Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 25

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 25

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

وہ ناچاہے کب سے بے ہوش تھی۔ ۔

لائبہ نے آہستہ آہستہ اپنی بھاری آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی مگر پھر دوبارہ دکھتے ہوئے سر کی وجہ سے اس کو اپنا سر واپس تکیہ نما چیز پہ گرانا پڑا تھا ۔۔

پورا وجود اس کا سن سا ہو رہا تھا وہ خود کو ہواسوں میں لانے کی تگ و دو میں سر تکیے پہ ادھر سے ادھر پٹخ رہی تھی ۔۔۔

کچھ پل یوں ہی سر کے تھے وہ اب بھاری بلکیں جھپک چھپک کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔

وہ ایک سادہ سا کمرہ تھا جس کا رنگ جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا دیواریں سیلن زدہ جبکہ کمرے کی چھت پرمکڑی کے بڑے بڑے جالے لٹک رہے تھے ۔۔

لائبہ نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کر کے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔

سیمنٹ کے جگہ جگہ سے ٹوٹے پھوٹے فرش پہ سے اٹھنا اس کے لئے تھوڑا مشکل ثابت ہورہا تھا بس اس کے سر کے نیچے ایک مٹی یا ریت سے بھری بوری تھی جس کو اسکیلئے تکیہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ۔۔۔

وہ ہمت کرکے اب اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور دوزانو بیٹھی اپنا سر دونوں ہاتھ میں گرائے اپنے ساتھ ہونے والی واردات کو سوچنے لگی ۔۔

وہ وحشت زدہ سی اپنے دماغ پر زور ڈال رہی تھی اب اس کے حواس کافی حد تک بیدار ہوگئے تھے یکا یک اس کو ساری صورتحال کا بخوبی اندازہ ہو ا تھا سڑک پر چلتے ہوئے ہائی روف کارکنا اور پھر اس کو انجیکشن لگانا زبردستی بےہوش کرنا سب کچھ نظروں میں کسی فلم کے سین کی طرح گھوم کر رہ گیا تھا ۔۔۔

مجھے اغوا کیا گیا ہے؟؟

یہ کیسے ہوگیا؟؟

وہ شدید خوف و ہراس سے روتے ہوئے زور سے چلائی تھی ۔۔

“میری مدد کرو کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟

کیا بگاڑا ہے میں نے؟؟؟

یا اللہ میری مدد کر مجھے اس مشکل سے نکال ۔۔

کمرے کے اندر موجود چھوٹی سی کھڑکی کمرے کی چھت سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھی اس نے فرش پہ بیٹھے بیٹھے ہی وقت کا تعین کرنا ۔۔

رات کے سائے پھیل چکے تھے ۔۔

وہ اب بے بسی سے اپنے خدا کے آگے گڑگڑا رہی تھی مدد طلب کر رہی تھی ۔۔

چرررر۔ ۔۔

کی آواز کے ساتھ دروازہ نے سکوت کو چیرا تھا۔ ۔

لائبہ نے قدموں کی چاپ اور دروازہ کھولنے کی آواز کو سن کر چہرہ اونچا کرکے دیکھا تھا ۔۔

خوف و ہراس کی تمام تر تحریری اس کے چہرے پر رقم تھی ۔۔

آنے والا سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر کھڑا اپنی انگلش تے شہادت میں کی چین گھما رہا تھا ۔۔۔۔

عمر جب آفس سے تھکا ہارا گھر پہنچا تھا اس وقت مغرب ہو رہی تھی۔۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے ؟؟

اس نیں گھر میں پھیلی ویرانی اور سکوت کو محسوس کرکے گھبرا کر پوچھا تھا ۔۔۔

ورنہ اس وقت ان کے گھر میں بہت رونق برپا ہوتی تھی ۔۔۔

اب وہ فکرمند نظروں سے لاؤنج میں صوفہ پر برجمان سمیرا اور ائمہ کے اترے اور پریشان کن چہروں کو دیکھ رہا تھا ۔۔

کچھ بھی ٹھیک نہیں ہیں بیٹا۔۔

ایمہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

کیا ہوا بڑھی ا می سب خیریت تو ہے؟؟؟

ماما کیوں اس طرح رو رہی ہے ؟

وہ ہاتھ میں تھامی فائل ٹی ل پہ رکھ کر وہیں صوفے پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔

بیٹا شام سے لائبہ کا کچھ اتا پتا ہی نہیں ہے تمہارے بابا بھی ہر جگہ اس کو تلاش کر رہے ہیں۔۔۔

سمیرا نے پریشان کر لیجے میں اس کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کیا ۔۔۔

کیا مطلب؟؟؟

کک ۔۔۔

وہ کہاں جا سکتی ہے؟؟؟

اس کو تو ادھر کے راستوں تک کا علم نہیں ہے ۔

اس کو باہرکس نے جانے دیا اور مجھے کسی نے بتانا بھی گوارا نہیں سمجھا ۔۔۔

اتنی بڑی بات ہوگئی ہے۔۔

اس گھر کی عزت ہے وہ۔۔۔۔۔۔

وہ غصے میں آگ بگھولا ہوا تھا ۔۔۔

آنکھیں غصہ کی شدت سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔

عمر بیٹا سمیرا نے تمہیں بہت فون کیے مگر تمہارا فون بندجا رہا تھا ۔۔۔

ائمہ نے روتے ہوئے اس کو سمجھایا عمر نے بغیر کچھ کہے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا جو بیٹری ڈاؤن ہونے کی وجہ سے بند پڑا تھا۔۔۔

اس نے اپنا موبائل اٹھا کر دیوار پہ دے مارا تھا۔۔۔۔۔

عمر اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا وقت ہے۔۔۔

جلد از جلد جلد جاؤ لائبہ کو ڈھونڈنا ہوگا نہیں تو تمہارے پھوپھو اور پھوپھا کو کون جواب دے گا ۔۔

اور مجھے تو مصطفی کو سوچ سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں ۔۔

جب اس کو پتہ چلے گا کہ اس کی بہن لاپتہ ہے تو وہ تو غضب ڈھا دے گا ۔۔

میں سی سی ٹی وی ویڈیو نکلوانے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔

ان دونوں کی پریشان کن چہروں پہ ایک بے بس سی نظر ڈالتا کہہ کر جا چکا تھا ۔۔

۔۔

کیا ہے ؟؟؟؟

میرا ہاتھ چھوڑئیے ۔۔۔۔۔۔!!

