Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 49
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 49
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
مان ننھی گل گوتھنی کو فجر کی طرف بڑھاکہ خود پائنتی پہ ٹک گیا۔
” تمہیں بہت بہت مبارک ہو”
” اللہ نے ہمیں بیٹی کی رحمت سے نوازا ہے بالکل تمہارے جیسی ہے یہ دیکھو اس کو ۔۔۔۔”
غم کے بادل چھٹ چکے تھے اللہ نے ان پر اپنی رحمت کا در وا کردیاتھا ۔
وہ خوشی سے چہک رہا تھا ۔
“اللہ آپ کو بھی مبارک کرے اور ہماری بیٹی کانصیب اللہ رب العزت بہت اچھا ہو ۔۔”
فجر نے مامتا سے چور لہجے میں کہا اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ بڑھا کہ ننی پری کو مان کے شفیق بازؤں میں سے اپنی گود میں لیا ۔۔۔۔
ننھی گڑیا کو اپنے چہرے کے قریب لے جا کہ فجر نے مامتا سے چور و جذبات سے حد درجہ نڈھال سی ہو کہ اپنی بیٹی کے چہرے پہ بوسہ دے ڈالا تھا جبکہ کچھ دیر پہلے وہ ارمغان کو سختی سے منع کر رہی تھی کہ ۔۔۔
“اس کے چہرے پہ پیار مت کرو “
مگر مان نے اس کی ایک نہ سنی اور چٹا چٹ اپنی گڑیا کے چہرے پہ شفقت بھری محبت کی ڈھیر ساری مہریں ثبت کر ڈالی تھی۔۔۔
فجر کے احساسات بہت ہی مختلف تھے اس کو ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی میں جتنے دکھ اس نے اٹھائے ہیں ۔ اس کی اولاد نے اس کے تمام دکھوں کا مداوا کر دیا ہو۔
ان دونوں کے چہروں پر اس وقت صرف اپنی اولاد کے دنیا میں آنے کی خوشی رقصاں تھی ۔
کوئی غم کوئی دکھ ڈھونڈنے سے بھی چہرے کے کسی بھی نقوش میں موجود نہ تھا ۔۔۔
“مان ہم اپنی بیٹی کا خیال بہت رکھیں گے۔ یہ ہماری گڑیا ہے میں اپنی بیٹی کے معاملے میں کسی سگے رشتے پر بھی اعتماد نہیں کر سکتی ۔”
“یہ کانچ کی گڑیا ہے ی میری “
ذرا سی خراش لگنے سے بھی ٹوٹ جائے گی پلیز مان مجھ سے وعدہ کریں کچھ بھی ہو جائے ہم اپنی بیٹی کے سائے کی طرح اس کے پاس ہمیشہ رہیں گے۔ اس کو کبھی بھی بھری دنیا میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔۔”
“بلکل فجر !!
تب ہی تو اللہ نے تمہیں زندگی دی ہے وہ یہی چاہتا ہے کہ تم اپنی بیٹی کی پرورش اپنے ہاتھوں سے کرو ورنہ تمہاری جو حالت تھی گزرے ہوئے وقت چار گھنٹے آپریشن تھیٹر میں تم زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔ تم نہیں جانتی کہ میں کس طرح پل پل مرا ہو اس پورے وقت میں “۔۔
وہ اس کے آنسووؤں کو اپنی انگلیوں کی پوروں پہ سمیٹتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا
“میں اپنے باپ کے کیے پر بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کردو ۔۔۔”
وہ نادم سہ فجر کے سامنے ہاتھ جوڑنے کو تھا جب یکدم فجر نے اپنے بائیں ہاتھ سے اس کے معافی کے لئے بڑے ہوئے ہاتھوں کو تھاما۔
“شرمندہ مت ہو اس سب میں تمہارا کیاقصور؟”
” مگرمان پلیز اس شخص کو اس کے انجام تک پہنچا دو”۔۔۔
