Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 31
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 31
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
آنگوٹھےکو دوسرے ہاتھ میں سختی سے بھینچ کہ بولا تھا۔ کیونکہ کافی گہرا کٹ لگا تھا۔۔۔
کیا ہوا وہ جو بڑے مزے سے شیلف پہ چڑھی بیٹھی بے فکری سے پیر ہلا رہی تھی ۔یک لخت اس کو تکلیف میں دیکھ کر شیلف سے کو دی۔۔
کچھ نہیں معمولی سا کٹ لگا ہے۔۔
وہ لب بھینچ کے بولا ۔
یہ معمولی سا کاٹ ہے؟؟
اس کو آپ معمولی سا کہتے ہیں ؟؟؟
خون ٹپ ٹپ فرش پہ گر رہا تھا۔ وہ پریشانی سے پر لہجے میں گویا ہوئی ۔بے حواسی اس کے چہرے پہ رقم تھی ۔مصطفی اس کے ہاتھوں کی واضح لرزش کو محسوس کر سکتا تھا ۔انکھوں میں خوف وحراس کی تحریریں بہت واضح تھیں۔
یہ۔۔۔ یہ ۔۔۔؟؟؟
وہ کبھی اس کے ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی سفید ماربل کے فرش پہ بہتے لہو کو ۔۔
مگر یہ کیا ۔۔؟؟!
چند ہی لمحوں میں وہ خود ہوش و خرد سے بیگانہ ہوئی اس کی بانہوں میں جھول گئی تھی ۔
او مائی گڈنیس۔۔۔!!!
مجھے مرہم لگانے چلی تھیں محترمہ اور خود ذرا سی چوٹ سے نکلتا لہو برداشت نہ کرسکی اور خود دماغ کے سیل کو معائوف کر کے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوبیٹھی ۔۔
سرپھری لڑکی ۔۔۔!!!
وہ اس کو کچن سے اپنے بازوں میں بھرکر لاؤنج میں رکھے دبیزصوفے پہ لٹاتے ہوئے بڑبڑایا جبکہ
گھنی سیاہ تراشی ہوئی مونچھوں تلے لب بہت دلکشی سے مسکرائے تھے۔۔۔
“بہت بچپنا ہے تم میں”۔۔
نہ جانے کب بڑھی ہوگی ؟؟؟
مصطفی کہاں دل لگا بیٹھا ہےتو توبہ۔ ۔۔۔۔۔۔!!!
بہت پاپڑ بیلنے ہوں گے اس لڑکی کو بڑا کرنے اور عقل دلانے کے لئے ۔۔۔۔!!
مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی وہ کھسیا کہ سر پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا ۔۔۔
سوہا کے صبیح چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے وہ بے خود سہ اسی کو سوچے چلا گیا ۔۔۔
اب وہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اس کے گلنار چہرے پہ چھڑکتا اس کو ہوش کی دنیا میں لانے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔
مم۔ ۔مصطفٰی۔۔۔۔۔۔!!!!
وہ ہلکی ہلکی سی ہوش میں آ تےہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اسی کو پکار رہی تھی۔
چہرے پہ ابھی بھی مصطفی کی ذات کو لے کر فکر اور پریشانی کا عنصر موجود تھا جب کہ گھنیری شہد رنگ پلکیں اب ہلکی ہلکی لرزش کے ساتھ وا ہورہی تھیں۔ ۔۔۔
کتنا خوبصورت منظر تھا مصطفی کیلئے کہ کوئی اس کے لیے اس قدر فکر مند تھا ۔۔۔۔!!
اس کی تکلیف سوہا کی برداشت سے باہر ہوئی اور وہ خود ہوش و خرد سے بیگانہ ہو بیٹھی تھی۔۔
اک انوکھا سہ بہت خوبصورت احساس مصطفعی کو اندر تک راحت پخش گیاتھا۔
شکر اللہ کا کہ تمہیں ہوش تو آیا ۔۔۔!
