدان فراہم کر دیا ہے ۔۔
۔
وہ لبوں کو گول کرکے شوخ سی دھن بجاتے ہوئے عائشہ کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
داود بھائی پہلے سن تولیں رسم کیا ہے ۔۔
سمیرا نے جیسے داود پہ ترس کھا کر اس کو کچھ سمجھانا چاہا ۔۔۔۔
ارے ہم کسی رسم وسم سے نہیں گھبراتے ۔۔۔
ہم تو وہ کھلاڑی ہیں !!جو ہاری ہوئی بازی بھی جیت جاتے ہیں ۔۔۔
وہ مزید پھیلا ۔۔۔
تو اس کا مطلب تمہیں ہماری رسم پہلے سے ہی منظور ہے ۔۔۔؟؟؟
اور نہیں تو کیا ۔۔۔
بالکل مجھے منظور ہے ۔۔۔۔
چلو پھر ایک کام کرو ذرا عائشہ کو اپنی گود میں اٹھاو ۔۔۔
نہیں بھابھی پلیز۔۔۔۔
میں کچھ چلی جاؤں گی ۔۔۔
عائشہ نے جلدی سے شرما کے داؤد کو دیکھا اور پھرغزل سے ہلکی آواز میں منمنائی ۔۔۔
نہیں بھئی رسمیں ہیں یہ تو اور رسمیں تو ہماری حویلی کی رونقیں ہیں ۔۔۔۔
داؤد نے بغیر وقت ضائع کئے عائشہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اپنے روم کی طرف بھرنے ہی لگا تھا جب غزل کی آواز پہ اس کے قدم جم سے گئے ۔۔۔۔
ارے دیور جی یہ آپ کدھر چلتے بنے ؟؟؟؟
آپ کی دلہن رسم کے مطابق آج میرے ساتھ میرے کمرے میں سوئیں گی اور آپ کے ساتھ آپ کے بھائی اور بھتیجا سوئیں گے ۔۔۔۔
غزل نے بڑے مزے سے داود کے سر پر بم پھوڑا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟
داود کو غزل کی کہی بات پہ جیسے یقین نہ آیا ۔۔۔۔
ہلکا سا کھٹکا کرکے وہ شفا کے بیڈروم میں آیا تھا۔۔۔۔
شفاء ڈسچارج ہو کر گھر آ چکی تھی ۔۔۔۔
سمیرا نازوں پلی بیٹی کو اپنےہاتھوں سے سو پ پلا رہی تھی ۔۔۔
آجاؤ حمزہ بیٹا وہاں کیوں کھڑے ہو؟؟؟؟
سمیرا نے بالکل نارمل انداز میں ہمزہ کو مخاطب کیا۔۔۔
جیسے گزرے دنوں میں کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔
میں شفا سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اسنے بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا مدعا بیان کیا۔۔۔۔۔
کیوں؟؟؟؟
شفا نے ماں کے ہاتھ سے سوپ کا آخری چمچہ بھی پی کرختم کرتے ہوئے بے رخی سے پوچھا۔۔۔۔۔
ماما آپ کہیں نہیں جائیں گی ۔۔
اگر کوئی جائے گا میرے بیڈروم سے تو وہ یہ ہے۔۔۔ آپ کا چاہیتہ۔ ۔۔۔!!
وہ انگشت شہادت سے حمزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصے اور اشتعال سے پرلہجے میں بولی ۔۔۔
میں آتی ہوں یہ رکھ کر۔۔۔۔
سمیرا نے ہاتھ میں پکڑ اسوپ کا پیالا اور خوبصورسی سلور چھوٹی سی ٹرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور بغیر شفا کا کوئی بھی ردعمل دیکھے کمرے سے چلی گئی ۔۔۔۔
میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا مجھے چیلنج کرنا ہر گز کبھی بھی مت کرنا۔ ۔۔۔
وہ اس کے سرہانے کر سی کھسکا کر بیٹھ چکا تھا جبکہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا پہن وھ اب بات کرتے کرتے مسلسل انگلیوں کے بیچ گھما رہا تھا ۔۔۔
کیوں آئے ہو میرے بیڈروم میں اب؟ ؟؟
سکون نہیں ملا ابھی تک تمہیں؟؟؟
مزید اور کتنا برا کرو گے میرے ساتھ؟؟؟؟
اتنا کافی نہیں ہے تمہارے لئے ؟؟
کہ ایک لڑکی کے پاک دامن پہ تم نے کیچڑ اچھال دی میرےپاک صاف دامن کو داغدار کردیا۔ ۔۔۔
اس کے گھر والوں کی نظروں میں اس کو سفر کر چھوڑا ؟؟؟؟
وہ بے خوفی سے کہہ رہی تھی کوئی بھی ڈر خوف اس کی آنکھوں میں موجود نہ تھا۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ شاید تم میری اور اپنی عمرو ں کا درمیانی فرق بھول چکی ہو ۔۔۔
وہ ایسے بول رہا تھا جیسے شفا اتنی دیر سے بس کوئی اول جلول سی بکو اس کر رہی ہوں ۔۔
جبکہ اہم بات تو وہ تھی جو وہ کہہ رہا تھا ۔۔
شفاء اس سے پورے نو سال چھوٹی تھی ۔۔۔
بہت خیال ہے تمہیں اپنی اور میری عمر کے درمیانی فرک کا؟؟؟
اس کے چہرے پہ سوائے نفرت کے کچھ نہ تھا!! حمزہ نے بہت غور سے اس کے تیکھے نقوش میں رقصاں اس کے لیے شدید حقارت اور نفرت پڑھیلی تھی بخوبی ۔۔۔۔
آج کے بعد مجھ سے تمیز سے مخاطب ہونا !!یہ تمہارے حال اور مستقبل دونوں کے لئے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے تمسخرانہ مسکرایا اور اس کے چہرے پر آئی آوارہ لٹ کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر چھوڑا ۔۔۔
وہ اس عمل سے کررہ اٹھی تھی ۔۔
جبکہ کئی بال حمزہ کی انگلی میں بھی ٹوٹ کرلپٹے تھے اتنی بے دردی سے کھینچنے کی وجہ سے ۔۔۔۔
میرے حال اور میرے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ابھی میرے ماں باپ سلامت ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!
