Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 18
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 18
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
یہ۔۔۔۔۔ یہ تو میرا گھر نہیں ہے ۔۔۔!!
ایک دم بوکھلا کر بولی تھی سامنے موجود خوبصورت سہ بنگلہ جوکہ ارمغان نے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی خریدا تھا کراچی کے سب سے ڈیمانڈنگ علاقے ڈیفینس میں !!کیونکہ اس نے یہاں پہ بھی اپنا آفس کھول دیا تھا ۔۔۔
جس کی بنا پر اس کا زیادہ وقت کراچی میں گزرنا تھا گاؤں بھی اس کا آنا جانا لگا ہی رہتا تھا ۔۔
ہاں مجھے پتا ہے یہ تمہارا گھر نہیں ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔۔۔
وہ نرمی سے کہتا آگے بڑھنے لگا ۔۔
آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں ؟؟؟
آپ تو مجھے میرے گھر چھوڑنے جا رہے تھے نا ؟؟؟
فجر کے لہجے میں بے اعتباری نمایاں تھی ۔۔۔
دیکھو فجر مجھ پر بھروسہ رکھو میں تمہارے ساتھ نہ کچھ غلط کروں گا اور نہ ہی کبھی تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط ہونے دوں گا بہت کے حالات بہت خراب ہوچکے ہیں چاہو تو اپنے ابو کو فون کر کے پوچھ لو اور ان کو بتا دو کہ تم خیریت سے ہوں ۔۔۔
میں یہ اکیلا نہیں رہتا میرے ساتھ میری دادی بھی اندر موجود ہیں ۔۔۔
کہو گی تو ان کو میں تمہارے سامنے آ بھی لے آتا ہوں ویل شیر پہ باہر تم ہر طرح سے مطمئن ہو جاؤ اور اپنے بابا کو بھی کردو دادی کی بات کر عدّو اپنے ابو سے ۔۔
میں تمہیں بہرحال ا ن ہنگامی حالات میں تنہا تو بالکل بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔
وہ اب ملازم کو اشارہ کرکے دادی کو باہر لانے کو کہہ چکا تھا ۔۔۔۔
جب کہ فجر کے چہرے پر الجھن کے آثار واضح تھے وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کے کیا کرے نہ جوانی کیوں اس کا آسان جان شخص پہ بھروسا کرنے کا دل ہو رہا تھا ۔۔۔
اسلام علیکم دادی ۔ ۔۔۔!!
شکر اللہ کا جب جیو میرا بچہ تو ساتھ خیریت کے گھر واپس آ گیا ۔۔
میں بہت پریشان ہوگئی تھی اس ٹی وی موئے میں خبریں دیکھ کہ ہول رہی تھی ۔۔
وہ ار مغان کو دیکھ کر جیسے دوبارہ جی اٹھیں تھیں ۔۔
ارے میری پیاری دادی مجھے کچھ نہیں ہونا ۔۔
آپ کی دعاؤں کا سایہ جو میرے ساتھ ہر پل موجود ہے ۔۔
وہ اب دوزانو بیٹھ کر اپنی دادی کے دونوں ہاتھ تھام کے آنکھوں سے چومتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
فجریہ منظر بہت حسرت سے دیکھ رہی تھی اور بہت مشکل سے اپنی آنکھوں میں آئی ہوئ نمی کو خود میں دھکیلنے کی تگ و دو میں مصروف تھی۔۔
ارے یہ بچی کو ن ؟؟؟
نہیں چل دور ہٹ ۔۔۔
دادی کی نظر جیسے ہی فجر پہ پڑی انہوں نے ارمغان کو پہلی فرصت میں ایک سائیڈ پہ کیا ۔۔۔
سجی سنوری لائٹ فروزی کلر کے لباس میں سر پہ دوپٹہ اوڑھے وہ نازک سی لڑکی کسی اپسرا سے کم نہ تھی ۔۔
دادی کے چہرے پے ایک سایہ سا لہرا گیا ہے ۔۔۔السلام علیکم دادو ۔۔۔
فجر نے جھک کر سلام کیا ادب سے ۔۔
وعلیکم اسلام زندہ رہے پتری ۔۔۔۔
دادی مزید کچھ بھی پوچھے بغیر فجر کا ہاتھ پکڑ کے اس کو اندر لے آئیں گھر کے ۔۔۔
فجر دادی کے ساتھ ساتھ بڑا سا کوریڈور عبور کر کے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی جب اچانک کسی چیز پر نظر پڑھنے کے بعد اس کے قدم جیسے ساقط سے ہو گئے آنکھیں پتھرا سی گئیں۔ ۔۔۔
وہ جلدی جلدی اس کے کپڑے ایک بیگ میں بھر رہا ہوتھا ۔۔۔
الماری اس نے پوری طرح تہس نہس کر دی تھی ۔۔۔
یہ۔ ۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ رات کے اس وقت میرے کمرے میں ؟؟؟
وہ کھٹ پٹ سے یکدم بیدار ہوئی ۔۔۔
خوابیدہ آنکھیں گہری نیند کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔
دکھ نہیں رہا ؟؟؟
اپنی بیوی کے کپڑے رکھ رہا ہوں ۔۔
آپ شرافت سے میرے کمرے سے خود چلے جائیں ور نہ میں شور کر کے سب کو بلالونگی ۔۔۔۔۔!!!