وہ اس کےشفاف بے داغ چہرے پہ پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے گہری سانس بھر کے بولا۔ چہرے پہ یکایک اطمینان کے سائے پھیلے تھے ۔۔۔
اتنا نازک دل ہے تمہاراکہ ذرا سہ خون تک برداشت نہیں کرسکتی ہو ؟؟؟
ویسے تو بڑی آفت کی پرکالا بنی گھومتی ہو ۔ !!!!
وہ اس کے سر کو اپنے ایک ہاتھ سے تھوڑا اونچا اٹھا کے پانی کا گلاس اس کے احمریں لبوں سے لگاتا گھمبیر اور بھاری لہجے میں گویا تھا ۔۔۔
آ۔۔آپ۔۔۔۔۔!!
آپ ٹھیک تو ہے نا ؟؟؟
آپ کی چوٹ کیسی ہے ؟؟
اب تو خون نہیں نکل رہا نا؟ ؟؟
کئی سوالات کی بوچھاڑ ایک ہی ساتھ کی گئ ۔
وہ حواس باختہ سی لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی اور سسکتے ہوئےاس کے سینے سے جا لگی تھی ۔۔۔۔
ریلیکس سو ہا میں ٹھیک ہوں۔۔۔!!
وہ نا چاہتے ہوئے بھی کچھ جہجکتے ہوئے اس کی پشت کو سہلاکر دلاسہ دینے لگا۔ ۔۔
اس کے پر حدت لمس کو محسوس کرکے وہ یکدم جھینپ کہ اس سے فاصلے پہ ہوئی تھی ۔۔۔
خفت و حیاءسے اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
مصطفی بہت اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا اس کے گریز کو۔۔۔
وہ نازک کمسن چھوٹی سی لڑکی کہاں اس جیسے کسرتی ڈیل ڈول کے مالک لحیم شحیم مرد کی آنچ دیتی قربت کوجھیل سکتی تھی۔۔۔!!!
وہ تو مصطفی کے آگے ایک بہت ہی نازک سی کانچ کی گڑیا کی مانند تھی جو زرہ برابر بھی بے احتیاطی سے چھونے سے ٹوٹ جاتی ۔۔۔!
وہ بیان کرنے سے قاصر تھا کہ وہ اس کیلئے کیا ہے۔ ۔
جو لفظوں میں بیاں ہونا ناممکن تھا ۔
“میں اب بالکل ٹھیک ہوں مگر تمہارا دل تو بالکل چڑیا جیسا ہے ۔۔۔”
وہ اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگاتا ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کی غرض سے اپنی عادت کے برخلاف اس کو چھیڑنے اور تنگ کرنے لگا ۔۔۔
کافی حد تک وہ سوہا کی خفت مٹانے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ ۔۔
وہ اب انتہائی فکر مندی سے اس کے مضبوط و بھاری ہاتھ کو ٹٹولتے ہوئے زخم کی نوعیت کو کسے ماہر ڈاکٹر کی طرح جانچ رہی تھی ۔۔۔۔
اگر آپ ٹھیک ہیں تو لائیں میرے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائیں ۔۔۔!!!
معصومیت سے پر انداز میں خواہش ظاہر کی گئی تھی ۔مصطفی نے اس کے چہرے کو اپنی آنکھوں کے حصار میں لیا تھا ۔
نشیلی کانچ جیسی آنکھیں جن پہ شہد رنگ گھنیری پلکوں کی جھالر ،سفید میدے کی مانند چہرے پہ گھلتی ھوئی لہو رنگ سرخی ،گلابی پنکھڑی جیسے خمدار لب اور اس پہ تضاد ہونٹ کے نیچے ننہ مگر گہرا تل، ستواں چھوٹی سی سرخ ناک جو رونے کی وجہ سے مزید سرخ ہو چکی تھی ۔ دلکش تراشہ نازک و حسین سراپہ!! تمام تر حشر سامانیوں سے لبریزتھا ۔۔۔۔!!!
اور وہ خبر ۔۔۔!!
