Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 26
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 26
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
” نہیں تمہیں گھر پر پھینک کر خود اپنی مدد کروں گا تاکہ جلد از جلد اس خوامخواہ کے دلدّر سے میری جان چھوٹ سکے”۔۔۔
” میں تو شاپنگ پہ جا رہی ہوں نہ آپکےپھر مجھے کیوں گھر پہ ڈوک کر رہے ہیں “
شفاء کو حمزہ کی دماغی حالت پر شک سا گزرا ۔۔۔ ۔۔۔
“ساتھ جا رہی تھی جارہی ہو نہیں ۔۔”
“مجھے پہلے وجہ بتائیں نہیں تو میں دھرنا دینے بیٹھ جاؤں گی گاڑی میں اور زور سے سب کو بتاؤں گی کہ میرا شوہر ظالم ہے”۔۔۔۔
وہ سیٹ پر ہی آلتی پالتی مار کے منہ پھلا کے بیٹھ کر بولی ۔۔۔
“شٹ اپ جسٹ کیپ یورماوتھ شٹ” ۔۔۔
شفا کی اوٹ پٹانگ گفتگو سن سن کے اس کا صبر اب جواب دے گیا تھا ۔۔۔
مگرشفا تھی کہ اپنی بے سروپا باتوں سے باز ہی نہیں آرہی تھی۔۔
“اس میں لکھوجو جو تمہیں چاہیے”۔۔
“میں تمہارے اس دعوت نظارہ پیش کرتے ہو لیہ کے ساتھ کہیں نہیں لے کر جارہا ہوں!! تم لائق ہی نہیں ہوں میرے ساتھ کہیں جانے کے ۔گھر میں بیٹھو وہیں تم ٹھیک ہو “۔۔
وہ گھر کے راستے پر گاڑی ٹرن کر کے بولا تھا ۔شفاء اس کے چنگھاڑنے پر خاموشی ہوگئی تھی ۔۔
“مجھے کچھ نہیں چاہیے آپ کا بہت بہت شکریہ برائے مہربانی مجھے میرے گھر چھوڑ دیجیے “۔۔۔
وہ بہت مشکل سے اپنے لہجے کو بھرانے سے روک سکی تھی کچھ دیر پہلےکی شوخی ہوا ہو چکی تھی۔
” تمہارا گھر اب وہی ہے جہاں میں تمہیں میں بیاہ کر لایا ہوں۔ اس لیے اس گھر کو اب اپنا مانو تو بہتر ہے ۔۔”
“گھر کو تو اپنا مان چکی ہوں۔۔”
” آپ کو بھی اپنا ماننے کی نادانستہ غلطی کر چکی ہوں ۔۔”
وہ بغیر ہچکچائے اظہار کر بیٹھی تھی ۔۔
(کچھ رشتوں کی ڈور مظبوط کرنے کیلئے ہمیں پہل کرنی پڑتی ہے۔ ورنہ خاموشی کبھی کبھار آپکے حصے میں خسارا بھی لکھ دیتی ہے)۔ ۔
“جتنا کہا ہے اتنا کرو”۔۔۔
اس میں لکھدو سب ضروری اشیاء”۔
“واہ کیا حاکمانہ انداز ہےمجھ پہ نہ ہی یہ اپنا روب جھاڑیں تو بہتر ہے” ۔۔
وہ خفگی سے کہتی باہر ڈورتے بھاگتے مناظر دیکھتی رخ موڑ گئی۔۔
“تم بہت زیادہ خودسر ہوچکی ہو تمہارا یہ طنطنہ میرے لئے خاک برابر ہے۔ ۔۔”
کہتے کےساتھ ہی شفا کو خشمگین گھوری سے نوازا گیا ۔۔
شفا نے خاموشی سے پیپر اور پین تھام لیا اور دس منٹ میں تمام لسٹ بناکر حمزہ کی طرف بڑھا دی تھی ۔۔۔
پیپر حمزہ کی طرف بڑھاتے وقت نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا جبکہ نظریں حمزہ کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھیں ۔۔
حمزہ نے گھر کے آگے گاڑی روک کر شفا کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے پیپر تھاما تھا۔ ایک نظر شفا کے سرخ پڑھے چہرے کو بھنویں اچکا کر دیکھا پھر دوسری نظر اس پرچے پر ڈالی ۔۔
شفاکی تھمائی گئی لسٹ پر نظر پڑتے ہی وہ خود کانوں کی لوہ تک سرخ پڑ چکا تھا ۔۔
“اترو گھر آ چکا ہے یا پھر کوئی شاہی سواری منگوائو اندر تک چھوڑنے کیلئے۔”
وہ اپنی خفت مٹانے کو جھٹ سخت لیجے میں بولا
“پتہ ہے مجھے اندھی نہیں ہوں میں”
