Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 17

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 17

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

یا وحشت ۔۔۔!!

کہتے ہیں لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں مگر تمہاری تو عقل بالکل ہی فارغ ہے۔۔۔ فارغ ہی نہیں بلکہ ٹخنوں میں لے کر دنیا میں تشریف لا آئی ہو کیا ؟؟؟؟

وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کر رہی تھی ہاتھ میں اس کے نکاح کے چھواروں کا تھال گلاب کی پتیوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔

وہ اندھا دھند اتر رہی تھی۔۔ائمہ نے اسکو اوپر سے تھال لانے کو کہا تھا !!سب لوگ اس وقت باہر لان میں موجود تھے۔۔

گھر میں اندر کوئی بھی نہ تھا کیونکہ نکاح کے بعد کھانے کا دور شروع ہوا تھا ۔۔۔۔

گھر کے سبھی افراد مہمانوں کی خاطر تواضع میں مصروف باہر قرآن میں تھے ۔۔۔

جب اس کا پیر اپنے ہی بیل باٹم ٹراؤزر میں الجھا تھا اور وہ پہلی ہی سیڑھی پر قدم رکھتے مصطفی کے اوپر بری طرح سے جا گری تھی۔۔۔۔

جس کے نتیجے میں وہ اور مصطفی اب دونوں زمین پہ گرے تھے۔ ۔۔۔

سوہا کا دوپٹہ اڑ کے ہوا میں لہرایا تھا اور چھواروں کی ٹرے بھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ چکی تھی وہ مصطفی کے اوپر آوندھی گری ہوئی تھی ۔۔۔

ہوا گلاب کی پتیوں کو ان کے اوپر نچھاور کر رہی تھی اور چھوارے اردگرد بکھرچکے تھے!! جبکہ سوہا کابلیک کرتی پہ لیا گیا بڑا سا ریڈ کلر کا دوپٹہ کھاواں میں اڑھ کر اوپرلہراتا ہوا ان دونوں کو خود میں ڈھانپ چکا تھا ۔۔۔۔

ہواؤں میں جہاز تو میں چلاتا ہوں ۔۔۔

لیکن ہواؤں سے لڑنے اور ہوا میں پیدل چلنے کی عادت شاید تم نے مجھ سے ادھار لے لی ہے ۔۔۔

وہ زمین بوس ہوئے غرآیا تھا ۔۔۔

مسٹر پائلٹ بقول آپکے میں دماغ سے فارغ ہو۔۔۔

تو آپ تو بڑے دماغ والے ہیں نہ دن رات جہاز ادھر سے ادھر اڑاتے پھرتے ہیں۔۔۔

آنکھیں تو آپ کو بھی کھلی رکھنی چاہیے ۔۔۔

پھر کیوں ان آنکھوں کے بجائے بٹن لیے گھوم رہے ہیں ؟؟؟

وہ ا ب چھڑ کے دوبدو بولی تھی چند گھنٹے پہلے والی اپنی عزت افزائی اسکو پھر سے یاد آ چکی تھی ۔۔۔

وہ تو شکر تھا باھر ڈیگ پہ گانے بجنے کی وجہ سے تھال کے گرنے کی آواز باہر تک نہ پہنچی تھی ورنہ آج تو سوہا کی شامت پکی تھی۔ ۔۔

مس ہوا ہوائی اب ذرا آپ میرے اوپر سے اٹھیں گی۔۔ تاکہ میں آپ کے اس 200کلو کے وزنی وجود سے آزاد ہو سکوں؟ ؟؟

