Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 46
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 46
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
حماد نے اس کے پیٹ پر بہت زور سے لات رسید کی تھی ۔اس کو لگا جیس سب ختم ہو گیا ۔۔۔
آ۔ ۔۔۔۔۔
وہ پیٹ پکڑکے بری طرح تڑپتی دوزانوبیٹھی زندگی اور موت کے درمیان بیچ میں لٹکی ہوئی تھی ۔۔۔
پوچھو گی نہیں کہ تمہارے ماں باپ کو کیوں مارا میں نے ۔۔۔؟؟
بب۔ ۔۔۔۔۔۔ب۔ ۔۔۔بتاؤ مجھے کیوں کیا تم نے تم بہت ہی ظالم ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ بڑی مشکل سے خود کو سنبھال رہی تھی ورنہ اس وقت جو اس کی حالت تھی وہ اچھی طرح یہ بات جان گئی تھی کہ وقت بہت کم ہے اس کے پاس کسی بھی وقت موت کا فرشتہ اس کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آنے والا ہوگا ۔۔۔
وہ نڈھال سی فرش پہ گری درد سے تڑپتی مچلتی فجر سے مخاطب ہوا ۔۔
فجر بے ہوش نہیں تھی مگر اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اٹھ کے اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے اور اپنے سامنے کھڑے اس مکروہ شخص کا منہ توڑ دے ۔
جسم نے جیسے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔مگر حواس اب بھی برقرار تھے ۔۔
کک۔ ۔۔۔کیا قصور تھا میرے ماں باپ کا ۔۔۔؟؟
وہ ٹوٹے پھوٹے بےربط الفاظوں میں بہت مشکل سے کہہ سکی تھی۔ تکلیف پورے وجود میں پھیلی اس کو درد سے دہرا کر رہی تھی مگر آج وہ ہر سوال کا جواب جان لیناچاہتی تھی ۔کم سے کم اپنی موت سے پہلے۔۔۔
وہ جس راز کو جاننے کے لیے اس حویلی میں آئی تھی اور ہماد صاحب کو انکے انجام تک پہنچانا اس کی زد بن گئی تھی۔ ۔۔۔۔
وہ راز جاننا جس کے تحت اس کے ماں باپ اس کو تنہا چھوڑ گئے فجر کی زندگی کااولین مقصد تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر وہ یہ تو نہ کر سکی کیونکہ ہماد جیسا شاطر آدمی اس کو اسی کے جال میں پھنسا دیا تھا ۔۔۔
تو سنو ۔۔۔۔۔۔”
وہ شاید اب تک اسی لئے زندہ تھی تاکہ وہ راز تو جان لیتی۔ اس کے بعد بھلے ہی زندگی کی ڈور ٹوٹ جاتی ۔زندگی کے اتنے برس اس نے اسی سوچ میں گزار دیے کہ آخر کیا وجہ تھی جو حماد صاحب نے اس کے ماں باپ کو مار دیا ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا ۔۔۔۔۔؟؟؟
ان کے ساتھ ساتھ اس کے بھائیوں کو بھی نہ چھوڑا پورا ہنستا کھیلتا خاندان ختم کردیا۔
تو پھر سنو ۔۔۔۔۔”
تمہارے دادا یعنی میرے اور داود کے والد صاحب نے تمہارے ماں باپ کے مرنے سے پہلے کچھ سال پہلے بڑا بیٹا اوربھائی ہونے کے حساب سے ایک وصیت مجھے دی تھی جس میں میرا اور داؤد کا آدھا آدھا حصہ تھا جائیداد میں ۔۔
میری بدقسمتی یہ تھی کہ میں نے جس شخص کے ساتھ اپنا نیا کاروبار شروع کیا۔ وہ شخص اور میں ہم دونوں کا سارا پیسہ کاروبار میں ڈوب گیا ۔
اباجی کو پیسہ ڈوبنے والی بات اس لیے نہ بتائی کیونکہ وہ سرے سے ہی حق میں نہ تھے میرا الگ سے کاروبار کرنے کہ ۔
بس پھر کیا تھا میرے پاس ایک ٹکہ تک نہ بچا پھر میرے اسی دوست جس کے ساتھ میں نے بزنس کیا تھا۔
اسی کے ساتھ پلان ترتیب دیا اور پھر وہی ہوا جو میں نے چاہا ۔
داؤد رہا ہی نہیں اور نہ اس کی اولاد ۔۔۔اس لحاظ سے وہ پوری جائیداد جو ابا جی نے اس کے حصے میں لکھی تھی وہ میرے حصے میں آ گئی ۔۔مگر تمہارے آنے سے یعنی داود کی اولاد کے زندہ بچنے سے وہ ساری کی ساری جائیداد اب تمہاری ہوگئی ہے قا نو ن کے مطابق ۔۔۔اور جو میرا دوست تھا اس کھیل میں شامل اس کو خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میں اوپر پہنچاتا ایک دن وہ خود ہی ٹرک کے نیچے آکر مرگیا وہ کس صحابی تمام ہوا ۔۔۔۔۔۔
بس اب ایک آخری باب کھلا رہ گیا ہے جس کو مجھے بند کرنا ہے۔۔۔
وہ نیم بے ہوشی میں فرش پر لیٹی فجر کی طرف معنی فیضی سے دیکھتے ہوئے جیب میں موجود پسٹل نکال کے بولا اور بغیر وقت ضائع کئے پسٹل کو لوٹ کی ۔۔۔۔
ٹھااااااک۔ ۔۔۔۔!!!