وہ دھڑ سے گاڑی دروازہ کھولتے ہوئے غر آئی تھی۔
” اس میں سے ایک ایک چیز مجھے چاہیے اور بالکل لکھی ہوئی ریکائرمنٹ کے مطابق “۔۔۔
وہ اترتے ہوئے اس کو تیکھے چتون سے گھورتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
حمزہ بغیر کچھ بولے اس کے اترتے ہی گاڑی اڑا لے گیا تھا ۔۔۔
“میری زندگی میں بھی ویسے ہی بہتری ہورہی ہے۔ جیسی واٹس اپ کے نئے ورجن میں ہوتی ہے”۔۔۔
وہ اس کی گاڑی کو دھول اڑاتا نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھ کر پھیکی سی ہنسی ہنس دی تھی سارے کئے کرائے پر پانی جو پھرگیا تھا . ۔۔
شفاء جلدی جلدی کچن کے کام نمٹا رہی تھی وہ سب بھکھیڑے حمزہ کے آنے سے پہلے پہلے سمیٹنے کی کوششوں میں تھی ۔
آج اس نے تمام تر دیسی کھانے بنائے تھے کیونکہ ہمزہ کو چائنیز وغیرہ زیادہ پسند نہیں تھا ۔۔
وہ بریانی دم پر لگا کے جلدی سے اپنے بیڈ روم میں آکر اب اپنے لیے رات کے پہننے کے لئے وارڈروب میں سر دیئےکوئی اچھا سا ڈریس تلاش کر رہی تھی ۔
مگر کچھ بھی اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا ہمزہ نے اس رات اس کے کپڑے بیگ میں خود اپنے ہاتھوں سے بھرے تھے۔ جس کی وجہ سے اب وہ پریشان سی کبھی ایک ڈریس کو نکال کر دیکھتی تو کبھی دوسرے کو مگر کوئی بھی اس کی منظورنظر نہیں ٹھہرپا رہا تھا ۔۔
“نہیں یہ تو ایک دم ہی نہیں “۔۔۔۔
“کئی دفعہ پہن چکی ہوں یہ تو” ۔۔
بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کرتی وہ الماری میں لٹکے کپڑوں کو دیکھ کر بڑبڑائی ۔۔
“یہ سب ڈریسز تو پرانے ہیں۔ حمزہ نے مجھے کئی دفعہ پہنے ہوئے دیکھا ہوگا ۔۔”
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب اس کی نظر الماری کے سب سے نچلے خانے میں پڑی تھی جہاں پہ ایک ڈیزائنر شاپنگ بیگ رکھا ہوا تھا ۔وہ چونکی ۔
“ارے یہ تو وہی شاپنگ بیگ ہےجو نکاح والے روز جب حورم بھابھی مجھے تیار کرنے آئی تھیں!! تب یہ پریسنٹ وہ مجھے دیکر گئیں تھیں” ۔۔۔
۔۔
وہ یکدم خوش ہو گئی تھی اور جھک کر جلدی سے وہ شاپنگ بیگ اٹھا کے بیڈ پہ رکھ کر خود بھی بیٹھ چکی تھی ۔۔
شاپنگ بیگ کے اندر ایک انتہائی دیدہ زیب دھانی پیپلم شرٹ اور بوٹ کٹ ٹراوزر کے ساتھ بیبی بنک کرینکل جارجٹ کا دوپٹہ تھا ۔۔
شفا کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا تھا ۔۔
ایک چھوٹے سے ڈبے میں اس شاپنگ بیگ کے اندر ہہ جیولری بھی تھی ۔جو بالکل ڈریس کی میچنگ سے میچ کرکے لی گئی تھی ۔۔
شفا کو حورم کی پسند نے بہت اٹیکٹ کیا تھا۔ وہ خود بھی زیادہ چمکیلے بھڑکیلے کپڑے پہننے پسند نہیں کرتی تھی۔ اس کو خود بھی سادگی پسند تھی ۔۔
حورم کا گفٹ کردہ ڈریس اس کی پسند پہ پورا اترا تھا ۔۔
یکایک اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا گردش کر ا تھا اور وہ جھٹ سے اپنے موبائیل میں فیڈ حورم کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔۔
“السلام علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ “۔۔۔۔
چند ایک بیلز کے بعد حورم نےکال پک کی تھی۔۔
” وعلیکم السلام میں ٹھیک اللہ کا کرم تم بتاو کیسی ہو ۔”
