Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 1
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 1
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
گڑیا اور کتنی دیر تک بارش میں بھیگو گی ؟؟؟؟
خود بھی بھیگ رہی ہو اور مجھے بھی بگھا رہی ہو ۔۔۔۔؟؟؟
اچھوں۔۔۔۔ اچھوں۔۔۔
مانی چھینکتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔
جیسے کہہ رہی ہو۔۔
” خود بھی بھی ہو گی اور آپ کو بھی بھگاؤ گی “۔۔۔
وہ کالے کپڑوں میں ملبوس بھیگی بھیگی چھاجوں مینہ برساتی افسردہ کالی رات کا ہی حصہ لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
مانی کا دل چاہا کہ وہ اس کو چھو کر دیکھے۔ ۔۔۔
چلو بھئی اب !!ورنہ اس ویران رات کی طرح تم بھی ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کو گھر کے اندر لے جانا چاہا ۔۔۔۔
ابھی اس نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ۔۔۔
اس کا بڑا ہوا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا ہر سو اندھیرا چھا گیا تھا ۔۔۔
شاید بارش کی وجہ سے لائٹ چلی گئی تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ اندھیرے میں پلک بھی نہ جھپکا سکا تھا کہ لان کا دودھیا بلب ایک دفعہ پھر اندھیرے کو چیر کر گیا تھا ۔۔۔۔
ہلکی ہلکی روشنی بکھری۔۔۔
اس نے جیسے ہی اپنے برابر میں بیٹھے وجود کو گردن گھماں کر دیکھا وہ کہیں بھی نہ تھی ۔۔۔
لمحوں کا کھیل تھا ہر سو ویرانی ہی ویرانی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پوری حویلی ایک دفعہ پھر سے سائیں سائیں کرنے لگی۔ ۔۔
کاش ایک دفعہ میں تمہیں چھو سکوں ۔۔۔۔
تم میں یہی کرتی ہو ہمیشہ ۔۔۔۔۔
ہاں یہی تو کرتی آئی ہو۔۔۔
وہ اب کہیں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
نہ حویلی کے اندر اور نہ ہی باہر ۔۔۔۔۔
بچاو۔۔۔۔!!
کوئی تو ہماری مدد کرو۔۔۔۔
وہ اپنے دونوں بچوں کو کلیجے سے لگائے زاروقطار روتے ہوئے کسی کو مدد کے لیے پکار رہی تھی ۔۔۔۔
پورا فارم ہاؤس آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا ۔۔۔
گیس کے سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے پورا کے پورا فارم ہاؤس میں آگ بھڑک چکی تھی ۔۔۔
میں آ رہا ہوں تم بس وہیں رہو۔۔۔۔
بچوں کو نہیں چھوڑنا بالکل بھی ۔۔۔۔
وہ کھڑکی سے کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
نہیں نہیں آپ وہی رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے ساتھ ساتھ آپ بھی ۔۔۔۔۔
وہ اپنی موت کو پلپل قریب آتے دیکھ رہی تھی ۔۔
دونوں بچے اب تپش سے بے ہوش ہو چکے تھے ۔۔۔
مگر وہ تو جیسے بیوی کی سن ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔
وہ آگ کے شعلوں سے لڑتا تم تک پہنچنے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
پلیز تم یہ امت واپس لوٹ جاؤ ۔۔۔۔۔
می می کہاں ہے ؟؟۔؟
وہ اب بیٹی کے بارے میں دریافت کر رہا تھا ۔۔۔
اس نے جیسے ہی بتانے کے لئے لب واہ کیے ہیں تھے کہ ۔۔۔
دہکتا ہوا کچھ اس پہ اور بچوں کے اوپر بری طرح سے کر چکا تھا ۔۔۔
وہ یہ سب دیکھ کے اندھا دھند ان تک پہنچا ہی تھا
جب آگ نے اس کو بھی اپنی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔۔۔۔۔۔
کون جانتا تھا کہ یہ حادثہ ہے ؟؟؟؟
یا پھر کچھ اور؟ ؟؟؟
آئمہ کی شادی کے ہنگامے شروع ہوچکے تھے 15 دن پہلے ہی سے عائشہ نے بہن کی شادی کے لئے گھر بھر میں رونق لگائے رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
ایک ہفتے پہلے سے ہی ڈھولکی رکھدی گئی تھی۔۔۔ رات گئے تک ایک طوفان بتمیزی برپا رہتا ۔۔۔
رات میں جاگنے کی وجہ سے دن چڑھے تک ساری ینگ پارٹی سوتی رہتی۔۔۔۔
بارہ بجے تک تو سعیدہ بیگم (عایشہ اور ائمہ کی ماں) برداشت کرتیں۔۔۔۔
پھر اس کے بعد دونوں بہنوں کی سب ہی روکنے آئے کزنز کے سامنے خوب عزت افزائی کرتیں۔ ۔۔
ائمہ اور عائشہ ماں کے گلے میں باہیں ڈال کر روزانہ جلدی اٹھنے کا وعدہ کرا کرتی اور اگلے دن پھر وہی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی !!!
