Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 48

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 48

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

تم سے منزل کا نہیں

رشتہ سفر کا ہے میرا

یہ ضروری تو نہیں

کے ساتھ چلا بھی جائے

تم سے ملا بھی جائے

عشق دیدار کا

محتاج نہیں ہوتا جاناں!!

ایک احساس کا رشتہ ہے

یہ خوشبو کی طرح

دیکھنے چھونے سے عاری

کسی جادو کی طرح

بس آواز ہی کافی ہے

محبت کے لیے

سب کچھ اضافی ہے

ابھی ابھی سوہا کو مصطفی کی طرف سے یہ میسج موصول ہوا تھا ۔۔

سائیڈ ٹیبل پر موبائل چارج پر لگا ہونے کی باعث وہ کھڑی ہو کے میسج پڑھتے پڑھتے یکدم بے بس سی ہو کر رونے لگی اور فرش کے اوپر بچھے کارپٹ پہ بیٹھی چلی گئی ۔۔۔۔

نہ جانے اس کو کیا ہوا تھا ایک دم سے۔۔۔؟؟

اس نے اپنا موبائل سائڈ ٹیبل پر لگے چارجر میں سے جدا کیا اور موبائل کانٹیکٹ میں جاکہ مصطفی کے نمبر پہ کال ملانے لگی ۔۔

کیسی ہو سو ہا؟ ؟؟

بھاری اور گھمبیر لہجے میں استفسار کیا گیا۔ ۔۔

کیسی ہو سکتی ہوں۔ ۔ ؟

سسکیوں کے درمیان جواب دینے کے بجائے وہ سوال کر بیٹھی۔

جانتا ہوں تمہارا حال بھی میرے حال سے مختلف نہیں ہے۔۔۔۔”

مت کرو خود کو ہلکان یہ فیصلہ تمہارا ہی ہے ۔۔۔”

“تو آپ مجھ سے کیوں تمام رابطے نہیں توڑ دیتے”

“رابطے ٹوٹنے کے لیے بنتے ہی نہیں ہے “

وہ نہ سمجھی پہ مسکرایا اس کی اور گہرے لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔

“میں کوئی تعلق آپ سے وابستہ نہیں رکھنا چاہتی آج سے ٹھیک چوتھے دن میری مہندی ہے۔ ۔۔۔۔”

“بہت مبارک ہو تمہیں “

“تیاری رکھو اپنی شادی کی ۔۔۔”

جانتا ہوں بہت خوش ہوں گی تم مگر آخری دفعہ میں نے تمہیں ایک میسج کیا ہے یہ حال دل تھا میرا جو میں نے تمہیں لفظوں میں کی ڈالا آج کے بعد میں تمہیں تمہارا تنگ نہیں کروں گا جب تمہیں اس رشتے کے لیے بخوشی حامی بھر چکی ہو پھر میں کون ہوتا ہوں تمہیں بار بار اپنی محبت کا احساس دلانے والا ۔۔

دعا کرنا کہ آج کے بعد تم ہی میری کبھی کال تو دور کی بات شکل دیکھنا بھی نصیب نہ ہو ۔۔۔”

“خدا حافظ ۔۔۔۔۔”

مصطفی کہہ کر فون رکھ چکا تھا ۔

رات کے ڈھائی بجے کا وقت تھا وہ ڈیفنس کی سڑکوں کونآپتہ انتہائی بدترین انداز میں تیز ترین ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھا ۔

سگریٹ پہ سگریٹ سلگا تا جیسے خود کو بے موت مار نے کی تگ و دو میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔”

ہم بے وفا ہرگز نہ تھے

پر ہم وفا کر نہ سکے

ہم کو ملی اس کی سزا

جو ہم خطا کر نہ سکے

کتنی اکیلی تھیں وہ راہیں

ہم جن پر اب تک چلتے رہے

تجھ سے بچھڑ کہ بھی

اوہ بے خبر !!