” یہ میری التجا ہے اگر تم مجھے زندگی میں کبھی پرسکون دیکھنا چاہتے ہو تو اس ظالم شخص کو میری نظروں سے دور کر دو ۔۔۔۔”
“فجر تم جانتی ہو بابا کی ٹانگ میں گولی لگ گئی تھی ان کے وفادار گارڈ نے ہی ان کے پیر میں گولی ماری ہے اور وہ اس وقت اسی ہسپتال میں موجود ہیں مگر اب وہ پہلے کی طرح مکمل نہیں رہے ان کا ایک پیر ڈاکٹروں نے کاٹ دیا ہے کیونکہ بروقت ہسپتال نہ لانے کے باعث ڈاکٹر کچھ نہ کر سکے اور پاؤں کاٹنے کی نوبت آگئی ۔۔۔۔”
“جب اللہ تعالی نافرمانوں کی دراز رسی کو کھینچتا ہے تب بے شک اس کا قہر نازل ہوتا ہے “۔
“برائی کا خاتمہ ایک نا ایک دن ہو کے ہی رہتا ہے خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔۔۔”
“میرا کامل ایمان ہے اپنے خدا پہ اور مجھے پتا تھا کہ ایک نہ ایک دن ظالم کو اس کئےکی سزا ضرور ملےگی اس کا انجام دردناک ہوگا”
“باقی کی زندگی اب وہ تنہا گزارے گیں۔ ایک اپاہج بن کے ۔ماما نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ظالم شخص کو پولیس کے حوالے کردیا جائے ۔مگر ماما سزائے موت نہیں چاہتی بابا کو ۔”
مان کیوں سزائے موت کیوں نہیں؟۔۔
” وہ شخص اسی کے قابل ہے۔۔”
وہ ایک دفعہ پھر سے بھڑک اٹھی ۔۔
جانتی ہو کیوں۔۔۔؟؟؟
” کیونکہ میں اور ماما چاہتے ہیں کہ سزائے عمر ان کو ہو”۔۔۔۔
“تا کہ جب خود پہ گزرے تو تب پتہ چلے کہ دوسروں کے اوپر ڈھائے گئے مظالم کیا ہوتے ہیں ۔۔۔۔”
اچھا یہ بتاؤ کہ میری بیٹی کا نام کیا رکھو گی؟ ؟؟
وہ جیسے ماحول میں تاری سرد فزا کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے موضوع بدل گیا ۔۔۔۔
“جو آپ کو پسند ہو “
فجر کا دھیان ایک دفعہ پھر اپنی بیٹی پہ مبذول ہو چکا تھا ۔۔
“یہ تمہارا حق ہے صرف اور صرف تمہارا “۔۔
نہیں مان میں نے تو ہمیشہ دیکھا ہے کہ اولاد پر پہلا حق اس کے باپ اور پھر ددھیال والوں کا ہوتا ہے ۔
نہیں!!
” میرے نزدیک ایک ماں کا سب سے پہلا حق اس کی اولاد پہ ہے ۔۔”
“ماں جتنی تکلیف اٹھا کہ اس تکلیف دہ مرحلےسے گزرتی ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اسی لیے ماں کے پیروں تلے خدا نے جنت رکھی ہے ۔۔”
“یہ حق تمہارا ہے بلکہ ہر ماں کا ہے ۔۔”
فجر حیرت سے ارمغان کو دیکھا تھا جس کے شفاف خیالات اس کے باطن کے خوبصورت ہونے کی چھٹی کے گواھی دے رھے تھے ۔ دنیا میں دو طرح کے مرد ہوتے ہیں ایک حماد جیسے اور دوسرے اور مغان جیسے ۔۔۔۔
وہ سوچ کے رہ گئی ۔۔۔
فجر فوری ہی خدا کا شکر بھی بجا لائی کہ ۔۔
“اس نے اس کے نصیب میں نیک اور بہترین شریک حیات لکھا ۔”
یکایک اس کے دل سے تمام لڑکیوں کے لیے ایک دعا نکلی کہ ۔۔۔۔
“اللہ رب العزت !! کل کائنات کے مالک سب لڑکیوں کو محبت کرنے والا ،احساس کرنے والا ہمسفر عطا فرما “۔۔۔
” آمین “۔
بتاؤ کیا نام رکھنا چاہتی ہوں اس کا ؟؟
مان نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی وجہ کے جیسے خیالوں کی دنیا سے جگایا ۔۔
“کائنات “۔۔۔!!
