Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 15 (Part 1)
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 15 (Part 1)
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
او میرے پیارے بابا آپ نے تو آج میرے پسند کا ناشتہ بنایا ہے۔۔۔۔
وہ خاگینہ اور کلچے کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
بہت شوق سے کھایا کرتی تھی ۔۔ ۔
وہ تنویر کے ہاتھ کا بنا ہوا خاگینہ۔۔۔
ہاں مگر یہ میں نے نہیں زید نے خاص طور پر اپنی چہیتی لاڈلی بہن کے لئے بنایا ہے ۔۔
کیا بات ہے زید تو بہت کام کا ہو گیا ہے۔۔۔۔
وہ مزے سے کلچے کو توڑ کر خاگینے کا نوالا بناتے ہوئے کھانے لگی ساتھ ساتھ باتیں بھی جاری تھی ۔۔
ہو گیا ہوں سےکیامرادہے میں پہلے ھی سے ہونہار بچہ ہوں۔۔۔۔
وہ چائے گا مگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔
بابا میں ایک بات کہوں۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں بیٹا کہو۔۔۔۔!!
پہلے وعدہ کریں آپ ضرور مانیں گے۔۔۔۔۔
وہ وعدہ پر زور دیتے ہوئے بولی ۔ ۔۔۔۔
وعدہ پکا وعدہ۔۔۔۔!!
آپ کہو جلدی سے میرا بچہ ۔۔۔۔
بابا میں نے کچھ عرصے پہلے 1 اخبار میں آئی ویکینسی کو دیکھ کر اس کمپنی کو اپنا سی وی بھیجا تھا ۔۔۔۔
اس نے اٹک اٹک کرتمہید باندھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
ہاں تو پھر کیا نتائج سامنے آئے ؟؟؟؟
تنویر صاحب سمجھ رہے تھے کہ وہ کیا کہنے والی ہے!! مگر پھر بھی اس کا حوصلہ بڑھانے کے لئے بات کو طول دینے لگے۔۔۔۔
مجھے کل اس کمپنی نے اپائنٹ کیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کر سکی تھی ۔۔
بیٹا کیا کرنا جاب کرکے؟ ؟
تمہیں کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے ۔۔۔۔!!
کیوں خود کو خوامخواہ ہلکان کر رہی ہوں ؟؟
بے شک بابا واقعی کسی چیز کی کمی نہیں ہے بس مجھے خود کو تھوڑا مصروف رکھنا ہے ۔۔۔۔
آپ تو جانتے ہیں نہ میرا یہ شوق بھی چند ہی دنوں میں ہوا ہو جائے گا۔۔۔
پلیز بابا اجازت دے دینا ۔۔۔
تنویر صاحب سمجھ رہے تھے وہ اس وقت اپنے خوف پر جلد از جلد قابو پانا چاہ رہی ہے اس لیے خود کو کسی نہ کسی کام میں بری طرح الجھانے کی تگ و دو میں ہے ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے مگر کل پہلے میں تمہارے ساتھ چل کے آفس کا ماحول دیکھوں گا۔۔۔۔
اس کے بعد ہی کچھ فیصلہ کر سکوں گا۔۔۔۔۔
شکریہ بابا۔۔۔۔
بہت بہت شکریہ۔۔۔۔
ایسے کیسے شکریہ بابا؟؟
ا گریہ نہیں ہوگی تو ریحانہ سے کھانا کون پکوائے گا؟؟؟؟؟
وہ بہت دیر سے خاموش ہوں دونوں کی باتیں سن رہا تھا آخر میں ایکدم بول پڑا ۔۔۔۔۔۔
زید کونئی فکر لاحق ہوئی تھی۔۔۔۔
دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور زید کو ہنستے ہوئے زوردار دھماکا جڑا تھا فجر نے ۔۔۔۔
ڈرائیور نے چوکیدار سے مین گیٹ کھلوا کر گاڑی کو کار پوچھ میں کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ خود گھوم کر مؤدب ہوکر دور کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
سلام صاحب ۔۔۔!!!
چوکیدار جھٹ سے بھاگتا ہوا ہوا آیا مصطفی کو گاڑی سے اترتا دیکھ کر ۔۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔!!
