Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 27

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 27

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

“اماں جان اٹھیےنہ” ۔۔

کیا ہو گیا آپ کو؟؟

غزل نے چکرا کر گر تی ساس کو روتے ہوئے بڑی مشکل سے تھاما تھا۔ وہ خود اس وقت بہت بڑے طوفان کی زد میں تھی۔ حماد کی کہی بات نے اس کو اندر تک دکھی کردیا تھا۔ یہ صلہ دیا تھا حماد نے اس کو عمر بھر کی رفاقت کا۔ وہی یکایک خود کو بہت کمزور تصور کرنے لگی تھی ۔وہ اندر سے بری طرح سے توڑ پھوڑ کا شکار ہو چکی تھی۔

ھماد ایسا ہرگز نہ تھا مگر پیارے بھائی کے ہنستے بستے گھرانے کی اچانک اور ناگہانی موت نے اس کو اندر سے بہت توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اپنے خول میں بند ہو کر رہ گیا تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں مزید سختی در آئی تھی ۔۔

۔۔

“دادو کیا ہوا پلیز اٹھیں! ! آنکھیں کھولیں “۔۔۔

ارمغان نے بڑھ کر دادی کو تھاما تھا اور ان کو اٹھا کر باہر کی طرف بھاگتے ہوئے چیخنے کے انداز میں کہہ رہا تھا ۔۔

فجرخاموش تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بہت زور زور سے دادی کے پاس جاکر رویے۔ مگر وہ فی الحال ایسا کچھ بھی کرنے سے نا چاہتے ہوئے بھی گریزاں تھی ۔۔

حماد اور باقی سب فجر سمیت دادی کو ہسپتال لے کر بھاگے تھے ۔دادی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا دوسرا ۔۔

پہلا ہاٹ اٹیک دادی کو اس وقت ہوا تھا جب انہوں نے جوان جہان بیٹا اور بہو کے جنازے دیکھے تھے ۔۔۔

دادی کی حالت خطرے سے باہر نہ تھی حماد صاحب کا تمام تر طنطنہ ہوا او چکا تھا ۔وہ ہاتھ ملتے اسپتال کے کوریڈور میں ادھر سے ادھر اسطرابی کیفیت میں چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔

“آپ سب کو پیشن اندر بلا رہی ہیں برائے مہربانی ان کو کسی بھی قسم کا تک نہ پہنچے یاکوئی بھی ایسی بات کرنے سے گریز کیجئے گا جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو ۔”

نرس نے دادی کا پیغام آ کر دیا ۔۔

“جی جی بہتر ارمغان کہتا ہوا فجر کا ہاتھ تھام کے جبکہ ماں کو بازو کے حلقے میں لیے اندر کی طرف بڑھ چکا تھا ۔ہماد صاحب خاموشی سے ان تینوں کو I.c.u کے اندر جاتا دیکھ کر خود بھی پزمردہ قدموں سے چلتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔

پروقار سی دادی فجر کو یک دم بہت زیادہ بوڑھی لگی تھیں۔

فجر اپنےپلکوں کی باڑ توڑ تے آنسووں کو روک نہ سکی تھی اور دادی کے بیڈ کی پائینتی پہ ٹک کر ان کا نحیف سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر آہستہ آہستہ سہلانے لگی ۔

جبکہ ارمغان اپنے اوپر ضبط کے بند باندھے دادی کا سر سہلا آرہا تھا اورغزل پاس کھڑی مسلسل کچھ نہ کچھ پڑھ کر روتے ہوئے ساس پہ دم کر رہی تھی “بے شک اللہ پاک کے کلام میں بہت برکت ہے”۔

“باقی سب اللہ کے اختیار میں ہے زندگی دینا بھی اور لینا بھی”۔۔۔

غزل یہ سوچتے ہوئے بس دل ہی دل میں بہتری کی دعا کر رہی تھی ۔۔۔

حماد صاحب نادم سے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑے ماں کو تکے جا رہے تھے۔ جیسے اب مزید کسی کو کھونے کی سکت نہ رہی ہوں ۔