کافی دیر تک جب مصطفی نے اس کی بات پہ کوئی ردعمل نہ دیا تو خود سوہا نے انتہائی پریشانی اور فکرمندی سے اس کے مضبوط بھاری ہاتھ کو ٹٹول کر چوٹ کا مائنہ کرنے لگی ۔۔۔۔
اس کی ہر ہر انداز سے فکرمندی عیاں تھی ۔۔آنکھوں کے ڈورے سرخی لیے ہوئے تھے۔ جو اس بات کا غماز تھے کہ وہ ابھی بھی خود پہ بہت مشکل سے ضبط کے بندھ باندہ رھی ہے ورنہ اشکوں کو روکنا اس کے بس کی بات نہ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ مصطفی بے خود اور بے بس سہ ہو کے اس کو تکے جارہا تھا ۔کتنی پریشان تھی وہ اس کے لیے کس قدر معصومیت اور فکر مندی تھی اس وقت اس کے چہرے پہ۔ ۔۔۔
ایں۔۔۔۔!!!
میں آپ سے بات کر رہی ہوں اور آپ ہیں کہ مجھے سن نہیں رہے۔ وہ اب خائف سی ہو کہ اس کو ڈبٹتے ہوئے بولی تھی بڑی بوڑھیوں کی طرح۔
چند ہی لمحوں میں وہ اس کا کرتا (جووہ خود زیب تن کی ہوئی تھی)دانتوں سے پھاڑ کہ دامن والے حصے سے ایک لمبی سی چندھی پھاڑ کر الگ کر چکی تھی ۔۔۔
اور اب بڑے اطمینان سے وہی چندھی سے بنائی گئی پٹی کو اس کی ہتھیلی پہ لپیٹ کہ انگلی پہ باندھ چکی تھی ۔۔۔
مصطفی حیرت اور بے یقینی سے اس کو تک رہا تھا ۔۔۔۔
میں نے یہ تو سنا تھا کہ ہیروئن نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کے ہیرو کے زخم کی مرمت کی مگر یہ پہلی دفعہ دیکھ رہا ہو کے اپنا دامن وہ بھی ہیروں سے ادھار لیے گئے کرتے کا !!کتنے آرام سے شہید کر کے ہیرو کے ہی ہاتھ پہ ہی لپیٹ دیا ۔۔۔۔
وہ خود کو ہیرو اور اس کو ہیروئن کی تشبیہہ دیتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے ہنسنے لگا ۔۔وہ بہت کم ہنستا تھا مگر سوہا نے شاید اس کو ہنسنا سکا دیا تھا ۔وہ لمحے بھر کو آ سکے ہنسی مذاق کرتے انداز کو دیکھتی رہی کتنا ڈیشنگ لگ رہا تھا وہ اس نئے لب و لہجے میں۔ ورنہ ہمیشہ چہرے پر کرختگی اور سختی ہی پائی جاتی تھی ۔۔۔۔
ُپلیز آپ اس وقت مذاق تو مت کریں میری وجہ سے آپ کا خوامخواہ میں ہاتھ زخمی ہو گیا۔ ۔
وہ خائف ہوکر گھبرائے ہوئے لہجے میں پشیمانی سے بولی ۔۔۔
مصطفی کا دل چاہا تھا کہ اس کو زور سے خود میں بھینچ لے اور کبھی بھی اپنے حساب سے نکلنے نہ دے ۔۔۔
ہاہ ۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔ فی الحال ناممکن ۔۔۔!!
ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا اور بےبس سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
ارے مصطفی بھائی کہاں جا رہی ہیں ؟؟؟
وہ دوستانہ لہجے میں اس کے جذبات سے بے خبر فکرمند لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔
ناجانے کب اس “بھائی “کے دم چھلنے سے میری جان چھوٹے گی۔ ؟؟؟
دھیمے سےبڑبڑاھٹ ہوئ ،مسکراتے لب کلس کے سکڑے تھے۔
بھنویں اک دفعہ پھر تن گئیں تھیں ۔کچھ دیر پہلے والا خوشگوار موڈ دوبارہ کہیں دور جا سویا تھا ۔۔۔
تو واپس وہیں مصطفی بن چکا تھا ۔۔۔۔
وہ واپس سخت گیر اور حاکم مزاج بن بیٹھا تھا ۔ ۔۔۔!!