خوب لعنت یا پڑھنے کے بعد سب کے دماغ تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی مگر ٹھکانے پر آ ہی جاتے تھے ۔۔۔۔
شادی سے ایک 1 دن پہلے عائشہ کمر پہ دوپٹہ باندھ ھے بڑے مزے سے گلگلے تل رہی تھی رتجگے کے لیے ۔۔۔
سیدہ بیگم نے اپنی دونوں بیٹیوں کو کام میں خوب اچھی طرح طاق کردیا تھا دونوں میں سلیقہ ماں سے منتقل ہوا تھا ۔۔۔
ایکسکیوز می مسکیں ایک لفظ پانی ملے گا ؟؟؟؟
داود نے کہا جو کہ اس کی خالہ کا بیٹا تھا اور ماں کے ساتھ شادی اٹینڈ کرنے ہی آیا تھا ۔۔
کیا آپ کے ہاتھ نہیں ہیں ؟؟؟؟
عائشہ نے بیزاری سے جواب دیا ۔۔۔
ہاتھ تو ہیں مگر پیلانے والی نہیں ہے ۔۔۔۔
داود نے کچن کی چوکھٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے ہانک لگائی ۔۔۔
تو یہ بات تو آپ جاکے اپنی اماں جان سے کہیں نہ ۔۔
موقع بھی ہے دستور بھی۔۔۔
خالہ شادی میں ہی کسی بلو باندری کو پسند کرکے آپ کے پلے باندھ ہی دی گیں ۔۔۔۔۔
وہ بھی کہاں چپ رہنے والی تھی یہ کا جواب پتھر سے دینا تو اس کی فطرت میں تھا ۔۔۔
صحیح کہا موقع سے چوکا لگانے والا ہی سکندر کہلاتا ہے ۔۔۔۔
اچھی صلح دی ہے !!قابل غور ہے ۔۔۔۔
ہاں ہاں ابھی جائیں اور خالہ سے کہیں کسی چڑیل کو آپ جیسے ریسلر کے متھے مار ہی دیں۔ ۔۔۔
وہ اس کے لمبے چوڑے کسرتی وجود پہ چوٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
وہ کیا ہے نہ۔۔۔۔۔!!
تم کہہ دو اپنی عزیز جان خالہ سے۔۔۔
وہ تو مجھے ابھی تک ننھہ دودھنا بچہ ہی سمجھتی ہیں ۔۔۔۔
داؤد نے چہرے پے معصومیت تاری کی۔۔۔۔
لگتا ہے خالہ کی قریب اور دور دونوں کی نظر خراب ہوچکی ہے !!۔۔
وہ باآوازبلند بڑبڑائی 27 سالہ داؤد کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔
چلو بس پھر خالہ سے آج ہی بات کرلینا تاکہ اگلا نمبر ہمارا ہو ۔۔۔
وہ معنی خیزی سے بولا ۔
ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں اور چابی کھو جائے !!
وہ اب باقاعدہ گنگنا رہا تھا ۔۔
آپ چلے جاؤ ورنہ میں یہ گرم گرم تیل کی کڑھائی آپ پر الٹ دوں گی۔۔۔۔۔۔
وہ اب صحیح معنوں میں صلح چکی تھی ۔۔۔
ارے لڑکی ذرا تمیز سے یہ کس طرح سے تم بھائی سے مخاطب ہوں ؟؟!!
پورے چھ سال بڑا ہے تم سے ۔۔۔
داود جو کہ پانی کا گلاس لبوں سے لگا چکا تھا سعیدہ کی بات سن کر منہ میں موجود پانی فوارے کی طرح نکلا تھا باہر۔۔۔
جو کہ عائشہ کی پشت کو دیکھا گیا تھا ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔۔!!
امی یہ دیکھیں انہوں نے جان کر ۔۔۔۔۔۔۔
چپ کر جاؤ ۔۔۔۔۔!!
لگتا ہے تمہارے بابا سے تمہارا دماغ درست کروانا ہی ہوگا بہت تر تر زبان چلنے لگی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔
ایک منٹ نہیں لگاؤں گی زبان کو گدی سے کھینچنے میں۔۔۔۔۔۔۔!!
