Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 23

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 23

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

مل گئی۔۔

مجھے مل گئی۔۔۔

وہ خوشی سے چیخی ۔۔۔

“اور مجھے تمہارا ہاتھ مل گیا ۔۔۔”

“اس کا مطلب تمہارا ساتھ مل گیا ۔۔”

“مجھے تم مل گئی ۔۔۔”

وہ اس کاانگوٹھی والا ہاتھ پکڑے آنکھوں میں دنیا جہان کی محبت سمو کر کہہ رہا تھا ۔۔۔

اس کے لہجے میں اس کے سچے جذبوں کی سچائی جھلکی پڑ رہی تھی ۔۔۔۔

“پھر کیا خیال ہے ؟؟؟؟”

وہ آنکھوں میں معنی خیزی لئےبولا تھا ۔۔۔۔

“میں بہت تھک چکی ہوں

مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔”

وہ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کے سٹپٹا کر اتنا ہی کہہ پائی تھی ۔۔

“تمہیں نیند آرہی ہے اور میری نیند اڑ چکی ہے ۔۔”

وہ کھڑا ہوا تھا اور اپنی ہتھیلی پھیلا ر صوفے پہبیٹھی فجر کے سامنے کی تھی ۔۔۔

جیسے کہہ رہا ہو ۔۔

“آئو تھام لو میرا ہاتھ اور زندگی کی نئی شروعات کرتے ہیں ۔۔”

فجر نے اس کا ہاتھ بغیر لمحہ ضائع کیے تھام لیا تھا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔

ارمغان نے اس کی اٹھتے کے ساتھی اس کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور کمرے میں لے گیا تھا ۔۔۔

“محترمہ آپ میری بانہوں میں جھول رہی ہے اس لئے بیڈروم کا دروازہ آپ کو ہینڈل گھما کر کھولنا پڑے گا ۔۔۔”

وہ مسکرا کر چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

فجر نے یکدم بوکھلا کر دروازے کا ہینڈل گھما یا جیسے ہی ارمغان نے ایک قدم کمرے کی طرف بڑھایا اندر یخلقت ان دونوں کے چہروں پر گلاب کے پھول کی پتیوں کی بارش ہوئی تھی اور کمرے میں سچے موتیاں اور گلاب کی بھینی بھینی سی مہک فجر کو اپنے حواسوں پر چھاتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔

اس کو اس کے قدموں پر کھڑا کرکے آپ اپنی جیبوں میں کچھ ٹٹول رہا تھا ۔۔

دھت تیری کی۔ ۔۔

وہ کچھ تلاش کرتے ہوئے بولا

کیا ہوا سب خیریت ہے نا ؟؟؟

ہجر نے اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے جلدی سے استفسار کیا۔ ۔۔

مجھے اک دفع پھر اک منٹ کیلئے روم۔ سے باہرجانا ہوگا۔ ۔

وہ مسکرا کر پھولوں سے سجی ہوئی سیج پہ جا بیٹھی تھی دل میں اس وقت سوائے ارمغان کی مقدس محبت کے اور کچھ بھی باقی نہ رہا تھا ۔

اس نے تمام تر زہریلی سوچوں کو جھٹکتے ہوئے صرف اور صرف ارمغان کو سوچنے کی ٹھانی تھی ۔۔

“اس سب میں تمہارا تو کوئی قصور نہیں ہے میں چاہ کر بھی تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتی تم تو اپنی گڑیا سے بہت محبت کرتے رہےہو اور بلاشبہ آج بھی کرتے ہو” ۔۔

وہ دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے گرد باندھ کر بیڈ کی ایک سائڈ پہ ٹک گئی۔ ۔

“انتظار کے لئے معذرت مگر میں سب کچھ تمہارے لیے بہت اسپیشل کرنا چاہتا تھا اسی لیے یہ سب کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے “۔۔۔۔

وہ دستک دیکر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ ۔

اور خفت سے سر پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا ۔۔۔

اب وہ بیڈروم میں آکر خوامخواہ فجر کے سامنے صفائی پیش کرنے لگا چہرے پہ بیچارگی رقم تھی۔۔۔۔۔

” پہلی غلطی معاف کی ما بدولت نے آپ کی”۔۔۔۔

وہ چہرے پر شرمیلی سی مسکان لئے ایک ادا سےکہہ رہی تھی ۔۔

ارمغان نے اس کے من موہنے خوبصورت چہرے کو دیکھا جہاں اسکو اپنا ہی عکس جھلملاتا پوری آب و تاب سے نظر آیا تھا وہ ہاتھ میں پہنی رسٹ واچ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بعد بالکل اس کے مقابل بیڈ پہ نیم دراز ہونے کے انداز میں بیٹھ چکا تھا .