کہیں نہیں تمہیں بھوک لگی ہے نہ۔ ؟؟
میں ناشتہ لے کر آتا ہوں بنا کر تمہارے لِئے۔ ۔
وہ بغیر اس سے نظریں ملائے بھاری لہجے میں کہتا کچن کی طرف بڑھنے لگا ۔۔
نہیں آپ رہنے دیں میں بنا لیتی ہوں اور اب تو ویسے بھی دوپہر کا وقت ہو رہا ہے میں کھانا ہی بنا لوں گی دوپہر کے لیے ۔۔
وہ لاپروائی سے کہتی یہ بھول چکی تھی کہ مصطفی کے سامنے اس نے یہی ظاہر کیا ہے کہ وہ کچن کا کوئی کام نہیں جانتی ۔۔۔۔
مطلب ؟؟؟
وہ چونک کر پلٹا تھا تیوریاں چڑھآئے وہ اس سے استفسار کر رہا تھا۔ لہجے میں حیرت کے ساتھ ساتھ تیکھا پن بھی تھا۔ ۔
اوپسسسسس۔ ۔۔۔!!!
مارے گئے ۔۔۔!!!
وہ یکدم گڑبڑائی تھی چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑا تھا۔۔ جب کہ زبان دانتوں تلے د ب چکی تھی ۔۔۔
دھت تیری کی۔۔۔۔!!
” سوہا تو اپنے ہی کھودے گئے کھڈے میں خود گرنے کی تدابیر کر ڈالی ہے۔۔۔۔۔”
وہ بری طرح سٹپٹائی تھی۔ ۔
جب اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو اب پھر چوٹ سے کیسا ڈر ؟؟!
مصطفی کی خشمگیں آواز سوہا کو لرزا گئی تھی ۔۔۔
تم اندر چلو بیوقوفوں والی حرکت مت کرو ۔۔۔
نہیں عمر پلیز آپ مجھے کسی یتیم خانے چھوڑ آئیں۔ ۔۔۔
میں گھر میں داخل ہونے کی خود میں سکت پیدا نہیں کر پا رہی ۔۔۔۔
پاگلوں والی باتیں مت کرو قدم بڑھاؤ اندر چلو۔۔۔۔
وہ ہلکے ھلکے بول رہا تھا کہ کہیں کوئی اس وقت بہار نہ آجائے بیدار ہوکے۔
لائبہ کی اجڑی بکھری حالت اس کے ساتھ ہوئی زیادتی کا چیخ چیخ کر پتہ دے رہی تھی۔
وہ دونوں اس وقت گھر کے اندر کھلنے والے داخلی دروازے پر کھڑے تھے۔۔
رات کے دو بجے کا وقت تھا۔۔
وہ جان کر اس کو لے کر دیر سے گھر پہنچا تھا تاکہ گھر کے سبہی افراد اپنے اپنے کمروں میں جاچکے ہوں جب تک وہ دونوں گھر پہنچیں اور اب تو خیر سے خاصی دیر بھی ہو گئی تھی گھر کے سبہی افراد 12بجے تک سو جایا کرتے تھے اور جونہی بھی سو تھا وہ بھی اپنے کمرے میں بند ہو چکا ہوتا ۔۔۔
آئمہ کے کئی دفعہ آئے فون پر وہ کہہ چکا تھا کہ لائبہ کی دوست نے کھانے پر روک لیا تھا اور بارش ہونے کی وجہ سے آنے نہ دیا ۔۔۔
جیسے ہی موسم کچھ صاف ہوا وہ دونوں فوری گھر کے لئے نکلے ہیں ۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ آئمہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر اس نے اپنی بات کہہ کے جھٹ فون بند کر دیا تھا اور دوسرے لمحے ہی گھر کے ایک وفادار ملازم کو فون کرکے کہہ دیا تھا کہ ساڑھے گیارہ یا پھر پونے بارہ کے قریب وہ جاکر رحمان صاحب کے بیڈروم میں کہہ دے کہ عمر صاحب لائبہ بی بی کو چھوڑ گئے ہیں اور وہ اپنے بیڈ روم میں آرام کر رہی ہیں اور لائبہ بی بی نے آپ سب سے صبح ملنے کا کہا ہےوہ بہت تھک چکیں ہیں اور سونا چاہتی ہیں۔ ۔ ۔۔۔
