Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 51
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 51
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
آدھے گھر والے لائبہ اور عمر کے ساتھ ہسپتال روانہ ہوئے تھے جبکہ رحمان صاحب سمیرا اور حمزہ حال میں ہی رہےگئے تھے۔ اس طرح سے مہمانوں کو چھوڑ چھاڑ کے چلے جانا بھی مناسب نہ تھا ۔
صاحب جی۔۔۔۔ صاحب جی باہر پولیس آئ ہیں۔ ۔”
رحمان صاحب کا ملازم حق بھاگتا ہوا رحمان صاحب کی طرف آیا ۔۔۔
کیا رہے ہو حق پولیس یہاں کیوں آئیگی۔ ۔۔۔؟؟؟
رحمان صاحب ابھی دریافت ہی کر رہے تھے جب ہال کے باہرسے عجیب و غریب شور اٹھا اور چند ہی لمحوں میں پولیس کی بھاری نفری ہال کے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔
یہ آپ لوگ اس طرح اندر کیوں چلے آرہے ہیں ہال خالی کرنے میں تو ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے ۔۔؟؟؟
رحمان صاحب نے پہلے گھڑی کو دیکھا جو ساڑھے دس بجے کا پتہ دے رہی تھی اور پھر حیران پریشان سہ ہوکر اےایس پی معاویہ سے پوچھا ۔۔۔
جی جناب آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہال بند ہونے میں تو واقعی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے مگر کسی اور کے بند ہونے میں زیادہ ٹائم نہیں بچا بلکہ ٹائم ختم ہی سمجھو اب تو ۔۔!!
اے ایس پی معاویہ خزیمہ کی طرف معنی خیز نظر ڈالتے ہوئے تمسخرانہ ہنسی ہنسا۔ ۔۔
یہ کیا طریقہ ہے منہ اٹھا کے چلے آرہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟لگتا ہے آپ کو پتا نہیں ہے یہ بات کہ کس کے بیٹے کا فنکشن ہے آج مہندی کا ورنہ آپ اس طرح کبھی بھی یوں بن بلائے مہمان کی طرح دندناتے ہوئے نہ آتے۔ ۔”
پولیس کو آتے دیکھ امجد گوندل بھی ان دونوں کی طرف آن پہنچے اور لہجے میں حد درجہ سخت مہری سموکہ اے ایس پی معاویہ سے گویا ہوئے ۔
یہ خزیمہ گوندل ہی کی مہندی کا فنکشن ہے غالبا اگر میں غلط نہیں ہوں تو اور آپ اس کے باپ کے رتبے پر فائز مسٹر امجد گوندل ہیں یا پھر اپنے بیٹے کی طرح آپ کو بھی لوگوں سے منہ چھپاکہ پھرنا پڑتا ہے ؟؟؟
“برخودار ہمیں اکسائو نہیں کہ ہم تمہارے ساتھ کچھ غلط کریں جس کرسی پہ تم اتنا اکڑ رہے ہو اس عہدے سے تمہیں ہٹانے میں مجھے سیکنڈ بھی نہیں لگیں گے چٹکیوں کاکام ہے یہ میرے یعنی امجد کو دل کے لیے ۔۔۔۔”
اچھا واقعی۔۔؟؟
آپ نے تو مجھے ڈرا دیا۔۔۔!!
ویسے ایک بات بتاؤں اگر آپ چٹکیوں میں مجھے میرے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں تو میں آپ کا بھی باپ ہوں گوندل جی۔ ۔ “
میں لمحہ نہیں لگاؤں گا آپ کو ہتھکڑیاں پہنا کر عمر قید کروانے میں ۔۔۔۔۔”
بیٹا تم مجھے بتاؤ کیا کیا ہے خزیمہ نے؟ ؟؟
رحمان صاحب خود کو بڑی مشکل سے سنبھال کر معاویہ سے گویا ہوئے نہ جانے کیوں ان کو کسی بہت بڑے طوفان کے آنے کا اندازہ ہو چلا تھا ۔۔۔
” آپ کے پیارے دوست کے بیٹے نے جس لڑکی کو حبس بے جا میں رکھا وہ بھی کوئی عام لڑکی نہیں تھی اسی کا باپ آپ کے ہونے والے داماد جو کہ اب مجھے پکا یقین ہے نہیں ہوگا کے خلاف ایف آئی آر کٹوا کر گیا ہے۔۔۔۔”
یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟
بکواس کر رہا ہے ڈیڈ یہ ۔۔۔۔۔”
جھوٹ بول رہا ہے۔۔!!
یہ بہت بڑی سازش ہے اس کی میرے خلاف ۔۔۔”
خزیمہ اسٹیج پہ کھڑا ہو کہ زور دار لہجے میں چنگھاڑا ۔ہال میں موجود سبھی افراد کو جیسے سانپ سونگھ گیا کئی رشتے دار اور مدوع ہوئے مہمان آپس میں چیمہ گوئیاں کرتے معاملے کو اپنے اپنے مطابق نام دینے میں مصروف تھے ۔۔
سچ اور جھوٹ کا فیصلہ تم نہیں عدالت کرے گی۔۔۔۔۔۔”
ہمیں اپنا کام کرنے دیں آپ کے ہر سوال کا جواب کچھ ہی دیر میں مل جائے گا ۔۔۔۔۔!!