وہ اس کے ساتھ گرتی پڑتی چلی جا رہی تھی جبکہ مصطفی نے اس کو لاکر صوفہ پہ پٹخنے کے انداز میں ہاتھ چھوڑ کر بٹھایا تھا ۔۔۔۔۔

آپ ۔۔۔۔آپ بہت خراب ہیں۔۔۔۔۔۔!!

وہ چڑھ کر خود سری سے گویا ہوئیں ۔۔

میں اس سے زیادہ خراب ہو ۔۔

یہ تو صرف تم نے ایک چھوٹا سا ٹریلر ملاحظہ کیا ہے ۔۔۔

تمہارے بہتری اسی میں ہے کہ اپنی یہ قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبان کو بریک لگا لو۔۔۔۔۔!!!!

وہ صوفے کے اردگرد اپنے دونوں ہاتھ جماتے ہوئے اس کے اوپر جھکا اور اس کی خوبصورت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا ۔۔۔۔۔۔

آپ پلیز مجھے اس طرح تنگ نہ کریں۔۔۔۔۔!!

وہ اس کی نظروں کی تپش سے بوکھلائی ۔۔

میں تمہیں تنگ کرتا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ صرف میرا حق ہے۔۔۔۔۔!!!!

نظریں ہنوز سوہاکے صبیح چہرے کا طواف کررہی تھیں۔ ۔۔

ایویں ۔۔۔!!

کس نے دیا آپ کو یہ حق ؟؟

وہ اپنی بوکھلاہٹ چھپا کر غرائی تھی۔۔۔۔۔۔

” مصطفی حق مانگتا نہیں بلکہ اپنا حق نہ منے کی صورت میں چھینتا ہے “۔۔۔۔۔۔

وہ اس کی تھوڑی اپنی انگشت شہادت سے اونچی کرکے کہہ رہا تھا ۔۔۔

میں کوئی چیز نہیں ہوں جو آپ مجھے چھین لیں گے ۔!!

میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں ۔۔۔!

دکھ رہاہے مجھے بہت آھی طرح ۔۔۔۔

” جو تمہارے دو ٹکے کے بھرم بھرےڈ ائلا گ ہے یہ مجھ پہ رتی برابر بھی اثرانداز ہونے والے نہیں ہیں تم جتنی مجھے چھوٹی اور معصوم لگتی ہو نہ تم بالکل ایک پھلجڑی ہو جو ہر وقت مجھے سلگانے کے کام میں جتی رہتی ہے ۔۔”

وہ اس کے کان کے قریب جاکر چھیڑنے والے انداز میں بولا تھا۔۔۔

سوہا کی کھسیاہٹ و بوکھلاہٹ اس کو مزید تنگ کرنے پر اکسا رہی تھی ۔۔

ویسے ایک راز کی بات بتاؤ جو عنقریب تمہارے مستقبل قریب میں تمہارے کافی زیازہ کام آئے گی ۔۔۔!!!

وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔۔۔

جبکہ سوہا گھبرا کر تھوڑا سا پیچھے کھسکی اور صوفے کی پشت سے اپنا سر ٹکا چکی تھی ۔۔۔

مصطفی کی انتہائی قربت سے اس کے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو چکا تھا ۔۔۔

تم بس صرف مجھے سوچا کرو ۔۔۔!

مجھے ہی چاہا کرو اور تمہاری ہر سوچ مجھ پہ شروع اور مجھ پر ختم ہونی چائیے ۔۔

تمہارے ایک ایک لمحہ پر صرف اور صرف میرا پہرا رہے یمیشہ ۔۔۔!!!

ّوہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے واقعی سوہا کے تمام تر جملہ حقوق اپنے نام کروا بیٹھا ہو اورمستقبل کے لئے بہت خاص مشوروں سے نواز رہا ہو۔ ۔۔۔

میں آپ کی یہ باتیں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔

مجھے امی کے پاس بھیج دیں براہ کرم۔ ۔۔۔!!!!

وہ اس کی بے باک نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئےسپٹائی تھی جبکہ لہجہ بھرا گیا تھا ۔۔

“تمہاری یہی معصومیت نے ہی مجھے تمہارا اسیر بنا چھوڑا ہے”۔۔

” میں تم سے اب دور جانا تو دور ایک لمحہ بھی تمہارے بغیر گزارنے کا تصور بھی کرنے سے قاصر ہو ۔۔۔

مصطفی کا لہجہ بھی بصیر لیے ہوئے تھا ۔۔

سوہا اس کے اس قدر گھمبیر اور بہت کچھ جتاتے لہجے کی آنچ محسوس کر کے یکایک خود میں سمٹی تھی ۔۔۔

چہرے پر حیاء کی لالی اپنا رنگ جما دگئی تھی۔۔۔

وہ چھوٹی تھی مگر مصطفی کے لہجے اور آنکھوں سے بولتے پیغامات کو بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔۔۔ ۔

لیکن بس اس کو مصطفی کا خوامخاہ حق جمانے والا انداز اور خود سے عمر میں بڑے ہونے پر آج بھی اعتراض تھا۔۔

جس کی بناء پہ ہی وہ مصطفی کے بارے میں کوئی بھی نرم گوشہ اپنے دل میں پیدا کرنے سے قاصر تھی ۔۔۔

مصطفی اس کے اس طرح لرزنے نے اور نظریں جھکانے پر ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔

یخلقت اس کو اپنی آنکھوں میں بھر کر اس سے فاصلہ قائم کر گیا تھا ۔۔۔

سوہا کی ا سی معصومیت نے تو اس کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا ۔۔

وہ اس کا اسیر ہوچکا تھا ۔ایسا نہیں تھا کہ اس نے حسن نہیں دیکھا تھا۔۔

وہ پائلٹ تھا پوری دنیا اس نے دیکھ رکھی تھیں مگر سوہا جیسا معصوم اور کمسن حسن اس نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔۔

اس کو سوہا کا لیا دیا اور مصطفی کو لفٹ نہ کرانے والا انداز بہت بھایا تھا ورنہ وہ جہاں جاتا تھا صرف اس کے ایک ہیلو ہائے کے پیچھے لڑکیاں دیوانی ہوا کرتی تھی ۔۔۔

اس کی پرسنیلٹی اتنی ڈیشنگ اور چارمنگ تھی اس پہ تزاد اسکا مغروانہ ٹھہرائو لیا انداز۔ ۔۔۔

