Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 1)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 1)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

وہ سلیوز کے بٹن کھول کے کف چڑھاتا کوریڈور تک پہنچ چکا تھ۔۔۔۔۔

بغیر دستک دیے وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جا چکا تھا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عمر ابھی تک لائبہ کو لے کر نہیں پہنچا ہے۔

کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی بیڈروم کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹک کر وہیں دروازے پر تھم گیا تھا ۔۔۔

وہ کمرہ کہیں سے بھی کسی اینگل میں دیکھنے کےباوجود بھی عمر کا نہیں لگ رہا تھا ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری چوریاں اورجیولری ۔۔۔۔

بیڈ پہ رکھے کپڑے بلاشبہ عمر کے نہیں تھے۔ ۔۔

کڑھی ہوئی شموز سلک کی بلیک کرتی اور ٹراوزر۔ ۔۔۔!!!!

بیڈ کرائون کے اوپر بنے شیلف میں رکھی کئی ڈیڈی بئیرز، کینڈی ڈولز وغیرہ ۔۔۔

وہ چکرا کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔!!!

خاص کر اس کمرے کی تھیم جو کہ پنک اور وائٹ امتزاج کی تھی ۔۔۔

وہ صحیح معنوں میں اب الجھ رہا تھا ۔۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کمرہ کسی بچی کا ہے مگر ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری اشیاء اس کے خیال کو بالکل ہی غلط ثابت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

یہ عمر کا کمرہ نہیں ہے۔۔

مجھے یہاں سے فوری نکل جانا چاہیے ۔۔۔۔!!

وہ کہتے ہوئے واپس کمرے سے باہر جانے کے لئے پلٹ ہی رہا تھا جب ۔۔۔

سنو شنو(کام والی) جلدی سے ٹاول دے دو ۔۔۔

وہ ا بھی ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھول کے باہر جانے ہی والا تھا جب باتھ روم سے آتی آواز پر وہ چونک کر نا چاہتے ہوئے بھی وہیں گیا تھا ۔۔۔۔

کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے کے باوجود بھی اس کو شنو نامی کوئی وجود نظر نہ آیا ۔۔۔۔

چار و ناچار وہ وہ واپس پلٹا اور خاموشی سے آگے بڑھ کر بیڈ پہ رکھی ٹاول اٹھاکر واشروم کے دروازے کے باہر تھوڑے سے وا ہوئے دروازے سے جھانکتے نم بھیگے جگمگ کرتے نازک مرمری ہاتھ کو پکڑائی ۔۔۔۔۔۔

یہ لو واپس بھی تو پکڑ و۔۔۔لگتا ہے جیسے سب بھول بیٹھی ہو۔ ۔۔۔۔

سوہا نے ٹاول مستی میں باہر اچھالی جوکہ اسکے منہ پہ جاکہ سیدھا پیار بھری “پپی”” دے چکی تھی۔۔۔۔۔۔

واٹ دا ہیل ازدس۔۔۔۔!!!

وہ آہستہ دے بڑبڑایا. . . ۔۔۔۔۔

اس نے چہرے پہ سے گیلہ خاشبوئوں سے بسہ ٹاول واپس لے کر واش روم کے دروازے کے سامنے موجود استری اسٹینڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔

وہ میکانکی انداز میں ناچاہتے ہوئے بھی نہ جانے کس کشش کےسبب سب کچھ چپ چاپ سر انجام دےرہا تھا۔ ۔۔۔۔۔

شنو جلدی سے باڈی لوشن بھی تو دیدو پتاہے بھی ہے نہ کہ مجھے اپنی نرم و ملائم جلد کتنی۔عزیز ہے۔۔۔

کتنی سست اور موٹی ہوتی جارہی ہوتم ۔۔

میری طرح ڈائٹنگ شروع کردو اور ساتھ ہی کل سے میرے ساتھ ایکسرسائز بھی کرنا ۔۔۔

ڈیکھو صرف دو مہینہ اہکسرسائز کرنے سے میری کمر مزید 3 انچ کم ہوئی ہے. . ۔۔۔۔

خیر ۔۔۔ !!!!

