Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 29
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 29
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
خبردار اگر اب ایک بھی لفظ تم نے اپنے منہ سے نکالا الٹا سیدھا ۔
کچھ نہیں ہوا تمہارے ساتھ تم مجھ سے ناراض ہو کر اپنی دوست کے گھر چلی گئی تھی۔۔۔
بس اور کچھ بھی نہیں کیا ہےکسی نے تمہارے ساتھ غلط۔ ۔۔
تمہارے ساتھ کسی نے بھی۔۔ کوئی شخص تمہارے وجود کو تار تار کرکے نہیں گیا ہے۔۔
وہ اس کو جھنجوڑ کر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
اپنی آنکھیں اس کی وحشت زدہ آنکھوں میں ڈال کر سمجھانا چاہ رہا تھا کہ ۔۔
تم صرف اور صرف اپنی دوست کے گھر گئی تھی تم وہی لائبہ ہو جو صبح تھی ۔۔
نہی عمر یہ تو دھوکا ہے میں کیسے سب کو اندھیرے میں رکھ سکتی ہوں ؟؟!۔
یہ سب جانتے بوجھتے کہ اب میں۔ ۔۔۔
مجھے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا ۔۔
وہ ہذیانی انداز میں اپنا سر نفی میں ہلا رہی تھی
“میں کروں گا تمہیں قبول ۔۔”
عمر کی آواز نے سناٹے کو توڑاتھا لائبہ اس کی بات سن کرساکت سی ہوگئی تھی ۔۔ .
وہ واشروم سے فریش ہو کر نکلی تھی ۔۔۔
“میرا ناشتہ ؟؟؟؟”
بڑے مزے سے ٹشو باکس میں سے ایک ساتھ کئی ٹشو کھینچ کے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے استفسار کر رہی تھی۔۔۔۔
” ناشتہ یہاں خود چل کر تو نہیں آئے گا ظاہر سی بات ہے ناشتہ کچن میں ہی ہوتا ہے”۔۔۔
وہ لاؤنج میں رکھے صوفے پر نیم دراز لیٹا لیپ ٹاپ پہ کچھ کام کرتے ہوئے بولا نظریں ہنوز لیپ ٹاپ کی سکرین پر تھی ۔۔۔۔
‘او کیززز “۔۔
و لمبے بالوں سے کشتی لڑتی بڑی مشکل سے ان کو کیچڑ میں جکڑکے کہچن۔ کی طرف بڑھنے لگتی تھی ۔۔
ایک چائے کا کپ پلیز میرا بھی۔۔۔
مصطفی نے مصروف سے انداز میں کچن کا رخ کرتی سوہا کو کہا۔۔۔
میرے سر میں شدیددرد ہو رہا ہے ۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ سائیڈ پر ےرکھ کر اپنی انگلیوں کے پوروں سے سر دباتے ہوئے بولا۔۔
اوو آپ کو چائے کی نہیں بلکہ تیزاب کی ضرورت ہے وہ آپ کے دماغ کو اچھی طرح واش کر کےچمکا دے گا۔ ۔
وہ چہرے پر سنجیدگی طاری کرکے بولتی کچن میں چلی گئی تھی۔۔
پیچھے سے اس کو اپنی پشت پر مصطفی کی خشمگین نظریں خود کا پیچھا کرتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
ناگن کے ڈنک سے بھی زیادہ زہریلی ہے یہ لڑکی ۔
بڑبڑایا ۔۔
ناشتہ کہاں ہے میرا ؟؟؟
چند منٹ بعد وہ واپس مصطفی کو اپنے سر پہ کھڑی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
مصطفی نے خون کا گھونٹ پی کر آنکھوں سے بازو کٹایا اور تیوریاں چڑھآ کے اس کو دیکھا تھا۔۔۔
انڈے ڈبل روٹی دودھ وغیرہ سارس ناشتہ کچن میں موجود ہے۔۔
ابھی تو تمہیں کچن میں جانتے وقت بتایا تھا
وہ جھنجھلا گیا ۔۔
وہ تو مجھے بھی پتہ ہے میں دیکھ کر آئی ہوں مگر یہ ناشتہ بنا کر ہیںخ کھایا جاتا ہے یا پھر ایسے ہی کچاانڈہ منہ میں توڑ کے پی جاؤں ۔۔
وہ تنک کر بولی تھی ۔۔
سوہا میرے دماغ کی چٹنی مت بناؤ۔
جاؤ اپنے لیے ناشتہ بنا کر کھا لو۔۔۔
