Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 34

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 34

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

سہی سے دیکھو یہی ایڈریس دیا تھا تمہیں ارمغان نے یا پھر کہیں تم غلط پتے پر آ گئے ہو ؟؟؟

غزل نے پریشانی سے ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے ڈرائیور کو کہا ۔۔۔۔

ملکانی جی یہی پتہ دیا تھا مجھے صاحب نے میں بالکل صحیح پتے پر آپ لوگوں کو لے کر آیا ہوں ۔۔۔

ڈرائیور کے لہجے میں بے چارگی تھی ۔۔۔۔

بہو مجھے لگ رہا ہے جیسے ارمغان نے جلدی جلدی میں ڈرائیور کو غلط پتہ لکھوا دیا ہے ۔۔

وہ سامنے موجود اجاڑ اور ویران پڑے بند گھر کو دیکھ کر بولی تھیں چہرے پر پریشانی ہویدا تھی ۔۔۔۔۔۔۔

بی بی جی اور ملکانی جی آپ دونوں اطمینان سےبیٹھیں میں ذرا آس پاس کے گھروں میں سے کسی سے معلومات حاصل کر کے آتا ہوں ۔۔۔۔۔

وہ ہاتھ میں ارمغان کا دیا پرچہ لے کر اترا تھا جس میں فجر کے والد صاحب کے گھر کا ایڈریس رقم تھا ۔۔۔

ڈرائیور ویران گھر کے برابر والے گھر میں سے نکلتے ایک مزدور کو روک کر پوچھنے لگا تھا پتہ دکھا کر جب غزل نے ہلکا سا شیشہ کھولا تھا تاکہ ڈرائیور اور ان بزرگوں کی ہونے والی گفتگو سے اندازہ لگا سکے صحیح پتہ کا کیونکہ اس کو لگ رہا تھا جیسے ڈرائیور ارمغان سے صحیح طریقے سے گھرکا ایڈریس سمجھ نہیں پایا ہے ۔۔

سر جی ایڈریس تو یہی ہے مگر یہ گھر تو پچھلے 37 سال سے بند پڑا ہے ۔۔۔۔اس گھر میں پچھلے کئی سال سے کوئی آکر بس نہیں سکا ۔۔۔۔

تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے ؟؟

ڈرائیور نے خامخوا تجسس میں آ کر استفسار کیا ۔۔۔۔

جی ہاں اس گھر میں جس چیز کا بسیرا ہے وہ یہاں کسی کو بھی ٹکنے نہیں دیتی ۔۔۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ گزرے کئی سالوں سے یہاں کوئی بھٹکا تک نہ اور آج آپ لوگ اچانک ہاتھ میں اسی گھر کا پتہ لیے چلے آئے ہیں ۔۔۔

بزرگ شدید حیرت میں تھے ۔۔۔۔

شکریہ آپ کا بہت بہت ۔۔

وہ ان سے مصافحہ کرکے واپس گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔۔

ملکہ انی جی لگتا ہے ارمغان صاحب نے جلدی جلدی میں ہمیں غلط ایڈریس دے دیا ہے۔۔۔۔

آپ ایسا کریں کہ صاحب کو فون کرکے صحیح ایڈریس معلوم کرلیں تاکہ میں آپ لوگوں کو وہاں پہنچا سکوں ۔۔۔۔

ڈرائیور نے ایک نظر حیران پریشان اس آسیب زدہ گنجان ویران گھر پہ ڈالی تھی ۔۔

اس کا دل چاہا کہ وہ ابھی اور اسی وقت اس گھر کے سامنے سے اپنی گاڑی کو ہٹا کر کہیں اور لے جائے ۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں فون کرتی ہوں تم یہ بتاؤ تم نے فجر کے والد صاحب کا نام تو بتایا تھانہ ؟؟؟

غزل کے بجائے اب اماں جان نے نے استفسار کیا تھا چہرے پر گہری سوچ۔ کی لکیر یں ابھری تھی ۔۔

غزل نے چونک کر اپنی ساس کے چہرے کے تاثرات کو جانچنے کی کوشش کی تھی مگر وہ کسی بھی قسم کا اندازہ نہ لگا سکی ۔ ۔۔

رہنے دو بہو مت کرو ارمغان کو فون ڈرائیور ہوں میں کام کروں گا ڑی گھرپہ واپس لیلو۔

اماں جان کو ایسا لگا جیسے ان کے دل پہ کسی نے اپنا بھاری وجود رکھ دیا ہو ۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے سانس لیتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

