Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 44
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 44
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے ہسپتال میں کی زندگی اور موت کی جنگ لڑرہی تھی ۔۔
عمر پاگلوں کی طرح آپریشن تھیٹر کےباہر ادھر سے ادھر کوریڈور میں چکر کاٹ رہا تھا۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے کوئی اس قدر بڑا اقدام اٹھا سکتا ہے ؟؟
آخر ایسا کیا ہوا تھا جو لائبہ کی حالت اس قدر بگڑی ہے ؟؟
۔وہ انتہا سے زیادہ پریشان تھا اتنا کہ کسی کو بھی جگائے بغیر گھر میں لائبہ کو ہسپتال لے آیا تھا فجرکی نماز سے کچھ دیر قبل۔یہ ان دونوں کا معمول تھا فجر کی نماز کے لیے اٹھنا اور پھر جوگنگ کرنا ۔
دل اور دماغ اس قدر الجھا ہوا تھا کہ وہ بس دیوانہ وار لائبہ کو بانہوں میں اٹھائے ہسپتال لیکہ بھاگا تھا۔
فجر کے وقت جب وہ لائبہ کو اٹھانے کے لئے جھکا تھا تو وہ کافی دیر تک نہ اٹھی اور جب وہ نہ جاگی تو عمر کو تشویش لاحق ہوئی ۔اس نے کئی دفعہ اس کو اٹھانا چاہا مگر وہ بے سدھ ہی رہی ۔۔۔
بس یہی لمحہ تھا جب عمر کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا اور وہ کسی سے بھی ملے یا بتائے بغیر اس کو ہسپتال لے کر بھاگا تھا ۔۔۔۔
کیسی ہے میری مسز ڈاکٹر؟؟؟
آپ کی وائف کا ہم نے معدہ واش کر دیا ہے مگر انہوں نے نشہ آور ادویات کچھ زیادہ ہی تعداد میں لے ڈالی تھی جس کی وجہ سے ان کی کنڈیشن اس قدر کرٹیکل ہو گئی ہے کہ وہ زندگی اور موت کے دوراہے پہ آ کھڑی ہوئیں ۔۔۔۔
تو پھر ڈاکٹر اب تو ٹھیک ہے نا میری وائف ۔۔؟؟!
ہاں اب وہ خطرے سے باہر ہیں مگر ایم سوری ہم آپ کے بچے کو نہیں بچا سکے ۔۔۔۔؟؟؟
کک۔ ۔۔۔کیا مطلب؟؟؟
عمر کو اپنی خود کی آواز جیسے کھائی سے آتی محسوس ہوئی ۔۔ اس کی ٹانگوں مزید کھڑا ہونے کی سکت نہ رہی تھی۔ وجود میں جیسے جان نکلی تھی ۔۔۔
جی ایم سوری مگر عرلی پریگنینسی میں ایسا کچھ ہونا مسڈ ابورشن کی وجہ بنتا ہے۔
ڈاکٹر کہہ کہ آگے بڑھ گئی تھی جب عمر اپنا سر تھام کے کوریڈور میں موجود کرسیوں میں سے ایک کو تھام کے بیٹھتاچلا گیا ۔۔۔
سر کو اپنے ہاتھوں پہ گرائےوہ اضطرابی انداز میں انگلیاں بالوں میں پھنسائے ہو ئےجیسے ضبط کے آخری مراحل میں تھا ۔۔
یہ وہی جانتا ہے کہ اس نے کس طرح لائبہ کو ایڈمٹ کروایا تھا ہسپتال میں ۔آپنے ایک اثر و رسوخ رکھنے والے دوست کو اعتماد میں لے کر اس نے پولیس کیس بننے سے روکا تھا ورنہ ہسپتال کی انتظامیہ سیدھا سیدھا پولیس کیس بنانے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔۔
وہ خود بھی حیران تھاکہ لائبہ تو اب اپنے ساتھ ہوئے اس درد ناک حادثے سے خود کو کافی حد تک نکال چکی ہے۔ بھول رہی تھی آہستہ آہستہ وہ اس خوفناک یاد کو ۔
تو پھر ایسا کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ اتنا بڑا اقدام اٹھا گئی تھی ؟؟
اور اب ڈاکٹر نے جیسے تمام الجھی گر ہیں کھول ڈالی تھی ۔حقیقت اس کے سامنے آ چکی تھی ۔۔۔
“کاش تم مجھ پر اعتماد تو کر کے دیکھتیں ۔اتنا کمزور نہیں ہوں میں لائبہ جتنا تم نے مجھے سمجھ لیا ۔بچے تو پھول ہوتے ہیں ۔اس سب میں اس معصوم ننھی جان کا کیا قصور تھا ؟؟وہ تو ابھی اس دنیا میں آیا تک نہیں تھا اور تم نے اسی کو ۔۔۔۔!!