ایس پی معاویہ کہتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسٹیج کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
سعد دلہا میاں کے ہاتھوں میں چوڑیاں تو پہنا دو ۔۔۔”
اے ایس پی معاویہ نے سب انسپیکٹر سعد کو حکم صادر کیا ۔۔
جی سر جی …..!!
میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں میرے قریب مت آنا ۔. ۔۔۔۔۔”
خزیمہ آتش فشاں ہوا ۔
چلو شاباش تمہاری سیج تیار ہے سہاگ رات کے لیے تھانے میں کئ اہلکار تمہارا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔””
زبان سامان کے بعد کرو تم لڑکے ۔۔۔
ڈیڈ یہ جو بھی کہہ رہا ہے ایک دم غلط جھوٹا آدمی ہے یہ ۔۔۔۔”
“یہ ڈنڈا دیکھ رہے ہو یہ جو میرے ہاتھ میں ہے یہ جب جدھر میں چاہوں گھسا کہ ایسے معجزے دکھاتا ہوں کہ سچ خود بہ خود جسم کے کسی بھی حصے میں سے گیس کی طرح باہر نکل پڑتا ہے۔۔۔۔۔”
سعد چلو گرفتار کروا سکو۔۔۔”
“خوب اچھی طرح اس کی جیل میں خاطر مدارت کرنی ہے۔ ۔۔۔”
“بڑا شوق ہے نہ تجھے کمسن لڑکیوں اور عورتوں کی عزت سےکھیلنے کا اب تو دیکھ تیرے ساتھ ہم کھیلیں گے آج صحیح کی سہاگ رات منائی جائے گی تیری وہ بھی مکمل بینڈ باجے کے ساتھ بہت دھوم دھام سے ۔۔۔۔”
معاویہ اس کو گدی سے پکڑ کے ساتھ کی طرف دھکیلتے ہوئے اپنے جلا دی موڈ میں آ چکا تھا ۔۔۔۔۔
خزیمہ کو پولیس اہلکار ہتکڑی لگاکہ لیجا چکے تھے تب بڑی دیر سے خود پہ جبر کئے ہوئے وہاں موجود حیاء اٹھ کے واپس پلٹتے معاویہ کے راستیں میں حائل ہوئی۔ ۔۔۔۔
“بےبی تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟”
معاویہ جب وہاں سے جانے لگا تو اپنی بےبی کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چار ہوئی
“ارے کل رات کو بتایا تو تھا اپنی فرینڈ کی شادی میں جانا ہے”
۔ ۔۔۔ میری باتوں پر تو تم دھیان ہی نہیں دیتے”
حیا نے اس سے شکوہ کیا۔
“تمہیں پتہ ہے نہ رات کو میرا دھیان صرف ایک ہی طرف ہوتا ہے”
معاویہ نے حیا کو دیکھ کر معنی خیزی سے کہا
“تم ابھی آن ڈیوٹی ہو معاویہ اپنا یہ دو ٹکہ پن مجھے بیڈ روم میں آکر دکھانا”
سہی کی خبر لونگی پھر۔ ۔۔۔!!!
ہونہہ۔ ۔۔۔
حیا نے اس کو آنکھیں دکھائیں۔
“پھر تیار رہنا میری شیرنی آج رات۔ ۔۔”
” یہ بتاؤ میرے دونوں لاج دلارے کہاں پر ہیں؟؟؟”
معاویہ نے ہال میں چاروں طرف نظر دوڑا کر حنان اور منان کو ڈھونڈنا چاہا ۔۔
“وہ مشعل اور اریش کے بیٹے ہانی کے ساتھ کھیل رہے ہیں”
حیا نے معاویہ کو کہتے ہوئے اک ادا سے اپنے بالوں کو اک طرف کرکہ بائیں شانے پہ ڈالا۔ ۔
“اچھا وہ دونوں بھی انوائٹڈ ہیں یہاں پر”
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرنا ضروری گردانا۔
“معاویہ میں نے کل رات کو تمہیں پوری بات بتائی تھی۔۔۔ کہ مجھے شفا کی بہن کی شادی میں جانا ہے۔۔۔ اور وہاں پر اریش اور مشعل بھی ہوں گے۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے گویا ہوئی۔۔۔
“بے بی جب جب تم میری پسند کے “لباس” کو پہن کر میرے پاس آتی ہو۔۔۔ قسم سے اس دو ٹکے کے پولیس والے کی سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں گم ہو جاتی ہیں”
معاویہ نے شوخی بھری نظروں سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“معاویہ یہ بہت زیادہ ہوگیا ہے میرے خیال میں اب تمہیں جانا چاہیے”
حیا نے اس کو پٹڑی سے اترتا دیکھ کر کہا تو معاویہ ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا حیا دوبارہ مشعل کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
مہندی کا فنکشن دھرے کا دھرا رہ گیا لائبہ کو لے کے آدھے گھر والے ہسپتال پہنچے تھے عمر کا تو مانو جیسے پورے جسم کا خون ہی خشک ہو گیا تھا ۔۔۔
سب خیریت تو ہے نا میری بہن کیسی ہے ؟؟؟؟
مصطفی نےڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ کر بے قرار ی سے ڈاکٹر سے لائبہ کی بابت استفسارکرنے لگا ۔۔۔
“جی ہاں سب ٹھیک ہے”۔۔۔
” بس ویکنیس زیادہ ہوجانےکی وجہ سے چکر آنے کے باعث وہ بے ہوش ہو گئی تھیں مگر اب وہ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
کیا میں مل سکتا ہوں اپنی بہن سے ۔۔؟؟؟
جی ضرور مگر پہلے وہ اپنے ہسبنڈ سے ملنا چاہ رہی ہیں۔۔۔۔۔!!