چند ہی لمحوں میں ٹھا کر کے گولی چلی تھی ۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟؟؟
وہ عمر کے ہاتھ سے نوالہ لیتے ہوئے بغیر اس کی طرف دیکھے نظریں جھکائے شرمندہ شرمندہ سے لہجے میں بولی۔
۔
عمر اس کو اس وقت عشاء کی نماز کے بعد رات کا کھانا کھلا رہا تھا ۔
ہسپتال سے گھر آئے ہوئے اس کو تقریبا بارہ گھنٹے کا وقت گزر چکا تھا عمر اس کا ہر کام خود ذمہ داری سے کر رہا تھا ۔
اس کی یہی کوشش تھی کہ وہ لائبہ کے سارے کام خود ہی کرے کسی ملازمہ کے اوپر وہ ہرگز بھی لائبہ کو چھوڑنے کا قائل نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اپنے قیمتی وقت میں بہت مشکل سے وہ ٹائم نکال کہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا لائبہ کا خیال رکھنے کی ۔
وہ بالکل خاموش تھا ۔ لائبہ سے بات بالکل بھی نہیں کر رہا تھا اور یہی ایک چیز لائبہ کو اندر ہی اندر دل کومزید تکلیف سے دو چار کر رہی تھی۔
بتائیے نہ کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔؟؟
کیا میں نے بہت بڑا گناہ کر دیا ہے ۔۔؟؟؟
وہ رو دینے کو تھی۔
بہتر ہے کہ تم کھانا جلدی ختم کر لو اس سوال کا جواب مانگنے سے پہلے تمہیں شرم سے ڈوب مر جانا چاہیے تھا ۔۔۔”
اس کا لہجہ ہر قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔ چہرے پہ کرختگی طاری کئے وہ اب دوسرا نوالا بنانے کے بعد اس کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کھلانے لگا ۔۔۔
تم بہتر جانتی ہو یہ گناہ ہے جو تم سے انجانے میں نہیں بلکہ اپنے مکمل ہوش و حواس میں سرزد ہوا ہے ۔۔۔۔”
اس کا دل پگھلنے لگا لائبہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے موتیوں کو دیکھ کہ مگر پھر یکدم اس کو اس معصوم ننھی جان کا خیال غالب آگیا ۔۔
“عمر آپ میری بھی تو سنیے۔۔۔۔۔”
کیا سنو میں تمہاری ۔۔۔۔؟؟؟
بس ایک قصور بتا دو تو مجھے اس معصوم جان کا ۔۔۔۔؟؟؟
میں معاف کر دوں گا تمہیں مگر مجھے قصور بتاؤ جس کی وجہ تم نے اس کو دنیا میں آنے نہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ تند و تیز لہجے میں کہتا لائبہ کو مزید سہما گیا تھا ۔۔
“یہ ضروری تھا “۔۔۔
کیوں ضروری تھا اگر ضروری تھا تو بتاؤ مجھے ۔۔۔۔؟؟؟
وہ اس پر بری طرح سے گرجا ۔۔۔۔۔
ابھی آپ کو میرا یہ فیصلہ غلط لگ رہا ہے مگر میں آپ کے اوپر کیسے کسی اور کا گناہ مسلط کر سکتی ہو ۔۔۔؟؟؟؟
وہ اس کا مضبوط ہاتھ تھام کہ رحم طلب نگاہوں سے دیکھنے لگی مگر عمر تو جیسے اس وقت اپنے غصے پر قابو ہی نہیں رکھ پا رہا تھا جھٹکے سے اپنا ہاتھ لائبہ کے ہاتھ سے کھیچ لینے کے انداز میں جدا کیا ۔۔۔
عم۔ ۔۔۔۔عمر ۔۔۔آ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔!!!