جبکہ سوہا تو جیسے اس سے تو کیا خود کے بھی حد درجہ معصوم حسن سے لاپروا تھی ۔۔

اس کو سوہا نے اسی لئے اٹریکٹ کیا تھا کہ وہ خود اس کے سامنے بچھی نہیں تھی اور نہ ہی اس کو اپنی طرف ر جہانے کی کوشش کی تھی کبھی بلکہ اس کے رشتے تک کو قبول کرنے سے انکاری تھی ۔۔

وہ خود کو کوئی توپ شہہ سمجھتی تھی جبکہ مصطفی کی نظروں میں بس وہ ایک چھوٹا سا پٹاخا تھی جو آواز ضرور کرتا ہے مگر نقصان کسی کو نہیں پہنچاتا ۔۔۔

مصطفی وارڈروب میں سے سوہا کیلئے کر تا اور ٹراؤزر ڈھونڈ کر اس کی طرف بڑھا تھا واپس۔۔۔

” جاؤ چینج کرو جلدی سے اور اب اگر کوئی بھی فضول ہانک لگائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔ ۔ “

سوہاکو خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے وارننگ دی گئی ۔۔۔

“میں اپنی بات ایک دفعہ کہنے کا عادی ہوں مجھ سے اب کسی بھی قسم کی اچھائی کی امید مت رکھنا ۔۔”

وہ لہجے میں حد درجہ درشتگی سمو کر بولا تھا کیونکہ سوہا نرم اور سیدھے لفظوں میں اس کی سنتیں ہی کہاں تھی ۔۔!!

جججج۔ ۔۔۔۔ جی ۔۔۔!؛!

وہ جلدی سے اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر واش روم میں جاگھسی تھی جبکہ مصطفی وہیں صوفے پر ہی نیم دراز ہو گیا تھا جہاں کچھ لمحوں پہلے سوہا ٹکی تھی۔۔۔

ٹی وی چلا کر وہ نیوز دیکھنے میں مگن ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔

یہ ایک کشادہ کمرہ تھا پورا کمرہ اندر سے فل ووڈن انٹیرئیر سے بنا یاگیا تھا ۔۔

ایل ای ڈی لائٹس لکڑیوں سے بنائی گئی چھت میں پیوست کی گئی تھی۔ جہادی سائیز بیڈ روم سیٹ اوردو سنگل صوفہ ایک چھوٹی سی کافی ٹیبل پر مشتمل یہ کمرہ ہر طرح کی جدید سہولیات اور آسائشات سے آراستہ و پیراستہ تھا ۔۔۔

وہ فریش ہو کر وا شروم سے نکلی تھی مصطفی نے سرسری سی نظر ٹی وی سے ہٹا کر واش روم کے دروازے کے باہر کھڑی سوہق پر ڈالی تھی مگر یہ سرسری سی نظر واپس پلٹناہی بھول چکی تھی ۔۔

یہ کیا ہے؟ ؟؟

آپ نے مجھے پہننے کے لئے دے دیئے ہیں۔ ۔۔؟؟؟

یہ دیکھیے اس کی آستینیں میرے گھٹنوں تک کوچھو رہی ہیں ۔۔

جبکہ ٹراوزر تو اللہ معاف کرے پورے بیڈروم کی جھاڑو دینے کے لئے کافی ہے اور اوپر سے یہ میرے لمبے بال یہ تو پورے ریسٹ ہاؤس کی ڈسٹنگ کرنے کے لئے بہت بہتر ڈسٹر ثابت ہوں گے۔۔!!!

وہ اس غصے سےآگ بگولہ ہوئی شدید جھنجلاہٹ کا شکار پیچ و تاب کھا رہی تھی ۔۔

وہ اپنے گھٹنوں تک چھوتے ہوئے لمبے بالوں کو کیچڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی جو کہ جوڑے کی شکل میں باندھے رہنے سے بری طرح کیچڑ میں الجھے ہوئے تھے جبکہ مصطفی کا کرتا اس جیسی ڈیڑھ پسلی نازک سی لڑکی کے لیے کافی سے زیادہ بڑا اور کھلا تھا ۔۔

کرتے کی لمبائی سوہاکے ٹخنوں کو چھو رہی تھی جبکہ ٹراوزر تو خیر سے پوچھا بنانے کے لئے کافی تھا۔۔

آ ستین کا تو حال ہی دوسرا تھا وہ تو خیر سےسوہا کے گھٹنوں تک جا رہی تھی ۔۔۔

مصطفی کا فلک شگاف قہقہہ پورے ریسٹ ہاؤس میں گونجا تھا ۔۔

وہ اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور مغرورانہ چال چلتا ہوا اس تک جاپہنچا تھا ۔۔۔

“ادھر آؤ یہاں بیٹھو “۔۔۔۔۔

وہ بیزار سی جھنجلاہٹ کا شکار سوہاکو دونوں شانوں سے تھام کر ڈریسر تک لایا اور ڈریسر کا اسٹول کھینچ کر سوہا کو اس پہ نرمی سے بٹھایا تھا ۔۔

نفاست سےتراشی گئی مونچھوں تلے لب مسلسل مسکرا رہے تھے ۔۔۔

“برائے مہربانی آپ اس طرح میرا مذاق مت اڑائیں”۔ وہ روہانسی ہوئی ۔۔۔

وہ اب اس وقت کو کوسنے لگی جب اس نے ٹرپ پر آنے کے لئے سمیرا کی منت سماجت کرکے اسکو منایا تھا ۔۔۔

“مجھے میری پیاری سی سنووائٹ کےڈیزائنر ڈریس کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ آج میرے اس کرتے کے پیسے وصول صحیح معنوں میں ہوگئے ہیں۔۔”

وہ گھمبیر لہجے میں بولا جب کہ آنکھیں شرارت میں آمادہ تھی ۔۔

مصطفی فرش پہ دو زانو بیٹھ کر اب سوہا کے ٹرائوزر کے پائنچے فولڈ کر رہا تھا جو کہ کئی فولڈز کے باوجود بھی سوہا کو برابر نہیں آرہے تھے یکایک مصطفی کا ہاتھ نہ دانستگی خ میں ہی سوہا کے ٹخنے کو چھو گیا تھا ۔۔

میں کر لونگی ۔۔۔۔!!

