Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 45

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 45

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

کیا ہے مان آپ مجھے چھوڑ کہ کیوں جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟

میں ناراض ہوں آپ سے۔۔۔”

یہ تو غلط بات ہے آپ اکیلے ہی جا رہے ہیں مجھے بھی ساتھ لے جاتے کم از کم میں یوں پریشان تو نہ ہوتی ۔۔۔۔۔”

بابا اور بھائی سے بھی ملنے کا کتنا دل کر رہا ہے مگر آپ ہیں کہ ۔۔۔۔

وہ اس کا اینڈ کیری تیار کرتے ہوئے خفا خفا سے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔

یار میں تو تمہیں لے جانے کے لیے تیار ہوں مگر دادو نےہی منع کردیا ہے کہ تم اس وقت ابھی سفر نہ کرو تو بہتر ہے ۔۔۔۔”

تم پریشان مت ہو میری جان گھر میں باقی سب لوگ ہیں نہ موجود سب تمہارا بہت خیال رکھیں گے۔۔۔۔۔۔”

وہ نرمی سے سمجھانے لگا ۔۔۔

” جی اچھا “۔۔

وہی ایک دم خاموش ہوئی تھی آنکھوں میں ویرانی سی گھر کر گئی تھی ۔۔۔

“جانا بہت ضروری ہے کیا ؟؟”

ہاں ڈ یئر!! بہت ہی اہم میٹنگ ہے میری نہیں تو کبھی نہیں جاتا اور پھر بابا سائیں کا حکم تو ہر صورت ماننا ہی پڑے گا ۔۔۔”

وہ تفصیل سے بتانے لگا تھا تا کہ فجر کا دل مطمئن ہو سکے ۔اس کا خود کا دل بھی نہیں چاہ رہا تھا اس کو اس وقت چھوڑ کے جانے کا مگر بابا صاحب کا حکم تھا کہ یہ میٹنگ اسی نے اٹینڈ کرنی ہے مینیجر کے بس کا کام نہیں تھا ۔

جلدی آئے گا پلیز۔۔۔!!

وہ آنکھوں میں آئی نمی کو بڑی مشکل سے واپس آنکھوں میں اتارتے ہوئے آگے بڑھ کے اس کے گلے سے جا لگی ۔۔۔۔

وہ بہت بجھی مجھے دل سے مانی کو الوداع کہہ رہی تھی ۔۔

خداحافظ میری جان سے پیاری بیوی۔۔۔!

اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔اور میرے بےبی کابھی ۔۔۔۔۔”

تم میری زندگی کا حاصل ہو۔۔۔۔۔۔۔”

وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دے کے چلا گیا تھا ۔۔۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ پھر فجر سے ملاقات ممکن ہوسکے گی زندگی میں یا نہیں ۔۔۔!!!!

بیٹا ہم تمہاری دادی کے ساتھ پڑوسی گاؤں جا رہے ہیں ہمارے بہت ہی عزیز کی بیٹی کی شادی ہے تم اپنا خیال رکھنا زیادہ دیر نہیں لگائیں گے ہم بس دو سے تین گھنٹے میں واپس آجائیں گے ۔۔”

ایک گھنٹے بعد غزل اس کے کمرے میں آئی تھی اور اس کو اپنی روانگی کا بتا کہ اپنا چند گھنٹے کے لئے خیال رکھنے کا کہہ کر پیار کر کے چلی گئی ۔۔۔

ساتھ ہی ایک ملازمہ کو بھی اس کی دیکھ بھال کے لئے پابند کرکے گئی تھی ۔مگر کون جانتا تھا کہ وقت پہ کون کام آتا ہے اور کون نہیں ۔۔۔۔!

اسنے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔

تو گویا وہ کچھ دیر کے لیے گھر میں سکون سے رہ سکتی ہے۔ ورنہ جب سے سب گھر والوں کو اس کی اصلیت پتہ چلی تھی وہ نجانے کن اندیشوں کا سوچ سوچ کے کمرے میں قید ہو کر رہ گئی تھی۔ خوفزدہ رہتی ہر پل ۔چہرے سے خوشی جیسے روٹھ گئی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی یہ سکون بس چند ہی منٹوں کا ہے ۔۔