اور اگر میرے کے بارے میں کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ وہ واپس کہیں کام سے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔
عمر نے لائبہ کو بچانے کے لیے تمام تر تدبیریں کر ڈالی تھی ۔۔۔
ملازم سے بھی اس نے اسطرح بات کی تھی کہ وہ بھی کسی قسم کے شک و شبہہ میں پڑھے بغیر اس کا کام کرنے کی ہامی بھر گیا تھا ۔۔۔
عمر نے اس سے اسطرح بات کی تھی کہ جیسے وہ لائبہ کو ابھی ابھی گھر چھوڑ کے گیا ہو اور خود واپس چلا گیا تھا کسی بہت ضروری کام سے۔ ۔
وہ گھر میں سب کو سوتا دیکھ کر کسی کو بھی جگانے کے بجائے اسکو فون کرکے بتاکر واپس جاچکا تھا۔ ۔۔
“عمر آپ میری بات سمجھئیےپلیز” ۔۔
یہ وہ سچ ہے جو میں دونوں ممانیوں کی جہاندیدہ نظروں سے زیادہ دیر تک نہیں چھپا سکتی “۔۔
وہ بے بسی سے بولی جبکہ آنکھیں مسلسل گریہ وزاری پہ تلی ہوئی تھی ۔۔۔
“کچھ بھی نہیں ہوگا میں ہوں نہ تمہارے ساتھ”۔۔۔
” میں تمہیں ہر قیمت پہ کسی رکھوالے کی طرح ہر مشکل سے بچا لوں گا” ۔۔
“
“ایک دفعہ دیر کر چکا ہوں مگر اب اپنی جان پہ کھیل جاؤں گا مگر کبھی تم تک پہنچنے میں دیری نہیں کروں گا ۔۔۔۔”
“یہ میرا تم سے وعدہ ہے “۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خود اعتمادی سے کہتا ۔اس کو اپنی وفاؤں کا یقین دلارہا تھا۔ یکدم لائبہ اس کو اپنی عمر سے کئی زیادہ بڑی لگی تھی ۔کتنی کم سن تھی وہ کل تک۔ ۔۔۔۔۔!!
” اور آج وقت نے اس کو یکایک ہی کتنا بڑھا کر چھوڑا تھا ۔۔”۔۔۔
“مجھ پہ بھروسہ کرو میں تمہارے مجرم کو تمہارے سامنے لاؤں گا۔ پھر تم جو سزا چاہو اس کو خود دینا کوئی تمہیں نہیں روکے گا “۔۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ اس شخص کو سوچتے ہو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا جس کو اس نے دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔
لائبہ نے سسکتے ہوئے اس عظیم شخص کو دیکھا تو جو اتنا سب ہو جانے کے باوجود بھی اس کے ساتھ کسی مضبوط اونچی بڑی چٹان کی طرح اس کا ساتھ رہا تھا ۔۔۔
مجھ پہ بھروسہ کرتی ہو نہ؟؟؟
وہ اس کو شانوں سے تھام کر اس کے سامنے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا کہ بولا تھا۔
آنکھیں منتظر تھیں۔ ۔۔۔۔وہ خود پر اس کا اعتماد چاھ رہا تھا۔ ۔۔۔
ا
لائبہ نے اپنا لرزتا کانپتا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمایا ۔۔۔۔۔۔۔
چلو اندر اور بے فکر رہومیں تمہیں تمہارے کمرے تک بحفاظت پہنچاؤں گا۔ ۔۔!!!
