Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 35

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 35

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

تمہیں بتانا تو نہیں چاہیے تھا مگر یہ میرے باپ کی خواہش ہے کہ وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔

شفا کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔وہ حددرجہ رکھائی سے کہہ رہے تھی۔ ۔

تم مجھے سچ سچ بتاؤ بابا کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔؟؟؟

وہ ٹھیک تو ہے ؟؟؟

حمزہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کے پریشانی سے پوچھ رہا تھا ۔۔

بہت فکر ہو رہی ہے تمہی میرے بابا کی ۔۔۔۔۔۔؟

یہ مت بھولو کہ میرے بابا کو ان حالوں تک پہنچانے والے تم ہی ہو ۔۔۔۔۔!

خیر بابا ائی سی یو سے روم میں شفٹ ہو چکے ہیں اور تم سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔”

میں آ رہا ہوں۔۔۔۔ !!

ویسے تمہیں آنا تو نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔”

او میں بھی کتنی بے وقوف ہو تمہارے پاس تو یہ گولڈن چاند ہوگا انکو مزید ازیت پہچانے کا۔ ۔۔۔۔!!

میں اتنا گرا ہوا نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔”

تمہارے منہ سے یہ بات ذرا جچ نہیں رہی ہے ۔۔۔۔!!

تم کتنے گرے ہوئے ہو مجھ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

چلو شفا جلدی چلو یار انکل آنٹی ویٹ کر رہے ہوں گے تمہارا ۔

ہاں بس ایک منٹ آئی ۔۔۔۔۔”

بس آپ گاڑی سٹارٹ کریں میں آتی ہوں۔۔۔۔۔!!

عاشیر کیوں آیا ہے۔۔۔۔؟؟

اس وقت وہ بھی جب گھر میں تم تنہا ہو ۔۔۔۔!!

وہ کیوں آئے ہیں کیوں نہیں ۔۔۔۔

دس از نن آف یور بزنس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

وہ موبائل کو وہیں صوفہ پہ پٹخ کے جاچکی تھی۔۔۔۔۔۔یہ دیکھے بغیر کہ فون بند ہوا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔

جبکہ کوئی بری طرح سے آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا ۔۔۔۔۔۔!!!!

وہ نادانستگی میں ہیں حمزہ کو دہکتے کوئلوں پہ چلا گئی تھی ۔۔۔

یہ لو یہ میرے ہاتھ کی کافی ہے ۔

بقول تمہارے میں مر چیں چباتا ہوں۔

مگر یہ میرا وعدہ ہے کہ اس میں میں نے شکر کا استعمال وافر مقدار میں کیا ہے بے فکر ہو کے پی سکتی ہوں ۔

وہ گہری ہوتی شام کے وقت لان میں رکھی بیت کی کرسیوں پہ آکر بیٹھ گئی تھی جبکہ کچھ دیر بعد مصطفی بھی اس کے سر پر آن پہنچا تھا اور بیت کی کرسیوں میں سے ایک رسی گھسیٹ کر اس سے کچھ فاصلہ رکھ کے بیٹھ چکا تھا ۔

ہمیں کچھ دیر میں نکلنا ہے کیپٹن سے بات ہوگئی ہے۔ میری یہاں سے کچھ فاصلے پہ کچھ ہی دیر میں وہ ایک ہیلی کاپٹر اتروا دیں گے ۔۔

جس میں ۔۔۔

میں تمہیں بٹھا کہ بادلوں سے لڑتا ہوا صحیح سلامت تمہاری اماں جان کے حوالے کردوں گا ۔

شکریہ ۔۔۔۔۔۔!!

