Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 12 (Part 1)
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 12 (Part 1)
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
محترمہ میرا دماغ تو بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے مگر اب تمہارا دماغ جگہ پر لانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔
وہ اس کی ادھر ادھر کچھ تلاش کرتی نظروں کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
میرا دوپٹہ پلیز ۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولی۔۔۔
کچھ بھی تھا وہ تھی تو ایک مشرقی لڑکی ہی نہ۔۔۔۔۔۔۔
فلحال تو میرے پاس نہیں ہے مگر آگے کا کچھ کہہ نہیں سکتا ۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں تھامی فائل میں سے کچھ پیپرز نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
آپ جس چیئر پہ برجمان ہے اس کی بیک پر میرا دوپٹہ لٹکا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
وہ تڑخ کر بولی۔۔۔۔۔
حمزہ نے ایک نخوت زدہ نظر اس پر ڈالی اور پھر بہت غور سے اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔۔
بلاشبہ وہ ایک مکمل اور حسین لڑکی تھی نازک سا سراپا ۔۔۔
اس پے تضاد گول گول بٹن جیسی آنکھوں پہ گھنیری پلکوں کی جھالر۔۔۔۔۔
بیماری کی وجہ سے کملایا زرد سا چہرہ حمزہ لمحہ بھر کو تو ساکت ہی رہ گیا تھا ۔۔ ۔۔۔
اس کے دل کو اندر سے کچھ ہوا جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہوا ہو۔ ۔
مگر پھر اچانک اپنی ماں کی گردن کا زخم یاد آگیا جو آج بھی نشان کی صورت آئمہ کی گردن پر موجود تھا۔۔۔۔
جلتی ہوئی پھلجڑی سے لگا اپنی ماں کا وہ زخم یکدم اس کی گردن پہ سر سر آیا تھا ۔۔
وہ اس زخم کی تکلیف اپنی گردن پر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
دوپٹے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے ۔۔۔۔۔
مجھ سے پردہ مت کرو ۔۔۔۔۔
یہ نہیں ہے!! تمہارا وجود میری امانت ہے تمہارے پاس۔۔۔
اور ہاں خاموشی سے پرسونکاح کا کیلئے حامی بھر دینا ۔۔۔۔
جو آپ چاہتے ہیں نہ وہہ میں وہ ہرگز نہیں کروں گی ۔۔۔۔
پھر چاہے مجھے کیوں نہ اپنی جان سے ہی ہاتھ دھونے پڑیں ۔۔۔۔۔۔
وہ حقارت بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
جب تک اپنا بنا نہیں لو نگا تب تک تمہاری موت کو بھی تمہارے نزدیک پھٹکنے نہیں دوں گا ۔۔۔۔۔۔
پر یہ میرا وعدہ ھے۔۔۔۔۔۔
اچھی طرح جانتا تھا کہ تم ایسے نہیں مانو گی اس لئے پورا انتظام کر کے آیا ہوں ۔۔۔۔
اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ لومڑی کا شکار آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑی فائل کے اوپر رکھے پیپرز پیش آتے رہ نظر ڈالتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناممکن میں نہیں مانتا کسی بھی اس قسم کی رسم کو۔۔۔۔
داود نے تڑپ کر کہا اور اپنی بانہوں میں جھولتی دلہن کو مزید سختی سے بازوؤں میں جکڑ لیا ۔۔
مبادا کہیں غزل اس سے چھین کر ہی نہ لے جاتی ۔۔۔۔۔۔
جب کہ عائشہ حیاء سے بے ہوش ہونے کو تھی۔۔۔۔
میرے بھائی اب تم مانو یا نہ مانو رسم تو رسم ہے!! اور اگر تم یہ رسم نہیں پوری کرو گے تو بہت بڑا برا شگن ہو جائے گا ۔۔۔۔۔!!