ویسے جتنی تم مجھے چھوٹی اور معصوم لگتی تھی نہ سوہا اج سے پہلے ۔۔۔۔

لگتی تھی سے کیا مراد ہے آپ کی؟؟!؟

میں معصوم ہوں اور آپ سے کئی سال چھوٹی ہوں ۔۔۔۔۔۔

سوہا مصطفی سے پورے 14 سال چھوٹی تھی ۔۔

اور جب اس اس کے پرپوزل کے لئے گھر میں بات ہوئی تو مصطفی نے کوئی خاص دلچسپی بھی ظاہر نہ کی تھی!! اس کی شروع سے ہی یہ خواہش تھی کہ جو اس کے ماں باپ اس کیلئے فیصلہ کریں گے وہ بہتر ہوگا ۔مگر سوہا کو دیکھنے کے بعد اس کو اپنی ماں کی یہ خواہش کوئی بری بھی نہ لگی تھی بلکہ ایک اچھا فیصلہ اس کے مقدر میں ہونے کو جا رہا تھا ۔

اب پتہ چلا ہے کہ تم پوری کی پوری بڑی والی پھلجڑی ہو ۔۔۔

وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اب اس کواٹھتے ہوئے تنگ کرنے کو بولا تھا ۔۔

ہاں تو اگر میں پھلجڑی ہو تو کیوں میرے لئے اپنا پرپوزل بھیجا! ؟؟

سوہاکسی لڑا کا طیارے کی طرح کھڑی کمر پہ ہاتھ رکھے اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

اچھا ہوا میں نے امی کو منع کردیا ورنہ آپ جیسے اکڑوں اور کھڑوس پائلٹ کے ساتھ میری زندگی تو بالکل ہی ۔۔۔۔۔

وہ دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے رخ پھیر گئ۔ ۔۔

ابھی وہ مزید کچھ بولنے کو تھی جب اس کی بات ادھوری رہ گئ اور مصطفی نے اچانک اس کی کلائی کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کے خود سے قریب کیا تھا ۔۔

سوہا کی کمر کے گرد اپنا بازو حمائل کر کے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا ۔۔

پہلے تمہارے اختیار میں تھا میرے بھیجے گئے پرپوزر پہ ہاں یانہ کہنا ۔۔۔۔

مگر اب یہ اختیار بھی میں تم سے لیتا ہوں ۔۔

پہلے میں سوچ رہا تھا کہ تم بہت معصوم ہو اور کمسن بھی مگر تم تو کہیں سے بھی معصوم لڑکیوں کی فہرست میں نہیں آتی ۔۔

اور مجھے ٹیڑھی انگلیوں کو بہت شوق ہے سیدھا کرنے کا ۔۔۔۔

مصطفی کی مزاج کی سختی دوبارہ عود کر آئی تھی مگر وہ چاہ کر بھی سوہا کے اوپر اپنا غصہ نکال نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

ورنہ اس کے گھر میں تو کیا اس کے اسٹاف کے لوگ بھی اس کے غصے سے کانپتے تھے ۔۔۔

سوہا وحشت زدہ سی اس کی آنکھوں میں دیکھتی بری طرح اس کی بانہوکہسار میں کی تھرتھرا رہی تھی۔۔

آج پہلی دفعہ اس کو کسی مرد نے ہوا تھا ۔۔

چہرے پر کچھ لمحوں پہلے والی تیزی اور طراری مفقود تھی ۔۔۔۔۔

ماتھے پہہ ننھی ننھی موتی چمکے تھے ۔۔۔۔

مصطفی چند ثانیوں کے لیے ساکت رہ گیا تھا ۔۔۔

اس کے گلابی سرخ چہرے سے پھوٹی پڑتی حیا کے سنہری اور گلابی رنگوں کو دیکھ کرو ہم بھوت صاف رہ گیا تھا ۔۔۔

چند لمحوں تک تو وہ اپنی پلکیں جب اپنا ہی بھول گیا تھا ۔۔

کیا خوبصورت خدا نے تخلیق کی تھی ۔۔۔

کمسنی اور معصومیت اس کے حسن کو مزید چار چاند لگائے دے رہی تھی ۔۔۔۔

وہ یکدم اپنے حواسوں میں بڑی مشکل سے لوٹا تھا اور اس سے دور ہٹ کے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

تم سمیت تمہارا یہ دلکش وجود بہت جلد پورے استحکاق سے ایک دفعہ پھر میری ان مضبوط بانہوں میں ہو گا اور اس وقت تمہاری ایک من مانی بھی نہیں چل سکے گی ۔۔۔۔