وہ کافی کام مگ ہاتھ میں لے کر اتنا ہی بولی تھی ۔

مصطفیٰ نے ایک خاموش نظر اس کے صبیح چہرے پر ڈالی تھی۔۔

ڈوبتے سورج کی کرنیں اس کے چہرے کو مزید روشن اور ستوان ناک کے نقوش کو جگمگ کر رہی تھیؑ ۔

کمسنی و معصومیت ،نازک سراپہ اور میک اپ سے مبرا دلکش چہرہ لیے وہ اداس سی لڑکی اس کو ڈھلتی ہوئی شام کا ہی حصہ لگ رہی تھی ۔

میں تمہارے ظاہری روپ سے محبت نہیں کرتا بلکہ تمہارا بے دھڑک اور بے لچک انداز میرے دل میں گھر کر گیا ہے ۔۔

محبت اپنی جگہ مگر میرا دل تمہیں بہت بلند مقام پہ فائز کربیٹھا ہے ۔

تم دوسری لڑکیوں سے بہت مختلف ہو۔

خود کو پلیٹ میں سجاکر پیش نہیں کیا تم نے ۔اس کے باوجود بھی کہ تم یہ بات جانتی تھی کہ تمہارے لئے پرپوزل امی ڈال چکی ہیں ممانی جان سے بات بھی کر لی ہے ۔

بس اب جواب کی منتظر ہیں امی ممانی جان کہ۔ ۔۔۔

تمہاری یہی ادا میرے دل و دماغ کو بھاگئی۔ چپکے چپکے دل تمہارا انتخاب جھٹ سے کر بیٹھا تھا ۔

وہ اس کی لرزتی اٹھتی گرتی پلکوں کو نظروں میں قید کرتا اپنا حال دل بیان کر رہا تھا ۔۔

خود کو چاہے جانا کسی کو چاہے جانے سے بہت بہتر ہے ۔

سوہا کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے تھے جو مصطفی نے اپنی پوروں میں جذب کیے تھے ۔

تمہیں برا تو نہیں لگا میرا تم سے اقرار محبت کرنا؟؟؟؟؟

وہ خاموش تھی کیا کہتی ۔۔۔۔

کچھ تھا ہی نہیں کہنے کو۔ ۔

بے خیالی میں کھوئے کھوئے سے انداز میں نفی میں سر ہلا گئی ۔

پھر یہ بے موسم برسات کیوں ۔؟؟؟

اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا اپنے محبوب کے خاموش اقرار پہ ۔

محبت کا جواب محبت سے ہی ملنا نصیب کی بات ہے ورنہ ہر کسی کو نہیں ملتی اس کے محبوب کی چاہت اور اس کا ساتھ ۔۔۔

اس وقت وہ بھول بیٹھا تھا کہ جو ہمیں بہت آسان اور معمولی کام لگ رہا ہوتا ہے وہ اکثر ہمارے لیے بہت بڑا امتحان بن کے سامنے آتا ہے ۔۔۔

اے ۔۔۔۔۔۔بیوقوف جب مجھے اپنا مان ہی چکی ہو تو پھر یہ آنسو کیوں۔۔۔ ؟؟؟

مجھے آپ سے دور نہیں جانا ۔۔ ۔۔۔!

رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی چھوٹی سی ناک کو سڑ سڑ کرتی بولی تھی ۔

تو میں نے کب کہا ہے کہ میں تمہیں دور کر رہا ہوں خود سے۔۔۔۔؟؟

وہ۔ دلچسپی سے اس لمحے سوہا کے چہرے پر بکھرے قوس وقزح کے رنگوں کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔

بہت دلچسپی سے وہ اس کے دل موہ لینے والے تاثرات کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔

پتا نہیں مجھے کچھ بھی نہیں پتہ بس مجھے آپ سے دور نہیں ہونا۔۔۔۔۔

وہ بچوں کی طرح بہت ضدی لہجے میں کہہ رہی تھی ۔

نجانے کیسی انسیت سی ہو گئ تھی اسکو۔

کیا تھا کوئی بندش نہ ہوتے ہوئے بھی سوہا کے دل میں کئی وہمات نے گھر کرلیا تھا ۔وسوسوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔

میں تم سے دور نہیں ہو سکتا اور نہ ہی تمہیں خود سے کبھی الگ ہونے دے سکتا ہوں۔۔۔۔

تم میری سانسوں میں بستی ہو میری روح کی مکین بن چکی ہے ۔

وہ اس کے گداز ہاتھ اپنے پر حدت ہاتھوں میں تھام چکا تھا اور دوسرے ہاتھ سے سوہا کے ہاتھ کی پشت کو نرمی سے سہلا رہا تھا ۔

اور پھر جب گھر جاؤگی تو ہی تو میرے ساتھ دلہن بن کے رخصت ہو کر میرے اور اپنے ماں باپ کی دعاؤں کے سائے تلے اپنے پیاء کےگھر سدھا روگی۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر جو صرف اور صرف ہم دونوں کا ہوگا۔۔۔

جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں رقص کریں گی۔۔۔

مجھے لگتا ہے اگر ابھی میں نے قاضی صاحب کا انتظام نہ کیا تو میری چھوٹی سی محبوبہ کہیں اندر ہی اندر گھل کہ ڈھانچہ تو دور کی بات نظر بھی نہیں آئے گی ۔

وہ شرارت سے کہتا ہوا اس کی چھوٹی سی ستواں ناک پہ چٹکی بھرتا اس کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔

ولیمہ کی تقریب کا بہت شاندار انداز میں اہتمام کیا گیا ۔ پورے گاؤں کو کسی دلہن کی طرح سجایا تھا حویلی کی تو جیسے شان ہی نرالی تھی پوری حویلی لائٹوں اور گیندے کے پھولوں سے جگمگ کر رہی تھی ۔

حماد صاحب ادھر سے ادھر اپنی نگرانی میں ہر ایک انتظام ملازموں سے کروانے میں مصروف تھے خوشی ان کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی ۔

آج حویلی میں آیا کوئی بھی فرد خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے ۔۔۔زرینہ جاؤ اماں جان سے پوچھو کہ چاندی کے تھال اور ان میں ہر ایک فرد کے لئے رکھے گئے تحائف پورے ہیں ۔۔کسی چیز کی کمی تو باقی نہیں رہی ہے ؟؟

اگر وہ اماں جان نے ترتیب سے رکھوا دیے ہیں تو ان سے لے کر آپ اپنی نگرانی میں رکھلواور یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک مہمان خوش ہو کر جانا چاہیے ۔

وہ اپنی پرانی اور نمک خوار ملازمہ کو ہدایت دینے لگے ۔

جی صاحب جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا کسی بھی مہمان کی مہمان نوازی میں کمی نہیں آئے گی ۔۔

بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے آخر کو آج ہمارے لختےجگر کا ولیمہ ہے کوئی عام بات تھوڑی ہے۔۔

غزل اپنی بہو کے لیے ریسیپشن پر پہننے والا لباس اور جیولری وغیرہ بڑے بڑے تھالوں میں رکھے اس کے کمرے کی طرف لے جاتے ہوئے خوشی سے چور لہجے میں گویا ہوئیں ۔

اب یہ کیا ہے ابھی تک ہماری بہو کو آپ نےتیار نہیں کروایا پتا بھی ہے کچھ ہی دیر میں سب مہمان آنے شروع ہو جائیں گے ۔۔

وہ غزل کو سجا سنورا دیکھ کہ چاہ کر بھی اپنے لہجے میں سختی پیدا نہ کر سکے تھے۔۔

غزل ان کی من چاہی بیوی تھیں اور ان کو دل و جان سے عزیز ترین تھی ۔

حماد صاحب جب بھی کبھی شدید اشتعال میں ہوتے تو غزل جیسے اپنے لبوں پہ قفل چڑھالیا کرتی تھی اور جب ہماد صاحب کا غصہ ٹھنڈا ہوتا تب وہ ان کو منانے کے لئے خوب معذرت کیا کرتے ۔

