Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 39

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 39

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

ہیلو ۔۔۔”

پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان جلدی سے کہا گیا ۔۔

مصطفی کا ہی فون تھا اس نے موبائل سکرین پر اسکا نمبر جگمگاتا دیکھ جھٹ سے کال ریسیو کی۔۔۔۔

ارے ارے نہ سلام نہ دعا بس سر جھاڑ منہ پھاڑ ہیلو۔۔۔ ۔ ۔ !

دوسری طرف سے خوب عزت افزائی کی گئی ۔۔

السلام علیکم!!

کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔؟

زبان دانتوں تلے دبا کے کہا گیا ۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ !

بالکل ٹھیک بس اپنی ایک کولیگ کے ساتھ ابھی لنچ کرکے فارغ ہوا ہوں ۔۔۔”

وہ اپنی پرزوردے کے بولا ۔۔

اوکے اللہ حافظ ۔۔۔۔!

وہ تپ ہی تو گئی تھی ۔۔

کیسے مزے سے وہ کسی اور کے ساتھ لنچ سے لطف اندوز ہو کے بیٹھا تھا ۔۔۔؟؟

غصے میں کھٹ سے کال ڈسٹرکٹ کی گئی ۔۔۔

دو سے تین بار فون بچا تھا مگر وہ ہر بار کاٹتی رہی تنگ آکے مصطفی نے ٹیکس کیا۔۔

اگر فون نہیں اٹھایا تو اس کے بعد دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرنا ۔”

دھمکی کارگر ثابت ہوئی ۔۔۔۔

جھٹ سے فون ریسیو کیا ۔۔۔

جی فرما ئیں ویسے میں آپ کی بات تفصیل سے سن چکی ہوں اور اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ آپ انتہائی دل پھینک ہو ۔۔۔!!

لہجہ پھاڑ کھانے والا تھا ۔۔

اوہو یار اتنا سستا مذاق ۔۔۔!!

وہ کچھ اس انداز میں بولا تھا کہ سوہا مزید تب گئی ۔۔

ویسے کوئی مشکل تھوڑی ہے پہلی تم سے کر لونگا شادی ۔۔

دوسری اپنی کولیگ سے ۔۔

اس طرح تم کو ہی فائدہ ہوگا۔۔

تم اس سے اپنے سب کام کروانا ۔

حکم چلانا اور میں اور تم خوب گھوما پھرا کریں گے ۔۔۔۔

کیسا لگا تمہیں میرا آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہوا ۔۔۔؟؟؟

ٹھر کی حضرات دوسری شادی پر ایسے زور دیتے ہیں جیسے دوسری شادی اجازت نہیں بلکہ ان پر فرض قرار دی گئی ہو ۔۔۔!!

ھونہہ۔ ۔۔

ّوہ کونسا کم تھی پورا طیارہ تھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اس کو بہت اچھی طرح آتا تھا ۔۔۔

یار میں تو مذاق کر رہا تھا تم تو ایسے ہی چڑھ گئی۔۔۔۔۔۔

آپ اب قسمیں کھائیں یا زہر۔۔۔۔۔۔

ائی ڈونٹ کیئر ۔۔

ارے ارےلڑکی بات تو سنو۔ ۔۔۔۔۔۔۔”

میں اب جارہی ہوں ۔۔۔!

آپ کے ساتھ دل لگانے سے بہتر تھا کہ میں ۔۔۔۔۔

اس کا جملہ منہ میں رہ گیا ۔۔۔

جب رحمان صاحب آیمہ اور سمیرا کے ساتھ اس کے بیڈروم میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔

سوہانے جلد بازی میں موبائل بیڈ کے اوپر پھینکا تھا یہ دیکھے بغیر کہ وہ بند ہے یا نہیں۔۔۔

کال ابھی تک جاری تھی ۔۔۔

سمیرا نے ایک بے بس سی نظر اپنی لاڈلی چہیتی بیٹی کے کھلتے چہرے پر ڈالی اوراس کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔۔۔

