Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 43

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 43

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

عمرہ کرنے کے بعد اگلے ہی دن وہ مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگئے تھے ۔

چار گھنٹے کے سفر کے بعد وہ دونوں مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہو چکےتھے۔ الایمان رائل ہوٹل میں ان کا دو دن کا قیاما تھا اس کے بعد دبئی کے لئے روانگی تھی ۔بہت زیادہ طویل نہیں تھا ان کا پروگرام وجہ سوہا کی رخصتی اور عمر کا ولیمہ تھا۔ ٹوٹل سات دن کا تھا ان کا پورا ٹرپ۔۔۔

جن میں سے چار سے پانچ مکہ ، مدینہ اور دو دن دوبئی کے تھے ۔

شفا کا رویہ حمزہ کے ساتھ کافی بہتر ہو چکا تھا مگر ہلکی ہلکی سی تکلف کی دیوار اب بھی جانتے پوچھتے نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں کے درمیان حائل تھی ۔

وہ اب حمزہ کو ایک سلجھا ہوا شخص اور نرم دل انسان کے روپ میں ابھارنا چاہتی تھی ۔حمزہ مسلسل اپنی پیاری پیاری باتوں اور شرارتوں سے اس کو موم کرنے کی تگ و دو میں تھا ۔۔۔

وہ دل ہی دل میں بہت خوش اور مطمعین تھی۔ حمزہ کے اندر پیدا ہوئی نئی تبدیلیوں کو دیکھ رہی تھی یہ اس کے لئے خوش آئندہ بات تھی ورنہ حمزہ جیسے خود سر اور انا پرست لوگ بہت مشکل سے اپنی عادات کو سنوارنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

مدینہ میں دو دن کا قیام تھا۔ ان دونوں کو ایسا لگا جیسے دو منٹ میں پلک جھپکتے ہی وقت گزر گیا ہو۔

دونوں نے ہی جلد دوبارہ واپس آنے کا پروگرام بھی ترتیب دے ڈالا تھا اور وہ بھی پورے مہینے کا۔ مگر مدینہ اور مکہ ایسی جگہیں ہیں جہاں آپ جتنے بھی دن گزار لو آپ کو لگے گا جیسے پلک جھپکتے وقت گزر گیا ہو۔ وہاں سے واپس آنے کا دل ہی نہیں چاہتا ۔۔۔۔

دبئی پہنچ کے دونوں نے ہی فرش کہ نماز ظہر ادا کی تھی اس کے بعد کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے دونوں ہی ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے لئے قیلولہ کرنے لیٹ گئے ۔۔۔

جان حمزہ اب اٹھ بھی جائو!

کیا سارا وقت سو کر ہی گزارنے کا ارادہ ہے؟؟؟

وہ شاور لے کر واش روم سے تازہ دم ہوکہ سر کو خشک کرکہ ٹاول کو گردن میں ڈالے اس کو جگا رہا تھا۔ اس کا پروگرام عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد دبٙئی مرینہ جانے کی کا تھا ۔۔۔

مجھے ابھی سونے دیں۔۔۔۔”

کیوں سونےدوں اٹھو فوری ۔۔۔”

بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔”

وہ واپس چہرہ تکیہ میں چھپاگئ۔۔۔۔۔

سوچ لو ڈیر وائف پھر اچھی طرح کہیں ایسا نہ ہو تمہارا آف سونا تمہیں رات کو بھاری نہ پڑ جائے ۔۔۔۔”

معنی خیزی سے کہا گیا ۔

وہ جان کے کافی اونچی آواز میں شفا کے کان کے قریب جا کے بولا تھا ۔

ہاں ہاں کوئی بات نہیں میں جا گلونگی۔۔۔۔”

سوچے سمجھے بغیر بولی تھی ۔۔

ہیں۔۔۔۔۔واقعی۔۔۔۔۔؟؟؟

تو کیا آج کی رات میرء نام لکھدی ڈیئر۔۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ شوخ ہوا۔۔

کہہ تو رہی ہو ہاں اب کیا سائن کروائوگے۔۔۔۔؟؟؟وہ اسکے اوپر نیند میں چڑھ دوڑی۔۔۔۔۔

ہمممم گریٹ ۔۔۔۔!!

مگر کیا ہے نہ مجھے اپنی ویمپ سے امید زرا اچھی نہیں ہے کیا پتہ اپنی بات سے ہی مکر جائو۔۔۔۔۔”

یاررررر۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہے مجھے سونے کیوں نہیں دے رہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ ان تکیہ سے چہرہ نکال کے باقاعدہ غرائی۔۔۔۔

آنکھیں نیند سے بوجھل ،خمار آلود لہجہ لمبے اسٹیپ کٹ کھلے ریشمی بال اور کٹاودار گلابی لب ۔۔۔۔۔۔!!