“حماد بیٹا”۔۔

دادی کی نحیف سی آواز سے نکلی۔۔

“جی اماں جان کہیں ۔۔۔”

جیسا آپ کہے گی ویسا ہی ہوگا”۔۔۔

اور جھک کر ماں کے سینے سے قریب ہو کر بولا ۔۔

“بیٹا اپنی ماں کے لئے زندگی کی خوشیوں سے ناراضگی ختم کردے اور ایک دفعہ پھر سے تمام خوشیوں کو آنے کے دروازے خود پر کھول دے ۔یہ بچی بہت نیک فطرت ہے۔ اس کو قبول کرلے صرف اتنا سوچ لے کہ یہ تیرے مانی کی گڑیا ہے۔”

” میری بات مان لے بیٹا ۔یقین جان تجھے جان سے زیادہ عزیز بھائی کی بھی تو روح خوش ہو گی جب تو خوش ہو گا ۔”

‘اور سب سے بڑھ کر ارمغان کی زندگی خوشیوں سے مہکے گی تو داود اور ائشہ کی روحیں کس قدر خوش ہو نگی ۔”

دادی سینے سے لگے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تھیں ۔

” ٹھیک ہے جیسا آپ کہینگی ویسا ہی ہوگا ۔۔”

“مگر پلیز آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ مجھ میں اب مزید کسی کو کھونے کا حوصلہ نہیں ہے “۔۔۔

ھماد کی آواز دکھوں کی آمیزش لیے ہوئے تھی ۔

“تم اگر زندگی کو دوبارہ سے جینے کا وعدہ کرتے ہو تو میں بھی ٹھیک ہونے کی کوشش کروں گی ۔۔”

دادی نے نرمی سے کہا ۔۔

“وعدہ نہیں کرتا مگر ہاں کوشش ضرور کروں گا زندگی کو ایک دفعہ پھر سے جینے کی “۔۔۔

وہ مسکرا کر غزل کو دیکھنے کے بعد ارمغان اور فجر کو دیکھ کر بولے تھے ۔۔

“اور میں آپ کی ھر ایک کوشش پہ پیٹرول چھڑکنے کا کام کروں گی “۔۔۔۔

فجر کی آنکھیں خطرناک حد تک چمک رہی تھی اس وقت ۔۔۔

اگر غلطی سے بھی کوئی اس کی آنکھوں میں جھانک لیتا تو شاید ان آنکھوں میں سے پھوٹی پڑتی چمک کو دیکھ لینے کے بعد ضرور خوفزدہ ہوکر رہ جاتا ۔

فجر کی آنکھیں اس وقت بہت خوفناک سی چمک لیے ہوئے تھیں۔ ۔

ایسی چمک جو شاید ایک انسان کی آنکھوں میں نا پائی جاسکتی ۔۔۔

وہ ہاتھ میں پکڑی لسٹ کو پینٹ کی جیب میں رکھ چکا تھا۔

شام کے چار بجنے کو تھے کافی کچھ وہ اس کے لئے خرید چکا تھا اپنی مرضی سے ۔

لسٹ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد دوبارہ سےحمزہ نے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی ۔۔

وہ کئی لیڈی شاپ چھوڑ کے بڑی مشکل سے ایک لیڈی شاپ کے اندر گھسا تھا ۔۔۔

چہرے پر خفت کے تاثرات بکھرے ہوئے تھے ۔۔

مگر۔۔۔۔!!!