اگر شور کرسکوں گی تو نہ ؟؟؟؟
وہ اپنا رومال جیب میں سے نکال کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔!!!!
شفا نہ جھپٹ کے رومال اس کے ہاتھ سے چھین کے دوسری طرف پھینکا تھا ۔۔۔
تم کیوں ہمیشہ مجھے زبردستی پر اکساتی ہو ؟؟؟
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہتا اپنی بیلٹ پینٹ سے کھینچتے ہوئے ہاتھ میں گھماکر لپیٹتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
شفا کی آنکھیں خوف کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ۔۔
یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
وہ اب خوف کے مارے قدرے دھیمے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔۔
کیونکہ حمزہ اپنی پینٹ کی بیلڈ کھینچ کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
وہی جو مجھے بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا ۔۔۔
آپ ایک انتہائی نازیبا حرکت کرنے والے ہیں ۔۔۔۔
وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے بول رہی تھی یہ دیکھے بغیر کہ اس کے ایک قدم کے فاصلے سے پیچھےاب بیڈ موجود ہے۔ ۔۔
رات کا وقت نیا نیا رشتہ اور تنہائی ۔۔!!؛
شفا کو لگا جیسے اب حمزہ چند ہی لمحوں میں اپنا استحقاق استعمال کرکے اس کو بے مایا کر چھوڑے گا ۔۔۔۔
نازیبا حرکت کی تو بات ہی نہیں کرو۔۔۔۔!!
ابھی میں نے کوئی تمہارے ساتھ ایسی نازیبا حرکت کی ہی کہاں ھے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو پھر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں میرے ساتھ اس وقت اور کیوں آئے ہیں رات کے اس پہر میرے کمرے میں ؟؟؟؟؟
وہ آہستہ سے بولی مگر لہجہ بہت برہمی لئے ہوئے تھے ۔۔۔۔
چاہوں تو رات کے اس وقت تمہارے کمرے میں ہی!! کر تو فلحال میں بہت کچھ کرسکتا ہوں اور اب تو مجھ پہ جاِئز ر شتے کا لیبل بھی لگ گیا ہے ۔۔۔
چند گھنٹوں پہلے ہی تو تم نے خود نکاح خواں اور گواہوں کے سامنے مجھے اپنا شوہر تسلیم کیا ہے ۔۔۔
کیا ہے نا ؟؟؟؟؟
کہتے کہ ساتھ ہی اس نے بیڈ پہ گرتی ہوئی شفا کو خود سے اتنا قریب کیا تھا کہ وہ شفا کی ڈری سہمی اتھل پتھل سانسوں کو بخوبی سن سکتا تھا ۔۔۔۔
یہ آپ بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور میں بھی کیے نکاح کس طرح سے سرانجام پایا گیا ہے ۔۔۔
میری اس میں ایک فیصد بھی رضامندی شامل نہیں تھی ۔۔
میں اس زور زبردستی کے رشتے کو دل سے قبول نہیں کرتی ۔۔۔
بہت شکریہ مجھے بتانے کے لئے ۔۔۔
ویسے مجھے تمہاری کسی بھی بات پر کان دھرنے کا شوق نہیں ہے میں وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا ۔۔۔
جیسے تمہارا باپ میری ماں کے جڑے ہوئے ہاتھوں کی پروا کیے بغیر کیا کرتا تھا ۔۔۔۔
اس کی آنکھیں اسے سے سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
پلیز مجھے چھوڑدیں ۔۔۔
مجھے آپ کی چھونے سے کراہیت محسوس ہو رہی ہے۔ ۔۔۔
فکر نہیں کرو۔۔۔۔!!!
