Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 21
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 21
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
وہ جلدی جلدی اپنے ہینڈ کیری میں کپڑے بھر رہا تھا۔۔۔
سر جی سر جی میں آپ کی کچھ مدد کرو ؟؟؟ملازم ہانپتہ کانپتہ دوڑتا ہوا مصطفٰی کے بیڑروم میں آیا تھا کمرے سے آتی اٹھک پٹخ کی آواز یں سن کر۔۔۔۔
نہیں ضرورت نہیں مجھے اپنے کام خود کرنے کی عادت ہے مجھے۔ ۔
اور تم یہ بار بار کیوں کسی بوتل کے جن کی طرح آدھمکتے ہوں میرے سر پہ؟؟؟
کتنی دفعہ کہا ہے کہ میرے ایک دفعہ کہی ہوئی بات کو کان کھول کر سن اور سمجھ لیا کرو ۔۔
وہ پیکنگ کرتا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ ملازم کے اوپر گرجنا بھی نہیں بھولا تھا ۔۔۔
ملازم بیچارا آکر پچھتایا مشکل یہ تھی کہ اگر اب وہ کمرے سے جاتا تو بھی اس کے مالک کی شان کے خلاف ہی ہونا تھا۔۔۔
مصطفی کےبیجاہ غصے کی وجہ سے وہ ہر وقت اسکے سامنےبوکھلایا ہوا رہتاتھا ۔۔۔
وہ اب کبھی کوئی چیز ضرورت کی تھما رہا تھا مصطفی کو تو کبھی کوئی۔۔
جی سر میں بالکل ریڈ ی ہو رہا تھا مگر کیا اتنی اہم ٹریننگ ہے کہ آپ مجھے ایک گھنٹے پہلے انفارم کر رہے ہیں ۔؟؟؟
کاینڈلی اگر آئندہ کوئی بھی ایسی ٹریننگ ہو تو چار پانچ گھنٹے پہلے مجھے انفارم کر دیا کیجیے گا ۔۔۔!!!
کہنے کو وہ اس وقت اپنے ہیڈ سے بات کر رہا تھا مگر لہجہ ابھی بھی بھاری اور سخت تھا نرمی سے عاری ۔۔
جو بھی بات اس وقت اس کے دماغ میں گردش کر رہی تھی وہ اپنے ہیڈ سے اس نے بغیر کسی خوف و خطر کے کہہ ڈالی اور پھر خدا حافظ کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔
تیزی سے اس نے اپنی پیکنگ مکمل کی تھی ۔۔
میں ضروری ٹریننگ کے لئے اسلام آباد جارہا ہوں ہوسکتا ہے اس سے آگے بھی جانا پڑ جائے ۔۔
امی جان ابو جان کا فون آئے تو ان کو بتا دینا اور یاد رہے ان سے کہہ دینا کہ مجھے باربار فون کر کے پریشان نہ کریں ہرگز بھی ۔۔۔
جب میں فارغ ہئو نگا تو خود ہی فون کر لوں گا لائبہ کو بھی بتا دینا ۔۔
وہ ہینڈ کیری خود ہاتھ میں لئے ملازم کو حکم جاری کرتا خدا حافظ کہتا بیڈروم سے جا چکا تھا ۔۔۔
سمیرا بت بنی شفا کے پاس لپک نے انداز۔ میں بیڈتک پہینچی تھی ۔
آمی سب کچھ ختم کچھ بھی نہیں بچا اپکی سوہا کے پاس۔ ۔
نہ ہی عزت نہ ہی وقار ۔۔۔
وہ ماں سے چمٹ کر سسک اٹھی تھی۔ ۔
کچھ بھی نہیں ہوا ایسا شفا جس کی وجہ سے تم اتنا واویلا کھڑا کر رہی ہو۔۔۔
سمیرا نے اٹھ کر سامنے موجود وارڈراب میں سے ایک بڑا سہ لان کا دوپٹہ نکال کر شفا کے وجود پر اچھی طرح ڈھانپہ تھا ۔۔۔
امی کیامیں اب اپنی بربادی پر روُں بھی نہ چیخوں میں نہ چلا ئوںبھی نہ۔۔۔؟؟
جس کو تم اپنی بربادی تصور کر بیٹھی ہوں میرے نزدیک تو وہ تمہارا اصل میں آباد ہونا ہے ۔۔۔
