Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 7
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 7
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
کیا کر رہا ہوں کیا مطلب ؟؟؟؟
یار نکاح کے بعد اپنی ایک اکلوتی بیوی سے رومانس فرما رہا ہوں ۔۔۔۔۔
اتنا تو کرہی سکتا ہوں نہ؟؟؟
داودکا لہجہ شرارتی ہوا۔۔۔۔۔
امی کو بتاؤں گی میں کہ آپ نے میرے ساتھ رات میں بہت برا کیا ۔۔۔۔۔۔
وہ کہہ تو گئی مگر پھر خود ہی زبان کو بریک لگانے پڑے۔ ۔۔۔۔
وہ ا سے آنکھوں میں بھرتے ہوئے !!!
اپنے کرتے کی جیب میں سے کچھ ٹٹولتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیا فرما رہی تھی تم ابھی؟؟؟
کہ رات کو میں نے تمہارےساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے کہہ دو خالہ سے اور جب خالہ مجھ سے پوچھیں گی تو میں ان کو بڑے فخر سے بتاؤں گا ۔۔۔۔۔
کہ میں نے زیادہ کچھ نہیں بس اپنی محبت کا اقرار ہلکی پھلکی جسا رتوں کے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔۔
ویسے راز کی بات بتاؤں ایک؟ ؟؟
میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم خالہ کو بتاؤ !!تاکہ خالہ کل ہی تمہیں رخصت کروا کے میرے کمرے میں سیج سجانے کے لئے میری دلہن بنا کر بھیج دیں .۔
داود بھی عائشہ کو ستانے کے لیے گویا ماسٹرز کی ڈگری لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔
عائشہ اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔۔
اس کو کچھ کچھ اندازہ ہو چکا تھا کہ سب کچھ داود اس کو تنگ کرنے کیلئے کہہ اور کررہا ہے ۔۔۔
اب آپ دیکھنا کہ میں آپ کو کس طرح ناکوں چنے چبھ واتی ہوں ۔۔۔۔
عائشہ نے خونخوار لہجے میں اس کو دھمکایا ۔۔۔
منظور ہے ۔۔۔۔۔۔
مگر میرا بھی ایک چیلنج ہے۔۔
کہ مجھ سے زیادہ رومنٹک انداز میں !!مجھے اپنے لبوں سے چنے چبوانا ہونگے؟ ؟؟؟
بولو منظور ہے ؟؟؟
وہ شرارت سے بولا اور ساتھ ہی ایک مخملی کیس کھول کر اس میں سے سونے کا ایک نازک سہ پینڈنٹ نکال کر بہت مان سے عائشہ کی صراحی دار گردن میں پہنایا ۔۔۔
عائشہ دنگ سی رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
یہ۔۔۔۔؟؟
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔۔۔
ہاں یہ۔۔۔۔۔!!!
اس کو پہنانے کے لیے ہی میں نے تمہیں یہاں بلایا تھا ۔۔۔۔۔
یہ میری طرف سے نکاح کا ادنیٰ سہ تحفہ ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی گردن کی پشت پہ بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز داود ایسا نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔
داود نے اس کو اپنے بازئووں میں بھر کر احتیاط سے اس کے کمرے (جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھی) میں چھوڑنے کے لئے بڑھ گیا ۔۔۔۔
بیڈ پہ اس کو احتیاط سے بٹھا کر اس نے عائشہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کرلئے اور نظر بھر کر اس کو دیکھنے کے بعد بولا۔۔۔۔۔۔
مانا کہ اب تم میری ہو مگر ۔۔!!
جب تک تم خود مجھے اپنا آپ نہیں سونپوں گی!! میں تم سے کبھی بھی اپنا حق زبردستی نہیں وصول کروں گا ۔۔۔۔۔۔
چاہے میری عمر ہی کیوں نہ بیت جائے ۔۔۔۔
میں زبردستی کا قائل ہرگز نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔!!!
کیونکہ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارا تن اور من صرف اور صرف میرے ہی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ کہہ کےکمرے سے جا بھی چکا تھا جبکہ عائشہ ابھی تک اس کے گھمبیر لہجے میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔
تم میرا منہ بند نہیں کرواسکتے ۔۔۔۔۔
شفا بے بسی سے چیخیں تھی!! اس کو لگ رہا تھا جیسے سارا منظر دھندلا گیا ہوں۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں گی؟؟؟
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس اور تمھاری بات پر یقین ہی کون کرے گا ؟؟؟
شفا رحمان ۔۔۔۔۔!!!
حمزہ نے اس کو کمرے میں لاکر زور سے بیڈ پہ دھکیلا تھا اور دروازہ مرکز لاک کر کے واپس پلٹا ۔۔۔۔
میرے باپ کے ٹکڑوں پہ پلنے والے ہو تم اور میرے باپ کو ہی تباہ برباد کرنے کی پلاننگ کر رہے ہو ۔۔۔؟؟؟؟
شفاء آگ بگولا ہوئی تھی اس کی طرف کسی جنگلی بلی کی طرح لپکی تھی ۔۔۔
شفاء میں کہتا ہوں اپنی حد میں رہو!!!
