Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 4)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 4)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

سوہا میری بات سنو ۔۔۔

سمیرا کچن میں آئی اپنی پھلجڑی صفت بیٹی سے مخاطب ہوئی۔۔

جو ایک منٹ میں دو شامی کا باپ اپنے پیٹ میں انڈیل چکی تھی ۔۔۔۔۔

جی جی بولیں میں سن رہی ہوں آپ کی بات ۔۔۔

وہاب فریج میں سے کولڈڈرنگ نکال کےمنہ لگاکر پیتے ہوئے بولی ۔۔

کتنی دفعہ کہا ہے تو میز سے گلاس میں نکال کر کیا کرو مگر تم ہو کہ چکنا کھڑا ہوں میری کسی بات کا اثر تک نہیں ہوتا تم پہ ۔۔

سمیرا کا دماغ گھوم چکا تھا ۔۔۔

ارے میری پیاری ماما آج تو مجھے معاف کردیں آئندہ ایسا نہیں کرو نگی ۔۔۔

وعدہ کا وعدہ ۔۔۔۔!!!

وہ ماں کی گالوں پہ چٹا چاٹ بوسہ دیتے ہوئے بولی ۔۔

اچھا نہ بس ٹھیک ہے زیادہ بٹرنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

سمیرا سوہا کے اس والحانہ پیار بھرے انداز پہ کچھ کچھ نرم پڑ چکی تھی ۔۔۔

اچھا اب تم میری بات سنو غور سے ذرا ۔۔۔!!!

تم کوئی بچی نہیں ہو خیر سے پچھلے مہینے ہی سولہویں برس میں لگ چکی ہو ۔۔۔۔

ماما کیا دوبارہ سے مجھے گفٹ دینے کا ارادہ ہے ؟؟؟؟

وہ ماں کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی ۔۔۔

ہرگز بھی نہیں بلکہ تمہارے ہاتھ پیلے کرنے کا ارادہ ہے میرا ۔۔۔

ہیں واقعی ؟؟؟؟؟

اس نے ہیں پہ زور ڈالتے ہوئے بولا اور تھوڑا سا اٹھلآئی ۔۔۔۔

شرم کر لڑکی ماں کے سامنے کھڑی ہے اور دیدے دیکھو زرا جو شرم دکھائی دے ان میں ۔۔۔

سمیرا نے اس کی کمر پر ایک غموں کا جلتے ہوئے بری طرح سے چلتا رہتا کچھ لمحوں پہلے والی نرمی اب ہوا ہوچکی تھی ۔۔۔

خیر میرا دماغ کھانے کی ضرورت نہیں ہے مصطفی ایا ہوا ہے اس کے سامنے ذرا ڈھنگ سے رہنا ۔۔۔۔

کیوں ماما؟؟؟

اور ان کے سامنے اگرڈھنگ سے نہیں رہو نگی تو وہ کیا مجھے سزا کے طور پر اپنے جہاز کے اوپر بٹھا دیں گے اور پوری دنیا میں جہاز کو گولگول چکراتے پھرینگے ؟؟؟

وہ بولتے بولنے کے ساتھ آنکھوں کو بھی گول گول گھما رہی تھی۔۔۔

جیسے واقعی جہاز کی چھت پہ بیٹھی ہو اور جہاز ہوا میں اڑ رہا ہو۔ ۔۔

اس بات سے بے خبر کے کچن میں چائے کا مگ اور کباب کی پلیٹ رکھنے آیا مصطفی دروازے کی اوٹ میں ہو کر اس کی تمام گوہر افشانیاں سن رہا ہے ۔۔

وہ اپنے نام پہ چونک کر وہیں رک گیا تھا ۔۔۔۔

دیکھو میرا ۔اب کھوسہ جو ہے نہ آسمان کو چھو رہا ہے میں تمہیں ایک تھپڑ دیکھا دو گی میری بات کو سن لو اور اس پر عمل کرنا ۔۔۔

اچھا نہ بھولیں نہ جلدی پر نے کبھی بھی شروع ہونا ہے نا ۔۔

سوہا اب کچھ سنجیدہ ہو کر ماں سے بولی تھی ۔۔۔

دیکھو سوھا تمہارا جو ہے آپی نے پرپوزل بھیجا ہے مصطفی کیلئے اور میں چاہتی ہوں کہ یہ رشتہ ہو اس لئے کہ مصطفی سمیت آپی اور آپی کا سسرال بہت ہی اچھا اور قابل گھرانہ ہے ۔۔

