Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 19

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 19

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

کیوں ایسی کیا خرابی ہے اس میں؟ ؟؟؟

مجھے کوئی وجہ تو بتاؤ تاکہ میں تمہارے ابو کے سامنے انکار کر سکو اس رشتے سے۔۔!!

سمیرا نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس کو اس سوالیہ نظروں سے گھورا ۔۔

امی کی یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ وہ مجھ سے عمر میں کتنے بڑے ہیں ۔۔۔؟؟؟؟؟

سولویں میں تم لگ چکی ہوں چند مہینوں میں سترہویں برس میں لگ جاؤں گی۔۔۔۔

اور خیر سے تم بچی تو ہو نہیں ۔۔۔۔

یہ میں بھی بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔۔

تمہارا یہ جو دماغ ہے نا یہ انڈین فلمیں دیکھ دیکھ کے خاصا خراب ہو چکا ہے ۔۔

سمیرا کا بری طرح سے دماغ گھوم چکا تھا وہ اسکو ڈپٹتے ہوئے بولی ۔۔

امی مجھے کچھ نہیں کہنا اور نہ ہی مجھے اس رشتے میں کوئی انٹرسٹ ہے۔۔۔۔

آپ بس پلیز مجھ پہ رہم فرمائیں اوراس رشتہ سے منع کر دیں۔۔۔

اس کے بعد آپ جس سے کہینگی میں آنکھیں بند کرکے شادی کرلو نگی ۔۔۔۔۔

وہ ماں کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے شرارت سے بولی تھی ۔۔۔۔

مما آپ کو پتہ ہے میرے کالج والے ہمیں ٹرپ پہ ناران کاغان لے کر جا رہے ہیں ۔۔۔؟؟؟

تم ہرگز بھی نہیں جاؤں گی ۔۔!!!

سمیرا نے اس کے کہنے سے پہلے ہی انکار کیا ۔۔۔

ماما پلیز جانے دیں نا اور پھر ساجدہ آنٹی بھی تو ہمارے ساتھ جا رہی ہیں ۔۔!!

سوہانے سمیرا کی چچازاد بہن کا نام لیا جو کالج کی وائس پرنسپل بھی تھی اور ساتھ ہی اس کی بہترین دوست ۔۔۔۔

ٹھیک ہے اگر ساجدہ مجھ سے خد بات کر کے تمہاری ذمہ داری لے گی تو ٹھیک ہے۔۔۔! !

میں تمہیں بھیج سکو نگی ۔۔۔۔۔

واقعی مماکیا سچی؟؟؟

وہ ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر بولی جلدی سے ناشتہ چھوڑ کہ ۔۔۔

ہاں سچی ۔۔!!!!

مگر اس کے لئے ساجدہ کو مجھ سے پہلے پرمیشن لینی ہوگی اور ساتھ ہی تمہاری حفاظت کا وعدہ بھی کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔!!!

سمیرا نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔

جبکہ سوہا بڑے مزے سے جاکر ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر دھڑ سے بیٹھ چکی تھی ۔۔

ابھی اس کو کالج جانے میں پورا گھنٹہ باقی تھا وہ بڑے مزے سے ٹی وی کے آگے برجمان ہو چکی تھی ۔۔۔۔

فون کی بیل بجنے پر اس نے بے دھیانی میں جھنجلا کے فون ریسیو کیا تھا۔۔۔۔۔

السلام علیکم۔۔۔۔۔!!

کہیں کس سے بات کرنی ہے؟؟؟

اور ذرا پلیز جلدی بولئے گا کیونکہ اس وقت میری فیورٹ مووی تیفا ان ٹرابل آ رہی ہے ۔۔

وہ بے تکان بولنا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔!!!!

ویسے مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے لایعنی گفتگو کرنے کا ۔۔۔۔

میری مجبوری ہے کہ میں نے لائبہ کے لیے فون کیا ہے ۔۔۔

لائبہ آپی اپنے کمرے میں ہے اور ابھی اپنے روم میں ہیں شاید سورہی ہیں۔۔۔

ٹھیک ہے میں نے آپ کو بتا دیا اب براہ مہربانی مجھے مزید پریشان مت کریں ۔۔۔۔

اوکے اللہ حافظ ۔۔۔

روکو ایک منٹ ۔۔۔!!!!