توبہ یہ تو چھوتے سے پیکٹ میں بڑا بم ہے۔۔۔۔

اسنے کھسیہ کے سوچہ۔۔

امی کہاں پھنسہ رہی ہے یہ تو بولتی طوبی ہے۔۔۔۔۔

وہ سوچ کے رہ گیا۔۔۔۔۔

پتہ بھی ہےنہ مجھے آج بہت اچھا سا تیار ہونا ہے ۔۔۔

میری بہن اور میرے بھائی آج دونوں دلہن دولہا جو بن رہے ہیں۔۔۔۔

تو میں کیوں نہ پھرلشکارے ماروں ۔۔۔۔

مصطفی نے ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر نظر دوڑائی جہاں سامنے ہی اس کو باڈی لوشن نظر آگیا تھا۔۔۔

وہ تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا اور جھپٹنے کے انداز میں لوشن اٹھا کر سوہا کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ اگر اسنے تھوڑی دیر اور کی تو شاید وہ باہر آکر خود لے جاتی۔۔۔

اب یہ پکڑو۔۔۔۔

کتنی دفعہ کہا ہے کہ جب میں شاور لیا کرو ں تو تم یہیں باہر کرسی ڈال کے بیٹھ جایا کرو ۔۔۔!!!

مگرجال ہے جو تمھیں کبھی کوئی بات سمجھ میںآجائے۔۔۔۔

وہ واشروم کے اندار نون اسٹاپ بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔

چڑھتی جوانی میری چال مستانی۔۔۔

تونے قدر نہ او جانی نہ رامہ۔۔۔۔۔

وہ اب بڑے مزے سے گنگنانا بھی شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔

جبکہ وہ خفت سے سرخ پڑچکاتھا۔۔۔۔

اب شرٹ بھی دے دو یار۔۔۔۔

ایک تو تمہاری آج آواز کیوں بند ہے؟؟؟؟

ورنہ تم اور میرے کمرے میں موجود ہو اور اتنی خاموشی؟؟؟

یار کچھ تو بولو کیا ہوا کہیں اماں نے چپ کا روزہ تو نہیں رکھوا دیا ؟؟؟؟

میری شرٹ دو مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے بہت ۔۔۔

مصطفی نے اب کی بار بیڈ سے اٹھا کے اس کی شرٹ اس کو تھمائی ۔۔۔

وہ خاموشی سے اس کی ہر مطلوبہ شہہ دے کر اسکو جلد از جلد۔کمرے سے فرار ہونا چا رہا تھا ۔۔۔

غلطی سے وہ اس کمرے میں آکر پھنس چکا تھا ۔۔۔

شنو لگتا ہے تیرا دماغ بلکل ہی جوہے نہ فارغ ہوکر گھاس چرنے چلا گیا ہے۔۔۔۔

اس کے اندر کیا پہنتے ہیں وہ بھی تو دو ۔۔. .

وہ جھنجھلا کر شنو کی چڑھائی کچکی تھی۔۔۔۔۔

مصطفی نے ایک نظر دوبارہ بیڈ پہ ڈالی اور اس کی مطلوبہ ڈیمانڈ دیکھ کر وہ سٹپٹا گیا تھا ۔۔۔

آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔۔

چہرے پہ خفت اور سرخی پھیل گئی ۔۔۔۔

آگے بڑھ کے اس نے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر پھر بوکھلا کر ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔۔

شنو جلدی دے دے میں ایسی ہی باہر نکل آؤں گی ۔۔۔

وہ اندر سے غر آئی ۔۔۔

مصطفیٰ نے بوکھلا کر جلدی سے بالکل ایک کونے سے اٹھا کر اس کو جلدی سے اس کی مطلوبہ چیز تھمائی تھی ۔۔۔