اور وہ مان جاتی ۔

پھر عورت تو ہے ہی سدا سے محبت کی بھوکی ۔۔

ولیمے کی تقریب بہت اچھے طریقے سے اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی اور فجر کو غزل نے اس کے بیڈ روم تک پہنچایا تھا ۔

ڈھیرساری دعائیں دیتے ہوئے اس کی پیشانی چوم ڈالی تھی ۔۔اتنی محبت پہ فجر کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔

وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔

کمرے کو دیکھ کہ اس کی آنکھ میں ستائش ابھری تھی ۔

پورا کمرہ بہت خوبصورتی سے آرٹسٹک انداز میں ڈیکوریٹڈ تھا ۔۔۔

یہ وہ کمرہ نہ تھا جس میں وہ پچھلے پندرہ دنوں سے رہ رہی تھی یہ کمرہ خاص کر اب سے نئے دلہن دولہا کے لیے کھولا گیا تھا ۔۔۔

بہت ہی عالی شان بیڈروم تھا۔اس کی جدید طرز بے آرائش و پیمائش نے کمرے کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیئے تھے ۔

فجر کو لگا تھا جیسے وہ کوئی کمرہ نہ ہو بلکہ چھوٹا سا محلہ ہو ۔

چند لمحوں کے لئے تو وہ بیڈ روم کی فضا میں سرایت کرتی مسحورکن خوشبو میں کھو سی گئی تھی۔۔

اسکو خوشبو اور پھولوں سے بہت محبت تھی وہ دیوانی تھی پھول اور خوشبو کی ۔۔۔۔

کیا ہوا کیا میرے بغیر دل نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔۔؟

بہت قریب سے سرگوشی ہوئی وہ چونکی تھی ایک طلسم تھا جو ارمغان کی آواز نے توڑا تھا یا پھر اس کا پھولوں اور خوشبوؤں سے ہوا رابطہ یکایک منقطع ہو گیا تھا ۔۔

آنکھوں کی چمک یکایک ماند پڑھی تھی۔۔۔۔۔

جی نہیں دل نے کہا ہے کہ آج آپ کو یاد کیا جائے۔۔۔!

وہ ایک ادا سے کہتی اس کی طرف گھوم گئی تھی اور اپنےحنا آلود چوڑیوں سے سجےہاتھ اس کی گردن میں حمائل کر گئی۔ ۔

اوہو آج تو لگتا ہے کہ سورج غلط سمت سے نکلا ہے خیریت تو ہے؟؟؟؟؟

آج تو بہت رومنٹک ٹون میں میری زوجہ محترمہ مجھ نہ چیز سے مخاطب ہیں ۔۔؟؟؟

تو کیا تمہارے لان میں مٹرگشت کر تے صوفی صاحب کے ساتھ رومانس جھاڑوں ۔۔۔؟؟

اوف۔۔۔۔۔ اب تمہارے اور میرے بیچ یہ صوفی صاحب کون اور کہاں سے آن ٹپکے؟ ؟؟؟

ارے تم صوفی صاحب کو نہیں جانتے؟؟

حویلی میں بسنے والے سب سے پرانے جنات میں سے ہیں وہ۔۔۔۔۔۔!۔

بلکہ بابا سائیں اور ماما جان کے بالکل برابر والے بیڈروم کی زمین کے اندر ان کی سولہ سو سال پرانی قبر ہے عنقریب ۔۔۔۔!!