چلو ڈرائیور گاڑی واپس لے لو مجھے اماں جان کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ ۔۔

گھر جاکے ارمغان سے کہہ کر فون پہ ہیں دعوت دیدینگے ولیمہ کی۔ ۔۔

رہ گئے شگن کے تحائف تو وہ کل ولیمے کی تقریب کے بعد ہی فجر کے گھر والوں کو دے دیں گے ۔۔

غزل ساس کی بگڑتی ہوئی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈرائیور کو جلدازجلد واپس جانے کا حکم صادر کیا تھا ۔۔

جبکہ اماں جان جب تک اس گھر کو دیکھتی رہی جب تک وہ پھر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گیا ۔۔۔

وہ بہت بری طرح سے تھک چکی تھی پچھلے کئی گھنٹوں میں وہ سالوں کی مسافت طے کرکے آئی تھی۔۔

نہ ہی وہ کوئی روایتی دلہن تھی جو دولہا کا انتظار کرتی اور نہ ہی یہ شادی کوئی بہت امنگوں سے سرانجام پائی تھی ۔۔

” میں جانتی ہوں عمر تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔۔تمہارا دل بہت بڑا ہے جو ایک ایسی لڑکی کو اپنے نکاح میں لیا جو اپنی عزت لٹا چکی ہو ۔۔۔”۔

“تمہیں پورا حق ہے اپنی زندگی خوشیوں بھری بسر کرنے کا ۔۔۔۔۔۔”

“میں کبھی تمہیں خود سے زبردستی باندھ کر نہیں رکھوں گی ۔۔۔۔۔۔۔”

“دوسری شادی کا تمہارا حق بنتا ہے ۔بس عمر میری زندگی کا بس اب ایک واحد مقصد رہ گیا ہے وہ ہے اپنی سانسوں کو گن نا ۔۔۔۔۔۔”

” عمر میری تم سے ایک اور آخری خواہش ہوگی کہ زندگی میں کبھی بھی تم مجھ سے اپنا نام مت چھین نا ۔۔۔۔”

وہ سوچتے سوچتے نہ جانے کب نیند کی وادی میں اتری تھی۔ اس کو خود کو بھی خبر نہ ہوئی تھی آنکھ تو اس کی جب کھلی جب عمر کے دہکتے لمس کو اپنی سردپیشانی پہ محسوس کیا۔ وہ سہم کر اٹھ بیٹھی تھی۔ آنکھوں میں وحشت اتر آئی تھی چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑھا تھا ۔۔۔

کچھ ہی لمحوں میں شدید خوفزدہ ہو چکی تھی ۔۔

خوف و ہراس اس کی آنکھوں میں ان ہلکو لے رہا تھا ۔۔

عمر کو خود سے قریب دیکھ کہ خوف سے بری طرح کانپ رہی تھی ۔پورے وجود میں جھرجھری سی دوڑ گئی تھی ۔۔۔

لائبہ کا پورا سراپا اس وقت پسینے سے شرابور ہو گیا تھا ۔۔۔لرزاہٹ تاری تھی ۔۔

آ۔ ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ بہت مشکل سے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہہ سکی تھی ۔۔۔

“ریلیکس کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔؟”

“میں ہوں تمہارا شوہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

عمر گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پہ آیا پسینہ اپنے ہاتھ کی پشت سے جذب کرنے لگا ۔۔۔۔

“مم۔ ۔۔۔مجھے ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔۔”

وہ عمر کا لمس اپنے رخسار پہ محسوس کرکہ کرنٹ کھا کر دورہ ڈی سی ۔۔۔

عمر کو اس پل اس کی آنکھوں میں اپنے لیے شناسائی کی کوئی رمق نہیں نظر آرہی تھی ۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں خوف تھا ۔۔وحشت تھی۔۔۔ بے اعتمادی تھی ۔۔۔

وہ اپنے محسن سے بھی ڈر رہی ۔۔۔عمر کو شدید افسوس ہو رہا تھا لائبہ کی ذہنی حالت پہ۔ ۔۔۔

“میں سمجھتا ہوں تمہاری کیفیات کو بہت بہتر ۔بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کس صرف میں ہی ہوں تمہیں ۔ ۔۔۔۔۔ “