خوبصورتی سے سجی پھولوں کی سیج، گلاب اور موتیے کی بھینی بھینی مہک ، ایل ای ڈی لائٹ کی ڈم روشنی اور جہازی سائز بیڈ پہ بکھری گلاب کی پتیاں۔۔۔۔

تضاد مقابل پور پور سجی سنوری وہ نازک سی گلابی پری کے ہوشربا وجود کا اضافہ۔۔۔۔۔!!!

چند لمحوں کے لئے تو گویا وہ فجر کے دلکش سراپہ اور حسین چہرے سے نظریں ہی نہیں ہٹا سکا تھا جبکہ وہ اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا کر اپنی پلکیں جھکائے خود میں مزید سمٹ کے رہ گئی تھی ۔۔

۔۔

“میں بڑے بڑے دعوت نہیں کروں گا ہاں بس اتنا یقین ضروری دلاؤں گا کہ زندگی کے اس سفر میں تم مجھے ہر دکھ سکھ میں ہمیشہ اپنے ساتھ کھڑا پاؤں گی ۔۔”

“مجھے بہت زیادہ بڑی بڑی باتیں نہیں کرنی آتی ۔۔”

“ہاں مگر اتنا یقین ضرور دلاؤں گا کہ میری حیات میں گڑیا کے بعد آنے والی واحد لڑکی تم ہو جسے میں نے دل و جان سے چاہا ہے ۔۔”

وہ اس کا مرمریں حنا سے سجاہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اپنے کرتے کی جیب میں سے کچھ ٹٹولنے لگا ۔

۔

“اور اگر کبھی کوئی ایسا وقت آیا جب آپکو دو راہوں میں سے کسی ایک راہ کا امتخاب کرنا پڑے؟ ؟؟”

“تو پھر میں اس راہ میں تمہارے ہمقدم منزل تک پہچنے کا راستہ طے کرونگا”۔ ۔۔۔

اور گر کبھی جو آپکو محسوس ہوا کہ میری محبت میں آپ کےجتنی شدت نہیں ہے تب ۔۔۔۔؟؟؟”

“تو پھر میں تمہیں اتنی محبت دوں گا کہ تمہاری محبت میں شدت ہی نہیں بلکہ جنون بھی بڑھ جائے گا “۔۔

وہ اسکے بندیا سے سجے ماتھے پہ اپنی محبت کی مہر ثبت کرچکا تھا۔ ۔

“شاید محبت اپنا آپ منوانے میں کامیاب ہوجائے” ۔

وہ سرخ رنگ کی لپ اسٹک سےجے کٹائودار ہوٹوں کو ہلکی سی جنبش دے کر بولی تھی جبکہ اس کی نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھی وہ اپنی چوڑیوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگی بغیر ارمان کی طرف دیکھے ۔۔۔۔۔۔

“گر جو تم میری آنکھوں اس لمحے جھانک لو تو شاید تم میرے دل کا بھید جان جاو۔ ۔۔۔۔”

وہ دل میں سوچ رہی تھی۔

ارمغان نے ایک خوبصورت سا پینڈنٹ اپنی جیب سے نکال کر تھوڑا سا آگے جھک کراس کے قریب بڑھایا تھا ۔۔

“اس پر میرا اور تمہارا نام درج ہے۔۔”

اس کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگاکر دھڑکن سے قریب رکھنا” ۔۔

اس کے لہجے میں سچے جزبے بول رہے تھے۔ ۔

” اور تمہیں پتا ہے میں ابھی باہر کیوں گیا تھا؟؟؟”

وہ اپنی انگشت شہادت سے اس کے گداز لبوں کو چھوتے ہوئے بولا ۔”

اس کے پر حدت لمس سے فجر یکدم بوکھلا کر پیچھے کی طرف سرکی تھی ۔۔۔

مگر ارمغان نے اسکو ہاتھ بڑھا کر خود سے قریب کیا اور اس کے سرد کانپتے لبوں پہ اپنے سرسراتے ہوئے لب رکھے تھے ۔۔۔

“اب تم سمیت تمہارا پور پور نیز یہ خوبصورت سراپا صرف اور صرف میرا ہے ۔۔۔”