غزل نے ایسے آنکھیں باہر نکالیں پریشانی سے ۔۔
جیسے پتا نہیں کیا کچھ نہیں ہو جائے گا اگر داود نے رسم پوری نہ کی تو ۔۔۔۔
رہنے دیں بھابھی کچھ نہیں ہوتا میں تو چلا اپنے بیڈ روم میں ۔
اپنی نازک سی دلہن کو لے کر ۔۔۔
جبکہ ساتھ کھڑی سمیرا کو اپنی ہنسی ضبط کرنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔۔۔۔
داود جلدی سے سیڑھیاں تہہ کرنے لگا۔۔۔۔
سوچلو دیور جی اگر آج کی رات آپ نے ہماری بات نہ مانی تو اگلے پورے دو مہینے آپ کو اپنے بھائی کے ساتھ ہی سونا پڑے گا اور بھتیجے کو پوری پوری رات کہانیاں بھی سنانی ہو گئی اور باپ بیٹے کی بمباری الگ برداشت کرنا ہوگی ۔۔۔
غزل نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے داود کو ڈرایا ۔ ۔۔
اچھا بھائی اتنا تو بتا دیں اس کو کمرے میں چھوڑ آؤں یا یہیں سیڑھیوں پر بٹھا دو ؟؟؟!
وہ بے چارگی سے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
نہیں اب اتنی تو اجازت ہے میرے پیارے بھائی کو!!
غزل نے دل بڑا کیا اور خود بھی کسی تھانے دار نے کی طرح سمیرا کا ہاتھ پکڑے اس کو بھی گھسیٹتی داود کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔۔۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی داود نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان دونوں کے پہنچنے سے پہلے ہی دھڑام سے دروازہ اندر سے لا کڈ کر دیا ۔۔،۔۔۔
جبکہ باہر کھڑی جان کر آہستہ آہستہ اوپر چڑھتی سمیرا اور غزل کی بے ساختہ ہنسی چھوٹی تھی کتنا مکمل لگ رہا تھا یہ گھرانہ خستہ بستہ سہ۔ ۔۔۔۔۔
یہ یہ کیوں کیا آپ نے؟؟؟؟؟؟
عائشہ نے اس کے گریبان کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
کیا کیوں کیا؟؟؟
ان دونوں چڑیلوں سے بچنے کے لئے ہی تو یہ لاک کیا ہے۔۔۔۔
وہ دروازے کی طرف اشارہ کرکے بولا۔۔۔۔۔
آج پتہ چلا ۔۔۔
دروازے میں لاک ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔۔
وہ اس کو بیڈ پہ بٹھاتے ہوئے خود اپنا سانس برابر کرنے لگا ۔۔۔۔
اتنی دیر سے وہ عائشہ کو گود میں لئے ہوئے تھا اس کا سانس بری طریقے سے بھاری ہورہا تھا ۔۔۔
چاچو آپ سے میں بہت ناراض ہوں۔۔۔
آپ نے سب کو نیک دیا۔۔۔
اب ذرا اپنے ایکلوتی بھتیجے کو بھی دیکھ لیں۔۔۔۔۔
ارمغان پردے کے پیچھے سے نمودار ہوا تھا ۔۔۔
بیڈ پے بیٹھا داود اس کی آواز سن کر ایسے اچھلا تھا جیسے کسی بچھو نے اپنا زہر یلہ ڈنک مار دیا ہو۔۔۔۔
جبکہ عائشہ پہلے تو تھوڑا سا بوکھلائی پھر اپنے شوہر کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔۔
بول جلدی کیا چاہیے تجھے ۔۔؟؟؟؟
کیا ڈیمانڈ لے کر آیا ہے؟؟
جلدی بتا؟؟
وہ بلینک چیک پہ سائن کرتے ہوئے ارمغان کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
تھینکیو چاچو اس سے میرا کام ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
سوری آپ کو میں نے ڈسٹرب کیا ۔۔۔
وہ مزے سے کہتا عائشہ کے گال پہ کس کرتا داود کو ہاتھ ہلاتہ کمرے سے جا چکا تھا ۔۔۔۔
داؤد نے ایک دفعہ پھر دروازے کو کنڈی لگائی اور پورے کمرے کی تلاشی لینے کے بعد وہ واپس اپنی محبت کی طرف لوٹا تھا ۔۔۔
پورا اطمینان کر لینے کے بعد کہ اب کمرے میں کوئی اور موجود تو نہیں ہے ۔۔۔
کمرہ کیسا لگا تمہیں تمہارا ۔۔؟؟؟۔۔
وہ بات کا آغاز کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔
بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔!!!