سوہر کو لگا جیسے اس کے پورے وجود میں سنسنی سی پھیل گئی ہو ۔۔

مصطفی کا لمس اس کو مزید بھوکلاہٹ میں گرفتار کر گیا تھا ۔۔۔

وہ چھینپ کر ہچکچا کےاپنا پیر پیچھے کر رہی تھی ۔۔

“رہنے دو تم سے ہو گیا “۔۔۔

وہ اس کی کیفیات سے انجان اس کی کلائی تھام کر اب ہاتھ کی آستین فولڈ کر رہا تھا ۔۔۔

مصطفی اس کو ایسے ٹریٹ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی چھوٹی بچی ہو ۔۔

اور وہ خود سوہا کے تمام ترسیا ہ وسفید کا مالک بن بیٹھا ہوں اور سوہا اس کی مکمل ذمہ داری ٹھہرا دی گئ ہو ۔۔

سوہا کا ہاتھ ڈریسر پہ رکھے ہیئر برش کی طرف اٹھا تھا جو مصطفی نے اس کے اٹھانے سے پہلے ہی اپنی تحویل میں لےلیا ۔۔

تمہارے بال بہت الجھے ہوئے ہیں تم سارے بالوں کو سلجھانے کے چکر میں ستیا ناس ماردوگی۔ ۔۔

لاؤں میں سلجھا دو۔ ۔!!!

میں آپ کی جاگیر نہیں ہوں۔۔۔۔!!

” آپ کا کام ہے جہاز اڑانا نہ کہ میری زلفیں سنوارنا اس لئے جو کام آپ جانتے ہیں وہی کام کریں تو زیادہ بہتر ہے “۔

“مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں یہ آپ کا مجھ پہ بہت بڑا احسان ہوگا “۔۔۔۔

وہ شدید خفا خفا سے لہجے میں بولی تھی ۔۔

اسکو مصطفی کا حددرجہ خیال کرتا انداز ذرا جو ایک آنکھ بہا رہا تھا ۔

‘یہ میری ذات ہے اور میں اپنے کام خود کر سکتی ہو برائے مہربانی مسٹر کھڑوس پائلیٹ آپ اپنی لمٹس میں رہیے”۔۔

یہ میرے اور آپ ۔۔۔ہم دونوں کے لئے بہتر ہے ۔۔۔۔۔!!!

وہ خود سری اور انتہائی جھنجلا ہٹ سے پر لہجے میں بولی ۔۔۔

چھوٹی سی ستواں ناک ٹھنڈاور غصے کی وجہ سے مزید سرخ ہو چکی تھی ۔۔

“یہ تو میرے لئے ممکن نہیں ہے اور فی الحال اس وقت تو تم میرے ہی ریسٹ ہاؤس میں !!میرے پاس ہو!! اس لئے تم میری ذمہ داری ہو اور میری لمیٹیشن کا تعین تم نا ہی کرو تو بہتر ہے “۔۔۔۔۔

“تمہاری نہ ہی عمر ہے اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے کی اور نہ ہی تمھارا دماغ کہ تم بہت گہری باتیں سوچو اور کہو۔”

میری خودساختہ حدود بندی کرنے کی مت کوشش کرو کہیں اہسا نہ ہو کہ تم میری حدود بناتے بباتے ابھی سے مسز سوہا مصطفی کہلوانے نہ لگو” ۔۔۔۔

“چلو اب شاباش سونے کی سوچو اور میرے خوبصورت خیالوں میں نیند کو گلے لگا کرسوجا ئو تاکہ خواب بھی میرے ہی سجے تمہاری پلکوں پہ ۔۔۔”

آپ نے اس نازک سے وجود کو آرام دو تاکہ تمہارا چھوٹا سا دماغ بھی پر سکون ہو اور جلد ٹھکانے پر آئے ۔۔۔

وہ اسکے ریشمی بالوں کو سلجھا کر پشت پہ کھلا چھوڑ چکا تھا اور برہم لہجے میں اس کو بہت کچھ باور کرا چکا تھا ۔۔۔

آخر میں اس گال تھپتھپا کر بیڈ پہ جالیٹا ۔۔

“اینی ویز ہیپی 17برتھڈے ٹو یو مائی اسنوکوئین ۔۔”۔

او ہاں اگر بیٹھے بیٹھے تھک جاؤ تو آکر لیٹ جانا ۔۔

میں کوئی شیر نہیں ہو جو تمہیں کچا نکل جاؤں گا ۔۔۔۔”

ابھی بہت وقت ہے تمہارے پاس ۔۔۔!!!!!

“میں تمہیں خود ابھی کافی وقت دو نگا تمہارے بڑا ہونے کے لیے ۔۔۔۔”

وہ معنی خیز لہجے میں مسکرا کر بولا جبکہ سوہا اس کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔

پہلا جھٹکا تو اس کو یہ لگا تھا کہ آج اس کی برٹھ دے ہے یہ خود بھی بھول بیٹھی تھی۔ ۔۔

جبکہ دوسرا جھٹکا اسکو مصطفی کی معنی خیز بات تو سے لگا تھا ۔۔۔

“ویسے میں جانتا ہوں کہ تم بڑی نہیں بلکہ بہت بڑی ہو چکی ہو”۔۔۔

مگر کیا ہے نہ میں امانت میں خیانت کرنے کا قائل نہیں ہوں اور پھر امانت بھی وہ جو میری ہے ۔۔”

لوہ دیتی نظروں سے وہ سوہا کو دیکھتااپنی نظروں میں بسا گیا اور اپنی بات کہہ کے کروٹ بدل کر سونے کے لیے لیٹ چکا تھا۔ ۔۔۔

کون ہو تم؟؟؟

کیا چاہتے ہو ؟؟؟

مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟؟؟؟

لائبہ ڈرتے ہوئے کانپتے لہجے میں کہہ رہی تھی آنکھوں میں وحشت ناچ رہی تھی چہرہ پہ خوف و ہراد کے سائے کالے بادلوں کی طرح منڈلا رہے تھے ۔۔

اپنی عزت مٹی میں ملتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔۔

دامن پر سیاہ داغ لگا بہت بد نمادکھ رہا تھا ۔۔

وہ دل میں صرف خدا سے اس وقت اپنے لئے موت مانگ رہی تھی۔۔۔

میں کون ہوں؟؟؟؟

ھاھاھا بے ہنگم قہقہ فضا میں بلند ہوا ۔

“میں تم جیسی تتلیوں کا شکار کرنے والا گد ھ ہوں ۔۔”

“اور دیکھو میری قسمت کہ آج بھی اتنی خوبصورت تتلی میرے شکنجے میں آئی ہے ۔۔”

“میں تو آج پھر سے اپنی شام رنگین کرنے ہیرا منڈی کا رخ کرنے جا رہا تھا مگر راستے میں تو ٹکرا گئی۔۔۔۔۔۔

ھاھاھا۔ ۔۔۔!!!!