یہ ہماری کل کائنات ہے اس کا نام کائنات کیسا رہے گا ؟؟؟؟
وہ اپنی بیٹی کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
“بہت پیارا بہت خوبصورت “
” میری بیٹی کی ماں نے رکھا ہے اسلئےاس سے بہترین نام کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا “۔۔۔۔۔
“ارے محترمہ آپ جلدی سے صحیح ہوجاؤ کچھ ہی دنوں میں سوہا کی شادی اور عمر کا ولیمہ ہے “
مان نے یاد آنے پہ اپنےسر پہ ہاتھ مارکے اس کو بتایا ۔۔۔۔
ہیں۔ ۔۔۔؟؟
کیا بواقعی؟ ؟
جی ہاں بلکل اب آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں تاکہ پھر زور و شور سے ہم اپنی بیٹی کے ساتھ ان دونوں کی شادی کو انجوائے کرسکیں اور خود بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ معنی خیزی سے کہتا آنکھوں میں شرارت لیے جملہ ادھورا چھوڑ دیا
آج مہندی کا فنکشن تھا سو ہا اور خزیمہ کی۔
عمر لائبہ کو بیڈروم میں لینے آیا تھا مگر لائبہ کو بخار میں تبتا دیکھ کہ یکدم ٹھٹک گیا۔
وہ نفیس سے گوٹے کے کام والی کاہی گرین کلر کی پشواس پہ مہرون رنگ کا بنارسی چوڑی دار پاجامہ اور اس پہ پیلا ،ہرےاور محرون کے امتزاج کا نفیس سے پھلکاری کہ کام ہوا دوپٹہ ساتھ میچنگ کھسہ پہنے غضب ڈھا رہی تھی ۔لمحے بھر کے لیے عمر اس کو دیکھ کر مبہوت سہ رہے گیا ۔
“بس میں تیار ہوں ۔۔۔”
لائبہ ڈریسنگ ٹیبل پر جھکی ہوئی تھی شیشے میں دیکھ کے میک اپ کے نام پہ لبوں پہ ہلکے گلابی رنگ کی لپ گلوس لگا رہی تھی۔
عمر کا گھمبیر مگر اسکی طبعیت کے لئے حددرجہ فکرمندانہ لہجے کو محسوس کرکہ وہ قدرے بوکھلائی اور پھر عمر کا اس کے سجے سنورے سراپہ پر پہلی نظر ڈال کہ یکدم ٹھٹک کر تھم جانا لائبہ کو حیاء سے پلکوں کی جھالر گرانے پہ مجبور کر گیا ۔۔۔
دلہن کی طرح سر پہ پھلکاری کا دوپٹہ اوڑھے وہ جیسے ہوروں کا سہ حسن چورائے ہوئے تھی۔
وہ عمر کو اس طرح محبت لٹآتی نظروں سے خود کو دیکھتا پاکہ اپنی نازک مخروطی انگلیوں کو مروڑ نے لگی عمر کی موجودگی اس کو بے طرح بوکھلائی دے رہی تھی کیونکہ وہ اتنا کبھی بھی تیار ہو کہ عمر کے سامنے نہیں آئی تھی آج تک اور پھر دوسرا یہ کہ عمر کی اس کو لے کر حد درجہ احساس فکرمندی والی عادت۔ ۔۔۔۔!!
وہ عمر کو دیکھ کہ اس قدر بوکھلائی کہ آئی لائنر کے لیے بڑا ہوا ہاتھ بے دھیانی اور گڑبڑاہٹ میں دوبارہ سے لب گلوس کو اٹھا گیا۔ ۔۔
لائبہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر عمر ابھی ذرا سی بھی اس کے وجود میں بخار کی وجہ سے ہونے والی حرارت کو محسوس کر لے گا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کہ اس کی تیمار داری میں لگ جانا پسند کرتا۔ ابھی وہ اپنی غیر ہوتی کیفیات کو ٹھیک طرح سے اپنے اختیار میں کر سنبھال بھی نہ سکی تھی کہ دوسرا جھٹکا اس کو تب لگا جب عمر اس کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ڈریسنگ ٹیبل کے طرف بڑھا تھا۔
پچھلے کئی دنوں سے وہ لائیبہ سے بالکل بھی بات نہیں کر رہا تھا سوائے ضروری بات کہ!!
جیسے دوائیں اور طبیعت کے متعلق دریافت کرنا اس کے علاوہ کوئی فالتو بات وہ لائبہ سے کرنے سے مکمل طور پر گریزاں تھا ۔
جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ لائبہ کو سزا دے رہا تھا اس کے کیے کی۔۔۔۔
ناراضگی جتارہا تھا اس سے شدید ۔۔!!
