Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 42
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 42
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
لگتا ہے آج میری بیگم صاحبہ بہت بزی ہیں جو باہر داخلیبدروازے میں مجھے ٹہلتی ہوئی نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ہے نہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ورنہ روزانہ تو مین گیٹ پہ چکر پر چکر لگا رہی ہوتی ہو میرے انتظار میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
بجا فرمایا آپ نے سرتاج۔ ۔۔۔۔۔”
آج مابدولت نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے کھانے کا اہتمام کیا ہے۔۔۔۔۔”
وہ عمر کو دیکھ کہ کھل اٹھی تھی چہرے پہ خوشی کے بہت نوخیز رنگ بکھرے تھے ۔
لگتا ہے بہت بے صبری سے اپنے شوہر نامدار کا انتظار کیا جا رہا تھا ۔۔۔؟؟؟؟
وہ اس کے گرد حصار باندھنے کو آگے بڑھا تھا جب لائبہ نے اس کا ارادہ بھاگ کے جلدی سے آٹے کو گوندھتے ہاتھوں سے ( جو کہ بری طرح سے آٹے میں اٹے ہوئے تھے) عمر کے سینے پہ جمائے تھے۔۔
جس کی وجہ سے اسکی ٹی-شرٹ بھی آٹا لگنے سےخراب ہوئی تھی۔۔۔
یار یہ کیا ۔۔۔۔۔؟
ایک تو تم نے خوامخواہ کی اپنے ارد گرد لمبی چوڑی نظر نہ نظر آنے والی خودساختہ دیوارکھڑی کر رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے پر رکھے آنٹے میں بھرے مخروطی ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔
عمر ہاتھ چھوڑیں پلیز میرے۔ ۔۔۔۔”
مجھے جلدی سے آٹا گوندھنا ہے پھر روٹی بھی ڈالنی ہے۔ ۔ ۔۔۔۔۔”
وہ بےبس ہوئی۔ ۔۔
اور اگر آج نہ چھوڑوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ گہرے مخمور لہجے میں کہتا اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کرگیا ۔۔۔
عمر دس ازچیٹنگ۔۔۔۔ !!
کل ہی تو آپ کے اور میرے درمیان یہ ڈیل طے پائی تھی کہ کچھ عرصے کے لیے ہم دونوں اچھے دوستوں کی طرح ایک ہی کمرے میں رہیں گے۔۔۔۔۔۔”
وہ بغیر کسی مزاہمت کے بولی مگر آواز میں واضح لرزاہٹ تھی ۔۔
یار تم بہت ظالم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جھنجھلا کر بولا
” پر میرا بھی قصور نہیں ہے وہ کیا ہے نہ اگر ایک مرتبہ محبت والی فیلنگ آجائے تو صرف فرینڈ بن کے رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہو جاتا ہے ۔۔۔”
کان کے نزدیک بہت مدہم سے سرگوشی کی گئی تھی وہ سٹپٹا گئی تھی عمر کے اس قدر خمار آلود لہجے کو سماعتوں میں رس گھولتا پا کہ۔ ۔
چھوٹی مامی آپ ۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ بس کھانا تیار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
لائبہ نے زور سے چیخ ماری ۔۔۔۔۔
عمر لائبہ کے اس طرح بوکھلا نے پہ گڑبڑا کہ اس سے فاصلے پر ہوا تھا۔۔۔۔
وہ ماما ۔۔۔۔۔۔ مم۔ ۔۔۔۔میں۔ ۔۔۔۔۔۔”
وہ اٹک اٹک کے کہتا پیچھے مڑ کے دروازے کی طرف دیکھنے لگا جہاں مما تو کیا مما کی پرچھائی تک نہ تھی ۔۔
تم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
عمر خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا ایک دفعہ پھر اس کی طرف بڑھنے کو تھا جب وہ ہاتھ کے اشارے سے اس کو قریب آنے سے روکتے ہوئے بولی ۔
“خبردار اب نہیں “۔۔۔۔۔
خاموشی کی زبان سمجھنے کی بھی کوشش کر لیا کیجئے محترم۔۔۔۔۔ ۔ “
وہ گرم گرم سالن کی چولہے پر رکھی دیگچی کے اوپر ر کھا چمچہ اٹھا کہ بولی تھی جبکہ عمر کان کھجہ کے رہ گیا ۔۔۔۔چہرے پہ کھسیاہٹ کے آثار واضح تھے ۔۔۔۔۔
سوہا کا رشتہ کی بات کرنے کے لئے مصطفی سمیت اس کے والدین بھی آئے بیٹھے تھے رحمان صاحب کے گھر کے ڈرائنگ روم میں ۔۔۔۔۔