وہ خباثت سے کہتا ہنستے ہوئےشرٹ کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔

لائبہ نے عالم وہشت میں اس آوارہ اور بے کردار شخص کو دیکھا جو دیکھنے میں کسی اچھے ہائی کلاس گھرانے کا مہذب شہری لگ رہا تھا ۔۔

عمر میں وہ 40 سے45کے قریب تھا ۔۔

مگر لائبہ کو حیرت اس بات کی تھی کہ وہ ان دونوں لڑکوں میں سے ایک بھی نہیں تھا جو اس کو اغواہ کرکے لے کر آئے تھے یا پھر شاید اس کی ہائی روف میں بیٹھے مزید کسی اور فرد پہ نظر ہی نہیں پڑھ سکی تھی یا پھر اس کو مہلت ہی اتنی ہی دی گئی تھی ۔۔!!

مجھے جانے دو ۔۔۔۔

میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟؟

تم مجھے یہاں سے جانے دو میں وعدہ کرتی ہوں میں کسی کو بھی تمہارے بارے میں نہیں بتاؤ گی .۔۔!!

“تمہارے بتانے یا نہ بتانے سے بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ میرا اس شہر کی پولیس تو کیا بڑے سے بڑا آدمی بھی بال تک باکا نہیں کرسکتا۔

“۔

دیکھ لڑکی تیری بہتری اسی میں ہے کے بغیر شورشرابہ اور فساد کیے میرے وقت کو رنگین کر اور تو بھی جا اپنے گھر میں بھی جاؤں موج کرکے خوش کر دے چل شاباش مجھے ۔۔۔”

اگر سیدھے طریقے سی نہیں مانتی تو میرے پاس اور بھی بہت سے ہتھیار ہے تجھے زیر کرنے کے اور ویسے بھی ہم تجھے جس سڑک سے اٹھا کر لائے ہیں میرا وعدہ ہے کہ اگر تو میری بات خاموشی اور بہ چوشی مانتی ہے تو !!میں تجھے خود اس جگہ چھوڑ کر آؤں نگا جہاں سے اٹھا کر میرے بندے تجھے لے کر آئے ہیں ۔۔۔”

“صرف چند گھنٹوں کا کھیل ہے تو میرے یہ چند گھنٹے عیاشی سے گزار دے پھر نہ میں تجھے جانتا ہوں نہ تم مجھے جانتی ہے ۔”

وہ مکرمہ قہقہ لگا کے ہنسنے لگا۔ ۔۔

لائبہ کو اپنی ان آبرو کی بربادی بہت قریب محسوس ہو رہی تھی ۔۔

واقعی لڑکیوں کو حد درجہ خود سر اور بولڈنہیں ہونا چاہیے ۔۔

امی آپ ٹھیک کہتی تھیں کہ کبھی بھی لڑکیوں کو یوں اس طرح کسی کو بھی بتائے بغیر سر جھاڑ منہ پھاڑ گھر سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہیے”۔۔۔

باہر گھات لگائے درندے ان کی تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں شکار کیلئے ۔۔

“یہی میرے ساتھ ہوا ہے” ۔۔

آپکی نافرمانی کی ازیت ناک سزا میرے نصیب میں لکھی جاچکی ہے۔ ۔۔!!!

وہ سوچ کر رہ گئی وہ خود قصوروار تھی اپنے انجام کی ۔۔۔

مجھ پر رحم کرو مجھے جانے دو۔۔!!

تمہارے گھر میں بھی تو تمہاری بہن ہو گی۔۔۔۔۔

زبان کو لگام دے۔۔!!

” میری بہن تیری طرح منہ اندھیرے اپنے یاروں سے ملنے کے لئے سڑک پر نہیں گھوما کرتی ہے” ۔۔

وہ غرایا۔ ۔۔

لائبہ کا دل اس کی کرختگی پہ چڑیا کی طرح سکڑا تھا وہ شخص اب دو قدم فاصلہ ٹاپ کر استک پہنچ چکا تھا ۔۔

نن۔ ۔۔۔نہیں رحم کرو مجھے جانے دو مجھے ہاتھ مت لگانا ۔۔۔۔۔!!

تمہیں خدا کا واسطہ میرے قریب مت آنا ۔۔!!!!

وہ رو رہی تھی اپنے لیے رحم طلب کر رہی تھی مگر وہاں کون رحمدل تھا جو اس پر ترس کھاتا سامنے موجود شخص تو تھا ہی اس گندگی کے ڈھیر کا پرانہ کھلاڑی ۔۔۔

شششش۔ ۔۔!!!

اس شخص نے انگشت شہادت اس کے لبوں پے رکھ کر اپنی لال بے رحم آنکھوں سے اس کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

جبکہ لائبہ پیچھے کو کھسک رہی تھی پورا وجود اس کا خوف و ہراس سےسرد پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔

بے بسی سی بے بسی تھی۔۔۔!!!

مزید اب پیچھے کھسکنے کی بھی جگہ باقی نہ رہی تھی ۔۔۔

لائبہ کے پاس کوئی جائےفرار تک نہ بچی تھی وہاں اس کی سسکیاں سننے والا کوئی بھی نہ تھا ۔۔۔۔

کوئی بھی تو نہیں تھا ۔۔۔!!!!

اس شخص نے ایک جھٹکے سے لائبہ کےگلے کا دوپٹہ اتار کر دور اچھالا تھا وہ بہت کھولتی ہوئی خواہشات کے تلاطم سے سرشار اس کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔

“دیکھو مجھے تم سنگسار مت کرو میرا آبرو کو یوں اس طرح پامال مت کرو ۔۔۔”

“مجھ سے سر اٹھا کر جینے کا حق مت چھینو خدا کے لئے مجھ پر رحم کر دو” ۔۔۔

“میں تمہیں جتنے پیسے تم کہو گے مصطفی بھائی سے دلوں اوگی”۔۔۔۔۔

وہ گڑگڑا رہی تھی فریاد کر رہی تھی مگر اس کی ہر فریاد رائیگاں گئی وہ اس بے رحم گدھ کے پروں میں بری طرح سے پھنس چکی تھی ۔۔۔

اس کے مضبوط پر اس کا پورا بدن اپنے اندر چھپا گئے تھے اس کے آنسو سمندر میں شبنم کی مانند گھل چکے تھے۔۔

سسکیاں فضا میں گونج کر بے صدا ہو گئی تھیں ۔۔

لائبہ کیسی سہمی ہوئی چڑیا کی مانند ذلت و رسوائی کے اٹھا سمندر میں غوطے لگاتے ہوئے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی تھی۔۔۔