لائبہ تم اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو ۔۔۔؟؟؟”
عمر کا دماغ بالکل سُن ہو رہا تھا اس کو اپنی سماعتوں پہ جیسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس قدر بڑا قدم اٹھا گئی تھی صرف اور صرف اپنی ناداری میں ۔۔۔!!
آنے والا وہ بچہ صرف تمہارا اور میرا کہلاتا میں اسکو کبھی بھی خود سے الگ نہیں سمجھتا آخر وہ تمہاری کوک سے جناجاتا میں اس کو ویسے ہی پیار دیتا جیسے ایک باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے میں اس کو اتنی محبت دیتا کہ شاید میں خود بھی بیان نہ کر سکوں مگر تم نے شاید مجھے اپنا ہی نہیں سمجھا ۔۔۔۔۔”
وہ پورے قد سے جیسے زمین پر آگرا تھا اتنے عرصے کی محنت اس کی لائبہ پہ گویا اس نے لمحوں میں خاک کر ڈالی تھی ۔۔۔
تو تم اس بات سے انکاری ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ہاں میں علانیہ کہتی ہوں یہ کہ وہ ایک وقتی جذبہ تھا اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ قدم پیچھے لیتے ہوئے بے خوفی سے بولی تھی جبکہ اندر سے اس کا دل بہت بری طرح سے سہما ہوا تھا ۔اپنی محبت کو کھودینے کا دکھ اس کو اندر تک ڈس رہا تھا، کچوکے لگا رہا تھا ۔وہ بے بس و لاچار تھی مگر اپنے ماں باپ کی عزت کے لیے وہ اپنی محبت کی قربانی دے کہ ہی پر سکون ہو سکتی تھی ۔
۔
مصطفی اس کی زندگی میں آنے والا پہلا اور واحد شخص تھا جس نے اس کو محبت کے اصل معنوں سے آشنا کرایا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ وہ بھی بالکل اسی کی طرح اس وقت بکھر رہا تھا جیسے وہ بس سانس لے رہی تھی مگر روح تو جیسے مصطفی کی روح کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام کے آسمانوں میں اٹھکیلیاں کرتی اس کے وجود سے پرواز کرچکی تھی ۔۔
دونوں ہاتھوں کو دیوانہ وار مصطفی نےسوہا کے اپنے مضبوط ہاتھوں میں یک لخت جکڑا تھا اور دیوار سے لگایا تھا ۔ایسے جیسے وہ اس کا راستہ بالکل فرار کا بند کر چکا تھا ۔۔۔
اور میں بھی یہ بات تمہیں اپنی مکمل ہوش و حواس میں ہی کہتا ہوں کہ تم صرف اور صرف میری ہو ۔۔۔۔”
آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے لہجہ حد درجہ تند و تیز ی لئے ہوئے تھا ۔۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے مزید بولا ۔۔۔
“بے شک راستے مشکل ہی سہی مگر مجھے اللہ رب العزت پہ یقین ہے کیونکہ وہی تو ہے جو ہماری خاموش التجاؤں کو جان بھی لیتا ہے اور مان بھی لیتا ہے۔ جو مشکل سے مشکل وقت اور تنہائی میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالے گا ۔۔۔۔۔۔۔”
یہ میں جانتا ہوں ۔۔۔۔!!
وہ بہت مضبوط لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔
خدا پہ یقین کامل اور ارادے کی پختگی اس کے ہر ہر انداز سے ظاہر ہو رہی تھی ،جھلک رہی تھی نہ جانے کیوں وہ مصطفی کی کہی بات سن کہ اندر تک پرسکون ہو گئی تھی ۔تمام خوف و وہم جیسے جھاگ کی طرح ہوا میں اڑ کے پھٹ پڑے تھے۔
نام و نشان تک نہ رہا تھا کسی بھی ڈر کا ۔کوئی خوف تک باقی نہ رہا تاسو ہاکے دل میں ۔۔۔۔
“تو بس پھر جن کا بھروسہ اللہ ہو۔ ان کی منزل کامیابی ہے ۔۔۔۔۔۔”
سوہاکا لہجہ اب بہت پراعتماد تھا ۔۔۔۔
وہ اب بھی اس کے ارد گرد دیوار پہ ہاتھوں کا گھیرا تنگ اور فرار کا راستہ مسدود کئے ہوئے تھا ۔۔۔
سوہا کی بات پہ بہت خوبصورت مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔”
مگر انسان کو بھی کوشش کرنی چاہیے سوہا ڈیرہ ۔۔۔۔۔!!