زینب نے بارھا بھائی سے ڈھکے چھپے لفظوں میں مصطفی کی سوہا کو لیکردلچسپی ظاہر کی تھی مگر رہمان صاحب ایک ہی بات پر بضد تھے کہ وہ اپنی زبان دے چکے ہیں اور زبان سے پیچھے ہٹنا ان کی شان کے خلاف ہے ۔۔
پھوپھا نے بھی بیٹے کی پسندیدگی دیکھ کہ رحمان صاحب کو قائل کرنا چاہا تھا مگر وہ بہت مہذب انداز میں پھوپھا کو بھی انکار کر گئے تھے یہ کہہ کہ ۔۔۔
“بس صرف اس وقت مسئلہ زبان دینے کا ہے مگر ایسا نہ ہوتا تو مصطفیٰ سے بہترین ہمسفر میری بیٹی کے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔”
مصطفی کے چہرے کے نقوش میں تلخی گھلنا شروع ہو چکی تھی وہ غصے سے اپنے مڈھیاں بھینچ کہ بیٹھا ہوا تھا ۔بس نہیں چل رہا تھا کہ سوہا کو اٹھا کے لے جائے اور نکاح پڑھوالے۔ ۔۔۔
آج تیسرا دن تھا سو ہا اس سے بات تک نہیں کر رہی تھی پہلے تو اس کی کال پک نہیں کر رہی تھی اس کے بعد جب مصطفیٰ نے بھی ڈھیٹوں کی طرح بار بار کال کی تو اس نے موبائل ہی بند کر ڈالا تھا ۔۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی کہ مصطفی اس بات سے بے خبر ہے کہ اس کا رشتہ کسی اور سے جوڑ دیا گیا ہے اس لیے وہ اس کو اگنور کر رہی تھی مگر یہ اس کی خام خیالی تھی ۔۔۔۔
وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ مصطفی جیسے لوگ محبت میں جان کی بازی لگا دینے کو تیار ۔ اپنے محبوب کی پل پل کی خبر رکھتے ہیں ۔۔
ٹھیک ہے مگر کیا آپ لوگ سوہا سےپوچھ چکے ہیں۔۔۔۔۔۔ ؟؟
کیا وہ آپکے منتخب کردا شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار ہے ۔ ؟؟؟
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دے کہ گرج دار لہجے میں استفسار کر رہا تھا ۔وہاں بیٹھے تمام ہی نفوسوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا اس کے اس قدر برہم تاثرات کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔
سوہا نے خود اس رشتے کے لیے حامی بھری ہے ۔۔۔”
رحمان صاحب بہت دیر بعد کچھ سوچ کہ بولے تھے ۔
چلئے امی اور ابو۔ ۔۔۔۔”
وہ یکلخت غیض و غضب سے بھرا اٹھ کھڑا ہوا تھا مزید غصہ ضبط کرنا اب اس کے اختیار سے باہر ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
جب سوہا ہی نے ازخود اس کے بجائے کسی اور کے بھیجے گئے رشتے کی حامی بھر ہی لی تھی تو پھر اس کا یہ اس کی ماں باپ کا ادھر مزید رکنے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ۔ ۔۔۔۔۔
لائبہ بھرائی ہوئی آنکھوں سے بھائی کو دیکھ کے رہ گئی ۔۔۔۔
تم نے سوچا بھی کیسے کہ تم کسی اور کے ساتھ گزار لو گی ۔۔ ؟؟
صرف میری ہوں اور میں تمہیں کیسے کسی اور کا ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔؟
ناممکن ۔۔۔۔۔!!
یہ بھول ہے تمہاری کہ تم میرے علاوہ کسی اور کو اپنا ہمسفر منتخب کر سکتی ہو ۔۔۔ “
مصطفی اپنا حق آسانی سے نہ ملنے پر چھینہ تو جانتا ہے مگر چھوڑنا نہیں ۔۔۔۔”
اب تک تم نے مصطفی کی محبت دیکھی ہے۔۔۔۔۔”
اب تمہیں اندازہ ہوگا کہ مصطفیٰ جب اپنے حق کے لیے لڑتا ہے تو پھر اک جہان کو فتح کرنے کا خود عظم رکھتا ہے۔۔۔
تم تو پھر اس کی محبت ہو ۔۔۔۔۔ “
میں اپنی محبت سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔۔ !!
وہ ٹیرس میں بیٹھا تیسرا سگریٹ کا ڈبا ختم کر چکا تھا رات کے تین بج چکے تھےمگر وہ تھا کہ اس کو نہ وقت کا خیال تھا اور نہ ہی اپنی ذات کا ۔۔۔۔
غصے سے اس کا دماغ بالکل کی فارغ ہو چکا تھا بس نہیں چل رہا تھا کہ سوہا کو جھنجوڑ کہ پوچھے کہ یہ سب کیا ہے مگر وہ دشمن جان تھی کہ فون ہی نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔
بس اب وہی ہوگا جو میں چاہوں گا ۔۔۔۔”
انتظار کرو میرا سوہا رحمان ۔۔!!