اگر ناشتہ بنانا آتا تو کیا آپ کے سامنے اپنا بھیجا خوشک کر رہی ہوتی ۔۔؟؟
اب چہرے پر بے چارگی تاری کی گئی تھی۔
اندر سے مصطفی کی کھسیاہٹ دیکھ کراس کا دل باغ باغ ہو گیا تھا ورنہ کوکنگ میں تو وہ دونوں بہنیں ہی ماہر تھیں ۔۔۔
کیا مطلب اب کیا تمھیں چائے ناشتہ بھی خود سے بنانا نہیں آتا بے؟؟؟
مصطفی کے لہجے میں حیرت تھی۔۔۔
تو پھر کیا بنا سکتی ہو ؟؟؟ وہ اٹھ کے بھیٹھتا اپنے دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔
بیوقوف۔ ۔ میں بہت اچھا بنالیتی ہو۔ ۔۔۔!!
سوہانے اپنی بتیسی کی نمائش کی ۔۔
جانتا ہوں۔ ۔۔!!
اسکے علاوہ؟ ؟
تیکھے لہجے میں پوچھا گیا۔
انڈا۔۔۔!!
وہ معصومیت سے کہتی اپنی کانچ جیسے شفاف نین پٹپٹا کر بول رہی تھی۔۔۔
ا وہ تو بس ٹھیک ہے انڈہ بنا لو اور بریڈ سےکھا لو چائے رہے دو۔۔۔
اس نے سکون کا سانس لیا یہ سوچ کر کہ ۔۔
چلو کچھ تو محترمہ کو آیا۔۔۔
ایک منٹ کھڑوس پائلٹ میرا مطلب ہے انڈا مطلب زیرو ۔ ۔۔۔
سفر ۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ اپنی قمر پہ ٹکائے جبکہ دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلشت شہادت سے گول دائرہ بنا کر دروازے کی چوکھٹ کے بیچوں بیچ کھڑے مصطفی کے چہرے پر موجود بے بسی دیکھ کے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کرکے بولی تھی ۔ .
وہ آندھی طوفان کی طرح صوفے سے اٹھ کر کچن کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی سوہاکا ایک بازو اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے کر اس کو سائیڈ پہ کرتے ہوئے سوہا کو۔ ۔
اسکے چہرے پہ ناراضگی تھی۔۔
آپ کا مجھ سے ناراض ہو کے بات نہ کرنا بھی میرے لیے ایک نعمت ہے۔۔۔
وہ بر بڑائی تھی مگر یہ بڑبڑاہٹ اتنی اونچی ضرورت تھی کہ مصطفی کے کھانوں کو چوم چکی تھی ۔۔
کاش میرا اس آفت کی پڑیا پہ دل نہ آیا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔
اب اگر تم نے یہ واشنگ مشین کی طرح چلتی ٹر ٹر زبان بند نہ کی تو یاد رکھنا میں اس سے کاٹ دوں گا۔۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑی کینچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا۔
ارے اس سے آپ ہری مرچیں ہی کاٹ لیں میری زبان لوہے اور تانبے کی ہے کینچی سے نہیں کرے گی ۔
حاضر جوابی تو ختم تھی سوہا پہ ۔۔
اگر تم چھٹانک بھر کی نہ ہوتی تو بتاتا کہ میرے پاس ایک سو ایک طریقے ہے تمہاری زبان کو تالے لگا نے کے۔
مصطفی چڑھ کر بولا تھا جبکہ سوہا خوامخواہ دیواروں کو دیکھنے لگی چہرے پر خفت اور حیا کے رنگ واضح تھے۔
مصطفی بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے خوبصورت رنگوں کو دیکھتے ہوئے کٹ کٹ ہری مرچ کاٹ رہا تھا ۔۔۔
اوچ۔ ۔۔
وہ بے دھیانی میں کینچ
ی سے اپنی انگلی ہی شہید کر بیٹھا تھا ۔۔۔
آپ کی چائے۔۔۔
وہ کافی ٹیبل پہ رکھ کر پلٹی تھی۔ حمزہ کو کمرے میں نہ پا کہ وہ ٹھٹکی ضرور تھی مگر پھر ٹیرس سے کا دروازہ کھلا دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ وہ وہاں موجود ہے ۔۔
حمزہ نہ جانے خلاؤں میں کیا تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔!
