Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 3

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 3

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

ابا آج کیا پکائوں رات کے کھانے میں؟؟؟؟

فجر نے پوچھا ۔۔

بیٹا کچھ بھی بنا لو یا پھرایسا کرو رات میں مٹر پلاؤ بنالو تمہیں اور زید(بیٹا) دونوں کو بہت پسند ہے ۔۔۔۔

بابا نے شفقت سے کہا اور دروازہ کھول کر گھر سے باہر نکل گئے مسجد جانے کے لئے ۔۔

فجر نے ایک نظر اپنے اردگرد دوڑائی۔۔

یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا نوے گز پہ مشتمل۔۔۔۔

زندگی بہت پرسکون گزر ہی گزر رہی تھی۔۔۔۔

۔۔۔

مگر پھر بھی فجر کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک خلاء سہ تھا۔۔۔۔۔

یہ سب تو کیوں اتار رہی ہے ؟؟؟

یہ سب کچھ تو میں اپنے ان بڑے بڑے ہاتھوں سے اتارو گانا ۔۔۔۔

جلال کمرے میں آکر آئمہ کو جیولری اتارتے دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔۔۔

میرے قریب مت آنا مجھے گھن آ رہی ہے تم سے ۔۔

ائمہ نے نفرت سے جلال کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

وہ بری طرح سے نشے میں دھت تھا ۔۔۔

مجھ سے گھن آتی ہےتجھے؟؟؟

اپنے شوہر سے؟؟؟؟

دو کیسی عورت ہے؟؟؟؟؟

بلکہ نہیں تو ابھی عورت کہاں ہے ۔۔۔

چل پگلی۔۔۔۔

تو ابھی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔

وہ جھومتے ہوئے بے ربط سےجملے ڈگمگاتے لہجے میں بولتا اس سے چند قدم کے فاصلے پر تھا ۔۔

آئمہ الٹے قدموں دیوار سے جا لگی تھی۔۔۔

کل کی پوری رات بھی اس نے جلال سے خوفزدہ ہو کر باتھ روم میں بند رہ کر گزار دی تھی ۔۔۔۔

اپنے ساتھ کی گئ اسکی قسمت کی ستم ظریفی پہ اس کے اشک رواں تھے ۔۔۔۔۔

وہ برباد ہو چکی تھی۔ دل تو بہت کیا تھا اس کا کہ وہ اپنے ماں باپ کو سب کچھ سچ بتا دے۔۔۔

بتادے کہ اس کا شوہر کس قماش کا ہے ۔۔۔

مگر پھر ماں باپ کی نصیحت یاد آگئی۔۔۔۔

بیٹا اب شوہر کا گھر ہی تمھارا گھر ہے۔۔

میکہ صرف پیار محبت کے لئے ہی آباد ہوتے ہیں لڑکیوں کے ۔۔۔

شوہر کے گھر کو اپنا گھر سمجھنا اور اچھی طرح سے نباہ کرنا۔۔۔

تمہارے آگے ابھی تمہاری چھوٹی بہن بھی ہے ۔۔۔

بس ماں کی یہ باتیں اس کے قدموں کو زنجیروں سے جگڑ گئی تھیں ۔۔۔

ہائے بیچاری عورت کیا کیا برداشت نہیں کرنا پڑتا ؟؟؟

پیچھے کنو آ آگے کھائی۔۔

ہر سو اندھیرا ۔۔

جائے تو جائے کہاں ؟؟؟

بہت خوبصورت ہے تو ۔۔۔

تیرے حسن کو خراج بھی تو کل رات تونے نہیں بخش نے دیا ۔۔۔

بہت غزور ہے تجھے اپنے اس خوبصورت مکھڑے پرنا ۔

وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ کی پشت سے چھوتے ہوئے بےدردی سے اس کے گلے کا ہار نوچ کے پھینک چکا تھا اور اپنے منہ زور ہوتے جذبات سےآئمہ کے وجود کو چھلنی کرنے لگا ۔۔۔۔

میں خود کو ختم کردوں گی مگر تم جیسے ناپاک شخص کو اپنا آپ ہرگز بھی نہیں سونپو نگی چاہے تم مجھے جان سے ہی کیوں نہ مار دو ۔۔۔