کئی دفعہ وہ اس کو منانے کی کوشش کر چکی تھی مگر جب وہ کوشش کرتی یا تو عمر کروٹ بدل کہ سوج جاتا دوسری طرف یا پھر کمرے سے واک آوٹ کر جاتا ۔۔۔
وہ اس کو موقع ہی نہیں دے رہا تھا ایکسکیوز کرنے کا ۔ عمر کی بے رخی اور ناراضگی سہہ سہہ کہ وہ جیسے تھک چکی تھی ۔
کئی دنوں سے عمر کا رواں رکھا روکھا پھیکا سہ رویہ اس کو بے انتہا تکلیف دے رہا تھا پھر بھی وہ ہر طرح اس کو منانے کی کوششیں کر چکی تھی مگر عمر کسی طور بھی اس سے وابستہ ناراضگی ختم کرنےکے لئے تیار نہ تھا ۔
اتنے دن کی ٹینشن کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اب صبح سے بخار میں پھک رہی تھی مگر شادی کے ہنگاموں کی وجہ سے عمر آج پورے دن میں صرف 1سے 2 دفعہ ہی بیڈروم کا چکر لگا سکا تھا۔
جن اوقات میں وہ عمر کی متوقع آمد کو محسوس کرتی اس پل خود کو سوتا ظاہر کرکہ اس سے ہم کلام ہونے سے گریز کرتی رہی ۔نہیں چاہتی تھی کہ مزید عمر اس کی کسی بات پہ اس سے ناراض ہو جائے اور پھر کل ان کا ولیمہ بھی ہونا تھا ۔رہ رہ کے اس کو رونا آ رہا تھا کتنا کچھ نہیں سوچا تھا اس نے آج کے دن کے لیے اور کل ولیمے والے دن کے لیے مگر اس کی خوشیوں کو نجانے خوشیاں ملنے سے پہلے ہی کیوں نظر کھا جاتی ۔۔۔۔
کیا ہوا کمفرٹیبل فیل نہیں کر رہی ہو ۔۔۔؟؟؟
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے ۔۔۔
نن۔۔نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔”
“دکھ رہا ہے کتنی ٹھیک ہو ۔۔۔”
عمر بالکل اس کے مقابل آن کھڑا ہوا اور اس کے چہرے کواپنی نظروں کے حصار میں قید کرتا ٹھہر ٹھہر کر گھمبیر لہجے میں گویا ہوا ۔۔
جانتی ہو لائبہ !!
“ہم جن سے محبّت کرتے ہیں ان کی کوئی چھوٹی سی بات اور بے اعتباری دل توڑ بھی دیتی ہے اور زرا سی محبت و احساس ریزہ ریزہ ہوا دل جوڑبھی دیتی ہے “
میں کیسی لگ رہی ہو ۔۔؟
میری آنکھوں میں اگر تم ایک دفعہ دیکھ لو تو پھر یہ شاید سوال تم آئندہ نہ کرو ۔۔۔۔۔”
“میں سمجھی نہیں کیا میں اچھی نہیں لگ رہی ؟؟”
وہ ہراساں ہوئی
عمر نے اس کو شانوں سے تھام کہ اس کا رخ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف موڑا۔
لائبہ نے بے اختیار سفید کرتا شلوار زیب تن کئے عمر کو دیکھا ۔ہلکی بڑی ہوئی شیو، سنہرا گندمی رنگ اس پر تضاد اونچا لمبے ڈیلڈول کا حامل وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا ۔بلا شبہ وہ ایک ڈیشنگ مرد تھا۔ ۔
ہو گیا میرا سر سے پیر تک معائنہ ۔۔۔؟
شرارتی لہجے میں کہتا وہ اس کے شانے پہ اپنی تھوڑی رکھ کہ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں جھلملاتے اپنے اور اس کے عکس کو محبت پاش نظروں سے دیکھنے میں مصروف ھوا۔
اس وقت کہیں سے بھی ڈھونڈے سے بھی لائبہ کو عمر کے چہرے پہ پچھلے دنوں والی ناراضگی کا ہلکا سہ عنصر تک نظر نہ آیا ۔
“جج۔ ۔جی نن۔ ۔نہیں۔ ۔میں تو آپ کا کرتا شلوار دیکھ رہی تھی بہت اچھا ہے ۔۔۔”
لائبہ بری طرح گڑبڑائی ۔پہلے ہی عمر کی بولتی نظریں اس کو حد درجہ پزل کر رہی تھی اس پر تضاد اس کا مدھم آنچ دیتا لہجہ!!
۔لائبہ سے حیاء کے مرےاپنی پلکیں اٹھانا دوبھرہوگیا۔
عمر کے سامنےاتنے سجے سنورے انداز میں موجود رہنا اس کودنیا کا سب سے مشکل ترین کام محسوس ہو رہا تھا ۔۔