سعیدہ نے بیٹی کی اچھی طرح سے طبیعت منٹوں میں ہرن کر ڈالی ۔۔۔
جب کہ پیچھے سے داود مزے مزے کی منہ بنا رہا تھا اس کو بڑھانے کے لئے ۔۔۔۔
عمر بھائی میں نے کہا تھا نہ کہ۔۔۔
اگر پاکستان میں جیتا تو آپ مجھے خوب ساری شاپنگ کروائیں گے ۔۔۔۔
سوہانےبھائی کے گلے کا ہار بنتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہاں بھئی مجھے یاد ہے اپنا وعدہ ۔۔۔۔!!
عمر نے سوہاکے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا ۔۔
رحمان صاحب نےہنستے مسکراتے آپس میں اٹکھیلیاں کرتے اپنے بچوں کو محبت سے دیکھا جبکہ آئمہ خاموشی سے شام کی چائے کے ساتھ ٹیبل پہ ریفریشمنٹ کے آئٹم سجا کر جس طرح آئی تھی اسی طرح چپ چاپ جاچکی تھی ۔۔۔۔۔
رحمان صاحب کی نظر اچانک حمزہ پر پڑی جو لمحے بھر کے لیے واپس پلٹنا بھول گئی تھی ۔۔۔۔
وہ چونکہ بغیر اس کو دیکھنے لگے ۔۔۔
جبکہ وہ بڑی محویت سے موبائل میں غرق نہ جانے کیا تلاش کر رہا تھا ؟؟؟؟
اس کے چہرے کے اتار چڑھاو ناقابل فہم تھے۔۔۔۔
اب وہ موبائل سے نظریں ہٹا کر دروازے کی چوکھٹ کو پر سوچ نظروں سے کھولنے لگا ۔۔۔۔۔
جہاں سے ابھی کچھ لمحوں پہلے اس کی ماں گزری تھی ۔۔۔۔۔۔!!!!!
اوف ہو تم میں تو لگتا ہے کوئی وڈیروں کی چکی ہے ۔۔۔!!
کہیں سے نہیں لگتا کہ تم یونیورسٹی میں پڑھنے والی لڑکی ہوں ۔۔۔۔
شفا آنے گویا چڑھ کے کہا ۔۔۔
کیوں یونیورسٹی میں پڑھنے والے لڑکیوں کے سر پہ کیا سینگ لگجاتے ہیں؟؟؟؟
فجر نے گھاس کو بیدردی سے نوچتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں سینگ تو نہیں بقول میری اماں جان کے پر ضرور لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔!!!!
شفا کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھی ۔۔
شفاء میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ میں نہیں آ سکتی تمہاری برتھ ڈے پارٹی میں ۔۔۔۔!!
مجھے ان سب چیزوں سے بہت گھبراہٹ ہوتی ہے ۔۔
فجر ایک انتہائی سادہ وسنجیدہ رہنے والی لڑکی تھی جس کا شمار بہت زیادہ محتاط رہنے والی لوگوں میں کیا جائے تو غلط نہ تھا۔۔۔۔۔
بولتی بھی بس اتنا ہی تھی جتنی ضرورت ہو تی۔۔۔۔۔ خود کو ہر پل یونیورسٹی میں اسکارف اور بڑی سی شال میں ڈھانپے!! سینچ سینچ کرہتہ امکان خود کو چھپانے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔۔۔۔
ان دونوں کی دوستی بھی شفاءہی کی کوششوں کی وجہ سے ہوئی تھی ۔۔۔۔!!
دیکھو اگر تم کہو گی تو میں تمھیں اپنے گھر میں سات پردوں میں بٹھا دوں گی۔۔۔۔!!۔
مگر یار تم آؤ تو سہی ۔۔۔۔۔
شفا نے جانتے بوجھتے ایک دفعہ پھر پتھر سے اپنا سر پھوڑنا چاہا ۔۔۔
فجر اس کی واحد دوست تھی جو کہ کالج لائف سے اس کے ساتھ تھی ۔۔۔۔۔
میں کلاس لینے جا رہی ہوں ۔۔۔۔!!
تم یہ لو میرے حصے کے بھی سموسے ٹھوس کے آ جانا اگر دل چاہے تو ۔۔۔۔!!
فجر نے اس کے سر پر رجسٹر سے دھپ لگائی اور اٹھ کر بغیر اس کی ایک بھی سنی یہ جا وہ جا ۔۔۔۔۔۔۔!!۔
جب کہ پیچھے گھاس پہ بیٹھی شفا بری بری شکلیں بنا تیرہ گی ۔۔۔
اور ساتھ ساتھ سموسے سے بھی بھرپور انصاف کرنے لگی ۔۔۔۔۔
