Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 33
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 33
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
تو تم اس طرح باز نہیں آؤں گی ؟؟؟؟
وہ لہجے میں حد درجہ رکھائ سموکے بولا تھا ۔۔۔
آنکھیں شدید اشتعال سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔
“چین سے تو میں بھی آپ کو جینے نہیں دوں گی ۔۔۔”
“جب تک میں آپ کے ساتھ ادھر ہو رات کو دن اور دن کو رات نہ بنا دیا تو میرا نام میں خود ہی بد ل دونگی ۔۔۔۔۔۔”
“نہ آپ کو انگلی انگلیوں پہ نچایا تو میرا نام بھی سوہا رحمان نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کو بے خیالی میں دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچتی زیرلب مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔۔
مصطفی نے اس کو خاموش اور خود کو خوامخواہ تکتا دیکھ اور وہ بھی مسکراتے ہوئے۔۔۔۔۔۔
مصطفی کے تو گویا تن بدن میں آگ لگ گئی تھی ۔۔۔
اونگی نیچے بھی آؤ نگی ۔۔۔۔۔۔۔پہلے بتائیں اب تو مجھ سے شادی کر نے کا ارادہ کینسل ہے نا ؟؟؟
وہ اس کے خود کو کھینچنے کے لئے بڑھائے ہوئے ہاتھ پر تالی مار کہ۔۔۔۔۔ ایک آنکھ کو میچ کت شرارت سے بولی ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر کراس کی شکل میں کرتی۔ ۔۔۔۔۔۔ بستی سی کی نمائش کی گئی تھی۔۔۔
کینسل۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
یہ تو تمہاری بھول ہے ۔۔۔۔اب تو اور پختہ ہوگیا ہی میرا ارادہ کیونکہ صرف میں ہی سدھار سکتا ہوں تم جیسی پھاپھا کٹنی کو ۔۔”
او ویری سیڈ ۔۔۔۔۔۔۔بھول ہے آپ کی سوہا کو سدھا رنا مشکل ہی نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے لئے چٹکیوں کاکام ہے ۔۔۔میں اگر چاہو تو تمہیں ابھی اسی وقت لمحوں میں زیر کرسکتاہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکی بات وہ بیچ میں سے اچک کر بولا تھا ۔۔۔
۔۔اور کہتے کہ ساتھ ہی چھپاک سے اس کی کہی بات پہ ہیں اس خود کو پڑی سوہا اور اپنے درمیان کا ہاتھ بھر کا فاصلہ مٹا گیا ۔
سوہانے گڑبڑا کہ جلدی سے ہاتھ میں موجود اپنا دوسرا ہتھیار مصطفی سے فائٹ کے لئے بچایا گیا آخری ہتھیار بھی اب اپنے بچاؤ کے لئے استعمال کیا تھا ۔۔
وہ اپنے اور مصطفی کے درمیانی فاصلے میں بڑی تیزی سے کشن کو حائل کر گئی تھی ۔۔
مصطفی نے اس کے بے ضرر سے ہتھیار کو چھین کر ہوا میں اچھال دیا ۔۔آنکھوں میں کسی بھی قسم کی نرمی کا عنصر مفقود تھا ۔۔
اس کی اوٹ پٹانگ حرکتوں نے اس کا دماغ بھنوٹ کر چھوڑا تھا۔
ہاتھ بڑھا کر اس نے سوہا کو ایک ہی جست میں نیچے اتارا تھا صوفہ سے ۔۔۔۔۔
اور پھر اسی سنگل صوفے پہ ایک ہاتھ سے دھکا دے کر دوبارہ اس کو اسی گرا کہ وہ خود سوہا پہ جھکا تھا ۔
اس طرح کہ صوفے کے دونوں کونوں پر ہاتھ رکھ کر وہ سوہا کے فرار کی تمام راہیں بند کر گیا تھا ۔۔
“یہ صرف تم ہو جس کی میں یہ سب بدتمیزیاں خندہ پیشانی سے برداشت کر رہا ہوں ۔۔۔۔اگر کوئی اور ہوتا تو اب تک اس کا دماغ میں کب کاٹھکا نے بھی لگا چکا ہوتا ۔۔۔مجھے مت مجبور کرو کہ میں تم سے عاجز ہو کہ تم پر سختی کرو اور ایک بات اور اپنے اس پھپوند لگے دماغ میں بٹھا لو کہ شادی تو تمہاری مجھ سے ہی ہوگی ۔۔۔۔اس لئے بہتر ہے جلد از جلد اپنے دماغ کو میک اپ کرو میں کراچی پہنچتے ہی جواب ہاں میں لینے آوں گا ۔۔۔ابھی سے خود کو اس بات پر امادہ کرلو اور آئندہ کبھی مجھ سے جھوٹ مت بولنا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔۔
“میں چور کومعاف کر سکتا ہوں مگر جھوٹے کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں اور تھمی ہوئی دل کی دھڑکن کے ساتھ خود پہ جھکے مصطفی کی گرم گرم پر حدت سانسوں کو محسوس کر سکتی تھی ۔۔
مگر نظریں اٹھا کر اس وقت موجود مصطفی کے چہرے کے قہر برساتے تاثرات کو دیکھنے کی خود میں سکت نہیں رکھتی تھی ۔۔۔۔
جبکہ مصطفی اپنی بات کہہ کر اس کے چہرے کو فوکس کیے اب اس کے تاثرات جانچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آیا کس قدر اس کےسخت لہجے اور باتوں کا اس پر کالا کے اوپر اثر ہوا ہے ۔۔۔۔
“اٹھو اب یہ میرے سامنے فضول قسم کی ڈرنے ڈرانے کی ایکٹنگ بند کرو اور جا کہ کھانا بنائو ۔۔۔۔
نہیں تو یہ تو تمہیں پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ میں پیار کی زبان بولنا بھی جانتا ہوں اور دوسری کئی زبانیں بھی مجھے بیک وقت بولی آتی ہیں ۔۔۔”
وہ کہ کہہ کر پیچھے ہٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔ سوہا کا دلکش چہرہ اس کو اپنے حصار میں قید کرنے کو تھا ۔۔۔۔۔
لائبہ کو کچھ ہوش نہ تھا کہ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ؟؟کیسے ہوا ۔۔؟؟
وہ شدید اذیت کا شکار تھی۔
ہوش تو اس کو جب آیا تھا جب وہ لائبہ عمر بنا دی گئی تھی ۔۔۔۔
یہ کیسی شادی تھی؟؟
جس میں کوئی براتی تک نہیں تھا اور نہ ہی کوئی سجاوٹ۔۔۔۔۔
نہ ہی سجی سنوری دلہن ۔۔۔
ہاتھوں و پیروں کو پیا کے نام کی سرخ حنا تک
نہ لگی تھی۔۔۔
کسی سکھی شادی کی گیت نہ گائے تھے ۔۔۔
کسی نے دلہن کو ابٹن نہ لگایا تھا۔ ۔۔۔
وہ ایسی لڑکی تھی جو بھلے چاند رات پہ صبح کے چھ بھی بچ جائیں وہ ہاتھ پہ مہندی لگوا کر ہی گھر واپس آتی تھی۔۔۔۔۔
مہندی سے اس کو جنون کی حد تک عشق تھا ۔۔۔
اکثر جب ماں اس کو ہر وقت مہندی لگا تا دیکھتی تو دو ٹوک دیا کرتی تھی ۔۔
ماں کے کہنے پر وہ جھنجھلا کے کہا کرتی تھی مہندی اور میرے بیچ میں آپ نہ آئیں ۔۔۔مہندی کی خوشبو مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں پہ کم و بیش ہی ایسا ہوا کرتا تھا کہ مہندی نہ لگی ہو ۔۔ورنہ ہر وقت اس کے ہاتھوں پہ مہندی اپنے رنگ کی خوبصورتی اور ہاتھوں کی دودھیا رنگت کی وجہ سے خوب جچا کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لڑکی اپنی شادی کے حوالے سے کیا کچھ خواب نہیں دیکھتی۔۔۔۔۔
کیا کیا نہیں سوچتی ؟؟؟
وہ بھی توایک نازک سی لڑکی تھی ۔۔۔
کیا اس نے کوئی خواب نہیں سجائے تھے ؟؟
اپنی زندگی کے اس اہم ترین دن کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
کیسے ایک ہوس پرست و جسم کے بھوکے شخص نے اس کی آنکھوں سے سب خواب ننوچ ڈالے تھے ۔۔۔۔
مگر وہ اب صبر شکر کرنا سیکھ گئی تھی،۔۔۔۔۔
وقت میں اس کو محض ایک ہی دن میں بہت کچھ سیکھا دیا تھا ۔۔۔
سمیرا نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا تھا عمر کے بیڈروم میں لے جانے کے لئے۔۔۔۔
رحمان صاحب کے اشارے پہ جو اس کے ماں باپ کو نا جانے کیا کہہ کر اس نکاح کے بارے میں پتا کر مطمئن کر رہے تھے۔۔۔۔
لائبہ کو بس اتنا پتہ تھا کہ اس کے ماموں نے اس کے اور عمر کے کردار پر کوئی بھی حرف نہیں آنے دیا تھا ۔۔
نہ جانے کیا کیا بہانے گھڑے تھے ؟؟؟؟
کیا کیا دلیلیں پیش کی تھی ۔۔۔۔۔۔!!