جب کہ ائمہ اور رحمان صاحب صوفے پر برجمان ہوچکے تھے ۔۔۔

کوئی کام تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا ۔ ۔ مین آجاتی ۔۔۔

وہ تھوڑا گھبرا کہ بولی تھی ۔۔

جبکہ سمیرا کی نظر سوہا کے فون پر پڑی تھی جہاں مصطفی ابھی بھی کال پہ ہی موجود تھا سمیرا سب کچھ بھانپ گئی چند ہی لمحوں میں ۔۔۔

ہاں بیٹا وہ ہم آپ سے کچھ اہم بات کرنے آئے ہیں ۔۔

وہ جان کر زور سے بولی۔ ۔۔

دوسری طرف مصطفی جو کہ فون رکھنے والا تھا یکدم سمیرا کی کہی بات پہ رکا تھا ۔۔۔

بیٹا میں نے آپ کا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔

رحمان صاحب نے بات کا آغاز کیا سمیرا نے نہ محسوس انداز میں فون کا رخ رحمان صاحب کی سمت کیا تھا تاکہ مصطفی ہر ایک بات بآسانی سن سکے ۔۔۔

پوچھو گی نہیں کس سے۔۔۔؟

آئمہ نے بھی محبت سے پوچھا تھا جبکہ سوہا کا چہرہ گلنار ہوا ۔۔۔

وہ یہی سمجھی تھی کہ پھپو کا دیا گیا پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا گیا ہے ۔۔۔

دوسری طرف مصطفی بھی خوشی سے جھوم اٹھا

تمہارے پاپا کے دوست ہیں بہت پرانے ان کے بیٹے خزیمہ سے تمہارا رشتہ پکا ہو چکا ہے ۔۔۔

سمیرا نے جلدی سے بولا تھا مبادا کہیں مصطفی فون ہی نہ بند کر دے ۔۔۔۔

سوہا کا نام کسی اور سے جڑتا سن کے مصطفی کیے دماغ کی رگیں تنگ گئی تھی۔۔۔۔

بمھٹیاں سختی سے بھینچی تھی۔

بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکو دنیا کی نظروں سے چھپا کے لے جائے ۔۔۔۔۔

15 دن بعد لائبہ اور عمر کے ولیمے کے دن ہیں تمہاری رخصتی خزیمہ کے ساتھ طے پائی ہے ۔۔۔۔۔

وہ واپس فجر کو حویلی لے کر آ گیا تھا رات ہونے کی وجہ سے کسی سے بھی ملنا مناسب نہیں سمجھا اور دونوں اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔

تم بہت خاموش ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ؟؟مانی اس کا سر اپنی گود میں رکھ کے سرسہلا رہا تھا ۔۔

وہ بس خاموش ر ہی جیسے کسی بہت گہری سوچ میں ہو۔۔۔

نہیں میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے بس کچھ دل عجیب سا ہو رہا ہے،

تم نہیں جانتی ہو آج میں کتنا خوش ہوں ۔

یہ جان کر کے تم وہی ہو میری زندگی میری گڑیا ۔

لہجے میں خوشی کا واضع عنصر موجود تھا ۔۔۔

میں بھی بہت خوش ہوں یہ جان کر کہ آپ ہی میرے مان ہو۔

وہ کھوئی کوئے سے لہجے میں گویا کوئی مگر میں ایک بات نہیں سمجھ پا رہا ہوں ابھی تک کہ تم ہم سب کو کیوں نہیں پہچانیں ۔۔۔؟؟

کیا چار سے پانچ سال کی بچی لمبے عرصے بعد خود سے بچھڑے اپنوں کو پہچان سکتی ہے ۔۔؟؟؟

دھیرے سے کہا گیا ۔۔۔

میں بس حویلی جا کہ جیسے ایک دفعہ پھر سےجی اٹھی تھی حویلی کا ایک ایک حصہ جیسے مجھے جھنجوڑ گیا تھا اندر تک ۔۔۔

میں اب سمجھا۔۔۔

تمہارا میری زندگی میں آنا ۔۔

آگ سے خوف زدہ ہونا ۔۔

حویلی جانے کی ضد لگانا ۔۔۔

یہ سب یوں ہی تو نہیں تھا ۔ ۔۔۔!!!

