Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 37
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 37
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
یہ یہاں کیوں آئے ہیں ؟؟؟
وہ حمزہ کو بیگ اپنے شانے پہ ڈال کے ان دونوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کہ درشتگی اور حقارت سے بولی تھی۔۔۔
لہجے میں واضح رکھائی کا عنصر موجود تھا ۔۔۔۔
کول ڈاؤن ۔۔!!!
ایوریتھنگ از فائن۔۔۔۔۔
ہو جسٹ ریلیکس ۔۔
وہ کسی گہری سوچ میں تھا اور پھر یکایک اس نے شفاء کے ٹیبل پہ دھرے ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر تسلی دینےوالے انداز میں تھاما تھا ۔۔۔
حمزہ اپنی مخصوص روبدار و مغرورانہ چال چلتا ہوا دونوں تک پہنچا تھا ۔۔۔
جس ہاتھ کو تم بہت حق سے پکڑے بیٹھے ہونا یہ ہاتھ سمیت یہ پورا وجود صرف اور صرف میرا ہے ۔۔۔۔۔
وہ جھٹ سے شفا کا ہاتھ بیدردی سےعا شیر کی گرفت سے چھوڑا گیا تھا۔۔۔۔
تم بہت بدل گئے ہو ۔۔!!
تمہارے اور میرے درمیان کبھی اس قدر تلخ تعلقات تو وابستہ نہیں رہے ؟؟؟
عاشیر دل ہی دل میں محضوض ہوتے ہوئے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی تاری کئے بولا تھا جبکہ لہجہ افسردگی لیے ہوئے تھا۔۔۔۔
اس کی اس حرکت پر جیسے شفاءآگ بگولا ہو بیٹھی تھی ۔۔۔
لوگوں کو جب انکی اوقات میں رکھنا شروع کردوں تو وہ کہتے ہیں کہ۔۔۔۔
تم بہت بدل گئے ہو ۔۔۔!!
وہ تمسخرانہ لہجے میں بولتا اشیر کے اوپر طنز کے تیر چلا رہا تھا ۔۔
ّویری ویل سیڈ۔ ۔۔۔۔۔!!
کیا طنز کی ایکسٹرا کلاس لینا شروع کر دی ہے؟؟؟
وہ بغیر برامنائے حمزہ کو دیکھتے ہوئے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے بہت اطمینان سے کہتا اندر ہی اندر حمزہ کو مزید تپا گیا تھا ۔۔۔
آپ اپنی حد میں رہیں نہیں تو میں بھول جاؤں گی کہ میری کیا حدود باقی ہیں ۔۔۔!
وہ تنفر سے کہتی کرسی دھکیل کے جانے کے لئے اٹھ کھڑی تھی۔۔۔
وہ غسے کی شدت سےجیسے اس کا پورا وجود لرز اٹھا تھا ۔۔۔
بس نہیں چل رہا تھا کہ حمزہ کا ہاتھ پکڑ کہ اس کو گھر سے ہی بال نکال کھڑا کرے مگر پھر اپنے بیمار باپ کا خیال آگیا تھا جو وہ یکدم تھمی تھی اور خون کا گھون پیٹ پی بیٹھی تھی ۔۔
میری حدود کا تعین تم کیا ہی کروں گی اگر میں اپنے اختیارات جتانے پر آیا تو تمہارا یہ تنفر جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ ۔۔
سب ہیکڑی دھری کی دھری رہ جائے گی ۔۔۔
خیر سب کے اختلافات اپنی جگہ مگر مجھ پہ جچتا ہے اب مختلف ہونا۔۔۔۔۔
وہ اپنے نوکیلے باٹ سے گارڈن کی گھاس کو بیدردی سے کھاڑا رہا تھا ۔۔۔۔
نرم دل لوگ بیوقوف نہیں ہوتے۔۔
وہ جانتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہے ہیں ۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ نظرانداز کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک خوبصورت دل ہوتا ہے ۔۔۔
جو کہ انکےسینے میں دھڑکتا ہے ۔۔۔!!!!
عاشیر، شفا کو دیکھتے ہوئے بہت گہری بات کہہ گیا تھا۔۔
جیسے حمزہ کو ڈھکے چھپے لفظوں میں بہت کچھ سمجھانا چاہ رہا ہو۔ ۔۔
شفاء ر کو ایک منٹ۔۔۔۔
وہ عا شیر کی بات کو نظرانداز کئے شفا کے قدموں کو ایک دفعہ پھر سے جکڑ گیا تھا ۔۔۔
کیوں اب کیا کچھ رہ گیا ہے مزید ب**** کرنے کو؟؟؟؟؟
وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں پلٹھی تھی۔۔۔
میری غلطیوں کو درگزر کر دو یار ۔۔۔۔
جان حمزہ اکھاڑ تو ویسے بھی تم میرا کچھ نہیں سکتی ہو۔۔۔۔۔۔!!!