وہ چہل قدمی کرنے کی غرض سے کمرے سے باہر لان کی طرف نکل آئی تھی۔ ابھی وہ راہداری سے گزر کر لان میں پہنچی بھی نہ تھی جب نہ جانے اس کو کسی کے قدموں کی دھمک سی اپنے سے کچھ فاصلے پر محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

وہ یکایک پیچھے گھوم کے دیکھنے لگی جہاں حماد صاحب اس سے چند ہی قدموں کے فاصلے پہ کھڑے روزے اول کی طرح بالکل اسی دن جیسا طنطنہ اور حقارت آنکھوں میں لیے موجود تھے ۔۔

آ۔ ۔اا۔ ۔۔۔۔”وہ گھگھیا ئی ۔آنکھوں میں خوف اتر آیا ۔۔

“تم بیٹا یہاں کیوں ہو۔ تمہیں آرام کرنا چاہیے ما بچے۔ تمہارا آرام کرنا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔”

اور پھر یہ تو تمہارے آرام کے دن ہیں۔ ۔۔”

لہجہ عجیب چھپتا ہوا اور معنی خیز سہ تھا ۔۔۔

آ۔ ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔!

گگ۔ ۔۔۔۔گئے نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ سرا سیمہ ہوئ قدم پیچھے لینے لگی ۔خطرے کی گھنٹی جیسے اس کے دماغ میں بج اٹھی تھی۔۔۔۔

” نہیں میں نہیں گیا۔۔۔۔”

جانا تو تھا مگر پھر سوچا کہ کہیں میری بھتیجی اور بہو اکیلی نہ رہ جائے یا پھر کوئی حادثہ ہی نہ پیش آ جائے۔۔۔ “

کچھ ہو نہ جائے ۔۔۔۔۔۔!

لہجے میں بہت چبھن تھی ۔ تندوتیز لہجہ فجر کو اندر تک ہلا کے رکھ دیا تھا ۔

وہ لرز اٹھی تھی حماد صاحب کا یہ روپ دیکھ کہ۔ ۔وہ اتنے عرصے سے نیک اور پارسائی کا چوغا اوڑ ہے نظر آ رہے تھے ۔۔۔

یا پھر کوئی گہرا راز تھاجو صرف وہ جانتی تھی ۔۔۔۔۔!

وہ خوفزدہ ہو کے پیچھے قدم لینے لگی ۔۔۔

مم۔ ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں اپنے کمرے میں ہی جا رہی ہو بس۔۔۔۔۔۔”

وہ خشک ہو رہے لبوں پہ زبان پھیر کے لبوں کو ترک کر کے بولی تھی۔

اس وقت وہ جس حال میں تھی بھاگنا اس کے لیے ناممکن تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

تمہیں اپنے اما بابا اور بھائیوں کی یاد تم بہت آتی ہوگی نہ بیٹا ۔۔۔۔؟؟؟

جج۔ ۔۔۔۔جی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ شدید خوفزدہ تھی ۔۔۔

تو کیا خیال ہے تمہیں ان کے پاس پہنچا دیا جائے ۔۔۔؟؟؟

تمہارا دل کر رہا ہو گا ان سے ملنے کا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ گہرے لہجے میں کہتے چند ہی قدموں میں فجر تک پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔

حماد صاحب چند قدموں کا فاصلہ طے کرکے سہمی ہوئی فجر تک پہنچے تھے اور اس کے بالوں کو الٹے ہاتھ سے اپنی مٹھی میں قطع رحمی سے جکڑ کہ دوسرے ہاتھ سے کھینچ کر نرم و نازک چہرے پہ زوردار چٹا چٹ کئی تھپڑجڑڈالے تھے ۔۔۔

فجر اس افتاد کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھی وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ حماد اپنا بھیڑیے نما چہرہ اس قدر جلدی دیکھا دینگے۔

وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ جب تک اس کے وجود میں ان لوگوں کی امانت سانیں لے رہی ہے تب تک وہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔مگر وہ تو شاید سفاک نہیں بلکہ انسان کے روپ میں درندہ و بھیڑیا تھا۔

” بے ضمیر شخص کسی کا نہیں ہو سکتا چاہے وہ اس کی اولاد ہو یا اولاد کی بھی اولاد ہو یا پھر اس کے سگے خونی رشتے!! چاہے بھائی کے روپ میں ہو یا اس کے بچوں کی شکل میں ۔”

فجر کو لگا جیسے وہ آج چپ نہیں رہ سکی گی ۔اپنے تئیں وہ ہماد صاحب کی طبیعت صاف کردی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اس کا حشر کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔!!