مطلب ۔۔۔۔۔؟؟؟

آ۔ ۔۔۔آپ۔۔ککک۔ ۔۔۔۔ کیا کہنا چاہتے ؟؟؟؟

ہیں ۔۔۔؟؟

وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔

تو کیا اس نے اپنے ہی ہاتھوں سےسب برباد کردیا تھا ۔۔۔۔۔؟؟

تو کیا اتنے عرصے کی محنت پر پانی پھر چکا تھا۔۔۔۔؟؟؟

۔۔۔۔

یہ کس طرح ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟

وہ کس طرح سے کسی اور کی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔؟

سوہا صرف اور صرف میری ہے۔۔۔۔۔۔”

وہ کسی اور کی ہرگز نہیں ہوسکتی۔ ۔۔۔۔”

سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ ۔۔۔۔”

میں اسکو کسی اور کا ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔”۔

ناممکن۔ ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ فلائٹ پہ تھا کراچی سے کینیڈا کی فلائٹ تھی اس کی ۔

مگر دل تھا کہ کسی طور سکون نہیں لینے دے رہا تھا ۔

سو ہاسے جدائی کا سوچ سوچ کہ اس کا دماغ شل ہو چکا تھا ۔

کئی دفعہ اس کے کو پائلٹ ولی نے اس کو ٹوکا تھا کہ ۔۔۔۔

“سرآپ سگنلز کو فالو نہیں کررہے ٹھیک سے “۔۔

اور وہ تھا کہ بس ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا ۔۔۔

کل رات امی اور بابا آ جائیں گے۔۔

میں بس پھر اس معاملے کو سمجھاتا ہوں۔

وہ بار بار صرف اور صرف خود کو کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر کے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔

اپنے تئیں وہ کئی دفعہ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

آج عمر اور لائبہ کی شادی کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا دونوں کے درمیان دوستی کا خوبصورت رشتہ آہستہ آہستہ پروان چڑھاتا۔۔

وہ اس کو کافی حد تک سنبھال چکا تھا۔۔

لائبہ سنبھل چکی تھی ۔

آہستہ آہستہ بھول رہی تھی خود کے ساتھ ہوئی زیادتی کو ۔۔

اس میں بہت بڑا ہاتھ صرف اور صرف عمر کا تھا جو اس کو کسی مہرباں کی طرح ہر قدم قدم پر تھامنے کو تیار کھڑا ملتا تھا ۔۔

کل سے وہ بہت خوش تھی جب اس کو پتا چلا تھا کہ پندرہ دن کے بعد ان دونوں کے ولیمے کی تقریب منعقد کی گئی ہے۔

اس کا دل اندر تک پرسکون ہو گیا تھا اس نے بہت چپکے سے عمر کو اپنے دل کا مالک بنا ڈالا تھا ۔۔

دل نے عمر کے حق میں خود بہ خود فیصلہ دے ڈالا جبکہ لائبہ نے ولیمے کی رات اپنا تن من دھن سب کچھ عمرکو سونپنے کاخود سے عہد کیا تھا ۔۔۔۔

وہ بہت مطمئن تھی۔۔

خوش خوش رہنے لگی تھی ۔۔

پہلے کی طرح اب خوب شرارتیں کرتی پورا گھر اسکی کھلکھلاہٹوں اور شرارتوں سے گونجتا رہتا ۔۔۔۔

عمر نے ایک روز جب وہ دونوں فجر کی نماز کے بعد صبح کی ٹھنڈی ہوا اپنے اندر اتارنے کی غرض سے گھر سے تھوڑا فاصلے پر موجود پارک میں چلے آئے تھے۔۔۔۔