ھمزہ نے کچھ ایسا انوکھا بھی نہیں کردیا جو کہ تمہاری لیے بہت ہی انوکھا سے ثابت ہو رہا ہوں ۔۔۔
ھمزہ۔۔۔۔۔ ہمزہ۔۔۔۔۔ حمزہ بس کریں آپ میرے سامنے اس درندے نما شخص کا نام لینا ۔۔
آپ میرے محسوسات نہیں سمجھ سکتی ۔۔
مجھے اس وقت اپنے وجود سے کراہیت محسوس ہو رہی ہے ۔۔
سمیرا کا ہاتھ اٹھا تھا اور دھاڑ سے روتی ہوئی شفا کے چہرے پر اپنی انگلیوں کےنشان ثبت کر گیا تھا ۔۔
غلط۔۔
ایک دم خاموش۔ ۔۔
بس آب دم خاموش ایک الفاظ بھی نہ نکلے تمہارے منہ سے ہمزہ نے جو بھی کیا بالکل ٹھیک کیا ہے وہ اپنی جگہ حق بجانب ہے ۔۔
اس نے اپنے جائز حق استعمال کیا ہے ۔۔
وہ تمہارا مزاجی خدا ہے اور اس کے حقوق کی ادائیگی تم پر فرض ہے۔۔۔
اور میرے حقوق کا کیا ؟؟؟
وہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھے پولی تھی جہاں ابھی کچھ دیر پہلے سمیرا کا ہاتھ اٹھ چکا تھا اور اس کے گال پہ انگلیوں کے نشان چھوڑ چکا تھا ۔۔
بیبی اس نے تمہیں تمہارے حق سے ہی نوازا ہے اور آب اپنا گھر بنانا سیکھو اپنے گھر کو بسانا اور آباد کرنا اب تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔
میں ان ماؤں میں سے نہیں ہوں جو بیٹی کی ہر جائز و ناجائز بات پہ اس کو شہہ دے کر اس کا جانے انجانے میں گھر تباہ و برباد کر دیتی دوں۔ ۔ ۔۔
چلو اب اٹھو شاورلے کے جلدی سے باہر آو میں اب تمہارا یہ ستا ہوا چہرہ نہ دیکھو۔ ۔
میرا خیال ہے کہ یہاں اب سوگ کے بادل چھٹ جانے چاہیے ۔۔۔
حمزہ صبح کے بعد اب رات کے 8 بجے واپس کمرے میں آیا تھا اور شفاء کو بیڈروم سے ٹیک لگائے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے دیکھ چڑھ کر بولا تھا۔۔۔
سوگ کے یہ بادل میری زندگی میں اب ہمیشہ سائے کی طرح منڈلاتے رہیں گے ۔۔۔
جب تک آپ جیسے شخص کا سایہ میرے ساتھ ساتھ موجود رہے گا ۔۔۔
اور یہ سب آپ ہی تو عنایت ہے مجھ پر ۔۔۔
بہت شکریہ آپ کی اس کرم نوازی کاویسے یہ بتاؤں گے کہ آپ اندر بدلے کی نام نہاد آنکھ کہاں تک بجھ چکی ہے ؟؟؟؟
وہ نرم لہجے میں مگر برہمی سے بولی ۔۔۔
کھلے لمبے فل لیئرز میں تروشیدہ بال،زردی مائل خوبصورت چہرہ جو رونے کی وجہ سے مرجھا سا گیا تھا ۔۔۔
کملایا سا وجود حمزہ کو لگا جیسے وہ ایک دفعہ پھر بکھرنے کو ہے ۔۔۔۔
شفاء کا کملایا وجود مٹے مٹے سے آنسو حمزہ کو ایک عجیب سی شرمندگی میں مبتلا کر گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
میں اس وقت کسی بھی قسم کی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔
اور تمہاری بہتری بھی اسی میں ہے کہ تم بھی اب یہ رونا دھونا بند کرکے اٹھو اور جاکر میرے لیے کھانا بنائو ۔۔۔
وہ لہجے میں حد درجہ کڑواہٹ گھول کے بولا ۔۔۔
میں کسی صورت بھی تمہارے لیے کھانا نہیں بناؤ نگی۔ ۔۔
میرا کوئی تعلق اور رشتہ نہیں ہے تم سے ۔۔۔
شفا کا لہجہ ہڈدھرمی لئے ہوئے تھا ۔۔