آئمہ میں نجانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ ڈٹ گئی تھی ایک مرد کے سامنے ۔۔۔

یہی حرکت آئمہ کی جلال کو بھڑکا گئی تھی وہ اپنے آپے میں ہوتا تو کچھ سوچتا سمجھتا بھی ۔۔۔

مگر وہ اس وقت کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں تھا ہی کہا ں۔ ۔۔؟

مار دینا جان سے بھی مار دینا مگر پہلے مجھے اپنی روح کو سیراب کرنے دے تو۔ ۔۔

اپنے اس دلنشین سراپہ سے ۔۔۔

اس کی اس قدر فہاش گفتگو کرنے پہ آئمہ کا دل چاہا کہ وہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے۔۔۔

کیا ایسے ہوتے ہیں زندگی کے ساتھی ؟؟؟؟

اس نے بےدردی سے آئمہ کے تن سے لباس کو جدہ کیا تھا ۔۔

آئمہ کو اس شخص کا وجود اور اس کی جسارتیں زندہ درگور کر دینے کے لئے کافی تھی ۔۔۔

جلال نے آئمہ کی تمام فرار کی راہیں بند کر دیں اور اس کے چہرے پر جابجا اپنے ہونٹوں سے تکلیف پہنچانے لگا ۔۔۔

اس نازک سی لڑکی کو اس شخص کا وجود اور اس کی جسارتیں کسی گرم دہکتی ہوئی سلاخوں کی طرح اپنے وجود میں پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ ایک کمزور سی لڑکی تھی کہاں تک اس ہوس کے مارے شخص سے مقابلہ کر سکتی تھی ۔۔۔۔!!!

کچھ دیر بعد وہ اپنی ہوس مٹا کے سوبھی چکا تھا۔۔۔۔۔

جبکہ آئمہ اپنا سر گھٹنوں میں دیئے بے آواز رو رہی تھی۔۔۔۔

آج اس کو صحیح معنوں میں اندازہ ہوا تھا کہ۔۔

کیوں والدین بیٹی کی پیدائش پر اس کے اچھے نصیب کی دعا کیا کرتے ہیں؟؟؟؟

اور شاید اس کے ماں باپ کی گئی یہ دعا ئیں شاید اس کے لئے قبول ہی نہ ہوئی تھیں ۔۔۔

مجھے نہیں کرنی سمی آپ کے اس اکڑوقسم کے بھانجے سے شادی وادی۔۔۔۔

عائشہ نے منہ بسور کر کہا۔۔۔

وہ رات کے وقت سونے سے پہلے سعیدہ کو اپنے کمرے میں کھینچ لائی تھی۔۔۔

ائمہ کے جانے کے بعد اس کا دل نہیں لگتا تھا تنہا اکیلے کمرے میں ۔۔

وہ دونوں بہنیں رات میں کتنی دیر تک ایک دوسرے سے لڑتی جھگڑتیں۔۔

مستیاں کیا کرتی پھر جا کے کہیں نیند کو گلے لگاتیں۔۔۔

کیوں کیا برائی ہے میرے اتنے اچھے بہانجے میں ؟؟؟۔۔

سعیدہ نے برا منایا۔۔۔

امی جان بھانجے میں کوئی ایک برائی کیا ۔۔

اتنی برائیاں ہیں کہ ایک ہو تو گنواؤ بھی۔۔۔۔

وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر دراز ہو چکی تھی بستر پہ ۔۔۔۔

بھئی میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔

مجھے اور تمہارے بابا کو بھی یہ رشتہ تمہارے لحاظ سے بالکل مناسب لگ رہا ہے۔۔۔۔

امی آپ یہ بھی تو دیکھیں نہ میں کیسے گاؤں میں رہ سکتی ہوں ؟؟؟؟

میں کس طرح اس ماحول میں ایڈجسٹ کرونگی ۔۔؟؟؟؟

۔

میں نے تو آنکھ ہی شہر میں کھولی ہے ۔۔

کس طرح کا کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟!؟

کیا حماد(داود کا بڑا بھائی ) کی بیوی نہیں رہ رہی وہ تو پھر ڈاکٹر ہے ۔۔

وہ بھی تو اسی شہر میں رہنے والی تھی نہ دیکھو کیسے پوری حویلی میں اپنا ایک مقام بنایا ہے اس نے۔۔۔۔