وہ نرمی سے اس کا مرمریں گداز ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اس کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

“جانتی ہوں۔ ۔۔۔۔۔”

لائبہ نے اس دفعہ اپنا ہاتھ عمر کے ہاتھ میں سے کھینچنے کی کوشش نہ کی تھی مگر پھر بھی عمر اس کے ہاتھ کی لرزش اور برف کی مانند یخ بستہ ہوئے ہاتھ سے بخوبی اندازہ لگا سکتا تھا اسکی کیفیت کا۔ ۔۔۔۔۔مگر اس دفعہ لائبہ کے انداز میں پہلے جیسی اجنبیت نہ تھی ۔۔۔۔۔۔

“خود ک اذیت مت دو میں چاہ کر بھی تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ اب بیڈ سے اٹھ کر فاصلے پہ رکھے صوفے پر جا بیٹھا تھا لائبہ کی وحشت زدہ آنکھیں اور خوف سے تھرتھر کانپتا وجود اس بات کی گواہی تھا کہ وہ عمر سے بھی خوفزدہ ہے۔۔۔

وہ اس پر بھی اعتبار نہیں کر پا رہی ہے ۔۔۔۔

عمر نے تعصب سےاسکو دیکھا ۔۔

“یہ وہ لڑکی تو نہ تھی جس کو وہ جانتا تھا ۔اس کی لائبہ تو بہت شوخ و چنچل زندگی سے خوشیاں کشید نے والی لاؤبالی سی لڑکی تھی۔ یہ لڑکی تو کوئی دوسری ہی تھی ۔۔”

لائبہ اسکے فاصلہ قائم کرنے سےکچھ دیر بعد جیسے پر سکون ہوئی تھی اور اب شرمندہ سی کھڑی بیدردی سے اپنے لب کچل رہی تھی۔۔

س ۔۔۔۔۔سوری۔۔۔۔۔۔!!

وہ آنکھوں میں نمی لیے پشیمان لہجے میں بہت دھیمے سے بولی تھی ۔

لائبہ اس لمحے عمر سے نظریں ملانے سے قاصر تھی وہ اپنے ہاتھ کی لکیروں میں نہ جانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔

بول کے لب آزاد ہیں تیرے۔

بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کے جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کے آہن گر کی دکاں میں ۔

تند ہے شعل ،سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے ۔

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کے سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے ۔۔

عمر کو نہ جانے کیوں اس افسردہ سی لڑکی کو دیکھ کہ برسوں پہلے سنے یہ دل کو چھو لینے والے اشعار ذہن میں آئے تھے۔ جو کبھی اس نے کالج کے زمانے میں سنی تھی۔ وہ کوئی خاص شاعری سے لگاؤ نہیں لگتا تھا ۔بس نہ جانے کیا تھا۔ جب پہلی دفعہ ایف ایم پہ خلیل اللہ فاروقی کی ساحرانہ آواز میں یہ خوبصورت اشعار سنے تو وہ ان میں جکڑ سا گیا ۔۔وقت وقت کی بات ہے ۔۔واقعی کچھ چیزیں وقت کے ساتھ ہی آپ کو بہتر سمجھ میں آتی ہے ۔۔

“تم پریشان مت ہو میرا مقصد تمہیں ہراساں کرنے کا ہرگز بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔”

“میں تمہارے اعصاب کو پرسکون کرنے کی غرض سے تمہارا سر دبانے کے لئے بیڈ پہ تمہارے نزدیک بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔”

وہ جان کر صفائی پیش کرنے لگا تھا ۔۔لائبہ کو نئے سرے سے خود سے بے تکلف کرنا چاہ رہا تھا۔۔

وہ جانتا تھا کہ لائبہ اس کے چھونے سے لمس کی حدت کو محسوس کرکہ خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔۔

اس کے اعصاب شدید تناؤ کا شکار تھے۔

وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ لائبہ کے دل اور دماغ کی آمادگی کے بغیر اپنا حق کبھی وصول کرے گا ۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا لائبہ کے قریب آیا تھا اور اس کو دونوں شانوں سے تھام کر بیڈ پہ بٹھاگیا ۔۔

لائبہ سن سی رہ گئی اس کو خود سے اتنا قریب دیکھ کے ۔۔۔۔۔

کیا میں خوش ہوں ؟؟؟

آج حمزہ شفا کے جانے کے بعد اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھا کر گھر سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔ پچھلے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے سے وہ خوامخواہ میں ریش ڈرائیو کرتا سڑکیں ناپ رھا تھا ۔