یہ کیا اندر ایک سیلز گرل کو دیکھ کر وہ سٹپٹا کے واپس دوکان سے الٹے قدموں باہر نکلنے کو تھا۔

اس کو بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اندر کوئی سیل گرل موجود ہوگی۔۔

وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ شاید کوئی سیلز مین بھی ہوگا اندر جو اسکو ڈیل کرے گا ۔۔۔

اکسکیوزمی سر آپ کو کیا چاہیے ؟؟؟؟

میں آپ کی کچھ ہیلپ کر و؟؟؟؟

سیلز گرل نےاس کو بوکھلا کر واپس مڑتے دیکھ کر اپنی خدمات پیش کیں ۔۔

مم۔ ۔۔۔مجھے کیا لینا تھا؟ ؟؟؟؟

ہاں مجھے کچھ لینا تو ہے۔۔۔۔!!!!

وہ بڑی مشکل سے ہمت کرکے بولا تھا ۔۔

لفظ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ ۔

جی سر وہی تو پوچھ رہی ہوں کہ آپ کو کیا چاہیے؟؟؟؟

ہمارے پاس تمام ورائٹی موجود ہیں ۔۔

سیلز گرل اس کی بوکھلاہٹ پہ محظوظ ہو کر بولی تھی جبکہ تاثرات بالکل سنجیدہ تھے ۔۔۔

مجھے وہ چاہیے۔۔۔۔۔۔!!!!

وہ بولا۔

وہ کیا؟؟؟

آپ کو کیا چاہیے سر ؟؟؟

وہ اب اس کے وہ وہ کرنے پر کنفیوز ہو کر بولی ۔۔۔

کیونکہ شاپ میں اور بھی کسٹمر ویٹنگ پہ تھے ۔۔

یہ چاہیے ۔۔۔!!۔

وہ گھبرائی ہوئی نظر ادھر اٹھا ڈال کر ایک پوسٹر پہ نظر پڑنے کے بعد ہاتھ کے اشارے سے بولا جبکہ چہرہ دوکان کے خارجی دروازے کی طرف ہی تھا جیسے وہ سیلذگرل سے نہیں بلکہ دیواروں سے باتیں کر رہا ہو ۔۔۔

او کے سر آئے شو یو۔ ۔۔!

وہ مسکراہٹ چھپا کر بولی تھی حمزہ کے پسینے میں ترچہرے کو دیکھ کر جو ایسی کی ٹھنڈی کولنگ کے باوجود بھی پسینے میں شرابور ہو چکا تھا ۔۔

سر سائز ؟؟

سیلز گرل نے اس کی مطلوبہ چیزیں کاؤنٹر پر رکھتے ہوئےمصروف سے انداز میں پوچھا ۔۔۔۔

سائیز؟ ؟؟

کس چیز کا سائز ۔۔۔

بوکھلا کر ماتھے پہ آئے پسینے کو ٹشو سے صاف کرتے ہوئے پوچھا گیا ۔۔

سر آپ کیا خریدنے آئے ہیں ؟؟؟؟

سیلز گرل نے اب تنگ آکر اسکو گھورا ۔۔

“ا و اچھا اچھا “۔۔

وہ سٹپٹا کر رہے گیا۔ ۔۔

“پلیز ون منٹ میں فون کرتا ہوں” ۔۔۔۔

کی دفعہ فون کرنے کے بعد پانچویں دفعہ کی گئی کال پہ شفاء نے فون اٹھایا ۔۔۔

کیا مسئلہ ہے؟؟؟

کیوں فون کیا ہے ؟؟؟؟

وہ غرائی ۔۔۔

“سائز بتائو اپنا۔ ۔۔”

دانت پیس کر بولاگیا ۔

اسکی بے دھیانی میں آواز کچھ زیادہ ہی اونچی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہاں موجود لوگ متوجہ ہوکر خوامخاہ اس کو دیکھ کر مسکرانے لگے ۔۔۔

وہ چیپس آ گیا چہرے پر شدید خفت کے تاترات ابھرے تھے۔۔۔

دوسری دفعہ جب وہ شفاء سے فون پہ مخاطب ہوا تو قدرے آواز نیچے کرکے بولا ۔۔

یار مجھے جلدی سے سائز بتاو نہیں تو میں گھر واپس آ رہا ہوں ۔۔۔!!!

