Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 22 (Part 3)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 22 (Part 3)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

مگر فجر یہ بھی بھلا کوئی شرط ہوئی کہ میں اپنے پیرنٹس کو بتائے تمہارا رشتہ لے کر آ جاؤ ۔۔؟؟

میں تن تنہا تم سے شادی کس طرح کر سکتا ہوں ؟؟؟

ارمغان پریشانی سے بولا تھا ۔۔

وہ دونوں اس وقت مشہور ریسٹورنٹ میں بیٹھے ڈنر کے ساتھ ساتھ کئ اہم باتیں بھی ڈسکس کر رہے تھے ۔۔

اور اگر انہوں نے مجھے قبول نہ کیا تو پھر؟؟؟

فجر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسے بولی تھی جیسے اگر واقعی ارمغان کے گھر والے نہ مانے اس کیلئے تو وہ شاید جی ہی نہ سکے گی ۔۔۔

ارمغان کی ہمسفری اس کیلئے اس کی زندگی کی کل کائنات ٹھہری ہو جیسے ۔۔۔۔۔

وہ بھی اس کی کہی بات پر لمحے بھر کو خاموش ہوکر رہ گیا تھا ۔۔۔

واقعی کہہ تو وہ بالکل ٹھیک رہی تھی اس کے خدشات ہرگز بھی غلط نہ تھے۔۔

غزل تو اس کی پسند پہ دل و جان سے لبیک کہہ دیتی مگر حماد۔ ۔۔۔۔!!!

کیا حماد اس کو اپنی بہو تسلیم کرتا اور بہو تسلیم کرنا تو دور کی بات کیا وہ اس رشتے پر مانتا ۔۔؟؟؟

فجر کے لیے حامی بھرتا ۔۔۔۔۔؟؟؟

ناممکن ۔۔۔۔!!

یہ وہ سوچ تھی جس نے ارمغان کو بھی پریشانی میں مبتلا کر ڈالا تھا ۔۔۔

بس یہی کچھ وجوہات اور جدشات ہیں میرے دل میں جو اس وقت تمہارے دل و دماغ میں بھی گردش کر رہے ہیں ۔۔۔

وہ اس کی آنکھوں میں رقم تحریروں کو پڑھتے ہوئے بولی تھی اور اس کے مضبوط ہاتھ پہ اپنا مخروطی ہاتھ دھراتھا ۔۔۔

۔۔

مگر یہ بہت بڑا فیصلہ ہوگا فجر اور پھر تمہارے گھر والے بھی تو ہے ان کو کس طرح میں کنوینس کر سکوں گا ؟؟؟

تو کیا تم گھبرا گئے ابھی سے ؟؟؟

“نہیں میں گھبرایا ہرگز بھی نہیں ہوں۔۔

ہاں مگر پریشان ضرور ہواہوں کیونکہ میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا “۔

“تو پھر آپکو یہ قدم اٹھانا پڑے گا ۔۔۔”

“کیونکہ میں بھی آپ کو کھونے سے ڈرتی ہوں ۔۔۔”

“میں محبت کے سفر میں تمہیں تنہا چھوڑ کہ تنہا کشتی میں سوار قطعی نہیں ہوسکتا ۔۔۔”

اس کی آنکھوں میں ایک عزم ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔

“مگر میں پھر بھی آپ سے ایک دفعہ کہوں گی کہ میری وجہ سے اگر آپ پہ کوئی بھی مصیبت یا پریشانی آنے کا امکان ہے !!تو آپ بے شک مجھے محبت کی اس راہ پہ اکیلا چھوڑ دیں اوراپنا رستہ بدل لیں۔ ۔۔”

“”اگر مجھے اپنی راہیں جدا کرنی ہوتی اور تمہاری حد سے نکلنا ہی ہوتا تو میں آج شاید اس مقام پر تمہیں نہ لا کھڑا کرتا ۔۔”

“میرے لیے اب واپسی ممکن نہیں ہے ۔۔۔”