ایک گھنٹے میں وہ کئی دفعہ ایک ہی سڑک کی خاک چھان چکا تھا نیز 12 کے قریب سگریٹیں بھی پھونک ڈالی تھیں ۔مگر دل تھا کہ کسی طور بھی سکون نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

آج میں جیت گیا ہوں مگر پھر بھی میری یہ خوشی اس قدر کھوکھلی کیوں ہے ۔۔؟؟

کیوں میرا دل اندر سے بجھا بجھا سا ہے ؟؟؟؟

آج تو مجھے بہت خوش ہونا چاہیے میری زندگی کا اولین مقصد پورا ہونے کو ہے ۔۔۔

تو پھر یہ بے سکونی کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

آخر میں خود کو کیوں کر مطمئن نہیں کر پا رہا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

میرا دل اس بات پہ دہائیاں دے رہا ہے کہ میں نے شفا کے ساتھ زیادتی کردی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

کیوں۔۔۔ ؟؟؟

آخر کیوں ۔۔۔۔؟؟؟؟

تم بن جیا جائے کیسے

کیسے جیا جائے تم بن

صدیوں سے لمبی ہیں راتیں

صدیوں سے لمبے ہوئے دن

آ جاؤ لوٹ کر تم

یہ دل کہ رہا ہے

پھر شام تنہائی جاگی

پھر یاد تم آ رہے ہو

پھر جان نکلنے لگی ہے

پھر مجھ کو تڑپا رہے ہو

کیا کیا نہ سوچا تھا میں نے

کیا کیا نہ سپنے سجائے

کیا کیا نہ چاہا تھا دل نے

کیا کیا نہ ارماں جگائے

اس دل سےطوفاں گزرتے ہیں

تم بن نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں

آ جاؤ لوٹ کر تم

یہ دل کہ رہا ہے

تم بن جیا جائے کیسے

کیسے جیا جائے تم بن ۔

وہ ڈرائیو کرتے ہوئے مسلسل ریپلے کرکے بسی یہی سنے چلا جا رہا تھا ۔۔

شاعر کے بول اس کو اپنی ذات کی عکاسی کرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم بن کیا میں جی سکوں گا ۔۔۔۔۔؟

کیا واقعی حمزہ جلال ۔۔۔۔ شفاء حمزہ جلال کے بغیر سانس لے سکے گا ۔۔؟؟؟

وہ یک لخت چونکا تھا ۔۔

آج شفا کے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑا تھا انجانے میں ہی سہی مگر کہیں نہ کہیں دل نے شفاء کے لیے دہائی دی تھی ۔۔۔

وہ اس کے دل و دماغ سمیت اس کے حواسو ں پہ بھی تاری ہو گئی تھی ۔۔

انسان کی قدر اس کے کھو دینے کے بعد ہی آتی ہے شفا سے اس کو دور ہوئے محض کچھ گھنٹے ہی گزرے تھے ۔۔۔مگر حمزہ کو لگ رہا تھا جیسے وقت چیونٹی کی سی رفتار سے سرک رہا تھا۔ ۔

۔۔۔۔

شفا کے وجود کی دلفریب خوشبو اس کو اپنے وجود سے اٹھتی محسوس ہورہی تھی۔ ۔۔جو اسکو کسی طور سکون نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

عمر اسکو اپنے بازو کے حلقے میں لیے گھر کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔

بڑھی امی۔۔

چھوٹی امی۔۔۔۔

باہر آییں آپ لوگ زرا اوردیکھیں میری بہن پہ کیا گزری ہے۔

دوپہر کا وقت تھا سب لوگ اپنے اپنے رومز میں تھے۔۔۔

عمر کے اس طرح شور مچانے پر سب لوگ حواس باختہ سے باہر آئے تھے اپنے اپنے کمروں میں سے ۔

لائبہ بھی سہم کر شور شرابہ سن کہ اوپر عمر کے کمرے سے نیچے اتر آئی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ہے؟ ؟

اور شفاء کیوں اسطرح اجڑی حالت میں آئ ہے۔ ۔۔؟؟؟

سمیرا نے دہل کر پوچھا بیٹی کے بغیر کہہ بھی وہ پہچان گئ تھی کہ وہ کافی وقت سے روتی رہی ہے۔ ۔۔۔

یہ اب دوبارہ حمزہ کے ساتھ نہیں جائے گی۔۔۔۔!!