بس آج کے دن میں اور اس دن میں فرق اتنا ہوگا کہ اس دن تمہاری بہن کے نکاح کی وجہ تمہارا نکاح ہوگا۔۔۔

وہ بھی کیپٹن مصطفی دلاور کے ساتھ ۔۔۔

یہ لو یہ چھوارا کھاؤ عنقریب تمہارا بھی نکاح ہونے والا ہے ۔۔

پھر اپنے نکاح کے چھوارے کھلاؤں گا تمہیں ۔۔۔

وہ ہاتھ میں پکڑا واحد چھوارا اس کے منہ میں زبردستی ٹھونستے ہوئے بولا تھا ۔۔۔

سوہا اس کے آزاد کرنے کے بات ایسے غائب ہوئی تھی جیسے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح اب اس کو صحیح معنوں میں مصطفی سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

ایک منٹ یہ رخصتی نہیں ہوگی ۔۔۔

عمر کیا بکواس کر رہے ہو ؟؟

جانتے بھی ہوا بھی تم نے کیا کہا ہے ؟؟

سمیرا عمر کو آتش فشاں کی طرح پھٹتا یکھ کر پریشانی میں مبتلا کر بولی تھی ۔۔۔۔

جی میں جانتا بھی ہوں اور جو کچھ بھی میں کہہ رہا ہوں بالکل اپنے حواسوں میں ہی رہ کر ہی کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

عمر کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی نمایاں تھی وہ شفا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جھکڑتے ہوئے کہہ رہا تھا !!جس کو آئمہ اور سمیرا حمزہ کے کمرے میں رخصت کرنے جا رہی تھی ۔۔

جبکہ سوہا پہلے سے ہی حمزہ کے کمرے کے باہر کھڑی حمزہ اور شفا سے نیک وصول کرنے کے لئے جاپہنچی تھی ۔۔۔

شور شرابے کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی واپس ہال کمرے میں آئی تھی ۔۔۔

عمر تم کون ہوتے یہ فیصلہ کرنے والے کہ شفا کی رخصتی ہونی ہے یا نہیں ہونی ہے ؟؟؟

اور یہ اتنی بڑی بات تم کہہ کس بنا پر رہے ہو کوئی وجہ بھی تو ہونا ہم سب کو قائل کرنے کی ۔۔تاکہ ہم بھی تمہاری بات مانے۔۔۔

رحمان صاحب بھی اب چیخے تھے عمر پہ ۔۔۔۔

ٹھیک ہے اگر وجہ میں آپ لوگوں کو بتا دوں تو پھر آپ لوگوں کی بھی یہی ڈیمانڈ ہو گی جو اس وقت میری ہے ۔۔۔۔

ایسا کیا تم جانتے ہو جس کی بنا پر تم اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔؟؟؟

سمیرا نے شفاءکو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا جس پہ عمر نے شفا پر اپنی گرفت مزید سخت کردی ۔۔

شفا آنسووں سے زاروقطار بھائی کے گریبان کو مضبوطی سے پکڑے رو رہی تھی ۔۔

جیسے کہہ رہی ہوں میرا بھائی تو ہی میری مدد کے لیے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے مجھے بچا لے ۔۔۔

عمر شفا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی ڈھال بن کے سب کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

شفاء کو حمزہ نے بلیک میل کرکے اس شادی پر مجبور کیا ہے۔۔۔۔

اور وہ سب کچھ جو اسرات ہوا وہ بھی ہمزہ کی سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔

تم یہ سب کچھ کیسے جانتے ہو ؟؟

سمیرا کی آواز میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔۔

میں ابھی اچھی طرح سے شفا کے کمرے کے باہر شفاء سے کی گئی حمزہ کی گفتگو !!حرف بہ حرف سب سن کر آرہا ہوں ۔۔۔۔۔

یقین نہیں آتا تو ہمزہ سے آپ لوگ پوچھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