وہ بغیر پلک جھپکائے اسکے تکتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔

تو تم ایسے نہیں اٹھوگی؟؟؟؟؟وہ گرجا

نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔نہیں جو کرنا ہے کرلو۔۔۔۔۔۔۔”

وہ پنکھاری۔۔۔۔

اوکے پھلجڑی۔۔۔۔۔۔۔”تعبداری سے کہا گیا۔۔۔۔۔۔۔

ایسے نہیں تو ویسے سہی۔۔۔۔۔۔”دماغ میں شرارت بھرا خیال کونداشفا کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ وہ اب اہنے طریقےسے اسکو جگانے کیلئے بلکل تیار تھا جس کے بعد اسکو کو ننیانوے فیسد یقین تھا کہ وہ تیر کی طرح اٹھ کھڑی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔

لبوں پہ شریر سی مسکراہٹ لئے وہ اسکے اوپر جھکا

گردن اور سر سے تھام کے اسکو اپنی بانہوں میں لے کر تھوڑا سہ بیڈ پہ پرےکھسکا کرخود اس کی جگہ پہ اس کےبالکل قریب بغیر کوئی فاصلہ کی گنجائش چھوڑے!! اس کے نازک سراپہ کو اپنے بازووں کے حلقے میں لیے دراز ہو گیا ۔۔۔۔۔۔

کیا بیہودگی ہے یہ۔۔۔۔۔؟؟؟؟وہ اسقدر “جرت” پہ جیسے غصے سے بلبلا اٹھی۔۔۔۔

بیہودگی نہیں شافی ڈیئر یہ تو حلال رومانس ہے”۔۔دوبدو جواب حاضر ہوا۔۔۔۔

ہاں جائو اپنے” ٹائپ” کی کسی سےبگھارو یہ رومانس وومانس۔۔۔۔” وہ مسلسل اسکی گرفت سے آزادی کیلئے ہاتھ پیر مار رہی تھی۔۔۔

میری ٹائپ کی ابھی میسر نہیں اسلئےمجبوری میں تم سے ہی کام چلانا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔”لہجہ بلا کا غمگین ہوا چہرہ پہ بے بسی تھی۔۔۔۔۔

ہٹو میرے پاس سے ٹھرکی انسان شرافت سے۔۔۔۔۔۔”‘ وہ اسکی گرفت میں پھڑپھڑائ ۔۔۔۔۔

ٹھرکی بھی کہتی ہو تضاد شرافت کا مضاہرہ بھی چاہتی ہو ۔۔۔۔”۔

میرا خیال ہے آج بتا ہی دوں میں کتنا ٹھرکی ہو اپنی بیوی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔”لہجہ ڈرامائ ہوا۔

میں تمہیں ۔۔۔!!غصے میں جملہ ادھورا چھوڑا گیا ۔۔۔۔

میں اٹھ گئی ہو بولو کیا کرنا ہے؟؟ چلنا ہے چلو یار مجھے تنگ تو مت کرو ۔۔۔۔!!!

تم تو اٹھ گئی ہو مگر میرے تمام حواس مدہوش کرکہ۔ ۔۔۔۔وہ شرارتوں پہ کمر کس چکا تھا۔

یہ اس پورے عرصے میں پہلی دفعہ تھاجب وہ اپنے اور اس کے درمیان کی دوریاں نزدیکیوں میں بدل رہا تھا ۔ورنہ شفا بیڈ روم میں جنگلی بلی کی طرح اس سے پیش آتی تھی۔مگر اس سب میں قصور شفا کا بھی نہیں تھا۔ اس نے شفا کو بہت ٹھیس پہنچائی تھی۔۔۔ یہ سب اسی کا ری ایکشن تھا یہ وہ وہ بہت اچھی طرح سے جانتا تھا ۔۔۔۔

بہت تکلیف ہوتی تھی جب جب وہ شفا کے دکھوں کا سوچتا تھا وہ ہی تو قصور وار تھا۔

اس نے ہی تو ایک معصوم لڑکی کو آٹھ آٹھ آنسو رلایا تھا ۔

وہ بہت پشیمان تھا اپنی ایک ایک غلطی یاد کر کے وہ جیسے اپنے آپ کو ہر شب خوب ملامت کرتا رات سونے سے پہلے خدا سے گڑگڑا کر معافیاں طلب کرتا ۔

مگر وہ اب دل میں عہد کر چکا تھا کہ وہ اس لڑکی کواتنی محبت دے گا کہ وہ اس کے ساتھ ہوئی تمام زیادتیوں کو بھول جائے گی ۔۔۔

