Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 38

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 38

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

کہا تھا نہ مجھے تم اس طرح

سوتے ہوئے مت چھوڑ کر جانا

مجھے بے شک جگا دینا ،بتا دینا

محبت کے سفر میں

ساتھ میرے چل نہیں سکتی

جدائی میں ہجر میں

ساتھ میرے چل نہیں سکتی

تمہیں رستہ بدلناتھا

میری حد سے نکلنا تھا

تمہیں کس بات کا ڈر تھا

تمہیں جانے نہیں دیتا

کہیں پہ قید کر لیتا

ارے پگلی

محبت کی طبیعت میں

زبردستی نہیں ہوتی

اسے رستہ بدلنے سے

جسے حد سے نکلنے سے

نہ کوئی روک پایا ہے

نہ کوئی روک پائے گا

تمہیں میں دیکھ ہی لیتا

تمہیں کوئی دعا دیتا

کم از کم یوں تو نہ ہوتا

میرے ساتھی حقیقت ھے

تمہارے بعد کھونے کے لیے

اب کچھ نہیں باقی

مگر کھونے سے ڈرتا ہوں

میں اب سونے سے ڈرتا ہوں

آپ پکا وعدہ کریں کہ مجھ سے دوبارہ سے ملنے کے لئے آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔”

لہجہ افسردگی لیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔آنکھوں میں نمی بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔چند ہی گھنٹوں میں وہ مصطفی کو بہت کملائی ہوئی سی لگی تھی جیسے کسی اپنے سے بچھڑنے کا دکھ برداشت کرنے سے قاصر ہو۔ ۔۔۔۔یا پھر جیسے اپنی سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے کے ڈر سے خوفزدہ ہو۔ ۔۔۔۔!!!!!

دل تو اندر سے اسکا بھی ڈوب رہا تھا مگر ابھی وہ کوئی ایسا حق نہیں رکھتا تھا کہ اس کو خود سے باندھ کہ لے جاسکتا ۔۔۔۔۔۔

ہا۔ ۔۔۔۔۔ !!

مگر یہ مجبوریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ گہرا سانس بھر کے رہ گیا ۔۔۔۔

مصطفی چاہ کر بھی اس کو بغیر کسی رشتے کے اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتا تھا اس کے لئے اس کو ایک جائز رشتے کی مضبوط دور باندھنے کی اشد ضرورت تھی ۔۔۔۔

میں اپنی دھڑکن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔” تمہارے دم سے میرے سینے میں موجود دل حرکت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔”

میں مطمئن ہوں کہ میرے وعدے اور دعوے بالکل کھرے ہیں ۔۔۔۔”

کسی بھی قسم کے کھوٹ اور فریب سے پاک ۔۔۔۔۔”

میں نے تم سے کسی بھی قسم کا جھوٹا وعدہ نہیں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”

مصطفی کا لہجہ مضبوط تھا۔۔ سچائی کی آمیزش لیے ہوئے ۔۔۔۔۔

آپ کو جانا ہے میری طرف سے اجازت ہے آپ جاسکتے ہیں مگر ایک شرط ہے میری بے ضرر سی ۔۔۔۔۔”

بہت ٹھہر ٹھہر کے بولا گیا تھا لہجہ اپنی بات منوانے کا عزم لیے ہوئے بہت گہرا تھا ۔۔۔

تمہاری شرط تو کیا تمہاری کہی ہر ایک بات میرے لئے حکم کا رتبہ رکھتی ہے۔۔۔۔۔”

کہو کیا مانگنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟

تمہارے لئے میری جان بھی حاضر ہے ۔۔۔۔۔”

ابھی اور اسی وقت تمہارے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کچھ اس طرح کہا تھا کہ سوہا کی روح تک کانپ کے رہ گئی تھی ۔۔۔

وہ بری طرح سے لرز گئی تھی مصطفی سے بچھڑنا اور اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی اب اس کے لیے سوہانِ روح تھا ۔۔۔۔

وہ اپنی زندگی تو تیاگ سکتی تھی مگر مصطفی کی جان کے نذرانے کے طور پہ۔ ۔۔۔۔۔!!

میری شرط اگرچہ بہت معمولی سی ہے مگر میرے لیے یہ زندگی اور موت کے برابر ہے ۔۔۔۔۔۔۔!!