” جی بہتر ۔۔۔”
“عمر جاؤ تم دیکھو لائبہ کو پھر ہم ملیں گے ۔۔۔۔”
مصطفی موقعے کی مناسبت کو سمجھتے ہوئے عمر کو کہتا کسی کو فون ملانے میں مصروف ہوگیا۔ ۔۔
اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کی نازو پلی بہن خدا کے کرم سےاب بہتر تھی۔ ۔۔۔۔
وہ اس کی بہن تھی لیکن اس کے لیے وہ بچوں کی طرح تھی ۔جان چھڑکنے والے بھائیوں میں سے تھاوہ اپنی بہن پہ ۔۔۔
لائبہ تم ٹھیک تو ہو نا….؟؟؟
کہ اتنا کہتا ہوں ٹھیک سے کھاؤ پیو مگر تم ہو کہ میری سنو تب نہ ۔۔۔۔۔۔”
وہ نون سٹاپ اس کو دیکھ کے بولتا چلا گیا مگر یک لخت اس کو رکنا پڑا لائبہ کے چہرے پر موجود کرب کے منڈلاتے سائے اس کو ٹھٹک کہ رکنے پر مجبور کر گئے تھے۔۔۔۔
کیا ہوا ہے تم ٹھیک نہیں ہو؟؟؟؟
مجھے تمہاری بے ہوشی کی وجہ وہ نہیں لگرہی جو ڈاکٹر ابھی باہر ہم سب کو بتا کر گئی تھی۔ ۔۔”
عمر نے بےحد نرمی سے اس سے دریافت کیا اور ساتھ بہت محبت سے اسکو دیکھتے ہوئے اسکا سر سہلانے لگا کتنی خوش خوش وہ اسکے ساتھ گھر سے نکلی تھی کہیں بھی کسی قسم کے دکھ تک کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہلکا سہ بخار ضرور تھا اسکو جسکی دوا اسنے لائبہ کو گھر سے نکلنے سے پہلےدیدی تھی۔
عمر تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو…”
وہ اٹک اٹک کے بولی نقاہت کی وجہ سے آواز بہت دھیمی تھی۔۔
لائبہ کیا کہنا چاہ رہی ہو؟؟؟
نجانے کیوں ایک دفعہ پھر سے تمہاری آنکھوں کی چمک کیوں ماند پڑ کے رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔؟؟
“سو ہا کو بچالو عمر نہیں تو وہ بے موت ماری جائے گی “۔۔۔
بہت مشکل سے بولی آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔۔
وہ دل سے خوش بھی بہت ہوئی تھی کہ اس کا مجرم آخر کو اس کے سامنے آ ہی گیا مگر دل میں سوہا کی وجہ سے دکھ بھی اپنی جگہ گھر کر گیا تھا لیکن پھر یہ سوچ کر مطمئن اور کافی حد تک پرسکون ہوئی تھی کہ کچھ بھی غلط ہونے سے پہلے وہ سوہا کو بربادی سے بچاہی لے گی۔۔
نہیں ہونے دی گی وہ اس کی زندگی برباد۔۔۔۔۔
سیاہ اندھیروں کو وہ سوہا کی قسمت میں ہرگز بھی نہیں اپنے پنجے گاڑنے دے گی ۔۔۔۔۔
“کیا ہوا سوہا کو وہ بالکل ٹھیک ہال میں ہی تو ہے “
“نہیں عمر سوہا کی زندگی کو اگر تم آباد کرنا چاہتے ہو تو پلیز اس غلیظ شخص سے بچالو وہ سوہا کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
لائبہ اب باقائدہ چکیوں سے رو دی تھی بولنا بہت مشکل ہو رہا تھا اس کے لیے ۔۔
“کیا کہنا چاہ رہی ہو لائبہ کھل کے کہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے تکلیف ہورہی ہے تمہیں اسطرح سے بکھرا دیکھ کر۔۔۔۔”
“خزیمہ وہی ہے جس نے مجھے بے آبرو کیا تھا”۔۔۔۔۔
کک۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟!!!