وہ شخص اس پر درندوں کی طرح جھکا رہا اور اپنی ہوس پوری کرتا رہا ۔۔۔۔

عمر پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر لائبہ کو تلاش کر رہا تھا پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ۔۔۔۔۔

سی سی ٹی وی ویڈیو سے اس کو اتنا تو علم ہو ہی گیا تھا کہ ایک ہائی روف لائبہ کو اغوا کرکے لے گئی ہے مگر نمبر پلیٹ پہ کپڑا چڑھا ہونے کی وجہ سے وہ استک پہنچنے سے قاصرتھا اسی لئے اسنے پھر اپنے دوست کی مدر لینے کی سوچی تھی۔ ۔۔

یار میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کس طرح لائبہ کو ڈھونڈوں؟؟؟؟

وہ فون پر اپنے دوست اور ایس پی سے مخاطب تھا۔۔۔۔

تم پریشان نہ ہو سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھ چکا ہوں ڈھونڈ لیں گے جلدہی ۔۔

اس کا فون کس کے پاس ہے؟؟؟؟

مطلب کے گھر میں ہے یا اسی کے پاس ہے ؟؟؟

ایس پی احمر کو سوچتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

سوہا کا فون ۔۔۔۔۔۔

اس کے پاس ہی ہوگا ۔۔۔۔!!!

یکدم اس کے ذہن میں ایک چھناکاسہ ہوا تھا احمر میں تم سے کچھ ہی دیر میں دوبارہ کال پہ بات کرتا ہوں ۔۔!!!

عمر نے دوسری طرف کی بات سنے بغیر جلدی سے فون ڈسکنکٹ کیا تھا اب وہ اپنے فون میں گوگل میپ کھول کر کچھ تلاش کر رہا تھا جلد ہی وہ اپنی مطلوبہ جگہ تلاش کر چکا تھا عمر کے چہرے پر ایک دفعہ پھر زندگی کی رمق ابھری تھی ۔۔۔

جس رات الائبہ کو لے کر اسلام آباد سے کراچی آ رہے تھے گاڑی خراب ہونے کے بعد جب ان دونوں نے ایک ہوٹل میں پناہ لی تھی تب عمر کے چھوٹے سے مذاق کے بعد لائبہ بری طرح بھڑک اٹھی تھی اور اکیلے کراچی جانے کی ضد کر رہی تھی۔۔۔۔

تب اس نے نہ جانے کس خیال کے تحت لائبہ کے سونے کے بعد اس کے موبائل میں لوکیشن ٹریکر سیٹ کردیا تھا ۔۔۔!!!!

“حماد ولا” کہنے کو تو حویلی تھی مگر کسی محل سے کم نہ تھا ۔۔

فجر وائٹ اور بیچ رنگ کے کرتی اور ٹرا وزر کے ساتھ بڑا سا شال نما دوپٹہ سر پہ اچھی طرح جمائے نک سک سے تیار ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔

دادو اور غزل نے ان دونوں کا استقبال بڑی دھوم دھام سے کیا تھا ۔۔۔

دادی نے غزل کو اعتماد میں لے کر سب کچھ بتا دیا تھا ۔وہ ایک سلجھی ہوئی اور اپنے بچوں کی خوشی میں خوش ہونے والی ماؤں میں سے تھی اور اس وقت بھی وہ پورے تپاک سے فجر سے مل رہی تھی فجر کا رویہ دادی اور ساس کے ساتھ بہت اچھا تھا ۔۔

حویلی کے تمام ملازموں نے اس نئے نویلی جوڑے کا بھرپور انداز میں استقبال کیا تھا سبھی نے فجر کے اوپر پھول نچھاور کیے تھے۔ غزل نے اپنی بہو کی نظر اتاری اور صدقہ خیرات وافر مقدار میں کر ڈالا تھا ۔۔

فجر کی آنکھوں میں اسقدر پیزیرائی پاکر نم ہو گئی تھیں۔

کتنی پیاری خوشبو تھی غزل کی فجر کو لگا تھا جیسے وہ اپنی اماں کی آغوش میں آ گئی ہوغزل کے گلے لگانے سے ۔۔

ان دونوں کو گاؤں پہنچتے پہنچتے رات کے نو بجے کے قریب کا وقت ہوچکا تھا ۔۔

دادی بابا کہاں ہے ؟؟

ارمغان نے ماں کے گلے سے لگتے ہوئے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔

“بیٹا وہ تو عشاء کی نماز ادا کر کے سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں اب تم ان سے صبح ہی ملنا “۔۔۔

غزل نےاس وقت جیسے ان دونوں کو حماد صاحب سے ملنے سے روکا تھا۔ وہ بہت غصہ میں تھے ارمغان کی شادی کی خبر اپنی ماں سے سن کر یہی وجہ تھی کہ وہ اس وقت باہر بھی نہیں آئےتھے اپنی خوابگاہ سے ۔۔۔

“تم دونوں فریش ہو کر آ جاؤ میں کھانا لگواتی ہوں”۔۔۔

غزل نے محبت پاش نظروں سے بہو اور بیٹے کو دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔

“نہیں امی کھانا ہم نہیں کھائیں گے راستے میں کھانا کھا لیا ہے بس ابھی آرام کریں گے بہت دیر تھکن سی ہوگئی ہے اتنی دیر ڈرائیو کر کے “۔۔۔۔۔

وہ پانچ گھنٹے کی ڈرائیونگ کر کے پہنچے تھے۔۔

” چلو ٹھیک ہے بیٹا جس طرح تم دونوں مناسب سمجھو “۔۔۔

غزل کے بجائے دادی نے کہا تھا اور ساتھ ہی ان دونوں کو ان کے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔۔

وہ دونوں دسدی اور غزل کی دعائیں لے کر اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔

“رک جاؤ کس سے پوچھ کر تم اس کو حویلی میں لائے ہو”۔۔۔

ابھی وہ دونوں سیڑھیوں کی طرف بڑھ ہی رہے تھے جب گرجدار آواز پورے ہال میں گونجی تھی فجر اور ارمغان کے قدم جکڑ گئی تھی ۔دونوں نے یکایک موڑ کر پیچھے دیکھا تھا جہاں حماد صاحب کلف لگے کرتا شلوار زیب تن کیے تمام تر غرور اور طنطنہ لیے بھرپور اشتعال میں ہاتھ میں سیگار سلگائے چہرے پہ شدید حقارت اور برہمی لیے کھڑے تھے ۔۔

فجر نے ارمغان کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔۔۔

جیسے خوفزدہ ہو کہ۔ ۔۔

” کہیں اس کو حویلی سے حماد صاحب نکال ہی باہر نہ کرے ۔۔”

