Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 47

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 47

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

گولی چلی تھی مگر فجر کے اوپر نہیں بلکہ حماد صاحب کے اوپر پیر پہ! !!

حماد صاحب درد سے کراہتے ہوئےلڑکھڑا کہ منہ کے بل زمین بوس ہوئے۔ ۔۔

آپ اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں۔۔۔؟

حماد آ۔ ۔۔آپ۔ ۔۔۔۔!!

اپنے بھائی اور میرے پیارے عزیز ازجان بھائیوں سے بڑھکہ مجھے عزیز میرے دیور کے خاندان کو کیسے ختم کر دیا آپ نے۔۔۔؟؟؟

غزل چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی الصلح سے مزین گارڈز کے ساتھ موجود تھی اور قمر کا بیٹا ک

چونکہ گارڈ بن گیا تھا بڑے ہونے کے بعد حویلی کا اسلئے حماد صاحب کی ہر ہر اصلیت سے واقفیت رکھتا تھا اور یہ گولی اسی کی ہی بندوق سے چلی تھی جو ہماد صاحب کی اک ٹانگ کے اندر بری طرح گھپ چکی تھی۔ ۔

فجر کو فرش پہ بے ہوش پڑا دیکھ کے وہ اندھادھند اس کی طرف بھاگ گی تھی اور اب اس کو ہوش میں لانے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔۔

غزل کو ملازمہ عظمی جوکہ ملازم قمر کی بیٹی تھی۔ اسی نے فون کر کے سب کچھ بتا دیا تھا ۔ عظمی کو فجر کا خیال رکھنے کے لیے کل وقتی مقرر کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔

تم۔۔۔۔۔!

تم نے مجھے مارا ۔۔۔۔۔اپنے شوہر کو؟ ؟؟؟

تم نے مجھ پہ گولی چلائیں اپنے شوہر کے اوپر ۔۔۔۔؟؟؟

حماد صاحب کراہتے ہوئے بولے درد سے زمین پہ پڑے وہ دوہرے ہو رہے تھے۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ اگر گولی نہ لگی ہوتی تو غزل کو گدی سے دبوچ کے اس کا سر پھوڑدیتے دیوار سے مار کہ۔۔۔

“اللہ نہ کرے میں کبھی اپنے ہاتھوں کو ناپاک کرو اس انسانوں کی جان کے دشمن بنے عالے سے ۔۔”

“تم نے اپنے عزیز رشتوں کی زندگیاں چھین لی ہے تمہیں احساس تک نہیں ہے؟؟؟”

“او۔ ۔۔میں بھول گئی تمہیں احساس کیسے ہو گا تم تو دولت کے نشے میں چور اپنے ہوش و حواس سونے چاندی سمیت تجوری میں بند کر چکے ہو۔۔”

“تو تمہیں کیسے احساس ہو گا تم تو بے حس ہو۔۔۔۔۔”

“افسوس ہے مجھے کہ میرا ہمسفر اس قدر گھٹیا انسان ہے ۔۔۔۔۔”

وہ روتے ہوئے داڑھی تھی فجر کی حالت دیکھ کے اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔۔۔

” احساس سے عاری شخص ہو تم حماد صاحب سمجھے ۔”

تم نے اپنی قبر کو خود آگ کا ایندھن بنایا ہے اب تم پچھتاؤ گے ساری عمر پچھتاؤ گے ۔۔”

وہ جیسے پھٹ پڑی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے شوہر کی شکل آئندہ وہ زندگی میں دیکھے ۔اس کو نصیب نہ ہو اس درندے نما شخص کا دیدار کرنا آئندہ زندگی میں کبھی بھی ۔۔۔۔

صحیح کہہ رہی ہیں ماما بابا ۔۔

شکریہ اماں آپ کا جو آپ نے مجھے ابھی راستے میں ہی فون کر دیا ۔۔

دونوں ماں بیٹے حواس باختہ ہوئے فجر کے اوپر جھکے اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔

فجر بالکل ہوش و خرد سے بیگانہ یخ بستہ فرش پہ گری ہوئی تھی ۔ارمغان نے اس کو ایک جھٹکے سے اٹھا کہ اپنے بازوؤں میں بھرا تھا اور بغیر کچھ کہے اپنے باپ کے چہرے پر حقارت زدہ نظر ڈال کہ آگے بڑھ گیا ۔۔

“سنبھالیں اب آپ یہ سب دھن دولت ۔”

“مگر یاد رکھیئے گا اگر جو میری بیوی بچے کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔۔۔۔”

” میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔”

“آپکا انجام میرے ہاتھوں ہوگا انقریب۔۔۔۔۔۔۔۔”

“وہ تند و تیز لہجے میں کہتا فجر کو اپنے بازوؤں میں بھر کر ہسپتال لے جانے کے لئے دوڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

حماد صاحب کے گولی لگے پیر کی اس کو کوئی پروا نہ تھی ۔اس کے نزدیک یہ سب ان کے کرما تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ایک منٹ ملکانی بی بی جی میں آپ کو ہسپتال لے کر چلتا ہوں مگر پہلے آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔”

احمر نے ارمغان اور فجر کے پیچھے قدم بڑھاتی ہسپتال جانے کے لیے ان دونوں کے ساتھ غزل کو روکا۔۔۔۔۔۔۔

“کہو احمر بیٹے کیا کہنا چاہتے ہو “۔۔۔

“ایک سچ آپ اور بھی نہیں جانتی مالکن صاحبہ “

قمر کا بیٹا(گارڈ) احمر آہستہ آہستہ چلتا ہوا غزل اور حماد کی طرف آیا۔۔۔

وہ کیونکہ ہمیشہ حماد کے ساتھ سائے کی طرح رہتا تھا ۔اس کا رازدار خاص بندہ تھا ۔ ہماد کے ہر ایک غلط اور صحیح فعل سے وہ واقفیت رکھتا تھا مگر یہ کسی کو بھی نہیں پتا تھا کہ وہ ایک مشن پہ ہے مشن بھی وہ جو اس کے باپ نے اس کو سونپا تھا تاکہ وہ حماد کو بے نقاب کر سکے اور اسکا مکروہ چہرہ سب لوگوں کے سامنے لانے میں اس کی اور اس کی بیٹی کی مدد کر سکے۔ ۔۔”

عائشہ اور داؤد کو انصاف دلانا احمر نے اپنا جنون بنا لیا تھا ۔بہت رازداری اور ہوشیاری سے وہ حماد صاحب کے قریب ہوا تھا اتنا قریب کہ حماد صاحب اس کو ہر بات ہر ایک راز میں شریک کرنے لگے۔

کک۔ ۔۔۔کیا ۔۔۔۔؟؟

احمر بیٹا کیا کچھ اور بھی بچا ہے میرے ان گناہ گار کانوں کو سننے کے لیے اپنے شوہر نامدار کا کوئی اور عمدہ اور اعلی کارنامہ بھی ہے بیٹا کیا۔ ۔۔۔؟؟؟

غزل نے نڈھال سی ہو کہ بولی تھی ۔۔

“بند کرو اپنا منہ تمہیں تو میں دیکھ لونگا” ۔۔۔۔

ھماد صاحب پیر میں گولی لگنے کے باوجود اب بھی اپنے خاص مغرورانہ انداز میں احمر کو دھمکانے سے باز نہ آئے ۔۔۔۔۔

“ضرور ضرور آپ مجھے دیکھ لیے گا مگر اس سے پہلے آپ کو حوالات دیکھنا ہو گی “۔۔۔۔

وہ تلخی سے کہتا و آپس غزل کی طرف متوجہ ہوا

“حماد صاحب نے فجر بی بی کو پال پوس کہ بڑا کرنے والے بابا اور بھائی کو بھی مروا دیا ہے “۔

کک۔ ۔۔۔کیا مطلب وہ بھی ۔۔؟

غزل کو لگا جیسے اب بھی بہت سے راز باقی ہیں جن سے پردہ اٹھنا باقی ہے اس کے لبوں سے بہت مشکل سے یہ چند الفاظ ادا ہوئے ۔۔۔بولنے کی سکت اب اس میں باقی نہ رہی تھی