لائبہ اب اس کو خوب تنگ بھی کرتی ۔اس کے ساتھ ہنستی بولتی ۔۔۔

وہ بہت شرارتیں کرتی عمر کی ناک میں دم کرکے رکھ دیاکرتی۔۔۔۔

خوش رہتی ایک دفعہ پھر سے جینے لگی تھی ۔۔۔

شاید صرف اور صرف عمر کے لیے ۔۔۔

عمر اس کی زندگی کا واحد مقصد تھا جس کی وجہ سے اس کی سانسیں چل رہی تھی ۔۔۔

دھڑکنوں کی رفتار ایک دفعہ پھر سے اپنے معمول پہ آئی تھی ماند پڑتے پڑتے ۔۔۔۔

عمر کیا میں آپ سے ایک بات کہہ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

پلیز اگر کوئی ڈھنگ کی بات کرنا چاہتی ہو تو کرو ورنہ تمہارا یہ خوبصورت چہرہ بولنے سے پہلے بہت دلکش لگتا ہے مگر جیسے ہی تم بولنے پہ کمر کستی ہو تو پوری چنڈالن لگتی ہو ۔۔۔

وہ تیز تیز وہ چلتےہوئے بول رہا تھا جبکہ لائبہ اتنا تیز” بھاگنے “سے بری طرح ہانپ رہی تھی پھر بھی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی قدموں کی رفتار میں ۔۔۔

“اب تو جیسی بھی ہو آپ کی ہی ہو ں !!چاہے تو جان کہئے یا پھر وبال ِجان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“Who care”….

لائبہ لاپروائی سے ایک ادائے دلربا نہ سے شانے اچکا کہ کہتی کھلکھلا کے ہنسی تھی ۔

عمر نے اس کو مڑ کے دیکھا تھا جو اس کے کچھ فاصلے پر چل رہی تھی ۔اس کے ایک دم پلٹ کے رکنے سے وہ اس کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔

“ا وہ عمر آپ تو کوئی لوہے کا کھمبا ہیں شاید!! اتنی بری طرح سے میری پیشانی پر لگی ہے آپ سے ٹکرانے کی وجہ سے کہ بیاں تک نہیں کرپارہی۔ ۔۔۔۔” اففففففف۔ ۔۔۔۔!!

وہ اپنا سر تھام کے جاگنگ ٹریک سے ہٹ کے گراس پہ جا کے بیٹھ چکی تھی دھڑام سے ۔۔۔

“ہاں اتنی زور سے لگی ہے کہ خون کی ندیاں بہنے لگ گئی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔”

میں تو جیسے کوئی چٹان ہونا !!جس سے ٹکرانے سے تم اپنی یاداشت کھو بیٹھو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔”

عمر نے بجائے ہمدردی جتانے کے لائبہ کو مزید جلا ڈالا ۔۔

بجائے میری چوٹ پہ مرہم لگانے کے آپ نمک چھڑک رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ بار بار پیشانی کو ایسے چھو رہی تھی جیسے پیشانی پھٹنے کا خدشہ ہو ۔۔

اگر آپ کا محبوب آپ کو محبت دے ۔۔

آپ کی فکر کرے تو آپ ایسے ہی ہو جاتے ہیں مغرور، نخرے دکھانے لگتے ہیں !!مگر صرف اور صرف خودکو چاہنے والوں کو ،جان نچھاور کرنے والوں کو ۔۔۔۔”

اور شاید ٹوٹکے محبت دینے والے کو ۔۔۔”

لائبہ کے ساتھ کےبھی قسمت نےاگر ظلم کیا تھا تو اللہ نے اس کے صبرکا پھل اور عمر کو ایک مہربان کی طرح لائبہ کوسنبھالنے پر ایک دوسرے کے دل میں محبت ڈالی تھی۔ ۔۔۔

ایک دوسرے کا ساتھ عطا کیا تھا اور بے شک وہ اگر ایک در بند کرتا ہے تو کئی در کھول بھی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔

“اللہ تعالی کے ہاں دیر ہے اندھیر نہی”۔۔۔

بس یہ ہم انسان ہی ہے جو اس کی مصالحت کو سمجھ نہیں پاتے۔۔

بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پہ ہے ۔۔۔۔”

ہمممممم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!