وہ ٹھہر ٹھہر کہ گھمبیر لہجے میں بولتا چلا گیا ۔۔۔۔۔

“صحیح کہا محبت امتحان مانگتی ہے ۔۔”

فجر کے منہ سے بے خیالی میں نکلا تھا ۔۔۔

“پہلے مجھے یہ صرف ایک فلسفہ لگا کرتا تھا صحیح معنوں میں آج مجھے اس بات پر یقین بھی ہو گیا ہے “۔۔۔

وہ بہت نرم اور محبت بھرے انداز میں اس کے معصوم سے سوال کا جواب دے گیا ۔۔۔

کیا واقعی میں تم سے اس قدر شدت سے کبھی محبت کر پاؤں گی ؟؟؟

وہ چند ثانیوں کے لیے جیسے ساکت سی رہ گئی تھی اس سوچ کے آتی ہیں ۔۔۔

۔۔

کب آؤ تمہارے بابا سے تمہارا ہاتھ مانگنے کے لئے ؟؟؟

وہ یخلقت ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔۔

“جب آپ کو مناسب لگے “۔۔

“میں آپ کا استقبال کرنے کیلئے ہمیشہ آپ کی راہ میں پلکیں بچھائے انتظار کروں گی ۔۔۔”

وہ محبت و اعتماد بخشتے لہجے میں گویا ہوئیں ۔۔۔

ارمغان کو لگا جیسے وہ اس کے سحر میں بری طرح سے گرفتار ہو کر اس کی جھیل سی گہری آنکھوں میں کہیں کھو کر رہ گیا تھا ۔۔۔

آپ کو ارمغان ولدہ حماد کے نکاح میں دیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟؟

“قبول ہے” ۔

“قبول ہے”

” قبول ہے “۔

وہ اپنے بابا سے لپٹ کر بری طرح سے سسک اٹھی تھی ۔۔۔

قبول و ایجاب کا مرحلہ کیا طے ہوا تھا اس کا تو جیسے ضبط ہی جواب دے گیا تھا۔۔

اس کے پیارے بابا اور دوست جیسا بھائی اب اس کے لئے میکے کا مان بن گئے تھے ۔۔

اس پہ تضاد ان کی جدائی ۔۔۔

زید نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا تھا اپنی ۔۔

جبکہ بابا کی آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔۔۔

“بیٹا یہ قدرت کی بہت کٹھن ریت ہے مگر یہ مرحلہ ہر باپ کے حصے میں ایک نہ ایک دن ضرور آتا ہے جب اس کو اپنے جگر کا ٹکڑا پال پوس کر اس کے اصل گھر رخصت کرنا ہوتا ہے ۔۔

وہ اس کو سینے سے لگائے نرم لہجے میں بولے تھے ۔۔۔۔

“بابا میرے لیے دعا کیجئے گا کہ میں خوش رہ سکوں” ۔۔۔

وہ روتےہوئے اتنا ہی کہ سکی ۔۔۔

“بیٹا میری دعا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی تمہیں کوئی دکھ نہ ملے اور تم ہمیشہ شاد و آباد رہو” “انشاءاللہ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔۔۔”

کون جانتا تھا کہ یہ دعا عاشق پہنچی بھی ہے یا نہیں ۔۔۔؟؟؟؟

نکاح بہت سادگی سے ہوا تھا اور یہ بھی فجر کی ہی حسب منشا ہی تھا۔۔۔

اس کی دوسری شرط یہ تھی کہ نکاح بالکل سادگی سے کیا جائے اسی لئے بس فجر کے گھر میں ہی سادگی سے قبول و ایجاب کے مراحل عصر و مغرب کے درمیان طے پا گئے تھے ۔۔

عشاء کی نماز کے بعد کھانے کا دور چلا اور پھر کچھ دیر بعد رخصتی کا بھی وقت آن پہنچا ۔۔

قرآن پاک کے سائے تلے زید اسکو رخصت کرنے کے لئے گھر سے گاڑی تک لایا تھا ۔۔

جب کہ بابا دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے بے آواز عشک بہا رہے تھے ۔۔