کتنی پرسکون نیند سو رہی ہومیرے جذبات کو بیدار کرکے۔۔۔۔۔”

اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا کہ سرگوشیان انداز میں کہنے لگا۔۔۔

شفاء ۔ نے بوکھلا کر کمرے میں ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی روم میں لیمپ کی مدھم سی لائٹ روشن تھی۔ دبیز پردے شیشے کی کھڑکیوں پہ بخپڑے ہونے کے باعث وہ وقت کا درست اندازہ نہیں لگا پا رہی تھی۔

کمرے کا ماحول اسکو رات کا پتہ دے رہا تھا ۔

آپ۔۔۔۔۔ مم مجھ ۔۔۔ وہ اٹک اٹک کے کہتی شدید بوکھلاہٹ اور فطری شرم و حیا سے چور تھی ۔تمام تیزی اور تراری حمزہ کی آنچ دیتی قربت سے بلبلا کے فنا ہو ئی۔۔

نہیں۔۔۔۔؛!

ہم میں اور تم ایک روح دو کالب۔۔۔۔”

محترمہ اپنی بات کی تصیح کرلو ۔۔۔

و

ہ کہتے ہوئے مزید شرارتوں پر آمادہ ہوا ۔۔۔

شفاء پھٹی پھٹی آنکھوں سے خود پہ جھکے جسارتوں پہ کمر بستہ!! بغیر شرٹ کے اس کے پاس دراز حمزہ خود دیکھ رہی تھی ۔۔۔

حمزہ نے اپنا چہرہ اس کی زلفوں کی قید سے بڑی مشکل سے چھڑوا یا تھا ۔۔تھوڑا اونچا ہو کہ کوہنی کے بل نیم دراز ہو ا۔ ۔۔

وہشفا کے چہروں کو آنکھوں میں نرم گرم جذبات لیے تک رہا تھا۔۔۔

” اگر اس شام کو ہم دونوں محبت اور دوسرے میں الجھ کے گزاردیں تو ۔۔۔۔۔؟”

یہ مسحور کن شام اپنے اندر بہت پیاری یاد کو قید کر دے ۔۔اور بہت ہی یادگار ثابت ہو گی بس صرف تمہارے سچے دل سے مجھے قبول کرنے کی دیر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

زبردستی میں تم پہ اپنی خواہشات مسلط نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔”

وہ جیسے مکمل اس کی دلی عماد گی سے دوبارہ سے نئے رشتے کی شروعات کرنا چاہ رہا تھا ۔ ۔ ۔۔۔

وہ خاموش تھی کیا کہتی ؟؟

کس طرح اقرار کرتی کہ وہ اس کو بہت پہلے ہی دل سے معاف کر چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

فطری حیا سے چور کانوں کی لوہ تک سرخ ہو چکی تھی۔۔۔۔

لب تھے کہ کچھ بھی کہنے کی خاطر وا ہونے سے گریزاں تھے ۔۔

وہ شوہر تھا اس کا اور پھر کئی دفعہ اس سے معافی بھی طلب کر چکا تھا۔۔۔! اس وقت بھی بغیر اس کی اجازت کے اپنا حق استعمال کرنے سے خود کو پابند کر رہا تھا۔۔۔ تمام حقوق کا مالک ہونے کے باوجود بھی یہی سب سے بڑی تبدیلی تھی جو اس وقت حمزہ میں اس کو نظر آئی تھی ورنہ وہ کہاں کسی کے کہے پہ چلنے والا شخص تھا ماضی میں ۔۔۔۔

وہ اس کے بازو میں کانچ کا پیکر معلوم ہو رہی تھی اور وہ جیسے اس حقیقت سے واقف تھا۔

اس شام کوئی خاص سلسلہ عشق تھا۔ ۔

شفاء کو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہو رہی تھی۔ حمزہ کی آنکھوں کی چمک اسکو اپنے ساتھ باندھ دی تھی ۔۔۔

وقت تھمنےلگا تھا ۔۔

خواہشوں کو جیسے اس نے بے لگام ہونے دیا۔۔۔

حمزہ کی آنکھوں کی چمک اس پل بہت خوبصورت پیغامات لئےہوئے تھی۔ ۔۔۔۔

وہ ہچکنچا کے نظریں چراگئ ۔۔۔۔۔ان بولتی آنکھوں کے پیغامات کو بہت اچھی طرح سے سمجھ رہی تھی۔۔۔۔

اس شب فزامیں ایک خاص قسم کا سحر طاری تھا جو ان دونوں کو ایک دوسرے کے اردگرد تاری ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔

وہ اسکی اٹھتی گرتی پلکوں کی جھالر کو دیکھتا مبہوت سہ اس کے گرد مزید اپنا حصہ تنگ کرتا چلا گیا ۔۔۔

دونوں کی دھڑکنوں میں اک تلاطم سہ برپا ہوا تھا۔۔۔۔۔

کیا مجھے دل سے قبول کر سکتی ہو؟؟؟

شفا کیا مجھے معافی مل سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟لہجہ امید بھرا تھا جیسے اپنی زندگی کے لیے سانسیں طلب کر رہا ہو۔۔۔۔

میں نے آپ کو سچے دل سے معاف کیا۔ ۔۔۔ “

یہ سچ ہے کہ میرے دل میں آپ کے لیے اب کسی قسم کا بھی میل باقی نہیں رہا ہے ۔۔”

اور میں آپ کو اسی دن سچے دل سے قبول کر چکی ہوں جب میرانکاح آپ سے ہوا تھا ۔۔۔

میں نے اسی روزآپکو اپنا دل و جان سے تسلیم کر لیا تھا جب آپ کے نام اپنے تمام حقوق لکھے تھے ۔۔۔۔”

وہ بگڑے تنفس سے اتنا ہی کہہ سکی تھی۔ لفظ تھے گویا جیسے زبان سے نلب تک کا راستہ بھول بیٹھے تھے ۔۔۔

تو گویا میں یہ تمہارا اقرار سمجھو ۔؟؟

تم جانتی ہو شفاء ؟؟؟وہ اس کے سر میں اپنی انگلیاں چلاتے ہوئے دھیمے سے بولا۔۔۔۔

میرے دل میں صرف ایک یہی چیز بہت تکلیف دے رہی تھی کسی پھانس کی طرح چھبتی رہی ہے کہ تم نے مجھے دل سے معاف ۔۔۔۔

بار بار اس ایک لفظ کی گردان مت کریں ۔۔آپ کے اس طرح پشیمان ہونے سے مجھے تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔

اس لفظ کا استعمال بھول جائیں کرنا۔ جو بھی گزر گیا اس کو بھول جائیں “۔۔۔

حال اور مستقبل ہمارے سامنے باہیں پھیلائے کھڑا ہے ۔۔

وہ اس کے لبوں پہ اپنا نازک مرمریں ہاتھ رکھ کر بولی تھی ۔۔۔۔

میں تم سے اقرار کرتا ہوں شفا کے میں تمہاری محبت میں پور پور بھیگ چکا ہوں اور میں نے تمہیں بہت خوش رکھنے اور زہنی سکون دینےکا خود سے وعدہ کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔”

یہ میں دعویٰ نہیں کرتا تھا مگر میں خود سے اس بات کا عہد کر چکا ہوں کہ میں تمہاری زندگی میں اتنی خوشیاں بھردوں گا ک پھر خوشیاں بھی تم سے شرمآۓ گی ۔۔۔

جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔!!!آپ مجھ سے دل و جان سے محبت کرنے لگے ہیں۔ ۔۔۔!!

وہ کہہ کے اس کے سینے میں سر چھپا گئی تھی۔۔ حمزہ کی آنکھوں میں صرف اور صرف اپنے جذبات کی سچائی نظر آئی تھی اپنے کہے پہ عمل کرنےکا عزم تھا ۔۔۔۔

کتنا خوبصورت اقرار محبت تھا دونوں کا۔ جس میں کسی بھی قسم کا کرب یا انتقام بیچ میں نہیں رہا تھا ۔۔

غم کے بادل چھٹ چکے تھے زندگی نے دونوں کے اردگرد پھولوں اور خوشیوں کی بارش کر ڈالی تھی شفا کے صبر کا صلہ قدرت نے کس قدر خوبصورت انداز میں اس کو دیا تھا ۔۔۔۔

صرف تھوڑا سا صبر انسان کی زندگی کو جنت بنا دیتا ہے اور ذرا سی بے صبری ہی انسان کو ڈبو دیتی ہے زندگی کو جہنم بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

مرد کی وجہ سے عورت کی آنکھ میں آیا ایک آنسو صرف اور صرف ایک آنسو کا حساب اللہ پاک نے اس کے مرد سر کےرکھا ہے۔ جو اس کے شوہر نے خدا کو ضرور دینا ہے ۔

حمزہ یہ سوچ رہا تھا آدم کی کہی یہ بات اس کے دماغ میں گھر کر گئی تھی واقعی عورت کی آنکھ میں آنسو صرف ایک آنسو کا بوجھ اس کے شوہر کے لیے بھاری سل کے جتنا ہے ۔۔۔۔۔۔!!!