تیرے ہی ہم چلتے رہے

تو نے کیا جو شکوہ

ہم وہ گلا کر نہ سکے

تم نے جو دیکھا سنا

سچ تھا مگر ۔۔۔

کتنا سچ یہ کس کو پتہ ؟

جانے تمہیں میں نے کوئی دھوکا دیا ؟

یاجانے تمہیں کوئی دھوکا ہوا ؟

اس پیار میں سچ جھوٹ کا

تم فیصلہ کر نہ سکے !!

ہم بے وفاہر گز نہ تھے

پر ہم وفاء کرنہ سکے

وہ فرش پہ بیٹھی بیٹھی رو رہی تھی فجر کا وقت ہو چکا تھا مگر وہ اسی جگہ پہ بیٹھی ٹس سے مس نہ ہوئی تھی۔ جس جگہ پہ اس نے مصطفی سے بات کی تھی فون پربیٹھ کے۔

مصطفی کا غمزدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار لہجہ سوہا کو رہ رہ کے یاد آ رہا تھا بیچین کر گیا ۔۔۔

اس کو تکلیف دے رہا تھا اس کا اس قدر مایوس انداز ۔۔۔

وہ دونوں کتنا ایک دوسرے کو چاہتے تھے کیا کیا خوبصورت خواب ایک دوسرے کے لئے آنکھوں میں سجا ڈالے تھے مگر جدائی ان دونوں کو مار ڈالنے کے لیے بیچ میں آن پہنچی تھی۔

سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھی

مصطفی کی رسٹ واچ کو سینے سے لگائے لبوں سے چھومتی اور بار بار آنکھوں سے بوسہ دیتی وہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔

اپنی محبت کے لیے بار بار بس اللہ کے حضور دعائیں مانگ رہی تھی ۔۔

گڑگڑا رہی تھی ۔۔

“اے میرے پروردگار تو مجھے میری محبت دے دے میرے اللہ تو میرے مصطفی کو جیتا جاگتا رکھنا۔۔

یا رب العزت اس کی حفاظت کرنا اس کو ہر طرح کہ سرد اور گرم سے بچانا ۔ میرے مالک اس کو کوئی تکلیف نہ ہونے دینا زندگی میں” ۔

“تو مجھ سے میری ساری خوشیاں لے لیں اور بس وہ ساری خوشیاں میرے مصطفی کی جھولی میں ڈال دے۔ اس کو تو خوش اورمطمئن رہنے والا سچا ہونے مسلمان بنا دے میرے مالک ۔۔۔۔”

“چاہے اس کی قسمت میں!!میں لکھی ہوں یا نہیں۔ بس میرے مالک تو میرے مصطفی کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔۔۔۔”

” پروردگار عالم تو مہربان ہے۔۔”

تو اس کو ایسی شریک حیات عطا فرما جو اس کو ٹوٹ کے چاہے ۔۔۔۔۔

“آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔”

یکدم اسکی سمعتوں میں کہیں دور سے بہت پہلے کہی آئمہ کی بات ٹکرائی تھی۔ ۔۔۔۔۔

“جب کوئی کام تمہاری مرضی کے مطابق ہو جائے تو شکر ادا کیا کرو کہ خدا نے تمہاری مرضی کو اہمیت دی ” اور ” اگر تمہاری مرضی کے خلاف ہو تو اور بھی زیادہ شکر ادا کرو کہ اب وہ کام اللہ رب العزت کی رضا سے انجام پائے گا ۔جو ہماری مرضی سے بہتر اور بے حد افضل ہے ۔۔۔۔۔۔”

بروقت ہسپتال پہنچنے سے ڈاکٹروں نے فجر کی بگڑی حالت کو دیکھ کہ آپریشن کا فیصلہ کیا تھا ۔

سر آپ ان پیپرز پہ سائن کردیں “

نر س نےمان کے سامنے اجازت نامہ رکھا آپریشن کے لیے ۔۔۔

اپنے سامنے رکھے کاغذات ارمغان کو اس وقت ایسے لگ رہے تھے جیسے اس کی خود روح کا پروانہ اس کے سامنے رکھ دیا ہو۔

وہ ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے جان کنی کا وقت سامنے آن پہنچا تھا اس کے ۔۔

“کیا یہ ضروری ہے ۔۔۔۔؟؟”

