Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 22 (Part 2)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 22 (Part 2)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

مگر اس وقت وہ بہت مسرور سی تھی حمزہ کا اس کے لئے یکسر بدلا ہوا اور فکر مندانہ سہ پریشان کن رویہ دیکھ کر۔۔۔

وہ کسی صورت بھی اس کو واپس اس ٹون میں آنے دینا نہیں جا رہی تھی ۔۔

اس نے ٹھان لی تھی کہ وہ اپنی ذات اور اس سے جوڑے کئی رشتوں کے لیے حمزہ کے اندر موجود ایک پیارے سے شخص کو جگہ کر رہے گی ۔۔

“بے شک ہر دفعہ عورت کو جھکنا پڑتا ہے مگر اس دفاع میں تمہیں سدھار رونگی ۔ “

“ہوا کی بیٹی ہوں خود کو ہرگز کمزور نہیں پڑھنے دوں ۔۔”

“تمہیں تمہارے ہی طریقے سے زیر کرکے دکھاؤں گی”

حمزہ تمہیں نہیں پتا کہ تمہارا کس سے پالا پڑا ہے میں کوئی انیس سو نامعلوم کی ستی ساوتری سی ہیروئن نہیں ہوں اور نہ ہی میں کسی ناول کی معصوم سی کردار ہو جو قربانیاں دے دے کر خود کو ہلکان کرتی رہے “””

“میں آج کی لڑکی ہوں ۔۔۔۔”

“یا تو تمہیں فتح کر لو گی ۔۔۔”

یا پھر ۔۔۔

“اپنی راہیں جدا کر بیٹھونگی” ۔

“مگر ہار نہیں مانو نگی”

وہ بہت اچھی طرح جان چکی تھی کہ حمزہ چاہ کر بھی اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کر پارہا۔۔۔

اتنے بڑے بڑے دعوے کرنے والا اس کی اتنی سی معمولی تکلیف میں تڑپ کے رہ گیا تھا ۔۔

“میں تمہارے دل میں اپنا مقام بناو نگی ،اپنی محبت کی شمع روشن کرو نگی “۔۔۔۔

“حمزہ میں تمہارے اور بابا کے درمیان موجود چپقلشوں کو دور کرکے رہو نگی”۔۔۔

” اتنا پیارا رشتہ ہے تم دونوں چچا بھتیجے کا میں اس رشتے میں دوبارہ سے رنگ بھرونگی ۔۔”۔

محبت کے رنگ اپنائیت کے رنگ ۔۔

اس کے لئے شاید مجھے حورم بھابھی اور آدم بھائی کی بھی مدد کی ضرورت ہو گی ۔۔

“عورت اگر چاہے تو پتھرکو بھی موم بنا سکتی ہے ۔۔”۔

“تم تو پھر جیتے جاگتے انسان ٹھہرے” ۔۔۔۔۔

“تمہیں اپنا نا بنا لیا تو میرا نام بھی شفا نہیں “۔۔۔۔

“حورم بھابی آپ نے بالکل صحیح کہا تھا میں آپ کے دیے گئے مشورے پر لازمی عمل کروں گی ۔۔”

وہ سوچتے ہوئے حمزہ کا بتایا ہوا لباس پہن کر باہر آچکی تھی اور باہر حمزہ جلے پر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر چہرے پر پریشانی لیے ٹہلتا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔

“میں آگئی ہوں “۔۔۔۔

وہ نظریں جھکائے جھجکتےہوئے بولی تھی ۔۔۔

جبکہ دوپٹے سے اپنے وجود کو ڈھانپنے کی اپنی سی کوشش کی گئی تھی۔۔۔۔

وہ خود کو حمزہ کی نظروں سے بچانا چاہ رہی تھی ۔۔

۔۔

دوپٹے کو خامخوا دوبارہ سے اچھی طرح خود پے لپیٹنے لگی ۔

حمزہ اس کی آواز سن کر اسکی طرف لپکا تھا اور اس کو بازو سے تھام کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے تیزی سے چیئر گھسیٹ کر بٹھایا تھا۔۔۔۔۔

وہ اب بغیر کچھ بھی کہے چیئر پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔

” میری وجہ سے تمہیں اس قدر تکلیف اٹھانی پڑی”۔۔۔۔۔

وہ بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔

مگر مخاطب وہ خود سے ہی تھا ۔۔

اس کی پشت کو ڈھانپے ہوئے دوپٹے کو اس نے بغیر کسی بھی ہچکچاہٹ کے اتار کر بیڈ پہ اچھالا تھا اور ایک نظر اس کے حیاء سے سرخ پڑے چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ چھوٹی سی پیالی میں رکھی آئس کیوب اٹھا کر اس کے زخم پے ٹکور کرنے لگا۔۔۔۔۔

پھر اس کے بعد اس پر برنال لگا کر مطمئن سہ ہو کرشفا کو دیکھا اور بغیر کچھ کہےاس کو بازوؤں میں بھر کر بیڈ پہ لے جاکے کروٹ سے احتیاط سے لیٹ آنے کے بعد اس نے سکون کا لمبا سہ سانس فضا میں بھرا ۔۔۔

۔۔

وہ خود آب شفاء سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے بیڈ کے دوسرے حصے پر آکر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کے لینمپ کی روشنی ہلکی کرکے دراز ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔!!!

“کیا میں جو اس معصوم لڑکی کے ساتھ کر رہا ہوں وہ سب کچھ ٹھیک ہے “؟؟؟

“تم ایک اور ائمہ کو وجود میں لا رہے ہو”۔۔۔۔

آدم کا کہا جملہ ایک دفعہ پھر اس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح ٹکرایا تھا ۔۔۔

صطفی نے ہوا میں گونجتی آواز کے تعقب میں مڑ کر دیکھا تھا ۔۔۔

جہاں سوہا کے ایک ادھیڑ عمر پروفیسر اس سے مخاطب تھے۔۔۔

مگر سر میں آپ کو بتا چکا ہوں کے شی از مائی وائف۔۔۔

” اس کے بعد تو کسی بھی قسم کا جواز نہیں بنتا سو ہاکےنہ جانے کا اور میری مرضی کے بغیر آپ لوگوں کے ساتھ واپس جانے کا بھی ۔۔”

وہ شائستگی سے کہتا واپس اتر کر وہاں کے سامنے آ کر کھڑا ہو چکا تھا اس طرح کے اور مصطفی کی پشت شوہر کو منہ چڑا رہی تھی وہ پوری طرح مصطفی کے پیچھے چھپ چکی تھی ۔۔

“جلاد نہ ہو تو “۔۔۔

سوہانے اس کو دل ہی دل میں جلاد کا لقب دیا وہ دانت پیس کر رہ گئی تھی۔۔۔۔

” بالکل ٹھیک کہا آپ نے مگر ہم بغیر ثبوت کے سوہا کو کسی طور بھی آپ کے حوالے نہیں کر سکتے ۔۔۔”

وہ اپنے اب نرم لہجے میں اس کو سمجھانے والے انداز میں بولے تھے ۔۔۔۔

کہیں نہ کہیں وہ بھی اس کی پرسنیلٹی سے انسپائر ہوئے تھے ۔۔

میرے پاس اس وقت نکاح نامہ نہیں ہے اگر مجھے ذرا سا بھی علم ہوتا کہ میری وائف کے ساتھ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آجائے گا تو میں ضرور ہر جگہ اپنی جیب میں نکاح نامہ رکھ کے گھومتا ۔۔۔

ہاں مگر آپ کی تشویش کا میرے پاس واحد ایک حل ہے کہ آپ میری وائف سے خود ہی پوچھ سکتے ہیں کہ یہ میرے نکاح میں ہیں یا نہیں ۔۔

وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرکے سوہا کو سامنے لے کر اس کی کلائی مضبوطی سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کر اب بالکل اپنے ساتھ برابر میں کھڑا کر چکا تھا۔۔۔۔۔

کلائی سختی سے اپنی فولادی گرفت میں جکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

بتاؤ سوہا کیا تم میری بیوی ہو یا نہیں ۔۔؟؟۔۔

جبکہ ہاتھ میں تھامی کلائی پہ لمحے بھر کے لیے زور دیکر مزید گرفت سخت کردی گئی تھی۔۔۔۔

