Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 22 (Part 1)
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 22 (Part 1)
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
پہلے تو سوہا نہ سمجھی سے ان سب آوارہ لڑ کوں دیکھتی رہی مگر جب اس کو ان کی کی غلیظ بات کے اصل معنی سمجھ میں آئے ۔ ۔۔
وہ مزید خوف سے دوچار ہو کے رہ گئی ۔۔۔
اب ان لڑکوں نے اس کو ایک دائرہ بنا کے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا فرار کا کوئی بھی راستہ اب سوہا کے پاس باقی نہ رہا تھا ۔۔
۔
میری مدد کرو۔۔۔۔
کوئی تو اللہ کا بندہ مجھے تم لوگوں سے بچائے گا ۔۔۔
وہ ان کے بنائے گئےدائرہ کے بیچوں بیچ کھڑی زور و شور سے روتی خدا کو یاد کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہم ہیں نا نیک بندے دیکھو ہم آگئے تمہاری مدد کے لئے کتے کے ساتھ ہی ایک لڑکے نے اس کا دوپٹہ کیسا تھا اور ہوا میں اڑا کے دور اچھال دیا ۔۔
فضا میں اچانک فائر ہونے کی آواز گونجی تھی اور ایک فائر ہونے کے بعد دوسری فائر پہ ایک لڑکا ان میں سے زخمی ہوا زمین پر بری طرح کر ہہ رہا تھا اس کے پاؤں میں گولی لگی تھی ۔۔
وہ گھبرا کے ادھر ادھر دیکھتی رہی ۔۔
جب کسی نے اس کے سر پر زمین سے اٹھا کے دوپٹہ ڈھانپ دیاتھا ۔۔۔
مم ۔۔۔۔۔مصطفی بھائی ۔۔۔
مصطفی پاگلوں کی طرح ایک ایک لڑکے کی درگد بنا رہا تھا ۔
جبکہ سوہا کو لگا جیسے اس کے رب نے اس کی فریاد سن لی تھی اور اس کے لیے مدد کے طور پر اس کے کزن مصطفی کو بھیجا تھا جس کا دور دور تک اس جگہ موجود ہونے کا امکان تک بی نہ تھا وہ اس وقت ایک ایک کو روندھ کے پٹخ رہاتھا ۔۔۔
بس کر دیں یہ مر جائیں گے ۔۔
وہ چیخی تھی کیونکہ ایک لڑکے کو مار مار کے مصطفی اب اس کے منہ میں اپنی گن رھک کے چلانے ہی والا تھا جب سوہا کی آواز نے اس کے بگڑے ہو اس برابر کیے تھے ۔۔۔
مصطفی لڑکے کو چھوڑ کر شدید اشتعال کے عالم میں اٹھا تھا اور سوہا کو بازوؤں میں اٹھاکر اپنی جیپ کی طرف بڑھ چکا تھا ۔۔۔
نازک سی سوہا کسی لچکیلی ڈھال کی طرح اس کے بازوں میں جھولتی آنکھیں بند کر چکی تھی خوف اس کو صرف اتنا تھا کہ اب مصطفی اس کو چھوڑے گا نہیں ۔۔
آسکی شامت پکی تھی۔ ۔۔
مصطفیٰ کاغصہ تو پورے خاندان میں مشہور تھا اور وہ بیچاری ننی سی جان کس طریقے سے اس کے عتاب سے بچ سکے گی ۔۔۔؟؟؟
وہ ابھی اس کو لے کر جیپ تک پہنچا ہی تھا اور اس کو اس کے قدموں پر کھڑا ہی کیا تھا ۔۔۔
جب سامنے سے آتے اس کو تلاش کرتے پرنسپل اور ان کے ساتھ موجود کئی اور ٹیچرز اپنی اوڑھ آتے ہوئے دیکھ کر وہ بھاگتے ہوئے ان تک پہنچی تھی ۔۔۔
جن میں سے ایک سمیرا کی چچازاد بہن بھی تھی ۔
بیٹا کہاں چلی گئی تھی تم؟ ؟؟
کہاں کہاں نہیں تمہیں تلاش کیاہم نے ۔۔۔
خالا میں راستہ بھٹک گئی تھی ۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔۔
چلو آوادھر جلدی ۔۔۔
وہ بےزاری سے بولا
بیٹا چلو آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے ہماری بچی کی مدد کی ۔۔۔
ادھیڑ عمر ٹیچر نے مصطفی کی طرفدیکھتے ہوئے شکریہ ادا کیا ۔۔۔
شکریہ کی بات نہیں ہے یہ تو میرا فرض تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ سوہا اب میرے ساتھ جائے گی ۔۔۔۔
کیا؟ ؟؟۔
مطلب کیا اس بات کا؟ ؟؟
پرنسل سخت برہم ہوئے۔ ۔
سوہا نے بے یقینی سے بڑھ کر مصطفی کو دیکھا تو اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب مصطفی کرنا کیا چاہ رہا ہے آخر؟ ؟!