وہ دھیمے سے بولی تھی ذرا کی ذرا نظر اٹھا کے مصطفی کو بھی دیکھا تھا ۔۔

پلکوں میں سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرا تھا جو مصطفی کے ہاتھ کی پشت پہ جذب ہو گیا ۔

مصطفی کا ہاتھ اب بھی سوہا کے مرمریں گداز مخروطی ہاتھ کے اوپرہی دھرا تھا۔ ۔۔۔

تم نہیں جانتیں تمہارا یہ ایک آنسو مجھے کس قدر تکلیف پہنچا رہا ہے ۔۔۔۔۔

اپنے آپ کو سنبھالو میرے لیے واپسی کا سفر مزید دشوار نہ بناو۔۔۔

مجھے ابھی کچھ اور دن تم سے دوری برداشت کرنی ہے ۔۔۔

مصطفی کا لہجہ اور آنکھیں اداسی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔۔

جاتے ہیں بے شک جائے۔۔۔”

جانے والے کو نہ کبھی کوئی روک سکا ہے اور نہ کبھی کوئی روک پائے گا ۔۔”

مگر بس میری ذرا سی شرط ہے کہ مجھ سے وعدہ کرکے جائیں کہ بہت جلد لوٹ کر آئیں گے اور ایک بات کا تو مجھے یقین دلا دیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جدائی تو پل کی ہے یا پھر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

یہ کہیں عمر بھر کا بچھڑنا تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

بچھڑ کے میں تم سے جاؤں گا تو جاؤں گا کہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

ہاں ایک ٹھکانہ ہے میرے پاس اور وہ ہے میری آخری آرام گاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

میرا وعدہ ہے کہ بہت جلد میں تمہیں اپنا بنا کے لے کر جاؤں گا پورا استحکاق کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔!!!

سوہا کے نازک ہاتھ کونرمی سے دبا کہ اپنی وفاؤں کا یقین دلارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

اپنےسچے موتی کے مانند جذبات سے آگاہی فراہم کر ارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

وہ گھر کے سبہی افراد سے ملکر جیسے ہی جانے کو تھا ابھی اس نے گاڑی سٹارٹ ہی کی تھی( جو کہ عمر اس روز لے کر آیا تھا جب لائبہ کو اپنے ساتھ بائےر وڈ لے کر کراچی پہنچاتھا )۔۔

سوہا بھاگتی ہوئی آئی تھی وہ فرنٹ سی کا دروازہ کھول کے آنکھوں میں آنسو لیے گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی نشست پہ بیٹھ گئی ۔۔۔

مصطفی نے بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا جہاں ایک خوف تھا جیسے اس کا دل اندر سے سوکھے پتے کی طرح لرز رہا ہو۔۔۔۔۔

اپنی محبت کو کھو دینے کے ڈر سے ۔۔

وہ اس کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے دور ہو کہ رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔!!

وہ بے چین سا ہو گیاسوہا کے چہرے کی زردی دیکھ کے ۔۔

اس کی آنکھوں میں رقم ویرانی مصطفی کو اندر تک سہما گئی تھی ۔۔۔

وہ چھوٹی سی لڑکی اس کی محبت میں جیسے تڑپ رہی تھی بے بسی سے ۔۔۔۔

ابھی کچھ دیر پہلے وہ کس قدر مطمعین سہ اندر سے آیا تھا ۔

لائبہ کو اپنے گھر میں آباد دیکھ کہ ۔۔۔

ماموں سے اس کو پتہ چلا تھا کہ ان کی اچانک خرابی طبیعت کے باعث لائبہ کا نکاح عمر سے کردیا گیا تھا ۔۔۔

رحمان صاحب نے مصطفی سے کہا تھا کہ لائبہ کو اپنے گھر کی رونق بنے دیکھنا ان کی دلی خواہش تھی اور جب ان کی طبیعت بگڑ گئی تب انہوں نے بہت سے خدشات کے تحت عمر کو لائبہ کے ساتھ منسوب کر دیا ۔۔۔اور پھر آناً فانن نکاح خواں کو بلا کہ نکاح بھی کرا دیا گیا تھا ان دونوں کا ۔۔

وہ اپنی یہ خواہش پوری ہوتے دیکھ لینا چاہتے تھے اپنی زندگی میں ۔۔۔

وہ مطمئن تھا یہ بڑوں کے فیصلے تھے جن میں مان تھا اپنائیت تھی۔ سب سے بڑی بات اس کی بہن من چاہی بہو بنی تھی ۔

تھوڑا دل میں ملال ضرور پیدا ہوا تھا کہ کتنے ارمان تھے اس کے دل میں اپنی اکلوتی بہن کی شادی کو لے کر ۔۔۔۔۔۔!