جیسے کہا گیا ہو کہ۔ ۔

جلدازجلد ہاں میں جواب دو اور سب کو روانہ کرو ۔۔۔

بتاؤ سوہا بیٹا کیا یہ تمہارے شوہر ہیں؟ ؟؟۔

تمہیں کسی سے بھی ڈرنے یاگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔

پروفیسر چشمے کی اوٹ سے اس کو شفقت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔۔۔

جج ۔۔۔۔۔۔۔جی مم۔ ۔۔۔۔ شوہر ؟؟؟

اس کی خود کی آنکھوں میں بھی یقینی تھی مصطفی کی کہی بات کو لے کر وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔

کہ اس سے آگے بولے بولنے کا موقع ہی اسکو مصطفی نے نہیں دیا تھا۔۔۔

اس کے جی کہنے کے فوراً بعد وہاں ٹھہرے بغیر وہ سوہا کو لے کر اپنی جیپ میں بٹھا کے اسے اڑا لے گیا تھا جیسے جہاز اڑا رہا ہوں ۔۔۔

وہ اس کو لے کر سیدھا ایک ریسٹورنٹ میں آیا تھا ڈنر کے لئے ۔۔

وہ اچھی طرح یہ بات جانتا تھا کہ وہ بھوک کی بہت اچھی ہے ۔۔

چھوٹی تھی تب بھی بہت زیادہ بھوک کی کچی ہوا کرتی تھی۔۔

ویسے تو مصطفی کے پاس آتی ہی نہیں تھی اس کو دیکھ کر زور زور سے رونا دھونا بھینکڑا پھارنا شروع کر دیا کرتی تھی ۔۔

اور جو اگر وہ کوئی چیز کھا رہا ہوتا تو محترمہ ایسے پیار سے اس کے پاس اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آتی جیسے وہ اس کا پہلا اور آخری دوست ہو ۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے وہ منہ پھلاتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کے اترنے کے ساتھ ہی خود بھی اپنی تشریف کا ٹوکرا لئے اتر چکی تھی ۔۔

تو میں نے تم سے کب پوچھا کہ تمھیں کھانا کھانا ہے یا نہیں ؟؟

مجھے بھوک ہے اس لئے میں ادھر آیا ہوں میں۔۔۔

وہ بے رخی سے کہتا اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ریسٹورنٹ ایک قدرے پرسکون گوشہ تلاش کرکے ادھر جا بیٹھا تھا۔۔۔۔

میرا ہاتھ کیوں پکڑا ہوا ہے!؟؟

چھوڑے میرے ہاتھ کو ۔۔

میں کوئی نہیں دودھ پیتی بچی تو نہیں ہوں ۔۔

ہاں صحیح کہا تم واقعی دودھ پیتی بچی نہیں ہوں مگر پھر بھی اپنی حفاظت کرنا نہیں جانتی ۔۔

نا چاہتے ہوئے بھی مصطفی کا لہجہ سخت ہوا تھا ۔۔

وہ برہمی سے کہتا ویٹر کو اشارہ کر چکا تھا۔۔۔

یعنی بات کو اپنی طرف سے بالکل ختم کر دینے کا اعلان تھا۔۔۔

تاکہ سوہا مزید کوئی بھی بات اب پھر سےاس سے اس ٹوپک پہ نہ کرے ۔۔

ہنٹر بیف سنگل سرونگ ۔۔۔۔

وہ اپنے لئے آرڈر لکھ وارہا ہوں لکھوا رہا تھا ویٹر کو۔۔۔۔۔

گرل چکن ود مندی سنگل سرونگ۔۔۔۔۔

سوہانے بھی جھٹ سے اپنا آرڈر بھی دے ڈالا ۔۔

ویٹر آرڈر لے کر جا چکا تھاجبکہ وہ ادھرسے ادھر چیئونگم چباتے ہوئے دیکھ رہی تھیں جیسے وہ تنہا وہاں موجود ہو اور مصطفی نامی کوئی شخص اس کے ساتھ جیسے تھا ہی نہیں ۔۔