صحیح کہا ۔۔۔۔

چلو ایک کام کرو یہ دل تم رکھ لو ویسے بھی اسے ہر دم تمہاری ہی فکر ستاتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”

صبح کے وقت پارک میں اکا دکا لوگ ہی تھے عمر نے ایک نظر اردگردپہ ڈالی تھی اور پھر بہت محبت سے لائبہ کے روٹھے روٹھے چہرے کو دیکھ کے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہنے لگا ۔۔۔۔

اور اگر اس کے بعد بھی میری وفاؤں کا یقین نہ آیا تمہیں تو بے شک دل چیر کےدیکھ لینا صرف تمہارا ہی نام لکھا جگمگ کرتا نظر آئے گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔ “

ڈائیلاگس بہت اچھے ازبر ہیں آپ کو لگتا ہے کسی رائٹر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے آپ کا آج کل ۔۔۔۔”

وہ کھل کے مسکرائی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا روح اور وجود کو اندر تک پرسکون کر گئی تھی ۔۔

صبح کا سماں اعصاب پہ بہت اچھا اثر ڈال رہا تھا جبکہ چہچہاتے چرند پرندشاید ان دونوں کے لیے کوئی خوبصورت سی دھن پہ گنگنا رہے تھے ۔۔۔

ہا۔ ۔۔۔ !!

ظالم حسینہ جانتی بھی ہے کہ مجھے اوروں سے کیا لینا دینابھلا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟بڑبڑایا

مجھے تو صرف تم اور تمھارا محبت بھرا ساتھ چاہیے ۔۔۔۔۔ ۔

وہ جیسے اقرار چاہتا تھا۔۔۔۔۔

میرے لیے محبت میں شدت معنی نہیں رکھتی عمر!! بلکہ میرے نزدیک محبت میں عزت معنی رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔”

“جو آپ نے مجھے دی ہے ۔۔۔”

کیا خوبصورت انداز تھا اقرار کا ۔۔۔کتنی خوبصورتی سے اس نے اپنی بات کہہ ڈالی تھی۔۔

عمر جیسے فدا ہو گیا تھا۔۔

حیا کے اندر لپٹی شرمگیں لہجے میں ادا ہوئی چھوٹی سی بات اپنے اندر بہت گہرے معنی رکھتی تھی ۔۔۔

لائبہ کا یہ انداز عمر کو اندر تک شاداں کر گیا تھا ۔۔

اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے میری تمام تر کوششوں میں کامیاب کیا ۔۔۔۔۔۔”

وہ دل ہی دل میں خدا کا شکر بجا لایا تھا ۔۔

صحیح کہا تم نے بالکل ۔۔”

تمہاری بات سے اتفاق کرتا ہوں میں اور بے شک محبت کرنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا مگر محبت کو سنبھالنا انسان کہ اختیار میں ضرور ہوتا ہے ۔۔۔۔”

مائی لیڈی۔ ۔۔۔”

بس عمر اب میں مزید بھوکی نہیں رہ سکتی مجھے شدید بھوک لگی ہے اور پیاس بھی۔۔۔۔”

وہ ہاتھ جھاڑ کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔

عمر آہستہ آہستہ پٹری سے اتر رہا تھا۔۔۔۔ عمر کی محبت بری باتوں سے وہ کانوں کی لو ہ تک سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔

ٹھیک ہے جو حکم آپ کا ۔۔۔”

ہم تو آپ کے احکام پہ سر تسلیم خم کرنے والے خادموں سے میں سے ہیں ۔۔”

انداز شاعرانہ ہوا۔ ۔۔

یار خود تو تم دھان پان سی ہو آرام سے اٹھ گئیں۔

۔۔۔” مجھے بھی تو اٹھاؤ نہ۔ ۔۔”

آپ کو اٹھانے کے لئے بلڈوزر منگوانا چاہیے میرے

ناتواں کندھے اس کو ہم کو کرنے سے انکاری ہیں۔۔۔۔۔ ۔ ۔ “

وہ اس کے اونچے لمبے ڈیل ڈول پہ چوٹ کرتے ہوئے مزے سے کہتی ہاتھ دے بیٹھی اسے۔۔۔۔۔

جیسے عمری کی ذات پہ احسان عظیم کر ڈالا ہو ۔۔۔

ظالم حسینہ ۔۔۔۔۔!