ان کی ہمت ہی نہ بن پا رہی تھی کہ وہ فجر کے پاس جاکر رخصتی سے پہلے ایک آخری دفعہ اس کو سینے سے لگا سکتے ۔۔

“میری بہن بہت معصوم ہے مانی بھائی اس کا خیال رکھیے گا “۔۔

زید گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے سرخ آنکھوں میں آنسوں لئے ارمغان کے سینے سے جا لگا ۔

“اور تم میرے بھائی ہو چھوٹے تمہاری بات کا مان رکھنا میرا فرضی ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے ۔۔”

وہ اس کی پشت سہلا تے ہوئے کہنے لگا ۔۔

جب کہ فجر گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے ایک دفعہ پھر بابا کو مین گیٹ کے بیچوں بیچ آنکھوں میں آنسو لیے موجود دیکھ کر بھاگتی ہوئی ان کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔۔

” بابا مجھے نہیں جانا آپ کو چھوڑ کر ۔۔۔”

وہ بلکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔

” واقعی بہت مشکل مرحلہ تھا یہ ۔۔۔”

ارمغان نے افسردگی سے سوچا تھا ۔۔۔

حقیقت ہے ماں باپ سمیت ایک بیٹی کا بھی یہ بہت بڑا ظرف ہوتا ہے ۔۔

اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر پرائے گھر جاکر اس کو اپنا گھر بنانے کا ۔۔۔

وہ پورا راستے اس کا ہاتھ تھامے رہا تھا ۔۔

بھرپور انداز میں اس کی دلجوئی کر رہا تھا تاکہ وہ خود کو اکیلا نہ سمجھے۔ ۔۔

اس کو فجر کی دلی کیفیت کا بخوبی اندازہ تھا کہ وہ اس وقت اپنے پیارے رشتوں کو چھوڑ کر اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے کے لئے آئی ہے ۔۔

وہ اکیلا ہی اس کو رخصت کروا کر لایا تھا اپنی گاڑی میں۔ ۔

وہ اس کو سیدھا اپنے شہر والے بنگلے میں لے کر آیا تھا ۔۔۔۔

گود میں اٹھا کر وہ اس کو کارپوچ سے گھر کے داخلی دروازے کی دہلیز تک لایا تھا ۔۔

“”تم ایک منٹ یہیں رکنا ۔۔۔”

وہ سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھنے لگی۔۔ خوبصورت سے ڈیپ ریڈ فرشی شرارے میں ماہر بیوٹیشن نے اس کے حسن کو مزید نکھار کے رکھ دیا تھا ۔۔

اور کچھ اس پہ پہلی دفعہ اتنا سجنے سنورنے کی وجہ سے روپ بھی کافی چڑھا تھا ۔۔

وہ حیران پریشان سی اس کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔

مگر داخلی دروازہ وہ بند کرکے اندر جا بھی چکا تھا ۔۔۔

یہ سب کیا ہے ؟؟؟

وہ بوکھلا کر رہ گئی کیونکہ رات کے 11 بجے کا وقت تھا اور ارمغان اس کو باہر تنہا چھوڑ کر دروازہ بند کر کے اندرچکا تھا ۔

وہ ابھی دروازہ پیٹنے کا سوچ ہی رہی تھی جب دروازہ کے دونوں پٹ کھلے تھے اور سامنے بیچوں بیچ ارمغان کھڑا ایک ادا سے کورنش بجالا یہ۔ ۔۔۔۔۔

وہ اب اس کی حیران پریشان آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا اورمحبت پاش نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

“میں نے اپنی سی پوری کوشش کی ہے کہ تمہیں کبھی بھی احساس نہ ہو کہ تمہارا ویلکم اور تمہاری شادی عام شادیوں سے ذرا مختلف ہوئی انداز میں ہے ۔۔۔

اس لئے میں خود اپنی گڑیا کے ویلکم کیلئے تھوڑی سی تیاری کرکے گیا تھا ۔۔۔”