عمر بھونچکا رہے گیا۔۔۔
وہ ہسپتال کے گارڈن میں بیٹھا بے دردی سے گھانس کو نوچ رہا تھا رات کے 3 بجنے کو تھے مگر عمر کو وقت کاجیسے کچھ ہوش ہی نہ رہا تھا۔
صطفی اندر لائبہ کے پاس تھا جبکہ باقی سب لوگوں کو ان دونوں نے ہی زبردستی گھر روانہ کر دیا تھا ۔
کئی دفعہ اس نے رحمان صاحب کے نمبر پہ کال بھی کی مگر ہسپتال میں سگنل نہ آنے کے باعث رابطہ نہ ہو سکا ۔۔۔
“میں اپنی بیوی کا لباس ہوں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میں نے جس راز کی اب تک اپنی جان سے بھی زیادہ حفاظت کی ہے اس کو اتنی آسانی سے ساری دنیا کے سامنے عیاں کر دو ۔۔۔؟؟؟”
“میرے خدا لائبہ میری شریک حیات ہے اس کو تو نے میرے لیے ہمسفر منتخب کیا ہے ۔۔۔۔”
“میرے اللہ تعالی !! میاں بیوی کو تو نے ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے پھر میں کیسے سب کو بتا دوں کہ خزیمہ لائبہ کا مجرم اور ایک کرپٹ آدمی ہے ۔۔۔”
مگر سوہا ۔۔۔۔۔!!!!
“سوہا کو بھی میں جانتے بوجھتے اندھی کھائی میں نہیں دکھیل سکتا۔۔۔۔۔”
ناممکن!!
کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
میں اپنی بہن کی شادی ہر گز کسی قیمت پہ بھی ایک ایسے شخص سے نہیں ہونے دوں گا جو بد نیت اور عزتوں کو پامال کرنے والا غلیظ تریں انسان کے بھیس میں بھیڑیا ہے” ۔۔۔
مگر میرے مالک مجھے آج تیری مصالحتوں کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے ۔۔۔۔”
“بے شک اللہ تعالی !! تیرے کام تو ہی بہتر جانتا ہے ہمیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوئے تیرے فیصلوں کا اندازہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔”
مجھے آج معلوم ہوا کیوں تونے لائبہ کو اس کرب سے گزارا یہ وجہ آج مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہوگی کیونکہ میری بہن کی زندگی برباد نہیں ہونی تھی ۔ اگر جولائیبہ خزیمہ کو نہ پہچانتی تو میری معصوم بہن اج شادی کے نام پہ بربادی کی متمحل ہوتی۔ ۔۔۔”
کس طرح سے گھر والوں کو اس بات کے لئے تیار کرو کہ وہ خزیمہ سے سوہا کی شادی کرنے سے انکاری ہو جائیں ۔۔۔۔؟؟؟
“یا اللہ پاک میری مدد فرما ۔۔۔میں بے بس ہو چکا ہوں۔۔۔۔”
وہ خود کو بالکل لاچار و بے بس صبر کر رہا تھا ایک طرف بیوی تھی جس کا ہر صورت پردہ رکھنا عمر کی کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا دوسری طرف چھوٹی بہن ۔۔۔۔۔!!!
عزت و غیرت کا سوال تھا اس کے لیے ۔۔۔۔
“یا اللہ میری مدد فرما مجھے اس امتحان کی گھڑی میں سرخرو کر میرے مالک ۔۔۔۔”
“میں بے بس ہوں تو روشنی کی کرن دکھا دے میرے پروردگار !! غیب سے مدد فرما میری۔۔۔ بند دروازے کھول دے میرے مالک ۔۔”
میں دو کشتیوں میں سوار ہو ایک کو بھی نہیں ڈوبنے دے سکتا لائبہ کا بھرم تیری امانت ہے اور سوہا کی زندگی برباد ہونے سے بچانا بھی کا بھی اختیار بس تجھے ہی ہے ۔۔۔۔”
“”کر دے کرم خدا میرے۔ ۔۔۔۔”
وہ نہیں جانتا تھا کہ خدا نے پہلے ہی اپنا کرم ان تینوں پے کر دیا ہے ۔۔۔۔۔
مصطفی ابھی ابھی ہسپتال سے آنے کے بعد شاور لے کر بستر پر دراز ہی ہوا تھا جب زینب ہلکا سہ کھٹکا کر کے کمرے میں آئیں۔ ۔
امی آپ کوئی کام تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا میں آ جاتا نیچے آپ کیوں پر چڑھ کہ آئیں ؟؟؟
وہ فکرمند ہوں ماں کے جوڑوں کے درد کو لے کہ۔
“بیٹا میں جانتی ہوں رحمان بھائی نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے مگر خدا کے فیصلے کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔۔۔۔۔”
مصطفی کا سر زینب نے اپنی گود میں رکھ کہ انگلیوں کی پوروں سے سکون پہچانے لگیں۔ ۔
” آپ تمہید نہ باندیں جو کہنا چاہتی ہیں کھل کر کہیں۔ ۔۔۔۔”
وہ چونکا تھا کیونکہ اس وقت کم از کم اپنی ماں سے رحمان ماموں یا اس گھر کے کسی بھی افراد کے ذکر کی توقع نہیں کر رہا تھا ۔۔۔
“سوہا کی شادی خزیمہ سے نہیں ہو رہی ہے بلکہ تم سے ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔”
“امی آپ میرا مذاق تو مت اڑائیں ۔۔۔۔”
وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھا اور حیران ہو کہ ماں کو دیکھا ۔۔۔
“میں جانتا ہوں وہ آج کسی اور کے نام لکھ دی جائے گی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہ میری اب کبھی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔!!”