“جاو لائبہ شفاء کو لیکر جائو اسکے کمرے میں۔ ۔۔”

اسنے حیران پریشان سی لائبہ کودیکھ کر کہا لہجہ شدید اشتعیال آمیز تھا۔جبکہ آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ ہورہی تھیں۔ لائبہ نے اپنے مزاجی۔ خدا کے حکم کی جھٹ تعمیل کی تھی ۔شفاء کو بکھرا بکھرا ساکت سہ دیکھ وہ اپنا غم فراموش کر گئ تھی ۔۔شفاء کی حالت اسکو پریشان گرگئ تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔

جو شخص بزاتِ خود کسی عظیم دکھ سے گزر رہا ہو وہ بہت بہتر کسی دوسرے غمزدہ شخص کا دکھ سمجھ سکتا ہے۔ ۔

مگر ہوا کیا ہے؟

سہی سے بتائو پہلیاں مت بجھوائو ۔ ۔۔۔۔

تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟؟؟؟

ائمہ نے دہل کہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھا تھا جبکہ سمیرا بس پریشان سی کبھی عمر کو تو کبھی لائبہ کے ساتھ جاتی اپنی لختے جگر کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔ ۔۔۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک مسئلہ حل نہیں ہوا تھا پورے طریقے سے کہ دوسرا شروع ہونے کو تھا ۔۔۔

نجانے کس کی بری نظر لگ گئی ہے میرے ہنستے بستے گھر کو؟؟؟

آئمہ ، شفا کو ڈبڈبائی نظروں سے دیکھتی ہوئی بے بسی سے بڑبڑائی تھی ۔۔۔۔۔

آپ لوگ جانتے ہیں اس گھر کے لاڈلے چشم و چراغ نے میری بہن کو طلاق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ابھی اس کا جملہ پورا بھی نہیں ہوا تھا جب دھڑام سے کسی کے زمین بوس ہونے کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔

بابا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔!!!!!

شفا روتے ہوئے زمین بوس ہوئے رحمان صاحب کی طرف لپکی تھی۔ ۔۔۔ جو اپنے دل پہ ہاتھ رکھے بری طرح کھانس رہے تھے ۔۔۔۔۔

سوہانے بڑی پھرتی سے لنچ کا احتمام کیا تھا اور اب وہ مصطفی کے جاگنے سے پہلے ٹیبل سیٹ کر دینا چاہ رہی تھی۔۔۔

ایک نظر گھڑی پہ ڈالی جو کہ ساڑھے 3 بجا رہی تھی اور پھر کچن سےکھانے کی پلیٹیں اور گلاس لے کر ٹیبل کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔

سلیقے سے اس نے بڑے اہتمام کے ساتھ کھانےکی میز پر کھانا چنا تھا اور اب وہ ایک شریر سی مسکراہٹ لیے مصطفی کے سر پہ دندنانے کو جا پہنچی ۔۔

اجی اٹھتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

یا میں سارا کھانا اکیلے ہی ہضم کر جاؤں۔۔۔۔۔۔؟؟؟”

وہ بھی ڈکار مارے بغیر ۔۔۔۔۔ “

سوہا کو تو جیسے سنجیدگی چھو کر ہی نہیں گزری اب بھی اسکے سر پہ جیسے شرارتوں کا بھوت سوار تھا ۔۔۔۔۔

وہ مصطفی کے بالوں کو بگاڑتے ہوئے بولی تھی جبکہ ہاتھ میں چھپا زردائی رنگ خاموشی سے اس کے سر میں بھر ڈالا تھا ۔۔۔

مصطفی کے بالوں کو زرد رنگ میں دیکھ کر اس کی ہنسی ضبط کرنے کے باوجود بھی نہیں رک رہی تھی۔ ۔۔۔۔

کیا ہے اٹھ گیا ہوں۔۔

اب کیا میرے فرشتوں کو بھی جھنجوڑ کر اٹھانے کا ارادہ ہے؟؟؟؟

وہ اس کی باریک آواز پہ جھنجلا کر اٹھا تھا ۔۔۔

چہرے پر نیند خراب ہونے کی وجہ سے اکتاہٹ واضح تھی ۔۔۔۔

چلیں آئندہ چمچ بجاکہ اٹھاؤنگی زور زور سے شیشے کی ٹیبل پہ ۔۔۔۔۔!!!