وہ شعر تو تم نے سنا ہی ہوگا۔۔۔۔”
عمل سے زندگی بنتی ہے
جنت بھی جہنم بھی !!
اگر کوشش نہیں کریں گے خدا سے دوائیں نہیں مانگیں گے ۔گڑگڑائیں گے نہیں تو پھر کیسے سب آسان ہوگا ۔۔۔۔؟؟؟؟
اگر فریاد نہیں کریں گے اپنے رب سے تو بند راستے کھولنا مشکل ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔”
آپ اپنی سی کوشش کرکے دیکھ چکے ہیں۔ اب اپنا معاملہ اور محبت کا اصول اپنے اللہ رب العزت پہ چھوڑ دیں۔ اگر جو ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہوں گے تو کسی نہ کسی طرح قسمت ہمیں ایک کرہی دیگی۔ ۔”
وہ بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی۔ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ چھوٹی سی سورہ ہے جس کو کل تک مصطفی سے بات تک کرنے کا فن نہیں آتا تھا ۔۔۔
“حیرت ہوتی ہے سو ہامجھے تمہارے طرز تخاطب پہ۔!! تم بہت کم عمر ہو کہ کیسے اتنی گہری باتیں کر لیتی ہو؟؟؟
بلاشبہ مجھ جیسے شخص کو بھی تم قائل کر سکنے کا ہنر جانتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
مصطفی کی آنکھوں میں چمک سی ابھری تھی وہ اس کے ایک ایک نقوش کو اپنی آنکھوں میں بسآ رہا تھا ۔۔۔۔
“بس وقت اور حالات بہت بڑے استاد ہوتے ہیں مصطفی۔۔۔۔”
عمر سے آپ کی سوچ کا کوئی تعلق نہیں ۔کڑا وقت آپ کی سوچ اور آپ کی عمر سے بہت پہلے ہی بڑا کر دیتا ہےانسان کو ۔۔۔”
وہ چھوٹی سی لڑکی اپنے اندر کس قدر گہری تھی ۔معاملہ فہمی سے اب بھی و ہ اس بگڑی صورتحال کو سنبھالنے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔کیسے اپنے ناتواں کندھوں پر وہ اس قدر بوجھ اٹھائے ہوئے تھی آخر ۔۔۔؟؟؟
سوچ کے رہ گیا ۔۔۔
آنکھوں سے ٹپ ٹپ عشک مسلسل رواں تھے سوہا کے جیسے اب آنسووں پہ اختیار ناممکن سا ہو گیا تھا اسکیلئے۔ ۔۔۔!!
آپ کا فون مسلسل بج رہا ہے پلیز ریسیو کر لیں ہو سکتا ہے کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔۔”
وہ بے دردی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی تھی ۔ لہجہ بےحد بجھا بجھا سا تھا ۔۔۔۔
مصطفی نے ایک نظر اس کو دیکھا تھا اور پھر پینٹ کی جیب میں بچتے اپنے فون کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
ہاں کہوں؟؟؟
” نہیں بس اب ان کی ضرورت نہیں ہے معذرت کر دو ان سے”۔۔۔
مصطفی کا دوست کافی دیر سے فون کر رہا تھا مگر مصطفی جیسے ارد گرد سے بیگانہ ہوا صرف اور صرف سوہا تک محدود ہو چکاتھا۔ ۔
اس کا دوست قاضی صاحب کو لے کے آ چکا تھا اور ہوٹل کی لابی میں بیٹھا اس کے حکم کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔
سوہا بس خاموشی سے اس کو سن رہی تھی ۔۔۔
“کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔؟؟؟
تم نے ہی تو قاضی صاحب کو لانے کا کہا تھا۔۔۔” امجد کو تعجب ہوا ۔۔۔
“ہاں کہا تھا مگر بس یہ سمجھ لو کہ اب سے قسمت کا کھیل شروع ہونے کو ہے ۔۔۔۔۔”
اس سے آگے وہ بغیر کچھ بھی سنیں فون کاٹ چکا تھا ۔۔۔۔
پھر بہت آہستہ سے اس نے اپنی متائے حیات کے ہاتھوں کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔
مصطفی کے ہاتھوں کی انگلیاں سوھا کی کلائیوں میں پیوست ہو کہ نشان چھوڑ گئی ۔۔
یا شاید عمر بھر کی نشانی دی گئیں تھی اس کی ۔۔۔
مصطفیٰ نے دو بجے کے قریب دن کے رحمان صاحب کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تھی مسلسل گریہ و زاری سے سوہاکی آنکھیں سوجھ چکی تھیں۔
آ
ج وہ گھر واپس لوٹی ضرور تھی مگر بہت پرسکون تھی یہ سوچ کے کہ اگر مصطفی اس کی قسمت میں ہے تو وہ اس کو کسی نہ کسی طرح اللہ تعالی کے حکم سے ضرور ملے گا ۔۔۔۔۔۔!!