وہ شرمگین مسکراہٹ سجائے بولی۔۔۔۔۔
ویسے یہ میں نے خود سجایا ہے ۔۔۔۔!!
داود اس کے برابر میں دراز ہوا ۔۔۔
ایک بات کہوں آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ہمیشہ کی طرح ۔۔!!!
وی سائیڈ ٹیبل کھول کر اس میں سے ایک مخملی کیس نکال کر واپس اس کی طرف پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔
میں ہمیشہ تمہاری آنکھوں میں خوشی اور مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔!!
آپ بہت اچھے ہیں داود ۔۔۔!!!
میں کوشش کروں گی کہ آپ کی اس قدر شدید محبت کا صلہ!!!
اپنی محبت سے آپ کی زندگی کو خوشبو سے مہکآتی رہوں۔ ۔۔۔!!!
وہ اس کے ہاتھ پہ اپنا مہندی سے سجا رکھتے ہوئے یقین دلا رہی تھی ۔۔۔
ایک فرمائش کروں؟؟؟؟
وہ اس کو شراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے خود پہ گرا کر بولا۔۔
بالکل بھی نہیں مجھے فرمائش پوری کر نا نہی آتی۔۔۔۔۔!!
اچھا کہیں نہ جلدی !!مجھے چینج کرنا ہے ۔۔۔
وہ بوکھلا گئی تھی۔۔۔۔۔
تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں کس لئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکو گویا ہوا ۔۔۔آنکھوں میں جذبوں کی لو جل تھل تھی ۔۔۔۔۔
میں ابھی آتی ہوں ۔۔۔۔۔
آئوگی جب نہ اگرجاؤں گئی تو ۔۔۔۔!!!
جب میں تمہیں اپنے قرب سے آزاد کرکےجانے دوں گا ۔۔۔؟؟؟؟
آج میں اپنی قربت اور محبت سے تمھارا پور پور مہکا دوں گا ۔۔۔۔۔۔!!
داود نے خود پہ گری اپنی چاہت کو آنکھوں میں بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جہاں داود کی ہمسفری کا غرور موجزن تھا آنکھوں میں ۔۔
اچھا جلدی کہیں ۔۔۔
وہ آخر کار ہتھیار ڈالتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔۔
کہکر بتاؤ ؟؟؟
یا صحیح ست سمجھا دیتا ہی دیتا ہوں ۔۔۔۔!!!
وہ سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے یکدم اٹھ کر اس کو محبت بھری نظروں سے دیکھا اور ہاتھ بڑا کر لیمپ کی روشنی بالکل ہلکی کر دی اور پھر گھبرائی سی لرزتی جھجکتی اس سے شرماتی اپنی شریک حیات کو دیکھتے ہوئے وہ اس پر جھکا تھا اور اس کے ریڈ لپسٹک سے سجے لبوں پر اپنے انگارے کی مانند دہکتے ہوئے لب رکھ دئے۔ ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اسکے کان کہ پاس جاکر سرگوشیانہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔ ۔۔۔
میری فرمائش ہے کہ ہر رات جب تک میری سانسیں چل رہی تب تک تم مجھے میرے اس انداز میں خود سے شب بخیر کہا کروگی۔ ۔۔!!!