اپنی پھوپھی کے گھر جاؤں گی میں اور تمہارے بابا بھی پرسکون رہیں گے۔۔۔

شفاء کو بھی ہم نے محفوظ ہاتھوں میں دے دیا ہے اب تمہاری باری ہے اس لئے کسی بھی قسم کی بچکانہ اور فضول حرکت مصطفی کے سامنے نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔

یہ میری وارننگ ہے تمہارے لئے اگر تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی فضول حرکت کی تو یاد رکھنا تمہارے بابا جو ہے پھر تمہاری ایسی کلاس لیں گے کہ تم اگلے اور پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کر بیٹھ گئی ۔

۔۔

مجھے نہیں کرنی مما مصطفی بھائی سے شادی کسی صورت بھی نہیں۔۔۔۔۔

آپ نے ان کو دیکھا ہے مجھ سے کتنے بڑے ہیں ؟؟؟

کیوں کیوں نہیں کرنی اور بڑے ہونے سے کیا ہوتا ہے؟؟

حمزہ کو دیکھا ہے پورے8 سال بڑا ہے شفا سے ۔۔

ماما مجھے ہواؤں میں اڑنے والے اور ہواؤں سے لڑنے والے لوگ نہیں سخت نہ پسند ہیں ۔۔

میرا دماغ مت کھاو مجھے یہ چائے اور کباب باہر لے کر جانے ہیں شرافت سے اپنا دوپٹہ سہی سے اٹکا کر شانوں پہ باہر آ جاؤ ۔۔۔۔

سمیرا کہہ کر باہر نکلتی چلی گئی تھی ۔۔۔

جب کہ حمزہ سمیرا کو باہر جاتا دیکھ کر خود اس کے جانے کے فوری بعد کچن میں داخل ہوا تھا اور ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر سوہا کی کلائی سختی سے تھام کر اس کو ڈرٹی کچن کے اندر لے کر گھسا تھا اور دروازہ اندر سے لوک کرچکا تھا ۔۔۔

ا۔ ۔۔۔۔آ۔ ۔۔۔۔آپ ؟؟؟

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مصطفی کو دیکھ رہی تھی جس کا مضبوط ہاتھ اس کے لبوں پر تھا ۔۔۔

ہاں میں وہ اس کے جھمکے کو شرارت سے چھیڑتے ہوئے بولا جبکہ چہرے کے تاثرات کافی بر ہمی لیے ہوئے تھے ۔۔۔

یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی لڑکی نے اس کو ریجیکٹ کیا تھا اس سے پہلے وہ خود کئی لڑکیوں کے دل قدموں تلے روند ھ چکا تھا ۔۔۔

تمہیں ہواؤں میں اڑنے والے اور ہواؤں سے لڑنے والے لوگ نہیں پسند ہے نا ؟؟؟

وہ اس کی ہرنی کی طرح سے سہمی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ہاتھ ہنوز اس کے پھڑپھڑاتے لبوں پر تھا ۔۔۔۔

بلیک کرتی میں وہ غضب ڈھا رہی تھی ۔۔

دودھ جیسی اجلی رنگت مزید ر وئی کی طرح ہو گئی تھی!! جبکہ گال سرخ ہو رہے تھے ۔۔

ڈر خوف اور وحشت اس کی آنکھوں میں رقم تھی ۔۔۔۔۔

پتہ ہے تم ہیں؟ ؟

تم بہت ہواؤں میں اڑھ رہی ہو۔۔۔۔

لیکن پھر بھی نفرت تمہیں ہواؤں سے باتیں کر تے لوگوں سے ہے۔ ۔۔

اب تمہارا جو ہے واقعی آسمان سے زمین پر گرنے کا وقت آ رہا ہے ۔۔۔

سا تھ ہی وہ اس کے کانوں میں پڑے جھمکے اتار کر اس کی ہتھیلی پے رکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔

یہ سجنا اور یہ سنور نہ اب صرف تم میرے لئے کرو گی ۔۔۔

اور جب تک تم میرے نام نہیں لکھی جاؤں گی تب تک میں تمہیں ان کیل کانٹوں سے آراستہ نہ دیکھو آئندہ۔۔۔

وہ کسی نازک سی گڑیا کی طرح اس کی گرفت میں جکڑی تھرتھرا رہی تھی ۔۔۔

وہ کم عمر ضرور تھی مگر بیوقوف ہرگز نہ تھی ۔۔۔

مصطفی کی پیغام دیتی آنکھیں اس کو بہت کچھ باور کرا گئی تھی ۔۔۔۔

اس کی روب دار پرسنیلٹی اور چہرے پہ ہر وقت رقم کرخت تاثرات کی وجہ سے وہ ہر پل اس سے خوفزدہ رہا کرتی تھی ۔۔۔۔۔