خدا حافظ۔۔۔۔!!وہ گاڑی سے اترتے ہوئے بہت آہستہ سے نم لہجے میں بولی تھی ۔۔
الوداع مت کہو!!
میں جانتا ہوں میں نے اپنا دل اللہ تعالی کے آگے کھول دیا ہے ۔وہ مجھے ضرور میری محبت مجھ تک پہنچائے گا ۔۔۔۔۔۔”
“میں جانتا ہوں وہ مجھے مایوس نہیں لوٹائے گا ۔۔”
کس طرح یہ میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔!!!
مگر بس مجھے یہ پتہ ہے کہ تم صرف میری ہو۔۔”
” آج نہیں تو کل ،۔۔”
کل نہیں توہو سکتا ہے صدیوں بعد مگر کبھی تو تم میری ہو بنو گی ۔۔۔۔”
میرے نام سے پہچانے جاؤ گی ۔۔۔”
آمین ۔۔۔۔”سوہاکے لبوں سے بے ساختہ نکلا تھا ۔۔
“میرا خدا میرے دل کا حال جانتا ہے”
” بے شک وہ ہر چیز پہ قادر ہے “
فجر کی پریگنینسی کو تیسرا ٹرائمسٹر شروع ہو چکا تھا۔
ارمغان سب کچھ بھلا ئے بس اس کا خیال رکھنے میں مصروف تھا ۔گھر کا ہر ایک فرد اس کا سائے کی طرح خیال رکھتا ۔
غزل نے تو گویا اس کو ہتھیلی کا چھالا بنا ڈالا تھا ۔دوسری طرف دادی اس کو اپنے پروں میں سمیٹ اپنے لاڈلے مرحوم بیٹے اور بہو کی آخری نشانی مان کے سینے سے لگائے رکھتیں ۔
حماد صاحب روزانہ صدقے اور خیرات کرتے نظر آتے ۔۔۔۔
پلیز مان آپ مےجائیں نہ۔۔۔۔”
میرا دل بہت خراب ہو رہا ہے۔ طبیعت بھی اب بہتر نہیں ہے میری۔ کسی وقت بھی ہاسپیٹل ۔۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے خاموش ہو گئی فطری حیاءنے نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
تو یار میں کوئی بہت سارے دن کے لئے تھوڑی جا رہا ہوں ۔بس دو دن میں واپس آ جاؤں گا اور اگر تمہاری طبیعت ذرا سی بھی اونچ نیچ کاشکار ہو تو مجھے کال کر دینا شہر سے فوری بھاگا چلا آؤں گا ۔۔
وہ محبت سے اس کی پیشانی کو سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
فجر پہلے سے اور بھی خوبصورت ہوگئی تھی جیسے جیسے پیروں تلے جنت نزدیک آ رہی تھی گویا وہ نکھرتی چلی جا رہی تھی وقت کے ساتھ ساتھ ۔
ارمغان کو لگ رہا تھا جیسے وہ حوروں کا سہ حسن چر ا رہی ہو جس کا وہ برملا اظہار بھی کیا کرتا
۔یا پھر شائد یہ مرحلہ ھی ایسا ہوتا ہے جب ایک مرد باپ کے رتبے پر فائز ہونے والا ہوتا ہے تو وہ اپنی اہلیہ کو دنیا کی سب سے حسین اور خوبصورت بیوی تصور کرنے لگتا ہے۔ ایک خاص کشش ہوتی ہے اولاد کی جو ایک شوہر کو اپنی زوجہ سے مزید قریب کر دیتی ہے ۔
دنیا میں وہاسکو واحد ہستی لگ رہی ہوتی ہے جس سے وہ دل اور جان سے محبت کرتا ہے اس کو چاہتا ہے ۔۔”
وہ سوچکی تھی اس کے بازو پر سر رکھ کےجبکہ ارمغان آنے والے دنوں کے بارے میں سوچتے سوچتے حسین خواب سجا رہا تھا۔
جس میں اپنی اولاد کے لئے بہت ساری خواہشات تھی ۔۔جاگتی آنکھوں سے اس نے ڈھیر سارے خواب دیکھ ڈالے تھے آپ نے آنے والے بچے کو لے کہ ۔۔۔