مبادا کہیں وہ اپنے کہے پر عمل ہی نہ کر بیٹھے ۔۔

شنو یہ تیرے ہاتھ خاصے مردانہ نہیں ہیں؟؟؟؟؟

وہ اسکی بات پہ اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیر کے رہ گیا۔۔۔۔

لبوں پہ مسکراہٹ لمحہ بھر کیلئے ابھر کے دوبارہ غائب ہوچکی تھی۔۔۔

سوہا سے وہ ہر طرح کی امید کرسکتا تھا ۔۔۔

چنڈالن تھی وہ بچپن سے پوری بنی بنائی ۔۔۔

جب بھی وہ اسکو اپنی گود میں لیتا تھا وہ اس سے پورے بارہ برس چھوٹی تھی۔۔

مگر اسکے گود میں اٹھانے پہ ہردفع اپنے خطرناک قسم کے دانت وہ اس کے کہیں نہ کہیں گاڑھ کے کاٹ لیا کرتی تھی۔۔۔۔

جس سے وہ بری طرح سے بلبلا جاتا تھا ۔۔۔

مصطفی کو دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی ۔۔۔۔۔

وہ جلدی سے بغیر مزید ایک لمحہ بھی زایہ کیے بغیر کمرے سے نو دو گیارہ ہو چکا تھا ۔۔۔

ارے شنو تو کہاں چلی گئی؟؟؟؟

وہ باہر آکر شنو کو تلاش کرنے لگی کمرے میں ۔۔۔

شنو ہوتی نظر بھی آتی نہ۔۔۔۔

ہو سکتا ہے مما نے بلا لیاہو ۔۔!!!

وہ جلدی سے اپنے کانوں میں کندن کے سلور ج

جھمکے پہننے کے بعد ہلکی سی پنک کلر کی لپسٹک لگاکر بال سلجھا کے جلدی سے باہر نکل ہی رہی تھی جب شنو آدھمکی ۔۔۔

او باجی جی معاف کرنا تھوڑی دیر ہو گئی ۔۔۔

وہ جی مالکاںنی نے چائے بنانے کا کہ دیا تھا مہمانوں کے لئے ۔۔

کیا مطلب ۔۔؟؟؟؟

تم ابھی میرے کمرے میں نہیں تھی ؟؟؟

تو پھر مجھے کپڑے کس نے دیے ۔۔۔؟؟؟

اور۔۔۔۔۔اور. . ۔۔۔۔۔۔۔میری وہ فضول بکواس کس نے سنی؟؟؟؟

وہ اب باقاعدہ شنو کے اوپر بگڑ رہی تھی ۔۔۔

باجی جی قسم لے لو میں نے نہیں دیا۔۔

میں تو ابھی ابھی آئی ہو ۔۔۔

ہو سکتا ہے وہ پھوپھی زلیخا کی بیٹی اوپر آئی ہو بال بنانے ۔۔

کیونکہ وہ نیچے کنگھامانگ رہی تھی بی بی سی سے ۔۔

او اچھا چلو ٹھیک ہے وہ مطمئن ہو گئی یہ سن کر ۔۔۔۔۔

وہ ایسی ہی تھی تھوڑی دیر کو پریشان ہوتی اور اس کے بعد تمام ٹینشن کو پرے دھکیل کر دوبارہ سے اپنے آپ میں مست ہو جاتی

کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟؟؟

وہ بیڈ پہ گرتے ہوئے بولی۔۔۔

اتنی معصوم نہیں ہو تم جو یہ سمجھ نہ سکو کہ میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟؟؟؟

وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اس کے اوپر تھوڑا سا جھکا تھا۔۔۔

آنکھوں سے جیسے آگ کے شرارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔

میں نے تمہیں کئی دفعہ کہا ہے کہ مجھے خوامخواہ چیلنج مت کیا کرو اور یہ تمہاری جو گز بھر چلتی زبان ہے نا اس کو آئندہ میرے سامنے ذرا کم ہی تکلیف دینا چلانے کی ۔۔

ورنہ گدی سے کھینچنے میں ایک لمحہ نہیں زایہ کروں گا ۔۔

وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں بری طرح سے دبوچ کر سختی سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔!!!جو تمہارا حکم۔۔۔۔۔۔۔!!!