اس بات کا برملا اظہار اس نے ماموں کے سامنے بھی کرڈالا تھا جس کے جواب میں انہوں نے بڑی شفقت سے کہا تھا کہ جب تمہارے اماں باوا حج کرکے آئینگے تب ولیمہ کا فنکشن بہت بڑے پیمانے پر کرینگے ۔۔۔

وہ خاموش ہو گیا بڑوں کی عزت کرنا اس پر فرض تھا اور لازم اور ملزوم بھی ۔۔

کچھ دیر بیٹھ کر وہ سب سے علودہ لے کر جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔

لائبہ اس سے ملی تھی اور سینے سے لگ کے بہت بری طرح سے سسک اٹھی تھی۔ ۔۔

مصطفی نے اس سے پوچھا تھا کہ۔۔۔

کیا تم بڑوں کے اس فیصلے سے مطمئن ہو؟؟؟

وہ اپنی آنکھوں میں موجود نمی کو جلدی سے ہاتھ کی پشت سے صاف کرکے بولی تھی۔۔

” بھائی، عمر کی شریک حیات بن نہ میرے لئیے قابل فخرہے ۔۔۔۔۔۔۔”

لائبہ کا لہجہ اور اس کی آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ عمر کی ہمراہی میں بہت خوش اور مطمئن زندگی بسر کر رہی ہے ۔۔

اپنی پیاری اکلوتی بہن کو خوش اور خرم دیکھ کر وہ اندر تک پرسکون ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

وہ خود بھی کچھ دیر تک تھکا ہارا سہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا رہا ٹیک لگا کہ۔ ۔

دل تھا کہ اپنی کل متاع کو دیکھنے کے لئے مچل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

جانے سے پہلے آخری دیدار کرنے کو بے چین تھا ۔۔۔۔۔!

شاید اللہ نے اس کی سن لی تھی اور وہ ٹھیک دس منٹ بعد جب سب لوگ واپس اندر جا چکے تھے خداحافظ کرکے اس کو۔۔۔

تب وہ پثمردہ سی چال چلتی ہوئی گاڑی تک آئی تھی آنکھوں میں ویرانی اور افسردگی پنہاں تھی ۔۔۔

گر بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ

ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں ۔۔۔!!

مصطفی کتنا اچھا بچہ ہے ماشااللہ ماں باپ کی تربیت اس کے ہر ہر انداز سے جھلکتی ہے ۔۔۔

سمیرا نے جائےنماز طے کرتے ہوئے رحمان صاحب سے کہا ۔

وہ ابھی ابھی عشاء کی نماز پڑھ کے اٹھی تھی ۔

ہاں ماشااللہ بہت پیارا بچہ ہے نیک سیرت نیک فطرت ہماری بچی کا کتنا خیال رکھا اس نے ۔۔۔۔۔

رحمان صاحب نے موبائل پہ کسی کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔

آپ فون پر بات کرلیں پھر میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں ضروری ۔۔۔

کہوں کیا کہنا ہے فون میں بعد میں کر لوں گا ۔۔۔؟

رہمان صاحب ٹھٹکے تھے کیونکہ سمیرا کبھی بھی بلا وجہ ان کو کسی کام سے نہیں روکتی تھی یا پھر تمہید نہیں باندھا کرتی تھی وہ بے دھڑک اپنی بات کرنے کی عادی تھی ۔۔۔۔

وہ اچھی طرح جانتے تھے یہ اس کا انداز تھا جب وہ کوئی بہت اہم بات کرنا چاہتی تو اسی طرح سے بات کا آغاز کرتی۔ ۔

زینب آپی نے حج پہ جانے سے پہلے ایک بات کہی تھی جو میں آپ کو بتانا بہت دنوں سے چاہ رہی ہوں مگر کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے کہ پھر زینب آپی کی بات ہی بیچ میں رہ جاتی ہے ۔۔۔۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟؟؟

وہ الجھے تھے کیونکہ آج تک اتنے سالوں میں ان کی دونوں بیویوں میں سے کسی نے بھی زینب کی کوئی برائی نہیں تھی کیونکہ زینب کی عادت میں ہی کسی سے لڑنا جھگڑنا نہیں تھا ۔۔۔

ہاں ہاں سب خیریت ہے بلکہ آپی نے ہماری سوہا کا رشتہ مانگا ہے مصطفی کے لیے ۔۔۔

منع کر دو پہلی فرصت میں بنا کر دو ،۔!