ھورم کی آواز میں حیرت تھی ۔وہ شفا کا اس کو کال کرنا ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی ۔
“بھابی میں ٹھیک ہوں بس مجھے پیا منانے کا ڈھنگ نہیں ۔۔”
شفاء بیچارگی سے اپنی انگشت شہادت تھوڑی پہ رکھتے ہوئے معصومانہ لہجے میں بولی ۔۔
“او یعنی پیاسے الفت سی ہو چکی ہے ؟؟؟”
حورم ہستے ہوئے اسی کے انداز میں قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔۔
“جی بھابھی مجھے الفت تو کیا محبت وحبت سب ہوگئی ہے مگر دوسری طرف میرے ڈھول ماہیا کو پتا نہیں کون کون سی نفرتیں ہیں جن کا بخار اترنے کے بجائے 104 درجہ حرارت سے تجاوز کرچکا ہے ۔”
وہ منہ بسور کر خفگی سے بولی تھی ۔۔
“سہی یعنی کہ برف میں آگ لگانے کی کوشش کرنی ہے ۔۔”
“گلیشیر کو پگھلانا ناممکن ضرور ہے مگر سورج اپنی شعاعوں سے یہ کام منٹوں میں کرسکتا ہے ۔۔۔”
وہ بہت گہری بات اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
“جی ٹھیک ہےبھابھی ۔”
وہ اتنا ہی بولی تھی جبکہ دوسری طرف حورم اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکی تھی کہ وہ کتنا سمجھی ہے اس کی بات میں پوشیدہ معنوں کو ۔۔؟؟
“ارے بھابھی وہ میں نے آپ کو ایک اور وجہ سے بھی کال کی تھی “۔۔
وہ یاد آنے پر اپنا سر پیٹ کر بولی تھی ۔۔
“فرمائیے مابدولت ہم تن گوش ہے”۔۔۔
ھورم نےشاہانہ انداز میں جواب دیا۔۔
” وہ آپ کو سب سے پہلے آپ کے دیئے گئے گفٹ کے لئے شکریہ کرنا تھا ،وہ آج کے دن میرے بہت کام آنے والا ہے ۔۔”
“شکریہ کی ضرورت نہیں ہے ۔بس تم اور حمزہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہو۔ ہمارے لیے یہی بہت ہے ۔۔”
ھورم نے سچے دل سے کہا ۔۔
“اچھا دوسری بات تو سن لیں ۔۔”۔۔شفاء جلدی سے بولی مبادا کہیں حورم کال ھی کٹ نا کردے
“جی جی سنائے میں سن رہی ہوں “۔۔۔
“وہ آپ لوگوں کا ڈنر آج رات ہمارے ساتھ ہےکیوں کہ آج حمزہ کی برتھ ڈے ہے ۔”
۔
“یار بلاوجہ کیوں ہمیں انوائٹ کر کے کباب میں ہڈی بنا رہی ہوں ۔۔”
ھورم اس کو چھیڑتے ہوئے بولی تھی شریر لہجے میں ۔
“بھابھی کباب بنتا تو ہڈی نکلنے کے چانسز ہوتے ناں ۔۔”
شفا کھلا کر ہنستے ہوئے گویا ہوئی تھی ۔۔
“بس آپ یہ سب کچھ چھوڑیں اور رات میں آدم بھائی کے ساتھ آنے کی تیاری کریں ۔۔”
“اچھا بابا ٹھیک ہے شام میں ملتے ہیں”۔۔۔
ھورم اللہ حافظ کہہ کر اب فون رکھنے والی تھی جب شفا جلدی سے بولی۔۔
” ارے ارے ایک منٹ بھابی آپ آدم بھائی سے پوچھ کر مجھے جلدی سے بتا دیں کہ اور کونسا ہمزہ کا ایسا دوست ہے جو ان کے دل کے بہت قریب رہا ہو تاکہ میں ان کو بھی انوائٹ کرکے آج کے دن حمزہ کو مکمل سرپرائز کرسکوں ۔۔”
“چلو ٹھیک ہے بچہ پھر میں تمھیں تھوڑی دیر میں فون کرکے بتاتی ہوں ۔۔”
حورم سوچتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
“جی بھابھی ٹیک یورٹائم اللہ حافظ”۔۔
شفا نے اپنی بات مکمل ہونے کے بعد جلدی سے خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا تھا۔ اس کے پور پور میں سرشاری سی تھی ۔۔۔
حورم ،شفا کے اس معصومانہ انداز پہ مسکرا دی تھی۔۔۔
” خوش رہو ہمیشہ ۔۔”
“اٹھ جائیے میڈم “۔۔۔