گھمبیر جزبات سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اس نے فجر کی صراحی دار گردن میں رونمائ کے تحفہ کے طور پہ وہ پنڈنٹ پہنایا تھا ۔۔۔

“اتنی محبت میں تمہیں دوں گا کہ تم میری محبت سے چاھ کر بھی اپنا دامن نہیں بچا پاؤں گی ۔۔۔”

وہ اس کے گال پر موجود تل کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے بولا تھا ۔۔

“میں آپ کی اتنی محبت اور مان کی قابل نہیں ہوں”۔۔۔

” کہیں ایسا نہ کہ میں خوامخاں مغرور نہ ہو جائوں ۔۔۔”

“میں تمہیں مغرور نہیں بلکہ سیراب کر رہا ہوں اور اپنی شدتوں کا حال سنارہا ہوں ۔۔۔”

“میں یہی توچاہتا ہوں کہ تم بھی بس صرف اور صرف مجھے سوچو اور مجھے چاہو ۔۔۔”

“تمہارے دل و دماغ میں بیٹھا ہر ڈر اورخوف کو تم اپنی زندگی سے نکال باہر کت دو کیونکہ میں تمہارے ہر خوف کے آگے ایک دیوار کی طرح ڈٹ کے کھڑا ہو گیا ہوں ۔۔۔”

وہ اس کے عروسی دوپٹے کی پن نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔

“ڈر اور خوف انسان کے دل میں اس طرح اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہوتے ہیں جیسے ایک انسان کی چلتی ہوئی سانسیں “۔۔

“میں چاہ کر بھی اپنے اندر سالوں سے موجود ڈر اور خوف کو اپنے دل و دماغ سے نہیں نکال سکتی ۔۔”

وہ گہری گہری سانس لیتی ہوئی بڑی مشکل سے یہ لفظ ادا کر پائی تھی ۔۔۔

فجر نے اپنے اردگرد معجزاتی محبت کو محسوس کیا تھا ۔۔

ارمغان کے محبت بھرے لمس نے اس کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑادی تھی وہ لرز کر رہ گئی تھی۔۔۔

ارمغان نے اس کو اپنی مضبوط بانہوں کے حصار میں قید کر لیا تھا اور آہستہ آہستہ اس پر اپنی محبت کی بوچھاڑ کرنے لگا ۔۔۔

اویا ہو ۔۔ ۔ ۔۔۔!!!

“ہم لوگ سب فارم ہاؤس پہ جائیں گے ۔۔”

ارمغان پرجوش ہوا۔ ۔

ہاں بالکل ہم سب جائیں گے ۔۔۔”

داود نے اپنے پیارے سے 15 سالہ بھتیجے کو دیکھا جو بڑے انہماک سے انایہ کو گود میں بٹھائے ہوم ورک کرواتے ہوئے ساتھ ساتھ اپنے چچا سے بھی مہو گفتگو تھا۔ ۔۔

کب جاناہے بھئی؟ !!

حماد بھی آفس سے آنے کے بعد فریش ہوکر لاونج میں ہی صوفے پہ بیٹھ گیاساتھ ہی انایہ کو بھی زبردستی ارمغان سے لیکر اپنے پاس بٹھا کر پیار کرنے لگا۔ ۔۔

“تایا ابا مجھے اور نہیں پڑھنا بس آپ مجھے اپنے پاس ہی رکھیں “چپکا” کر۔ ۔”وہ کان میں رازدارانہ سرگوشی کرچکی تھی۔

“تھیک ہے میں اپنی چی چی کو اپنے سے چپکائے رکھونگا مگر میرےپاس گلوتو ہے ہی نہیں”۔ ۔

وہ چہرے پہ مصنوعی پریشانی طاری کرکے بڑے مزے سے بولا۔ ۔

ہمممممم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جھٹ پرسوچ انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی اور جھٹ سے ارمغان کے کرتے کے دامن کو اپنی فراک کی بیلٹ گراہ لگا نے کے اندازمیں باندھنےلگی۔ ۔۔۔۔

دیکھیں تایاابا ایسے آپ بھی کرتا پہن کے آجائے پھر میں اپنی فراک کی بیلٹ سے آپکا کرتے کا دامن باندھ لو نگی اس طرح پھر میں آپ سے ہی چپکی رہوں گی ہمیشہ۔ ۔