بلکہ رہنے تو میں خود زینب سے بات کروں گا ۔۔۔

مگر مصطفی ہرلحاظ سے سوہا کے لئے بہت اچھا لائف پارٹنر ثابت ہوگا ۔

مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اتنی جلدی کسی بھی فیصلے پر پہنچنا چاہیے۔۔۔۔۔

سمیرا نے پریشانی سے کہا کیونکہ وہ مصطفی کے لئےسوہاکی آنکھوں میں پسندیدگی دیکھ چکی تھی اور پھر سوہا کی واپسی کے بعد سے بدلے بدلے انداز یہ چیخ چیخ کے بتا رہے تھے کہ وہ مصطفی اس کو چاہنے لگی ہے ۔

اور ایک ماں تو اپنے بچوں کے ہر ہر انداز سے واقفیت رکھتی ہے ۔۔۔۔

مصطفی میں کوئی برائی نہیں ہے مگر میں سوہا کیلئے اپنے بچپن کے بہترین دوست امجد گوندل کے بیٹے خزیمہ گوندل کے لیے زبان دے چکا ہوں ۔۔

اور مجھے پتہ ہے سوہا خزیمہ کے ساتھ بہت اچھی زندگی بسر کرے گی ۔۔۔

امجد گوندل وہی نہ جو ملک کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون میں شمار ہوتے ہیں ۔؟

ہاں وہی ۔

تمہیں یاد نہ ہو شاید کچھ عرصے پہلے میں تمہیں ایک دعوت میں لے کر گیا تھا جہاں میں نے تمہیں خزیمہ سے بھی ملوایا تھا ۔۔۔۔۔

چلیں ٹھیک ہے مگر مجھے ابھی یاد نہیں آ رہا ۔۔

جیسا آپ مناسب سمجھیں ۔۔۔

مگر پھر بھی کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے سوہا سے اس کی مرضی ضرور پوچھئے گا ۔۔۔

میں جانتا ہوں اپنی بیٹی کو وہ کبھی بھی اپنے بڑوں کے فیصلے سے اختلاف نہیں کرے گی اور پھر میں اپنی زبان دے چکا ہوں ۔۔

اب سے نہیں پچھلے 6 مہینے پہلے سے ہی۔ ۔۔۔۔۔”

زبان سے پیچھے ہٹ نے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میرا ۔۔۔۔۔ “

رحمان صاحب نے جیسے بات ہی ختم کی تھی وہ اب واپس اپنے موبائل میں کسی کو نمبر ملانے میں مصروف ہوگئے تھے ۔۔۔

مگر سمیرا کی تو گویا جیسے راتوں کی نیند ہی اڑ چکی تھی ۔۔۔۔

وہ سمیرا کے ساتھ لان میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔

تم خوش نہیں ہوں ؟؟؟

اب بھی ۔۔۔؟

اب تو سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔۔۔۔!

سمیرا نے اس کو غیر مرعی نقطے پر غور و فکر کرتا دیکھ کر ٹوکا تھا۔۔۔

ماما میرے لیے فی الحال خوشی کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔۔

شاید ہوسکتا ہے کچھ عرصے میں مختلف ہو جائے میری رائے مگر ابھی میں نہیں جانتی خوشی کسے کہتے ہیں۔۔۔؟

وہ صاف گوئی سے بولی تھی ۔۔۔

میں مانتی ہوں حمزہ نے بہت غلط کیا ہے مگر وہ پشیمان ہے ۔۔۔

میں نہیں چاہتی کہ تم بھی تکلیف میں رہو اور وہ بھی۔۔

میں تم دونوں کو ہی دکھی نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔۔

تم دونوں ہی مجھے عزیز ہو مگر تمہارے معاملے میں میرا دل بہت کمزور ہے ۔۔۔!