وہ بڑے مزے سے کہتا مزید آگ میں پیٹرول ڈالنےکا کام کر گیا تھا ۔۔۔
دیکھا تم نے عاشیر یہ بندہ ابھی بھی کس قدر ایٹیٹیوڈ دکھا رہا ہے ۔۔
رسی جل گئی مگر اس شخص کے بل نہیں لکلے ۔۔۔۔
وہ تو جیسے حمزہ کی کہ یہ آخری بات سن کر آگ بگولہ ہو گئی تھی ۔۔۔
جب کہ وہ ستمگر کہہ کہ بڑے مزے سے آگے بڑھکا کہ جا چکا تھا ۔۔۔
نہیں وہ ایسے ہی تمہیں تنگ کر رہا ہے جو لوگ محبت کرتے ہیں دل سے وہ خود سے عزیز تر شخص کو کسی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔
عاشیر نے معاملہ سنبھالنا چاہا ۔۔
آپ کسی تو نہیں ہیں اور حمزہ جیسے لوگ محبت تو دور کی بات محبت کے لفظ کو بھی بد نام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔!!
وہ کسی طور بھی حمزہ کے لئے دل میں نرم گوشہ پیدا نہیں کر پا رہی تھی۔۔
یا پھر قصدً نرمی اختیار کرنے کے موڈ میں نہ تھی ۔۔
تاشیر گہری سانس بھر کے رہ گیا وہ تمہارا ستمگر ہے میں مانتا ہوں۔۔۔۔
مگر ستم کر تمہیں عزیز ہوں ۔۔۔۔۔!!
یہ تم میری مان لو ۔۔۔
خیر میں جانتا ہوں اس وقت تم کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہو میری باتیں ۔۔
مگر غور ضرور کرنا اکیلے میں اور اب جلد ہی اندر چلنا چاہیے ہمیں ۔۔۔
تیز بارش ہو نے کے اثار ہیں ۔۔
لگتا ہے گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی بادل دیکھو ذرا ۔۔۔
الگ تو تم دونوں کو میں بھی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔
ایک کو غلطی کا احساس ہوچکا ہےمگر اگر پھر بھی کم نہیں ہوئی ۔۔
تو دوسرا فریق انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنا ہی آنگن جلانے پہ تلا ہوا ہے۔۔۔۔
وہ سوچتے سوچتے آگے بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔جبکہ شفا جلتی کلستی اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی جانی پہچانی سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔۔
شفاء نے ٹھٹھک کہ کمرے کی لائٹ جلائی تھی لمحوں میں ہی پورا کمرہ روشنیوں میں نہا گیا تھا ۔۔
یہ سب کیا ہے ؟؟؟؟
بیڈ پہ حمزہ کہ کچھ دیر پہلے پہنے ہوئے کپڑے بے ترتیب سے پڑھے ہوئے تھے ۔۔
جبکہ فرش بے سوٹ کیس چاک ہوا اپنی قسمت پہ رو رہا تھا ۔۔۔
اس کی حسیات الرٹ ہوئی تھیں کیونکہ سوٹ کیس کی موجودگی وہ بھی اپنے کمرے میں اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہا تھا کہ اس میں سے کپڑے نکالے گئے ہیں۔۔۔
اب اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی تھی حمزہ کا موبائل ،رسٹ واچ ، سگریٹ اور لائٹر وغیرہ سب کچھ ٹیبل پہ بکھرا پڑا ہوا تھا ۔۔۔
تو اس کا مطلب وہ شخص اسی کمرے میں موجود تھا مگر کہاں ؟؟؟؟
وہ شدید اشتعال میں ادھر سے ادھر اب حمزہ کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا مجھے تلاش رہی تھیں؟ ؟؟؟
وہ شاور لے کر نکلا تھا ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں موجود شرٹ سے بے نیاز نہ جانے کہاں سے نمودار ہوا ۔۔۔؟
آپ یہاں اور وہ بھی اس وقت؟؟
میرے روم سے چلے جائیں فوری ۔۔۔۔
وہ برہمی سے کہتی اپنے ہاتھ کو اٹھا کہ انگشتِ شہادت دروازے کی طرف کرکے بولی تھی آنکھیں میں یکدم ہی جیسے لال مرچیں بھری تھی ۔۔۔
وہ بری طرح چلائی تھی ۔۔
حمزہ کی آواز کانوں میں کیا پڑھی شفا کو لگا جیسے کسی نے پورے کمرے میں خوفناک صور پھونک ڈالا ہو ۔۔۔
حمزہ بھاری قدموں سے چلتے ہوئے شفاء تک کا فاصلہ طے کر گیا تھا اور اس کے قریب جا کہ رکا ۔۔۔
شفا کو چند سیکنڈ لگے تھے خود کو سنبھالنے میں اور وہ اس کی جانب سے نگاح ہٹا گئی تھی ۔۔
جیسے وہ کمرے میں موجود ہی نہ ہو۔۔۔
اس کی موجودگی سے اس کو قطعاً کوئی فرق نہیں پڑا ہو۔۔
وہ اپنی تعیں یہی ثابت کرنا چاہ رہی تھی حمزہ کے سامنے ۔۔۔۔مگر کچھ رویہ ایسے ہوتے ہیں جو ہم چاہ کر بھی نہیں چھپا سکتے ۔ ۔۔۔
میں خود کوکمزور تو نہیں پڑھنے دوں گی ۔۔۔
ایک دفعہ اپنے ہی محرم سے کھلونا بن کر ٹوٹ چکی ہوں۔۔۔
مگر اب نہیں ۔۔۔۔!!