Stay away from me i know your reality

very well ۔….”

دور رہو مجھ سے میں تمہاری اصلیت بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔”

میں ڈر گیا تم نے تو مجھے ڈرا دیا لڑکی ۔۔۔۔”

ہاہاہا۔ ۔۔۔۔۔”

بے ہنگم کہکہ برآمد ہوا ۔۔

حماد صاحب نے ڈرامائی انداز میں کہتے ہوئے فجر کا تمسخر اڑایا اور اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں بے دردی سے جکڑتے ہوئے فرش پہ گھسیٹتے گھسیٹتے اس کو نہ جانے کن تاریک راستوں سے گزار کرنیچے کی طرف ایک بڑی سی پینٹنگ کے پیچھے موجود چور دروازے کو کھول کہ وہ اس کو لیے تہ خانے کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔۔۔

فجر کی حالت زمین پہ بری طرح گھسیٹنے کی وجہ سے جابجہ وجود پہ لگڑھ لگنے سےغیر ہو رہی تھی ۔۔

شدید قسم کی تکلیف اس کو اپنی کمر کے اردگرد ہوتی یکلخت محسوس ہوئی۔ٹیسیں سی اٹھ رہی تھی اس کو ۔

مم۔ ۔۔۔ مجھ کو ڈاکٹر کے پاس لیچلیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے مجھے فوری ہسپتال جانا ہے ۔۔۔۔”

وہ بری طرح سے بچے کی ولادت پہ ہونے والے متوقع درد سے تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔ “

اس وقت اس کو اپنی جان سے زیادہ اپنے اندر پلنے والی معصوم زندگی کی فکر لاحق تھی ۔جو کسی بھی وقت دنیا میں آنے کو تھی مگر اب ایسا لگ رہا تھا کہ تمام خوشیاں تمام بہار ملیامیٹ ہونے کو تھیں۔ آرزوؤں کے دیئے بہت زور کی کالی آندھی آنےسے بجھنے کو تھے ۔۔۔۔”

میرا نہی تو اپنے آنے والے چشم وچراغ کا ہی سوچ لیں آپ خدارا ۔۔۔۔۔۔”

وہ جیسے اپنی اولاد کے لئے جنگ لڑنے کو ڈٹ کھڑی ہوئی ۔۔

فجر اپنے بالوں کو بے دردی سے جکڑے حماد کے آگے ہاتھ جوڑ کے گر گرا ئی ۔۔۔

رحم کرو مجھ پہ۔۔۔۔”

اگر تجھ پہ رحم کھایا تو میں برباد ہوجاونگا۔۔۔۔”

مم۔۔۔میں وعدہ کرتی ہوں کسی کو کچھ نہیں بتائونگی۔۔۔۔۔”

تو بتانے کے قابل رہے گی تب نہ۔ ۔۔!!!

ھا۔ ۔۔ھا۔ ۔ھا۔ ۔۔

سفاکی سے کہتے ہوئے کہکہ لگایا گیا ۔۔۔۔۔۔

مم مطلبببب۔ ۔۔۔۔؟؟؟

وہ سسکیاں بھرتے ہوئے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کر پائی تھی۔۔۔

شام تک تیرہ کفن دفن بھی کروا دوں گا دھوم دھام سے فکر کیوں کرتی ہے ۔۔۔۔”

اس سے مزید تو میرا نہیں خیال تجھے کچھ اور سمجھانا یا بتانا پڑے گا ؟؟

ویسے بھی تو خود کو بہت عقلمند سمجھتی ہے۔ ۔۔۔۔”

وہ شاید دل کے بجائے انسان نہیں تھا درندہ تھا ۔۔

وہ اب بھی اس کو فرش پہ پوری طرح سے گھسیٹتا تہ خانے کے اندر موجود ایک بہت اندھیری اور گپت جگہ میں لے کر جا رہا تھے۔۔۔

گھسٹنے کی وجہ سے کئی چوٹیں اس کے پورے وجود کو درد سے مزید دوہرہ کر گئیں تھی ۔وہ تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔وجود سے روح فنا ہونے کو تھی

اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اس وقت حویلی کے ایک خاص وفادارملازم کے ساتھ فارم ہاوس کے باہر چیز لینے گئی ہوئی تھی ۔