وہ گہرے لہجے میں بول رہی تھی جبکہ مان اسکی سن ہی کہاں رہا تھا ۔۔۔۔

وہ بس اس کے سراپہ میں گم اس کی کسی بھی بات پہ کان دھرےبغیر مدہوش سہ اسکے چہرہ پہ جھکا۔کئی جسارتیں کرچکا تھا۔

فجر نے کچھ جھجک کہ ایک قدم پہچھے لیا تھا۔

وہ آج بھی روزاول کی طرح ارمغان سے شرمایا کعتی تھی۔

اسکی جسارتوں پہ جھینپ جاتی۔ اسکی قربت میں سمٹ سمٹ جاتی۔ ارمغان اسکی جھجک اور گھبراہٹ محسوس کرکہ بہت محضوض ہوا کرتا اور مزید شرارتوں سے اسکو زچ کئے رکھتا۔

وہ چہرے پہ معنی خیز سی چمک لئے فجر کی طرف بڑھآ تھا۔

میں بہت خطرناک ہوں مجھے ہلکا نہ لیں ۔

آپکو مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟ ؟؟۔وہ اسکی آنکھوں میں جھانک۔ رہی تھی۔

انکھوں میں مخصوص خاص چک ابھری تھی۔

بیوی سے ڈرلگتا ہے ظالم بہت مگر محبوبہ سے دل لگتا ہے۔ ۔۔۔

ہر رات چاندنی ہوتی ہے۔

ہر دن عید لگتا ہے۔

وہ ٹھنڈی آہ بھر کہ بولا جبکہ فجر شدید تراش خراش کی ووڈن سائٹی پہ گری تھی۔

پیچھے حد ختم تھی۔ ۔۔

قدم تھم چکے تھے۔ ۔

سانسیں تیز ہوئی پورے وجود میں جلترنگ بجانے لگی۔ ۔۔۔

کمرے کی فضا میں مہکتی بھینی بھینی خوشبو دونوں کو اپنے حصار میں قید کر چکی تھی۔

ارمغان نے دوقدم کا درمیآنی فاصلہ بھی ختم کرڈالا تھا۔

جب جانتی ہو کہ تم مجھ سے نہیں بچھ سکتی ہو تو پھر خوامخواہ اپنی ننھی سی جان پہ ظلم کرکہ خود کیوں ہلکان کرتی ہو؟ ؟؟؟

یہ وقت اور لمحات بہت خاص ہیں انکو فضول کی مزاہمتوں میں زایہ مت کرو۔

تم مجھے محسوس کرو اور مجھے تم اپنے وجود کی مسہور کن خوشبو اپنے اندر اتارلینے دو۔

سمالینا چاہتا ہوں میں تمہیں خود میں۔

تم سمیت تمہارا پور پور میرا ہے۔ ۔۔۔

تمیں چھونا جی بھر کے دیکھنا میرا حق ہے جاناں۔ ۔۔۔۔۔۔۔

لہجہ بہکا سہ ہوا جزبات سے چور۔

محبت لٹااتا ۔۔۔۔

یقین دلاتا۔ ۔۔۔۔

جبکہ آنکھوں میں فجر کو دیکھ کہ بہت پیاری سی دلکش مسکراہٹ رقصاں تھی۔

فجر کا دل سینے کی قید کو توڑ کہ آزاد ہونے کو تھا

ڈھڑکنیں الگ بے ایمانی کرتی معمول سے کئی زیادا تیزی سے ڈھڑک رہی تھیں۔

وہ جھکا۔ تھا اور اسکے خوبصورتی سے بیوٹیشن کےماہرانہ ہاتھوں سے کئے گئے میکپ سے سجے حسین چہرے کواپنے ہاتھوں میں بھرکہ اسکے گداز مخملی لبو پہ اپنے پر حدت لب لکھ دئیے تھے۔ ۔

وہ کئی لمحے اس میں کھویا رہا ۔۔

فجر کی قربت میں ایک نشہ سہ تھا یاپھر کوئی خاص کشش جو ارمغان کے حواسوں پہ چھا جاتی ۔۔

وہ دلہن بنی سجی سنوری سائٹی پہ بیٹھی تھرتھر کانپتی ارمغان کہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جسارتوں کو برداشے نہ کرسکی تھی ۔۔۔