“نہیں مصطفی!! میرے بچے میں کیوں تمہارا مذاق اڑانے لگی سچ تو یہ کہ سوہا کی شادی آج شام تم سے ہی طے پائی ہے ۔۔۔”
ایسا کس طرح ممکن ہے ؟؟؟
امی آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں آخر ؟؟؟
‘کھل کے بات کریں پلیز میرا مزید اور امتحان مت لیجئے میں ویسے ہی بہت بکھر چکا ہوں ۔ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔۔۔ آپ کی باتیں مجھے مزید اذیت سے دوچار کر رہے ہیں ۔۔۔”
سرد مہری کا عنصر زینب بیٹے کے لہجےمیں بخوبی محسوس کر رہی تھی ۔۔
“نہیں مصطفی بیٹا میں جو کہہ رہی ہوں وہ ایک ایک حرف سچ ہے ۔۔۔۔”
“خزیمہ بہت بڑا فراڈیا نکلا اور وہ مشکوک سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے کل رات اس کو مہندی کے فنکشن میں سے ہی پولیس اپنے ساتھ حوالات میں لے گئی تھی اور رحمان بھائی نے تو اسی وقت گوندل صاحب کو صاف صاف لفظوں میں شادی سے انکار کردیا تھا اور وہ لوگ اپنا سا منہ لے کر شور شرابہ کرتے ہوئے واپس چلے گئے ۔۔”
زینب نے سارا قصہ کہہ سنایا
تو اب مجھ میں کونسے ماموں کو جواہر نظر آ گئے جو شادی کے لیے مان گئے ؟؟؟
نہ چاہتے ہوئے بھی مصطفی کا لہجہ طنز میں ڈوبا ۔۔
مجھ سے کیا آپ چاہتی ہیں ۔۔۔۔؟
“تم بہتر جانتے ہو کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہو مصطفی اور پھر تمہاری بھی تو یہی خواہش تھی اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری دعا قبول کرلی ہے ۔۔۔۔”
وہ مصطفی کا روکھا پھیکا سا رویہ دیکھ کہ اپنے لہجے میں موجود ناراضگی نہ چھپا سکیں۔ ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔!!!
یہ دو ہی لفظ اس نے اپنے لبوں سے محض ادا کیے تھے اور کہتا اٹھ کے اپنے کمرے میں سے باہر لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا مگر زینب بہت اچھی طرح اس وقت سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے غصے کو قابو کرنے کے لیے زینب کے سامنے سے ہٹ گیا رتھا۔ ۔
سوہا نے زینب کا دوپہر میں ہی ایمرجنسی میں خریدا ہوا اس کے لیےعروسی جوڑا سے تن کیا ۔۔۔
سب سے پہلے سپاٹ لائٹ کی روشنی میں حمزہ اور شفاء ہنستے مسکراتے کیمرہ مین کی ہدایت کے مطابق چلتے ہوئے اسٹیج تک پہنچے ۔۔
پھر عمر اور لائیبہ آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے حسین خواب سجائے لبوں پہ مسکراہٹ لیے سرشار سے پہلے سے موجود اسٹیج پہ شفا اور حمزہ کے برابر میں تھک گئے ۔۔۔
پھر باری آئی مان اور انایا کی ان کو آتا دیکھ سب نے خوب شور ڈالا وجہ اور مان کی گود میں موجود ننی پڑی تھی ۔۔۔
آخر میں آیا موسٹ آویٹڈ جوڑا مصطفی اور سوہا کا
سوہا کے چہرے پر گھبراہٹ تھی جبکہ مصطفی کا چہرہ سرد مہری لیے ہوئے تھا ۔۔۔
ہنسی خوشی سب لوگوں نے اسٹیج پہ دھاوا بولا 2 اسٹیج بنائے گئے تھے ایک آمر کے لیے ایک مصطفی کے لیے ۔
ارے مشعل اریش بھائی کیسے ہیں آپ دونوں
جیسے ہی اریش ہانی کا ہاتھ تھامتا ہوا مشعل کے ہمراہ بینکوئٹ میں داخل ہوا حیا مسکراتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی
الحمدللہ ہم دونوں تو ٹھیک ہیں آپ سنائے معاویہ آج آیا ہے یا آج بھی وہ آن ڈیوٹی ہے
حیا اور مشعل ایک دوسرے سے گلے ملی تو اریش نے حیا سے پوچھا
وہ اکثر اور بیشتر آن ڈیوٹی ہی پائے جاتے ہیں پولیس اسٹیشن میں۔۔۔ ۔ مگر آپ کو بور ہونے کی ضرورت نہیں ہے بشر بھائی اور آدم بھائی وہاں موجود ہیں۔۔۔ آپ ان دونوں کی کمپنی انجوائے کریں میں مشعل کو حجاب اور حورم سے ملواتی ہوں او مشعل