وہ کوئی تیسری دفعہ گدھے گھوڑے بیچ کر سوتی ہوئی سوہا کو اٹھانے آیا تھا ۔صبح کی گیارہ بج چکے تھےمگر سوہا محترمہ تو لگ رہا تھا جیسے مردوں سے شرط لگا بیٹھی ہوں ۔۔
مصطفی جوگنگ کرکے ناشتہ بھی کر چکا تھا۔ لینڈ سلائیڈنگ ہونے کی وجہ سے راستے بند تھے جس کی وجہ سے وہ ٹریننگ کے لیے بھی نہیں جا پا رہا تھا ۔۔
“کیا ہے سونے بھی دیں نہ ان مجھے۔ ساری رات آپ نے سونے نہیں دیا اور اب بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔۔”
وہ خمار آلود لہجے میں مصطفی کے کرتے کی فولڈ کی ہوئی آستین جوکہ پوری طرح فولڈ سے آزاد ہوکر سوہاکے چھوٹے سے ہاتھوں سے جھول رہی تھی ۔۔
وہ اس آستین کو اپنی آنکھوں پر گراتے ہوئے بولی ۔۔
وہ جو کھڑکی پہ پڑی چک اوپر چڑھا رہا تھا تاکہ باہر سے روشنی چھن کر بیڈ روم میں آسکے یکدم سوہا کی کہی بات پہ سٹپٹا کر پلٹا تھا ۔۔
میں نے تمہیں کب جگایا رات کو؟؟؟
” سوچ سمجھ کر بولا کرو کیا کہہ رہی ہو ۔۔”
مصطفی کاغصہ عود کر آیا تھا سوہا کے اول فول بکنے کی وجہ سے ۔۔
وہ بھی مصطفی کی آواز میں موجود کرختگی محسوس کرکے جلدی سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔
“میرا مطلب وہ نہیں تھا جو آپ سمجھے “
“بلکہ ایسا کیا کریں روزانہ سو کر اٹھنے کے بعد واشروم میں رکھے ہارپک سے اپنا دماغ واش کر لیا کریں تاکہ آپ زرا اجلا اجلا سوچ اور سمجھ سکے ۔۔”
وہ بغیر دل میں شرمندگی کو جگہ دیے دلیری سے بولی تھی۔
” مشورہ اچھا ہے مگر پہلے تم عمل کرو اس کے بعد مجھے تجویز کرنا کیونکہ مجھ سے زیادہ تمہیں اس مشورے پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔۔”
وہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کرکے بولا تھا ۔۔
“اور ویسے پوری رات تو تم پھناکر سوئی ہو بے چین تو میں رہا ہوں جو کہ ساری رات ایک سنگل صوفے پہ گزاری ہے” ۔
موسکو خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے اپنی سگریٹ سلگا کر بولا ۔۔
“دیکھئے مسٹر کھڑوس پائلٹ آپ مجھے اپنی ان بڑی بڑی گول گول آنکھوں سے براہ کرم ٹکٹکی باندھ کے گھورا نہ کریں “
وہ سکی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے کھسیا کر بولی تھی ۔
“میری آنکھیں ہے میں چاہے جو بھی دیکھو اور ویسے بھی کیا تمہیں گھورنےپہ مجھ پر فائن لگے گا۔ یا پھر دفع 420 کے تحت مجھے سزا دی جائے گی ؟؟؟
وہ چڑھ کر بولا تھا۔
“جی نہیں چارج تو نہیں لگے گا ہاں مگر سچ تو یہ ہے کہ آپ میری خوبصورتی سے جیلس فیل کرتے ہیں ۔تبھی تو ہر وقت مجھے نظر لگانے کے چکروں میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔”
وہ خوامخاہ مغرور ہوئی ۔
‘میں تم سے ایسے ہی کسی جواب کی امید کر رہا تھا “۔۔۔
وہ ایک گہرا سانس بھر کے بولا ۔۔
“مگر خیر مصطفی بھائی ایک بات ہے “۔۔۔۔۔۔
وہ بھائی پہ زور دے کر بولتی بیٹھتے اٹھتے ہوئے پیر میں مصطفی کی سلیپرز اڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔
مصطفیٰ نے اسکو خشمگیں نظروں سے گھورا تھا ۔۔
“کہو “۔۔
لٹھ مارے لہجے میں کہا گیا جبکہ نظر اب نیوز چینل پہ تھیں۔ ۔
اگر آپ کو میری کوئی حرکت بری لگے تو ۔ ۔۔۔۔!!!