وہ ڈھے سی گئی تھی۔

ارمغان اسکے وجود کے ایک ایک پور کو صندل کرہا تھا۔ ۔

آسکے مرمری گداز سراپہ کو اپنے وجود کی خوشبو سےمہکاتا رہا تھا اپنے نرم گرم جزبات کی حدت بخشتہ رہا۔۔۔۔۔

فجر کے وجود کی تھکن خود میں بھر سمیٹلینے کی قسم کھائی تھی شاید۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

فجر تمآم احتجاج ترک کئے اسکی محبت بھری مہکتی پھوار میں بھہگتی چلی گئی۔ ۔۔۔

وہ شفا کے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہسپتال پہنچ چکا تھا ۔۔۔

اب کیا لینے آئے ہو تم یہاں ؟؟

اب کیا رہ گیا ہے سب کچھ تو تم ختم کر چکے ہو۔۔ جشن مناؤ مٹھائیوں کے ٹوکرے لوگوں میں تقسیم کرو ہوگئے ہم برباد ۔۔۔۔۔

اب کیا میرے شوہر کو قبر میں پہنچا کر سکون کا سانس لینا چاہتے ہو ؟؟؟؟

آئمہ بھپری ہوئی شیرنی کی طرح روتے ہوئے اس پر جھپٹی تھی ۔وہ اس کا گریبان مٹھیوں میں جکڑ کہ ہزیانی انداز میں اسکو زورزورسےجھنجوڑنےلگی ۔۔۔۔

چٹاخ۔ ۔۔۔۔۔

ساتھ ہی ایک تھپڑ منہ پہ بھی جڑ ڈالا تھا وہ اس وقت اپنے آپے میں نہ تھی ۔۔

کچھ نہیں بگڑا ابھی۔۔۔

میں کچھ نہیں بگڑنے دوں گا ۔۔۔

سب کچھ ایک دفعہ پھر سے بالکل پہلے جیسا کر دوں گا ۔۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔

وہ ماں کو کندھوں سے تھام کر بولا تھا ۔

کوریڈور میں موجود باقی نفوس سن سے کھڑے ماں بیٹے کے درمیان ہوتی تلخ کلامی کو ہونقوں کی طرح دیکھ اور سن رہے تھے ۔۔۔۔

ممانی جان آپ پلیز پانی پئیں۔ ۔

کچھ نہیں ہوگا ماموں جان کو ۔۔۔۔۔”

حمزہ بھائی ماموں آپ کو بلا رہے ہیں اندر ابھی کچھ دیر پہلے ہی ان کو روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے بروقت پہنچنے کی صورت میں اللہ نے ہم پہ بہت کرم کیا ہے۔۔۔

ماموں جان کو ہلکا سا ہارٹ اٹیک آیاہے ۔بروقت طبی امداد ملنے کی وجہ سے وہ اب بہتر ہیں ۔

مگر ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اب مزید ماموں جان کو کسی بھی قسم کا اسٹریس یا پھر کوئی بھی ذہنی ٹینشن کا ہونا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی وہ پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہے ۔۔”

لائبہ نے جان بوجھ کر تفصیلاً بتایا تھا وہ جانتی تھی وہاں موجود کوئی بھی شخص حمزہ کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرے گا بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے اور ساتھ ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں ڈاکٹر کا خدشہ بھی ظاہر کر ڈالا تھا تاکہ وہ نرمی سے کام لے سکے۔ ۔۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی حمزہ کو وہ عمر سے بالکل مختلف تھا ۔

عمر اگر برف تھا تو ہمزہ آگ تھا ۔۔۔۔

عمر پلیز آپ پانی لے کر آئیں ممانی جان کے لیے ۔۔۔

وہ اب سمیرا کے لئے پانی منگوا رہی تھی کیونکہ اس کے پاس جو پانی تھا وہ تھوڑا سا باقی تھا جو ائمہ کو پھیلا چکی تھی اب سمیرا کی حالت دیکھ کر وہ مزید دکھی ہوئی تھی ۔۔