اس طرح آپ کو میری سریلی آواز کو بھی نہیں سننا پڑے گا ۔۔۔۔۔”

اس نے مستقبل کے لیے اپنا نیک خیال ظاہر کیا تھا ساتھ ساتھ وہ لاؤنج بھی سمیتٹی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس کے آنکھیں پٹپٹا کہ کہنے پر مصطفی نے اس

کو خونخوار نظروں سے گھوراتھا ۔۔۔

“اوور ایکٹنگ میں تو تم نے پی ایچ ڈی کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔”

میرا نہیں خیال کبھی تم نے کسی کو خوش رکھنے کی اپنی سی کوشش کی ہوگی ۔۔۔۔۔”

وہ اسکی خامخوا میں بتیسی کی نمائش کرنے پر چڑھ سہ گیا ۔۔۔

میں ایک وقت میں صرف ایک ہی انسان کو خوش رکھ سکتی ہوں ۔۔

اور پتہ ہے وہ ایک انسان کون ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟؟

کون۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟تیوری چڑھا کے پوچھا گیا ۔۔۔

وہ میں خود ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

ہاہاہا۔ ۔

سوہا بڑے اسٹائل سے فرضی کالر جھا ڑ تے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھے مصطفی کی پلیٹ میں چکن ہاٹ چلی اور فرائیڈ رائس نکال دیتے ہوئے اس کو بھرپور انداز میں سلگانے کا کام بھی ساتھ ہی ساتھ انجام دے رہی تھی ۔۔۔۔

اس نے ایک نظر سوہا پہ ڈالی تھی جو اس وقت اس کی ٹی شرٹ اور اسکا ہی ٹراوزر زیب تن کیے خاصی ریلیکس نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔

لگتا ہے آپ کو اپنے کپڑے مجھ پر زیادہ سوٹ کرتے لگرہے ہیں اسی لیے تو آپ کھانا کھانے کے بجائے مجھے گھورتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟

شرم کریں ایک مرد ہو کہ آپ کو مجھ جیسی خوبصورت حسین و بے ضررسی لڑکی سے حسدمحسوس ہو رہی ہے ۔۔۔

اپنا یہ منہ بند کرنے کے لئے کیا جرمانہ وصول کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔؟؟؟

مجھ پہ ایک مہربانی کرو کہ اپنی یہ فضول قسم کی ہاکنا بند کردو۔۔۔۔۔۔۔وہ غرایا ۔۔

ہاں تو آپ بھی مجھے یہ اپنی بڑی بڑی شیر جیسی آنکھوں سے گھورنا بند کریں۔۔۔۔۔۔

ایویں مجھے آپ سے ڈر لگنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تڑخ کر بولی تھی مصطفی کا ٹکٹکی باندھ کر اس کو تکنا کھولا گیا تھا۔۔۔۔

مگر ابکی دفعہ وہ خاموش رہا اس وقت وہ صرف سکون سے کھانا کھانا چاہتا تھا سوھا کی بے سروپا باتوں میں پڑھ کر وہ مزید اب اپنا خون جلانے کے حق میں ہرگز بھی نہ تھا اور پھر سوہا نے چائنیز بھی بنایا تھا ۔۔۔

چائینیز اس کی کمزوری ٹھہری۔ ۔

اس نے بڑے مزے سے پہلا چمچہ ہی حلق میں اتارا تھا مگر اس کے فوراً بعد ہی اس کو 2 گلاس پانی کی اشد ضرورت پڑی تھی۔۔

جو کہ وہ پر کالا دانستہ لانا ہی بھول گئی تھی پانی کی بوتل ۔

مرچ تیز ہونے کے باعث مصطفی کی آنکھوں سے پانی بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔

دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا ۔۔۔۔؟؟؟

یہ تم نے چائنیز میں اسقدر اسپائس کیوں ڈالی ہیں۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

پھل جڑی لگانے کا ہی کام سرانجام دینا آتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ سی سی کرتااس پہ غرایا۔۔۔۔

ارے نہیں نہیں ۔۔۔۔۔

اتنی مرچیں نہیں ہے جتنی آپ کو لگتی ہیں ۔۔

وہ چبا چبا کر بولی تھی ۔۔۔

چلیں کھانا کھائیے نا۔ ۔۔۔

زیادہ مرچیں چبانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

وہ دوبارہ اس کی طرف پلیٹ کھسکا کر بولی ۔۔

مجھے نہیں کھانا یہ کھانا۔۔۔۔

پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جو میں تم سے دل لگا بیٹھا۔ ۔

مجھے ہی محبت کے پاگل کتے نے کاٹنا تھا ۔۔۔

وہ دھاڑ سے کر سی دھکیلتا ٹیبل سے اٹھتے ہوئے دھم سے اپنا سیدھے ہاتھ کا مکاہ بناکر مارتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

ایم سوری ۔۔ !!

