Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 20
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 20
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
وہ حیران تھی ارمغان کے اظہار محبت پر سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ کیا جواب دے ؟؟؟
فطری حیا اور جھجک آڑے آ رہی تھی ۔۔۔
ارمغمان کی ہتھیلی ابھی بھی اس کے سامنے پھیلی ہوئی تھی۔۔
بارش نے اس کی ہتھیلی کو پانی کے شفاف موتیوں سے بھر دیا تھا ۔۔۔
وہ تذبذب کا شکار ہوئی بےدردی سے اپنے ہونٹوں کوکچل رہی تھی ۔۔۔۔
بہت کچھ تھا اس وقت ایسا جو اس کو جھنجوڑ کر رکھ گیا تھا ۔۔۔
وہ دل سے چاہتی تھی اس کا ہاتھ تھامنا مگرپھر کئی سال پرانی سرگوشیاں اس کے کانوں میں کسی خوفناک چیخوں کی طرح گونج اٹھیں تھی ۔۔۔۔
اس کا دماغ بہت تیزی سے ایک لائحہ عمل طے کر چکا تھا اور اس نے ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا پورا پلان ترتیب دے ڈالا تھا۔۔۔۔
جب وہ سب کچھ ترتیب دے چکی تھی تب ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس نے ارمغان کے ہاتھ کو نرمی سے تھام لیا تھا ۔۔۔
مجھے قبول ہے آپ کی ہمسفری مگر میری ایک شرط ہے ۔۔۔
وہ بہت طول طور کر برسات میں بھیگتے ہوئے گہرے لہجے میں بولی تھی ۔۔۔۔
بہتے آنسو بارش کی وجہ سے اسی کا حصہ بن کر فجر کا بھرم رکھ رہے تھے ارمغان کے سامنے۔ ۔۔
مجھے تمہاری ہر ایک شرط منظور ہے۔۔۔
وہ اپنے ایک ہاتھ کو تھامے اس کے مرمریں ہاتھ پہ اپنا دوسرا ہاتھ رکھتے ہوئے یقین دلانے والے انداز میں بولا۔۔۔
میری جو شرط ہے وہ شاید آپ کے لئے عملاً بہت کٹھن ثابت ہوسکتی ہے۔۔۔
میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم مجھے مکمل کرنے کے لیے راضی ہو گئی ہو۔۔
مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے دل و جان سے۔۔۔
بس اب اور کچھ مت کہنا اورچلو اندر چلو بارش بہت زیادہ تیز ہو چکی ہے اور تم بھی بری طرح سے بھیگ چکی ہو۔۔۔
وہ اس کو مزید کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر اندر کی طرف اس کا ہاتھ تھا مے بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔
جب کہ فجر کو لگا وہ یکدم ہلکی پھلکی ہوچکی ہے اور وہ اب منزل تک بہت جلد پہچنے کو ہے۔ ۔۔۔
“عنایہ تمہیں انصاف میں ہر حال میں دلائونگی”۔ ۔۔۔
ادھر رکو کیوں اتنا واویلا مچا رہے ہو؟؟؟
میں پڑھ کے دیکھتی ہوں لاؤ دو۔۔۔
اس لیٹر میں ایسا ہےکیا آخر؟ ؟؟؟
سمیرا بحث کو سمیٹنے کی غرض سے جلدی فون رکھ کر میدان میں کو دی تھیں۔ ۔۔
عمر کے ہاتھ میں موجود خوشبو سے بسا ہوا لو لیٹر اس کے ہاتھ سے جھپٹنے کے انداز میں لے کر پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔
جبکہ لائبہ بہت اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ یہ سب کچھ عمر ہی کا کیا دھرا ہے ۔۔۔۔۔
جو کہ اس نے اس کو پھنسانے کے لئے سرانجام دیا ہے۔۔۔۔
ڈیئر عمر۔ ۔۔!!