سوہا آج کالج آئی تھی اس کو لازمی آج کی تاریخ میں اسائمنٹ جمع کروانا تھا ۔۔
ڈرائیور ابھی اس کو کالج کے سے تھوڑا فاصلے پر رش ہونے کی وجہ سے اتار کہ ہی گیا تھا وہ اندر بھی نہیں جا سکی تھی کالج کے گیٹ کہ جب کسی نے اس کے بازو کو بری طرح اپنی گرفت میں جکڑا تھا۔۔۔
وہ خود کو سنبھال بھی نہیں پائی تھی جب اس کو بری طرح سے گاڑی کا دروازہ کھول کہ فرنٹ سیٹ پر پٹخنے کے انداز میں بٹھایا گیا تھا اور بغیر سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ شخص ڈرائیونگ سیٹ پہ آکے برجمان ہو چکا تھا ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔۔؟؟
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مصطفی کو گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے دیکھ بری طرح سے خوف سے لرز اٹھی تھی ۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے آپ مجھے اس طرح سے نہیں لے جاسکتے اپنے ساتھ ۔۔۔۔؟؟؟
وہ سرا سیمگی سے کہتے ہوئے سسک اٹھی تھی ۔۔۔۔
جبکہ مصطفی بس ناک کی سیدھ میں دیکھتے ہوئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جیسے سوہا اس کے ساتھ بیٹھی ہی نہ ہو ۔۔
پندرہ سے بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد گاڑی ایک جھٹکے سے شہر کے مشہور اور معروف ہوٹل کے سامنے رکی تھی ۔۔۔
یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔؟؟
میں آپ سے پوچھ رہی ہوں کیوں لے کر آئے ہیں مجھے اس طرح ۔۔ ۔ ؟؟؟
نکاح پڑھوانے ۔۔۔۔ “
پتھریلے لہجے میں بغیر کسی تاثر کے کہا گیا ۔۔۔
پلیز مصطفی یہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔”
رحم کریں مجھ پہ۔ ۔۔۔”
مجھے واپس کر چھوڑ کے آئیے آپ مجھے یہاں کیوں لے کے آئے ہیں ۔۔؟؟؟
میں نہیں جا سکتی ہے آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔!!
وہ مصطفی کے اشتعال آمیز انداز سے بری طرح سے خوفزدہ ہوکہ ہذیانی انداز میں چیخی تھی ۔۔۔
مصطفی نے ایک پرطیش نظر سوہا پہ ڈالی تھی اور بغیر کچھ کہے اس کی طرف کا دروازہ کھول کہ اس کا ہاتھ پکڑ کروہ اس کو ہوٹل کے پچھلے حصے سے بک کرائے گئے کمرے میں لے آیا تھا یہ کمرہ اس کو اس کے ادارے کی طرف سے جب جب وہ کراچی آیا کرتا تھا اس کے لیے بک ہوا ملتاتھا ۔۔۔
ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے یہ جان یہ کہ یہ ہماری عنایہ ہے ۔۔۔۔
حماد صاحب ارمغان کے بتانے پر بہت خوش ہوئے تھے اور باقی سب کا بھی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا تھا ۔۔۔۔ ۔
کئی سوال تھے سب کے ذہنوں میں جو کہ ان کو انایا یعنی فجر سے پوچھنے تھے مگر فجر نے خوشخبری ہی ایسی سنا دی تھی کہ فلحال سب چپ ہو کے رہ گئے تھے ۔۔
فجر امید سے تھی اور یہ بات سن کر ارمغان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فجر کا پاؤں زمین پر نہ رکھ نے دے۔ ۔۔۔
دوسری طرف فجرتھی جس کے چہرے پر سے گویا خوشی ایسے روٹھی تھی جیسے کبھی اس سے واسطہ ہی نہ رہا ہوں ۔۔۔
وہ اتنی بڑی خوشی کی خبر سننے کے باوجود بھی خود کو کسی طور بھی مطمئن نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔
ایک عجیب سی بے چینی اس کے اندر گھر کر گئی تھی ۔۔۔۔جس نے اس کے پورے وجود میں بس سناٹے ہی سناٹے بکھیر دیے تھے ۔۔۔
کئی دفعہ اس نے زید اور بابا کو بھی فون کرنے کی کوشش کی مگر وہ دونوں ہی فون ا سکا نہ جانے کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔۔
وہ ان دونوں سے بات نہ ہونے کی وجہ سے مزید پریشان ہو چکی تھی ۔۔۔۔
ادھر ہماد صاحب بے چین تھے کہ وہ کس طرح فجر سے دریافت کریں کہ وہ اتنے عرصے تک کہاں تھی اور کیوں ان تک نہ پہنچ سکی ۔۔۔۔؟؟؟
مگر غزل نے ان کو خاموش کروا دیا تھا ارمغمخان نے غزل کو بتایا تھا کہ فجر کے ماضی کا ذکر کرنے سے اس کی حالت غیر ہوجاتی ہے اس لیے پھر کسی نے بھی اس سے ماضی کے متعلق دریافت نہ کیا تھا اس کی حالت کے پیش نظر ۔۔
اس رات بھی یہی ہوا تھا جب ارمغان نے ایسے ہی مذاق میں اس کو تنگ کرنے کی غرض سے کہا تھا کہ یہ سب اس کو ایک ترتیب دیا گیا پلان لگ رہا ہے ۔۔
تپ فجر کو نہ جانے کیا ہوا کہ وہ بری طرح سے چیخنے چلانے لگی اور بے ہوش ہو گئی اس کے بعد سے مانی نے اس سےماضی کے متعلق کوئی بات نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا
یہ سب کیا ہے۔۔؟
آپ کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟
وہ ہذیانی انداز میں چلائی تھی مصطفی نے اس کو کمرے میں لا کہ بیڈ پہ پٹخنے کے انداز میں ہاتھ چھوڑا تھا ۔۔۔
سو ہا کسی لچکیلی ڈال کی مانند دھان پان سی ہونے کے باعث بیڈ پہ اوندھے منہ جاکہ گری تھی۔
خود کو بہت مشکل سے سنبھال کہ وہ سیدھی ہو کے بیٹھی ہی تھی جب مصطفی کو بییڈروم کا دروازہ لاک کر کے واپس پلٹتے دیکھ کر اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو چکے تھے ۔۔۔
وہ بری طرح سے ہرنی کی طرح سہمی ہوئی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے مصطفی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
یہ روپیہ۔۔۔۔!!
ایساانداز ۔۔۔۔۔۔۔۔!
کب سوہا نےدیکھا تھا اپنے محبوب کا۔ ۔۔؟؟
وہ پروقار چال چلتا ہوا اس تک آیا تھا اور شرٹ کے دو او پری بٹن کھول کے خود کو رلیکس کرنے کہ انداز میں سوہا سے کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے بیڈ پہ ہی نیم دراز ہو چکا تھا ۔۔۔
آ۔۔۔آپ۔ ۔۔۔ یہاں کیوں لیٹے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
وہ وحشت زدہ سی بری طرح خوف سے کانپ اٹھی تھی۔ آنکھوں میں سراسیمگی لئے ایسے اچھل کہ بیڈ سے اٹھی تھی جیسے مصطفی نے اس کو چھو لیا ہو یا پھر کرنٹ لگا ہوں ۔۔۔
تو تم بتا دو میں کہا لیٹوں اور کہا بیٹھو ۔۔۔۔۔؟؟؟
میرے تو اب ہر فیصلے میں نے تم پر چھوڑ دیے ہیں تمہیں اختیار حاصل ہے مجھ پہ بھی اور مجھ سے جوڑے ہر ایک فیصلے کا بھی حد یہ ہے کہ میرے وجود اور چلتی ہوئی سانسوں کی ڈورتک میں نے تمہارے ہاتھ میں تھما دی ہے ۔۔۔۔”
میری روح اور دل پہ قابض صرف تم ہی تم ہو ۔۔۔۔”
وہ۔ ایسے بات کر رہا تھا جیسے معمول کی بات ہو اور وہ بہت ساری چیزوں سے انجان ہو۔ ۔۔۔
نہیں جانتا ہو جیسے کہ وہ اب اس کی نہیں ہو سکتی ۔۔۔!