وہ لمحے بھر کو رکی تھی اور چہرے پر شدید معصومیت لیے اس کو ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی ۔۔
تو ؟؟؟؟؟
وہ بھنو کو اچکا کر بولا ۔۔
“تو پھر یہ کہ مجھے ضرور بتائیے گا تاکہ میں دوبارہ وہی کارنامہ کرتے ہوئے زیادہ خود کو مطمئن محسوس کر سکوں ۔۔۔۔”
وہ کہتے کہ ساتھ ہی چھپا ک سے وہ شروع میں جاگزیں تھی بغیر مصطفی کی طرف دیکھے ۔۔۔
“بیوقوف لڑکی “۔۔۔
مگر صرف اور صرف میری ۔۔۔!!!
وہ بڑبڑایا تھا آنکھوں میں بہت خوبصورت سی مسکراہٹ رقصاں تھی ۔۔
“بہت جلد تمہارے تمام ہوائی فائر کا جواب میں کلاشنکوف سے دوں گا ۔۔”
عمر اس جگہ کو ٹریس کرتا لائبہ تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔
عمر اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ پوری ایس پی سمیت اس کی ٹیم موجود تھی ۔۔
عمر اور پولیس کی آمد کو محسوس کرتے ہی وہاں واحد ایک شخص جو کہ لائبہ کا مجرم تھا ۔ گپت راستے سے فرار ہو گیا تھا ۔۔
چوکیدار کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا ۔۔
جب کہ عمر پز مردہ سہ ایس پی کے اشارہ کرنے پہ چوکیدار کے بتائے گئے۔ واحد کمرے کی کنڈی کھولنے کو بڑھا تھا جہاں پہ لائبہ قید تھی ۔۔
ایس پی خاموشی سے اپنی ٹیم کو اشارہ کرتا باہر نکل چکا تھا اس چھوٹے سے مکان میں سے ۔۔
عمر نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر دروازے کی کنڈی کو توڑنے کے انداز میں کھولا تھا ۔۔
سامنے کا منظر ایسا تھا جسے دیکھنے کے بعد وہ اپنی نظریں جھکا کر اٹھانا سکا تھا ۔۔۔
غصے سے اس کا خون کھول اٹھا تھا ۔
آنکھیں بالکل سرخ ہو رہی تھیں جبکہ دماغ کی شریانیں غصے کی وجہ سے پھٹنے کو تھی ۔۔
وہ بھاگنے کے انداز میں لائبہ کے پاس زمین پہ دوزانو بیٹھا تھا ۔۔
اٹھو لائبہ آنکھیں کھولو۔۔۔۔
میں آ گیا ہوں۔۔
تمہیں کچھ نہیں ہو گا ۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں تو میں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔
وہ ہوش و خرد سے بیگانہ لائبہ کی ابتر حالت دیکھ کر اندر سے بری طرح کھول اٹھا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا لائبہ کی یہ حالت کرنے والے درندے کو وہ چاند سے مار دے ۔۔
جگہ جگہ سے پھٹے کپڑے ۔۔
لائبہ کی ابتر حالات اس کے ساتھ تو کوئی زیادتی کا چیخ چیخ کر بتا دے رہی تھی ۔۔
عمر نے دور رکھا لا ئبہ کا دوپٹہ اٹھا کر اس پہ پھیلایا تھا اور فون کرکے ایس پی کو وہاں سے جانے کا کہا ۔۔
وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا اس نے باقی کے قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانے تھے ۔۔۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا آئمہ سے رحمان کی شادی کو چھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا.