“کسی کی نظر تک تمہاری پرچھائی تک کو دیکھنا تو دور کی بات چھو تک نہیں سکے گی ۔۔”
وہ سرگوشی میں کہتا گھر کا دروازہ کھول کر احتیاط سے لاؤنج عبور کرتا اوپر پہلی منزل پہ اسکو اسکے کمرے تک پہنچا چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اس کے کمرے میں پہنچ کہ اچھی طرح اسکو پرسکون رہنے کی ہدایت کرکے پلٹا ہی تھا کہ۔ ۔
یہ سب کیا ھو رہا ہے ؟؟؟
کیا کر رہے ہو تم دونوں رات کے اس پہر تنہائی میں؟؟؟
صاحبزادہ تم کیوں لائبہ کے کمرے سے نکل رہے ہو اس وقت ؟؟؟؟؟
رحمان صاحب کی زناٹے دار آواز پورے گھر کے در و دیوار کو ہلا کے رکھ دی تھی ۔۔۔
کچھ دیر پہلے کوریڈور سے گزرتی فجر اب نہ جانے کہاں غائب ہو چکی تھی ؟؟؟
جبکہ اس کا سرخ دوپٹہ فرش پر پڑا تھا ۔۔
حماد صاحب ابھی حیرت کی زد میں تھے جب ان کی نظر دوپٹے سے تھوڑے فاصلے پہ فجر کی ٹوٹی لال ،سفید اور ہری چوڑیوں پہ پڑی تھی ۔۔
وہ ساکت و صامت سے رہ گئے تھے ۔۔
فجر۔۔۔۔!!
بیٹا کہاں ہو تم ؟؟؟؟
وہ اب باقاعدہ اس کو آواز یں دے رہے تھے۔۔
پریشانی ان کے لہجے سے عیاں تھی ۔۔
پورا وجود پسینے میں بری طرح نہا چکا تھا ۔۔۔
ابھی تو وہ ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزری تھی پھر اچانک سے وہ کہاں غائب ہو سکتی ہے ؟؟
کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟؟؟
غزل بوکھلا کے اپنے کمرے سے بھاگتی ہوئی حماد تک پہنچی تھی انکی فجر کو دیتی آوازیں سن کے۔ ۔۔
جبکہ حماد صاحب اب چوڑیاں اور دوپٹہ پہ ایک ووران نظر ڈالتے آگے بڑھ کے چھت پہ جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ چکے تھے اور مسلسل متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے فجر کو آواز دے رہے تھے ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں تم ابھی اسی وقت مان کے کمرے میں جاؤ اور دیکھو فجر ٹھیک ہے نہ۔۔۔؛؛
وہ بد ہواسی کے عالم میں چہرے پہ ہاتھ پھیر کر بولے تھے ۔۔
لہجہ ہر حد درجہ وحشت زدہ تھا ۔۔۔
اچھا آپ روم میں چلیں میں جاتی ہوں دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔!!
وہ زبردستی ان کا بازو پکڑ کر بولی تھی ۔۔۔
ایک منٹ میرے ساتھ چلو کوریڈور کی طرف ۔۔۔۔۔!
وہ غزل کو اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے تیز قدم بڑھاتے کوریڈور میں واپس پہنچے تھے۔۔۔۔
یہ دیکھو یہ کیا ہے ؟؟؟؟
کیا کیا ہے ؟؟؟
کیا دیکھوں؟ ؟
یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔!!
غزل کو صحیح معنوں میں حماد صاحب کو دیکھ کر تشویش نے آن گھیرا تھا۔ کچھ تو ایسا تھا جو وہ اس وقت عیاں نہیں کر پا رہے تھے۔ ۔۔
ابھی تو یہیں تھا سب۔ ۔۔۔۔!