مجھے چھوڑئیے پلیز کوئی آ جائے گا ۔۔۔

وہ اس کے ہاتھ کی گرفت اپنی لبوں سے ڈھیلی ہوتے دیکھ چھٹ سے پیچھے ہو کر آہستہ سے بولی تھی ۔۔۔

اور اگر نہ چھوڑو تو ؟؟؟

بڑا خیال ہے تمہیں کسی کے آنے کا ۔۔

آئندہ جب بھی تم شاور لینے جاؤ تو یاد سے میری بات اپنے حافظے میں محفوظ کر لو کہ دروازے کو اچھی طرح لاک کرکے جاؤں گی ۔۔

شنو تو کیا کسی سے بھی تم اپنے کپڑے یا چیزیں نہیں مانگوں گی ۔۔۔

وہ بر ہمیں سے کہتا اس کا دوپٹہ ٹھیک سے اسکے شانوں سے پھیلا کے پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔

سوہا کو لگا تھا جیسے کسی نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا ہو ۔۔

خفت اور شرم سے اس کا وجود سرد پڑ چکا تھا ۔۔۔

اس کو اپنے پیروں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔

تت۔ ۔۔ تو کیا آپ۔؟؟؟

وہ اٹک اٹک کے بولی تھی ۔۔۔۔

بجا فرمایا تھا میں ہی تھا تمہیں تمہاری ایک مطلوبہ چیز فراہم کرنے والا ۔۔۔۔۔۔

سوہا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے

مبارک ہو بیٹا ہوا ہے زچہ اور بچہ ماشااللہ دونوں اب خطرے سے باہر ہے ۔۔۔

آپریشن تھیٹرز سے باہر آئی ڈاکٹر نے آکر خوشی کی خبر سنائی تھی ۔۔

داود تیزی سے بڑھا تھا ڈاکٹر کی طرف ۔۔۔۔

اس کو لگا تھا کہ باہر ای ڈاکٹر نے اس کے کانوں میں جیسے رس گھول دیا ہو ۔۔۔

کیا میں اپنی وائف سے مل سکتا ہوں ڈاکٹر صاحبہ ؟؟؟

جی ابھی کچھ دیر میں انکو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا اس کے بعد آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔

یہ لیجیے ۔۔

پیچھے سے آپریشن تھیٹر سے باہر آئیں نرس نے ننہ گل گوتھنا داود کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔

داود نے ننھے وجود کو گود میں لے کر اپنے سینے سے لگا کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کیا تھا کہ۔۔۔

اس نے اس کی اولاد اور اس کی بیوی دونوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھا ۔۔۔۔

اور دونوں کو زندگی بھی ایک نئی زندگی عطا کی ۔۔۔

ارمغان کافی لیٹ پہنچا تھا رات کے ساڑھے آٹھ بجے کے قریب وہ رحمان منشن میں تھا ۔۔۔

آ گئے ہیں آپ ابھی کیوں ای نکاح کے بعد آجاتے کیا ضرورت تھی آنے کی ؟؟؟

سوہا نے اس کو دیکھتے ہی جھپٹنے کے انداز میں آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔۔۔

یارب سدیر ہوگئے تھوڑا سا کام آگیا تھا اس میں لگ گیا تھا مگر دیکھو آ تو گیا نا ۔۔۔

وہ چہرے پہ حد درجہ بیچارگی لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔

سب کو مبارکباد دینے کے بعد اس کی نظر لاؤنج میں ایک صوفی پیٹ کی فجر پہ پڑی تھی جو اس وقت ہنس ہنس کے آئمہ کے ساتھ محوِ گفتگو تھی ۔۔۔

ارمغان بے خود صاف ہو کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔

اسلام علیکم کیسی ہیں آپ ؟؟؟

وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں ۔۔

فجر نے بالکل نارمل انداز میں اس کو مسکرا کر سلام کا جواب دیا تھا ۔۔۔

طبیعت کیسی ہے اب آپ کی ؟؟

الحمدللہ میں اب بالکل ٹھیک ہوں ۔۔

بیٹھو بیٹا کھڑے کیوں ہو ؟؟

ائمہ نے اٹھتے ہوئے اپنے سامنے والی خالی نشست پہ ارمغان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

شکریہ آنٹی ۔۔۔

وہ موبائل سامنے رکھی ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا ۔.