سمیرا نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔

آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ماما۔ ۔۔

میں خود میں اتنی ہمت پیدا کر چکی ہوں کہ ہر قسم کے حالات کا سامنا ڈٹ کے کر سکوں۔۔۔

وہ ماں کو مطمئن کرنے کو مسکرائی تھی ۔۔۔

میری فکر نہ کریں آپ بس بابا کا خیال رکھے اس وقت ان کو آپ لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔۔!!

وہ کہہ کے اٹھ کھڑی ہوئی مزید اگر ماں کے ساتھ بیٹھتی تو رو دیتی ۔۔۔

شفاء طھ دیر پہلے ہی تو آکے بیٹھی تھی حمزہ کا سارا سامان اس نے واپس حمزہ کے کمرے میں رکھوا دیا تھا۔۔۔

وہ اس کی چیزیں تو دور کی بات اس کی موجودگی تک برداشت نہیں کر سکتی تھی اپنے اردگرد ۔۔

مگر مجبوری ایسی تھی کہ اس کو اب اس کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہنا تھا اور اس کا سامنا بھی کرنا تھا

یار پلیز چائے کا ایک کپ بنا دو میرے لئے سر میں بہت درد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!

وہ لاونج سے گزر رہی تھی جب حمزہ نے اپنےدکھتے سر کو دباتے ہوئے کہا ۔۔

وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا ۔۔

ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر کے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے وہ صوفہ پہ نیم دراز تھا ۔۔۔۔

معذرت لیکن میں آپ کی یہ خدمت کرنے سے قاصر ہوں ۔۔۔ ۔ ۔ “

وہ کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی جب عاشیر بھی آفس سے واپس گھر آ چکا تھا اور اپنے کمرے میں فریش ہونے کے لئے بڑہی رہا تھا۔۔

جب ان دونوں کو الجھتا دیکھ کہ اس کے لبوں پہ شریر سی مسکراہٹ کوندی تھی ۔۔

یار آج میرا تھکن سے بہت برا حال ہے ۔۔

چائے کی شدید طلب ہو رہی ہے (جب کہ وہ اس وقت چائے نہیں پیتا تھا)

آپ فرش ہوجائیےمیں آپ کے روم میں بھیجتی ہوچائے اور ساتھ کچھ کھانے کے لئے بھی ۔۔۔۔۔”

وہ کن آنکھیوں سے حمزہ کو دیکھتی ہوئی مسکرا کہ عاشیر کو گھر کے اندر ویلکم کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

اوکے بہت شکریہ ۔۔۔”

تم بہت اچھی لڑکی ہو او یار میرا ایک کام کر دو تھوڑا سا میرے پروجیکٹ پہ ورکنگ کروا لو کچھ گراف کملپیٹ کرنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔!

وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ گرافس بنانے میں بہت ماہر ہے اس لئے جان کہ جاتے جاتے فقرہ اچھالا تھا ۔۔۔۔

حمزہ نے خشمگین نظروں سے پہلے عاشیر کو پھر شفاء کو گھورا تھا ۔

ٹھیک ہے ابھی آئی وہ کہہ کے چلی گئی جبکہ عاشیر حمزہ کے غیض وغضب سے پر چہرے پہ ایک چڑھانے والی مسکراہٹ اچھالتا جاچکا تھا ۔۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ شفاء تو کیا اب چائے بھی نہیں آئے گی ۔۔۔

وہاں کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟؟

میں یہاں ہوں تمہارے پیچھے وہ جا چکا ہے۔۔۔۔۔۔ چبا چباکے جتایا گیا ۔۔۔۔

آپ چاہے پورے گھر میں دندناتے پھریں مجھے کوئی غرض نہیں ہے اس سے ۔۔۔۔”

وہ پلٹ کے کچن میں جانے کو تھی جب حمزہ نے اس کا بازو وحشیانہ انداز میں اپنی گرفت میں لیا تھا اور اس کو اپنے ساتھ لیے تھوڑا ہی فاصلے پر کوریڈور عبور کرکے اپنے کمرے میں لے آیا تھا ۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔؟؟؟

کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند کرکے لاک لگانے کے بعد وہ واپس اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔

شفا جو الٹے قدموں پیچھے ہونے کو تھی یکدم اس کا ہاتھ پکڑ کہ دونوں کیکلائیوں کو جکڑ کے شفا کی پشت کی طرف لے جا کے اپنے سخت ہاتھوں سے تالا لگا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا بیہودگی ہے اپنی ٹھر ک کہی اور نکالیں۔ ۔۔۔۔۔!