رحمان کا رویہ آئمہ کے ساتھ روزے اول جیسا ہی تھا .ائمہ کے پاس جانا تو دور کی بات وہ اس پہ ایک نظر غلط تک ڈالنا گوارا نہیں کرتا تھا۔
اس عرصے میں ایک تبدیلی سمیرا کی صورت میں رونما ہوئی تھی گھر میں ۔
سمیرا کو رحمان نے ایک شادی میں پسند کیا تھا جس کے بعد اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سمیرا اور اس کے گھر والوں کو اندھیرے میں رکھ کر اس سے شادی کی تھی۔
رحمان نے سمیرا کے گھر والوں کو اس بات کا علم نہ ہونے دیا تھا کہ وہ پہلے سے ایک بیوی رکھتا ہے ۔۔
یہ۔سمیرا کے اوپر شادی کے کچھ ہی دن بعد آشکار ہو گیا تھا شروع شروع میں تو رحمان نے ائمہ کو ایک ملازمہ کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔۔
مگر یہ راز ایسا تھا جو زیادہ عرصہ چھپ نہ سکا اور جس روز سمیرا کو ائمہ کی اصل حیثیت کا اندازہ ہوا تھا اس دن سے وہ اپنے آپ کو آئمہ کا مجرم تصور کرنے لگی تھی ۔۔
رحمان نے گھر میں اپنا روب و دبدبا اس طرح بٹھایا ہوا تھا کہ ائمہ تو ائمہ سمیرا بھی خاموش رہتی تھی سمیرا شروع سے ہی ایک ڈرپوک اور دبوسی لڑکی تھی ۔۔
بس آئمہ اور سمیرا میں اتنا فرق تھا کہ ائمہ کو بدلے لینے کے لیے بہایا گیا تھا جبکہ سمیرا رحمٰن کی من چاہی بیوی تھی ۔۔
اس لئے اس کا ہر طرح سے رحمان خیال رکھتا مگر سمیرا کے دل میں موجود پھانس سی چھپ گئی تھی رحمان کے جھوٹ کو لے کر۔۔۔
وہ پھانس کسی طور بھی پرسکون نہیں ہونے دیتی تھی ۔۔
“”آپ بھی مجھے معاف کردیں میں غاضب ہو۔ مجھے علم نہیں تھا کہ رحمان کی ایک بیوی پہلےبھی ہے ۔۔۔”
“میری تو غزل آپی تک کو علم نہ تھا کہ رحمان کون ہے اور کس کا بھائی ہے جس دوران میری شادی ہوئی اس دوران غزل آپی حماد بھائی کے ساتھ ملک سے باہر گئی ہوئی تھی اور پھر رحمان نے بمشکل پندرہ دن کا وقت دیا تھا بابا کی خرابی طبیعت کی وجہ سے۔۔۔””
” بابا نے بھی جلد از جلد میرے فرض سے سبکدوش ہونا مناسب سمجھا تھا اور میری شادی کے چھ دن بعد بابانے بھی اس دنیا سے رخصت لےلی تھی۔۔”
وہ ایک دن روتے ہوئے آئمہ سے بولی تھی ۔۔
“نہیں تم خطاکار نہیں ہو۔ تم خود کو کیوں قصوروار گردانتی ہو ۔”
“میری قسمت میں جو لکھا تھا وہی مجھے ملا ہے”۔۔۔
” سمیرا میں دیکھ رہی ہو تم خوش نہیں ہو مت میرے لئے سوچ کر خود کو ہلکان مت کرو تمہارا اللہ کے کرم سے ایک بیٹا ہے اور اب پھر دوبارہ تم امید سے ہو خوش رہا کرو بہت زیادہ ۔۔”
وہ دونوں رات کے وقت کھانے سے فارغ ہو کر بچوں کے ساتھ گارڈن میں چہل قدمی کر رہی تھیں۔ جب سمیرا نے بھرائے اور نادم لہجے میں کہا تھا ۔۔۔
سمیر ہ، عمر سے زیادہ حمزہ کا خیال رکھا کرتی تھی۔ اس وقت بھی وہ خود میں گم حمزہ کے سامنے آ کر بیٹھ گئی تھی اور اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ کے بولی ۔۔
“حمزہ آپکو پتہ ہے میں نے آپ کے لئے صرف اور صرف آپ کے لیے پٹاخے اور پھلجڑیاں منگوائی ہیں کل آپ برابر والے بچے کو دیکھ رہے تھے نہ پٹاخے پھاڑھتے ہوئے۔ دیکھو میں نے آج آپ کے لئے کتنی سارے منگوائی ہیں ۔۔”
وہ حمزہ کے سامنے پٹاخے اور پھلجڑیاں رکھتے ہوئے بولی تھی ۔۔
تھینک یو چھوٹی ماما ۔۔۔!