معلوم نہیں مجبور تاً کن کن جھوٹ کا سہارا لیا تھا ۔۔۔۔۔؟؟؟
جب جا کے اس کی ماں باپ کچھ مطمئن ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
جائو بیٹا نئی زندگی کی شروعات خوشیوں سے کرنا ۔۔۔
جو ہو گیا اس کو ایک برا خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔۔
خوش رہو آباد رہو ۔۔۔
میری نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔
ائمہ نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر کہ دعائیں دی تھی ۔۔
لائبہ نے بغیر کوئی تاثر دئے خاموشی سے اٹھ کر سمیرا کے ساتھ ساتھ قدم بڑھانا شروع کر دئیے ۔۔
اس وقت صبح کے آٹھ بجنے کو تھے۔۔۔۔
کیا کوئی دلہن اس وقت بھی رخصت ہوئی ہے کبھی ؟؟؟
اس نے تو اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی لڑکی کو اتنی صبح پیادیس سدھارتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
لائبہ کے دماغ میں کئی زہریلی سوچیں مستقل ڈیرہ جمائے ہوئے تھے ۔۔وہ گم سم سی بس عمر کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ایک بھائی تھا محبت کرنے والا بھائی جو اپنی بہنوں پر جان نچھاور کرتا تھا۔۔۔
اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی ایسا رخ بھی اختیار کر سکتی تھی ۔۔
جب اسکو اپنی دونوں بہنوں کی شراکت کے بغیر ہی نئی زندگی کا آغاز کرنا پڑگیا تھا ۔۔۔
سوہا کے لیے وہ پریشان تھا کیونکہ وہ مری میں پھنسی ہوئی تھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مگر شفا کو ناچاہتے ہوئے بھی نکاح کے وقت نہ لا سکا تھا۔۔۔۔
جانتا تھا کہ اس وقت رحمان صاحب کا غصہ سوا نیزے پہ ہے۔۔۔۔ اگر ایسے میں حمزہ کوئی بھی سخت بات کہہ جاتا تو معاملات مزید خراب ہونے کے درپے ہو جاتے۔۔۔
اور پھر جو صورتحال تھی اُس وقت ۔۔۔۔۔
اس کو یہی مناسب لگا کہ جلدازجلد نکاح طے پا جائے تاکہ وہ لائبہ کو ایک مضبوط سہارا دے سکے ۔۔
مزید اس سے اب صبر نہ ہوا تھااور وہ اس کو لینے کے لئے آن پہنچا تھا ۔۔۔عمر کا نا جانے کیوں اچانک شفا کو لے کر دل بہت شدید پریشان ہوا تھا ۔۔۔
وہ مزید اب اس کو دیکھے بغیر سکون سے رہ نہیں سکتا تھا ۔۔۔اس کی گاڑی نکال کر دن کے بارہ بجے کے قریب شفا سے ملنے اور اس کو لینے کے لئے آن پہنچا تھا ۔۔۔
حمزہ کے تلخ اور رکھائی آمیز رویے کی اس کو رتی برابر بھی پرواہ نہ تھی ۔۔۔۔۔
وہ صرف اپنی معصوم بہن کا خیال کر کے آیا تھا مگر جیسے ہی وہ کار پورچ میں گاڑی پارک کرکے اترا تھا۔۔۔۔۔
سامنے شفا کا بکھرا وجود دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا تھا دل میں اچانک درد کی شدید لہر سی اٹھی تھی ۔۔
۔وہ دوڑتا ہوا شفاء تک پہنچا تھا جو کسی زندہ لاش کی طرح ناک کی سیدھ میں بس قدم بڑھاۓ جا رہی تھی ۔۔۔۔
اس کو اپنے اردگرد کا کچھ ہوش نہ تھا ۔۔۔وہ اس وقت اتنی ذہنی انتشار کا شکار تھی کہ عمر کی موجودگی تک کو فراموش کر بیٹھی تھی ۔۔۔رو رو کر آنکھوں سے اب اشک بھی بہنے سے انکاری تھے ۔۔اجڑا وجود، دوپٹہ لاپروائی سے ایک کندھے پہ جھول رہا تھا تو آدھا زمین کو چوم رہا تھا ،بکھرے بال ملگجے کپڑے ، زرد چہرہ اور ویران پتھرائی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔!!!