باندی ہوں نہ میں تو تمہاری؟؟؟؟؟؟

ایسا نہ کرو مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔

اس نے سسکاری بھری!!

آنکھوں سے آنسوں لڑھکتے ہوئے گالوں پہ سے پھسلتے ہوئے حمزہ کے ہاتھ کو بھیگھا گئے تھے ۔۔۔

واٹ ربش؟؟؟؟

حمزہ کوایسا محسوس ہوا جیسے اس کو بری طرح سے کرنٹ چھو گیا ہو۔۔۔۔!!

شفا کے آنسو اس کے پورے وجود کو اندر تک ہلا کر رکھ گئے تھے۔۔۔۔

وہ ایک دم سے دور ہٹا تھا اس سے۔۔۔۔!!

بے فکر رہو میں جب تک تمہارے تمام تر جملہ حقوق اپنے نام نہیں لکھوا لو نگا !!

تب تک اپنی ” ہوس اور پیاس “نہیں بجھاؤں گا تمہارے وجود سے ۔۔۔

وہ ہوس اور پیاس پہزور دے کر بولا تھا جان کر کیوں کہ کچھ دیر پہلے شفا نے اس ازخود اس لقب سے نوازا تھا ۔ ۔۔

مہندی لگانے کے لیے میرے ایک دوست کی وائف اور میرا دوست آ رہا ہے ان دونوں کے سامنے کسی بھی قسم کی ہوشیاری اور بد مزگی نہ کرنا۔۔۔۔!

یاد رہے اگر کسی بھی قسم کی ہوشیاری اگر کی تو میں پھر مہندی لگوانے کے بعد تمہیں رحمان مینشن ہرگز بھی نہیں لے کر جاؤں گا۔۔۔۔۔

وہ اس کو وارننگ دیتا کمرے سے باہر جا چکا تھا جبکہ دروازہ ہنوز کھلا ہوا تھا۔۔۔

شاید اس نے شفا کو کمرے میں قید کرنے کی کوشش اس لئے نہیں کی تھی کیونکہ وہ جان گیا تھا ۔۔۔

کہ وہ اس کے بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس چکی ہے ۔۔۔۔

تم مذاق کر رہے ہوں نہ مجھ سے؟؟؟؟

وہ اٹک اٹک کر بولی تھی ۔۔۔

اس کے چہرے پر اب تیزی اور طرازی کی جگہ خوف اور وحشت کے سائے منڈلا رہے تھے۔۔۔

چہرے پر موجود خوف وہراس کے تاثرات اس کے سبھی چہرے کو مزید خوبصورتی بخش رہے تھے ۔۔۔۔

وہ ڈری سہمی سی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔

کیونکہ عمر نے اس سے پہلے اس کو ہمیشہ ھٹلر کی بہن کے روپ میں ہی دیکھا تھا ۔۔۔

او یار تم خود ہی بتاؤ بقول تمہارے کہ میرا اور تمھارا کوئی مذاق ہے بھلا ؟؟؟؟؟

وہ اس کی گہری نشیلی آنکھوں میں اپنی پوری آنکھوں سے جھانکتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔

عمر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے کہ یہ آپ نہیں ہے ۔۔۔؟؟؟؟

وہ تم سے آپ تک کا سفر بہت جلد طے کر چکی تھی۔۔۔۔۔

تو پھر تم ہی بتا دو کہ میں کون ہوں؟؟؟

کیا میں کوئی آسیب ہوں؟؟؟؟

یا پھر کوئی سایہ جو تمہیں دیکھ کر تم پہ عاشق ہو گیا ہو؟؟!!

کک۔۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں آپ یہ سب؟؟؟؟

وہ اب خوف کے زیرِاثر بےہوش ہونے کو تھی۔۔۔۔

چلو پھر وہ کہتا ہوں جو تمہارے کانوں میں رس گھوک دے۔۔۔۔۔!!!؛