وہ سلیپرز پاؤں میں اڑس کر حمزہ کی اوٹ میں سے نکلنے کو تھی ۔۔
جب حمزہ نے اس کا رخ اپنی طرف موڑے بغیر اس کی کلائی پشت پہ مروڑ کر اس کی ہی پشت پر لے گیا اور اپنی تھوڑی شفا کی شانے پہ ٹکا دی۔۔۔۔
رسی جل گئی مگر اب تک تمھارے کس بل نہیں نکلے ۔۔۔
ویسے تعلق تو میرا تم سے کل رات ہی میں بنا چکا ہوں۔۔
رہی بات تمہارے ماننے یا نہ ماننے کی تو۔۔
مسز حمزہ مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنا۔۔۔ پھر تم میرے بارے میں برا سوچوں یا اچھا میں وہی ہوں جس کو بس صرف اور صرف تمہارے باپ کی بربادی سے غرض ہے اور رہے گا ۔۔۔
اور رہی رشتے کی بات تو محترمہ لگتا ہے کہ آپ کی میموری کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔۔۔
اگر آپ کو یاد ہو تو کل تم نے ہی تین دفعہ قبول ہے کہہ کر مجھے اپنا شوہر تسلیم کیا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کے بالوں کی آوارہ لٹ سامنے آئینے میں دیکھتے ہوئے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا ۔۔۔۔
میری کلائی چھوڑو مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔
تکلیف ۔؟؟
سہی میں تکلیف ہو رہی ہے ؟؟؟
بہت تکلیف ہو رہی ہے ؟؟؟
شفا کی چونکہ پشت حمزہ کی طرف تھی اس لیے حمزہ اس کے تاثرات سامنے ڈریسنگ ٹیبل میں مقید شیشے میں اچھی طرح دیکھ رہا تھا جہاں تکلیف کے واضح آثار موجود تھے ۔۔۔۔
چلو اب تم خود ہی سوچ لو کہ میرےلیے کھانا بناو گی یا پھر کھانے سے پہلے والا کام میں ابھی سرانجام دے دو ں؟؟؟
مطلب کیا ہے آپ کا؟؟؟
کون سہ کھانے کے بعد والا کام ؟؟؟؟
وہ سٹپٹائی ضرور تھی مگر پھر اپنی بے بسی محسوس کرکے ہمزہ سے بری طرح سے غرائی تھی ۔۔۔
سویٹہارٹ مطلب تو میرا بہت ہی واضح ہے اور جانتا ہوں تم سمجھ بھی بہت اچھی طرح چکی ہو۔۔۔۔
وہ جتاتے لہجے میں آنکھوں میں معنی خیزی لیے بول رہا تھا شفا کو یکدم ڈھیر ساری شرم نے آگھیرا وہ اپنی گھنیری پلکیں جھکا گئی ۔۔۔۔
تم کچھ بھی کر لو میں نہیں تمہاری غلام ۔۔۔
مجھے ابھی اور اسی وقت میرے گھر چھوڑ کر آئو۔ ۔۔
وہ اب رو دینے کو تھی ۔۔۔
گھر؟ ؟؟؟
وہ ہنستے ہوئے بولا۔ ۔
گھر تو تمہارا یہی ہے اور یہ جو ناز نکھرے ہیں نہ ۔۔
یہ کسی اور کو دیکھا نا۔۔۔
نا میری تم سے کوئی شدید قسم کی دھواں دھار محبت وابستہ ہے اور نہ ہی تم میری من چاہی بیوی ہو ۔۔۔
اس لئے میرے سامنے یہ بیویوں والے نازنخرے دکھانا بند کرو تم مجھے اپنی ان اداؤں سے زیر نہیں کر سکتی ہو ۔۔۔
وہ آنکھوں میں شدید قسم کی نفرت لئے کہہ رہا تھا ۔۔
اور اگر اپنی بہتری چاہتی ہو اور چاہتی ہو کہ میں فی الحال تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط نہ کرو ں تو جو جو میں کہہ رہا ہوں اس پہ شرافت عمل کرتی جاؤ ۔۔۔۔