چیخ چیخ کر کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی ۔۔۔
شفا کیا ہوا ہے؟؟؟؟
کچھ تو بولو؟؟؟؟
بچہ مجھ سے بات کرو کیا ہوا ہے ؟؟؟؟؟؟
وہ عمر کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی مگر ایسے جیسے پہچان نے کی کوشش کر رہی ہو۔۔۔۔۔
عمر کو بہت اچھی طرح اندازہ ہورلہا تھا اس وقت اس کی ذہنی ابترہوئی حالت کا ۔۔۔
وہ چند لمحوں تک اپنے لئے اس کی آنکھوں میں پہچان تلاش کرتا رہا پھر یک لخت اس نے اس کو بازو سے پکڑ کر جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
شفا نے اس کے اس طرح سے جھنجوڑنے پر ہوش کی دنیا میں واپس قدم دھرے تھے اور اپنے پیارے بھائی کو دیکھ کر اس سے مزید ضبط نہ کیا گیا اور وہ اس کے سینے سے لگی زاروقطار سسکنے لگی ۔۔
میرا بچہ مجھے بتا کیا ہواہے؟ ؟؟
تو کیوں اس طرح رو رہی ہے؟؟؟؟
تیرے بھائی کا دل بیٹھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔!!!
عمر بہت مشکل سے اپنے لہجے کو مضبوط کرکے بولا تھا ۔۔
شفا کی آنکھوں سے جھانکتی ہوئی ویرانیاں عمر کو اندر سے کمزور کر رہی تھیں۔۔
ایک بھائی تھا نا آخر۔ ۔۔۔۔بہن کا دکھ درد برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ شفا کو سینے سے لگائے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ دل کے اندر حمزہ کی وجہ سے کئ و ہم و وسوسے پیدا ہو رہے تھے ۔۔۔۔
حمزہ سےوہ ھر قسم کی امید کرسکتا تھا ۔۔۔۔
بھائی بابا کا کیا میں نے بھگت لیا ہے ۔۔۔۔۔
بابا کو بتا دو کہ جو ظلم انہوں نے ایک عورت زات پہ ماضی میں ڈھائےتھے ۔۔ان تمام مظالم کا خمیازہ اور مداوا میں کر آئی ہوں ۔۔۔۔۔!!!
بھائی میرے شوہر کا میرے باپ سے انتقام آج پورا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
وہ عمر کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں کےپیالےمیں لےکر ہزیانی انداز میں بول رہی تھی ۔۔۔۔
کیا کہہ رہی ہوں شفا ؟؟؟؟؟
مجھے ٹھیک سے بتاؤ رونا بند کروپہلے ۔۔۔۔
حمزہ کہاں ہو؟ ؟؟؟ ۔۔۔۔۔
۔حمزہ کیا ہوا ہے باہر آؤ ؟؟؟
وہ اب پریشانی سے حمزہ کو پکار رہا تھا معاملے کی سنگینی کا کچھ کچھ وہ اندازہ لگا چکا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے تمام وہم اور وسوسے حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
اوہو تو سالے صاحب آۓ ہیں ۔۔۔۔
ذہےنصیب آج تو ہمارے اس غریب خانے کو بڑے بڑے لوگوں نے اپنی آمد کا شرف بخشا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کہو سالے صاحب کیسے آنا ہوا ؟؟؟؟
حمزہ ہاتھ میں چائے کا مگ تھامے مغرورانہ چال چلتا ہوا لان میں کھڑے ان دونوں بھائی بہن تک آیا تھا ۔۔۔۔
شفا نے نہ جانے کس خیال کے تحت اس سنگ دل کے چہرے پہ ایک نظر ڈالی تھی ۔
نہ جانے کیوں شفا کو اس ستمگر کی آنکھیں سرخ اور گوشے نم سے لگے تھے ۔۔۔
جیسے وہ بھی چین سے نہ ہو ۔۔۔۔سکون اس کے دل کو بھی میسر نہ آ پا رہا ہو ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی۔
سو میں نے جیون وار دیا .