عمر سمیرا کو پکڑ کر باہر لایا تھا رحمان صاحب کے روم سے ۔۔وہ رو رو کہ نڈھال ہو رہی تھی ۔۔۔

اور جب سمیرا کو سہارا دے کر ہسپتال کے کوریڈور میں رکھی چیئر پہ بٹھایا تو اس کے بعد اس کی نظر اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بڑی ماں کو اپنے ہی سگے تایا زاد بھائی سے تلخ کلامی کرتے دیکھ مزید خود میں تھکن سی محسوس کرنے لگا۔۔۔

وہ بالکل خاموش تھا بس اپنی فیملی کے لئے خداسے اس کی رحمت اور اپنے گھر اور اس کے مکین کے لئے خوشیوں کی دعا مانگ رہا تھا ۔۔

وہ اپنی بہن کے لئے رحم جبکہ باپ کے لئے صحت اور تندرستی والی زندگی کی شدت سے دعا کر رہا تھا ۔۔

عمر اپنی فیملی اور خود سے منسلک رشتوں کو بہت اہمیت دینے والا ۔ ان کو ہمیشہ خوش رکھنے اور دیکھنے کا متمنی تھا۔۔۔۔

وہ اب بھی ہمزہ کے لئے نیک ہدایت مانگ رہا تھا اللہ سے ۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے باپ کی جان بستی ہے حمزہ میں ۔وہ جانتا تھا کہ اب اس کا باپ مزید حمزہ کی بے رخی اور کنارہ کشی کو جھیل نہیں سکے گا ۔۔۔

معجزات بھی اسی دنیا میں ہوتے رہے ہیں ۔۔۔۔

دل نے جیسے ایک امید جگائی تھی ۔

لائبہ کو بھی وہ دیکھ رہا تھا وہ ہر طرح سے خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔

اندر سےجتنی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر ہر ایک کا غم بانٹنے کی تگ ودو میں وہ پیش پیش تھی۔۔

لائبہ کو بہتر اور قدرے سنبھلا ہوا دیکھ کر وہ کافی حد تک اس کی طرف سے مطمئن ہوا تھا مگرلا پرواہ ہر گز نہیں تھا۔ ۔۔

مجھے معاف کر دو بیٹا حمزہ ۔۔۔

جیسے ہی حمزہ ان کے پاس آ کر بیٹھا تھا رحمان صاحب نے ہمت کرکے کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ مصطفی کے سامنے جو ڈالے تھے۔

آپ مجھے گنہگار مت کریں پلیز۔

اگر آپ غلطی پہ تھے تو قصور وار میں بھی کم نہیں ہوں۔ ۔۔

میں نے کونسا اپنے اور اپنی ماں کیلئےانصاف اپنے اللہ پر چھوڑ دیا تھا ۔۔

میں بھی تو جانے انجانے میں ایک اور ائمہ کو وجود میں لانے کو تھا مگر بروقت اللہ نے مجھے ہدایت دے ڈالی ہے۔

میں اپنے رب کا بہت بہت شکر گزار ہوں کے اس نے مجھے ایک موقع عطا کیا ۔۔

وہ رحمن صاحب کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام کہ اپنی بھیگی پلکوں سے چومتا کسی معصوم بچے کی طرح بلک اٹھا تھا ۔۔

آخر کو رحمان صاحب نے اپنے بچوں سے بڑھ کر اس کو چاہا تھا ۔اپنے بچوں کو بعد میں اہمیت دی ہمیشہ ہر ایک چیز میں اسی کو آگے رکھا۔۔

اپنے منہ کا نوالہ تک اس کو کھلایا اور پھر وی آئمہ سے بھی کچھ عرصے پہلے اپنے تلخ رویوں کی معافی مانگ چکے تھے ۔۔۔