عورت کمزور نہیں ہوتی یاد رکھنا حمزہ جلال ۔
مگر اگر اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو ٹوٹ ضرور جاتی ہے۔۔۔
پھر بھی سیدھی نہیں ہوتی کیونکہ وہ مرد ہی کی ٹیڑھی پسلی سے خدا نے بنائی ہے ۔۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کے کہتی جیسے دہکتے ہوئے انگاروں کی زد میں تھی۔۔۔
اس قدر لہجہ برہم ہوا تھا کہ تنفس تیز ہو گیا ۔۔۔۔
وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی تھی۔۔
مگر حمزہ کو جیسے کسی بھی بات سے فرق نہیں پڑاتھا ۔۔
وہ کچھ دیر خاموش کھڑا لبوں پہ مسکراہٹ لیے اس کو دیکھتا رہا ۔
پھر بہت اطمینان سے شفا کا تکیہ بھی لیتے ہوئے اپنے سر کے نیچے رکھ کہ پورے بیڈ پہ شاہانہ انداز میں چوڑ کے لیٹ گیا ۔۔۔
جیسے یہ شفا کا نہیں بلکہ اس کا بستر ہو ۔۔۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہو جان حمزہ ۔۔۔!!
بغور دیکھتے ہوئے بھاری لہجے میں دریافت کیا گیا تھا۔۔۔
مگر وہ تو اب جیسے لبوں پہ قفل چڑھا چکی تھی آنکھوں میں حمزہ کو اپنے بستر میں دراز دیکھ کر وحشت سی اتری تھی ۔۔
جتنا کہنا تھا وہ کہہ چکی تھی۔۔
جو بتانا تھا بہت اچھے سے جتا چکی تھی۔۔
اس سب کے بعد تو ہمزہ کو چلے جانا چاہیے تھا ۔۔۔
میری یہ پہلی شادی ہے سو اسرار اور رموز اتنے معلوم نہیں ۔۔!!
پوچھنا پڑے گا بیوی ناراض ہو تو کیسے منایا جائے کسی ویل ایکسپیرئینسنڈ بندے سے ۔۔۔
وہ اتنا سب کچھ کر کے ماحول کہ تناؤ کو ختم کرنے کے بارے میں کیسے سوط سکتا تھا ؟؟
جبکہ یہ سب رنجشیں اور دوریاں اس کی ہی تو خودساختہ پیدا کی ہوئی تھی ۔۔!!
پھر وہ کیسے یہ سارا تناؤ ختم کرنے کی کوششیں کر رہا تھا آخر۔ ۔۔۔
تو وہ کیا ایک نئی شروعات کرنے آیا تھا ۔۔۔؟؟
یا پھر کسی قسم کا ازالہ ۔۔۔!!
کیا پھر سے ایک دفعہ نیا دھوکا دینے کی تیاری مکمل کر بیٹھا تھا ۔۔۔؟؟؟
مگر شفا تو جیسے ہر طرح کے جذبات و احساسات سے عاری ہو چکی تھی اس کی طرف سے کسی بھی قسم کا ریکشن ناپید تھا ۔۔۔
ہمزہ اس کے چہرے کو بغور تکتے ہوئے ہاتھ بڑا کر اس کو سمجھنے کا موقع دیئے بغیر خود پہ گرا گیا تھا۔۔۔
ہمارے درمیان اب کوئی رشتہ باقی نہیں رہا ہے حمزہ جلال صاحب۔۔۔۔!!