وہ روب میں آئے بغیر مری طرح سے چنگھاڑی۔ ۔

آواز نیچے کرو ورنہ بند میں خود کر دوں گا آواز کو تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

دوسرے ہاتھ سے اس کے لبوں پہ بھی تالا لگا دیا گیا ۔۔۔۔۔

آواز بلند کرنا مجھے بھی آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔”

حمزہ کی گرفت بہت سخت تھی وہ پوری طرح اس کے حصار میں تھی ۔ ۔ ۔۔

اب کہوں کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔؟؟؟

بہت تڑ تڑزبان چل رہی تھی نہ باہر۔۔۔۔۔۔”

تم کیا سمجھتی ہوکہ بھرا پورا گھر ہونے کے باعث تم مجھ سے بچ سکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟۔

بھول ہے تمہاری۔۔”

شوہر ہوں تمہارا ۔۔۔۔۔!

اپنی ہر چیز کی حفاظت کرنا مجھے بہت اچھی طرح سے آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

میں کوئی چیز نہیں ہوں جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ !

مزید آپ کو اپنے اب سے کھیلنے نہیں دوں گی ۔۔۔

ایک دفعہ فریب کھا چکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”

شٹ اپ ۔۔!

بہت ہوگئی بکواس منہ بند رکھو اپنا ۔۔۔”

لگتا ہے بہت شوق ہے تمہیں پروجیکٹس پر کام کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

آنکھوں میں غصہ لیے وہ اس کو مزید خود سے قریب کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!

تو پھر۔۔۔۔۔۔؟؟؟

پھاڑ کھانے والے لہجے میں خود سری سے جواب موصول ہوا ۔۔۔

یعنی عاشیر صاحب تمہیں کافی پسند ہے ۔۔۔۔؟؟؟

انٹرسٹنگ۔ ۔۔۔۔۔!!!

لہجہ آگ برسا رہا تھا ۔آنکھوں میں سے شرارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔۔

وہ ٹھٹکی تھی اور بہت غور سےحمزہ کے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

تو کیا وہ مجھ پہ شک کر رہا تھا ؟؟؟؟؟

ہاں ہے مجھے پسند۔۔۔۔۔ !

آپ کو اس سے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ ایسے بولی جیدے حمزہ کے جذبات اور اس کے احساسات کی رتی برابر بھی فکر نہ تھی ۔۔۔۔

اس لمحے اس کو حمزہ نے ناگواری سے دیکھا تھا جیسے خود پہ بہت مشکل سے ضبط کر رہا ہوں ورنہ اس طرح دیدہ دلیری سے غیر مرد کا نام لینا اور پسندیدگی ظاہر کرنے پر اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سیدھے ہاتھ کا ایک تھپڑ جڑ دے اس کے من موہنے چہرے پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر وہ عورت کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا ۔۔۔

شفاء حمزہ جلال!

مجھے بے ایمانی پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔”

وہ اس ایک چھوٹے سے جملے میں بہت کچھ واضح کر گیا تھا ۔۔۔

اگر تم کوئی کھیل کھیل رہی ہو تو۔۔۔۔۔۔۔!

کسی بھی چال کے لئے تیار رہو میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

کھیل میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔۔!

وہ کب کا اس کے لبوں پر سے اپنا ہاتھ ہٹا چکا تھا ابھی وہ مزید کچھ کہنے کو تھی تھوڑے سے لب پھڑپھڑائے ہی جب ہمزہ نےاچانک اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دئے تھے ۔۔۔۔۔۔

میرا خیال ہے اس کے بعد تمہیں کچھ اور مزید سمجھانے کی ضرورت تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ “

وہ اس کی لوگوں کو آزاد کر کے معنی خیز لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ ھمزہ اس وقت سلگتے انگاروں کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔

یہ اختیار آپ مجھ سے واپس مانگ چکے ہیں لیکن میں اس اختیار کو آپ کو واپس لوٹادینے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔۔۔۔۔!!

میں فیصلہ کرچکی ہوں اور اب اپنے فیصلے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹونگی ۔۔۔۔۔۔”

اس کو چڑا کے صحیح معنوں میں شفا کے دل میں ٹھنڈ سی پڑ گئی تھی ۔۔

ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک دفعہ پھر جیت میرا مقدر ٹھہرے ۔۔۔!