کیا سب کیا کہہ ر ہیں آپ کھل کر کہیں ۔۔
غزل نے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر کہیں بھی کچھ ایسا نہ تھا جس کی وجہ سے حماد صاحب اس وقت اس قدر سراسیمہ نظر آ رہے تھے ۔۔۔
نہیں تم جاؤ ۔۔
کچھ نہیں بس ویسے ہی اور مان کے روم میں فجر کو دیکھو۔۔۔۔
وہ ٹھیک تو ہے ؟؟؟
لہجے میں پریشانی رقم تھی۔۔
فکرمندی تھی فجر کو لے کہ جبکہ غزل جلدی سے اپنے مزاجی خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بیٹے کی کمرے کا طرف رخ کر گئی تھی ۔۔۔
جی آنٹی سب خیریت ہے ؟!؟
وہ شدید نیند میں جھومتی سوتے سے اٹھ کر آئی تھی۔۔
ایک سے دو دفعہ ناککرنے کے بعد فجر نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
نہیں سب خیریت ہے وہ بس یہ پوچھنا تھا کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے کسی کی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟
غزل گڑبڑاکر بولی تھی ۔کچھ بن بھی تو نہیں پڑ رہا تھا۔
کیا مقصد بیان کرتی وہ اس وقت آپ نے آنے کا ۔۔؟؟
نہیں اماں جان میرے پاس سب کچھ ہے۔۔
اگر آپ کو کوئی کام تھا تو کہیں پلیز۔ ۔!!
وہ اباسی لیتے ہوئے نیند بھگانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔
نہیں بیٹا بس تم سو جاؤ اور معذرت تمہیں پریشان کیا ۔۔
کوئی بات نہیں۔۔
وہ مسکرا کر بولی تھی ۔
اچھا چلو بیٹا اب تم بھی جاؤ آرام کرو شب بخیر۔۔۔
کیا ہوا فجر ٹھیک ہے ؟؟
فجر ٹھیک ٹھاک ہے ۔۔۔
اپنے کمرے میں ہے اور سو رہی ہے ۔۔۔
اب آپ بھی چلئے نہیں تو جاگتے رہنے سے صبح آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں ہے ۔۔۔
تو پھر وہ سب کیا تھا ۔۔؟؟؟؟
ٹوٹی چوڑیاں۔۔
لال دوپٹہ ۔۔۔!!!
وہ مائوف ہوتے دماغ کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے سوچ رہے تھے ۔۔
قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔۔
وہ جلدی جلدی کچن میں کھڑی حمزہ کے اٹھنے سے پہلے تمام کام نمٹاکے اس کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی۔۔۔
تاکہ خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کر سکے ۔
دس بج چکےتھے مگر حمزہ ابھی تک اٹھا نہیں تھا ورنہ عموماً وہ 9 بجے تک اپنے بیڈ روم سے باہر آ جایا کرتا تھا ۔
جبکہ شفا صبح فجر کے وقت صحیح اٹھ کر جلدی جلدی سب کام نمٹانے لگتی تھی۔۔
وہ ناشتہ ٹیبل پہ لگا کہ کچن ٹاول سے اپنے دونوں ہاتھ خشک کرتی حمزہ کو جگانے بیڈروم کی طرف بڑھنے لگی تھی ۔۔
مگر حمزہ کو لاونج میں کیا آتا دیکھا کہ وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔۔۔
حمزہ نک سک سے تیار آفس جانے کے لئے بالکل ریڈی تھا۔۔
ارے آپ اٹھ گئے۔۔۔
میں تو آپ کو ہی اٹھانے آ رہی تھی۔۔
ناشتہ بالکل تیار ہے۔
وہ حمزہ کے اکھڑے اکھڑے چہرے اور تاثرات کو جانچے بغیر بول رہی تھی ۔۔۔
آئندہ تمہیں آج کے بعد یہ زحمت نہیں کرنی پڑے گی ۔۔
میں تمہیں ط۔!!!۔
کہتے کہتے نہ جانے کیوں رک سا گیا تھا ۔۔
بے رخی سے کہتا شفا کو اپنے سامنے سے ہٹا کے دھکا دینے والے انداز میں صوفہ پہ گرا تا آگے بڑھ گیا تھا ۔۔۔
کیا ہوا مجھ حمزہ کیوں خائف ہیں؟ ؟؟
مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہےکیا؟ ؟؟
وہ حواس باختہ سی اس کے پیچھے بھاگی تھی ۔۔۔۔