اس کی نظروں میں بےپناہ حقارت تھی لہجہ جیسے آگ اگ رہا تھا اور اگر پھر بھی اب آپ زبردستی کر کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو بے شک آپ طاقت میں مجھ سے کئی زیادہ ہیں ۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔!!
مگر ایک دفعہ یہ ضرور سوچ لیے گا کہ طاقت کی بنا پر دل فتح نہیں کئے جا سکتے ۔۔۔!!!
وہ بری طرح سے اس کو نوچ رہی تھی خود کو چھڑوانے کے لئے اور وہ سنگ دل تھا کہ زہریلی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے مسکرائے چلا جا رہا تھا ۔۔۔
تو اس کا مطلب ہے کہ تم مانگئی ہو کہ میں تمھیں اپنے زور بازو سے قابو کر سکتا ہوں؟؟؟
ان شارٹ تم مجھ سے ہار مان بیٹھی ہوں ۔۔؟؟
وہ جیسے اس کو تنگ کرنے پر کمر کس چکا تھا اس کو آگ بگولا ہوتا دیکھ خط اٹھا رہا تھا ۔۔
یا شاید۔۔۔
اس کے غصے سے محظوظ ہو رہا تھا ۔
آج کئ دن بعد وہ اس کو بالکل پہلے جیسی جنگلی بلی کھائی دی تھی بے خوف بہادر اور پوری دنیا کو فتح کرنے کا عزم خود میں رکھنے والی ۔۔۔
بولو جو کہنا چاہتی ہو ۔۔
کہہ لو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ۔۔
جب تمہارا دل ہلکا ہوجائے تو ہم دونوں واپس دوستی کرلیں گے ۔۔۔!!
وہ خمار آلود لہجے میں کہتا اس کے گرد مزید حسار تنگ کر گیا تھا حتی کہ اس کی شرٹ کی زپ پوری چاک کر چکا تھا ۔۔۔
مجھے مت چھئو تمہاری چھونے سے اب مجھے اپنے وجود سے نفرت ہوتی ہے ۔۔۔پہلے مجھے تمہارے چھونے سے کراہیت محسوس ہوتی تھی مگر اب مجھے خود سے نفرت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔
بار بار ایک ہی سوچ میرے دماغ میں آتی ہے کہ ۔۔۔
کیوں میں نے ایک ایسے شخص کو اپنا وجود سپرد کیا جو اس کے قابل ہی نہ تھا ۔۔۔؟؟
تم کیا سمجھتے ہو تمہارا جب دل چاہے گا مجھے عرش پہ بٹھا دو گے اور جب دل چاہے گا مجھے زمین پر پٹخ دو گے؟؟
میرے دل میں اب تمہارے لیے قطعاً کوئی گنجائش برقرار نہیں رہی ہے ۔۔
نفرت کرتی ہوں میں تم سے ۔۔
شدید ترین نفرت حمزہ جلال۔۔۔!!!
وہ ہذیانی انداز میں چلازئی تھی جیسے اپنے آپے میں ہی نہ رہی ہو۔۔۔
اوکے ریلیکس ۔۔۔۔!!
کا م ڈاون ۔۔
ٹیک اٹ ایزی۔ ۔۔۔!
کچھ نہیں ہوا ہے۔۔۔
سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔
وہ یکایک اپنی گرفت سے اس کو آزاد کرگیا تھا ۔۔۔
میری طرف دیکھو شفا جو بھی ہوا میں اس کے لیے تم سے بہت شرمندہ ہوں۔۔
وہ اس کارخ اپنی طرف کر کے بولا تھا۔۔۔
یہ رشتہ بن چکا ہے اور تم مانو یا نہ مانو مگر تم میری بیوی ہو ۔۔
میں تم سے جائزہ رشتہ رکھتا ہوں ۔۔!!
اس سچائی کو تم جھٹلا نہیں سکتی بلکہ تم تو کیا میں یا کوئی اور بھی نہیں جھٹلا سکتا ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔
تو مجھے ایک بات بتائیں کیا میں ایک بے جان گڑیا ہوں ؟؟
بے جان بتوں کی پرستش کا کوئی ایکس پیر ینس نہیں ہے مجھے ۔۔!!
بہت تحمل سے جواب دیا گیا ۔
کیا نہیں ہوں گڑیا میں؟ ؟؟
جواب دیں دیکھں میری آنکھوں میں۔۔۔
بتاؤں مجھے میں کیا پوچھ رہی ہوں آپ سے۔۔۔۔۔
گھڑیاہی تو ہوں میں۔۔
تمہارے لئے جب تمہارا دل کیا تم نے کھیلا ۔۔۔
اور جب تمہارا دل چاہتا تم نےمجھ کو توڑ کے پھر پھینک دیا کچرے میں ۔۔!
