Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 19 (Part 2)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 19 (Part 2)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

گول گول گھوم کر وہ کوئی 8 سالہ بچی کی طرح برسوں بات اس قدر خوش ہو رہی تھی ۔۔

جھوم رہی تھی ۔۔۔

گنگنا رہی تھی ۔۔۔۔

کسی قسم کا بھی ڈر خوف اس کے چہرے پہ باقی نہ رہا تھا ۔۔

ارمغان سینے پر ہاتھ باندھے لان کے بیچوں بیچ بھیگتے ہوئے بس اسی کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔

آئے نہ آپ کیوں اتنا اداس کھڑے ہیں وہاں؟ ؟؟؟

سمجھئے آپ کی گڑیا آپ کے سامنے موجود آپ سے باتیں کر رہی ہے ۔۔

وہ بغیر سوچے سمجھے ایک ایسی بات کہہ گئی تھی۔۔

جس کا اندازہ اس کو خود بھی نہیں تھا ۔۔۔

بے خودی میں وہ بہت گہری بات کر چکی تھی ۔۔۔۔۔

آہستہ آہستہ چلتا ہوا ارمغان اس تک پہنچا تھا اور آنکھوں میں دنیا جہان کی چمک لیے وہ اس کو دیوانہ سا ہو کر بس یک ٹک تکےچلاجارہا تھا۔۔۔۔

کیا تم میری گڑیا بن کر میری زندگی کو ایک سرخ گلاب کی طرح مہکا سکتی ہوں ۔۔۔؟؟؟؟؟

ویرانیوں اور اندھیرے کو دور کرکے اجالا پھیلا سکتی ہوں ؟؟؟؟

وہ بھیگتی ہوئی خوشی سے جھومتی فجر کو شانوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے استفسار کر رہا تھا ۔۔

کیا کچھ نہ تھا اس کی آنکھوں میں آس، مان اور۔۔۔۔۔۔

اور۔ ۔۔۔۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔۔!!!!

یہ سب کیا ہے؟؟؟

مم۔ ۔۔۔ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔۔

وہ دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھ بیٹھی ۔۔۔

بادل زور سے گر جاتا ارمغان کو بس اس کے ہلتے ہوئے لب نظر آئے تھے۔۔۔۔

کیا تم مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنانا پسند کرو گی ؟؟؟؟

میں تمہیں اپنی شریک حیات کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ ۔۔

وہ حیران و پریشان سی فجر کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔

کیا تم مجھ سے شادی کروگی ؟؟؟؟

رحمان اب اکثروبیشتر حمزہ سے ملنے آتا رہتا تھا اس کا اخلاق سب گھر والوں کے ساتھ بہت اچھا تھا ۔۔۔۔

وہ ائمہ کو بھی عزت و احترام سے مخاطب کر کرتا تھا۔۔۔

اس کے لاکھ بدترین رویے کے باوجود بھی وہ اس سے نرمی سے ہی پیش آتا ۔۔۔۔

حمزہ آہستہ آہستہ رحمان کا عادی ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔

ائمہ نے بھی رحمان کا حسن اخلاق دیکھ کر

پھر اس کے اورہمزہ کے ملنے میں پابندی بھی لگانا بند کردی تھی۔۔۔۔

وہ اکثر رحمان کے ساتھ پارک وغیرہ بھی آنے جانے لگا تھا۔ ۔۔۔

ایک دفعہ حمزہ نے آئمہ سے سوال کیا سب لوگ برآمدے میں بیٹھ کر شام کی چائے پی رہے تھے ۔۔

ماماجان میرے بابا کہاں ہیں ؟؟؟؟

ماما بتائیں نہ ۔۔۔

میرے اسکول میں سب کے بابا ان کو چھوڑنے اور لینے آتے ہیں۔۔۔

مگر میرے ساتھ تو نانا جاتے ہیں۔۔۔۔۔

وہ حمزہ کے اس معصومانہ سوال پر گم سم سی دیکھتی رہ گئی ۔۔

جبکہ باقی سب نفوس کو ایک دم سانپ سا سو نگھ گیا تھا ۔

“میں ہوں نا آپ کا بابا”۔۔۔۔

جب رحمان نے چائے پیتے ہوئے فرش پہ بیٹھ کر اس کے ساتھ لیڈو کھیلتے ہوئے حمزہ کو گود میں اٹھا کر کہا تھا ۔۔

وہ شفا کو بازو میں اٹھائے اپنے گھر لے کر آ چکا تھا گاڑی سے اتر کر لان عبور کرتے ہوئے گھر کے داخلی دروازے تک پہنچنے تک شفا خاصی بھیگ چکی تھی۔۔۔۔۔