وہ صحیح سلامت پہنچ تو چکی تھی اب اپنے ٹیچرز تک ۔۔
پھر؟ ؟؟۔
نہیں بیٹا یہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔
سمیرا کی کزن جھٹ بولی تھی ۔۔
ممکن ہے۔۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس کا شوہر ہوں اب یہ میرے ساتھ ہی جائے گی ۔ ۔۔
سوہا سمیت باقی سب بھی ہقدک رہ گئے تھے مصطفی کی کہیں اس بات پر ۔۔۔
جبکہ سمیرا کی کزن مصطفی کو پہچان چکی تھی پہلی نظر میں ہی کہ وہ کون کس کا بیٹا تھا ۔۔
اس لئے اس کی کہی اتنی بڑی بات پہ یقین کرتے بنی ۔۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی اپنی مدرسے بات کروا سکتا ہوں ۔۔۔
مصطفی کا انداز کچھ ایسا تھا کہ دوسرے کی ہمت ہی نہ بن پا رہی تھی کچھ بھی پوچھنے ۔۔
چلو سوہا۔ ۔
وہ برہمی سے کہتا اپنی جیپ کا دروازہ کھول چکاتھا۔ ۔
۔۔مم میں نہیں جاونگی۔ ۔۔
تمہارے تو اچھے بھی جائنگے۔ ۔آو فوراً۔ ۔
کیا کہہ رہا ہو سمجھ میں نہیں آتی ایک دفعہ کی کہی بات؟ ؟
وہ غرایا۔ ۔۔
سوہا کہیں نہی جائیگی۔ ۔۔
فضا میں ایک اجنبی سی کرخت مردانہ آواز گونجی تھی۔ ۔۔
آپ؟؟؟؟؟
اس کے بالکل عین عقب میں ہمزہ موجود تھا شفا کو اچانک ڈھیر ساری حیاء اور خوف نے آ گھیرا تھا۔۔۔۔۔
” ظاہر سی بات ہے میرے کمرہ ہے تو لحاظ سے اس میں میرے علاوہ تو کوئی اور ہو نہیں سکتا۔۔۔۔۔”
ہاں مگر۔ ۔۔۔۔!!!