وہ جیسے ہر قسم کا لحاظ بھول بیٹھی تھی۔۔۔
اوکے ۔۔
پرسکون رہو میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔
تم بھی سو جاؤ۔۔۔
وہ جیسے اس کی بات مزید سننے کے موڈ میں ہی نہ تھا کروٹ لے کر ایسے لیٹا تھا جیسے معمول کی بات ہو ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ شفا کچھ فاصلے پر بیٹھی اپنا سر گھٹنوں میں دیے زاروقطار ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔
تمہیں نہیں لگتا کہ تم واقعی میرے لیے بنائی گئی ہو؟؟
تمہارے لڑکھڑاتے قدم چغلی کھا رہی ہیں کہ تم مجھ سے دور جانے پر مائل نہیں ہو یا پھر تمہارے قدموں کو مجھ سے فاصلہ قائم کرنے کی حاجت نہیں شاید ۔۔!!!
وہ مدہم لہجے میں بولتا اس کی گردن پہ سےاپنے دہکتے ہوئے لب ہٹاتے ہوئے کان کے قریب جا کہ جیسے سماعتوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔۔
اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا ۔۔
آنکھوں میں کئی رنگ تھے محبت کے۔۔
اپنائیت کے ۔۔
وہ بغور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا نہ جانے کیا جاننا چاہتا تھا۔۔؟؟؟
کیا کھوج رہاتھا اس کے تیکھے نقوش میں ۔۔۔؟؟؟
وہ۔ سمجھ نے سے قاصر تھی۔ ۔۔
یکایک پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔
بارش کی رفتار میں مزید تیزی آئی تھی جذبات کے سمندر میں تلاطم برپا ہوا تھا ۔۔
بادل بہت زور سے گرجے تھے ۔۔۔
باہر شاید لائٹ جاچکی تھی کمرے کے اندر ایمرجنسی آٹومیٹک لائٹ کھٹ سے روشن ہوئی تھی ۔۔۔۔
وہ پہلے ہی اس کے جذبات سے چور قربت سے کانپ رہی تھی ۔۔۔
پورا وجود لرزش کی لپیٹ میں تھا۔۔۔
تم مجھ سے جو راز چھپانے کی کوشش میں مصروف ہو نہ ۔۔
وہ راز میری دھڑکنیں سن چکی ہیں ۔۔۔ ”
کاش میں ان پرفسوں لمحات کو قید کرسکتا ۔۔۔۔۔!!
کاش ان خوبصورت لمحوں پر میرا اختیار ہوتا ۔۔۔۔”۔
اگر جو اس قدر اختیار مجھے حاڈل ہوتا تو میری زندگی ۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں تم سمیت ان حسین پلوں کو باندھ لیتا۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
کاش گر جو ایسا ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔”
عمر نےاس کی تھوڑی کو اپنی انگشت شہادت سے اونچا کرکے کہا گیا تھا ۔۔
لرزتی اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمن پہ اپنے لبوں کو رکھ کے چوماتھا ۔۔
کیا انوکھا انداز تھا محبت جتانے کا ۔۔۔۔
الفت لوٹاتا ۔۔۔
میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ۔۔۔
آپ کی محبت کا جواب عشق کی صورت میں دوں ۔۔۔۔۔
مگر ابھی کچھ وقت لگے گا ۔۔۔
دھڑکنوں کو ایک ڈگر پر لانے میں۔۔۔۔
لائبہ اس کے حصار میں جکڑی بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ اٹھی تھی ۔۔
اس پر تضاد بارش میں بھیگنے کے باعث دونوں نفوس کے لباس کا نم ہونا ۔۔۔۔۔۔!!!
ایک بات بتاؤں تمہیں راز کی ۔۔۔۔؟؟؟
وہ جیسے لائبہ کے وجود پہ اپنی گرفت ڈھیلی کرنے کے موڈ میں نہ تھا ۔۔۔
یا شاید اس کو الجھا رہا تھا خود میں ۔۔
ذرا کی زرا نظریں اٹھا کے لائبہ نےاس مہرباں کے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
عمر کی آنکھوں میں کچھ اور ہی کہانی رقم تھی۔۔۔۔۔۔
وہ واپس نظریں جھکاگئ۔ ۔
کہیں۔ ۔۔۔۔۔!!!