سوہا کی کوئل جیسی آواز مصطفی کے کانوں میں بری طرح کھلی۔۔

مصطفی نے اسکو خونخوار نظروں سے دیکھا۔۔

وہ اپنے کانوں کو پکڑے بچوں کی طرح معصوم سی شکل بنائے معذرت کر رہی تھی ۔۔

وہ الگ بات تھی کہ پشیمانی چہرے پر کہیں بھی ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہی تھی ۔۔

بہت بہت مہربانی تمہاری ویسے مجھے سوری کہہ دینے سے میرا پیٹ نہیں بھر جائے گا۔۔۔۔۔”

تو کس نے کہا ہے بھوکا رہنے کو ۔۔۔۔۔؟؟؟

جو کھانا میرے سامنے رکھا ہے وہ چاہ کر بھی میں زہر مار نہیں کر پا رہا ۔۔۔۔۔”

تو مت کیجئے یہ تو میرے لئے ہے ۔۔۔۔ !!

آپ کے لئے تو میں نے اسپیشل یہ بنایا ہے ۔۔۔۔”

وہ دوسری ڈش میں رکھے باربی کیو شاشلک اسٹکس کی سٹیٹس تھک کر ہٹا کر ملی تھی مجھے نہیں کھانا کیا پتہ ہے اس میں واقعی تم نے زہر ڈالا ہو مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ۔۔۔

وہ کچھ محتاط ہوا تھا وہ بادہ کرلی اب اتنی محبت سے بنائے گئے شاشلیک میں کہیں نمک کی تعداد کلو برابر ہی نہ ہو ۔۔۔

مصطفی تیزی سے آگے بڑھا تھا جب سوہانے بے اختیاری میں اس کی کلائی کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑنے کی ناکام کوشش کی۔

مصطفی جو تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

سوہا یکلخت اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی غرض سے تیزی سے بڑی تھی مگر اپنا دھان پان سا وجود ہونے کے باعث توازن برقرار نہ رکھ سکی تھی اور سیدھے مصطفی کے چوڑے سینے سے آ لگی ۔۔۔

جبکہ مصطفی اس کو بچانے کی فکر میں اس کی کمر کے گرد حصار باندھ چکا تھا یہ سب نہ داستانتگی میں ہوا تھا ۔۔۔

مم۔ ۔۔۔۔۔۔۔مصطفی بھا ۔۔۔۔۔۔۔۔””

اونہوں۔ ۔۔۔ مصطفی کہو۔۔۔!!!

ششش۔ ۔۔۔۔۔۔”

بس مصطفی ۔۔۔۔۔”

تمہارے لبوں سے مجھے صرف مصطفی سننا پسند ہے۔۔۔۔۔”

وہ بھاری لہجے میں سرگوشیا نہ انداز میں بولا تھا ۔۔۔

سرگوشی کیا تھی سوہا کو لگا تھا جیسے کوئی سحر تھا جو اس کو خود میں جکڑ رہا تھا ۔۔۔

مصطفی کی وجود سے اٹھتی دی بلیک کی خوشبو اس کو اپنے حواس و پہ تاری ہوتی محسوس ہونے لگی ۔۔

اس کے تراشیدہ مونچھوں تلے لبوں پہ رقصاں مسکراہٹ میں ایک اصرار سہ تھا۔۔۔۔

وہ نظریں چرا گی ۔۔۔

وہ چاہ کر بھی ان گہری آنکھوں میں رقم تحریریں پڑھنے سے گریزاں تھی ۔۔

آنکھیں پانیوں سے تر ہو چکی تھی اور وہ بے ہمت سی ہوئی پلکوں کی چلمن گرا گئی تھی ۔۔۔