نہ دن میں ہتھے چڑھتی ہے اور نہ ہی رات کو۔۔۔۔۔” مغرب کے بعد تو لگتا ہے جیسے کوئی آسیب چمٹ جاتا ہے مجھے ۔۔۔۔”

جو تم مجھے دیکھ کہ ایسے فرار کے راستے ڈھونڈتی ہو جیسے میں اس تم چمٹ ہی جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ جان کے اونچا کہہ رہا تھا البتہ انداز بڑبڑاہٹ والا تھا ۔۔۔

لائبہ نے ایسے ظاہر کیا جیسے اس کے کانوں میں روئیاں ٹھو نسی ہوئی ہو ۔۔۔

عمر کی کہی ایک بات یا بربراہٹ اس کے گوش نہ گزری ہو ۔۔۔

پتہ ہے مجھے تم اوت تمہارے کان بہت تیز ہے مائکروفون فٹ ہوا وا ہے ان میں۔۔۔۔

مگر جس دن واقعی میں چمٹ گیا نہ تو پھر اپنی خیر منانا ۔۔۔۔۔۔۔۔”

میرا شمار تو اس جن میں ہوتا ہے جو ایک دفعہ چمٹ جائے تو پھر اپنی مرضی سے ہہی فاصلہ پہ ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔”

وہ خفا خفا سہ پھولے ہوئے منہ سے بولتا لائبہ کو بہت پیارا اور اپنا اپنا سا لگا ۔۔۔

میرا عقیدہ

میری عقیدت

میری چاہت

میری محبت

جو لفظ دیکھو تو ہزار ہے

اور اگر سمیٹ دو تو

صرف تم ۔۔۔

تہجد کےوقت آج وہ پہلی دفعہ اٹھی تھی ہمیشہ اس نے اپنے بڑوں سے ایک بات سنی تھی کہ اگر تہجد کے وقت اللہ تعالی سے جو بھی کچھ مانگا جاتا ہے وہ ضرور ملتا ہے ۔۔۔

اور آج تو پھر شب معراج تھی ایک گھنٹے کی نیند لے کر وہ اٹھ بیٹھی تھی سونے کا تو اس کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر مصطفی کو سوچتےسوچتے کب آنکھ لگ گئی کچھ خبر ہی نہ ہوئی۔ ایک گھنٹے بعد وہ ہڑبڑا کے بیٹھی تھی ۔۔۔

وضو بنایا اور فریش ہو کہ الماری میں سے نیا جوڑا نکال کے زیب تن کیا اور پھر جائے نماز فرش پہ بچھا کہ وہ عبادت میں مشغول ہو چکی تھی ۔۔۔

سلام پھیر کے یا” رحمان یا رحیم “کی تسبیح پڑھی اور پھر وہی سفید دانوں والی تسبیح لئے ھاتھوں کو جوڑ کہ ہتھیلیوں کا پیالہ بنائے وہ جائےنماز پہ بیٹھی سسک اٹھی تھی۔۔۔

ہلکے گلابی رنگ کے دوپٹے کو نماز کے انداز میں باندھے بہت کمزور مگر پر نورلگ رہی تھی۔

بھیگی پلکیں لیے وہ بس اپنے اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا رہی تھی ۔۔۔

اے میرے رب تمام جہانوں کے مالک !!میں تجھ سے تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتی ہو۔

میں اس قابل ہی نہیں کہ شکوا کروں۔ میں جانتی ہوں کہ اگر تو نے میرے دل میں مصطفی کے لیے محبت ڈالی ہے تو میرے مالک تیری اس میں بھی میرے لئے کوئی نہ کوئی بہتری ہو گی ۔۔۔

