Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 15 (Part 2)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 15 (Part 2)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

میں چیخ چیخ کر سب کو بتاؤں گی تمہاری حقیقت،۔۔۔

کیا بتاؤ گی ؟۔؟۔

یہی کہ تم نے مجھے اپنی وائف کہا ہوٹل مینیجر کے سامنے اور مجھے جان بوجھ کر اس ویرانے میں لائے ہو ۔۔۔۔

میں ابھی تمہیں کوئی پچاس ہزار دفعہ بتا چکا ہوں کہ گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے ہم یہاں پھنس گئے ہیں اور کیا کہا تم نے کہ ہوٹل مینیجر کے سامنے میں نے تمہیں وائف کیوں کہا ؟؟؟؟

تو پھر تم ہی بتاؤ۔۔ یہ کہتا کہ ہم دونوں کزنز ہے سر اور ہمارے گھر میں سونے کیلئے جگہ نہیں ہے اس لئے ہمیں ایک رات گزارنے کے لئے ایک روم چاہیے ؟؟؟؟

عمر اب سہی معنوں میں چڑ گیا تھا ۔۔۔۔

نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو اور تم نیچے مجھے ایسی ویسی نظروں سے کیوں گھور رہے تھےاس وقت ؟؟؟؟؟ لائبہ کا دماغ الٹ چکا تھا ۔۔۔

تم دیکھنا میں ماموں کو پہنچتے ہی بتاؤں گی کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا ۔۔۔

کیا کیا میں نے تمہارے ساتھ تمہاری عزت لوٹی ہے یا پھر تمہیں پرپوزکردیا ؟؟؟؟عمرنے ترخ کر جواب دیا ۔۔۔

اور محترمہ زرا یہ آپ بتانا پسند کریں گی کہ ایسے ویسے کس طرح سے میں تمہیں دیکھ رہا تھا ؟؟؟عمر کی تیوری چڑھ چکی تھی ۔۔۔

تم مجھے ایسے دیکھ رہے تھے کہ جیسے بھوکا بریانی کو دیکھتا ہے ۔۔۔لائبہ کا بس نہیں چل رہا تھا عمر کا سر پھاڑ دے۔ ۔۔

تم تو وہ بریانی ہو جو عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر بٹتی ہے اور میں بریانی کھانا ویسے بہت پسند کرتا ہوں ۔۔

اور اس وقت تو مجھے بھوک بھی بہت لگی ہے ۔۔عمر کہتے کہ ساتھی چند قدم اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔

دیکھو میرے قریب مت آنا میں کراٹے بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔۔۔

وہ اس کو قریب آتا دیکھ کر باقاعدہ اپنے ہاتھوں کو کسی کراٹے ماسٹر کی طرح لہراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

میں نہیں ڈرتا تم چاہے مجھ پہ کراٹے آزماو یا پھر میرے ساتھ ریسلنگ کرو۔ ۔۔

میں تو بس اتنا جانتا ہوں میں تم یہ کمرہ اور تنہائی ۔۔۔۔۔۔

وہ قدم بقدم اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

دیکھو اگر تم نے مجھے چھونے کی کوششیں بھی کی نا ۔۔۔۔

تو تمہارے ساتھ وہ ہوگا جو تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا ۔۔۔

وہ چیئر پر چڑھتے ہوئے بولی ۔۔۔

کیوں کیا تمہارے اندربجلی بھری ھے انگ انگ میں؟ ؟؟

کہ میں تمہیں چھو لوں گا تو واقعی مر ہی جاؤں گا ؟؟؟؟؟

ویسے آپس کی بات ہے یہ رات اور یہ تنہائی ۔۔۔۔

ویسے اب مجھ سے یہ دوری مزید برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔۔

وہ اس کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا اور اس کی کلائی کو اپنی گرفت میں لے کر کرسی سے نیچے اتار کر اس کو معنی خیزی سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

بس سوچو اگر میں تمہارے ساتھ وہ سب کچھ کر جاؤں جو اس وقت تم سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔؟؟؟

میں صرف تم ہیں امیجن کرنے کو کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔

وہ اسکی خوف زدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا جو اس وقت شدید خوف کے زیر اثر لرز رہی تھیں۔ ۔۔

آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں نہ؟ !!!

قطعی نہیں۔ ۔۔

کوئی پاگل ہی ہوگا جو رات کے اس پہر اتنی خوبصورت اور نازک لڑکی سے مذاق کرے گا ۔۔۔۔۔۔

وہ اب اس کی کلائی تھامے تھامے ہی کمرے کے پردے برابر کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔

۔ ۔۔۔چلو جلدی میرے پاس فضول وقت نہیں ہے کہ میں تمہارے یہ چو نچلے برداشت کر سکوں۔۔۔۔۔!!!

وہ شہر کی مشہور پالر کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے شفاء سے مخاطب ہوا ۔۔

ماتھے کی تیوریاں ہنوز چڑھی ہوئی تھیں ۔۔

مجھے نہیں اترنا گاڑی سے اور نہ ہی مجھے مہندی وہندی لگوانی ہے۔ ۔۔۔

اور رہی چونچلوں کی بات تو یہ سب آپ کی خود کی منشاء پہ ہو رہاہے ۔۔۔

وہ بھی اسی کی طرح تلخی سے پر لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔۔

میں تو سمجھا تھا کہ اب تک تمہارا دماغ ٹھکانے پر آ چکا ہوگا۔۔۔۔۔

رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے ۔۔۔

صابت ہوا ہو تو تم رحمان چغتائی کی ہی بیٹی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں یہ کیوں بھول جاتا ہوں ہر دفعہ ۔۔۔!؟؟؟

جیسا باپ ویسی ہی بیٹی بھی نکلے گی نہ ۔۔۔!!!!