” بس تمہارا وجود اس کمرے میں کچھ ان فٹ سہ ہے ۔۔”
وہ اپنے نم گیلےبال ٹاول سے خشک کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
حمزہ ابھی بھی شاور لے کر نکلا تھا ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں موجود ٹی شرٹ سے بے نیاز ۔۔۔
وہ اپنے کسرتی لمبے چوڑے وجود سمیت شفاء کےسامنے کسی لوہے کی دیوار کی مانند استدعا!! اس کا راستہ روکے کھڑا تھا ۔۔۔
عموماً شفا کی اس کے سامنے چلتی کینچی کی طرح تیز دھاری زبان اس وقتخلاف توقع اسکے سامنے بند تھی۔ ۔۔۔
وہ اس کی ساحرانہ پرسنلٹی کے حصار میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔
پگھل رہی تھی۔۔
بے خیالی میں وہ اس کو ٹکٹکی باندھے دیوانہ وار تک چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
دوسری طرف وہ شخص تھا۔
جو ایک نظر غلط بھی اس کی طرف ڈالنا اپنی توہین اور انا کی تذلیل ہونے کے مترادف سمجھتا تھا مگر اس وقت وہ خود کو بے بس محسوس کرتا ہوا شفاء کی ہیزل براؤن آنکھوں میں خود کو بری طرح سے ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
وہ پوری طرح شفاء کی خوبصورت آنکھوں میں غرق ہو چکا تھا۔۔
رات کی فسوں خیزی ۔۔۔
نئے بنے اس رشتے کو قبول کرنے پر اکسا رہی تھی۔۔
خاموشی کئی سرگوشیاں اپنی ہی زبان میں ان دونوں کے کانوں میں کسی سریلے گیت کی طرح انڈیل رہی تھی ۔۔۔
دونوں کو اس وقت دنیا جہان کی کوئی فکر تک نہ رہی تھی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت ساقط ہو چکا ہے دنیا میں کوئی زی روح اس وقت موجود نہ رہا ہو۔ ۔
ہر دکھ ہر غم انگڑائی لے کر جا سوئے تھے۔۔۔۔
اس لمحے بس وہ دونوں ایک دوسرے کے سحر میں گرفتار تھے ۔۔۔
حمزہ کے موبائل کی باربار بچتی میسج کی ٹیون نے
ان دونوں کو واپس حقیقت کی دنیا میں لادھکیلا تھا ۔۔
ایک طلسم تھا جو ٹوٹ کے بکھرا تھا ۔۔۔
ان دونوں کو ایک دوسرے کے حصار باندھتے خیالات سے جھنجوڑ کر واپس تلخ اور حواسوں کی دنیا میں لا پٹخا تھا ۔۔
“مجھے راستہ دیں”۔۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے اپنی راہ روکے جانے پر تلملا کر بولی تھی ۔۔
تمام احساسات پر ایک دم جیسے او س سی پڑ چکی تھی۔۔۔
سرد لب و لہجہ واپس عود کر آیا تھا ۔۔
وہ یہ تک بھول بیٹھی تھی کہ اس کی شرٹ کی زپ بند نہ ہونے کی وجہ سے اس کی پشت کو عیاں کر رہی تھی ۔۔
“تمہارے راستے میں تو اب ہر جگہ تمہیں میرے نام کے ہی نوکیلے پتھر اور خاردار راہیں ہی ملیں گی۔۔”
” کیونکہ یہ راستے تمہارے لئے میرے منتخب کردہ جو ٹھہرے ۔۔۔”
حمزہ کا لب و لہجہ بھی یخلقت تبدیل ہو گیا تھا وہ اپنی پرانی ٹیون میں واپس آگیا تھا۔۔
جس سے وہ شفا کو شدید چکرا نے کا ہنر بخوبی اپنے اندر رکھتا تھا ۔۔
لگتا ہے میری چند منٹ کی کرم نوازی نے تمہیں کافی سرشار کردیا ہے؟؟؟
اس کا اشارہ کچھ دیر قبل اپنی اور اس کی اوکوارڈ سیچویشن کی طرف تھا ۔۔۔
“آپ راستہ نہیں دینا چاہتے شاید مجھے ۔۔”؟
مگر میں اپنے راستے میں آنے والے تمام پتھر اور کانٹوں کو بڑی مہارت سے ہٹانا جانتی ہوں ۔۔۔!!!
کسی بھی غلط فہمی مت رہیئے گا۔ ۔۔
وہ بھی اب بری طرح سے سلگ کر آتش فشاں بنی اس کو سوالیہ نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔۔
“کیوں کیا تمہیں مجھ سے خوف محسوس ہو رہا ہے”؟؟؟
” کہ کہیں میں آج رات پھر سے تمھاری شا مت ہی نہ بلا بیٹھوں۔ ۔۔”
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شفا کا راستہ روکے اس پر طنز کے تیر چلانے پر مجبور تھا۔۔۔
” کسی خوش فہمی میں نہ رہے گا نہ ہی میں آپ کو اپنا دل سے شور تسلیم کرتی ہوں اور نہ ہی میں اس رشتے کو کوئی اہمیت دینے کی قائل ہو ۔۔۔”
وہ ہر قسم کے تعلق سے انکاری تھی یہ سوچے بغیر کہ وہ حمزہ کی انا کو انجانے میں ہی چیلنج کر بیٹھتی ہے ہر دفعہ ۔۔!!!