وہ باقاعدہ سسکیاں بھر رہی تھی عمر کا سرد رویہ اس کی جان لینے کوکافی تھا ۔۔۔
شادی کے بعد سے جس شخص کو محبت نچھاور کرتے دیکھا تھا آج وہ پہلی دفعہ اس پہ بری طرح سے غصے میں گرج رہا تھا ۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت اسی کے لئے فکر مند ہے اور اسی کی وجہ سے اس قدر اشتعال میں ہے۔ لائبہ کی پوری کوشش تھی کہ وہ عمر کا غصہ نرمی سے ٹھنڈا کر سکے مگر عمر جیسےجیسے وقت گزر رہا تھا اس کو مزید سہمائے دے رہاتھا ۔عمر کا قطعی لہجہ لائبہ کو وحشت میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔۔
“ایک معصوم کی جان لی ہے تم نے ۔۔۔”
“معصوم بھی وہ جو ابھی اس دنیا میں آیا تک نہیں تھا۔ ایک ذرہ برابر وجود تھا جو کل تک تمہارے
وجود میں پنپ رہا تھا ۔سانس لے رہا تھا لائبہ ۔۔۔۔”
“ہا۔ ۔۔۔مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس سے جینے کا حق اس کی ماں نےہی چھین لینا ہے وہ بھی دنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے ہی۔ ۔۔۔۔۔”
“آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں آپ میری جگہ خود کو ایک دفعہ سوچ کے تو دیکھیں آپ کو میری یہ چھوٹی سی غلطی پھر اتنی بڑی ہرگز نہ لگے گی ۔۔۔۔”
کیا کہا چھوٹی سی غلطی ۔۔۔؟؟؟
یہ چھوٹی سی غلطی قتل کے زمرے میں آتی ہے لائبہ ڈیٙر۔۔۔۔۔۔”
کس دنیا میں ہیں آپ ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ بری طرح سے اس کو مزید تپاگئی ۔۔۔۔۔۔
لاِئبہ عمر کے اس طرح سے کہنے پہ مزید شرم سے پانی پانی ہوئی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔۔۔۔
آج شاید عمر خاموش ہونے کے موڈ میں آنا تھا ۔۔۔۔۔
“تم نے لمحہ تک نہیں لگایا اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے میں ۔ اور اس کو اتنی مہلت بھی نہ دیں کے وہ دنیا میں آکے آنکھ کھول سکتا تم ۔۔۔۔۔!!
تم کیسی ماں ہو؟ ؟؟؟؟
عمر نے غصے میں اٹھا کر شیشے کا گلاس زمین پر دے مارا تھا ۔۔۔۔۔
گلاس فرش کے کرکٹ چکنا چور ہو چکا تھا ۔۔۔۔
عمروہ ناجائز تھ۔ ۔۔۔۔۔”
لائبہ شٹ اپ ۔۔۔”
جسٹ کیپ یور ماؤتھ شٹ۔ ۔۔!!
اس کو اس وقت لائبہ سے ہمدردی بالکل بھی محسوس نہ ہوئی ۔۔۔۔
“وہ میرا اور تمہارا بچہ تھا ۔۔۔۔بس میرا اور تمہارا ۔۔۔۔۔۔”
لائبہ اس کو دیکھ کر رہ گئی وہ کتنا عظیم شخص تھا کہ ابھی اس کے اور لائبہ کے درمیان ایسا کوئی تعلق ہی نہ بنا تھا اور وہ ایک درندے نما شخص کی اولاد کو اپنی اولاد کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
جانتی ہو لائبہ میرے نزدیک تم گنہگار ہو ۔۔۔”
تم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے ۔۔۔۔!!