میں یہ نہیں کہوں گی تو مجھے میری محبت مصطفی کو دے دے ۔۔۔

میں جانتی ہوں تو نے جو میرے لئے فیصلہ کیا ہوگا وہ سب سے بہترین ہو گا اور میرے حق میں تیرے اس فیصلے میں بے شک بھلائی پوشیدہ ہے ۔۔۔۔

بس میرے اللہ میں تجھسے مصطفی کا ساتھ مانگتی ہوں ۔۔

“اگر جو تو میرے حق میں بہترھو “۔۔

سوہاکے زاروقطار بہتےاشک رخساروں کو بھگا رہے تھے۔ ۔ ۔۔۔ پلکوں کی باڑ توڑ توڑ کے دوپٹےمیں جذب ہونے لگے ۔۔۔

میں چاہوں بھی تو اپنے الفاظوں میں بیان نہ کر پاؤ میرے رب کہ کتنی محبت ہے مجھے مصطفی سے۔۔۔۔ ۔ “

آخر میں سجدے میں جا کہ گری تھی ۔۔۔۔۔

کتنے خوبصورت انداز میں اس نے اپنا فیصلہ اپنے خدا کے سپرد کر ڈالا تھا نہ شکری نہیں ہوئی تھی اپنے اللہ کے سامنے ۔۔۔۔۔۔

کوئی شکوہ نہیں کیا تھا ۔”

لبوں پہ ایک گزارش تھی کچھ اس طرح کہ۔۔۔

” میرے رب تو جو میرے حق میں بہتر سمجے” کتنا پیارا انداز تھا اس کا اپنے رب کے حضور فرمائش کرنے کا ۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے حمزہ جلال میں تمہاری ملکیت نہیں ہوں ۔۔۔۔”

نہ جانے کہاں سے اس میں اتنی طاقت اور ہمت آ گئی تھی کہ وہ اپنا آپ اسکی مضبوط گرفت سے کسی زخمی شیرنی کی طرح اسے چھڑوا گئی تھی ۔۔۔

حمزہ نء اس کے گلابی چہرے کو دیکھا تھا جو اس وقت شدید اشتعال سے مزید سرخ ہو چکا تھا۔۔۔

بیٹھو ادھر اور سکون سے تحمل کے ساتھ میری سنو! !

کچھ باتیں ہیں جو میں تم سے کرنا چاہتا ہوں میرے دل پہ بہت بوجھ بڑھ چکا ہے پلیز شفا میری بات سن لو۔۔۔

میں اندر ہی اندر بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہوں ۔۔”

وہ اس کو شانوں سے تھام کے بہت گھمبیر اور بکھرے بکھرے لہجے میں بولا تھا ۔۔

شفا لمحے کے لیے خاموش ہوئی تھی مگر وہ غصہ ابھی بھی اپنی جگہ برقرار تھا ۔۔۔

مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی ہے۔۔”

برائے مہربانی میرا رادتہ چھوڑیں اور مجھے جانے دیں ۔۔”

آپ کی عین نوازش ہوگی۔۔۔۔۔۔!!

مجھ پہ یہ بہت بڑا احسان ہوگا آپ کایہ۔ ۔۔۔۔”

تم جانتی ہو میں تمہارے بغیر جی نہیں سکتا ہوں پلیز شفا مجھ پہ ایک احسآن کر دو کہ میری عادت بدلنے تک میرے ساتھ رہ جاؤ ۔۔۔”

سائیڈ سے ہوکے نکلتی شفا کی ہتھیلی تھام کے کہا جبکہ رخ دونوں کا ہی ایک دوسرے کی سمت نہ تھا ۔۔۔۔

I’m sorry

I know I hurt you….

but, I really want you to know this ….