ساتھ ہی مصطفی نے ہاتھ بڑھا کہ سوہا کو ایک دفعہ پھر خود سے کچھ فاصلے پر بیڈ پہ کلائی کو گرفت میں لے کر بٹھایا تھا ۔۔۔
وہ اس کی سن ہی کہاں رہا تھا ۔۔۔۔؟؟
وہ تو وہ کر رہا تھا جو وہ سوچے بیٹھا تھا۔ ۔۔
اپنی ہی من مانیوں پر تلا ہوا تھا ۔۔۔
مجھے واپس چھوڑ کے آئیں پلیز۔ ۔۔”
اسائمنٹ جمع کروانا ہے آج آخری تاریخ ہے پلیز مجھے کالج جانا ہے ۔۔۔۔۔”
میں مزید آپ کے ساتھ تنہا وقت نہیں گزار سکتی آپ سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔”
وہ بے بسی سے رودی ۔۔
چھوڑ آؤں گا مگر پہلے اپنا تو بنا لوں۔ ۔۔۔”
ایک دفعہ تمہارے تمام حقوق اپنے نام لکھوالینے دو اس کے بعد تمہیں اتنی آزادی ضرور دوں گا کہ تم فی الحال واپس اپنے گھر چلی جاؤ ۔۔۔”
میری خود کی خواہش ہے کہ میں تمہیں مکمل رسم و رواج کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں تمہیں رخصت کروا کے لے کر جاؤ ۔۔۔۔”
مگر اس کے لیے میرا تم سے نکاح ہونا ضروری ہے تبھی تو رخصتی ممکن ہو گی اور اس کے بعد ہی تو تم میری سے سیج سجاؤگی ۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا جھکا تھا اور اپنے ہاتھ کی پشت سے سوہا کے آنسووں سے بھیگتے سرخ وگلابی رخسار خشک کیے تھے ۔۔۔
سوہا اس کے لمس کی حدت کو محسوس کرکے مزید خوفزدہ ہوئی تھی آج مصطفی کے ہر ہر انداز اس کو بہت مختلف اور معنی خیز لگ رہے تھے اس کا دل آنے والے وقت کے متعلق سوچ سوچ کے بری طرح سے لرز اٹھا تھا۔
وہ چاہ کر بھی کچھ دیر قبل کی طرح بیڈ سے اٹھ نہ سکی تھی وجہ اس کا ہاتھ مصطفی کے ہاتھ میں سختی سے قید ہونا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اس وقت صحیح معنوں میں مصطفی کے رحم وکرم پہ تھی ۔۔۔۔
اور وہ شاید کرم کرنے کے موڈ میں نہ تھا ۔۔۔
مصطفی پلیز آپ میری بات کو سمجھئیے۔۔”
آپ مجھ سے زیادہ تجربہ کار ہیں ۔۔۔۔۔”
وہ بہت مشکل سے اپنے اندر ایک دفعہ پھر سے اعتماد پیدا کرپائی تھی ۔۔۔یا شایدتابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
میں تمہیں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔۔۔ تو تمہارے دل و دماغ کو پڑھنے کا کام میرے لیے کون سا مشکل یا پھر نا ممکن امر ہے ۔۔۔۔؟؟
وہ جیسے ہر سوال کا جواب جانتا تھا فیصلہ کرکے آیا تھا اس کو اپنے نام لکھوانے کا ۔۔۔۔
اگر آپ مجھے پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں تو اس طرح مجھے تکلیف نہ پہنچاتے۔۔۔۔۔”
یہ جانتے بوجھتے بھی کہ میں آپکی نہیں ہوں بلکہ کسی اور کی امانت بن چکی ہو۔ ۔۔۔۔”
چند دنوں میں میری شادی ہو جانی ہے ۔۔۔”
ہاہاہا۔۔۔۔!سہی کہا۔ ۔۔!!
بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور بے شک تم نے اس رشتے کے لئے بہت خوش دلی سے ہاں بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔”
سب کچھ میرے علم میں ہے۔ ۔۔۔۔۔”
نا چاہتے ہوئے بھی لہجے میں طنز گھلا تھا ۔۔۔
تمہاری غلطی پتا ہے۔ ۔۔۔؟
کیا ہے سوہا۔ ۔۔۔۔؟؟؟
وہ بیڈ سے اٹھا تھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پشت پہ لے جا کہ کمرے کا ایک چکر کاٹتے ہوئے واپس اس کی طرف گھوم کے آیا۔ ۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا نہ کچھ معلوم کرنا ہے پلیز مصطفی مجھے جانے دیجئے مجھے اس طرح سے رسوا نہ کریں ۔۔۔۔”
میرے اپنوں کی نظروں میں مجھے مت گرائیں۔ ۔۔”
وہ گرگڑ آئی تھی ۔۔
میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے تمہیں بھی حق دوں گا بولنے کا۔۔۔۔۔۔”
مطلب۔۔۔۔؟
پہلے میری بات مکمل ہونے دو ۔۔۔۔ !
اشتعال آمیز لہجے میں ٹوکا تھا ۔
تمہیں پتہ ہے سوہا تم نے مصطفی کو سمجھنے میں بہت بڑی غلطی کردی ہے یا پھر تم مجھے ٹھیک سے سمجھ ہی نہیں سکتی ہو ۔۔۔ “
وہ ایک دفعہ پھر سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غرانے کے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔
صحیح کہا آپ نے!!