اگر ارمغان ساتھ ہوتا فارم ہاوس میں تو وہ اس کے ساتھ جاتی مگر عین ٹائم پہ ہماد نے ارمغان کو جانے سے یہ کہہ کر روک لیا کہ۔۔۔

” تمہاری چھوٹی خالہ ناراض ہو نگی اگر تم ان کی بیٹی کو دیکھنے نہ گئے تو” ۔

ارمغان بچوں کا دیوانہ ننھی گڑیا کو دیکھنے کی چاہ میں ان کے ساتھ فام ہاؤس جانے سے انکار کر گیا۔ ۔۔۔

جب وہ ملازم کے ساتھ چیز لیکہ واپس لوٹی فارم ہاوس اس وقت وہ پورا تباہ ہو چکا تھا ۔ جل کے خاک ۔۔۔۔۔۔!!

اس کی چیخیں آگ کو دیکھ کے بلند ہورہی تھیں فارم ہاؤس کا جلا ہوا اسٹرکچر اس کے سامنے مانو طنزیہ انداز میں موجود اس کے دکھ پہ مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔

وہ بری طرح چیختی چلاتی رہی۔بوڑھے ملازم کی گود میں مچلتی ر ہی ۔

زار و قطار رو رہی تھی ۔۔

چلو بیٹا اب یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے حویلی چلو تم میرے ساتھ ۔۔”

بورھا ملازم قمر اس کو حویلی لے کے پہنچا تھا مگر ابھی اس اس نے حویلی کا بڑا سا صحن عبورہی کیا تھا جب اس کی بیوی یکدم کوارٹر سے نکلی تھی اور اس کو کھینچنے کے انداز میں واپس اپنے کوارٹر میں لے کے گئی تھی ۔

کہاں تھے تم اتنے وقت سے؟؟؟

تمہیں پتا ہے حماد صاحب کب سےتمھیں ڈھونڈ وارہے ہے۔ ۔۔۔۔”

میرا کتنا برا حال تھا تمہیں پتا ہے داؤد صاحب اور عائشہ بی بی سمیت بچے سب ج۔ ۔جل۔ ۔۔۔۔۔۔”

یہ تمہارے ساتھ عنایہ بٹیاکیسے ۔۔۔۔۔؟؟؟

اس کی چلتی ز بان کو یکدم بریک لگا تھا کیونکہ گدرمیں موجود بچی کوئی اور نہیں آنا یہ تھی۔۔۔۔۔

قمر کی بیوی سریا کا حیرت اور بے یقینی سے برا حال تھا ۔۔۔۔

اور یہ بی بی تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہیں یہ تو مر گئی ہے نہ ۔۔۔؟؟؟

وہ پریشانی میں الٹا سیدھا ہی بھول گئی مگر قمر اس کی بات سمجھ چکا تھا اور بہت آہستہ سے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہاں میں بتانا بھول گیا تھا کیونکہ داؤد صاحب نے مہلت ہی نہیں دی تھی اور مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ۔۔داؤد کو یاد کر کے ملازم کی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے نم ہوئیں ۔۔۔

“مجھ سے پوچھا تھا حماد صاحب نے تمہاری بابت تو میں نے ان کو کہہ دیا کہ تم گاؤں گئے ہو اپنے بھائی کے پاس۔ طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسکی “۔

“میں جھوٹ نہیں بولتی تجھے پتا ہے مگر چونکہ میں خود بھی نہیں جانتی تھی تم کہاں ہو لیکن حماد صاحب کا غصہ دیکھ کہ نہ جانے کیسے میرے یہ بات منہ سے نکل گئی اور میں نے جھوٹ کہہ دیا ۔۔۔۔۔۔”

ہوسکتا ہےاس میں کوئی خدا کی مصلحت ہو۔ ۔۔۔۔”

قمر نے دوسرا صافہ سر پہ باندھے ہوئے کہا ۔۔۔

اب تم جاؤ اور جا کہ ہماد صاحب کو حاضری دو اور یہی کہنا کہ بھایاکے پاس گاؤں گئے تھے ان کی طبیعت ناساز ہے ۔۔۔”

اچھا تم فکر نہیں کرو میں جاتا ہوں ۔۔یہ سو رہی ہے اس کو سونے دینا اٹھانا نہیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بیچاری بچی رو رو کے ہلکان ہو گی اگر ابھی اس کو اٹھایا تو یہ اپنے ماں باپ کا دکھ برداشت نہیں کر سکے گی اس کو تھوڑا ٹائم دو جب اٹھ جائے گی تو میں اس کو حویلی چھوڑ آؤں گا اندر ۔۔۔۔