میں تمہاری ان جھیل سی آنکھوں کو جب دیکھتی ہوں تو دل کرتا ہے کہ کاش ۔۔۔۔۔
میں ایک مچھلی ہوتی توتمہاری ان جھیل نین کٹور گہری آنکھوں میں غوطہ لگاتی رہتی۔ ۔۔۔
تم میرے لئے اسقدر ضروری ہو جیسے۔۔۔۔!!
چرس کے بغیر چرسی ۔۔۔
تمہارے بن میری زندگی کا ہر لمحہ ہے سونا ۔۔
میری جان ذرا کم لگایا کرو مجھے تم چو نا۔ ۔۔!!!
تم جب چھیڑتے ہو میرے دل کے تار ۔۔۔۔۔
آس پاس بجنے لگتے ہیں میرے گیٹار۔۔۔۔!!
تم مجھے پسند ہو کھیر کی طرح ۔۔۔
لگتے ہو میرے دل میں آ کر کسی تیر کی طرح۔۔۔!!
ہر دم تم سے اب رہتا ہے دل کا جہاں آباد۔ ۔
نا جانے کونسا کر دیا ہے تم نے مجھ پر جادو ٹونہ ۔؟؟؟
تم اس نگینہ جیسے گول ہو۔ ۔۔
جلدی سے پہنادو نہ اب مجھے نگینہ۔ ۔۔۔!!!
جیسے جیسے سمیرا پڑھتی جا رہی تھی اس سمیت ائمہ کا بھی ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔۔
دونوں کے فضا میں کہکہےگونجنے لگے تھے ۔۔۔۔
عمر نے بھی منہ نیچے کر کے اپنے فلک شگاف کہکہے کو ضبط کیاتھا۔ ۔۔
جبکہ لائبہ جلے پیر کی بلی کی طرح عمر پر جھپٹنے کو تھی ۔۔
جب عمرنے معصوم سا چہرہ بنا کر پورے کمرے میں کھودنا پھلانگنا شروع کردیا تھا۔ ۔۔
بڑی امی بچائو مجھے اس ایٹم بم سے۔ ۔۔
چھوٹی مما میری مدد کرو ۔۔۔۔
وہ دوڑتے کودتے مدد طلب کررہا تھا۔ ۔۔
عمر جیری کی طرح آگے آگے تھا جبکہ لائبہ ٹام کی طرح اس کے پیچھے اس کو جلتےتوے پر فرائی کرنے کے لئے تیار پکڑنے کوبھاگ رہی تھی ۔۔۔
ائمہ نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکتے ہوئے سمیرا سے کہا ۔۔۔
ان دونوں کا تو کام ہی یہی ہے ۔۔۔
بڑے بڑے ڈھینگ کے ڈھینگ ہو رہے ہیں مگر مجال ہے جو کبھی اپنی ان حرکتوں سے باز آئے ہو ۔۔
آئمہ کے لہجے میں پیارہی پیار تھا ۔۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپی آپ ۔۔
ایسا کریں آپ شفا کو اٹھا لیں اور ساتھ حمزہ کو بھی۔۔۔
مجھے حمزہ کی بہت فکر ہے نہ جانے رات بھر گھر آیا بھی ہوگا واپسی؟؟
سمیرا نے پریشانی سے کہا ۔۔
رحمان صاحب کی وجہ سے میں کل رات بہت پریشان رہی ہوں مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکا ان کا رویہ ۔۔۔
سمیرا افسردگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
شفا کو سونے دو ابھی دوپہر کے وقت اٹھا دینا کھانے سے کچھ دیرپہلے۔۔
پتہ نہیں رات ٹینشن وپریشانی سے کب اس کی آنکھ لگی ہوگی ؟؟؟
آئمہ مامتا سے چورلہجے میں بولی تھی۔۔
مگر آپی حمزہ ۔ ۔۔۔۔؟؟
حمزہ کی تو بات ہی نہیں کرو پہلے کونسا وہ کبھی گھر میں نظر آیا ہے۔۔۔
جب دماغ درست ہو گا تو خود ہی آ جائے گا ۔۔۔
ائمہ نے سمیرا کو پرسکون کرنا چاہا مگر اندر سے اس کا دل خود بھی ہول رہا تھا حمزہ کو لے کر ۔۔۔۔۔
ارے ابھی میں آتی ہوں سوہا کی پیکنگ کر کےوہ ایک ہفتے کے لئے ٹر پ پہ جا رہی ہے اسلام آباد اور مری وغیرہ ۔۔۔۔
تمہیں رکو میں کر دیتی ہوں۔۔۔
تم جاؤ رحمان صاحب کو ناشتہ کرو ائو۔ ۔۔
میں جاتی ہوں سوہا کے روم میں ۔۔
مگر آپی رحمان پہ آپکا بھی برابر کا حق ہے۔ ۔۔
آئمہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر سوہا کے روم کی طرف بڑھ چکی تھی ۔۔۔
سمیرا اس کی پشت کو پر سوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے کچھ دوچنے لگی۔ ۔۔
وہ خوب اچھی طرح جانتی تھی کہ آئمہ کی آنکھوں کے گوشے اس وقت نمی لیے ہوئے ہونگے ۔۔۔
وہ ایک لمبی سی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تھی اس وقت دوپہر کے ساڑھے تین بج رہے تھے ۔۔
جب اس کی آنکھ کھلی تھی کچھ دیر تک وہ حواس بحال کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔۔
کلوروفام کی وجہ سے اس کو اپنا پورا وجود سن سہ ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
سر بری طرح درد سے پھٹنے کو تھا ۔۔
کیسی ر ہی تمہاری شادی کے بعد کی پہلی مارننگ سویٹہارٹ؟؟؟
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے پیر کو ہلاتے ہوئے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائےنیم دراز تھا ۔۔۔
ساتھ ہی وہ شفاء کو گہری و بےباک نظروں سےگھورتےہوئےسگریٹ کا کش لےکر دھنواں کچھ فاصلے پر برجمان شفا کے چہرے پر چھوڑا تھا ۔۔۔
وہ بری طرح سے کھانس اٹھی تھی حمزہ کی اس حرکت پہ۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے ؟؟؟
یہ حرکت بھی بھلا بے ہودگی کے زمرے میں آتی ؟؟؟
بےہودگی تو وہ تھی جو میں نے کل رات کی تھی جان حمزہ ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میری رات تو تمہاری ان کالی گھٹائوں جیسی زلفوں کی گھنیری چھاؤں تلے بہت شاندار گزری ۔۔۔۔
وہ لہجے کو بھرپور معنی خیز بنا کر بولا ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟؟؟
حمزہ کو اس کی آواز میں واضح لڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کے بدلے بدلے لب و لہجے پہ چونک سی تھی۔۔۔۔۔
پھر اسکی نظر سامنے موجود خوبصورت ڈریسنگ ٹیبل میں آویزاں آئینے میں جھلملاتے اپنے سراپے پر پڑھی تھی ۔۔
اس کا ہاتھ بے ساختہ اپنے بازو اور گردن تک گیا تھا شفا نے خوفزدہ ہو کر اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا یہ اس کا تو کمرہ ہرگز بھی نہیں تھا ۔۔۔
رات کا پورا منظر اسکی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح گھوم گیا تھا ۔۔۔
ھمزہ اس کی حواس باختہ سی کیفیت دیکھ کر تلخی سے مسکرایا اور پھر بڑی دلچسپی سے شفا کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
جو روتے ہوئے سامنے ڈریسر کےشیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو حیرت اور بے یقینی سے دیکھتی خود کو دیوانہ وار بے بس سی کیفیت میں چھوچھو کر دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔
وہ ابھی کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی حالت میں بھی نہ تھی کہ جب حمزہ نے اسکی نازک سی کلائی کو اپنے ہاتھ کی فولادی گرفت میں لے کر اس کو خود پہ گرایا تھا ۔۔۔
ابھی بھی تمہیں اپنا آپ دیکھ کر مطلب سمجھ نہیں آرہا ؟؟؟
انٹرسٹنگ ۔۔۔۔!!