“پلیز عمر کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی۔۔؟”
” مجھے معاف کر دیں ۔۔۔”
“لائبہ میرے بجائے اللہ رب العزت سے معافی طلب کرو ۔۔۔۔”
مجھ سے معافی مت مانگو میں اپنے خدا کا ایک بہت ہی ادنہ سا بندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔”
اپنے گناہوں کے لیے اللہ سے معافی مانگو ۔۔۔”
کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری گود زندگی بھر کے لیے ہیں خالی رہ جائے ۔۔۔۔”
عمر ایسا تو مت کہیں ۔۔۔۔۔”
وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے بری طرح سے سسک اٹھی تھی عمر کے اس سنگدلانہ انداز میں کہی گئی بات کو سن کہ۔ ۔
“اگر جو مجھے ذرا سا بھی علم ہوتا کہ تمہاری خرابی طبیعت کی وجہ یہ ہے۔۔۔۔”
” توخدا کی قسم میں اس بچے کو دنیا میں لانے کے لیے اگر تمہیں زنجیروں سے بھی باندھ کر رکھنا پڑتا تو میں وہ بھی کرتا کیونکہ بچے پھول ہوتے، فرشتوں کی طرح ہر گناہ سے پاک بس نور ہی نور ہوتے ہیں ان کو جائز اور ناجائز کہنے والے ہم ہی گنہگار لوگ ہیں “۔۔۔۔۔۔
“عمر بے شک میرا گناہ معافی کے قابل نہیں ہے مگر میں اس قدر سنگدل نہیں ہوں کہ آپ کی گود میں کسی اور کا گناہ ڈال دیتی ۔۔”
و
ہ اب بھی اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی اتنا عمر کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ جیسے بس وہی سوچ رہی تھی جو اس کا دل و دماغ اس کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔یا شاید یہ وقت کا تقاضہ تھا جو وہ اس طرح سے ری ایکٹ کر رہی تھی ۔۔۔
مگر اس لمحے جو شخص اس کے سامنے بیٹھا تھا وہ کسی طور بھی اس کی بات کو سننے کے لیے راضی نہ تھا ۔۔۔۔
“بالکل صحیح کہا تم نے بے شک تم سنگل نہیں ہو مگر لائبہ تم رحم دل بھی تو نہیں ہوں ۔۔”
وہ اس کو شانوں سے پکڑ کہ غصے میں بری طرح جھنجوڑ کے بولا ۔
لائبہ کا وجود جیسے سن سہ ہو گیا تھا وہ عمر کے اس قدر شدید ردعمل کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔۔”
کاش لائبہ۔۔!!
کاش تم ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ مجھے اعتماد میں لے کے تو دیکھتی۔ ۔۔۔۔۔۔”
مگر شاید تم نے مجھے اور مردوں کی طرح ہی سمجھا اور جانا جو خود غرض اور انتہائی درجے کے سطحی سوچ کے مالک ہوتے ہیں ۔۔ “
“یاد رکھنا آئندہ اچھی طرح یہ بات کہ میں ان مردوں میں سے نہیں ہیں ۔۔۔”
میرے دماغ میں تو اس وقت بھی یہ خیال تک نہیں آیا تھا کہ جس بچے کا تم نے چراغ گل کیا ہے وہ میرا نہیں ہے۔ ۔ جب ڈاکٹر نے مجھے آ کر بتایا کہ میں اپنا بچہ کھو چکا ہوں تمہارے سوسائیڈ کا اٹیمپ کی وجہ سے ۔۔۔”
“تم جانتی ہو جب مجھے خبر ملی تھی مجھے ایسا لگا تھا کہ مطلب میرے جسم سے تم نے روح کھینچلی چلی ہے۔ تم نے میری اولاد کو ختم کر دیا۔ ۔۔”
“اور تم کہتی ہو کہ وہ میری اولاد نہیں تھی تف ہے تم پر لائبہ۔ ۔۔۔۔۔”
وہ جیسے اب تھک چکا تھا اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرائے وہ اپنے بالوں کو بے دردی سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں دبوچے غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔
“میں قدر کرتی ہوں عمر آپ کے خیالات کی میرے نزدیک آپ واقعی ایک عظیم آدمی ہیں ۔۔”
‘بہت شکریہ تمہاری ایسی قدر کرنے کا ۔۔۔۔۔”
بھرپور طنز یہ نظروں سے اس کو دیکھ کے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
وہ مزید اگر اب لائبہ کے سامنے بیٹھا رہتا تو نہ جانے غصے میں کیا کر بیٹھتا ؟؟؟
اس لیے وہ وقت ضائع کیے بغیر اٹھ کھڑا ہوا اس پل وہ اپنے حواس کھو رہا تھا ۔۔۔۔
بس نہیں چل رہا تھا کہ لائبہ کی عقل کو ٹھکانے لگانے میں ایک منٹ بھی ضائع نہ کرے ۔۔۔
وہ دروازہ کھول کے باہر جانے ہی والا تھا جب لائبہ بغیر فرش پہ بکھرے کانچ ٹوٹنے کی پرواہ کیے اس تک پہنچی تھی اور اس کے سینے سے زاروقطار لپٹ کے رو پڑی تھی ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