وہ چونکا تھا شفا کی آواز نے اس کی مہویت کو توڑا تھا ۔۔
وہ خالی خالی نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا جیسے شفاء کی کہی بات کو سن ہی نہ سکا ہو۔۔
میں چائے لے کر آئی تھی کافی ٹیبل پر رکھ تی ہے آپ پی لیں۔ میں کچن میں جا رہی ہوں ابھی بہت سے کم ملتانی ہیں ۔وہ کہہ کر یعنی لگی ۔۔۔
“یہی لے آو میری چائے “۔۔۔۔!!
آج نہ جانے کیوں طلب سی ہو رہی ہے ۔۔۔!!
شفا کو اس کے لہجے میں آج پہلی دفعہ رکھائی اور کھنچاؤ کا عنصر محسوس نہیں ہوا تھا ۔جو اس کی شخصیت کا حصہ تھ۔ا وہ بغیر کچھ کہے واپس کمرے میں چلی گئی تھی چائے لینےاور اسکو چائے کا کپ پکڑاکے واپس کام سمیٹنے جاچکی تھی۔۔۔۔
فریش ہوکروہ واشروم سے باہر نکلی تھی ۔کپ جوں کاتوں اسکے باس زمین پہ رکھادیکھ الجھی۔
” آپ کی چائے کب سے رکھے رکھے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ “
شفاء پورہ گھر سمیٹ کر جب دوبارہ کمرے میں آئیں اس وقت بھی حمزہ ہنوز ٹیرس میں ہی فرش پر بیٹھا تھا ۔۔۔
چائےبرف بن چکی تھی شفا نے اس کو ایک دفعہ پھر ٹوکا تھا ۔۔
ہونے دو برف مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔!!
کیوں فرق نہیں پڑتا ؟؟؟
جب پینی نہیں تھی تو کیوں بنوائی ؟؟؟
وہ اس کے تاثرات دیکھے بغیر اپنی ہی دھن میں بولی چلے جا رہی تھی ۔۔
“میرا دل برف کی مانند سرد پڑ چکا ہے یہ تو پھر ٹھنڈی چائے ہے ۔”
وہ کپ میں بھری پڑی چائے کا کپ اور پرچ اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھارہی تھی جب اچانک حمزہ نے اسکا ہاتھ کلائی سے تھام کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
میں دوبارہ گرم کر دیتی ہوں۔۔۔
وہ حمزہ کا لمس محسوس کر کے گر بڑائی تھی پورے وجود میں اس کے سنسنی سی دوڑ گئی تھی ۔۔
کیا کچھ پل مجھے ادھار دے سکتی ہو ؟؟؟
وہ اپنی گہری آنکھوں سے اس کی موتی جیسی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا جہاں حیرتوں کا جہاں آباد تھا ۔۔
پل آدھار ۔؟؟؟
۔
وہ ناسمجھی سے اس کو دیکھتے ہوئے یقین و بے یقینی کی کیفیت میں تھی ۔
ادھر بیٹھ جاؤ کچھ دیر کے لئےمیری تنہائوں کی ساتھی بن جائو۔۔۔!!