مصطفی کو ٹوٹ کر پیار آیا تھا اس دشمنی جہاں پہ۔۔۔۔۔۔

اس لمہے وہ اسکوکسی موم کی گڑیا سی لگی تھی جو ذرا سی لوح دینے سے پگھلنے کو تھی ۔۔۔

اسکو سوہاکے اس طرح معصومانہ انداز میں سٹپٹا کر سر جھکانے سے جیسے رحم سا آگیا تھا اس ۔۔

یکایک اپنے دونوں ہاتھ اس کی چھریری کمر سے ہٹا کر مصطفی نے اس کو بھرپور نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔

اور پھر اس کے گلابی چہرے کو وارفتگی لٹاتی نظروں سے تکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اس کے چہرے کو قید کر گیا۔ ۔حیا کے کئی رنگ اس پل سوہا کے چہرے کا طواف کر رہے تھے ۔۔

تمہاری اسی کمسنی اور معصومیت نے ہی تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔”

وہ بڑبڑایا تھا ۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح سے محسوس کر سکتا تھا کہ سوہا اس کی آنچ دیتی قربت سے بری طرح سہم گئی تھی ۔۔

جج۔ ۔۔ججیییییی۔ ۔۔؟؟

میں کچھ سمجھیں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔

منمنائی تھی ۔۔۔

یہی تو مشکل ہے کہ تم جانتے بوجھتے بھی سمجھنے سے قاصر ہوں یا پھر سرے سے سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہو۔۔۔!!!

وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا جیسے کچھ پوچھنا چاہ رہا ہو۔۔

یا پھر کسی پہلی کو سلجھانے کی تگ و دو میں ہو ۔۔

کچھ چیزوں کو وقت سے پہلے سوچنا اور ان کے تانے بانے بنا بیوقوفی ہے ۔۔۔۔

وہ آنکھیوں کے جھروکوں کو گرائے ہوئے بولی تھی خوبصورت دلکش چہرہ مصطفی کے ہاتھوں کے پیالے میں قید تھا۔۔۔

سوہا کو اپنا وجود اس وقت اس کے سحر کے زیر اثر محسوس ہوا ۔وہ بے خیالی میں ہی سر اٹھا ئے اس کو تکے چلی گئی تھی ۔۔۔

وہ ایک کسرتی انتہائی مضبوط جسامت کا مالک شخص تھا۔۔۔ بھرپور مردانہ وجاہت کا مالک ۔۔!!!!

وہ اس کو اس لمحے ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند معلوم ہوا تھا خود کیلئے ۔۔۔

وہ جب جب اسکو دیکھتا تھا کبھی بھی سوہا کو اس کی نظروں میں بے ایمانی نہیں نظر آئی تھی ورنہ عورت تو اپنے اوپر پڑنے والی ایک ہی غلط نظر کو پہچان لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔

“جاؤ آزاد کیا ابھی کے لئے ۔۔۔۔”

اتناہی میرا خوف ٹھیک ہے اب مجھے اندازہ ہے کہ کچھ گھنٹوں تک تم مجھ سے مزید پنگے لینے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ہلکی پھلکے لہجے میں کہتا اس کو اپنے حصارکی قید سے آزاد کرگیا تھا ۔۔۔

وہ بڑے مزے سے کھانا کھانے میں مصروف بھی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔

ویسے کھانا بنانے میں تو تم نے ماسٹر شیف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے بہت بہترین کھانا بنانے لگی ہو۔۔۔۔۔”

ماشااللہ ۔۔۔۔۔”

وہ سچے دل سے تعریف کر رہا تھا سوہا کے ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا۔۔۔۔۔۔۔کچھ لمحوں پہلے کی خفگی کا اب نام و نشان تک نہ تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ لمحوں کا اثر زائل کرنے کے لیے ٹی وی چلا آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم ناظرین ۔۔۔۔۔!!!

لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جو راستے بند تھے وہ اب صاف کر دیے گئے ہیں ۔۔۔ٹئورسٹ سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اپنے رہائش گاہوں کا رخ اختیار کریں کیونکہ اگلے 24گھنٹے میں دوبارہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہونے کا خطرہ موجود ہے ۔۔

سوہا کی حلق میں موجود رائس اسکو کانٹوں کی مانند چھبتے محسوس ہوئے جبکہ مصطفی کے بھی فرائیڈ رائس کے بعد شاشلک کی ڈش اٹھاتے ہاتھ ساکت ہو گئے تھے ۔۔۔