وہ جھنجلایا ۔ ۔

خبردار اگر میرے سامان لیے بغیر واپس آئے تو میں تمہارے کل پرزے ڈھیلے کر دوں گی ۔۔۔

شفا نے سنگین لہجے میں کہہ کر فون ہیڈ سپلٹ کر دیا تھا ۔۔

لسٹ بھی ہے ناں اس میں سبمیشن ہے وہ دکھاؤ ۔۔

نام کی لسٹ اس میں سب لکھا ہوا ہے ۔۔

نظریں فلور پر جمائے ہوئے لسٹ کاونٹر پہ رکھی گئی تھی ۔۔۔

اوکے اور سرکلر ؟؟؟

کلرررررر؟ ؟؟

حمزہ کے صحیح معنوں میں چھکے چھوٹ گئے تھے اس کو بہت اچھی طرح سے اپنی سنگین غلطی کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا اب وہ دل میں اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ کاش وہ شفاء کو لے کر آ جاتا تو یہ سب کھڑا ک ہی پیدا نہ ہوتا ۔۔۔

“جو آپ کو ٹھیک لگے۔۔”

وہ اتنا ہی کہہ سکا تھا اس سے آگے اس کی بولتی بند ہو گئی تھی ۔۔۔۔

“کہاں پھنس گیا “۔۔۔

دل چاہا اپنے سرکو دیوار میں دے مارے ۔۔۔

،”شفا اس سے پہلے میں نے خود کو کبھی اس قدر بے یارومددگار نہیں سمجھا ۔۔۔جتنا آج تم نے مجھے اس سیلذگرل کے سامنے بےبس کر دیا ہے ۔۔۔۔”

وہ شدید جلوےمیں اس سے دل ہی دل میں مخاطب ہوا۔ ۔۔

حمزہ گھر پہنچ کر میں ڈھال سہ ہوکررا کنگ چیئر پر گرنے کے انداز میں خود کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے بیٹھ چکا تھا جبکہ شاپنگ بیگز اس نیں سامنے رکھی ٹیبل پر پٹخ دئیےتھے۔۔۔۔

” یار اب یہ اٹھا لو اچھا خاصہ انسان کا ستیاناس مار دیا تم نے “۔۔۔۔

وہ شفا کو آواز دینے لگا پورے گھر میں اندھیرا تھا ۔ صرف اور صرف لاؤنج کی مدھم سی لائٹ روشن تھی مگر تھکن سے چور حمزہ کو یہ ہلکی ہلکی روشنی بھی اعصاب کو بہت ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ اندر تک پرسکون ہوگیا تھا آنکھیں بند کرکے تھکن اتاز نے کی کوشش کرنے لگا ہے۔۔۔

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو مائی ڈئیر حمزہ”۔

” ہیپی برتھ ڈے ٹو یو “۔۔۔۔۔۔!!!

اس نےسامنے کھڑی سجی سنوری شفا اپنے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ سجائے اس وشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ ابھی شاک کی کیفیت میں تھا جب ڈرائنگ روم کا دروازہ واہ ہوا تھا ۔۔

اس نے ناسمجھی سے چہرے کو موڑ کر دیکھا تھا جب اندھیرے میں اس کو دو ہیولے اندر سے آتے دکھے تھے ۔۔

مینی مینی ہیپی لیٹرز آف داڈے ۔۔

میں یو ہیو مینی مور۔ ۔۔۔

اب اسکوڈرائنگ روم سے باہر بشر اور آدم آتے ہوئےنظر آئے جو چہکتے ہوئے اس کووش کر رہے تھے ۔۔

ان دونوں کے پیچھے حورم اور ایشل ( آدم کی بیٹی) اور جزدان (بشر کا دس سالہ بیٹا )بھی ساتھ ساتھ اس کوشش کر رہے تھے ۔۔

وہ سب بھی پیچھے سے تالیاں بجاتے ہوئے باہر آئے تھے ۔۔