چلو دیکھتے ہیں کہ تم کب تک میری ذات سے انکاری رہ سکتی ہو؟؟؟؟
ویسے جس قدر تمہارے چہرے پہ دکھ اور کرب موجزن ہو گا۔۔
اتنا ہی تمہارا باپ تڑپے گا۔۔۔
تم یہ چاہتے ہو کہ میرا باپ میرے دکھوں پر تڑپے؟؟؟؟
” تو اب تم بھی دیکھ لو گے کہ ۔۔”
میرا باپ میرے چہرے پر دکھ تلاش کرتا رہ جائے گا مگر ۔۔۔۔
ان کو میرا یہ چہرہ ہمیشہ خوش و خرم اور ہنستا مسکراتا ہی دیکھنا نصیب ہو گا ۔۔””
“یہ میں تمہیں گارنٹی دیتی ہوں ۔۔”
تم سے یہ میرا وعدہ رہا کہ حمزہ جلال میں کبھی بھی ہار نہیں مانو گی بلکہ تمہیں ہار کے بھی جیت کر دکھاؤں گی ۔۔”
“شفا رحمان اپنے کئے وعدے اور قول سے ہٹنے والوں میں سے ہرگز بھی نہیں ہے یاد رکھنا ۔۔”
وہ انگشت شہادت بلند کر کے اس کی طرف!! بے خوف اور پراعتمادی سے بولی تھی ۔۔
شفا کے اتنے دیدہ دلیری سے کہے گئے جملے نے حمزہ کو شدید غصے کی آگ میں دھکیل دیا تھا۔۔۔
اس نے شفا کو بازو سے تھام کر اس کا رخ موڑ کے دوسرے ہاتھ سے وارڈروب کا کھلا ہوا دروزا اشتعال میں آکر زور سے بند کیا تھا ۔۔۔
دھاڑ کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔ ۔۔۔۔
بری طرح سہمی تھر تھر کانپتی شفا کو الماری سے جا لگایا ۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟؟
چھوڑئیے مجھے۔۔۔۔
وہ چلائی تھی۔۔۔
حمزہ نےاس کی پشت کو گھورتے ہوئے ایک ہاتھ سے اس کو جھکڑے جبکہ دوسرے ہاتھ سے سگریٹ کو سلگانے لگا۔۔
جس طرح یہ سگریٹ سلگ رہی ہیں بلکل اس طرح میں تمہارے ذریعے رحمان صاحب کوسلگاؤں گا ۔۔۔
وہ اس کو سلگتی ہوئ سگریٹ چہرے کے سامنے دکھاتے ہوئے بولا ۔۔
سی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
شفا کی مزاحمت کرنے کی وجہ سے بالکل نہ دانستگی میں ہی جلتی ہوئی سگریٹ شفا کی پشت سے جا لگی تھی ۔۔
وہ تڑپ اٹھی تھی درد کی شدت سے۔۔۔۔
شفاء کی تکلیف دیکھ کر حمزہ کے تو گویا جیسے پورے وجود میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے۔ ۔۔
شفا کی اس قدر تکلیف و سسکاریاں اسکو بہت تکلیف پہنچارہی تھیں۔ ۔۔۔
وہ تیزی مزید کچھ بھی سوچے ایک لمحہ زایا کئے اس کی پشت پر جھکا تھا اور اپنے سلگتے ہوئے لبوں کو سسکتی ہوئی شفاء کی پشت پر بننے والے چھالے پر رکھ دیے تھے ۔۔۔
اتنی شدید جلن کے باوجود شفا کو لگا جیسے حمزہ کے لبوں نے اس کے زخم پر ٹھنڈی اوس برسا دی ہو۔۔۔
شفا کی آنکھوں سے دو ننھے ننھے موتی گرے تھے۔۔۔۔
کس قدر حساس تھا۔۔۔
وہ اس کی اتنی سی تکلیف پہ سب کچھ بھولے اس کو اپنے حصار میں لیے۔۔۔
معمولی سے زخم پہ اپنے پیار بھرے لمس سے مستقلاً مرہم رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