عمل نہ کرنے کی صورت میں تمہیں میری شدت آمیز قربت کی صورت خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور دوسرا لان میں کی گھاس پہ سونا پڑے گا پوری رات ۔۔
فیصلہ اب تمہارے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔
وہ آہستہ سے اس کی کلائی چھوڑ چکا تھا ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔
وہ اپنی کلائی کو سہلاتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
کچن میں پہنچ کر ایک نظر طائرانہ ڈالنے کے بعد شفا نے جلدی سے فرج میں موجود مٹن کا ایک پیکٹ نکال کر قورمے کی تیاری شروع کردی تھی ۔۔۔
سمیرا نے اپنی دونوں بیٹیوں کو سلیقے کے ساتھ ساتھ گھر کا داری میں بھی طاق کر دیا تھا ۔۔۔
کوئی بات نہیں کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ۔۔
اگر یہ تمہارے قرب سے دوری کی قیمت ہے تو میرے لئے بہت معمولی ہے ۔۔۔۔
کم از کم تمہارے چھونے کی اذیت سے تو میرے لئے لاکھ درجے بہتر ہے کہ میں تمہارے یہ چھوٹے موٹے کام کردوں۔ ۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی اور ساتھ ساتھ مٹر پلاو بھی بنانے کی تیاری کر چکی تھی ۔۔۔۔
کھانا وہ بنا چکی تھی اب اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح سے شیر کے منہ میں ہاتھ دے ۔۔
گھر کے اندر ملازم پورے دن اس کو کوئی بھی نہ نظر آیا تھا ۔۔۔۔
مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ٹی وی لاونج میں پیر پر پیر رکھے نیم راز حمزہ کے سر پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔
کھانا لگا دیا ہے کہ کچن میں ڈائننگ ٹیبل پر ۔۔۔
حمزہ نے کنٹرولر سے ٹی وی بند کیا اور شفا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
کھانا بنا کے تم نے میرے اوپر احسان نہیں کیا یہ سارے وہ کام ہے جو ایک بیوی کے کرنے کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں میں نظر ڈال کے کچھ اس طرح سے کہہ رہا تھا کہ شفا کو اپنے تن بدن میں آگ لگتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔
یعنی بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ۔۔۔
بیوی مائی فٹ ۔۔۔
شفا بھی کون سہ سیدھی تھی تڑخ کر بولی چہرے پر شدید بےبسی کے آثار نمایاں تھے۔۔۔۔
حمزہ تمسخرانہ ہنسی ہنستا ہوا کچن میں جا بیٹھا ڈائننگ ٹیبل کی چیئرگھسیٹ کر۔ ۔۔۔
کھانا خود تو نہیں نکلے گا میری پلیٹ میں؟؟؟
ظاہر سی بات ہے کھانا نکال کر تم ہی دو گی نہ مجھے ۔۔
سوہا نے خاموشی سے اس کی پلیٹ میں کھانا ڈال دیا اور اب خود جانے کو تھی کچن سے ۔۔۔
یہاں بیٹھو اور بیٹھ کے میرے ساتھ کھانا کھاؤ مجھے یہ نخرے پسند نہیں ہے اور اگر کھانا نہیں کھایا تو یہ یاد رکھنا اگلے ایک ہفتے تک خوراک کے لیے تر سو گئی ۔۔۔
اس کے بعد پھر الماری سے کپڑے نکال کے پریس کرکے لٹکا دینا دوبارہ سے میری وارڈروب میں ۔۔۔
وہ کھاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔
آج پہلی دفعہ اس نے ائمہ کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ کا کھانا کھایا تھا وہ اپنے لئے ائمہ سے خاص طور پر الگ کھانا بنواتا تھا ۔۔۔
شفا کے ہاتھ کا کھانا اس کو بلاشبہ بہت بہترین اور لذیذ لگ رہا تھا مگر بغیر کسی بھی تاثر پیش کیے وہ کھانا کھاتا رہا ۔۔
جبکہ شفا کی آنکھیں نم تھیں اس سے حلق میں نوالہ اتارنا کسی مہازسے کم نہیں لگ رہا تھا مگر مشکل یہ تھی کہ حمزہ کا حکم ہی کچھ اس طرح تھا کہ اس کو کھاتے ہی بن پڑی تھی ۔۔۔۔
وہ برتن دھو کر جلدی جلدی فارغ ہوکر ہمزہ کے کپڑے وارڈروب سے نکال کر استری کرکے حمزہ کے روم میں آنے سے پہلے فرار ہونا چاہ رہی تھی ۔۔۔
وہ کپڑے ہاتھ میں لئے تیزی سے پلٹی تھی جب وارڈروب کا حق اسکی شرٹ میں اٹکا تھا اور سی کی آواز سے پیچھے لگی زپ الجھنے کی وجہ سے چرنے سے کھلتی چلی گئی تھی۔۔۔
وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کی ساری کاروائی کوئی بہت گہری نہ نظروں سے ملاحظہ فرما رہا ہے ۔۔
سیدھے ہاتھ میں اس کے کپڑے موجود تھے جبکہ الٹے ہاتھ سے وہ زپ بندکرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
یخلقت اس کو اپنے پیچھے بہت نزدیک کسی کے بھاری قدموں کی آہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔
بچاو کوئی تو میری مدد کرو ۔۔۔
وہ بھاگتے بھاگتے بری طرح تھک چکی تھی ۔۔
غلطی سے راستہ بھولنے کی وجہ سے وہ پچھلے دو گھنٹے سے مری کی اونچی نیچی پہاڑیوں کے اوپر خوار ہو رہی تھی ۔۔۔
مغرب کا وقت بھی گزر چکا تھا رات اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔
کیا ہوا سویٹی کیا اپنا گھر بھول گئی ہو؟؟
کہوتو ہم تمہیں گھر تک پہنچا دیں ؟؟؟
اس کو اپنے پیچھے سے 2 مردانہ الگ الگ آوازیں محسوس ہوئی ۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے پیچھے پلٹی تھی کہ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں پیچھے ایک نا دو شد بلکہ 10 سے 12 لڑکے موجود تھے جو اس کو بہت غلیظ نظروں سے اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے آر پار ایکسرے کر رہے ہو ۔۔۔
میرے قریب مت آنا میں کہہ رہی ہوں میرے قریب مت آنا ۔۔۔
وہ نڈھال سی ہوچکی تھی بھاگ بھاگ کر مگر پھر بھی خود کو مضبوط ظاہر کرکے بری طرح چنگھاڑی تھی ۔۔۔
او سویٹہارٹ ہم تمہارے قریب نہیں آئیں گے ایک کام کرو تم ہمارے قریب آ جاؤ ۔۔
ان میں سے ایک لڑکا سیٹی بجاتے ہوئے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے بولاتھا جبکہ اس کے پاس کھڑے دوسرے لڑکے نے پہلے والے لڑکے کے ہاتھ پر تالی ماری اور بولا ۔۔۔
ویسے چلو تمہیں ایک آ فر کرتے ہیں جو کہوں گی تمہیں تمہاری منہ مانگی قیمت ادا کریں گے مگر ہمیں ہمارے انداز میں خوش کرنا ہو گا تم کو ۔۔۔
تو پھر کیا خیال ہے چڑیا؟ ؟