وہ تمسخرانہ لہجے میں بولا ۔۔۔

اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے اس دفعہ ہآر آپ کا مقدر بنے اور جیت کا تاج میرےسر پر چڑھے ۔۔۔۔””

وہ بے خوفی سے بولی تھی ۔۔۔

مجھے بے ایمانی اور کھوٹ سے نفرت ہے مسز حمزہ!!

چاہے وہ کھیل میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔”

حمزہ کی آنکھیں سرد مہری لیے ہوئے تھی۔۔

ان دونوں کی بے تکلفی اسکو بے طرح کھلی تھی ۔۔۔

تم مجھے مت اکسائو بار بار کہ میں ایک دفعہ پھر اپنی ضرورتوں کا پیٹارا لے کے تمہارے پاس آ ن پہنچوں اور تمہیں بے بس کر ڈالو ۔۔۔!!

میں اکسارہی ہوں آپ کو۔۔۔۔؟؟؟

وہ دھاڑی۔۔۔

آپ کیوں اپنے تمام الزام مجھ پہ لگانے پہ ہردم بضد رہتے ہیں ۔۔۔؟

کیا کوئی پچھتاوا ستاتا ہے آپ کو ۔۔۔؟

یا پھر کوئی ملال سونے نہیں دیتا۔۔۔؟

ہر رات آپ رتجگے کرتے ہیں ۔۔۔۔؟؟

وہ بضد ہوئی جیسے آج حمزہ کے اندر کی بھڑاس نکالتے ہی دم لے گی ۔۔۔

جب کہ وہ خاموشی سے اس کو اپنی نظروں میں قید کرتا رہا اور پھر بہت دلفریب مسکراہٹ لبوں پہ سجاکہ بولا۔۔۔

تم۔۔۔۔۔ ۔ “

تم مجھے رات بھر سونے نہیں دیتی ہو ۔۔۔!!

میرے ہوا سوں پہ بس تم ہر لمحہ طاری رہتی ہو۔۔۔” رتجگے کرنے پر تم نے مجھے مجبور کر دیا ہے ۔۔۔۔!

ٹھہرے ہوئے لہجے میں عجب اقرار تھا ۔۔۔۔

بس کریں حمزہ اب میں آپ کے کسی بھی دھوکے کی متمنی نہیں ہوں ۔۔۔!

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس سے مزاق کررہا تھا یا پھر ایک دفعہ پھر اس کو شیشے میں اتارنے کے لیے مضبوط جال بننے کو تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟

وہ اس کو محبت سے دیکھتے ہوئے مسکرا دیا ۔۔۔

اتنی حیران اور خوفزدہ کیوں ہو ۔۔۔۔؟؟

بندہ بشر ہوں ۔۔!

اور پھر تم بیوی ہو میری جائز ۔۔

تمہارے تمام تر جملہ حقوق محفوظ رکھوا چکا ہوں اپنے نام پہ۔۔۔۔

وہ ٹھہر ٹھہر کہ کہتا ہوں اس کی پیشانی پر بوسہ دے گیا ۔۔۔

اس کے لبوں کی حدت۔۔۔

لمس کی تپش ایسی تھی کہ وہ اس کی طرف ایک نظر اٹھا کہ دیکھ ہی نہ سکی ۔۔۔۔

وہ اس کو چاروں شانے چت کر گیا تھا۔۔۔۔

شفا کا سارا اعتماد لمحوں میں ہوا ہوا۔ ۔۔۔

عاشیر سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے انڈراسٹڈ۔ ۔۔ !

تم صرف مجھے سوچا کرو اور میرے سامنے ہی زیادہ سے زیادہ رہا کرو۔۔۔۔۔۔”

وہ واپس جیسے اپنی اصل موضوع پہ آیا تھا ۔۔۔

آپ شک کی نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے ذرا سی شرم نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

آپ کو مجھ پہ شک ہے ۔۔۔؟؟؟؟

وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ۔۔۔۔

کیوں دو ں میں آپ کو خوامخواہ کی وضاحتیں ۔۔۔؟؟؟

کیا مجھے اس لئے یہاں کھینچ کر لائے تھے۔ ۔۔؟؟؟

میں شک نہیں کر رہا تم پہ ۔۔۔۔”

نہ میں تم سے کبھی شک کرسکتا ہوں ۔۔!!