بیچاری بچی پہ غم کا پہاڑ بھی تو کتنا بڑا ٹوٹ پڑا ہے ۔۔۔۔”سوریا نے اپنی آنکھوں میں آئیں نمی کو پہنچتے ہوئے عنایہ کو دیکھا ۔۔۔

بوڑھا ملازم اپنے مالک کی ناگہانی موت سے بہت اداس تھا آہستہ سے چلتا ہوا وہ حماد صاحب کو اپنی حاضری دینے کے لئے ان کے کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔

کمرے کے دروازے کے باہر پہنچ کہ وہ کھٹکا دے کر اندر جانے کو ہی تھا جب اندر سے آتی آوازوں اور ہونے والی گفتگو نے جیسے اس کے قدم ساقط کردیئے تھے ۔۔۔۔

“کھیل ختم ہوا ۔۔۔۔خس کم جہاں پاک ۔۔۔۔۔۔”

“میں اپنے راستے میں آنے والی کسی بھی دیوار کو برداشت نہیں کروں گا چاہے وہ میرا بھائی ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔”

“ہاں یہی میں سوچ رہا ہوں کہ چار لوگوں کی لاشیں ملی ہیں مگر ایک لاش ابھی بھی نہیں مل سکی ہے”

خیر فارم ہاؤس کا جو حال ہوا ہے اس کے بعد چار لوگوں کی ڈیڈ باڈی بھی ملنا بہت حیرانگی کی بات ہے اور رہ گئی آخری تو ہو سکتا ہے وہ ہماری چھوٹی سی بھتیجی کی ہو۔۔۔۔”

” جو کہ نہ ملی ہو وہ تھی بھی تو دھان پان سی ایسے ہی جل کے خاک ہو گئی ہو گی ۔۔۔۔”

“ہاں بھئی جشن منائیں گے کیوں نہیں منائیں گے تم نے ہمارا اتنا بڑا کام جو کیا ہے۔۔۔”

” میرے بھائی کے خاندان کو ختم کرنا کوئی آسان کام تھوڑی تھا۔ تمہیں اس کا معاوضہ ضرور ملے گا تم پریشان مت ہو ۔۔۔”

ھاہاہا۔ ۔۔۔!!

بے ہنگم کہ کا بلند ہوا تھا ۔۔حماد صاحب کسی سے فون پہ بات کر رہے تھے اس سے پہلے وہ باہر کھڑے ملازم کی طرف متوجہ ہوتے قمر بغیران کےکمرے کا دروازے بجائے باہر سےہٹ گیا۔۔۔

اس کی ہوائیاںاڑھ چکی تھیں ۔ وہ سراسیمہ سہ اپنے کوارٹر کی طرف بھاگا تھا کہ کہیں اس کی بیوی عنایہ بیٹی کو حویلی کے اندر ہی نہ لے آئے اور فجر کی جان کو ایک دفعہ پھر سے سولی پہ نہ چڑھا دے کیونکہ وہ ابھی تک اس سچ سے ناواقف تھی کہ ہنستے بستے خاندان کو ختم کرنے والا گھر میں ہی موجود تھا۔۔۔

وہ ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ سوچی سمجھی سازش تھی ۔۔مگر قمر کے دل میں سوال ابھی بھی ایک گوندا تھا کہ آخر کیوں ۔۔۔۔؟

حماد صاحب نے کیوں اپنے بھائی کو منوں مٹی تلے سلا ڈالا ؟؟؟

کیوں اس کے خاندان کو نیست و نابود کر دیا ۔۔۔۔۔۔؟؟

مگر ان سب باتوں کا جواب اس کے پاس نہ تھا اور یہ شاید اب وقت سوال کا جواب ان کو دیتا ۔۔۔

وہ شکر ادا کر رہے تھے کہ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس روز داؤد صاحب نے ڈرائیور کو بھی اپنے ساتھ نہ لیا اور اس کو اشارہ کرکے کہا کہ تم ساتھ چلو۔

گھر میں سب کو یہی پتہ تھا کہ داؤد خود ڈرائیو کر کے فارم ہاؤس جا رہا ہے ۔۔

قمر ان ملازم میں سے تھا جنہوں نے داؤد اور حماد کو پالا پوسا تھا ۔

داؤد سے اس کی محبت مثالی تھی وہ بہت وفادار تھا اپنے مالک کے لیے ۔داؤد کا کہا وہ آنکھ بند کرکے سنتا تھا بہت پیار سے وہ اپنے مالک کو داؤد بابا کہہ کہ بلاتا ۔ اور آج اس کا وہ پیارا داؤد بابا ہی نہ رہا تھا اپنوں کے ہی ہاتھوں وہ چل بسا تھا ۔۔۔۔۔!!