ارمغان نے مضبوطی سے اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں قید کیا تھا گویا دلاسہ دیا ہو کہ۔۔۔۔

” میں تمہارے ساتھ ہوں گھبراؤ نہیں”۔۔۔

غزل اور دادی کا تو مانو خون ہی خشک ہو گیا تھا حماد کے خطرناک حد تک جارحانہ تیور دیکھ کر ۔۔

“بابا سائیں فجر میری جائز اور شرعی بیوی ہے نکاح کیا ہے میں نے اس سے یہ میرے ساتھ ہی رہے گی اب اس حویلی میں” ۔۔

ارمغان کا لہجہ مضبوط ضرور تھا مگرگستاخانہ ہر گزبھی نہ تھا۔ وہ اس وقت بھی باپ کے سامنے نظریں جھکائے بہت طریقے سے تمام تر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش میں تھا ۔۔

دوسری طرف فجر کو لگ رہا تھا جیسے کچھ بہت ہی انہونا ہونے والا ہو۔

“میرے سامنے تو تم نے اس کو اپنی زوجیت میں نہیں لیا نا ۔۔۔؟”

“میں کیسے مان لو پھر اور دوسری بات کہ نہ ہی اس لڑکی کی ذات پات کا ہمیں کوئی علم ہے”

” نہ جانے کہا کی رہنے والی ہے ؟؟

کس کی اولاد ہے ؟؟؟

حماد صاحب بغیر لگی لپٹی رکھے بولتے چلے گئے ان کو اس بات کا بھی خیال نہ رھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کے دل پر کیا گزری ہوگی ان کے اس تیر برساتے جملوں کی بدولت ۔۔

فجر کے پاس ان کے تمام سوالوں کے جواب تھے مگر وہ فی الحال مصلحتاً خاموش تھی۔ اس پل وہ کچھ بھی بول کر اپنا سکہ کھوٹا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔فی الحال تو اس کو ارمغان کے سامنے بہت ہی سیدھا سادہ اور کم گو نظر آنے کی کوشش کرنا تھی ۔۔

“بابا میرے پاس نکاح نامہ ہے ۔۔”

“تمام گواہوں اور وکیل کے سامنے میں نے نکاح پڑھایا ہے فجر سے ۔۔”

“اٹھا کر نہیں لایا ہوں میں اس کو اپنی زوجیت میں لے کر ہی اس حویلی کی زینت بنایا ہے ۔۔”

“جہاں تک رہی بات زات بات کی تو آپ کو اپنے بیٹے پر اتنا اعتماد تو ہونا ہی چاہیے کہ وہ کوئی بھی غلط فیصلہ کبھی بھی نہیں کرے گا ۔۔”

وہ فجر پہ ایک پراعتماد اور تحفظ فراہم کرنے والی نظر ڈال کے تمام تر گفتگو باپ سے کرچکا تھا۔

“ہمیں تم پہ اعتماد ہے مگر اس لڑکی پہ نہیں”۔۔

” آخر کو ہماری آنے والی نسلوں کا سوال ہے”۔۔۔۔۔

وہ فجر پہ ایک نظر حقارت کی ڈال کے بولے ۔

جس کے جواب میں فجر نے ارمغان کی اوٹ میں چھپ کر حماد صاحب کو دکھ سے دیکھا تھا ۔۔

گر جو وہ پہچان جاتے کہ وہ کون ہے تو کیا تب بھی ان کا سلوک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ؟؟؟

ہرگز نہیں ۔۔!!!

وہ سوچ کر رہ گئی مگر ایک خوف بھی زبان پر نہ لا سکی ۔۔۔

وہ چاہ کر بھی ابھی کسی کے سامنے اپنی شناخت آشکار کرنے سے قاصر تھی ۔ابھی وہ اپنے مقصد کو نہیں پہنچی تھی ۔منزل ابھی دور تھی ۔یہ محبتیں تو اس کی قسمت میں تھیں جبھی تو اس کو مل چکی تھیں مگر ابھی ایک بہت بڑا امتحان باقی تھا ۔۔۔

بہت بڑا ۔۔۔!!!!

” بابا فجر میری پسند ہے اور اب اس حویلی کی عزت “۔۔

وہ سپاٹ لہجے میں بولتا بہت کچھ جگا گیا تھا ۔۔

“پسند ہے ٹھیک ہے “۔۔

“جتنے دن دل بہلانا ہے بہلاؤ اور پھر اس کو جلد از جلد فارغ کرو ۔۔”

“چاہو تو منہ مانگی قیمت عطا کر دینا جو یہ فرمائش کرے آخر کرے” ۔

“آخر کو ہمارے اکلوتے چشم و چراغ کی منظوری نظر ہے “

حماد صاحب نے اب دماغ سے کام لینے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ارمغان کی تیور بہت خطرناک تھے ۔۔

بس بابا میں اب ایک لفظ اور نہیں سنوں گا میرے نزدیک نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے جو جب چاہا کر لیا اورجب جی بھر گیا ختم کر دیا ۔۔”

“میری ایک بیوی ہے فجر ارمغان اور ہمیشہ وہ ہی رہے گی ۔۔۔”

غزل کی آنکھوں سے اشک رواں تھے اس کو باپ اور بیٹے کی تکرار میں بہت کچھ غلط ہوتا نظر آ رہا تھا شوہر کے غصے سے بھی واقف تھی اور بیٹے کی اصول پسند فطرت سے بھی۔ اس وقت صرف اس کو اپنی ساس سے ڈھارس ملی ہوئی تھی کہیں نہ کہیں معاملہ بگڑنے کی صورت میں اماں جان ھی حماد کو سنبھال سکتی تھیں کسی بھی بڑے فیصلے سے نمٹنے کیلئے۔

“سوچ لو کیا تمہارا یہ آخری فیصلہ ہے؟”

ھماد چہرے پہ خاص چمک لیے بہت تیکھے لہجے میں بولے تھے ۔۔

“جی بالکل یہ میرا آخری فیصلہ ہےاور پھر میں بھی آپ کا بیٹا ہوں اپنی زبان سے نہیں پھرتا “۔۔۔

وہ واپس کمرےکی طرف بڑھنے لگا ۔۔

“ایک منٹ “۔۔۔۔!