میں نے تمھیں تو ابھی نہیں کہا فون رکھنے کے لئے ۔۔

اور جب تک میں نہ کہوں تب تک تم فون ڈسکنکٹ نہیں کر سکتی ہو ۔۔۔

کیوں کیوں نہیں کرسکتی؟؟؟؟

میرا فون ہے ۔۔۔۔

میرے ہاتھ ہے۔۔۔۔

میں جب چاہو ں فون کے ڈسپکنکٹ کر سکتی ہوں ۔۔۔

لگتا ہے تمہارا انتظام چلدہی کرنا پڑے گا ۔۔۔۔!!!

میرا انتظام کرنے کے بجائے اپنا انتظام کریں!!!

عمر دیکھیں اپنی ایسا نہ ہو پھر بیٹھے رہیں شادی کے لئے اور کوئی لڑکی کینہ ملے۔۔۔۔۔۔

وہ اس کی 30 سالہ عمر پہ چوٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔

اس بات سے بے خبر کہ وہ کیا کہ بیٹھی ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟

واقعی تمہیں میری اتنی فکر ہے ۔۔۔؟؟؟

ہاں تو ہے۔۔۔۔۔،!!!

مجھے آپ کی فکر بلکل ہے! ! آخر کو آپ میرے پھوپھی کے بیٹے جو ٹھہرے ۔۔۔۔

میرے پھوپھی زاد بھائی ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

بھائی تو صرف میں اپنی بہن کا ہوں ۔۔۔۔۔

ہا ہا ہا۔ ۔۔۔۔ ںشوہر کے رتبے پر فائز نہیں ہوا ہوں ابھی تک!!! مگر امید اچھی ہے کہ یہ عہدہ بھی جلد ہی ملنے والا ہے ۔۔۔

وہ اپنی غصیلی عادت کے برخلاف ہلکے پھلکے لہجے میں گفتگو کر رہا تھا ۔ ۔۔۔

مجھے کیوں بتا رہے ہیں میری کوئی ذمہ داری تھوڑی ہے آپ کے سر پر سہرا سجانے کی ۔۔۔۔

یا آنکھوں میں سرمہ لگانے کی ۔۔۔

وہ چھڑکے دوبدو بولی لہجہ بالکل بچوں کی طرح معصومانہ تھا ۔۔۔۔

چلو پھر ایک ذمہ داری میں تمہیں سونپتا ہو۔ ۔۔۔

کیسی ذمہ داری ؟؟؟

جس دن میری پسند کردہ لڑکی سے میرا نکاح ہوگا ۔۔۔۔

اس دن اس لڑکی کو تمہیں بس اتنا کہنا ہوگا ۔۔۔

کیا کہنا ہوگا ؟؟؟؟

بتائیں میں کہہ دوں گی ۔۔۔!!!

وہ اب بغیر لڑے جھگڑے بہت دلچسپی سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

اس سے کہنا کہ مصطفی کبھی بھی تمہیں خود سے دور نہیں ہونے دے گا ۔۔۔۔۔۔

تم خاص طور پہ میرے لئے بنا کر زمین پر اتاری گئی ہو ۔۔۔۔۔

کیا؟ ؟؟؟؟

یہ کہہ کر مصطفی نے فون بند کیا تھا ۔۔ ۔

جبکہ سوہا بری طرح فون کو گھور کے رہ گئی ۔۔

یہ کیا بات ہوئی ہے بھلا؟؟؟؟

یہ خود بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔

وہ فون کو گھورتے ہوئے بولی ۔۔

عائشہ اور داؤد کو اللہ تعالی نے شادی کے آٹھ سال کے مختصر سے عرصے میں دو بیٹے اور ایک بیٹی کی نعمت سے نوازا تھا ۔۔۔

داود اور عائشہ کی محبت مثالی تھی دونوں دو وجود ضرور تھے مگر روح ایک ہی تھی ۔۔۔

بڑا بیٹا ‏شارق ،منجھلی بیٹی انایا ،اور سب سے چھوٹا باسط ۔۔۔

ان لوگوں کی ننی ننی شرارتوں سے پوری حویلی میں مہکا کرتی تھی۔۔۔۔

جبکہ حماد اور غزل کا ایک ،بیٹی اور بیٹا تھا اور وہ تھا ۔۔۔۔!!!