وہ جلدی جلدی بھاگتا ہوا اپنے کوارٹر کی طرف آیا ۔

اپنی بیوی کو تمام تر قصہ کہہ سنایا اسی کے جیسا حال اس کی بیوی کا بھی تھا وہ بھی افسوس کے مارے جیسے کچھ بول ہی نہ سکی چند لمحوں تک ۔۔۔۔۔

وہ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ عنایہ اٹھ چکی ہے۔۔۔

عنایہ ،ازما(قمرکی بیٹی)کا ہاتھ پکڑے کچن کہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی ان دونوں کی باتیں سن چکی تھی ۔۔۔

سات سے دس سال کی بچی کوئی ناسمجھ بچی نہیں ہوتی اس کو اتنی تو عقل اور تمیز ہوتی ہے کہ وہ اونچ نیچ اور حالات کی خرابی کو سمجھ سکے اور یہی عنایہ کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔

بابا کی بتائی گئی اپنی بیوی کو ایک ایک بات وہ سن کے ایک دفعہ پھر اپنا آپا کھو بیٹھی تھی اور چیخنے کو تھی جب بابا اور ان کی بیگم نے زبردستی اسکو خاموش کروایا تھا اور اس کو سمجھایا کہ۔ ۔۔

“بیٹا تمہاری بھی جان جاسکتی ہے تم خاموش رہو ۔۔۔”

عظمیٰ نے بھی اس کو اسی کے انداز میں بہت کچھ سمجھایا تھا وہ سمجھی یہ نہیں سمجھی مگر خاموش ضرور ہوگئی تھی۔ ۔۔

اب کیا کرنا ہے کچھ حل نکالو جلد از جلد ہم عنایہ کو زیادہ دیر تک چھپا کے نہیں رکھ سکتے اور اگر ہماد صاحب کے یہ ہاتھ لگ گئی تو پھر اس کا بھی وہی حال ہوگا جو اس کے پورے خاندان کا ہوا ہے ۔۔۔”

سریا کا خوف کے مارے برا حال تھا وہ کسی نہ کسی طریقے سے ان آیات کو بچا لینا چاہتی تھی موت سے ۔۔

“میری تو خود بھی کو سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا کروں۔۔۔۔۔”

قمر اپنے کوارٹر سے باہر جھانک رہا تھا گھر میں مہمانوں کا تانا بانا بن چکا تھا۔ لوگ جنازے میں شرکت کے لیے آنا شروع ہوئے تھے ۔۔

یکدم وہ چونکا تھا اور بغیر کچھ کہے بھاگتا ہوا کسی بہت خاص بندے کو پہچان کر اس تک جا پہنچا۔۔

وہ پہچان گیا تھا کہ آنے والا شخص داؤد کا بہترین دوست اور بچپن کا ساتھی تھا اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا ۔

قمر بابا اس کو اشاروں کنایوں میں بہت کچھ سمجھا کہ خاموشی سے بغیر حویلی کے اندر جانے دیئے اپنے کواٹر میں لے آئے تھے اور ان کو ایک ایک بات کہہ سنائی ۔۔۔

یہ سب کیسے ہوا اور اب کیا ہوگا مجھے تو کچھ نہیں سمجھ میں آرہا ۔۔۔؟؟

ملازم پریشان تھا رو رہا تھا اپنے مالک کی دردناک موت اس کو بھلائے نہیں دے رہی تھی۔

داود کی آخری نشانی جس کو وہ کسی طور بھی کھونا نہیں چاہتا تھا۔محفوظ ہاتھوں میں سونپنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

اس کا ایک ہی حل ہے کہ میں انایہ کو لے کر جا رہا ہوں اپنے ساتھ اور عنایہ مر گئی ہےداؤد اور اس کے بیوی بچوں کے ساتھ ۔۔۔۔”