دروازہ کھولو اندر سے ۔۔۔۔
مصطفی نے سلام کا جواب ہاتھ کے اشارے سے دیا اور حکم صادر کیا ۔۔۔۔
جی صاحب ۔۔۔
چوکیدار بھاگتا ہوا جلدی سے گھر کے اندر کا دروازہ کھل وانے دوڑا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔
چوکیدار اس کا حکم ملتے ہیں جھٹ سے گھر سے باہر چلا گیا اور مین گیٹ پر جاکر واپس اپنی ڈیوٹی سنبھال لی ۔۔۔۔
صاحب پانی ۔۔۔۔!!
گھر کا ملازم دوڑتا ہوا اس کے لئے صاف ستھرے کانچ کے گلاس میں پانی بھر کر لایا ۔۔۔۔
رکھ دو ٹیبل پر ابھی پیتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہیڈ اتار کے احتیاط سے ڈائننگ ٹیبل کے اوپر رکھتے ہوئے بولا جبکہ کوٹ ابھی تک اس نے پہن رکھا تھا ۔۔۔
سرآپ چینج کر کے آ جائیے !!!میں کھانا لگا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔
اب کے کچن سے خانسامہ نمودار ہوا تھا اور نظریں جھکائے مصطفی سے مخاطب تھا ۔۔۔۔
اس کی پرسنالیٹی ہی ایسی تھی کہ ہر وقت سب کو اپنے روب میں جکڑے رکھتی خاص کر جب وہ گھر میں ہوتا پورا گھر آدم الرٹ رہا کرتا تھا ۔۔۔
نہیں میں یونیفارم چینج نہیں کر رہا ابھی دو گھنٹے بعد میری دوبارہ فلائٹ ہے اور کھانا گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
ویسے تو یہ بات تمہیں بتانے والی نہیں ہے مگر پھر بھی آخری دفعہ بتا رہا ہوں کے فلائٹ سے پہلے میں کھانا نہیں کھاتا ۔۔۔
اسکا لہجہ نہ چاہتے ہوئے سختی لئے ہوئے تھا۔ ۔
وہ اب اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرکے کوٹ سائٹ پہ ترتیب سے رکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
وہ کچھ پرسکون سا ہو کر صوفے پہ گرنے کے انداز میں نیم راز ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی اس نے آنکھیں بند ہی کی تھی کہ موبائل فون کی اسکرین پہ جگمگاتا نمبر رحمان صاحب کے گھر کا تھا اس نے جھٹ ایس کا بٹن دبا کے کالر رسیوکی ۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو ؟؟؟
دوسری طرف فون پہ سمیرا موجود تھی ۔۔۔
جی ما می میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ؟؟؟
میں بھی خیریت سے ہو۔۔۔
تمہیں دعوت دینے کے لئے فون کیا تھا ۔۔۔
اچھا خیریت ؟؟؟
دیکھو مجھے پتا ہے تمہارے لئے یہاں آنا مشکل ہو گا مگر آج رات میں شفا اور حمزہ کا نکاح ہے ۔۔۔
اگر تم تھوڑا سا ٹائم نکال کے آ سکو تو ضرور آجانا ۔۔۔
مامی میں پوری کوشش کروں گا آنے کی مگر وعدہ نہیں کرسکتا ۔۔۔
وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا جو ابھی دوپہر کا ایک بجا رہی تھی ۔۔۔۔
میں ابھی لائبہ کو فون ہی کرنے والا تھا بس ابھی ہی گھر آیا تھا ۔۔۔
وہ ابھی پہنچی نہیں ہے آج رات تک پہنچ جائے گی مسئلہ سارا یہ ہوا ہے کہ کل عمر کو سیٹ نہیں مل سکی تھی۔۔۔
جس کی بنا پر عمر نے بائ روڈ آنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔
اری لڑکی دیکھ کے دیکھ کر گر جا ئے گی نیچے سرف کاپانی گرا ہوا ہے ۔۔۔
سمیر یکدم چلائ تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا مامی سب خیریت تو ہے نا ۔۔۔؟؟؟؟
دھڑام سے سوہا محترم زمین بوس ہو چکی تھی ۔۔۔