کیا پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے تم لوگ پوچھو ؟؟؟

حمزہ ابھی ابھی مصطفی کو مین گیٹ تک سی اوف کرکے اندر آیا تھا ۔۔۔

اور ہال کمرے کے داخلی دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا دھاڑنے کے انگار انداز میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

حمزہ کا لہجہ کسی بھی قسم کے ڈر اور خوف سے عاری تھا وہ بڑے مزے سے اپنی انگلشت شہادت میں کی چین گھماتا آنکھوں میں برہمی لیے پوچھ رہا تھا ۔۔۔

عمر جو کہہ رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے تم نے شفا کو بلیک میل کیا ہے ؟؟؟

مجھ سے کسی انتقام کھولنے کے لئے ؟؟؟

ہاں بالکل !!!

میں نے شفا کو بلیک میل کیا ہے تبھی تو آپ کی لاڈلی چہیتی بگڑی ہوئی بیٹی راضی ہوئی ہے ۔۔۔

ویسے ماننا پڑے گا رحمان صاحب ۔۔۔!!

کیا خوب آپ نے اپنی بیٹی کو سر چڑھایا ہے مانگیا میں بھی آپ کی تربیت کو رحمان صاحب ۔۔۔۔

وہ زوردار تالی پیٹتے ہوئے طنز کے تیر چلا رہا تھا

دیدہ دلیری سے بولا ۔۔۔

چپ ہوجاؤ حمزہ میں تمہارے منہ پر تھپڑ مار دوں گی ۔۔۔میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی اگر تم نے ایک لفظ بھی اور نکالا تھا ۔

ائمہ نے بیٹے کو باز رکھنا چاہا کسی بھی قسم کی بدتمیزی سے ۔۔۔

امی بہت خاموش رہے لیا 30 سال میری زندگی کو ہوگئے ہیں اس سے مزید زیادہ میں خاموش نہیں رہوں گا اب تو وقت آیا ہے بھئئ

سسر صاحب سے چھوٹے اور بڑے حساب کتاب لینے کا ۔۔۔

کون سے حساب کتاب کی بات کر رہے ہو تم ؟؟؟

میں نے ہمیشہ تمہیں اپنے سگے بیٹے سے زیادہ محبت دی ہے ۔۔

سونے کا نوالہ کھلا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔

رحمان صاحب بھی اب شدید غصے میں آ کے چیخے تھے حمزہ پر ۔۔۔

اور آج تم کل کے لڑکے ۔۔۔!!

میرے سامنے اس طرح سینہ تان کر کھڑے ہوئے ہوں ۔۔۔

معلوم ہے مجھے یہ تم کس کی زبان بول رہے ہو ۔۔۔

رحمان صاحب نے ائمہ کی طرف کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا !!جب کہ ائمہ خاموشی سے آنسو بہانے میں مصروف تھی ۔۔۔

صحیح کہا آپ نے مجھے تو آپ نے اپنا واقعی بیٹا مانا بلکہ مجھے محبت بھی دی مگر کیا آپ نے کبھی میری ماں کو اپنی بیوی تسلیم کیا ہے ؟؟؟

بیوی تو چھوڑیئے آپ نے انسان تک نہیں تصور کیا میری ماں کو ۔۔۔

بابا یہ سب ایک سوچی سمجھی ۔۔۔۔

شفا آگے بڑھ کے کہنا چاہ رہی تھی جب عمر نے اس کو خاموش کرایا وہ خود بھی اب اس گتھی کو سلجھا نا چاہ رہا تھا جس کی بنا پر حمزہ اس قدر باغی ہو گیا تھا کہ اپنے سے جڑے رشتوں کو بھی نفرت اور انتقام کی بھٹی میں روکنے کے درپے تھا ۔۔۔۔

اس کے باپ کو برباد کرنے کی خاطر وہ کسی بھی حد تک جانے کی تیار ہو بیٹھا تھا ۔۔۔

سمیرا نے آئمہ کو سہارا دے کر بٹھایا تھا وہ خود بھی تمام تر حالات سے بہت اچھی طرح سے واقف تھی۔۔۔