لگتا ہی نہیں کہ وہ غیروں میں سے آئی ہوئی بچی ہے ۔۔۔

سیدہ نے بیٹی کو محبت سے سمجھایا اور تب تک اس کے پاس ہی بیٹھی رہی جب تک وہ نیم رضامند نہ ہو گئی ۔۔۔۔

کہاں سے آ رہی ہو تم شفا اس وقت ؟؟؟

تم تو پاک تک گئی تھیں نہ ؟؟؟

سمیرا نے سختی سے روتی ہوئی شفا سے پوچھا ۔۔۔۔

امی میں تو پارک میں ہی گئی تھی۔۔۔

پھر نہ جانے کیا ہوا ؟؟

بھائی وہاں سے گزرے اور مجھے وہاں سے کھینچتے ہوئے گھر لے کر آئے ۔۔۔

یہ دیکھیں کتنی زور سے بھائی نے میری کلائی کو مروڑا ہے کہ نشان بھی پڑگیا۔۔۔

شفا نے بڑی صفائی سے جھوٹ کو سچ کے لبادے میں لپیٹا تھا ۔۔۔

سمیرا خاموش ہوگئی تھی ۔۔

جانتی تھی اب شفا کے سچ بتانے کے باوجود بھی حمزہ کو کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔۔

رحمان صاحب نے کسی کو بھی اتنا حق نہ دیا تھا کہ حمزہ کو کوئی کچھ کہہ سکتا حتیٰ کہ رحمان صاحب نے خود بھی کبھی بھی حمزہ کو سخت لہجے میں مخاطب تک نہ کیا تھا اور نہ ہی کسی کو سخت لہجے میں حمزہ کو ڈانٹنے ڈپٹنے کی اجازت تھی ۔۔۔

یہی وجہ تھی کہ حمزہ کسی ایک کی بھی نہ سنتا ۔۔

رحمان صاحب کو اپنے چاروں بچوں میں حمزہ

( سمیرا کی نظروں میں) کچھ زیادہ ہی ان کو عزیز تھا ۔۔۔۔

اب کیا کہوں گے؟؟؟؟

عمر نے برہمی سے حمزہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

میں نے تم سے رائے نہیں مانگی اور تم کیا کہہ رہی ہوں کہ تم پارک میں تھی ۔۔۔

وہ شدید غصے میں شفاء سے مخاطب تھا۔ ۔۔

شاباش صحیح جارہی ہوں بالکل۔۔۔

بہت اچھی تربیت کی گئی ہے تمہاری ۔۔۔

اس نے ایک کہرآلود نظر سمیرا پہ ڈالی تھی جبکہ وہ مخاطب شفا سے تھا ۔۔۔

ایک منٹ شفا ءمجھے کچھ نہیں سننا اور عمر یہ مت بھولو کہ حمزہ تمہارا بڑا بھائی ہے۔۔۔

اس لئے اپنی حد میں رہ کر بات کرو اس سے ۔۔۔

رحمان صاحب نے سنجیدہ مگر سخت لہجے میں عمر کو باز رکھنا چاہا ۔۔۔

اور میں یہ جانتا ہوں کہ حمزہ کبھی بھی کچھ بھی غلط نہ کہہ سکتا ہے اور نہ کر سکتا ہے۔۔۔۔۔

رحمان صاحب نے گویا بات ہی ختم کردی تھی ۔۔۔

۔

عمر نے شکوہ کناں نظر ماں اور باپ پر ڈالی تھی ۔۔۔

ہمیشہ یہی تو ہوا تھا کہ حمزہ کے آگے اس کو بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔۔۔

عمر ابھی بھی شدید طیش کے عالم میں ہمزہ کو گھور رہا تھا ۔۔۔

جو بڑے مزے سے طنزیہ مسکرایٹ لبوں پہ سجاکر جانے لگا تھا مگر پھر کچھ یاد آنے پر رکا تھا اور پلٹ کر کہر برساتی نظروں سے شفا کو گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