وہ بھاری لہجے میں کہتا اس کو اپنے پاس ہی فرش پہ بٹھا چکا تھا۔۔۔
” طبیعت تو ٹھیک ہے نہ آپ کی ؟؟؟”
شفا کو شبہ سہ گزرا ۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔ ۔۔۔!!!
لہجہ اسکی زبان کا ساتھ دینے سے انکاری ہوا۔ آنکھوں نے بغاوت کرڈالی تھی۔
کہیں مجھ سے محبت تو نہیں کر بیٹھے انجانے میں؟؟؟
وہ اب سنبھل چکی تھی لہجہ شریر ہوا ۔
“میں اس جذبے کو فضولیات میں شمار کرتا ہوں “۔
گھمبیر لہجے میں کہا گیا ۔۔
سوچ لیں ایک دفعہ ۔۔۔!!!
“گر جو میں نےدھڑکنوں سے شہادت لیلی تو ہو سکتا ہے آپ کا خیال غلط ثابت ہوجائے ۔۔’
حمزہ کا دوستانہ رویہ دیکھ کر وہ ہمت کے کی بولی ۔۔
‘میں خاردار راستوں پر چلنا نہیں چاہتا ۔۔”
پورے چاند کو دیکھ کر حمزہ نے ایک نظر اس دشمن جاں کو دیکھ کر کہا تھا اور پھر نہ جانے کیا ہوا تھا یخلقت کہ وہ اس سے نظریں چرا گیا ۔
“میری نظروں میں دیکھ کر یہی بات کہیں ورنہ لہجہ جو کہانی سنا رہا ہے کہیں میں دھوکہ نہ کھا جاؤ ۔۔”
وہ ٹھہر ٹھہر کے بولی تھی دل اداس سا ہو گیا تھا اس ستمگر کی سنگدلی اورکٹھور باتیں سن اور دیکھ کر ۔مگر پھر بھی دماغ نے کہا آج اس پتھر سے ایک دفعہ سر پھوڑ کے دیکھ ہی لیا جائے ۔۔
آر یا پار۔ ۔!!
“میں جھوٹ نہیں بولتا ۔۔”
سچ بھی آپ اس وقت نہیں کہہ رہے آپ کی آنکھیں تمام راز افشاں کر رہی ہیں ۔۔”وہ پراعتماد لہجے میں بولی۔ ۔
“میری آنکھوں میں صرف ویرانی ہے شفا ۔۔”
“صرف تنہائی باقی ہے اگر میری دھڑکنوں کو سن سکتی ہو تو!! تمہیں صرف اور صرف سنناٹے ہی سنائی دیں گے ۔جو میرے پورے وجود میں پھیل چکے ہیں ۔۔۔
“آنکھوں سے خواب روٹھ بیٹھے ہیں میری” ۔۔
“یہ سب آپ کے بٹھائے خودساختہ پہرے ہیں۔ ورنہ محبت تو اپنا آپ کب کا منوا چکی ہے”۔۔۔
وہ بضد ہوِئی۔ ۔
اتنے وثوق سے مت کہو میرےحال دل کی تمہیں کیا خبر ؟؟؟
وہ بولا۔ ۔
آپ کی دھڑکنیں سب چیخ چیخ کر پتہ دے رہی ہیں کہ محبت کا نشہ آپکو مدھوش کررہاہیے۔ ۔۔!!۔
اور تم کس کا نام سن رہی ہومیری ان دھڑکنوں کی سرگوشیوں میں ۔۔؟؟؟؟
وہ نہ جانے کیا جاننا چاہرہا تھا۔ ۔۔
“اپنا”۔۔۔۔۔!!
آپ کو مجھ سے محبت ہے ۔۔۔!!!!!