تمہیں چھونے کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے مگر اس وقت یہ میری مجبوری ہی سمجھ لو کہ مجھے یہ سب کچھ کرنا پڑ رہا ہے ۔۔۔
حمزہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جہاں پہ خوف کی واضح تحریریں رقم تھیں۔ ۔
وہ اس کو خود سے قریب تو پہلے ہی کر چکا تھا اب اس کی دونوں کلائیوں کو مضبوطی سے اپنے فولادی ہاتھوں میں جکڑ کے پیچھے پشت پر لے جاکر اس نے!! وہ بیلٹ جو ابھی ابھی اتار کر بیڈ پہ پھینکی تھی جھک کر اس کے ہاتھوں پہ باندھ دی تھی ۔۔۔۔
حمزہ پلیز مجھ پر رحم کرو میرا کوئی حساب نہیں نکلتا آپ سے۔
کوئی قصور نہیں ہے میرا۔ ۔۔
میں نہیں جانتی کیا سچ ہے کیا جھوٹ مگر مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔
وہ باقاعدہ اس کے آگےگڑگڑا رہی تھی ۔۔۔۔
حمزہ کو لگا جیسے اس کا دل یک دم اچھل کر ہلق میں آ گیا ہو۔۔۔۔
“اس طرف تو تم ایک اور ائمہ کو وجود میں لاو گے”۔۔
کسی کی آواز کانوں میں ثور پھونکھ گئ تھی ۔۔۔۔
اس کے پورے وجود میں بری طرح ہلچل مچا گئی تھی ۔۔۔۔
خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
بس اب ایک لفظ اور نہ کہنا۔ ۔
حمزہ نےلینمپ کی ہلکی سی روشنی میں اس کے خوف سے زرد پڑے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔
بچاؤ بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
شفا کے منہ سے زور دار چیخ نکلنے ہی والی تھی جب حمزہ نے اس کے گلاب کی پنکھڑی جیسے نرم و نازک گداز لبوں پہ اپنے دہکتے ہوئے لب رکھ کر اس کے حلق سے نکلنے والی چیخوں کا بے دردی سے گلا گھونٹا تھا ۔۔۔۔
اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہونے کے باعث وہ چاہ کر بھی مزاحمت نہیں کر پا رہی تھیں جبکہ حمزہ کی گرفت شفاء کے نازک سے سراپے پہ کافی سے زیادہ سخت تھی ۔۔
شفاء کو لگ رہا تھا کہ اس کی پشت میں جیسے حمزہ کی انگلیاں پیوست ہوچکی ہو ۔۔
کہیں ایسا نہ ہو جو میں نہیں کرنا چاہتا وہ مجھ سے ھو بیٹھے ۔۔۔
وہ اس کے لبوں کو آزاد کرتے ہوئے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔
آپ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ایک معصوم اور بے قصور لڑکی کو اپنی ہوس اور خود ساختہ انتقام کی بھینٹ چڑھانے کے علاوہ ۔۔۔۔؟؟؟
شاید تمھیں خود شوق ھے میری قربت کا ۔۔۔
چلو پھر میں تمھیں بتا ہی دیتا ہوں کہ میں کیا کچھ کرسکتا ہوں ۔۔۔
کہتے کے ساتھ ہی حمزہ نے ہاتھ بڑھا کے ایک چٹکی سے اسکوبیڈ پہ گرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کر رہا ہوں قیدی پشت پر بندھے ہاتھ سیدھا گرنے کی وجہ سے بری طرح کمر میں چھبے تھے۔ ۔۔۔۔
تم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔!!!