آبھی تو تمہیں کھانا کھانا ہی نہیں تھا پھر یہ آرڈر کیا میرے سسرالیوں کےلئے دیا ہے؟؟؟

وہ ہونٹوں پہ شریر سی مسکراہٹ سجا کے بولا تھا کچھ لمحوں پہلے اس کو سوہا سے کی گئ اپنی سختی کا احساس ہو گیا تھا۔۔۔

اس لیے اب لہجہ قدرے نرم پڑ چکا تھا ۔۔

ہاں تو کوئی احسان نہیں لے رہی میں آپ کا میرا ۔۔

میرا جو کھانا میں نے آرڈر کیا ہے اس کابل میں بعد میں آپ کو دے دوں گی ۔۔۔

ابھی فی الحال میرے والٹ میں پیسے تو دور کی بات وسلٹ اور سامان کچھ بھی نہیں ہے سب کچھ ہوٹل میں ہے۔۔۔

جہاں آپ نے مجھے جانے نہیں دیا ۔۔۔

اوتو یعنی تم مجھ سے ادھار لے رہی ہو؟؟؟

وہ اس کے گلابی پھولے پھولے رخساروں کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا ۔۔

جی بالکل میں کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتی۔۔۔۔۔

وہ صرف بولی ہی نہیں تھی بلکہ فرضی کالر جھاڑتے ہوئے ایک ادا سے اسکو نن

بھرپور انداز میں جتا یا بھی تھا ۔۔

تو پھر یاد رکھنا جتنے بھی میں تم پہ بقول تمہارے احسان کرو نگا۔۔۔

اس کا حساب میں پھر اپنی مرضی سے سود سمیت وصول کروں گا۔۔۔۔

وہ بہت گہرے لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔ ۔۔

سوہا کے تو سر پر سے گزر ہی گئی تھی اس کی کہی بات مگر پھر بھی چپ رہنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا ۔۔۔

ہاں ہاں لے لیے گا ویسے شاید آپ کو معلوم نہیں ہے سود ہمارے مذہب میں حرام قرار دیا گیا ہے۔۔۔

وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں گھما کر اور ستواں چھوٹی سی ناک چڑھا کے ایسے بولی جیسے مصطفی کو بڑی بوڑھیوں کی طرح سمجھانا چاہ رہی ہوں ۔۔

سود حرام ہے مگر میرا جو تم قرض اتارو گی آئندہ زندگی میں۔۔۔

وہ اس سود سے ذرا مختلف ہے ۔۔۔۔

مختلف مطلب؟؟؟

وہ بھرپور جرح کے موڈ میں آ چکی تھی۔۔۔

مطلب ابھی میں تمہیں خود بھی سمجھانے سے قاصر ہوں ۔۔

وہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپا سکا تھا جان چھڑانے کو جلدی سے بولا ۔۔۔

سوہا کا کمسن حسن اس کو خوامخواہ اس سے شرارتوں پر اکسا رہا تھا اس کو خود بخود تنگ کرنے کا دل کرنے لگا تھا۔۔۔

وہ واحد تھی جو اسے بے خوف و خطر لہجے میں مخاطب کیا کرتی تھی۔ ۔

ورنہ کسی بھی اتنی مجال نہ تھی کہ اس سے اس طرح سے مخاطب ہوسکتا۔ ۔۔

ویٹر کھانا سر وہ کرکے جاچکا تھا ۔۔

سوہانے ایک طائرانہ نظر ٹیبل پر ڈالی اور جلدی سے مصطفی کے آرڈر کردہ ہنٹربیف خود اپنے آگے اچک کے رکھ لیآ۔۔۔۔

یہ کیا؟ ؟؟؟؟

ارے ارے یہ کیا ہے؟!!!