وہ تیز تیز قدم بڑھاتا سیڑھیاں چڑھتا ہوا او پر اپنے کمرے کا رخ کر چکا تھا ۔۔

سی ۔۔۔۔۔۔۔

کی آواز کے ساتھ کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔۔

کمرے کے اندر گھستے ہی اس کے نتھنوں سے گلاب اور موتیا کی بھینی بھینی خوشبو ٹکرائی تھی ۔۔۔

یہ وہ خود رات میں آکر جان کر کے سجا کر گیا تھا ۔۔۔

اس سب کوکرنے کا مقصد صبح تک شفا کے سامنے بہت اچھی طرح واضح ہو جانا تھا ۔۔۔

ہلکی ہلکی خنکی اور ایل ای ڈی لائٹ کی مدھم روشنی کمرے کو مزید رومانیت بخش رہی تھی ۔۔۔

وہ شفا کے چہرے پر معنی خیز سی نظر ڈالتے ہوئے شاطرانہ ہنسی ہنسا تھا ۔۔۔

اس کا پورا وجود بارش کی وجہ سے بھیگا ہوا تھا حمزہ پہلے ڈریسنگ روم میں جا کر خود اپنے گیلے کپڑے چینج کرکے آرام دہ لباس زیب تن کیا۔ ۔

ہلکا پھلکا ہو کر ڈھیلے ڈھالے لباس میں وہ ڈریسنگ روم سے باہرآ کر واپس شفا کی طرف آیا تھا اور الماری کے ہولڈر پر لٹکی ہوشربہ نائٹی ہینگر میں سے نکال کر ہینگر کو وہیں صوفے پر اچھال دیا ۔۔

یہ وہ رات کوئی لے کر آیا تھا اپنی پلاننگ کے تحت ۔۔۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ بے ہوش پڑی شفا تک پہنچا تھا اور اس کے سراپا کو اچٹی ہوئی نخوت زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کا لباس تبدیل کروانے کو بڑھا ۔۔

چند منٹ میں وہ اس کا لباس تبدیل کرچکا تھا اب وہ حمزہ کے منتخب کردہ لباس میں تھی۔۔۔

بے ہوشی کی حالت میں بھی وہ اپنے ہوش ربا حسن سے کسی کو بھی زیر کر سکتی تھی ۔۔۔۔

مگر اس کی بدقسمتی تھی کہ اس کا پالا دی حمزہ جلال جیسے مرد سے پڑا تھا ۔۔

جس کے پاس دل تو تھا مگر دھڑکن صرف جینے کے لئے تھی ۔۔۔

میں گرچاہوں تو تمہارا غرور ایک لمحے میں اپنے قدموں تلے روند سکتا ہوں۔۔۔

مگر میں ایک ایمان داری سے کرنے والا کام۔۔!!

بےایمانی سے کرنے کا ہرگز بھی قائل نہیں ہوں

۔!!!!

میں اپنا حق تمہارے ہوش و حواس میں ہیں حاصل کروں گا ۔۔۔۔

بس یہ سمجھ لو کہ یہ ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے میری محبت کی پھوار کا ۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے وجود کے ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے بڑبڑایا ۔۔۔۔

حمزہ بیڈ پر بے سود پڑھی شفا کے اوپر تھوڑا سا جھکا تھا اور اس کی گردن پر کئی اپنے انتقام کی مہر ثبت کرکے اس کے دودھیا عریاں بازووں کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر نشان چھوڑ دینے کے بعد وہ چند لمحے اس کو گھورتا رہا ۔۔۔۔

اور پھر ایک حقارت اور نفرت بھری نظر ڈال کر اس کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

ابھی تو فی الحال میں نے تمہارے ہوش گم کیے ہیں کل صبح جب تم اٹھو گی تب تم سمیت تمہارے گھر والوں کے بھی اوسان خطا ہو چکے ہوں گے ۔۔۔۔

اب یہ تمہارے اوپر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ تمہاری صبح کل دوپہر میں ہوتی ہے یا شام میں ۔۔۔۔

وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا جو صبح کے ساڑھے چھ بجا رہی تھی ۔۔۔۔

اب تمہیں اچھی طرح پتہ چلے گا کہ حمزہ کیا چیز ہے ۔۔۔؟؟؟

میں تمہارے ساتھ کچھ نہ کر کے بھی تمھاری نظروں میں یہی ثابت کرونگا کہ میں تمہارے وجود کو حاصل کرچکا ہوں۔۔۔۔۔