وہ حددرجہ پراعتماد تھی۔ ۔
ؓےتمہارا خود کے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔
اگر خود محبت نہ ہو تو محبت کرنا عبث ہوتا ہے ۔۔
وہ اس کو دیکھ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا جاتا نہ چاہ رہا تھا ۔۔
کہیں تو اپنی سانسوں کو گواہ بنا لو یا پھر آخری دھڑکن کی گواہی طلب ہے ؟؟؟
وہ کہہ کر اٹھنے لگی تھی دل میں عجیب سی اداسی نے گھر کیا تھا ۔۔
مگر حمزہ نے اس کو یکبار پھر اٹھتا دیکھ کر ایک دفعہ پھر جھٹکے سے اس کو خود پہ گرا کر کریب کیا تھا خود سے اتنا کہ وہ حمزہ کی سانسوں کی تپش کو باآسانی محسوس کر سکتی تھی ۔اس کا تلفظ بگڑا تھا ۔دھڑکنیں یخلقت تیز ہوئی تھی ۔۔
جبکہ شفا کی اتنی قربت پہ حمزہ کی ایک ھارڈ بیٹ مس ہوئی۔ ۔
“محبت اگر ہو گی تو ہی تو سب کچھ اچھا لگے گا نا جب محبت غیر موجود ہو تو کچھ بھی بھلا نہیں لگتا ۔۔
وہ اس کو باور کرا رہا تھا مگر دوسری طرف سن ہی کون رہا تھا؟ ؟؟
شفا نے حمزہ کی قربت سے خائف ہوکر اپنی پلکیں جھکا لی تھی۔۔
وہ مبہوت رہے گیا اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمب کو دیکھ کر۔ ۔
پلکوں کی جھالروں کو اسکی وہ یک ٹک دیوانہ وار دیکھتاچلا گیا کوئی جادو سا تھا جو حمزہ کو شفا سے باندھ گیا تھا ۔۔
کیا تم مجھ سے خوفزدہ ہو یا پھر اپنا آپ مجھےسپرد کرنے سے ڈر رہی ہو ؟؟؟
ان بند آنکھوں میں کیا چھپا یا ہے !!!
کیوں ان نین کٹوروں کو کھولنے سے انکاری ہو؟۔؟
وہ لمحوں میں خود کو بے بسی کی انتہاپہ محسوس کر رہی ہوں ۔۔وہ خائف سی ہو ئی تھی ۔۔
چوہدویں کی رات تھی حمزہ کو لگ رہا تھا جیسے شفا چاند سے پھوٹتی چاندنی میں نہآ گئی ہو۔
چہرہ چاندنی کی مانند دمک اٹھا تھا اس پہ تضاد رخساروں پہ گھلتی سرخیاں ۔۔
پھڑپھڑاتے ہوئے لب، لرزتی پلکیں اور تھرتھراتا سراپا ۔۔
عجیب سحر سا تھا ماحول میں جیسے فضا نے کوئی جادو ٹونا ان دونوں پہ کر دیا تھا اور سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے کر جیسے وقت کے دھارے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا تھا ۔۔
مجھے بہت سارے کام ہے۔۔۔!!!
وہ خود کو بہت مشکل سے اس سحر سے آزاد کرا
کر بولی تھی دھڑکنوں میں تلاطم برپا ہوا ۔
“کام تو مجھے بھی تم سے ہے اور بہت خاص اور اہم ہیں ۔۔”
وہ بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا لہجے میں جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ ۔۔
شفا کو بہت کچھ محسوس کراگیا تھا ۔۔
مم۔ ۔۔۔مجھے جانے دیں پلیز۔ ۔ ۔ !!!
کچھ دیر پہلے کی خوداعتمادی ہوا ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ کنفیوز ہورہی رہی تھی ۔حمزہ کے بولتی آنکھوں اور بہت کچھ جتاتے لہجے سے ۔۔۔