بالکل ٹھیک کہا واقعی مجھسے بہت بڑی بھول ہوئی ہے آپ کو پہچاننے میں ۔۔”
میں نے آپ کو سمجھنے میں غلطی کر دی وجہ میری نا سمجھی نہیں تھی بلکہ آپ کے چہرے پر چڑھا نقاب ہے جو آج میرے سامنے اترا ہے ۔۔۔۔”
لہجہ تمسخرانہ ہوا ۔۔۔جبکہ آنکھوں کی بارش میں مزید روانی پکڑچکی تھی ۔۔۔
بہت سوچ سمجھ کے اپنوں کے بارے میں ذہن میں کچھ بھی غلط سوچ لایا کرو ۔۔۔
سوچ سمجھ کے اپنوں سے روٹھا کرو سوہاڈیئر !!
اور آپنے بھی وہ جن میں تمہاری جان بستی ہے ۔۔
جو تمہارے لئے جیتے ہیں ۔۔۔
اپنوں کے لئے تو سوچ رہی ہو ۔انہی کے لیے اپنی محبت کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ۔ میں جانتی ہوں کس طرح میں نے اپنے دل کو مضبوط بنایا ہے ۔۔۔لہجے میں اداسی رقم تھی ۔۔۔
آخر کے دو جملے اس نے اپنے دل میں سوچا تھے اور پھر سے ایک دفعہ خود کو مصروف ہو کے سامنے بہت مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہوئے گویا ہوئیں ۔۔۔۔
میں جا رہی ہوں آج مجھے بہت افسوس ہے خود پہ کے میں نے آپ کو چاہا آپ اس طرح کی ہونگے میرے گمان تک میں نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔یہ وہی جانتی تھی کہ یہ چند الفاظ اس نے کس طرح سے ادا کئے ہیں کس طرح اس کا دل ریزہ ریزہ ہوا تھا ۔۔۔
چلی جانا بس دس منٹ کو نکاح خواں آجائیں نکاح پڑھوا لو پھر تم بے شک چلی جانا ۔۔۔۔
وہ جیسے وہ آپ اپنا فیصلہ تھوپ رہا تھا ۔۔۔۔
آپ نے سوچا بھی کیسے یہ کہ میں اپنے ماں باپ کا سر شرم سے جھکا دوں گی نا ممکن ہے میرے لیے ہر ایک چیز سے اہم میرے ماں باپ کی عزت اور ان کا مان ہے اور یاد رکھیں مصطفی صاحب محبت کی طبیعت میں زبردستی نہیں ہوتی یہ دلوں کی سوتے ہوتے ہیں مگر میرا دل آپ کے ساتھ کے لیے انکاری ہیں راستہ بدلنے کا خواہشمند ہے تو آپ مجھے تو خود سے زبردستی باندھنا چاہتے ہیں مجھے راستہ بدلنے سے اور محبت کی حدود کو توڑنے سے نہ روکے ۔۔اگر آپ واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں تو محبت کا میں آپ سے منتہا نمانتا مانگتی ہوں آپ کی محبت کا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو وہ سب کیا تھا کیوں مجھ سے محبت کے عہد و پیمان باندھے تھے ؟؟؟
کیوں مجھ سے محبت کی پینگیں بڑھائی تھی۔۔۔؟؟
میرے اقرار محبت پہ تم اسی وقت میری محبت کو ٹھکرا سکتی تھی۔۔۔۔؟؟؟
تو پھر کیوں سوہا ۔۔۔۔۔؟
کیوں۔ ۔۔۔۔؟؟!
وہ ہزیانی انداز میں دھاڈا۔ ۔
وہ ایک وقتی جذبات کاریلا تھا جو آ کہ گزر گیا ہے۔اور جس عمر کے حصے میں اس میں ہوں۔۔۔۔ اس عمر میں ایسے چھوٹے موٹے افیئرز ہو ہی جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
بہت بڑی بات کہہ گئی تھی وہ مصطفیٰ دم بخود گیا تھا اس کے اس قدر سفاکی سے کہے گئے انداز پہ ۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں یہ سب تم مجھے خود سے دور کرنے کے لیے کہہ رہی ہو ۔۔۔”
تمہیں صرف اور صرف اس وقت اپنے گھر والوں کا خیال ہے میری محبت کا تمہیں کوئی احساس نہیں لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ محبت تو تم بھی مجھ سے اتنی ہی کرتی ہو جتنی کہ میں تمسے اور بڑی شدت سے کرتی ہو جتنا میں تمہیں چاہتا ہوں اس سے بھی کئی زیادہ۔ ۔ ۔”
آپ جو بھی سمجھیں مگر میں آپ کو بہت واضح لفظوں میں یہ بات بتا رہی ہوں کہ وہ ایک وقتی جذبہ تھا اور میں اس کے زیر اثر آ گئی تھی آپ کی باتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ نظر جھکا کے بولی تھی نظریں ملانے کا اس میں حوصلہ نا رہا تھا مصطفی سے۔ ۔۔۔”
کیا کہا ابھی تم نے دوبارہ سے کہنا ۔۔۔؟؟؟؟
وقتی جذبہ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میرے جذبات کو آنچ دیکے ، میرا دل کا سکون درہم برہم کر ڈالا اور اب جب کہ میں تمہاری محبت میں بہت آگے تک نکل آیا ہوں تو تم کہہ رہی ہوں کہ وہ سب ایکوقتی جذبہ تھا۔ کیا بات ہے سوہا تمنے تو آج واقعی کمال کردیا ۔،۔۔۔۔””
محبوب مجھ سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک وقتی جذبہ تھا ۔۔۔!!