جب کہ یہ صرف اور صرف تمہاری خام خیالی ہے مجھے تمہیں چھونا تو کیا تمہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

مما یہ دیکھیں آپ کی لاڈلی نے میرے بیڈروم میں کیا چھوڑا ہے میرے لئے ۔۔۔۔۔

عمر دندناتا ہوا اپنے بیڈ روم سے باہر نکلا تھا ۔۔۔

جبکہ لائبہ بس ابھی ابھی اپنے روم سے نیچے آئی تھی۔۔۔

ناشتے کے لئے کر سی کھس کا کر بیٹھی ہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔

جب عمر غصے سے لال۔۔

اگ بگولا ہوا نیچے آیا تھا وہ ہکا بکا سی عمر کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی۔۔۔

اس نے تو ابھی تک اپنے پلان پر عمل تک نہ کیا تھا ۔۔۔۔

پھر یہ سب کیا ہورہا تھا؟؟؟؟

وہ پریشان سی ہو گئی تھی ۔۔۔

میں نے کیا کیا ہے ؟؟؟

وہ اس کے ہاتھ میں ایک لال رنگ کا لفافہ اورپیک شدہ چھوٹا سہ گفٹ دیکھ کر بولی ۔۔۔۔

جب کہ ائمہ اور سمیرا حیران پریشان سی کبھی عمر کو تو کبھی لائبہ کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔

دکھاؤ کیا ہے اس میں۔۔۔۔؟؟؟

سمیرا نے جلدی سے بولا وہ بادہ کہیں لڑائی پانی پت والی ہی نا شروع ہوجاتی ۔۔۔

میں بتاتا ہوں اس میں کیا ہے۔۔۔

آپ کی لاڈلی نے میرے لئے لو لیٹر لکھ کے میرے بیڈروم میں رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

کیا ؟؟؟؟؟

میں نے تمہارے روم میں لو لیٹر۔۔۔۔ !!!

رئیلی آر یو ان یور سینسس ؟؟؟؟

شکل دیکھی ہے کبھی اپنی آئینے میں لنگور بندر اور بن مانس بھی تم سے زیادہ بہتر ہیں ۔۔۔۔

بڑے آئے لو لیٹر۔۔۔۔۔

میں لکھوں گی وہ بھی تمہارے لیے؟؟؟؟

؟؟

لائبہ منہ کھولے حیران پریشان سی عمر کو دیکھتے ہوئے بولے جا رہی تھی جو اس کے منہ میں آرہا تھا بولتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔

اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔۔

کیا لکھا ہے اسے پڑھ کر سناؤ مجھے ؟؟؟

ائمہ نے جلدی سے بات ختم کرنے کو کہا وہ سمجھ گئی تھی کہ کوئی نہ کوئی شرارت یا تو عمر کی طرف سے یا پھر لائبہ کی طرف سے ۔۔۔

اس لیے تھوڑا غصے میں عمر سے مخاطب ہوئی ۔

جب کہ سمیرا فون پہ بجنے والی بیل کی طرف متوجہ ہو کر فون رسیو کرنے چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔

السلام علیکم۔۔۔!!

علیکم السلام !!

کیسی ہو تم؟ ؟؟

دوسری طرف فون پر اس کی چچازاد بہن اور سوہا کے کالج کی پرنسپل موجود تھی ۔۔۔

میں ٹھیک ہوں ۔۔

اللہ کے کرم سے ۔۔۔

میں نے تمہیں اس لئے فون کیا ہے کہ کل کے بجائے آج دوپہر دو بجے ہم لوگ نکل رہے ہیں ٹرپ پہ۔ ۔

سوہان مس ذکر کیا تھا کالج جانے سے پہلے ۔۔۔

مگر اتنی جلدی کیسے ؟؟؟؟

ابھی تو سوہا کالج کو نکلی ہے ۔۔۔۔

ہاں وہ آ گئی ہے کالج۔۔۔

میں تھوڑی دیر میں اس کو واپس ڈرائیور کے ساتھ بھیج رہی ہوں۔۔۔

اس کو پیکنگ کروا کے تم میری ذمہ داری پہ اجازت دے دو ۔۔

میرا خیال ہے میرے ساتھ تو تمہیں بالکل بے فکر ہو کر بھیج دینا چاہیے ۔۔۔۔

سوہا جتنی تمہاری بیٹی ہےاس سے کئ زیادہ وہ مجھے عزیز ہے ۔۔

سمیرا کچھ دیر تک تذبذب کا شکار رہی پھر آخر کار ہاں میں جواب دے کر فون رکھ دیا ۔۔۔