ارمغان سے دس سال چھوٹی بیٹی تھی سماء . . .

جو کہ انایہ کے ساتھ ۔۔

عنایہ ارمغان کی جان تھی جو اس سے نو سے دس سال چھوٹی تھی ۔۔۔

وہ اس کو پیار سے گڑیا کہہ کر بلایا کرتا تھا ۔۔۔

اور اس کی گڑیا اس کے پیچھے مان مان کہہ کر د مچھلی کی طرح اردگرد گھوما کرتی ۔۔۔۔

دادا اور دادی تو بس اپنے پوتے پوتیوں میں مصروف رہتے نہ دن کی خبر ہوتی نہ رات کا کچھ پتہ ہوتا ۔۔۔۔

اس طرح یہ گھرانہ بہت شادوآباد زندگی گزار رہا تھا مگر پھر اچانک اس ہنستے بستے گھر کو کسی کی نظر کھا گئی ۔۔

اور وہ حادثہ پیش آ گیا ۔۔

جس کے بعد ہنسی اس حویلی سے روٹھ گئی ۔۔۔۔

لائبہ بہت دیر سے کمرے سے ملحق ٹیرس میں کھڑی نیچے بیٹھےعمر کو تکے جا رہی تھی ۔۔۔

بے خیالی میں اس کا ذہن کہاں سے کہاں بھٹک چکا تھا ۔۔

صبح کے سات بج رہے تھے ۔۔۔

وہ فجر پڑھنے کے بعد ٹیرس میں آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

مگر پھر اس کے ذہن میں اچانک سے ایک شیطانی خیال کوندا تھا۔۔۔

اس کے لب بے ساختہ مسکرائے تھےاور وہ اب اپنا پلان تیار کرنے کو کمرے میں جا چکی تھی ۔۔

و ہ اس کے اوپر جھکا تھا اور کلوروفام سے بھیگا ہوا رومال!! اٹھا کر مزاحمت کرتی شفا کے منہ پر جھکتے ہوئےرکھنے کو تھا جب ۔۔!!

آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے میرے ساتھ ۔۔

غلط بھی تو کچھ نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔

اپنی بیوی کو بے ہوش کر کے ہوش کی دنیا میں لانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔!

کہتے کے ساتھ ہی اس نے شفا کاوحشت زدہ چہرہ ایک دفعہ پھر دیکھا تھا چند لمحے کیلئے حمزہ کے ہاتھ کپکپائے تھے ۔۔۔

جبکہ شفا کو لگا جیسے وہ اپنی خوں آشام نظروں سے اسکو گھورتے ہوئے آنکھوں کی زبان میں کہہ رہا ہوکہ۔ ۔۔۔۔

” یہ تو شروعات ہے “۔۔۔

وہ رومال اس کے چاند جیسے خوبصورت چہرے پہ رکھ کر چند ہی منٹ میں اس کو بےہوش کر چکا تھا ۔۔۔۔

معافی نہیں مانگونگا ہرگز اپنے کسی بھی فعل کی!! کیونکہ۔۔۔۔!!!

یہ سب کچھ تمہارے باپ کا بویا ہوا بیج ہے ۔۔۔

جو اب تمہیں کاٹنا ہو گا۔۔۔۔۔

وہ اس کو رات کے اندھیرے میں اپنے بائیں ہاتھ کے شانے پر اوندھا ڈال کر دبے پاؤں جس طرح آیا تھا اسی طرح گھر کا مین گیٹ عبور کر واپس چکا تھا ۔۔۔

تو میں یہ کہوں گا کہ وہ میرے سامنے نہیں بلکہ میرے اندر۔۔۔۔

میری روح میں بستی ہے۔۔۔۔۔۔

وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔۔

بارش کتنی تیز ہو رہی ہے نہ؟؟؟

ہاں بلکر جیسے ہجر کی پہلی بارش ہو۔ ۔۔۔۔۔!!!