“i love you”……

I really really do…

معافی طلبکی گئی تھی ۔۔ساتھ ہی حال دِل۔ بھی کہ ڈالا ۔۔۔

یہ جو لمحہ ہوتا ہے نا جس میں تم ٹوٹ کر بکھر رہے ہوتےہو۔۔۔۔۔””

یہ صرف چند لمحوں کا کھیل ہوتا ہے اس کے بعد تم واپس اپنے اوپر خول چڑھا بیٹھتے ہو اور تمہیں پتا ہےتمہارےساتھ مسئلہ ہے کیا ۔۔۔؟؟؟

میں بتاتی ہو۔ ۔۔۔۔”

تم بے حس انسان ہو چکے ہوں دوسروں کے احساسات سمجھنے کی صلاحیت تم میں ناپید ہو کے رہ گئی ہے ۔۔۔”

وہ چلائی۔ ۔

اگر مجھے احساس نہ ہوتا تو کیا میں تمہارے سامنے کھڑا ہوتا۔۔۔؟؟؟

تمہارے پاس لوٹتا ۔۔۔۔؟؟؟

لہجہ کرب میں ڈوبہ۔ ۔۔

کہوں کیا کہنا چاہتے ۔۔؟؟

ہو پندرہ منٹ کا وقت ہے تمہارے پاس ۔۔!!

یہاں نہیں پلیز میں تم سے گھر میں کچھ بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔

میں کہیں اور تنہا گوشے میں جاکے تمہیں بہت کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔”

میں تمہارے ساتھ کسی تنہا گوشے میں جانا پسند نہیں کرتی اور نہ تمہارے ساتھ کہیں باہر جانے کی میری کوئی تمنا ہے ۔۔۔۔۔۔”

تمہارا ایک منٹ ختم ہو چکا ہے 14 منٹ ہے بس اب تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔”

ٹھیک ہے کیاہم ٹیرس میں چل کے سکون سے بات کر سکتے ہیں ۔۔؟؟؟

وہ شفا کے آگے چاروں شانے چت ہو چکا تھا ۔۔۔۔

وہ اٹھی تھی اور بغیر کچھ کہے ٹیرس میں موجودکرسی گھسیٹ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔

شفا ہماری شادی کی پہلی رات جو سب کچھ تم نے سمجھا اور جو سب کچھ میں نے تمہیں دکھایا وہ صرف اور صرف ایک ڈرامہ تھا۔۔۔۔

جو کہ تمہاری نظر کا فریب تھا۔

سچ وہ نہیں تھا جو سب تم سمجھیں۔ ۔۔”

کیا تھا سچ پھر۔ ۔۔”

لہجے میں سرد مہری واضح تھی شفا کے۔ ۔ ۔ ۔۔

میں نے تمہیں اس رات کونہیں چھوا تھا۔۔

اپنا حق استعمال کرتے ہوئے تمہارے بھیگے کپڑے ضرور تبدیل کروائے تھے ۔۔۔۔ “

پھر۔ ۔۔۔؟؟؟

روکھائ سےسوال ہوا تھا۔۔۔۔۔

اس رات میرا اور تمہارا کوئی ریلیشن نہیں بنا تھا وہ سب صرف اور صرف ایک ڈرامہ تھا تمہیں اپنی دسترس میں رکھنے کے لیے۔۔۔ ورنہ تم چلی جاتی مجھے چھوڑ کہ۔ ۔

میں نے تمہارا لباس ضرور بدلہ تھا کیونکہ اس رات بارش کی وجہ سے تم پوری بھیگی ہوئی تھیں اسلئے لباس تمہاری مرضی کے بغیر تبدیل کرنا میری مجبوری تھی ۔۔

پشیمان تھا۔ ۔۔۔۔۔

ہرف ہرف سچ کہہ رہاتھا۔ ۔۔۔

تم یقین نہیں کرو گی جب جب میں نے تمہیں تکلیف دینا چاہا تب تب میں نے خود کو بے بس پایا میں چاہ کر بھی تمہیں تکلیف نہیں دے سکتا تھا اور نہ کبھی تمہیں دکھ دینے کی سوچ دکتا ہوں۔ ۔۔۔

مجھے معاف کر دو میں تمہارے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ کو نرمی سے تھام کے معافی طلب کی گئی تھی ۔۔