ورنہ دیر نہیں لگے گی مجھے تمہارا غرور اور طنطنہ چکنا چور کرنے میں ۔۔۔
شفا نے اس کا گریبان دبوچا ہوا تھا ۔۔
جس کی وجہ سے اس کی شرٹ کے اوپری دو بٹن ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔۔۔
تم میرے ذریعے میرے باپ کو برباد کرو گے ؟؟؟؟
وہ اس سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے بولی ۔۔۔
چلو ویسے یہ اچھا ہی ہوا میرے حق میں ۔۔۔
کہ تم سب کچھ جان گئی ہو خود ہی! !! ورنہ میرے ارادے بہت خطرناک تھے ۔۔۔۔
جو شاید تمہاری سوچ سے باہر ہو۔.
تم جیسا مرد اور کر بھی کیا سکتا ہے ؟؟؟
مجھے نفرت ہو رہی ہے تم سے ۔۔۔۔
بے انتہا نفرت ۔۔۔!!!
تم دیکھو ابھی میں کیا کچھ نہیں کرتی!؟؟
یہ جو تم بہت ا کڑتے پھر رہے ہو نہ؟؟؟
تمہارا یہ نام نہاد غرور اور دبدبہ میں اسی وقت ریت کر دوں گی۔۔۔۔ !!
شفا باہر جانے کے لئے مڑی۔۔۔
ہا ں میری طرف سے خوشی سے کرو مجھے سب کے سامنے بے نقاب !! مگر یاد رکھنا شفا رحمان ۔۔!!
جیسے ہی یہ دروازہ کھلے گا ویسے ہی تمہارے دامن کو سیاہی کے چھینٹے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ میں سب کو وہ کچھ بتاؤں گاجو تم سوچنا بھی دور کی بات!! تصور بھی نہیں کر سکتی ہو۔۔۔۔۔
اس کے بعد تم گھر والوں تو کیا !!کسی کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔ ۔۔۔۔۔
تم اس قدر گھٹیا ہو سکتے ہو؟؟؟
یہ میرے وہم و گمان میں نہ تھا ۔۔۔۔۔!!!
وہ ہر ادب و لحاظ بھول چکی تھی ۔۔
یاد تھا تو اتنا کہ وہ شخص اس کا بھائی نہیں اور اس کے ذریعے اس کے باپ کو کسی بہت ہی عظیم نقصان سے دوچار کرنے والا ہے ۔۔۔۔
جلدہی۔۔۔ !!!
ٹھیک ہے تم میری ذات سے ہی میرے باپ کو تڑپاؤ گے نہ؟؟؟؟
وہ ہذیانی انداز میں کہتی ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر دھاڑ سے دیوار سے مارکیٹ چکنا چور کر چکی تھی۔۔۔۔
حمزہ چہرے پہ اطمینان لیے اس کی کاروائی ملاحظہ فرما رہا تھا ۔۔
جب میں ہی نہیں رہوں گی تو پھر تم اور تمہارا انتقام گیا تیل لینے۔ ۔۔۔۔۔
اس کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا۔۔۔
کہتے کے ساتھ ہی شفا نے زمین سے ایک کانچ کا ٹکڑا اٹھایا اور اپنی شہہ رگ پہ رکھ دیا ۔۔۔۔
خودکشی کرنی ہے شوق سے کرنا مگر۔۔۔
اس سے پہلے ذرا ایک بار۔۔۔
” میری ہو جاؤ” ۔۔۔
“ایک دفعہ میرے اختیار میں آجاؤ ۔۔۔”
اس کے بعد تم ہر پل جیوگی اور پل پل مرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!سفاکی سے کہا گیا۔ ۔۔
وہ اس کے ہاتھوں سے کانچ لینے کی کوشش کر رہا تھا مگر شفا میں تو گویا بجلی سی بھر گئی تھی وہ اپنے آپے میں ہی کہآں رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ یکدم تڑپ اٹھی تھی کانچ کی چھینا جھپٹی میں اس کا ہاتھ کچھ زخمی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
ٹھٹھک۔۔۔۔ ٹھٹھک۔۔۔ ٹھٹھک ۔۔ٹھٹھک ۔۔۔!!
دروازہ کھولو ۔۔۔
باہر سے اب بری طرح دروازہ بجا یاجا رہا تھا ۔۔۔۔۔
شفا یہ کیا بچپنا ہے؟؟؟
تم کم از کم اپنے اور میرے رشتے کا ہی خیال کر لو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی شرٹ بیدردی سے پھاڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔ ۔ ۔ ۔
اس کے علاوہ اس کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی کیونکہ شفا کے ناخنوں کے نشان جا بجا اس کے بازوؤں اور سینے پر موجود تھے ۔۔۔ ۔
وہ بے یقینی سے اس کی تمام تر کارروائی دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیت مفقود ہو کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔
بے فکر رہو آج اس کانچ سے تمہارا ہاتھ زخمی ہوا ھے بس ۔۔
تھوڑا انتظار کرو اس کانچ سے تمہاری شہہ رگ زخمی میں خود کروں گا ۔۔۔
سویٹ ہارٹ تمہارا ہرایک شوق اب میں ہی پورا کرونگا ۔۔۔۔۔
باہر اب بہت بری طرح دروازہ پیٹا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔
چھوڑو شفا مجھے ۔۔۔۔!!