یہ تو میرا آر ڈر ہے۔۔۔۔

وہ بھنو اچکا کر اس کو گھورتے ہوئے مصنوعی غصہ میں کہنے لگا۔ ۔

۔۔

کھانا تیرا میرا ہرگز بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔

کھانا سب کا ہوتا ہے۔۔۔

تھوڑا آپ یہ کھائیں اور تھوڑا یہ۔۔۔

وہ ایسے بولی جیسے کہہ رہی ہوں میری مرضی میں جو بھی لو ۔۔۔

اس کا مطلب ہے کہ نہ تم مجھے اپنا کھانا دے رہی ہو اور نہ مجھے میرا کھانا دے رہی ۔۔۔

میں کیا ٹوگنے کے لیے بیٹھا ہوں ۔۔

وہ جھلا کر بولا اورساتھ ساتھ اس کو خشمگین نظروں سے گھورتے۔ ہوئے گھررکنا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرتے ہوئے بھی اس نے ایک پیار بھری نظر سوہا کے معصوم سے چہرے پر ڈالی تھی ۔۔

سوہانے بھی اس کے بسم اللہ پڑھنے پر جھٹ خود بھی بسم اللہ پڑھا اور دوبارہ سے کھانے پر جھک گئی۔۔

مصطفی اس کی ایک ایک حرکات وسکنات کھانے کے ساتھ ساتھ نوٹ بھی کر رہا تھا ۔۔۔

“ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ مری سے واپس اسلامآباد جانے والے تمام راستے بند ہو چکے ہیں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے۔۔۔”

ہم آپ کو بتاتے چلی یک دفعہ پھر کہ مری سے آنے والے راستے بدترین ٹریفک کا شکار ہے ،”۔۔۔

سوہا نے کھانا چھوڑ کر جلدی سے نیو ز سن کر مصطفی کو دیکھا تھا جس کے خود کے چہرے پر بھی پریشانی رقم تھی ۔۔۔

وہ دونوں جلدی جلدی کھانا کھا کر ریسٹورنٹ سے باہر موجود اپنی جیپ کے پاس پہنچے تھے ۔۔۔

مصطفی کا موبائل بجا تھا اسنے یہی سوچا تھا کہ جلد از جلد سوہا کو کراچی پہنچادیگا گا مگر یہ ہرگز امید نہ تھی کہ تمام راستے بلاک ہو جائیں گے ۔۔

اس نے فون ریسیو کر کے کان سے لگایا تھا دوسری طرف سمیرا موجود تھی۔۔۔

بیٹا مجھے میری کزن سے پتہ چلا کہ سوہا تمہارے ساتھ ہے اور اب خبریں سن کر تو گویا میرے ہاتھ پاؤں کی پھول گئے ہیں ۔۔

آپ لوگ بے فکر رہیں سوہا میرے ساتھ ہے ۔۔

وہ سوہا کی کلائی کو پشت کی طرف لے جاتے ہوئے بولا۔ ۔

نہیں انشاء اللہ جلد ہی راستہ صاف ہوجائے گا ۔۔

وہ اب خشمگین نظروں سے سب کو گھورتے ہوئے کہہ رہا تھا جو بری طرح سے اپنی کلائی اس سے چھڑوانے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔۔۔۔

جی لگ تو رہا ہے کہ پانچ دن لگ جائیں گے ۔

وہ فون پہ رحمان صاحب سے مہو گفتگو تھا

پلیز ہاتھ چھوڑئے میرا ۔۔۔۔

وہ اس کے فون رکھتے کے ساتھ ہی من منائی تھی ۔۔۔

مصطفی کبھی بھی ہاتھ چھوڑنے کے لئے نہیں تھا متا۔ !!میں دماغ سے ابھی اتنا فارغ نہیں ہوا کہ تمہارا ہاتھ اتنی آسانی سے چھوڑ دو ں ۔

وہ اس کو بازو سے اٹھاکر اپنے شانے پہ ڈال کےجیپ میں بٹھا چکا تھا اور خود کودنے کے انداز میں ایک ہی جست میں فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

میں فون پر ماما کو ضرور بتاؤں گی کہ آپ نے مجھے گود میں اٹھا کر جیت میں پٹخاتھا ۔۔

وہ ہمت کر کے کہہ بیٹھی تھی ۔۔۔

ابھی تو صرف پٹخا ہے مجھے زیادہ ستایا تو سوچ لو وہ سامنے والی سب سے اونچی چوٹی دیکھ رہی ہوں نہ جو پوری برف سے ڈھکی ہوئی اس پر بٹھا کے آ جاؤں گا تمھیں ۔۔۔

وہ اب غرایا تھا ۔۔۔