“جی مالکن صاحبہ وہ بھی جب آپ دونون ان شگن لے کے گھر پہنچی تھیں تب ان کو حماد صاحب نےہی وہاں سے اٹھ وا لیا تھا غائب کروا دیا تھا تاکہ آپ لوگ فجر بی بی کو مشکوک سمجھیں۔۔۔”

کس نے مارا ان کو۔۔۔۔؟

تم نے ۔۔۔؟؟

غزل کو لگا جیسے اب وہ خود پہ مزیدقابو نہیں رکھ پائے گی ۔۔

جی ہاں میں نے۔۔۔۔۔”

مگر صرف حماد صاحب کی نظر میں وہ مر چکے ہیں لیکن وہ زندہ ہیں آج بھی ۔۔۔۔”

“شکر اللہ” کا۔۔۔۔۔!

تو بیٹا وہ کہاں ہیں پھر کدھر ہیں وہ لوگ۔۔۔؟؟

غزل بیتابی سے پوچھنے لگی ۔۔۔

” وہ میں نے ان کو غائب کر دیا تھا گاؤں سے بہت دور کراچی شہر سے ان کو ایبٹ آباد روانا کردیا تاکہ وہ ہماد صاحب کی نظروں میں نہ آسکیں اور حماد صاحب کو یہی بولا کہ میں نے ان کا کام تمام کر دیا ہے ۔۔۔۔۔”

“اللہ تمہیں خوش رکھے میرے بچے تم بہت بہترین مرد ہو۔اللہ تمہارے دل میں ہمیشہ اپنے بندوں کے لئے رحم اور مدد کا جذبہ قائم رکھے۔تمہاری عمر دراز ہو “۔۔۔

” آمین یا رب العالمین “

احمر نے با آواز بلند بھی ساختہ کہا ۔۔۔

“جن لوگوں کا دھن کالا ہوتا ہے نہ۔۔۔۔۔”

” ان کا من خود بخود کالا ہو جاتا ہے بس میرے بچے میری بات ہمیشہ یاد رکھنا کبھی دھن کو کالا مت ہونے دینا نہیں تو من کالا ہو جائے گا “۔۔

“فجر کے بابا اور بھائی کا سن کے غزل کے دل میں سکون پیدا ہوا تھا وہ جیسے بہت ہلکی پھلکی ہوگی لمحوں میں ۔۔۔ “

حمزہ مجھے نہیں بیٹھنا بوٹ میں پلیز۔۔

ایسا کرتے ہیں واپس چلتے ہیں ۔۔۔۔۔

وہ حمزہ کا مضبوطی سے ہاتھ پکڑے ہوئے صرف مستقل ایک ہی بات کی گردان کر رہی تھی ۔۔

وہ دونوں اس وقت بردبئی سے ڈیرہ دبئ بوٹ میں بیٹھ کے جانے کو تھےمگر شفا کافی خوفزدہ نظر آ رہی تھی گہرے پانی کو دیکھ کہ وہ قطعی انکاری تھی بوٹ میں بیٹھنے کہ۔ ۔۔۔

حمزہ نے اس کو بوٹنگ کرانے کا اس لئے سوچا کہ تھوڑی بہت آؤٹنگ بھی ہو جائے گی اور پھر وہ ڈیرہ میں جاکہ اچھا سا ڈنر بھی نوش فرما لیں گے ۔۔۔

پہلی تو وہ بڑے آرام سے تیار ہوگئی مگر جیسے ہی ان لوگوں نے بورڈ میں جانے کے لیے فلور پر قدم رکھا شفاء پانی پر تیرتا ہوا فلور دیکھ کے شدید خوفزدہ ہوئی اور اب بوٹ میں اترنے سے انکاری تھی ۔۔

“یار تم تو نہ بس بہت ہی ڈرپوک قسم کی لڑکی ہو ویسے تو ہر وقت میرے سامنے جنگنجو قسم کی بنی پھرتی رہتی ہو اور اب چیونٹی کی طرح جان نکل رہی ہے ۔۔۔”