آپکو اجازت طلب کرنا چچتا نہیں مجھ سے۔ ۔۔۔
لڑکھڑاہٹ واضح تھی اسکی آواز میں۔ ۔۔
یا شاید عمر کو لگی تھی۔
خود کو نڈر ظاہر کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔
جی کہیں۔۔۔۔
بہت مشکل لبوں کا قفل ٹوٹا تھا۔ ۔۔
دھیمے سے سے کہا گیا تھا۔۔
مگر نہ جانے کیوں وہ چاہ کر بھی خود کو عمر کی بانہوں میں سے آزاد نہیں کروا رہی تھی۔۔
لگ رہا تھا جیسے تمام مزاحمت خود بخود دم توڑ بیٹھی ہیں ۔۔۔
محبت ایک عجیب عادت ہے ۔۔۔۔وہ جزباب سے چور لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ۔۔
خاصی بھولی بھالی ہوتی ہے محبت۔۔
خود سے بے پروا۔۔
بے بہرہ۔۔
ہر ایک کی پروا میں گھلتی ۔۔۔
بے جا فقروں میں الجھتی ہوئی ۔
راز داری نبھاتی ہوئی۔
لا پروائی میں اس کو بہت سی باتوں کا ہوش کہاں رہتا ہے۔۔۔۔
کئی باتوں پر غور نہیں کر پاتی۔۔۔
محبت بس ان کہے لفظوں میں اک راز ہے گہرا۔ ۔۔
گھمبیر لہجے میں کہا گیا تھا ۔۔
کچھ نہ کہتے ہوئے بھی وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں بہت کچھ آشکار کر گیا تھا ۔۔
آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا ۔
ذومعنی انداز میں لائبہ کو شاید وہ اپنا حال دل سمجھانے میں کامیاب ہوا تھا ۔۔
اگر محبت اپنا اپ منوانا جانتی ہے تو ۔۔
محبت کو راز بنا کر دل کے تہہ خانوں میں قید کرلینا ہی عقلمندی ہے۔ ۔
گر جو محبت خالص ہوئی تو چیخ چیخ کہ اپنا آپ منوا ہی لے گئی ۔۔!!!
لفظ تھے یا کوئی سحر تھا وہ کھو سا گیا تھا لائبہ کی کہی ان کہی میں ۔۔۔
تو کیا میں یہ سمجھوں کہ تم بھی اسی کشتی کی سوار ہو ۔۔۔؟؟؟
جس میں بہت پہلے سے میں سفر پر نکلا ہوا ہو ۔۔۔!!!!
تھک چکی ہوں بہت سفر کرتے کرتے۔ ۔۔۔!
لمبی گہری۔ نیند سونا چاہتی ہو بسس۔ ۔۔۔۔۔۔
ٹھک۔ ۔۔۔۔ٹھک۔ ۔۔۔۔!!
دروازہ زور سے بچا تھا بیڈ روم کا ۔۔۔
ایک طلسم سہ تھا جو یکدم ٹوٹا تھا ۔۔۔
عمر نے بہت تیزی سے مگر احتیاط سے لائبہ کو اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کیا تھا۔۔۔
وہ اس کو اس کے قدموں پر کھڑا کرکہ اس سے دور فاصلہ قائم کر گیا تھا۔۔۔۔
جی کون؟
بیٹا جرنیٹر آن کو دو۔۔۔
تمہارے بابا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔!!
ائمہ نے کہا۔۔۔
وہ کافی دیر سے دروازہ بجا رہی تھی ۔۔
جب کافی دیر تک نہیں کھولا گیا تو مجبورا اس نےدروازہ دونوں ہاتھوں سے زور زور سے پیٹا۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کے حویلی میں پہلا قدم رکھتے ہی ایک تیز ہوا کا جھو نکہ ارمغان اور فجر کے گرد چکر کاٹتا محسوس ہوا تھا جیسے نہ جانے کب سے ان دونوں کا انتظار کیا جا رہا ہو۔۔۔
فجر اپنا ہاتھ چھڑواکہ ایسے پوری حویلی میں گھوم رہی تھی جیسے ایک ایک چپکے چپکے سے حویلی کے واقفیت رکھتی ہو۔
وہ تھوڑا حیران ضرور ہوا تھا مگر پھر یہ سوچ کے اپنا وہم سمجھ جان کہ دماغ کو الجھنے سے روکا کہ شاید وہ خوشی میں اس طرح سے ری ایکٹ کر رہی ہے ۔۔
وہ ہر ایک چیز کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
حویلی کی خوشبو کو اپنے اندر اتار رہی تھی۔۔۔۔!