ویری ویری انٹرسٹنگ۔۔۔!!!
تم مجھے بتاؤ کہ یہ سب کچھ کیا ہے ؟؟؟؟؟
وہ کسی زخمی شیر کی طرح دھاڑ رہی تھی ۔۔
ڈیئر لومڑی ۔۔۔۔!!!
اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے ؟؟؟
پہلے تم مس تھیں۔ ۔۔۔
رائٹ؟ ؟؟؟
وہ بھنویں اچکا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مزید بولا ۔۔۔۔
اب تم آفیشلی اور فزیکلی بھی میری مسز بن چکی ہو ۔۔
چلو اگر تم ابھی بھی نہیں سمجھیں تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔
وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے معمول کی بات کر رہا ہوں لہجے کو حد درجہ ہلکا پھلکا بنا کر کہنے لگا ۔۔۔
کہو گی تو عملاً بھی بتا سکتا ہوں ۔۔!!!
وہ اس کی گردن پہ پڑھے نشانوں پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے اس کے چہرے کے سٹپٹائے ہوئے ایکسپریشنز کو انجوائے کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
ویسے ایک راز کی بات بتاؤں؟؟؟
میں تمہارے چہرے پر رقم سوالات اور تمہاری چہرے پر لکھی ہوئی سوچ کی تمام تر تحریریں پڑھ چکا ہوں ۔۔
کک کیا پڑھ چکے ہو؟ ؟!۔
وہ گھبرا کر نظریں نیچی کرکے بولی ۔۔۔
تو محترمہ جو تم سمجھ رہی ہو نا بالکل ٹھیک سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔!!
گزری شب تمہارے ساتھ میرا بہت بہترین وقت گزرا ہے ۔۔
بارش کی وجہ سے تمہارے کپڑے تک بھی چکے تھے ۔۔۔۔
وہ اس کے تبدیل ہوئے لباس کی طرف اشارہ کربہت کچھ جتانے والے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔۔
شفا کی آنکھیں حیرت و صدمے کے ملے جلے تاثرات لئے پھٹی کی پھٹی رہ چکی تھیں۔
وہ خود کو بلینکیٹ سے اچھی طرح ڈھانپتے ہوئے بری طرح سے سسک اٹھی ۔۔۔۔
تو کیا تم نے میرے وجود سے اپنی ہوس۔۔۔۔؟؟؟
شفا نے اس کو گریبان اپنی مٹھیوں میں پوری قوت سےجکڑتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں بالکل۔۔۔۔۔!!!!
بجا فرمایا آپ نے مسز شفا حمزہ چغتائی ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ اپنے کالر سے جھٹکتے ہوئے شاطرانہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
تم گرے ہوئے تو پہلے بھی تھے یہ تو میں جانتی تھی ۔۔۔!!
مگر تم اتنا گر جاؤ گے یہ مجھے پتا نہیں تھا ۔۔۔!!!