اپنی اور میری عزت کا خیال نہیں ہے تو کم از کم اپنے باپ کی عزت کا ہی خیال کر لو۔۔۔۔۔
وہ شفا کو خود سے نزدیک کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
شفا بس پھٹی پھٹی آنکھوں سےکبھی دروازے کو تو کبھی حمزہ کی عجیب وغریب حرکتوں وگفتگو کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
“تمہیں تمہاری پہلی ہار مبارک ہو بے” ۔۔۔۔۔
بےفکر رہو ایسے بہت سے تحفے ابھی میں تمہیں وقتً فوقتً دیتا رہوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی ڈریسنگ سے لپ اسٹک اٹھا کر اس کے لبوں پر بیدردی سے لگا کر واپس بند کر کے ترتیب سے رکھ چکا تھا۔ ۔۔۔
اور بغیر شفا کو سمجھنے کا موقع دیئے اپنے انگوٹھے سے اس کی لپسٹک لبوں سے پھیلائی ۔۔۔
وہ شفا کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اپنے انگوٹھے پر موجود لپسٹک اس نے بڑی مہارت سے شاطرانہ انداز میں اپنے ہی لبوں پر مسل ڈالی تھی ۔۔۔۔۔
جیسےشفا نے اس کے ساتھ یہ سب کچھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہو ۔۔۔۔
عمر دروازہ توڑ کےکمرے میں داخل ہوا تو اس کے پیچھے کئی اور چہرے بھی نمودار ہوئے تھے۔ ۔۔۔
کیا ہوا ہے ائمہ تم اس طرح کیوں رورہی ہو ؟؟؟؟
سعیدا بیٹی کی اجڑی حالت دیکھ کر چکرا گئی تھیں ۔۔۔
جب کہ ننھی منی روئی کے گولے جیسے وجود کو عائشہ نے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا ۔۔۔۔
سب کچھ ختم ہو گیا امی۔ ۔۔۔
آپ کی بیٹی بر باد ہو کر آپ کی دہلیز پہ ایک دفعہ پھر آ پہنچی ہے ۔۔
کیا اول فول بک رہی ہو؟؟؟
ٹھیک سے بتاؤ کیا ہوا ایسا ؟؟؟
سعیدہ نے اس کے نڈھال وجود کو کانپتے ہوئے صوفے پر بیٹھا یا تھا ۔۔
وہ ان ماؤں میں سے تھی جو اپنی بیٹیوں کی ڈھال بن جایا کرتی ہے۔۔۔
ہر دکھ سکھ میں انکو سہارا دینے کے لئے تیار رہتی ہے ۔۔
اس کو پانی پلاتے ہوئے بہت مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے بولی تھیں۔ ۔۔۔
عائشہ تم اندر جاؤ بچے کو لے کر۔۔۔۔
سیدہ نے اپنے سرخ و سفید نو اسے پہ ایک افسردہ نظر ڈال کر عائشہ سے کہا ۔۔۔
جی امی۔۔۔۔
عائشہ چپ چاپ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔
اب بتاؤ مجھے سب کچھ ٹھیک ٹھیک اور اپنی ماں سے کچھ چھپانا میری بچی۔۔
آئمہ تڑپ کر ماں سے لپٹ گئی تھی اور پھر اپنے ساتھ گزری تمام تر داستان اپنی ہمدرد ماں کو کہہ سنائی۔۔۔۔۔
سعید جیسے پتھرا سی گئی اپنی نازوں پلی بچی پہ اتنے بڑے بڑے مظالم کی داستان سن کر اس کا دل پھٹ سا گیا تھا ۔۔۔
غزل بیگم صاحبزادے کہاں ہیں ہمارے؟ ؟؟؟
حمادنے جاگنگ سے آکر غزل سے فریش جوس کا گلاس لیتے ہوئے استفسار کیا ۔۔۔۔۔۔
آج حویلی سے آپی کی طرف جائے گا شام تک۔۔۔۔۔
حماد صاحب کا ہاتھ لمحے بھر کو رکا تھا۔۔۔
حویلی کیا کرنے گیا ہے ؟؟؟
اس کو کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ وہاں مت جایا کرے وہ ایک آسیب زدہ حویلی ہے ۔۔۔۔
وہ بیٹے کے لئے پریشان تھے ۔۔۔۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں نے اس کو خوشی سے بھیجا ہوگا حویلی؟؟؟؟
غزل خفگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
میں یہ نہیں کہہ رہا مگر تم اس کو سمجھا بھی تو سکتی ہو نا۔
گڑھیا کے معاملے میں بالکل بے بس ہو اسکی میں۔۔۔۔
غزل کی آنکھوں میں کی ہنستی بستی کئ یادوں کے سائے لہرائے تھے ۔۔۔
حماد نے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی دیکھیں ۔۔۔۔