ماضی جیسے ان دونوں کی آنکھوں میں ایک دفعہ پھر سے کسی فلم کی طرح گھوم گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

بر خود دار یہ جو تم اپنی ماں کو بیچ میں لا رہے ہو نا؟؟

تو تم یہ بات نظر انداز کر رہے ہو کہ میں نے تمہاری ماں کو اس وقت سہارا دیا تھا جب تم چھوٹے سے تھے ۔۔

تمہاری ماں کو عزت بنا کے میں نے ۔۔۔۔

ہاں میری ماں کو عزت بنا کے آپ اس گھر میں لائے ضرور ۔۔

صرف اتنا ہی نہیں داد بھی خوب وصولی آپ نے لوگوں سے کہ کتنا اچھا لڑکا ہے دیکھو ایک بیوہ سے شادی کرلی ہے!! وہ بھی وہ جو ایک بچے کی ماں ہے ۔ ۔۔

کیا بات ہے آپکی رحمان صاحب۔۔۔۔۔۔

آپ تو بہت ہی نیک شریف دریا دل انسان ثابت ہوئے ہیں ماضی میں ۔۔۔۔۔

ویسے کیا خوب آپ نے میری ماں کو شادی کی پہلی رات منہ دیکھائی میں تحفہ پیش کیا تھا ۔۔۔۔۔

آپ بتاتے ہیں یہ کہ آپ نے کیا تحفہ دیا تھا یا میں بتلاؤ ؟؟؟

وہ آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے شرارے برساتے لہجے میں بات کر رہا تھا ۔۔۔

میں کسی کو بھی کسی بھی قسم کی صفائی دینے کا پابند نہیں ہوں ۔۔

رحمان صاحب کا لہجہ کسی بھی قسم کی شرمندگی سے عاری تھا ۔ ۔۔

عمر تم جانتے ہو تمہارے باپ نے کتنا عظیم تحفہ میری ماں کو پیش کیا تھا ؟؟؟

وہ ابو عمر کی طرف گھوم کے اس سے مخاطب ہوا تھا ۔۔

میرا کمرہ برابر میں ضرور تھا مگر تمہارے باپ کی روزانہ رات میں گانے گنگنانے کی آواز مجھے بہت اچھی طرح تھی۔۔۔۔

وہ اب عمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا ۔۔

کتنا شدید قسم کا قرب اس کو حمزہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا اس وقت ۔۔۔۔

چلو کوئی بات نہیں میں ہی بتا دیتا ہوں ۔۔۔

اور شادی کی پہلی رات ھی تمہارا یہ عظیم باپ میری دلہن بنی ماں کو پوری طرح سے مار پیٹ کر ایک طوائف کے ساتھ گزار کے آیا تھا اس کے کوٹھے پر ۔۔۔

اور آ کے میری ماں کو زمین پر پٹخ کے اس کے اوپر جوتوں کی بارش کی تھی ۔۔

میرے کانوں میں آج بھی وہ الفاظ گونجتا ہے جب آپ نے کہا تھا کہ تم اس قابل نہیں ہوں کے رحمان چغتائی تمہارے ساتھ کسی بھی قسم کا رابطہ یا تعلق قائم کرے ۔۔۔

اب تم خود ہی دیکھ لو کہ تم اور تمہاری اوقات کیا ہے ۔۔۔

میرے نزدیک تمہاری اوقات یہ ہے کہ تم طوائف سے بھی زیادہ میری نظروں میں نیچ عورت ہوں ۔۔۔

حمزہ اپنی بات مکمل کر کے چند ثانیوں کے لیے خاموش ہوا تھا ۔۔

وہاں موجود ہر ایک فرد شفاء سمیت سناٹوں کی زد میں تھا ۔۔

یاد آیا کچھ رحمان صاحب آپ کو ؟؟یامیں یاد دلاؤ ؟؟؟

میں بیشک چھوٹا تھا مگر ذہن میں بچپن میں جو چیز ایک دفعہ فیڈ ہو جاتی ہے نا ۔۔

وہ پھر کبھی بھی نہیں نکلتی اور برے واقعات تو خیر کچے ذہنوں پر بہت برا اثر چھوڑا کرتے ہیں ۔۔۔