وہ اپنے تئیں قیمتی ہل تلاش کر چکی تھی۔ ۔۔

نہیں بس گڑیا اب تو تم ہمیشہ اپنے بیسٹ فرینڈ کے دامن سے ہی بندھی رہوگی ہمیشہ ۔۔۔

غزل شرارتی لہجے بولی سب کو چائے سرو کرتے ہوئے بولی تھی۔ ۔

دلہن بنی آئمہ پچھلے دو گھنٹو سے رحمان کا انتظار کر رہی تھی۔ ۔

ایک ہی زاویہ میں بیٹھے بیٹھے اسکی کمر تختہ ہوکر رہے گئی تھی۔ ۔۔

مگر پھر بھی صبر سے بیٹھی رہی اس خوف کے تحت کہیں رحمان کو برا ہی نہ لگ جائے ۔۔

وہ بغیر دستک دیئے کمرے میں آچکا تھا۔ ۔

اس کے قدموں کی چاپ اپنے بہت قریب محسوس کرکے آئمہ کچھ اور بھی سمٹ گئ تھی۔ ۔

شرما تو ایسے رہی ہو جیسے پہلی دفعہ سیج پہ بیٹھی ہو ۔۔

آئمہ جو کہ رحمان کے نرم لہجے کی آدی تھی وہ یخلقت اتنے سخت و برہم الفاظوں کو سن کر ساکت سی رہ گئ۔ ۔

اسکے ماں باپ کو قائل کرنے والا اسکی شادی کیلئے نا کو ہاں میں تبدیل کروانے کیلئے ہر طرح کے پاپڑ بیلنے کو تیار۔۔۔۔

وہ شجص کہیں سے بھی تو وہ نرم خو معملا فہم

نہیں لگرہاتھا۔۔۔

آئمہ کو لگ رہا تھا جیسے دوسرا جلال رحمان کے روپ میں اسکے سامنے کھڑا ہو۔ ۔۔

جانتی ہے تیری اوقات کیا ہے میری نظر میں؟ ؟؟

وہ اسکا پنوں لگا دوپٹا بے دردی سے کھینچ کر دور اتار اچھالتے ہوئے کئ تھپٹ اسکے معصوم سے چہرے پہ جڑتے ہوئے بولا۔ ۔۔

مم مجھے مت ماریں ۔۔۔

خدا کا واسطہ اتنا تو بتادیں کہ کس قصور کی پاداش میں مجھے سزا دیرہے ہیں۔ ۔۔

وہ اسکو ہاتھ میں بیلٹ لپیٹ کر اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر بولی تھی ۔۔۔

وہ وحشت زدہ سی الٹے قدموں دیوار سے جالگی تھی۔ ۔

آنکھیں رو رو کر اب جیسے اب مزید آنسوں بہانے سے انکاری ہوچکی تھیں۔ ۔۔

قصور پوچھتی ہے مجھسے تو ؟؟؟

وہ بیلٹ سے اسکے نازک وجود کو بری طرح دھونتے ہو انتہائی درجہ کی غلاظت بکتے ہوئے بولا۔ ۔۔

تو میرے پیارے بھائ کی قاتلہ ہے۔ ۔

جیسے میرا بھا تڑپ کے مرا تھا نہ اب تو ساری زندگی روز جئے گی روز مرے گی۔ ۔

وہ ادھ موئی ہوئ جگہ جگہ سے رستے خون کے باوجود اپنی صفائی پیش کرنا چاھ رہی تھی۔ ۔

کہنا چاہ رہی تھی کہ وہ نہیں بلکہ اسکا بھائ ایک انتہائ اوباش او غلیظ آدمی تھا۔ ۔

مگر سامنے موجود شخص کچھ بھی سن نا ہی کب چاہتا تھا۔ ۔۔

میں کوٹھے پہ جارہا ہو شب زفاف منانے ۔۔

یہ ہے تیری اوقات میری نظر میں کہ تیرے ہوتے ہوئے میں ایک طوائف کو تجھ پہ فوقیت دیرہا ہو۔ ۔

وہ اسکو اپنے بوٹ سے کچلتا بغیر یہ دیکھے کہ وہ بیہوش ہوچکی ہے اسکے چہرے پہ تھوکتا کمرے کے کھلے دروازہ سے باہر جاچکا تھا۔ ۔

دروازہ کی اوٹ میں چھپا ہمزہ اسکے جاتے ہی بلکتے ہوئے اپنی بیہوش پڑی ماں کے پاس بھاگا چلا آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

مما اٹھو۔ ۔

میری مما اٹھو نا۔ ۔۔۔