غلط۔۔۔۔!!
ایک دم غلط تمام تمہارے مستقبل کا فیصلہ میں کرچکا ہوں ۔۔۔۔۔۔
کیسا فیصلہ!!وہ ٹھٹکی۔ ۔۔
پوچھو گی نہیں میں اس وقت یہاں کیوں آیا ہوں ۔۔؟؟؟؟
میں نے نہیں بلایا تمہیں۔۔۔۔
اس لئے میں پوچھوں گی بھی نہیں ۔۔۔
وہ تمام تر لحاظ بالائے طاق رکھ چکی تھی ۔
تم سمیت میری ماں کو بھی یہی لگ رہا ہے کہ میں تم سے معافی طلب کرنے آیا ہوں ۔۔۔۔
وہ معنی خیز سی ہنسی ہنسا۔۔
میں تم جیسے بے ہودہ شخص سے اس قسم کی کوئی امید بھی نہیں رکھ سکتی ۔۔۔
بلکہ میں تو تم سے اس سے زیادہ مزید گھٹیا پن اور نیچ ہرکتوں کی امید رکھتی ہوں ۔۔
کیونکہ دلوں کو توڑنے والے!! دلوں کو جوڑنا کب جانتے ہیں ؟؟
طنز کا تیر چلایا گیا ۔۔۔۔۔۔
اتنی بڑی بڑی باتیں مت کرو جس دن جان جاؤ گی کہ دل ٹوٹنا اور زخم سہنا کسے کہتے ہیں؟؟
اس دن شاید میری اور میری ماں کے روح کے ریزہ ریزی ہوئے پرخچے دیکھ کر شاید تمہاری چیخ بھی نہ نکل سکے ۔ ۔ ۔۔۔۔۔
آخر ایسا کیا ہے ؟؟؟
جس کا بدلہ تم میرے باپ سے لینے کی خاطر کسی بھی حد سے گزرنے کے لیے تیار ہو؟؟؟؟
شفا کا لہجہ ٹوٹا ٹوٹا سا تھا ۔۔۔۔۔۔
یہ تمہارا باپ تمہیں خود بتائے گا اپنے منہ سے۔۔۔!!
جب تک اس وقت کا انتظار کرو ۔۔۔۔
اگر آپ کی بات ختم ہو گئی ہے تو برائے مہربانی آپ میرے کمرے سے دفعان ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔
وہ اب انتہا بدتمیزی اور بے اعتنائی پہ۔ اترآئی تھی۔ ۔۔
اس کی نظروں میں حمزہ انتہائی گھٹیا اور گرا ہوا نیچ انسان ثابت ہو رہا تھا ۔۔۔
میرے لئے آج تمہارے پرپوزل کی بات کر چکی ہے ماما جانی۔۔۔۔۔
تمہاری والد محترم اور والدہ ماجدہ سے ۔۔۔۔
وہ دوٹوک لہجے میں کہتا بہت دلچسپی سے اب اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر محضوض ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ جو رخ پھیر گئی تھی ۔۔
یکدم حمزہ کی کہی بات سن کہ وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی اور ادھر ادھر ہاتھ مار کر اپنا دوپٹہ تلاش کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔
اتنی دیر سے اس نے خود کو کمفرٹر کے اندر چھپایا ہوا تھا !! ھمزہ کی نظروں کی تپش وہ خود پہ اچھی طرح کنفرٹر ڈھانپے کے باوجود بھی بہت اچھی طرح محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
میرا نہیں خیال کہ آپ کا دماغ کام کرتا ہے ۔۔۔
مجھے لگتا ہے آپ کا دماغ بالکل فارغ ہو چکا ہے۔۔
آپ جانتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ نے کیا کہا ہے ۔۔؟؟؟؟