حماد کی چنگھاڑتی آواز حویلی کے در و دیوار کو ہلا گئ تھی۔ ۔

“ایک فیصلہ تم نے کیا ہے “۔۔

“اب ذرا میرا بھی فیصلہ سنتے جاو”

ارمغان کے قدم ساقط ہوئے تھے وہ مڑے بغیر وہیں تھم چکا تھا جبکہ فجر کی ہتھیلیوں میں پسینہ پھوٹ پڑا تھا وہ جانتی تھی کہ حماد ذات پات کا کس قدر حساب کتاب رکھتے ہے ۔۔

اکسرسوچا کرتی تھی کہ ہوسکتا ہے کہ جو وہ سوچ رہی ہوں وہ صرف ایک سراب ہوں ۔۔۔

حقیقت اس سے یکسر مختلف ہو۔ ۔۔

“ٹھیک ہے یا تو تم اس کو تین لفظ کہہ کر ابھی کے ابھی فارغ کرو گے اور اسی وقت اس کو ہویلی سے باہر نکال دو گے اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو تو دوسری صورت میں میں اپنی بیوی اور تمہاری ماں کو تین لفظ کہہ کر کھڑے کھڑے آزاد کرنے کا حق رکھتا ہوں ۔۔۔”

وہاں موجود تمام نفوسوں کے سر پہ گویا حماد نے برف کا بھاری تودا توڑا تھا سب اپنی اپنی جگہ جم کے رہ گئے تھے ۔۔۔

وہ دس منٹ سے باہر گاڑی میں کوفت کا شکار ہارن پر ہارن دے رہا تھا مگر شفا کی تیاری مکمل ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔۔

“یار کیا ہے جلدی آؤ مجھے کیا اپنا ملازم سمجھ لیاہے” ۔۔؟

” مجھے اور بھی کام ہیں بہت سےمیں یہاں تمہاری ڈرائیوری کرنے پر معمور نہیں ہوں “۔۔

وہ شفا کے نمبر پر فون کرکے شدید اکتائے ہوئے لہجے میں بولا تھا ۔۔

“بس آرہی ہو ۔۔”

وہ بالوں کو بلیو ڈرائر کرکے دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر ایک شانے پہ ڈالتی کمرے سے باہر نکلتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

جبکہ حمزہ جھنجلا کےکال ڈسکنیکٹ کرچکا تھا ۔۔

وہ داخلی دروازہ بند کرکے پر گیرج کی طرف آ رہی تھی جب لمحے بھر کے لیے حمزہ کی نظر ساکت سی رہ گئی تھی۔۔

اسٹائلش ہیئر کٹ فیروزی کرتی کے ساتھ کیپری اور نیٹ کا دوپٹہ ایک شاہ نےپہ لاپرواہی سے ڈالے وہ گاڑی کی طرف آ رہی تھی ۔۔

حمزہ کی نظروں نے بھرپور جائزہ لیا تھا اس کا مگر پھر کچھ سوچ کر وہ لب بھینچ گیا تھا چہرے پہ تناو پھیلا تھا ۔۔

نو ویز ۔۔!!!

“اس طرح تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔”

شفا گاڑی کا دروازہ کھول کر ہمزہ کے ساتھ والی سیٹ پر برجمان ہوچکی تھی وہ اپنی ہی دھن میں تھے حمزہ کے چہرے کے برہم تاثرات کو محسوس ھی نہ کرسکی ۔۔

“سوری لیٹ ہو گیا شاور لینے کے بعدبلیو ڈرائیر وغیرہ نے تھوڑا ٹائم لے لیا ۔۔”

وہ اپنی ہانکنےمیں مصروف تھی۔۔

تمہارے پاس شال نہیں ہے؟؟؟ ۔۔

وہ انگیشن میں چابی گھما کے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے قدرے تھیکے لہجہ میں دریافت کر رہا تھا ۔۔۔

“شال کے ذریعے ہی دوپٹہ ہے نا اور آج کل ویسے بھی نیٹ کے دوپٹے بہت ان ہیں “۔

وہ ایک ادا سے اپنے تمام بالوں کو دائیں شانے پہ ڈال کے بولی ۔۔

“تمہارے پاس شال نہیں تھی گھر میں کیا ؟”۔

ہمزاد کی تیز آواز گاڑی میں گو نجی تھی۔۔

” شال تو تھی مگر آپ کے گھر میں نہیں میرے میکے میں تھی”۔۔

” اب اگر وہ منگواتی تو پھر آپ ہی نے شور کرنا تھا دیر ہو گئی دیر ہو گئی کا” ۔۔۔

وہ بڑے مزے سے بولی ۔۔

“ٹھیک ہے دیر تو اب واقعی ہوگئی ہے”۔

وہ معنی خیز لہجے میں بولتا ڈیش بورڈ کھول کہ اس میں سے ڈائری اور پین اس کی طرف بڑھا کر بولا ۔۔

یہ ۔۔۔؟؟؟؟

اس میں لکھوں کیا میں۔؟؟

نہ سمجھیں سے پوچھا گیا ۔۔

“میرا اور اپنا نام لکھو بہت سارے دلوں کے بیچ میں”۔۔

اس کے بے تکے سے سوال پہ وہ ٹیچر سا گیا تھا ۔۔

“ہیں ہائے اللہ سچی یعنی آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی ہے نا ۔”

۔

وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے جوڑ کر تھوڑی کے نیچے ٹکاکر چہرے پر بڑے پیارے اور شرارتی تاثرات لئے کہہ رہی تھی۔۔۔

” تم جیسا اینٹک پیس ایک واحد ہی اس دنیا میں بنا کر اتارا گیا ہے جو میری ہی قسمت میں آ کے میری جھولی میں ہی گرنا تھا “۔۔۔

وہ اشتعال آمیز لہجے میں بولا۔۔۔

” اس میں لکھو اپنا تمام ضروری سامان” ۔۔۔

اییییں۔ ۔۔۔؟؟

شفا نے منہ کھول کر حکم جاری کرتے حمزہ کو دیکھا ۔۔

“لگتا ہے دماغ کا اسکریو ڈھیلا ہو کر کہیں گر گیا ہے”۔۔۔

وہ بر بڑائی تھی اور پھر لہجے کو سنجیدہ کرنے کی حتہ امکان کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔۔

” کیا آپ میری مدد کریں گے شاپنگ میں تاکہ میں تھک نا جاوں اسی لئے پیپر پہ لکھ وارہے ہیں نہ؟ ؟؟”

وہ آنکھوں میں اشتیاق لیے سامنے والی گاڑی کو ہارن دیتے حمزہ کو دیکھتے ہوئے ایسے پوچھ رہی تھی جیسے ان دونوں کے مابین بہت اچھے تعلقات ہوں