وہ غائب دماغی سے بولا۔ ۔۔۔

میں گلاس ونڈو سے نظر آتی برسات کی بات کر رہی ہوں !! ہجر کاٹنے کا کام آپ بعد میں سرانجام دیسکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

وہ باہر رات کے دوسرے پہر برستی گرج چمک کے ساتھ بارش کو دیکھتے ہوئے کھلا کر ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔

آپ کو بارش پسند ہے نہ بہت بارش ؟؟؟

وہ کچھ سوچتے ہوئے کافی کا آخری سپ لیتے کہہ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔

ارمغان کے ساتھ اس کی چند ایک ملاقات میں ہی نہ محسوس سی انسیت وابستہ ہوگئی تھی ۔۔۔

اس سے پہلے وہ کہاں کسی لڑکے سے یوں اس طرح بے تکلف ہوئی تھی۔۔۔

وہ اپنے آپ میں رہنے والی ایک ڈھکی چھپی سی لڑکی تھی۔ ۔ ۔۔۔

ہاں مجھے بارش بہت پسند ہے اور میری گڑیا تو اس بارش کی دیوانی تھی۔۔۔

بارش اگر رات کے چار بجے بھی ہوا کرتی تو وہ سیدھا میرے کمرے کا دروازہ بجا کر زور زور سے ہانک لگایا کرتی کہ ۔۔۔!!!؛

“مانی باہر آؤ دیکھو کتنی تیز بارش ہو رہی ہے ۔”

وہ کھوئے ہوئے لہجےمیں بولی تھی ۔

ارمغان کے بجائے اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔۔۔

تم کیسے کہہ سکتی ہوں یہ؟ ؟؟

وہ یہی تو کہتی تھی۔

ارمغان چونک سا گیا ۔

نہیں۔۔!!

بس ویسے ہی کیوں کہ آپ کی گڑیا کی اتنی باتیں سن چکی ہوں نہ!! تو ذہن نے خود بخود ایک جملہ بنا اور لبوں نے اس کو آواز کے سانچے میں ڈھال کر آپ کی سماعت تک پہنچا دیا ۔۔ ۔!!

وہ اب اس کا دیھان ہٹانے کو بولی تھی۔۔۔

بہت کچھ جان کر بھی اس کو ظاہر کرنے سے قاصر تھی۔ ۔ ۔

لبوں کو سی بیٹھی تھی ۔۔۔

ارمغان کے سامنے چاہ کر بھی بہت کچھ بتانا چاہتی تھی کہنا چاہتی تھی مگر کوئی طاقت تھی جو اس کو بہت سے رازوں پر سے پردہ فاش نہ کرنے دے رہی تھی ۔۔۔۔

تو پھر چلو آؤ اس برسات میں بھیگتے ہیں۔ ۔۔!

ارمغان نے اس کے آگے اپنی چوڑی ہتھیلی پھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔

فجر نے کچھ لمحے سوچا۔۔۔

پھر سب ہی سوچوں کو جھٹک کر دل کی کہی پہ عمل کیا اور اپنا نازک سہ مر مری گلابی روئی جیسا ہاتھ اس کی پھیلی ہوئی کشادہ مضبوط ہتھیلی پہ رکھ دیا ۔۔۔۔

“ہم نہ پہچانے زندگی تجھ کو۔۔”

‘ جب ملی تو ملی نقابوں میں ۔۔۔”

وہ دونوں اس برستی گرجتی بارش میں اس طرح بھیگ رہے تھے جیسے کئی سالوں سے دلوں کے اندر پنپتےدکھوں کو اس برسات میں بہا دینے کا عزم کر چکے ہوں۔ ۔

فجر بہت ساری تکلیف دہ یادوں کو جھٹک کر ان میں بری طرح کھو چکی تھی۔۔۔۔