واہ واہ اتنی بڑی تم کب سے ہو گئی ۔۔۔؟؟؟
جس سوہاکو میں جانتا ہوں وہ تو بہت معصوم ہے۔ ۔۔
کہاں ہے میری سوہا۔ ۔۔؟؟؟
وہ غصے سے جیسے اپنا آپا کھو بیٹھا تھا اور سوہا کے شانوں کو سختی سے تھام کر اس کو بری طرح جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔۔۔
ُاب تک وہ بہت نرمی سے پیش آ رہا تھا مگر سوہانے جیسے اس کے غصے کو ہوا دے ڈالی تھی ۔۔
میں بھی کتنا پاگل ہو اتنی دیر سے ایک سنگدل سے اپنے جذبات اور احساسات بیان کر رہا تھا ۔۔۔”
جنہیں احساس ہی نہ ہو ان کے ساتھ کیسے گلے کیسے شکوے ۔۔۔؟؟؟
وہ جارحانہ انداز میں سوھا کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
سوہا کے چہرے پہ جیسے ہوائیاں اڑ گئی تھی مصطفی کو خطرناک طیور لیے اپنی طرف بڑھتا دیکھ وہ سہم کہ اپنے چند قدم پیچھے لے کے گئی تھی ۔۔۔۔
آ۔ ۔۔پ۔ ۔۔۔۔میرے قریب مت آئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔
کھڑاتی آواز میں مصطفی کو روکنا چاہا جو خطرناک حد تک خطرناک ہو رہا تھا ۔۔۔
۔
نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔
اللہ میرے ساتھ ہی اتنے بڑے بڑے امتحان میرے مالک ۔۔۔۔۔”
وہ مسلسل آدھے گھنٹے سے الٹیاں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس کو رات ہی اس بات کا علم میں آئی تھاکہ وہ امید سے ہے ۔۔۔۔
ساری رات اس کی آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹی تھی۔۔۔۔
رات میں کئی دفعہ اس کو وامٹ آنے کی وجہ سے اٹھنا پڑا تھا عمر بھی پریشان تھا ۔۔۔
ساری رات اس کے ساتھ جاگتارہا ۔ہر ہر طرح سے اس نے لائبہ کا خیال رکھنے کی اپنی سی کوشش کر ڈالی تھی ۔
کئی دفعہ اس نے لائبہ سے پوچھا بھی۔اسکی بگڑی حالت کے بابت مگر کیا کہتی۔ ۔۔۔۔؟؟؟
رات میں تو وہ یہ کہہ کے ٹال گی کہ شاید کھانا نا ہضم ہونے کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔
مگر جب اگلے دن اتوار ہونے کی وجہ سے لائبہ کی طبیعت میں سدھار نہ آیا تو وہ صحیح معنوں میں وہ پریشان ہواٹھا۔ ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں تم نے کچھ غلط تو نہیں کھا لیا جس کی وجہ سے تمہیں بد ہزمی ہو گئی ہو ۔۔۔؟؟؟
وہ اس کو واش روم سے لے کر آیا تھا لائبہ کا سر بری طرح چکرا رہا تھا ۔اس کی خود سے چلنے تک کی ہمت نہ رہی تھی وہ اس کو سہارا دے کے لے کر آیا تھا بیڈ تک ۔
مسلسل الٹیاں کرکے اس کا پورا وجود پسینے میں شرابور ہو چکا تھا وہ ہلکان ہو رہی تھی ۔۔
چلو لائبہ ڈاکٹر کو دکھالیتے ہیں ۔۔۔تمہاری میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔”
عمر اس کے لیے پانی کی بوتل کھول کےگلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے بولا ۔۔چہرے پر واضح لائبہ کے لئے پریشانی کے اعصار رقم۔ ۔۔
ڈ۔ ۔۔ ا۔ ۔۔۔۔ڈاکٹر نہیں ۔۔۔نن۔ ۔۔ مم۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی ۔۔
ڈاکٹر کا نام سن کر اس کا چہرہ لڑکی کی مانند لمحوں میں ہی سفید پڑا تھا ۔۔
کیا ہوگیا لائبہ کیوں بچوں جیسی حرکتیں کر رہی ہو یار تم تو ڈاکٹر سے ایسے ڈر رہی جیسے کوئی چھوٹا بچہ ڈر رہا ہوں انجکشن لگنے سے ۔۔۔۔”
عمر نے محبت بھری ڈانٹ پلائی ۔۔۔۔
مگر لائبہ کیا بتاتی وہ تو خود اب کسی کو کچھ بھی بتانے کے قابل نہ رہی تھی اس کے پاس صرف ایک راستہ بچا تھا جس پہ عمل کرنے کا سوچ کے اس کی روح اندر تک کانپ کے رہ گئی تھی ۔۔۔
کیوں زندگی اسی سے تمام امتحان لینے پر تلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
کتنا خوش رہنے لگی تھی وہ مگر ایک دفعہ پھر طوفان نے اسکو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔۔۔
“عمر اگر تمہیں پتہ چل جائےکہ میں امید سے ہو تو شاید تم مجھے قبول نہ کرو ۔۔۔”
شادی تک تو بات ٹھیک تھی ۔”
میں سمجھتی ہوں اس میں تمہارا بھی قصور نہیں ہوگا مگر ۔۔۔۔۔۔!