حیا اریش سے کہتی ہوئی مشعل کا ہاتھ تھام کر حجاب اور حورم کے پاس لے گئی
حورم، حجاب ان سے ملو یہ ہیں مشعل اریش بھائی کی مسسز
حیا نے مشعل کا حورم اور اور حجاب سے تعارف کروایا
بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر حیا سے پہلے آپ کا ذکر سنا تھا
حورم نے خوش دلی سے مشعل کو کہا۔ تھوڑی دیر میں مشعل کی حجاب اور حورم سے بھی اچھی بات چیت ہوگئی
“ارے حیا تم نے تو اپنا کافی ویٹ لوز کیا ہے۔۔۔۔ مجھے بھی ایڈوائس کرو کیا کروں دن بدن ویٹ بڑھتا جا رہا ہے
حجاب نے اپنی پریشانی کا ذکر حیا کو دیکھ کر کیا
ہاہاہا بہت مشکلوں سے کم کیا ہے میں نے اپنا ویٹ،، میں تمہیں دیکھ کر سوچ ہی رہی تھی کہ تم سے پوچھو کیا بشر بھائی کا خون پیتی رہتی ہوں دن رات۔۔۔
حیا نے ہنستے ہوئے حجاب کو دیکھ کر کہا
ہاہاہا میں بشر کا خون کیا پیو گی یہاں تو پانی پیو وہ بھی لگ جاتا ہے۔۔۔ ویسے حورم تم ابھی تک ویسے کی ویسی اسمارٹ ہو
حجاب نے حورم کو دیکھ کر کہا
وہ اس لیے کہ آدم بھائی اس کا خون پیتے ہو نگے دن رات
حیا کی بات پر وہ چاروں ہنس دی
نہیں یار بیٹی ہونے کے بعد تو کافی کم ہو گیا ہے غصہ ایسی بھی بات نہیں ہے بہت پیارے ہیں میرے میاں
حورم نے فورا آدم کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا
اور مشعل تم کیوں چپ ہو تم بھی بتاؤ اریش بھائی کیسے ہسبنڈ ہیں
حجاب نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا تھا تاکہ وہ بھی باتوں میں حصہ لےے
مجھے تو ایسا لگتا ہے دنیا کے سب سے اچھے ہسبینڈ اریش ہیں بہت لوینگ کیئرنگ احساس کرنے والے
مشعل نے مسکراتے ہوئے ان تینوں کو بتایا
یار قسم سے ہے تو معاویہ بھی بہت اچھا مگر جب اسے غصہ آجائے دفعہ تو بس اپنا دو ٹکہ پن دکھاہی دیتا ہے
حیا نے معاویہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا اور ایسے کم ہی لمحات ہوتے تھے جب وہ ایسے کم ہی لمحات ہوتے تھے جب وہ اس کی دل سے تعریف کرتی تھی
ویسے یار بشر بھی بہت اچھا ہے اللہ کا شکر ہے میں دن رات اس کا اتنا بینڈ بجاکہ رکھتی ہو مگر مجال ہے جو وہ اف تک کر جائے۔
ایک مزے کی بات یہ ہے جہاں چار عورتیں جمع ہوتی ہیں وہاں وہ اپنے شوہروں کی برائیاں کرتی ہیں اور ہم چار اس وقت اپنے شوہروں کی تعریف کر رہے ہیں
حورم کی بات پر وہ تینوں ہنس دی۔۔۔۔۔
ہلکا سہ کھٹکا کرکے مصطفیٰ کمرے میں داخل ہوا تھا سو ہا مصطفی کی آہٹ محسوس کرکے مزید خود میں سمٹ سی گئی۔۔
جانتی تھی کہ صنم روٹھا ہوا ہے بہت سارے پاپڑ بیلنے ہونگے منانے کے لیے مگر اس پل سوہا پر فطری شرم و حیا اور پھر کمرے میں تاری فسوں خیزی اسکو بے طرح سے بوکھلائی دے رہی تھی ۔۔
پورا کمرہ گلاب اور موتیے کے پھولوں سے سجا کمرے میں ایک عجیب سا سحر طاری کر رہا تھا ۔
بھینی بھینی مسحور کن خوشبو کمرے میں چارسو مہک رہی تھی ۔
سوہا اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی یہ دیکھ ہی نہ سکی کہ مصطفی واشروم سے فریش ہونے کے بعد ہلکے پھلکے لباس کو زیب تن کیے اپنی نئی نویلی دلہن سے ہمکلام ہوئے بغیر قدرے فاصلہ قائم کر کہ بیڈ کی بائیں جانب لیٹ چکا ۔
اگر جو میرا مکمل ایکسرے ہوگیا ہو تو بہتر ہے کہ تم بھی لائٹ بند کر کے لیٹ جاؤ۔۔۔۔”
خود بھی سکون سے سوجائو اور مجھے بھی سو لینے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
آپ ۔۔۔۔۔!!!