وہ ابھی مزید کوئی بات شروع کرتا کہ فجر کا موبائل بج اٹھا تھا ۔۔۔

السلام علیکم بابا کیسی طبیعت ہے آپکی ؟؟؟

اچھا چلیں ٹھیک ہے میں نکلتی ہوں پھر ۔۔۔

وہ بابا کی پوری بات سننے کے بعد اتنا ہی بولی تھی جبکہ چہرے پر پریشانی ہویدہ تھی ۔۔۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا؟ انکل کی طبیعت ٹھیک ہے؟؟؟؟

جی آپ ابھی باہر سے آرہے ہیں نہ کیسے حالات ہیں باہر کے ؟؟؟

وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی ۔۔

حالات ٹھیک نہیں ہے کافی ہنگامیں اور جلاو گھیراو ہورہا ہے ہر طرف ۔۔۔

او مائی گڈنیس۔۔۔!!

مجھے ابھی نکلنا ہوگا ۔۔۔

وہ کہتے کہ ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور تھوڑے فاصلے پر کھڑی آئمہ اور سمیرا کے پاس جا کر بولی۔۔۔۔

آنٹی حالات خراب ہو گئے شہر کے کافی پلیز مجھے گھر چھوڑ وادینگی کسی سے ۔؟؟

ہاں بیٹا ہم بھی یہی بات کر رہے تھے کہ شہر کے حلات اچانک خراب ہونے کی وجہ سے کافی زیادہ ہنگامے شروع ہوگئے ہیں ۔۔

میں ڈرائیور سے کہتی ہو وہ تمہیں چھوڑ دے گا ۔۔۔

آپی ڈرائیور ہوگا تب چھوڑے گا نا۔۔۔۔

وہ تو زلیخا خالہ کو لینے گیا ہوا ہے ان کے گھر ۔۔۔

سمیرا نے پریشانی سے بتایا ۔۔

عمر بھی ابھی تک نہیں آیا ۔۔۔

اب کیا کرو؟؟

دونوں تینوں پریشان ہو بیٹھی تھی ۔۔۔

آیکس کیوز می ۔ ۔۔۔!!

اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں ؟؟؟

ارمغان اٹھ کر ان تینوں کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔

لو دیکھو ٹینشن ختم ہوگئی۔۔۔

ارمغان تم اس کو باحفاظت گھر چھوڑ آئو بیٹا باہر کےحالات بہت خراب ہیں اور اس وقت کو کوئی بھی نہیں ہے جو فجر کو باحفاظت طریقے سے گھر چھوڑ سکے ۔۔۔۔۔

سمیرا نے ھانجے سے پوچھا ۔

آنی آپ کریں ۔۔

فجر میں آپ کو رو کر دیتا ہوں ۔۔

وہ لوگ ابھی آدھے راستے کو ہی پہنچے تھے کہ سامنے بری طرح سے ٹائر جل رہے تھے ارمغان پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔۔۔

اس نے گاڑی کا رخ فجر کے گھر کو جاتے راستے سے موڑا تھا ۔۔۔

وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ فجر جو ہے وہ پآگ سے ڈرتی ہے۔۔۔

اسی لئے اس کی نظر پڑھنے سے پہلے ہی اس نے گاڑی دوسری سمت پہ ڈال دی تھی ۔۔۔

رات کے 10 بجنے کو تھے ۔

حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہر سو سناٹا فاٹا ۔۔۔

اب ارمغان کا رخ اپنے گھر کی طرف تھا ۔۔

جب کہ ائمہ آنکھیں موندے سیٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھی ۔۔۔

وہ یہ دیکھ ہی نہ سکی کہ گاڑی اب کس سمت پہ

رواں دواں ہے ۔۔۔

رخصتی سے محض ایک گھنٹہ پہلے عمر اور لائبہ گھر پہنچے تھے ۔۔

سب کو سلام کر نے کے بعد سیدھا شفا کے کمرے کی طرف بڑھا تھا اس کو جلد از جلد شفا سے مل کر اس کو اپنے سینے سے لگانے کی خواہش ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

مگر جیسے ہی وہ شفا کے کمرے کے باہر پہنچا تھا ۔۔

اس کو لگا تھا جیسے اندر سے شفا کے رونے کی آواز آرہی ہے ۔۔

وہ اندر جانے کے لیے کھٹکا کرنے ہی والا تھا جب اس کے قدموں کو کسی اور کی بھی کمرے سے آتی ہوئی آواز نے روک لیا تھا اندر جانے سے ۔۔۔۔۔

عمر نے جو کچھ اپنے کانوں سے سنا تھا۔۔۔

کمرے میں موجود دونوں فریقین کی گفتگوکوئی میں معمولی پیمانوں پر مقید ہرگز نہ تھی!! اب اس کا رخ سیدھا رحمان صاحب کے کمرے کی طرف

تھا ۔۔۔۔۔۔۔