شفا نے جس قدر نفرت اور حقارت سے کہا تھا حمزہ کو خوب اچھی طرح اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ نفرت اس کے اندر پل رہی تھی۔۔۔۔
جو اس وقت حمزہ کی ذات کو لے کر وہ اپنے لفظوں کے ذریعے باہر انڈیل رہی تھی۔۔۔۔۔
تم نے ایک بے بس اور لاچار لڑکی کی بے ہوشی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ ۔ ۔ ۔
تم کیسے مرد ہو ؟؟؟؟
بے ہوشی بھی وہ جو تمہاری خود کی ہی مجھے بخشی ہوئی تھی۔
میری ذات کوتم نے ایک فالتوکھلونا سمجھ کر میری عزت نفس کو روند کر رکھ دیا ۔۔۔۔
کچل ڈالا حمزہ تم نے میرے وقار کو۔ ۔۔۔
ہو گئے تم کامیاب اپنے مقصد میں۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو تم کو اپنی یہ کسی کی بے بسی سے فائدہ اٹھائی ہوئی جیت ۔۔۔
وہ زور زور سے ہنسی تھی ۔۔۔
شفا کو اپنے وجود سے شدید کراہیت سی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
فائدہ میں نے اٹھایا ہے۔۔۔۔۔
بے شک اٹھایا ہے ۔۔۔۔۔
یہ میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہو۔۔۔۔
ہاں ہاں میں نے فائدہ اٹھایا ہے۔۔۔۔۔۔!!
بہت دیر سے خاموشی سے اس کی بکواس سنتا حمزہ اب شدید طیش کے عالم میں ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر ادا کر تابرہمی سے شفا کو دیکھتے ہوئے جنگھاڑاتھا۔۔۔۔۔
ایک بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں بٹھا لو کہ۔۔۔۔۔
جس کو تم ناجائز استحکاق استعمال کرنا کہہ رہی ہوں نا؟؟؟؟
ذرا ایک دفعہ پھر سے اپنے کہے پر نظرثانی کرو ۔۔۔۔
میں نے جو بھی تمہارے ساتھ کیا گزری شب۔ ۔۔۔!!
اپنا جائز حق استعمال کرتے ہوئے کیا ہے ۔۔
شفا یکدم حمزہ کی کہی بات سن کر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی! ! پوری طرح سے ٹوٹ کر بھکرچکی تھی۔۔۔۔۔
اچانک حمزہ کا دل پسیجہ تھا اس کو نہ جانے کیوں شفا کی ٹوٹی بکھری حالت پہ ترس سہ آیا تھا۔ ۔
دل کے کسی کونے میں ایک پھانس سی چبھی تھی ۔۔۔۔
باہر ہوتے بیڈ روم کے دروازے پر زور زور سے کھٹکے کی آواز سن کر وہ واپس کسی ٹرانس کی کیفیت میں سے نکلا تھا ۔۔۔
اور پھر ایک دفعہ رحمان صاحب کا چہرہ اس کی آنکھوں میں گردش کر گیا تھا۔۔۔
چند لمحے قبل والی کیفیت یکدم ہوا ہو چکی تھی ۔۔۔۔
لو آ گئے تمہارے محافظ ۔۔۔!!!
جانا چاہو تو چلی جانا۔۔۔
میری طرف سے اجازت ہے ۔۔!!
مگر پہلے اپنی ماں سے پوچھ لینا کہ وہ” اب” تمہیں لے کر جانا بھی پسند کریں گی یا نہیں ۔۔۔؟؟
حمزہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور دروازہ کھول کر سامنے کھڑی سمیرا کو دیکھتے ہوئے سلام کرتا اپنے گریبان کے بٹن لگاتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔
جہاں چند قدم کے فاصلے پر رحمان صاحب غیض و غضب سے بھرے اسکے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
بہت اچھا ہوا جو آپ لوگ آ گئے۔۔۔!!
ویسے سناہے کہ۔ ۔
بیٹی کے گھر شادی کے دوسرے دن باپ تو ہرگز بھی ناشتہ لے کر نہیں جاتا ۔۔۔
ویسے مجھے لگا تھا کہ آپ میں اتنی غیرت تو باقی ہو گی ہی ۔۔۔
او معاف کیجیے گا میں بھول ہیخ گیا تھا یہ بات کہ آپکا تو غیرت نامی لفظ سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔۔
میری ریسرچ کے مطابق یہ لفظ آپ کی ڈکشنری میں ہی ندارد ہے ۔۔
وہ تمسخر اڑاتا آگے بڑھنے ہی والا تھا جب رحمان صاحب نے اس کا راستہ روکا تھا ۔۔۔۔