آؤ میں تمہیں حویلی کے پچھلی طرف پائیں باغ میں لے کر چلو۔۔
جہاں میں اور میری گڑیا اکثر چل چلاتی ہوئی دوپہر میں بھی نیم کے درخت کے نیچے جھولا جھولا کرتے تھے ۔۔۔
فجر اسکے قدم بڑھانے سے پہلے ہی باغ کی طرف نکل چکی تھی۔۔۔۔
ارمغان کو بہت تعجب ہوا تھا ۔۔۔
وہ کس طرح اس بھولبلییا حویلی کے راستوں سے واقفیت رکھ دکتی تھی ؟؟؟؟
عنآیہ۔ ۔۔۔۔۔!
وہ دیکھیں عنایہ جھولا جھول رہی ہے ۔۔۔”
وہ جھولے کی طرف اشارہ کرکہ بولی تھی ۔۔
جس پہ نیم کہ درخت کے نیچے وہ دونوں جھولا جھولتے تھے۔۔۔۔
جو مانی نے اس کی خواہش پہ خود لکڑی کے تختے پر رسی ڈال کے بنایا تھا ۔۔۔
عنایہ۔ ۔۔۔۔!
وہ دیکھیئے عنایت ہری فراک پہنے کتنی اچھی لگ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
فجر بھاگتی ہوئی درخت سے بندھے جھولے کے پاس گئی تھی اور جھولے کو ہلکے سے ہلانے لگی تھی۔۔
جیسے واقعی جھولے پہ عنایا بیٹھی ہو اور وہ اس کو جھولا جھلا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔
بڑے بھیا آونا ۔۔۔۔۔!
اب آپ بھی عنایا کو جھولا دو ۔۔۔۔۔۔۔”
مانی وحشت زدہ سہ فجر کی عجیب و غریب گفتگو کو سن کہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مگر ایک بات بھی اس کے دماغ کو پلےنہیں پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟؟؟
فجر کیوں اس طرح کا برتاؤ کر رہی ہے۔۔۔۔۔؟؟
کیا سمجھانا چاہ رہی تھی وہ اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ صحیح معنوں میں بھونچکا رہ گیا تھا ۔۔
مان دیکھو بھیا نہیں آرہے ہیں ۔۔۔۔۔”
وہ چھوٹے بھائیا کے ساتھ ہی کھیل رہے ہیں اور دیکھیں میں نے کہا تو مجھے نہیں کھلا رہے دونوں۔۔۔۔۔۔ !!
اکیلے ہی فٹبال سے کھیلے چلے جا رہے ہیں۔۔۔”
مجھے بھی کھیلنا ہے دونوں کے ساتھ ۔۔۔”””
اور آپ کیسے فرینڈ ہو نہ عنایہ کے کیوں ڈانٹ نہیں لگاتے انکی۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میں جارہی ہوں ماما کے پاس آپ تینوں کی شکایت لگانے ۔۔۔۔”
ماما ۔۔۔۔۔ماما۔۔۔ !
دیکھو بھائی میرے ساتھ نہیں کھیل رہے ہیں ۔۔۔۔۔!
پلیز جلدی آو نام مما باہر ۔۔۔۔
فجر کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
مجھے تمہاری کسی بات کی سمجھ نہیں رہی ۔۔۔!!
وہ الجھا تھا ۔۔۔
“کہیں واقعی حویلی میں موجود آسیب فجر پہ حاوی تو نہیں ہو گئے ۔۔۔۔۔؟؟؟
اس سے آگے جیسے وہ سوچ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ چہرے پہ ننھی ننھہ پسینے کی بوندیں پھوٹ پڑی تھیں ۔۔۔
مجھے امی اور دادی کی بات مان لینی چاہیے تھی فجر کا یہاں آنا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔۔۔”
مجھے یہاں اس کو لانا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔۔!
چلو فجر بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔
نہیں ابھی تو ہم آئے ہیں مشکل سے دو گھنٹے بھی نہیں گزرے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ چلو ۔۔۔۔۔”
آپ کو پتہ ہے میں کتنی تڑپتی ہو اس جگہ آنے کے لئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔؟؟؟
یہ میری حویلی ہے۔۔
یہ عنایہ کی حویلی ہے ۔۔۔۔”
میں یہاں سے کہیں نہیں جاونگی آپ جائیں میں آپ کو جانے دیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ !!
مگر میں کہیں نہیں جاونگی ۔۔۔۔”
لہجہ یکدم ضدی ہوا ۔۔۔
اور اگر آپ نے مجھ سے زبردستی کی تو میں بابا سے شکایت کر دوں گی آپ کی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔”
ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ !!!