یہ بات آپ یاد رکھیں بس یہ اب ہماری بیٹی ہے فجر ۔۔”

۔۔۔۔۔مگر اندر ہی اندر ہوں جیسے وہ پل پل مررہی تھی۔ تمام سچ کو جانتی تھی۔۔۔۔

آگ سے ڈرنا اور لوگوں سے خوف زدہ ہونا اس کی عادت میں تھا۔۔

جیسے جیسے وہ بڑھتی گئی ویسے ویسے اس کے اندر ایک خوف سا بیٹھتا گیا ۔

مگر خوف کے ساتھ ساتھ ایک جنون بھی تھا اس کے دل میں کہ وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر اس کے ماں باپ کا کیا قصور تھا۔ جو ان کو منوں مٹی تلے سلا دیا گیا اور وہ اس سوال کا جواب لینے وہ حویلی چلی آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حماد صاحب فجر کو تہ خانے کے بالکل آخری سرے پر بنے چھوٹے سے اسٹور نما جگہ پہ لے کر آئے تھے اس جگہ فجر کو پوری امید تھی کہ کوئی بھی اس کو بچانے کے لئے ہرگز بھی نہیں پہنچ سکے گا ۔۔

کیا تمہیں پتا ہے تمہاری ماں باپ اور بھائیوں کی موت حادثہ نہیں تھی ۔۔۔۔۔؟

میرے خیال سے تو وہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی اور شاید نہیں یقینا تمہارے بھی ۔۔۔۔۔”

وہ زمین پر گری فجر کے ارد گرد چکر کاٹتے ہوئے تمسخر اڑاتے لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔۔۔۔فجر کی ساری حسیات یکدم الرٹ ہوم ئی یہ سچ جاننے کے لئے تو وہ آج تک زندہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔

فجرخاموش رہی۔

اس وقت وہ صرف سننا چاہتی تھی جاننا چاہتی تھی کہ کیوں اس کے ماں باپ اور بھائیوں کو سوچی سمجھی سازش کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔۔۔۔؟؟”

خیر۔۔۔۔!!

جانتی تو تم ہو گی بہت اچھی طرح اسی لئے تو حویلی تک آئی تھیں مگر تم نےاپنے آپ کو اتنا خوش قسمت اور ہو شیار سمجھ کیسے لیا ۔۔۔۔۔؟؟؟

تم شاید یہ بھول گئی تھی کہ تمہارا واسطہ بھی تمہارے سگے تایا سے پڑا ہے ۔۔۔۔”

وہ اس کا چہرہ بے دردی کا مظاہرے کی آخری حد کرتے ہوئے تھوڑی سے پکڑ اونچا کرکے اسو اور وحشت سے بھری فجر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئےغرایا۔

تمہیں تو میں اسی روز پہچان گیا تھا جس روز تم اس حویلی میں آئی تھی۔ تمہارے بائیں رخسار پے جو برتھ مارک ہے یہ ہیں تمہارا دشمن ثابت ہوا کیوں کہ تم کو بہو اپنے ماں باپ کا مکسچر ہو ۔

بس پھر کیا تھا میں نے تمہاری معلومات کر وائی اگلے ہی روز ۔

پھر جو معلومات میرے سامنے آئی اور جو ایڈریس تمہارے گھر والوں کا تحفے تحائف پہچانے کیلئے ارمغان نے ڈرائیور کو دیا تھا وہ میرے مزید کام آیا ۔۔

کیوں کہ مجھے کوئی شوق نہیں تھا تمہارے گھر والوں کو شگن کے تحفے تحائف پہنچانے کا میرا اصل مقصد تھا تمہارے گھر والوں کا اتہ پتہ جان نا ان تک پہنچنا اور ارمغان بغیر میرا معصوم بچہ جیسے تمہارے بنے ہوئے جال میں پھنسا ویسے ہی خاموشی سےمیری بچھائی گئی بساط کا مہرہ بنا ۔۔۔۔۔۔۔ “