وہ اس کو اپنی جیکٹ تار کے سائیڈ پہ رکھتی دیکھ سراسیمہ ہو کر کہہ رہی تھی ۔۔۔
جب کہ حمزہ کی آنکھیں کسی بھی تاثر سے عاری تھی ۔۔۔
وہ بے حس سہ فرش سے کچھ اٹھا کر اس کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
یہ ۔۔۔۔یہ کون ہے ؟؟؟؟
فجر کچھ لمحوں بڑی ہمت مجتمع کرکے خود کو سنبھال پائ تھی اورآواز میں حددرجہ لاپروائی سمو کر بولی ۔۔۔
جبکہ لہجہ اس کے الفاظ کا ساتھ بالکل بھی نہیں دے پا رہا تھا ۔۔۔
یہ میرے امی ابو ہیں ۔۔۔
ارمغان نے اپنے ماں باپ کی تصویر کو محبت اور احترام دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔
اور یہ ؟؟؟؟؟
وھاب پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک سات سالہ بچی کی بڑی سی فریم شدہ تصویر کو دیکھ رہی تھی جو ارمغان کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
یہ یہ میری گڑیا ہے ۔۔۔۔۔
گڑیا ؟؟؟؟؟
ہاں یہی سمجھ لو کہ یہ میری سانسوں میں بستی تھی ۔
اور آج میرے دل میں بستی ہے ۔۔۔
بستی تھی سے کیا مراد ہے آپ کی ؟؟؟
یہ صرف وہ خود جانتی تھی کہ ۔۔۔
یہ وہ الفاظ تھے جو جیسے تہسے وہ خود پہ جبر کرکے ادا کر پائی تھی ۔۔۔۔
میری گڑیا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑ کے بہت دور چلی گئی ہے آسمانوں میں ۔۔۔
اس کو آسمان کی سیر کرنے کا بہت شوق تھا اور دیکھو وہ واقعی آسمانوں کی سیر کر رہی ہے تنہا ۔۔۔۔۔۔
وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے خود پہ بہت مشکل سے ضبط کے بند باندھے ہوں۔ ۔۔۔
ورنہ وہ پوری طرح سے اندر سے ٹوٹ کے بکھر چکا تھا ۔۔۔۔
میں سمجھ نہیں پا رہی آپ کی بات ۔۔۔۔
وہ خود میں حوصلہ پیدا کر رہی تھی ۔۔
مطلب یہ ہے کہ میری گڑیا اب حیات نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ کئی سال پہلے اس دنیا سے اپنا تعلق چھوڑ چکی ہے ۔۔۔
ارمغان چلتا جا رہا تھا اور کہتا جارہا تھا جبکہ فجر اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئےخود کو بہت مشکل سے گھسیٹ رہی تھی ۔۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کے رودے۔ ۔۔۔
اب وہ دونوں لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے تھے جہاں سے باہر لان کا منظر شیشے کی اوٹ سے بہت خوبصورت نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔
دادی نے بابا سے بات کرکے ان کو مطمئن کر دیا تھا اور اب وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھیں ۔۔۔
تو کیا آپ کو اپنی گڑیا ابھی بھی بہت یاد آتی ہے ؟؟؟
وہ سسکنے کو تھی آنکھوں سے اشک رواں ہوچکے تھے ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔!!!!
میں اکثر اس سے ڈھیرساری باتیں کرنے کے لئے حویلی چلا جاتا ہوں ۔۔۔
حویلی ؟؟؟
ہاں فجر حویلی ۔۔۔۔۔!!!
ادھر گڑیا ہے میری ۔۔
وہ میرا انتظار کرتی ہیں مجھ سے باتیں کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے اگر میں کچھ دن حویلی نہ جاؤں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ رورہی ہے فریاد کر رہی ہے مجھے بلا رہی ہے ۔۔۔۔
کیا کچھ نہ تھا ارمغان کے لہجے میں فجر کو لگا جیسے کہ وہ بہت معتبر ہوگئی ہے۔ ۔
میں آپ کی باتیں سمجھ نہیں پا رہی ۔۔۔
تمہیں ابھی عشق نہیں ہوا نہ۔ ۔ ۔ ۔۔۔!!
جس دن تمہیں عشق ہو جائے گا اس دن تم میری باتیں بغیر میرے کہے سمجھنے لگوگی۔ ۔۔
ارمغان کا لہجہ بہت گہرا تھا وہ کافی کا انتہائی گرم گھونٹ بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
جو چولہے سے اتار کر سیدھے ملازمہ ان کو دیکر گئی تھی ۔۔ !!!!
اگر تمہاری گڑیا تمہارے سامنے ہو تو پھر ؟؟؟؟
فجر کو اپنی آواز اجنبی سی لگی تھی ۔۔۔۔
مما میں نے آپ کو بتایا نہ میں نہیں شادی کرو نگی اس اکڑو کھڑوس پائلٹ سے ۔۔۔!!!!
وہ منہ بسورکے بولی ۔۔۔۔
یہ منہ مت بسوڑو بچوں کی طرح خاموشی سے اپنا ناشتہ کر کے کالج جاؤ ۔۔۔۔۔۔!!!
سمیرا چائے کے ساتھ پراٹھے کانیوالا بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ناشتہ تو میں فنش کرکے ہی جاؤں گی یہ تو آپ کو پتہ ہے یہ میں بھوک برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔
بس مجھے کیپٹن مصطفی سے ہر گز شادی نہیں کرنی۔ ۔۔۔۔
وہ اپنی بات پر بضد تھی ۔۔۔۔