وہ ضدی پن سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔
جیسے کوئی نو سے دس سال کی بچی ہو ۔۔۔۔۔۔”
وہ ہنکارہ بھرتی بھاگتی ہوئی واپس حویلی کے اندر چلی گئی۔۔۔
مانی کو لگا تھا جیسے وہ اپنے اپنے آپ میں نہ تھی ۔۔۔۔
میرے بابا ماما کو مت لے کر جاو مجھ سے دور پلیز۔۔۔۔۔ ۔ “
چھوڑ دو میرے پاس میرے بھائیوں کو ۔۔۔!
کیوں لے کر جا رہے ہو تم لوگ۔ ۔۔۔۔۔
وہ اپنے ماں باپ اور بھائیوں کا جنازہ جس جگہ بڑے سے ہال کمرے میں لایا گیا تھا اس جگہ زمین پر بیٹھ کے زور زور سے چیخ رہی تھی بین کر رہی تھی ۔۔۔۔
انکل مجھے جانے دو ۔۔۔
مجھے دیکھنا ہے۔۔۔
مجھے اپنے مما بابا کوآخری دفعہ دیکھنا ہے۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔
میں اپنے ماں بابا اور بھائیوں کا آخری دیدار کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔””
آپ نے مجھے کیوں یہاں بند کر رکھا ہے ۔۔۔۔؟؟
وہ دیکھیں وہ وہاں سےلوگ اٹھا رہے ہیں میرے بابا کو کندھوں پر اپنے ۔۔۔۔”
نہیں بیٹا یہ مناسب نہیں ہے بس تم خاموش رہو اور اپنے سر سے چادر مت ہٹانا ۔۔۔۔۔۔۔!!
زید فجر کا خیال رکھنا ۔۔۔”
مگر بابا یہ توعنایہ ہے پھر آپ نے ان کو فجر کیوں کہا ۔۔۔۔۔۔؟؟
زید کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی جبکہ عنایہ تو جیسے ہوش میں ہی نہ تھی۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اپنے ماں باپ کے پاس چلی جائے ۔۔
بیٹا آج سے یہ فجر ہے آپ کی بہن انا یہ آگ میں جل کے مر چکی ہے۔۔۔۔”
یہ بات یاد رکھنا اور فجر کو ادھر سے باہر مت نکلنے دینا۔۔۔۔!!
میں بس ابھی آیا کچھ ضروری کاغذات لے کر ۔۔۔۔”
جی بابا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔”
فجر بیٹی آپ یہ دودھ پی لو ۔۔۔
انہوں نے اس کے دودھ میں نیند کی دوا ملا کر دی تھی تاکہ وہ گہری نیند سو سکے ۔۔
وہ اس کے بابا کے دوست تھے اور انھی سے ملنے آئے تھے مگر نہ جانے کیا ایسا ہوا تھا کہ ان کو فجر کی حفاظت کرنا پڑگئی تھی اور دنیا سے چھپا کر رکھنا ان کے لیے لازم اور ملزوم ہو گیا تھا اسکو ۔۔۔
عنایہ کو نیند کی دوا ملا کے دودھ میں اسی لئے دی گئی تھی تاکہ وہ شور نہ کرے۔ ۔۔
انہیں ڈر تھا کہ اس کی آواز سن کہ کوئی اس طرف نہ نکل آئے ۔۔۔
فجر کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔؟!
تم اس طرح کی باتیں کیوں کر رہی ہو ۔۔۔؟؟؟
وہ دیوار پہ آویزاں اپنے ماں باپ کی شادی کے دن کی بڑی سی فریم شدہ تصویر کو دیکھ کہ سسک رہی۔ ۔۔۔
اس کو چھو کے محسوس کرنے لگی ۔
اس طرح جیسے اپنے ماں باپ کو محسوس کر رہی ہو۔۔
دیکھئے میں آ گئی بابا۔۔۔۔۔عنایہ آگئ۔ ۔۔۔!!
دیکھیں مما آپ کی عنایا آگئی۔۔۔۔
اب میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی بھائی آپ کہاں ہو ۔۔۔۔۔؟؟
وہ اب دوسری فریم شدہ تصویر میں موجود اپنے بھائی سے مخاطب تھی۔ ۔۔۔
اس کی سسکیاں پوری حویلی میں گونج رہی تھی ۔۔۔
ارمغان نے ایک۔ جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف پھیرا تھا ۔۔۔۔۔
کون ہو تم۔ ۔۔؟؟؟
گڑیا ۔۔۔۔۔!!
آپکی گڑیا ۔۔۔”
مان کی گڑیا۔ ۔۔۔۔۔۔”
وہ نہیں جانتی تھی جس راز کی حفاظت اسکے انکل نے اپنی جان سے بڑھ کر کی تھی ۔۔۔
وہ راز وہ لمحے میں فاش کر گئی ہے اپنی بد حواسی کی بنا پر ۔۔۔۔۔۔!!!!