وہ اس کو فرش پہ بچھے گلابوں کی پتیوں پہ آہستہ آہستہ چلاتا ہوا خوبصورتی سے سجے بڑے سے ہال نما لاؤنج میں موجود 3 سیٹرصوفے تک لایا تھا اور بہت محبت اور چاہت سے اس کو بٹھانے کے بعد ایک دفعہ پھر وہ غائب ہو چکا تھا ۔۔۔

جب کہ فجر کے لبوں پر ایک پیاری سی مسکان بکھری تھی ۔۔

ارمغان کا چاہت بھرا انداز اس کے دل کو اندر سے ایک انوکھی سی خوشی اور طمانیت بخش رہا تھا ۔۔۔۔

اس کو ارمغان کے ہر ہر انداز سے اپنائیت اور بے تحاشہ پرواہ جھلکتی دکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اس کو اپنی ذات یہ خلقت بہت موت پر لگنے لگی ۔۔۔۔۔۔

وہ اب صوفے پہ بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی سامنے سے وہ اپنی ساحرانہ وجاہت لیے مغرورانہ چال چلتا ہوا آیا تھا ۔۔۔

اس کے ہاتھ میں ایک شیشے کی پرات تھی جس میں دودھ اور گلاب کی پتیاتیر رہی تھیں۔ ۔۔

” چلو بھئی اب یہ رسم بھی شاید بڑی بوڑھیاں کرتی ہیں”

” میں نے ایک دفعہ دیکھی تھی جب میرے چاچو کی شادی ہوئی تھی تب میری اماں جان نے بھی بہت ساری رسمیں کی تھی۔۔”۔

” جس میں سے چند ایک رسمیں مجھے یاد بھی رہ گئیں ہے “۔۔۔۔

وہ تھوڑا کھسیا کے اپنے سر پہ پیچھے سے ہاتھ پھیر کر بولا۔۔۔۔۔

وہ بولتے ہوئے اس کے سامنے پر ات رکھ چکا تھا ۔

فجر اس کو پیار بھری نظروں سے دیکھ کے رہ گئی کتنا پیارا شخص تھا وہ جو اس کی ایک ایک خواہش کا احترام کرنے کی تگ و دو میں ہر ممکن کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

“ویسے مجھے پتا نہیں ہے یہ رسم کیا ہوتی ہے مگر مجھے یاد پڑتا ہے کہ بس یہ دودھ اور پانی رکھا تھا میری اماں جان نے لاکر چچی کے سامنے ۔۔۔”

وہ اب بے بسی سے بولا تھا ۔۔

فجر مسکرا کر رہ گئی تھی۔۔۔

اس وقت ماضی میں جانا نہیں چاہتی تھی اس لئے جلدی سے اپنا ذہن بٹانے کے لیے بولی ۔۔

“میں اس میں اپنی انگوٹھی ڈال رہی ہوں اگر آپ نے ڈھونڈی پہلے تو آپ ہمیشہ مجھ پہ ہاوی رہینگے اورحکمرانی کریں گے البتہ اگر میں نے ڈھونڈیلی پہلے تو میں آپ کی زندگی کے ہر موڑ پہ تھانے دارنی کی طرح کھڑی ملو نگی آپ کو ۔۔۔”

وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے اپنی انگوٹھی اتار کر ڈال چکی تھی پرات میں ۔۔۔

“کوئی بات نہیں تم مگر تھانیدارنی بنوں گی تو میں تمہارا جیلر بن جاؤں گا” ۔۔۔

کیونکہ مجھے تھانیدارنی سے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔

وہ ڈرنے کی بھرپور ایکٹنگ کرکے بولا تھا ۔۔۔

چلو پھر قسمت آزما کے دیکھ لیتے ہیں کون کتنا دبنگ رہے گا آنے والی زندگی میں ۔۔؟؟؟

وہ کہتے ہوئے اپنامہندی رچا ہاتھ دودھ اور پتیوں میں بھگو چکی تھی اور ساتھ ہی اس کو اشارہ کیا نظروں سے تو وہ بھی اپنا ایک ہاتھ برات میں ڈال چکا تھا ۔