ایک بات میری ذہن میں بٹھا لو اپ نے۔۔۔۔

یہ کہ جس کلائ پہ تم چوٹ لگنے کا کہہ رہی ہوں نا میری وجہ سے۔۔۔۔۔

وہ چوٹ ابھی تو فی الحال میں نے نہیں پہنچائی ہے۔۔۔

مگر آئندہ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔۔۔۔

اور ہاں ابوشفاء آج سے اکیلے باہر نہیں جائے گی ۔۔۔۔

اگر میں نے اس کو اکیلے کہیں بھی آتا جاتا دیکھا میں اس کا یونیورسٹی تو کیا گھر میں بھی نا کہ بند کروا دوں گا ۔۔۔۔

وہ اپنی کہہ کر شفا ء پہ ایک اچٹتی سی نظر ڈالتا وہاں سے یہ جا وہ جا ۔۔۔

شفاء اندر سے سہم کے رہ گئی تھی وہ جانتی تھی اب حمزہ اس کے اتنا دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے پر بہت بری طرح پیش آئے گا۔ ۔۔۔۔

مگر وہ خوش بھی تھی اس کو ہمزہ سے ایک عجیب سی چڑ ھ ہوچکی تھی۔۔۔

جبکہ عمر سے وہ اتنی ہی محبت کرتی تھی۔۔

اس کو اپنے والد صاحب کا ہمزہ کی ہر جائز و ناجائز بات پر سپورٹ کرنا کچھ عجیب لگتا۔ ۔۔

وہ چاروں انہی کی اولادیں ہی تو ٹھیں ۔۔۔۔

مگر پھر ایک بھائی کی طرف جھکاؤ کیوں اس قدر آخر؟؟؟؟

کیا ہم ان کی اولاد نہیں ہے ؟؟؟؟

وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب اسکے روم کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا۔ ۔۔

شفا نے پلٹ کے دیکھا تو وہ سٹپٹا کر رہ گئی سامنے دروازے کے بیچوں بیچ حمزہ خوفناک طیور لیے موجود تھا ۔۔۔۔

دوسری طرف آئمہ پانی کا گلاس کام والی کو تھما کر رحمان سب کو دینے کا کہہ کر حمزہ کے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔

تمہاری اوقات ہے کہ میں تم سے بات بھی کرو ں؟ ؟؟؟

فجر کلاس لے کر یونیورسٹی کے کینٹین میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

آج شفا نیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔۔۔

کیوں تم سے بات کرنے کے لیے کیا مجھے عمران خان سے اجازت لینی ہوگی؟¿¿

باقر نے فجر کی بات کو برامنائے بغیر مزاک کا رنگ دیتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

دیکھو مسٹر حد ادب مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

اگر کوئی کام ہے تو کہو ۔۔۔

نہیں تو اپنا راستہ ناپو۔ ۔۔۔

فجر نے رکھائی سے کہا وہ یونیورسٹی میں مغرور حسینہ کے نام سے جانی جاتی تھی کیونکہ وہ کسی بھی لڑکے تو کیا لڑکی سے بھی بات کرنا تو دور کی بات ایک نظر بھی ڈالنا پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔

بس اپنے کام سے کام رکھنا اس کی فطرت میں تھا ۔۔۔

میرے سارے راستے تو اب تم تک ھی آتے ہیں ۔۔

باقر نے ایک جذب کے عالم میں کہا۔۔۔

اس کے لہجے میں سچائی پنہاں تھی ۔۔۔

مگر میرے راستے قطعی بھی تم تک نہیں آتے میری منزل کوئی اور ہے ۔۔۔۔

وہ سفاکی سے کہتی اٹھ کھڑی ہو ئی تھی ۔۔۔

وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اسکی منزل کہاں ہےاور کس حال میں ہے ۔۔۔؟؟؟

فجر دل میں سوچ کے رہ گئی ۔۔۔

جبکہ باقر رضا کا چہرہ دھواں دھواں سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔

اس نے بھی تو فجر سے محبت کی تھی پھر وہ کیسے نہ پڑھ پاتا فجر کے چہرے کے رنگ۔۔۔۔۔

جدھر کسی اور کا سایہ بہت خوبصورتی سے جگمگارہا تھا۔ ۔۔۔