میرا مقصد تمہیں صرف یہ سمجھانا ہے کہ کم سے کم اس کے سامنے جایا کرو ۔۔۔۔۔”

میں تو تمہیں تب سے جانتا ہوں جب تم کو اس دنیا میں آئے ہوئے دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے ۔۔۔”

تو پھر تم پہ شک کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔”

ہاں مگر ایک بات میں تمہیں بہت واضح انداز میں سمجھا دینا چاہتا ہوں اور اس کو اپنی ننھی سی عقل میں بٹھا لو ۔۔۔۔۔۔!

تم میری بیوی ہوں اور میں اپنی بیوی کا ایک نامحرم سے خوامخواہ میں بات چیت کرنا پسند نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔!!!!

اور رہی بات تمھاری کہ میں تمہیں یہاں کیونکر لایا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟

تو تمہارے بہت سے ایسے کام ہیں جو میرے تم ادھوری چھوڑ کے بڑے مزے سے ادھر سے ادھر دندناتی پھر رہی ہو۔۔۔۔۔”

بس اسی لئے سوچا کہ کیوں نہ آج تمام حساب بےباک کرلیا جائے ۔۔۔!!!

میرا بیڈ روم۔۔۔

ہمارا گھر اور یہ تنہائی ۔ ۔۔!!

کیا خیال ہے ۔۔؟؟؟

وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

تنہا دل ہے تنہا یادوں میں

اب تو تنہائیاں بھی

دل کو اچھی لگتی ہیں ۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی واشروم سے ابھی تو وہ اٹھی تھی سو کہ۔ ۔

ساری رات بھر کروٹیں بدلتی رہی نیند تھی کہ اس کے اوپر اپنے مہربان پروں کو پھیلانے سے انکاری تھی ۔۔

بڑی مشکل سے اس کی آنکھ کھلی تھی !!فجر کے وقت ہی تو وہ خواب خرگوش کی وادیوں میں گم ہوئی تھی ۔دن چڑھ آیا تھا دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے کا وقت ہو رہا تھا۔ جس وقت وہ سوکہ اٹھی تھی ۔۔۔

ہلکے آسمانی پردوں سے چھنتی روشنی نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا ۔۔۔

سوہا ایک بھرپور انگڑائی لے کر اٹھی تھی ۔۔

کچھ دیرتک تو جیسے اس کا دماغ ہی سن سہ رہا۔۔ وہ ابھی بھی یہی تصور کر رہی تھی جیسے وہ مصطفی کے ساتھ اس کے ریسٹ ہاؤس میں موجود ہو ۔۔۔۔

کچھ لمحوں بعد اس کے حواس بیدار ہوئے تھے تب اس کو اندازہ ہوا کہ وہ واپس اپنے گھر آ چکی ہے دل یکایک اداس ہوا ۔۔۔!

وہ تیزی سے اٹھی اور بیٹھ گئی۔۔۔۔

سائیڈ ٹیبل کو کھول کے دیکھا تھا جہاں رات کو اس نے مصطفی کی رسٹ واچ رکھی تھی ۔۔۔۔

گھڑی اپنی آب و تاب سے چمک رہی تھی ۔۔۔

اس کے لبوں پہ پیاری سی مسکان بکری تھی ۔۔

چہرےپہ کئی خوبصورت رنگ رقصاں ہوئے تھے ۔۔۔

اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس نے گھڑی کو چھوا تھا اور پھر فوری دراز بھی بند کر ڈالی تھی جیسے گھڑی کے ڈائل میں سے مصطفی کی گھوریاں موصول ہوئی ہو ۔۔

مسکرا کے اٹھی تھی اور فریش ہونے کے لیے شام کا رخ کر گئی تھی۔۔۔

ابھی وہ چہرے پر فیس واش لگائے خوب اچھی طرح سے صاف بھی نہیں کرپائی تھی جب اس کا فون بج اٹھا ۔۔

مصطفی کا چہرہ یکایک اس کی نظروں میں جھلملایا تھا۔ وہ جلدی سے بغیر فیس واش ھٹائے چہرے سے دوڑتی ہوئی بھاگی تھی۔اور صوفے پر رکھا اپنا موبائل جھپٹنے کے انداز میں اٹھایا ۔۔۔