ائمہ نے ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کی بڑی ہوئی چوڑی ہتھیلی پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔ یہ اس کی طرف سے اس بات کا اقرار تھا کہ وہ رحمان صاحب سے اب خفا نہیں تھی ۔۔

مگر حمزہ تھا جس کے لیے وہ پل پل اندر ہی اندر گھل رہے تھے ۔وہ کسی طور بھی ان کو بخشنے کے موڈ میں نہ تھا بلکہ اس کے سر پر تو جیسے انتقام کا بھوت بری طرح سوار ہو چکا تھا ۔۔

مگر وقت بہت بڑا استاد ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے ایک نہ ایک دن انسان کو صحیح اور غلط کی تمیز ضرور سکھا دیتا ہے ۔۔۔

میں بہت گنہگار ہوں میرے بچے میرے لئے خدا سے رحم مانگو۔۔۔

تمہاری ماں نے مجھے معاف کر دیا ہے۔۔۔

تم نے بھی شاید مجھے معاف کر دیا ہو ۔۔۔۔

یا پھر تم مجھے آئندہ معاف کرنے کا حوصلہ خود میں پیدا کر سکو۔۔۔

مگر کیا میرا خدا مجھے کبھی معاف کر دے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ بے بسی سے نحیف سی آواز میں بڑی مشکل سے ٹھہرٹھہر کہ بولے تھے ۔۔

میں جانتا ہوں تم بہت صاف دل کے مالک ہو تمہارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنا غصہ اور نفرت ظاہر کردیتے ہیں مگر میرا شمار تو میرے بچے ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اندر ہی اندر نفرت پالتے ہیں خطرناک زہر بنانے کی غرض سے ۔۔

بابا آپ بالکل پریشان نہ ہو جلدی سے بس ٹھیک ہوجائیے ۔

میرے دل میں کوئی ناراضگی باقی نہیں رہی ہے میں آپ کو بالکل صحتیاب ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔

کیا کہا تم نے دوبارہ سے کہو ۔ب۔ ا۔۔با۔ ۔۔۔۔

بابا ۔۔۔۔۔!!!

وہ ہکلاتے ہوئے بہت اٹک اٹک کر یہ لفظ ادا کر پائے تھے ۔۔بچپن میں وہ بہت پیار سے رحمان صاحب کو بابا کہہ کر بلاتا تھا مگر جیسے جیسے اس نے ہوش سنبھالا شروع کیا اس کے بعد اس نے رحمان صاحب کہنا شروع کردیا تھا بابا وہ دانستہ نہیں کہتا تھا ان کو ۔۔

بابا پلیز مجھ سے بھی بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے دعا کریں مجھے بھی معافی مل سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

وہ رحمان صاحب کے سینے پر سر رکھے بھیگے لہجے میں بولا ۔

تم مجھے معاف کردو میرے بچے۔۔۔

میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔۔۔۔۔

اے میرے رب تو ہم گنہگاروں کو معاف کردے اور باقیوں کے دلوں میں رحم ڈال دے کل وہ ہمیں سچے دل سے معاف کر سکیں ۔۔۔

رحمان صاحب کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ عاشیر کے ساتھ کافی دیر سے کمرے کے اندر آئی شفاء کے کانوں میں نہ پڑتی ۔

چچا بھتیجے کی انتہائی نفرت کے بعد ہوئی شدید محبت کے نظارے دیکھ وہ واقعاتاً وہ زمین بوس ہونے کو تھی۔۔۔۔۔۔

شفا ہوش کرو ۔۔۔۔۔۔!!

تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔

خوبرو سہ عاشیر کی گھمبیر آواز نے یک لخت حمزہ کو چونکآیا تھا وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور ٹھٹھک کے پیچھے مڑ کہ دیکھا ۔۔

مگر سامنے کا نظارہ دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا دماغ کی رگیں تنسی گی تھی