بہت اچھا بات نہیں ہونا چاہیے دیکھ کرنہیں چلتی۔۔۔
کہا بھی تھا میں نے تمہیں کے نیچے صرف کا پانی پڑا ہوا ہے ۔۔۔
سمیرا فون پر بات کرتے ہوئے ہی غصہ ہوئ تھیں جبکہ سوہا زمین پہ گری پڑی تھی۔ ۔۔۔
زمین بوس ہوئی صوہا اب زور زور سے رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔۔۔آ
مامی سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟
وہ پریشانی سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
ہاں بیٹا سب خیریت ہے یہاں بہت اچھا ہوا ہے جو بھی ہوا ہے ۔
۔وہ دانت پیستے ہوئے سوہا کو دیکھ رہی تھی ۔۔
بیٹا تم آنے کی کوشش کرنا ۔۔۔
میں زرا اس بن پانی کی تڑپتی مچھلی کو اٹھاؤں آنکھیں تو لگتا ہے جیسے ادھار دے آئی ہے کسی کو۔۔۔۔۔۔۔
کتنی دفع کہا ہے دیکھ کے چلا کرو۔ ۔۔۔
فرش پہ دیکھ کے چلنا تو سیکھا ہی نہیں ہے!! آپ آنکھیں ہر وقت آسمانوں پہ ہی پائی جاتی ہیں ۔۔۔
۔
ٹھیک ہے مامی پھر بات ہوتی ہے ۔۔۔۔
فون رکھے وہ بھی ساختہ ہنسنے لگاتھا ۔۔۔
سلی گرل۔ ۔۔۔
آہستہ سے بڑبڑایا ۔۔۔
آپ کی مسز کی حالت سیڑھیوں گرنے کی وجہ سے کافی بگڑ چکی ہے۔۔۔۔
ہمیں فوری طور پر ان کا آپریشن کرنا ہوگا نہیں تو آپ کی وائف کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر نے اپنے روم سے عائشہ کا معائنہ کرنے کے بعد باہر آ کر اطلاع دی ۔۔۔
ٹھیک ہے آپ لوگ جو بہتر سمجھتے ہیں وہ کیجیے جلدازجلد۔۔۔۔۔۔!!!!
غزل نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا تھا ۔۔
جبکہ داود کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کی حالت میں نہ تھا ۔۔۔
اس کی نظروں میں بار بار بس عائشہ کا درد سے تڑپ کا وجود گھوم رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے ہم لوگ تیاری کر رہے ہیں جب تک آپ لوگ باقی کی فارم لیڈیز پوری کریں . ۔۔۔
ڈاکٹر تیزی سے کہہ کر جا بھی چکی تھی واپس عائشہ کے پاس ۔۔۔۔
سر آپ میرے ساتھ آئیے !!!!
نرس نےداود کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
جبکہ غزل روتی ہوئی اپنی ساس کے پاس جا بیٹھی ان کو تسلی دینے کے ساتھ ساتھ عائشہ کے گھر بھی فون کر کے اس نے اس نازک ترین صورتحال کے بارے میں بتایا۔ ۔۔۔
میں ان پیپر پر سائن نہیں کرسکتا ۔۔!!!
داود نہ لرزتے ہاتھوں سے پیپر کو پڑھ لینے کے بعد واپس ریسیپشن کے کاؤنٹر پر رکھا تھا۔۔۔۔
سر آپ جتنی جلدی ان پر سائن کریں گے اتنی جلدی ہی آپ کی مسز کا آپریشن شروع ہو سکے گا ۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔!!!اسنےدل پہ پتھر رکھ کے ایک فیصلہ کیا ۔۔۔
داود نے اس کے بعد ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اس پیپر کے اس خانہ کے اندردستخط کئے ۔۔۔
جہاں لکھا تھا کہ آپ ماں اور بچے میں سے کسی ایک کی ہی زندگی کو بچا سکتے ہیں۔۔۔۔
تو وہ کس کی زندگی ہو گی جس کو آپ بچانہ چاہینگے؟ ؟!؟۔
میرا رب بہت غفور الرحیم ہے اگر میری قسمت میں یہ اولاد ہے تو مجھے ضرور ملے گی ۔۔
لیکن میں اس وقت جب میری محبت مجھسے قربانی طلب کررہی ہے۔ ۔
میں اس کڑے امتحان میں صرف اور صرف اپنی بیوی کی زندگی چاہوں گا۔۔۔۔
اولاد تو اور بھی ہوجائے گی مگر آئشہ ۔۔۔۔!!!!