غزل اور اماں کے پہنچنے سے پہلے ہی میرے بندے نے تمہارے گھر والوں کو غائب کر دیا اور تمہاری دادی اور ساس کے سامنے میرے اسی بندے نے بھیس بدل کےڈرائیور اور ان دونوں کو یہ ظاہر کیا جیسے وہ بھوتیا بنگلہ ہےاور 37 سال سے بند پڑا ہے ۔یہ حقیقت جاننے کے بعد میری اماں جان تم سے کافی کھچی کی چیزیں رہنے لگی وہ سمجھ رہی تھی کہ تم وہ نہیں ہوں جو تم ظاہر کر رہی ہوں مگر میرے بچھائے ہوئے جال کا ستیاناس اس وقت ہوا جب تمہارے حاملہ ہونے کی خبر حویلی کے درو دیوار میں گونجی سب بہت خوش تھے میری اماں جان اور بیوی بھی وہ باتیں بھول گئی جو میں نے شک کا بیج ان لوگوں کے دماغ میں بو دیا تھا ۔۔۔

میں اس دن بہت اشتعال میں آ گیا تھا جس روز مجھے تمہاری طرف سے خوش ہوں میں موصول ہوئی تھی ۔میرا دل چاہا میں تمہیں اسی وقت آگ لگا کے اس دنیا سے تمہارے ماں باپ کی طرح رخصت کردوں مگر پھر میں نے پوری پلاننگ کے تحت بساط بچھائی اور جیسا میں نے چاہا تم انجانے میں ویسا ہی کرتی چلی گئی اور آج دیکھ لو تم قیصر میرے سامنے دن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہو ۔۔۔۔۔”

نہ تم یہاں آتی ہے اور نہ ہی تمہارا یہ حال ہوتا ۔۔۔”

اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں تھا اس وقت تو تمہارا تھا تم آئی اور خود ہی میرے لئے کھودے ہوئے گڈھے میں گر گئی ۔۔۔

اور تم جانتی ہو تمہارے وہ نقلی ابا اور بھائی کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

کک۔ ۔۔۔۔۔۔کیا کیا ہے تم نے ان کے ساتھ بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ ہذیانی انداز میں کہتی نہ جانے خود میں کیسے اتنی ہمت پیدا کر گئی تھی کہ تھوڑا سا اٹھ بیٹھی اور حماد صاحب کو پیروں سے جھنجوڑ ڈالا ۔۔۔

وہیں جہاں تمہاری اماں اور بھائی بابا موجود ہیں وہیں وہ دونوں بھی ان کے ساتھ مل کے شام کی چائے آسمانوں میں نوش فرما رہے ہونگے ۔۔۔۔

تت۔ ۔۔تم۔ ۔۔۔۔نے ا۔ ۔۔انکو بھ۔ ۔۔۔ی۔ ۔۔۔؟؟؟

مم۔ ۔مگر ولیمے والے دن تو میری انسے بات ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

۔وہ جیسے خود سے گویا ہوئی۔۔

بجا فرمایا تمہاری بات ہوئی تھی بالکل ہوئی تھی ان دونوں سے مگر میرے آدمی کے سامنے ہوئی تھی اور وہی بس آخری سانس تھی جو ان دونوں نے تمہارے فون آنے اور بند کرنے تک لی۔۔۔”

وہ اپنی بات کہہ کہ فجر کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا جبکہ فجر کا تو جیسے وجود میں سے ساراخون سمٹ کے چہرے پہ آگیا ۔۔۔۔۔

ان دونوں معصوموں کا کیا قصور تھا ان کو کیوں تم نے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟

وہ جیسے آب خود چاہتی تھی کہ اس کی زندگی کا چراغ بجھ جائے اس کے جان سے عزیز بس وہی تو دو رشتے تھے جو اس نے وہ بھی ختم کرڈالے ۔۔۔۔

“مت بھولو جب تک تمہاری خدا نے رسی دراز کر رکھی ہے ۔جب تک تم خوب عیاشی کرو۔ فرعون کی طرح زندگی گزارو مگر یاد رکھنا ۔جس دن میرے اللہ نے تمہاری رسی کو کھیںچا اس دن تمہارا حال اس فرعون سے بھی بدتر ہوگا جو آج عبرت کا نشانہ بنا پوری دنیا کے سامنے ہے۔ ۔۔۔”

وہ چیخی تھی اپنی پوری طاقت صرف کرکہ۔ وہ اپنی بات آخر کار کہ ہی گئی تھی ۔جبکہ اس چھوٹی سی بات کو کہنے میں فجر کی جان آدھی سے زیادہ نکل چکی تھی ۔۔

رسی جل گئی مگر تیرے ابھی تک بل نہیں گئے ۔۔”