حمزہ یکدم خوشی سے کھل اٹھا تھا سمیرا اسی طرح اس کی ہر ایک چھوٹی سے بڑی خواہش کا خیال رکھا کرتی تھی ۔۔
حمزہ کا رویہ سمیرا سے خاصا بہتر تھا کیونکہ ہر دفعہ جب رحمان اسکی ماں پہ ہاتھ چھوڑتا اس وقت سمیرا ہی عائمہ کی ڈھال بن کر کھڑی ہو جایا کرتی تھی۔ کئی دفعہ تو سمیرا نے آئمہ کو رحمان کے عتاب کا نشانہ بنتا دیکھ گڑگڑا گڑگڑا کر رحمان کے آگے ہاتھ تک جوڑ ڈالے تھے ۔۔
حمزہ کے دل میں سمیرا کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو چکا تھا ۔وہ سمیرا کو اتنی ہی محبت کرتا جتنی اپنی سگی ماں سے ۔جبکہ رحمان صاحب حمزہ سے شدید محبت کرتے عمر کے مقابلے میں اپنے بچوں سے زیادہ اس پہ جان نچھاور کیا کرتے کیونکہ وہ ان کے بھائی کی آخری نشانی تھا ۔۔
بس آئمہ سے رحمان کو اپنے بھائی کی موت کی خامخوا کی خار ہو چکی تھی ۔اس نے شادی کے بعد سے عائمہ کو اس کے ہر حق سے محروم رکھا تھا وہ سہاگن ہونے کے باوجود بھی ایک بیوہ سی زندگی بسر کر رہی تھی ۔۔
“آپی آونا تم بھی “۔۔۔ثمیرا نے دور سے ائمہ کو آواز لگائی ۔
“سمیرا پلیز مجھے نہیں آتے یہ پٹاخے اور پھلجڑیاں وغیرہ جلانا ۔۔”
سمیرا نے اس کو ٹالنا چاہا تھا ۔۔۔
“”ایویں نہیں اچھا پٹاخے نہیں آتے تو پھلجڑی ہی جلالیں عمر خوش ہوجائے گا “۔۔۔
وہ ائمہ کی گود میں بیٹھے عمر کو دیکھ کر بولی تھی ۔۔
“پلیز بڑی مما پھلجڑی جلآئیے نہ” ۔۔
عمر نے بھی ضد کی۔۔
وہ اپنی تمام تر خواہشات آئمہ سے ہی پوری کرواتا تھا وہ کھانے سے لے کر اپنا ہر ایک کام ایمہ سے کروانا پسند کرتا ۔عمر کی اتنی محبت اور لگاؤ دیکھ کر اپنی ماں سے حمزہ عمر سے اکھڑنے لگا تھا۔ یہ سوچے بغیر کہ اس کا خود کا بھی سمیرا کے معاملے میں عمر سے مختلف حالات تھا ۔۔
پورے لان میں بچوں کی کلکاریاں اور سمیرا اور عائمہ کی ہنسی گونج رہی تھی لیکن اچانک رحمان نے آکر ان سب کی خوشی کو خاک میں ملا دیا۔ وہ کافی دیر سے آئمہ کے خوش چہرے کو کھڑکی سے دیکھ رہا تھا اپنے کمرے کی اور اب اس کا صبر جواب دے گیا تھا وہ دندناتا ہوا باہر لان میں نکل آیا تھا ۔۔
وہ سیدھا آئمہ کے سر پر جا کھڑا ہوا تھا ۔۔
“بہت شوق ہے نا تمہیں پھلجڑی جلانے کا ؟”
“بالکل ویسے ہی جیسے میرے بھائی کو جلا جلا کر قبر میں پہنچا دیا تم نے ۔۔”
حمزہ اور سمیرا کافی دور مگن تھے ر ہمان کی لان مو آمدسے یکسر بے خبر پٹاخے پاڑھنے میں مصروف ۔عمر گھانس پہ بیٹھا تارے گن رہا تھا ۔۔۔
“میں نے آپ کے بھائی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا”۔
آئمہ کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تھا ۔
‘مجھ سے زبان چلائے گی ؟”
رحمان نے پیچ و تاب کھا کر آئمہ کے صرف ایک چھوٹے سے ادا کیے گئےجملے کو انا کا مسئلہ بنا کر شدید غصے میں آکر ائمہ کے ہاتھ سے جلتی ہوئی پھلجڑی چھینی تھی اور پھر وہی پھلجڑی لے کر اس کی گردن پر لگا دی ۔۔
حمزہ اور سمیرا کی چیخیں فضا میں بلند ہوئی تھی ائمہ کو تکلیف سے بلبلاتا دیکھ کر۔ ائمہ بری طرح گھاس پہ لوٹ پوٹ ہو رہی تھی تکلیف اس کی برداشت سے باہر ہو چلیتھی ۔گردن بہت بری طرح سے جل گئ تھی ۔۔