سب کچھ بکواس ہے یہ۔۔۔

اس لیے میں نے تمہیں پال پوس کے بڑا کیا ؟؟؟تمہاری لیے قربانی دی ایک ایسی عورت سے شادی کی جو پہلے سے شادی شدہ تھی۔۔۔۔

اور تم ۔۔۔۔

تم ایسا صلہ دو گے یہ مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔۔

صحیح کہا ہے کہ اولاد صرف اپنی ہی ہوتی ہے۔ ۔

آج مجھے پتہ چلا ہے کہ میں نے سنپولے کو دودھ پلایا ہے ۔۔۔

ارے تم تو قابل ہی نہیں تھے میرے بیجا پیار و محبت کے ۔۔۔

ہو تو آخر اس عورت کے بیٹے ہی نا ۔۔۔

میرے بھائی کا تم خون ضرور ہو مگر ۔۔۔۔

تمہاری ماں نے نس نس میں تمہارے اندر اپنا پرچھاواں بھر دیا ہے ۔۔۔۔

عمر لے کے جائو شفاء کو اس کے کمرے میں۔۔۔!!

رخصتی میں اب خود بھی ہونے نہیں دوں گا ۔۔

عمر شش و پنج کا شکار تھا جو حقیقت اس کے سامنے آچکی تھی اس کے بعد وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے ۔۔؟؟؟

اس کی گرفت اب شفا پہ ڈھیلی پڑ چکی تھی ۔

جبکہ لائبہ بھی ایک کونے میں کھڑی یہ سب کچھ سن اور دیکھ کر پریشان ہو چکی تھی ۔۔

شفا بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں جاکر بند ہو گئی اور دروازے کے پیچھے بیٹھ کے زمین پر زاروقطار رونے لگی ۔۔۔

ٹھیک ہے رحمان صاحب کوئی مسئلہ نہیں ہے بیوی تو میں آپ کی دختر نیک اختر کو بنا ہی چکا ہوں ۔۔

رخصتی میرے لئے کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔

وہ بغیر کوئی تاثر دیے چہرے پر ایک شوخ سی سی ٹی پہ دن بجاتا ہوا ہال کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔

فجر آنکھیں کھولو گھر آ گیا ہے ۔۔۔۔

ارمغان نے آہستہ سے فجر کو جگایا تھا نیند سے !!اس خیال کے تحت کے کہیں وہ ڈر ہی نہ جائے ۔۔

اوہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا میری آنکھ کب لگی ۔۔۔۔

وہ اب کچھ شرمندہ سی ہو کر بولی تھی ۔۔۔

کوئی بات نہیں تم بہت تھکی ہوئی تھی شاید! ! اس لئے ہوسکتا ہے نیند غالب آ گئی ہو۔۔

وہ خاموش رہی تھی کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی کہ آج وہ بہت تھک گئی تھی چل چل کے پہلے شفا کیلئے گفٹ لیا اور اس کے بعد پھر نکاح کا فنکشن ۔۔۔

ارمغان گاڑی سے اتر نے بعد گھوم کر فجر کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔

اور ہاتھ بڑھا کر اس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائی تھی۔۔

جیسے کہہ رہا ہو کہ تھام لو اس ہاتھ کو !!میں تمہارے سب ڈر وخوف دور کردوں گا ۔۔۔

کبھی کبھار ہمیں الفاظوں کی ضرورت نہیں پڑتی آنکھیں خود بخود وہ بول دیتی ہیں جو دل میں رقم ہوتا ہے ۔۔۔

اور پھر فجر میں تو اس کو اپنی گڑیا نظر آتی تھی ۔۔

نہیں میں اتر جاؤں گی ۔۔۔

فجر نے جھجک کر ہلکا سا مسکرا کر کہا ۔۔