وہ شریر سے لہجے میں کہتا اس کو تنگ کرنے پر کمر کس چکا ۔

“کہو تو اپنی بانہوں میں بھر کے بوٹ تک لے جاؤں کیا خیال ہے ۔۔۔۔؟؟”

“خبردار جو مجھے یہاں پہ اٹھایا یا پھر کسی قسم چھچورا پن کیا تو ۔۔۔”

“تو میرے کوئی بھی چھچوراپن کرنے سے پہلے تم اپنی شرافت دکھاؤ اور بی کو بوٹ میں ۔۔۔”

“نہیں تو مجبوراً مجھے تمہارا منہ پھر کسی اور طریقے سے بند کروا کہ بوٹ کے اندر لانا ہوگا۔۔۔۔۔”

“سوچ لو جاناں اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔”

“جو تم کہو گی مجھے منظور ہے سویٹ ہارٹ ۔۔۔۔۔”

وہ بوٹ کے اندر کھڑا جان کے اس کے سراپہ کا پر شوخ نظروں سے مکمل جائزہ لے کہ معنی خیز لہجے میں گویا ہوا ۔

حمزہ کافی دیر سے ہاتھ دے رہا تھا بوٹ کے اندر آنے کے لیے شفاءمگر وہ مستقل اس کو زچ کیے دے رہی تھی ۔۔

ارد گرد کھڑے لوگ ان دونوں کی طرف لمحے بھر کو متوجہ ہو کہ واپس اپنے اپنے راہ کو ہو لیتے مگر شفا کو تو جیسے بوٹ میں نہ بیٹھنے کی دھن سوار ہوچکی تھی ۔۔۔

“بہت ہی کوئی فضول قسم کے انسان ہو تم “۔۔۔

اس کا غصہ عود کرآیا۔

بے ہودگی اور چھچور پائی میں تو تم نے ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررکھی ہے ۔۔۔۔”

چند گھنٹوں کے قبل والا پیاراورمحبت اس وقت اس نو بہاتہ جوڑے میں کہیں سے بھی کسی اینگل میں دیکھنے کے باوجود بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔

شفا جنگلی بلی کی طرح پنجے تیز کیے اس پہ چھپٹنے کو پر تول رہی تھی اور حمزہ مستقل اس کو زچ کرنے میں خود کو مسٹر بین تصور کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہاں تو چھچوراپن تمہارے ساتھ ہی کر رہا ہوں نہ ویسے آپس کی بات ہے تمہارے شوہر کی ڈیشنگ پرسنیلیٹی پہ لڑکیاں جان دینے کو تیار رہتی ہیں بس میرے ایک اشارے کی دیر ہے ۔۔۔۔۔”

“اور یہاں تو میں تم سے رومینس بھگار رہا ہوں میرا نہیں خیال کہ پھر یہ چھچھورے پن کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔۔”

دونوں بازوؤں پہ گھیرا تنگ کر کے وہ آہستہ آہستہ اس کو بوٹ کے اندر اتا رہا تھا ۔۔۔

“یہ تو حلال رومانس کہلائے گا مائٹ ڈئیروووووووو وائف !! اپنی بیوی سے فری ہو رہا ہوں نہ کہ کسی گرل فرینڈ سے رومینس کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔۔”

اس کو باتوں میں الجھا کہ آخر کار بوٹ کے اندر تک لے ہی آیا ۔۔۔۔

رات کے دس بجے وہ دونوں وہاں پہنچے تھے ۔۔

“ہوٹل کے کمرے سے نکلتے وقت ہی حمزہ نے اس کو کہہ دیا تھا کہ اس کا آج فل انجوائے کرنے کا پلین ہے برائے مہربانی تم نیند کا رونا مت رونا ۔۔۔۔”

“شفا برے برے منہ بنا کے رہ گئی اس کو گھومنے پھرنے کا کچھ زیادہ شوق ہی نہ تھا ۔۔۔۔۔”