ہنہہہہہہ۔ ۔۔۔۔!!!!

اس نے ہنکارہ بھرا۔۔۔۔۔

مائنڈ اٹ مسٹر ۔۔۔۔۔

میرے سامنے میرے باپ کا نام اس انداز میں اب دوبارہ مت لینا۔ ۔۔۔

وہ اب پوری طرح سے عاجز آچکی تھی حمزہ کی باتوں اور اس کے دل کو چیرتے روئیوں سے ۔۔۔

خیر یہ انداز اور رویہ تو اب بدقسمتی سےمیرا تمہاری قسمت اور زندگی میں لکھ دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔

وہ برہم ہوا ۔۔

مجھے واپس گھر جا ناہے ۔۔۔۔۔

ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔!!!

مجھے تمہارے لیے کسی بھی قسم کے ہارسنگا ہار کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔

میں ہرگز بھی ایسے شخص کے لیے نہیں سجونگی جس نے میری عزت کے پرخچے اڑا کے رکھ دئے ہوں۔ ۔

کچھ نہ کرکے بھی میں قصور وار ٹہری ہو ۔۔۔

صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ۔۔۔

حمزہ میں تمہیں ایک بات بہت صاف لفظوں میں واضح کررہی ہوں آج۔ ۔۔

کبھی زندگی میں اگر ۔۔۔

کبھی جو تمہیں میرے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا احساس ہوا۔۔

تو یاد رکھنا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔

ویسے تو مجھے امید پوری ہے کہ تمہیں کبھی بھی اپنی زیادتیوں کا احساس تو کیا ۔۔۔

خیال بھی نہیں آئے گا ۔۔۔۔!!!

کیا کیا تم نے میرے ساتھ نہیں کیا؟ ؟؟

میرے ماتھے پہ وہ داغ تم نے لگایا ہے جو شاید زندگی بھر بھی میں چاھ کر مٹا نہ سکو ں ۔۔۔۔

وہ بے بسی سے بولی تھی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی اس کی ۔۔۔

سوچ لو اندر جا رہی ہو یا نہیں ویسے میرا گھر تیار ہوچکا ہے ایک دم مکمل ۔۔۔۔

اگر یہی ضر رہی تو واپس رحمان صاحب کے دولت کدہ میں لے جانے کے بجائے ابھی قاضی سے دو بول پروا کرسیدا وہی لے جاؤں گا ۔۔۔

وہ ایسے بولا تھا جیسے ابھی شفا نے جو کہا وہ اس نے سنا ہی نہ ہو ۔۔۔

اس کی نظروں میں نظر ڈال کر غرایا ۔۔۔

جو کر سکتے ہو کرلو میں اب خود کو ہر چیز کے لئے مکمل طور پر تیار کر چکی ہوں۔۔۔۔

یا چلو ایک کام کرو ۔۔۔۔

وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنی صراحی دار گردن پہ رکھ کر بولی۔۔۔۔۔

یہ رہی میری گردن اس کو دبا کر میرا گلا گھونٹ دو تاکہ ایک ہی دفعہ میرا قصہ ختم ہوجائے نہ رہے گا بانس نہ رہے گی بانسری وہ جنونی ہو رہی تھی ۔۔

اس کی نحیف سی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرنے کے بعد حمزہ نے بغیر اس کی طرف دیکھے ۔۔۔۔

اتنی جلدی بھی کیا ہے تمہیں اپنی جان گنوانے کی؟؟؟

ابھی ذرا تمہارے اس دلکش تراشے ہوئے سراپہ سے میں تو اچھی طرح مستفید ہو جاؤ ں۔ ۔۔۔

بہت اچھی طرح جانتی ہوں تم جیسے ہوس کے مارے شخص کو جو بدلے کی آڑ میں میرے جسم سے کھیلنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔

وہ چنگھاڑی تھی پورا وجود اس کا لرز رہا تھا ۔۔

صحیح کہا تم نے ۔۔۔۔!!!

میرے ہر خیالات کا عالم تو تمہیں پہلے سے ہی ہے تو پھر چلو آؤ میں اب تمہارے ان نادر خیالات کو سچائی اور حقیقت کی مہر لگا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔

اس نےشدید غصہ میں آکرگاڑی سٹارٹ کی تھی۔۔۔۔۔

وہ رونے میں مشغول یہ بھی نہ دیکھ سکی تھی کہ گاڑی کس سمت رواں دواں ہے ۔۔۔۔

ایک جھٹکے سے گاڑی رکی تھی اور اس نے دوسری طرف سے گھوم کر گاڑی کا دروازہ دھاڑ سے کھولا تھا ۔۔۔۔۔۔

یہ کہاں لے کر آئے ہو مجھے ؟؟؟

وہ کانچ کی طرح چمچماتے بالکل زیرو میٹر 600 گز کےگھر کو دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

خوف سے اس کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا ۔۔۔۔

خاموش اب ایک الفاظ نہیں۔۔۔۔

یہ تمہاری خواہش تھی نہ ؟؟؟؟

اب بھگتو۔ ۔۔!!

وہ اس کو اپنی جارحانہ گرفت میں لے کر بازوؤں میں اٹھا چکا تھا ۔۔۔

مین گیٹ چوکیدار سے بند کرنے کا اشارہ کرکے وہ اب داخلی دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے اور تاروں نیچے۔ ۔۔

مجھے یہ کہاں لے کر آئے ہو تم ۔۔۔؟؟؟؟

وہ بری طرح اس کے چوڑے سینے پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے کھنے لگی۔۔۔۔۔۔

” اپنے گھر “۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

وہ اس کو لیے لیے ایک بیڈروم کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