وقت کا کام تھا گزرنا وہ سرکتا گیا۔ رحمان صاحب پہلے سے کافی بہتر ہو چکے تھے اور کئی دفعہ آئمہ سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش بھی کی تھی ۔وجہ صرف اتنی تھی کہ ان کے ہاتھ جلال کی وہ ڈائری لگی تھی ۔جو مرنے سے کچھ عرصے پہلے وہ لکھا کرتا تھا۔ تمام تر سچ رحمان کے سامنے کھل کر آشکار ہوچکا تھا ۔
اس کے بعد وہ نادم سے رہا کرتےتھے مگر اتنی ہمت نہ تھی کہ آئمہ سے اپنے کیے کی معافی طلب کرپاتے۔ بس ہمزہ سے ان کی محبت بہت جنونی تھی وہ حمزہ سے ٹوٹ کے پیار کرتے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ سب بچوں میں صرف اور صرف حمزہ کو اہمیت دیتے۔ مگر اس دن حمزہ کے چیخ چلانے سے وہ بھی آپے سے باہر ہو پیٹھے تھے اور بہت کچھ ایسا کہے گئےجس نے معاملات کو مزید الجھا کے رکھ دیا تھا ۔مگر خدا اس بات کا گواہ تھا کہ وہ حمزہ سے ناراض ہو کر ایک رات بھی چین سکون کی نہ کاٹ سکے تھے
وہ لوگ سب کے سب فام ہاؤس جانے کی تیاری کر رہے تھے جب شہر سے فون آنے پر غزل کی خوشی کا ٹھکانا ہی نہ رہا تھا۔ وہ اپنی بہن کے ہاں بچے کی ولادت کا سن کر پھولے نہیں سما رہی تھی۔
” عائشہ میں بہت خوش ہوں آج تمہیں پتا ہے ثمیرہ کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے”۔
وہ خوشی سے چور لہجے میں چہکتے ہوئے سب کو بتا رہی تھی ۔۔
عائشہ سمیت گھر کے سب افراد نے اس کو تہہ دل سے مبارکباد دی تھی ۔۔
اماں سچ آنی کے ہاں بیبی آیا ہے ؟
ارمغان نے بھی پراشتیاک لہجے میں پوچھا ۔
” ہاں ہاں بالکل سچ ارے بھئی جلدی کرو اب کیا شام کو چلو گے “؟
“اگر شام میں جانا ہے تو پھر کیا فائدہ فارم ہاوس جانے کا “؟
“یہیں کھیل کود کے پکنک منالو بچوں ۔۔”
حماد جلدی جلدی کا شور مچاتے ہوئے سیڑھیاں اترنے کے ساتھ اپنی گھڑی بھی پہنتے ہوئے بولے ۔۔
“حماد آپکو پتہ ہے میں اور آپ خالو خالو کے رتبے پر فائز ہوگئے ہیں۔ ابھی پندرہ منٹ پہلے۔”
“مبارک ہو بھئی یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے نیک بخت ۔۔”
حماد نے غزل کے خوشی سے چہکتے ہوئے چہرے کو پیار سے دیکھ کر مبارکباد سے نوازا تھا ۔۔
“چلیے نہ بڑے بابا “۔
عنایہ نے حماد کی بھاگ کےانگلی پکڑ کر بولا تھا ۔
“ارے بیٹا اب ہم کہاں جا سکتے ہیں۔ ہمیں تو اب آپ کی بڑی اماں کے بھانجے کو دیکھنے ہسپتال جانا ہوگا ۔نہیں تو آپکی بڑی امی کے ہاتھوں میری شامت پکی ہے ۔۔”
حماد پرشوخ لہجے میں غزل کی طرف دیکھتے ہوئے چھیڑنے لگا ۔۔
“چلیں کوئی بات نہیں بھائی پھر چلے جائیں گے ہم۔ سب” ۔۔۔
داود نے جلدی سے کہا تھا کیونکہ غزل کی بہن کی پہلی خوشی تھی اور ان سب کا شہر پہنچنا ضروری تھا مبارکباد دے نے کے لئے ۔۔۔
“ارے نہیں نہیں مجھے تو جانا ہے پکنک پہ” ۔۔
عنا یہ روتے ہوئے بولی تھی۔
” بہی ہماری گڑیا کو رو لاؤ نہیں بلکہ مانی کو بھی ساتھ لے جاؤ تم لوگ اپنے۔ کل پھر فارم ہاؤس سے واپسی حویلی آنے کے بجائے پہلے شہر ہو لینا۔ اس طرح سمیرا کے بچے کو بھی دیکھ لو گے اور بچوں کی بھی خوشی پوری ہوجائے گی”۔۔
غزل نے تجویز پیش کی تھی کھلے دل سے ۔۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے تم سب نکل جاو “
حماد نے عنایہ کو پیا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