میں کیسا زندہ آدمی تھا۔
اک شخص نے مجھ کو مار دیا ۔
شفاء ایک خاموش نظر ڈالنے کے بعد اپنا رخ پھیر گئی تھی ۔۔۔اور چہرے پہ شدید رکھائی لیے گویا حمزہ کی ذات کیلئے شدید نفرت کا اظہار کر گئی تھی۔ ۔۔
بھائی یہ شخص کیا بتائے گا اس جیسے اندر سے کھوکھلے مرد کسی کو حقیقت بتانے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔۔۔
میں بتاتی ہوں آپ کو ۔۔۔
اور پھر شفاء نے بغیر اشک بہائے اپنے لہجے کو سخت اور مضبوط بنا کہ عمر کو سب کچھ کہہ سنایا تھا ۔۔۔۔۔
عمر جیسے جیسے شفاء کی آپ بیتی سنتا جا رہا تھا ویسے ویسے وہ اپنے آپ پہ سے آپا کھوتا چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔
اپنی معصوم بہن کے دکھوں پہ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔۔
اس کے دماغ کی رگیں تن سی گئی تھی جبکہ آنکھوں کے ڈورے شدید سرخ ہو چلے تھے ۔۔۔
تو۔۔ ۔۔۔
تو کیا میری بہن کو طلاق بھیجے گا میں خود تجھ جیسے کم ظرف مرد سے اپنی بہن کو آزادی بلواؤ گا بہت جلد تجھے خلع کے کاغزات مل جائے گے ۔
۔
عمر کسی بپھرے ہوئے شیر کی طرح حمزہ پہ چھپٹا تھا ۔۔۔
زبان سے بات کرو۔۔۔۔
ہاتھ اور پیرکی زبان مجھے بھی استعمال کرنا بہت اچھی طرح آتی ہے ۔۔۔۔
تم ابھی میرے گھر میں صحیح سلامت کھڑے ہو یہ میری مہربانی ہے تم پہ ۔۔ورنہ جو میری ماں کے ساتھ تمہارے اس ‘اعلی ظرف’ باپ نے کیا ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد تو تم اور تمہاری بہن سمیت ذلت کے ہار پہنانے چاہیے ۔۔۔۔وہ طنزیہ لہجے میں اعلی ظرف بولا تھا ۔۔۔
اورعمرکے ہاتھوں میں سے اپنا کالر چھڑواتے ہوئے اشتہار آمیز لہجے میں چنگھاڑا ۔۔آنکھوں میں شدید برہمی تھی ۔۔۔۔
تمہارا انتقام میرے باپ سے ہے مگر تم اپنے بدلے کی آگ میں ایک معصوم لڑکی کی زندگی تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہوگئے ۔۔۔۔
اس کا مطلب تم خود بھی بہت کم ظرف کے مالک ثابت ہوئے ہوں میری نظروں میں ۔۔۔۔
اور حقیقت میں تمہیں بتاو ایک۔ ،۔۔۔
تم آج ایک دوسری آئمہ کو وجود میں لے آئے ہو ۔۔۔۔
ا
س کا مطلب یہ ہے کہ اب نسل در نسل یہی تماشہ چلتا رہے گا ۔ ۔۔۔؟؟؟؟
عمر کی آنکھیں کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری تھی لہجہ ایسا تھا جیسے پتھر ۔۔۔۔
بس کرو اور اپنا راستہ ناپو بہت سن لی میں نے تمہاری بکواس ۔۔۔۔۔چلو اپنی بہن کو لے کر دفع ہو جاؤ میرے گھر سے ۔ ۔۔۔
حمزہ غصے میں اپنا آپا کھو بیٹھا اور انتہائی بد لحاظی سے گویا ہوا ۔۔۔
نہیں بھائی میں نہیں جاؤں گی اب دوبارہ کبھی بھی اپنےباپ کی دہلیز پہ ۔۔۔۔مجھے یہ گوارا نہیں کہ میرے ماں باپ کا سر اور نظریں میری وجہ سے جھکیں میں ہرگز بھی واپس ادھر نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔
شفا بہت دیر سے خود کو سنبھالے ہوئے تھے مگر اب اپنا ضبط کھو بیٹھی تھی اور زاروقطار سسکتے ہوئے عمر کو دیکھ کہ گردن ہلا ہلا کر نفی میں منع کر رہی تھی ۔۔۔
خاموش ہو جاؤ شفاء ۔۔۔۔ابھی تمہیں اتنی بڑی نہیں ہوں یوں کہ اپنے فیصلے خود کر سکو ۔۔۔۔چلو میرے ساتھ ۔۔
ابھی تمہارا بھائی زندہ ہے۔ ۔۔۔جب تک میں ہو تم پہ کوئی بری نظر ڈالنا تو دور کی بات بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔۔۔ ۔
میری بہن مجھ پہ بوجھ نہیں ہے مسٹر حمزہ جلال ۔۔۔۔۔
بہت جلد تمہیں کورٹ کی طرف سے خلع کا نوٹس مل جائے گا ۔۔۔
وہ حمزہ پہ ایک سخت نظر ڈالتا شفا کی کلائی کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
پیچھے وہ رہ گیا تھا تہی دامن خالی ہاتھ ۔۔۔۔۔