میں جانتا تھا کہ تم بہت ضدی ہو۔۔۔
اس طرح نہیں مانو گی اور بھلا کبھی لاتوں کے بھوت باتوں سے بھی مانے ہیں ؟؟؟
حمزہ کے چہرے پر عجیب سی چمک رقصاں تھی!! جیسے وہ اپنی کامیابی سے بس چند قدم کے فاصلے پر ہو
۔منزل کے بہت قریب تر۔۔۔
فتح اس کی منتظر اپنی باہیں واہ کیے کھڑی ہو جیسے ۔۔۔
کیا ہے یہ ان کاغذوں میں ؟؟؟
شفا کو اچانک اس کی چمکتی شاطرانہ آنکھوں سے شدید خوف سا محسوس ہوا ۔۔
اسکی نقاہت زدہ آواز بہت مشکل سے حلق سے نکل سکی تھی۔۔۔
وہ اب مزید کسی بحث میں پڑنے کے بجائے جلدازجلد حمزہ کا اصل مقصد جاننا چاہ رہی تھی جس کے تحت وہ اس کے بیڈروم میں آیا تھا ۔۔۔
یہ لو اس پر سائن کرو۔۔
حمزہ نےاسکےدونوں بازوُوں میں اپنی مضبوط انگلیاں پیوست کر کے زبردستی اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔
یہ دیکھے بغیر کے وہ ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی ہسپٹال سے ڈسچارج ہو کر آرہی ہے ۔۔۔
مجھ سے دور ہٹ کر بھی تم بات کرسکتے ہومجھے چھوئے بغیر۔۔۔۔۔
اس کو لگا تھا جیسے اس کے پورے وجود کو کسی آکٹوپس نے جکڑ لیا ہو خود میں ۔۔۔
وہ آنکھوں میں شدید نفرت لیے اس کو دیکھتے ہوئے اور غرآئی تھی ۔۔۔
عادت ڈال لو میرے قرب کی اور میری جسارتوں کی ۔۔۔۔
ابھی تو کئی کئی مرتبہ تمہیں میرا ظالم لمس ایسا ہی تڑپائے گا ۔۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بہت گہرے لہجے میں مخاطب تھا ۔۔۔
نظرایسی تھی کہ شفا کے پورے وجود کو جلا کر خاکستر کرنے کو تیار ۔۔۔
مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔
میرے بازوؤں کو اپنی اس جارحانہ گرفت سے آزاد کرو ۔۔۔۔
اس دفعہ میں وہ واویلا مچا ئو گی کہ تمہاری سو دو سو پشتیں بھی نہیں بھول سکیں گی ۔۔۔۔۔
میں ایک دفعہ جس چیز پر نظر ڈال دوں یا پھر اس کو چھو لوں تو وہ صرف اور صرف میری ہوجاتی ہے۔۔۔۔
اس چیز پہ پھر اس کا دور کی بات کسی کا بھی اختیار نہیں رہتا ۔۔۔۔
اور رہی واویلا کرنے کی بات تو محترمہ یہ شوق بھی تم بخوشی پورا کر سکتی ہو !!میں تو چاہتا ہوں کہ تم ایسا کرو ۔۔۔
اور پھر تمہاری یہ سو دو سو پشتو والی خواہش بھی میں تمہارے ہی وجود سے پوری کرونگا ۔۔۔۔
۔۔۔
میں کوئی چیز نہیں ہوں مسٹر حمزہ جلال ۔۔۔
میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔
وہ لفظوں کو چبا چبا کر ادا کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اسنے تیزی سےجھک کر اس کے پیچھے سے دوپٹہ اٹھا کر خود کو اچھی طرح ڈھانپاتھا ۔۔۔۔
حمزہ کی کہی آخری بات پہ مارے خفت و حیاء سے اس کا برا حال تھا ۔۔۔
تم اس قسم کی فضول اور فحش بکواس ہی کرسکتے ہو۔ ۔۔
کوئی بھی بات مہذب انداز میں توکرنا کہا کھائی ہے کسی نے تمکو ۔۔۔۔
وہ اب باقاعدہ اس کے اوپر طنز کے تیر چلا رہی تھی ۔۔۔۔
یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کتنا مہزب ہے اور کون کتنا بے غیرت اور بے رحم ۔۔۔۔۔؟؟؟