وہ ایک مضبوط اعصاب کا مالک مرد ہوتے ہوئے بھی ۔ خود کو بے بسی کی انتہا کو چھوتا محسوس کر رہا تھا ۔

خود کو سنبھالتے سنبھالتے بھی بے تکا سا سوال پوچھ بیٹھا۔ سامنے کھڑی جہاندیدہ نرس نے چونک کہ مان کو دیکھا اور پھر اس کی پریشانی بھانپ کر نرمی س بولی ۔

“سر یہ بہت ضروری ہے “

“اس کے بغیر ہم اوپریشن سٹارٹ نہیں کرسکتے آپ براہ کرم جلد از جلد اس پہ دستخط کردیں تاکہ تمام کارروائی پوری ہوسکے اور پھر مریضہ کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔”

“جی اچھا”

“کیا مجھے دس منٹ کا ٹائم دےسکتی ہیں پلیز ۔۔۔””

وہ بے بسی سے بولا تھا دل چاہا کہ زور زور سے پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔

سامنے رکھا کاغز پڑھتے ہوئے ارمغان کی جیسے روح فنا ہونے کو تھی۔

ان پیپرز میں بڑے واضح لفظوں میں لکھا ہوا تھا کہ۔۔

” ضرورت پڑنے پہ آپ ہمیں کس کی جان بچانے کی اجازت فراہم کریں گے “۔

” بیوی کی جان بچائی جائے یا بچے کی جان ؟؟؟”

ایک کڑا امتحان تھا، بہت ہی مشکل وقت اس کے سامنے کھڑا منہ چڑا رہا تھا جیسےاس کا تمسخر اڑانے میں پیش پیش ہو ۔

اس کے باپ کی کیے کی سزا ارمغان کو اپنے کسی بہت بڑے خسارے کی آمد کی خبر دے رہی تھی ۔ قیامت سے پہلے قیامت کی صدائیں اس کے کانوں میں گونجتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔

“سر وقت کم ہے “

“دس منٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ مزید اپنی وائف اور بچے کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ “

“آپ مزید رسک کی طرف جارہی ہیں “۔۔۔

نرس ارمغان کے چہرے کو افسوس سے دیکھ کہ گویا ہوئی وہ بکھر رہا تھا ۔رنج اس کے چہرے کی ویرانی سے واضح ظاہر تھا ۔۔۔

“اے میرے خدا میری مدد فرما ۔۔۔۔”

پھر یکدم ما نی نے کاؤنٹر پر رکھے پیپرز کے اوپر دھرے قلم کو اپنے لرزتے ہاتھوں کی پوروں میں جکڑا تھا ۔۔۔۔

بیوی کو بچانے والے خانے میں اس نے اپنے دستخط کئے تھے۔

آنکھیں بند تھیں اسکی مگر ایک ننھا سا موتی آنکھوں سے لڑھکا ۔

وہ بغیر کچھ بولے خود پہ ضبط کے کڑے پہرے بٹھاتے ، لب بھینچے وہ کاغذات نرس کی طرف بڑھا گیا ۔۔۔

“شکریہ سر!!

” اللہ سب بہتر کرے گا ۔۔”

“پلیز میری وائف اور میرے بچے دونوں کو بچانے کی کوشش کیجئے گا”۔

” مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہے یہ دونوں ۔۔۔۔”

وہ جیسے نرس کو اس وقت اپنا محسن تصور کر رہا تھا۔کرب سے چور لہجے میں گزارش کی گئی ۔۔

“انشااللہ سر “

“جو اللہ کا حکم ہوا مگر ہماری سب کی پوری کوشش ہوگی کہ کچھ ہی دیر میں آپ کی بیوی اور آپکا بچہ جیتا جاگتا آپ کے سامنے ہو ۔۔۔۔۔ “

“آپ کے ہاتھوں میں ہو ہنستا کھیلتا “

“آمین ثم آمین ۔۔۔۔”

ارمغان نے بآواز بلند آمین کہا ۔۔

نرس اس کو دلاسہ دیکہ جا چکی تھی ۔۔