ٹھیک ہے سر۔۔
آپ نے اچھی طرح سوچ سمجھ کے ان پیپرز پہ سائن کیا ہے نہ؟؟؟
کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ آپ کی ہونے والی اولاد بیٹا ہے ؟؟
میں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔۔
میں اپنے فیصلوں پر صرف ایک دفعہ ہی نظرثانی کرتا ہوں عمل کرنے کے بعد ہرگز اپنا فیصلہ نہیں بدلا کرتا ۔۔۔
یہ کہہ کر داود وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
میں اپنے بھتیجے سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔!!!
وہ ائمہ کے گھر میں ڈرائنگروم میں برجمان تھا ۔۔۔
بابا کے کر ختگی سے پوچھنے پر رحمان نے بتایا کسی بھی قسم کی تمہید کا سہارا لئے بغیر اسنے جھٹ اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ۔۔۔۔۔
تم ہوتے کون ہو میرے بیٹے کو اپنے بھتیجے کا نام دینے والے ۔؟؟؟
ماں کے بتانے پر ائمہ کسی زخمی شیرنی کی طرح ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تھی۔ ۔
السلام علیکم۔۔۔!!
رحمان اس کو دیکھ کر معدب سہ ہوکر کھڑا ہو ا تھا۔ ۔۔۔
اور ادب سے اسکو سلام کرنے لگا ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔!!
آپ جس طرح آئے ہیں اسی طرح واپس چلے جائیں ۔۔
آئمہ کا لہجہ چٹانوں کی سی سختی لئے ہوئے تھا !!ہر قسم کے لحاظ اور مروت سے عاری ۔
دیکھیے پلیز آپ مجھے ایک دفعہ میرے بھتیجے سے ملنے دیجئے ۔۔
اپنے بھائی سے پہلے اچھی طرح سے معلومات حاصل کرلو کہ آیا یہ تمہارا بھتیجا ہے بھی یا نہیں؟؟؟؟
تمھارے بھائی نے اس بات سے 2سال پہلے ہی انکار کردیا ہے ۔۔۔
وہ بےخوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیخ نے کے انداز میں بولی تھی ۔۔۔۔
بھابھی میں بھائی کے بتانے پر ہی یہاں آیا ہوں۔ ۔۔
انکے کہنے کی وجہ سے ہی صرف چند گھنٹوں کے لیے اس کو لے کے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
چند گھنٹے میں چند سیکنڈ کے لئے بھی اپنا بیٹا اس شخص کی نظروں کے سامنے نہ پھٹکنے دوں ۔۔۔
میں اس شخص کا سایہ اپنے معصوم بچے پہ زندگی بھر نہیں پڑھنے دوں گی۔۔۔۔
یہ تمہاری سوچ ہے کہ وہ گھٹیا آدمی میرے بچے کو دیکھ بھی سکے گا ۔۔۔۔
اور اس شخص نے یہ سوچا بھی کیسے کہ وہ میرے بیٹے پر اپنی ناپاک پرچھائی بھی ڈال سکے گا ۔۔۔؟؟؟؟
وہ ۔۔۔۔۔ایک انتہائی اوباش اور ناپاک آسان ہے ۔۔۔۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اب اپنے آنسوؤں کو گالوں پہ لڑھکنے سے نہ روک سکی تھی ۔۔۔
انکل آپ ہی انہیں یہ سمجھآئیں پلیز! !؛
میرا بھائی آخری سانسیں لے رہا ہے وہ صرف اور صرف اپنے بیٹے کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔
اس کی روح صرف اپنے بیٹے اور۔۔۔۔۔۔۔
بھابھی آپ کی صرف ایک معافی کے بیچ اٹکی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
پلیز پلیز خبردار۔ ۔ ۔ ۔۔
جو مجھے اس شخص سے وابستہ کسی بھی رشتے سے پکارا ۔۔۔۔۔
جاؤ کہہ دو اس سے معاف کیا معاف کیا میں نے اس کو ۔۔۔۔۔
میں نے جلال کو معاف کیا میرے خدا نے اس کو معاف کیا ۔۔۔۔۔
مگر میرا بیٹا اس شخص کی شکل نہیں دیکھے گا نہ آج نہ کل نہ کبھی ۔۔۔
یہ کہہ کر آئمہ وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔۔۔
سوری مگر ہم کوشش کے باوجود کچھ نہیں کرسکے۔!
ڈاکٹر نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔
ایسا کیسے ممکن ہے؟ ؟؟؟؟