کسی اور کی اولاد کو پالنا وہ بھی ناجائز ۔۔۔۔۔۔۔”
ہا۔ ۔۔۔۔۔۔اپنا نام دینا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔
ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گئی ۔۔۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد وہ سیدھا کمرے میں آ گئی تھی۔
اندھیرا گھپ کیے کمرے میں نجانے کب سے خود سے جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔۔
یاد کرنے سے بھی بھولے سے اس کے ذہن میں زندگی میں کبھی کسی کا دل دکھانے یا کسی کو تکلیف پہنچانے کا واقعہ نہیں آرہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر اس کی زندگی ہی میں کیوں اتنے امتحان آخر ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ تھک چکی تھی خود سے لڑتے لڑتے اور طوفانوں کا سامنا کرتے کرتے وہ زچ ہو چکی تھی ۔۔۔
کیا کیا خواب نہ سجا لیے تھے اس نے عمر کے ساتھ زندگی گزارنے کے مگر قسمت نے ایسا کھیل کھیلا اس کے ساتھ کہ وہ ایک دفعہ پھر سے ٹوٹ کہ بکھر کر رہ گئی ۔
خدارا اپنی بیٹیوں کی حفاظت کرو۔۔۔”
بیٹیاں پھول ہوتی ہیں۔ وہ ناسمجھ ہوتی ہیں مت بھیجو ان کو تنہا اکیلا باہر درندے گھات لگائے بیٹھے ہیں شکارکو۔”
نا سمجھی میں وہ نادانی کر بیٹھتی ہیں اور وہ نادانی ان کے لیے زندگی بھر کا ناسور بن جاتی ہے ۔ہوس پرست لوگ ان کے وجود کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں ۔”
نازک نوخیزکلی کو بے دردی سے اپنے ہاتھوں سے مسل کر رکھ دیتے ہیں ۔
صرف اور صرف زرا سی کوتاہی اتنا اور تھوڑی سی نادانی ہمارے لئے زندگی بھر کی تباہی لے آتی ہے۔۔” سیاہی کا طوفان ہمارے سروں میں خاک سی بھر دیتا ہے ۔
برا وقت اور برے لوگ کبھی بھی کسی بھی وقت آپ سے ٹکرا سکتے ہیں ۔
کبھی اپنوں کی صورت میں توکبھی غیروں کی صورت میں ۔نہیں تو کبھی نامعلوم چوغوں۔ ۔۔ !!
اپنی معصوم کلیوں کی خود حفاظت کرو بے جا آزادی دیکہ خود سر نہ بناؤ۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی ہم گناہوں کی سزا جھیلتے ہیں وہ گناہ جو ہم سے سرزد ہی نہیں ہوئے ہوتے کبھی ۔۔۔۔!!!
وہ سوچ رہی تھی آنکھوں سے مسلسل اشک رواں تھے صرف اس کی ایک کوتاہی نے اس کو اتنی بڑی سزا کامر تکب ٹھرایا تھا ۔
عمر لاکھ مہربان سہی مگر کوئی بھی اتنے بڑے ظرف کا نہیں ہوتا کہ کسی اور کی اولاد کو اپنا نام دے سکے۔ ۔۔
وہیکدم پلٹی تھی اور اپنی سائڈٹیبل کی دراز کھول کے دو ا کے ڈبےمیں کچھ تلاش کرنے لگی۔۔
بہت جلد اس کو اپنی مطلوبہ شے مل چکی تھی ۔۔۔۔