آپ اس طرح سے نہیں کر سکتے میرے ساتھ ۔۔۔”
سوہاصحیح معنوں میں تنک اٹھی تھی اپنی تزلیل بے طرح کھلی تھی اس کو۔۔
وہ کم ازکم مصطفی سے اس قدر تلخ رویہ کی امید ہرگز نہ کر رہی تھی ۔۔
میں نے تمہارے ساتھ کمرے میں آنے کے بعد ایسا کچھ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ابھی تک تو نہیں کیا ۔۔۔۔”
تو پھر تم یہ سوگ کس کامنا رہی ہو؟؟؟
اورنہ ایسا کچھ کرنے کا میرا کوئی ارادہ ہے منہ سر لپیٹو اور سوجائو مہربانی کرو۔۔۔۔۔۔”
وہ سرد مہری سے کہتا آنکھوں پہ بازو رکھ کے اس کی طرف سے کروٹ بدلنے کو تھا جب سوہا نے جل بھن کر آو دیکھا نہ تاؤ اور اس کا بازو اپنے نازک ہاتھ میں سختی سے جکڑلیا ۔۔
یہ ہار سنگھار میں نے خود کے لئے نہیں کیا ہے آپ کے لئے اتنا سجایا ہے جود کو اور آپ ہیں کہ تعریف کے دو بول تک بولنے کے روادار نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ بھپر ہی تو گئی تھی اتنے دنوں سے جس زہنی کوفت اور اذیت سے گزر رہی تھی۔ وہی جانتی تھی یا پھر اس کا خدا اور اب مصطفی کا رویہ اس کو مزید تکلیف پہنچا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوبصورت ۔۔۔۔”
بہت حسین بلکل اپسرا لگ رہی ہو۔۔۔۔۔”
جنت سے اتاری گئی ہور ہو کوئی ۔۔۔۔۔۔”
بلکے نہیں تمہیں زمین پہ اتارا گیا ہے اس خزیمہ کے لیے ۔۔۔”
اب ٹھیک ہے یا پھر مزید میں آسمان کے قلابے ملاوں تمہاری تعریف میں ۔۔؟؟؟
وہ چڑھ کےبولا تھا جبکہ اس سجی سنوری پھلجڑی کو دیکھنے سے مکمل طور پر گریزاں تھا جیسے اگر یک بارگی اس کو دیکھلیتا تو ساری خفگی دھری کی دھری رہ جانے کا خدشہ تھا۔۔۔
صحیح ایک دم درست کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔!!
سارا قصور میرا ہی ہے ۔۔۔”
میں تو قصور وار ہو ہر ایک چیز کی!!!
ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔
خزیمہ سے میں نے ہی تو محبت کے عہد و پیمان باندھے تھے نہ۔ ۔۔۔۔”
پیار کی پینگیں بڑھائی تھیں بلکہ نہیں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ میں نے تو خود ہی سے اس کی محبت میں گوڈے گوڈے گرفتار ہونے کے بعد اس کو رشتہ بھیجنے کو کہا تھا ہاتھ پیر جوڑے تھے کہ بھائی صاحب مجھ سے شادی کرلو میرے گھرمٹھا ئیوں کے ٹوکرے لے کر آئو اور رشتہ پکا کرواکہ ہی اٹھنا۔۔۔۔۔””
اب ٹھیک۔۔۔۔؟؟؟؟
یہی سننا چاہتے تھے نہ آپ اپنے ان بڑے بڑے کانوں سے؟ ؟
اب خوش ہو جائے جو آپ کی دلی خواہش تھی وہ پوری کر دی میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
وہ کہتے کہتے بیڈ سے جمپ لگانے کے انداز میں اس کے اوپر سے کو دی تھی ۔
اس طرح کے عین اس کے سامنے کھڑی ہلکے ٹی پنک کلر کے عروسی لباس میں میک اپ سے سجے چہرے اور نفیس ہلکے سونے کے زیورات پہنے وہ مصطفی کو بہت اپنی اپنی اور صرف اسکی لگی تھی مگر پھر یکایک گزرے دنوں کی چپقلش مصطفی کے جذبات کو بھانپ کی طرح بٹھا گئی تھی تمام نرم گرم جذبات اک دفع پھر سے گہری نیند جاسوئے تھے ۔۔۔
وہ واپس اجنبیت کے خول میں لپٹا تھا۔
کیا چاہتی ہو مجھ سے اب ۔۔ ؟؟
تم مسئلہ بتاؤ اپنا جلدازجلد اور میری جان چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
شدید بے زاری سے کہتا وہ سگریٹ اور لائٹر اٹھانے کے لئے سائڈ ٹیبل کی طرف جھکا ۔۔۔۔
اس کمرے میں آپ چمپینزی کے علاوہ اور بھی کوئی موجود ہے اور میں یہ بتادوں کہ سگریٹ اور اس کلموہی کو لبوں سے لگانے والے دونوں ہی مجھے شدید ترین ناپسند ہیں اعلی درجے کی پرخاش ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔””
ہاں تو کیا کروں تمہارے لبوں کو چوموں؟؟؟
وہ اسکو اک ہاتھ سے پرے کرنے لگا۔۔
ہاں تو روکا کس نے ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟
بے شک عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ ۔۔۔۔۔۔”
دوبدو بولی۔ ۔۔
سوہا میری برداشت کا تم پہلے ہی بہت امتحان لے چکی ہو مزید میرا میٹر ہائی مت کرو ۔۔۔۔”
میرا بھیجہ خشک ہو چکا ہے بلکل جلدی اب اپنا مسئلہ بکو اور چلتی پھرتی نظر آئو شاباش۔۔۔!!!
میں آپکی دلہن ہوں مصطفی! !
شادی ہوئی ہے ہماری۔۔۔۔۔؟؟
سوہا نے اپنے تعین جتایا۔ ۔۔
ہاں تو؟ ؟؟
شادی ہی ہوئی ہے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی بہت بڑا معرکہ سر ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
ایک دن میں ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں تم اور میں کوئی انوکھے دلہادلہن نہیں بنے ہیں دنیا کے ۔۔۔۔”
آپکو نہیں پتا کہ نئی نویلی دلہن سے کس طرح پیش آتے ہیں؟ ؟
پھر کہوں اور کیا کروں؟ ؟ تمہارے حسن کی تعریف کرتو دی ہے اب کیا ڈیمانڈ ہے نیکسٹ وہ بھی پوری کر دوں گا ۔۔۔۔۔”۔
بیزاریت سے چور لہجے میں کہا گیا ۔۔
خالی خولی تعریف نہیں سن نی مجھے ۔۔۔!!
نہیں چاہیے مجھے آپکی عنایتیں بہت کیا ۔۔۔۔۔
میں بتاتی ہوں آپ کو کہ دلہن کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں اب۔۔۔۔۔!!
سوہا شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کہ اپنے جلالی موڈ میں آ چکی تھی۔۔۔
” ایک وہ نہ ہونے والا دلہا تھا جو شرابی کبابی نکلا دوسرا جس کے بیڈ روم میں اس وقت مجھے پہنچا دیا گیا ہے وہ بالکل ہی عقل سے پیدل ہے ۔۔”
دماغ ہی نہیں مل رہے جناب کے اٹھو فور ی یہاں سے۔۔۔۔۔۔”
وہ چیخی۔
کیوں اٹھو میں یہاں سے یہ میرا روم ہے۔۔۔؟؟؟
وہ گڑبڑایا
میں کہتی ہو کھڑے ہو فوری بہت کر لی تم نے اپنی من مانی اور میری تذلیل اب نہیں بخشوں گی میں تمہیں۔۔۔۔۔۔”
کوئی جن بھوت تو نہی چمٹ گیا ہے جو اول کہے جارہی ہو؟ ؟؟
میرا بیڈروم ہے میرا کمرہ ہے میں نہیں اٹھ رہا تم کون ۔۔؟؟
تمہارا بیڈ روم اور تمہارا کمرہ تھا اب یہ میرا بھی اتنا ہی ہے برابر کی شریک ہوں میں اس کمرے کی اور میں کون !!
ابھی بتاتی ہوں آخری دفعہ بول رہی ہو تم اٹھو گے یا میں لیٹ جاؤ ۔۔۔۔؟؟
ہاں تو لیٹ جاؤ میں نے تو نہیں روکا اتنا بڑا بیڈ ہے جہاں دل چاہے لیٹو اس میں اتنا واویلا مچانے کی کیا تک ہے۔۔۔؟؟؟
میں پھوپھو کے پاس جا کر انکے بیڈروم میں پھوپھو اور پھوپھا کے درمیان لیٹ کر سونے جا رہی ہوں ۔۔
وہ آپنا غرارہ سنبھالتی ہوئی دروازہ کھولنے کو بڑی بھاگ جانے کے لئے ۔
کیا۔۔۔۔؟؟؟؟
تمھارا دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔؟؟