کس قدر دعوہ کرا کرتا تھا کہ وہ اس کو تکلیف پہنچائے گا ۔۔
“تم تو کہتے ہو کہ آخری حد تک جاؤ گے مجھے اذیت پہنچانے کے لیے ۔۔”
“ہر حد پھلانگ دو گے ظلم و ستم کی ۔۔۔”
“مگر پھرکہو یہ کون ہے جو اس وقت میری اس قدر زرا برابر سی تکلیف پہ تڑپ اٹھا ہے ۔۔؟؟؟؟؟”
“یہ کونسا روپ تم اپنے اندر چھپائے بیٹھے ہو ۔۔؟؟؟”
“گر جو یہ خواب ہے تو میرے اللہ پاک میری کبھی آنکھیں نہ کھلے ۔۔۔”
“میری گہری نیند کبھی بھی نہ ٹوٹے ۔۔۔”
“بے شک میں ہمیشہ کیلئے نیند کی وادیوں میں ہی کیوں نہ کھو جاؤ ۔۔”
“میرے رب مجھے منظور ہے ۔۔”
وہ ششدر سی حمزہ کی وارفتگیوں کا مظاہرہ دیکھ اور محسوس کر رہی تھی ۔۔
وہ بن کہے بھی۔۔۔۔
بہت کچھ نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔۔۔
اپنے رویے اور احساسات سے ظاہر کر گیا تھا ۔۔۔۔
جو وہ ہرگز کبھی بھی شفا کے سامنے ظاہر کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔۔
“یہ بس اچانک سے ہوگیا تمہاری غلطی ہے ساری”۔۔۔۔۔
” نہ تم اتنا مجھے پریشان کرتی اور مجھےغصہ نہ دلاتیں تو کبھی بھی ایسا نہ ہوتا ۔۔”
وہ جھلائے ہوئے اور پریشان سے لہجے میں اس کے اوپر ہی برس رہا تھا ۔۔
“جاؤ ڈریسنگ روم میں اور شب خوابی کا لباس پہن کر آو۔۔۔”
” وہ والا جو کل میں نے تمہیں پہنایا تھا ۔۔”
“اس طرح کی شرٹس میں تمہیں اور جلن ہو گی”۔۔
” جتنی اس زخم کو تمہارے حوالگی گی اتنا ہی یہ ٹھیک ہوگا جلدی “۔۔۔
“اور تمہیں جلن کا بھی احساس کم ہوتا چلا جائے گا ۔۔۔”
وہ ماتھے پہ آیا پسینہ گردن کے گرد لپٹی ٹاول سے پونچھتے ہوئے بولا۔ ۔۔
“اور اس جلن کا کیا ؟؟”
“جو تمہارے رویہ سے میرے پورے وجود میں ہوتی ہے”۔۔۔
” میرے دل کو بڑے بڑے بدنما چھالوں سے نواز چکی ہے “۔۔۔
“اس سب کا زخم کب اور کیسے بھرے گا؟ ؟؟”
شفا کے لہجے میں کرب بول رہا تھا اس کے منہ سے اچانک سچ پھسل گیاتھا ۔۔۔
تم جاؤ ڈریسنگ روم میں میں آتا ہوں بر نال لے کر ۔۔
جلدی سے چینج کرکے باہر آؤ ۔۔۔۔
حمزہ لمحے بھر کو ٹھٹکا تھا اور ٹھہر سا گیا مگر پھر چند ثانیوں بعدخود کو سنبھال کے بولا بھی تو کیا بولا ۔۔۔
شفا کے لبوں پہ اک افسردہ افسردہ سی مسکان بکھری تھی ۔۔
“اب یہاں کھڑی کھڑی کیا دیکھ رہی ہو جاؤ بھی ۔۔”
وہ حکم صادر کرتا کمرے سے جاچکا تھا جبکہ شفا پیچھے بوکھلا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ روم میں شرم وحیاء و بوکھلاہٹ سے حمزہ کے آرڈر کیے گئے لباس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس کو یہ سوچ کر ڈھیر ساری شرم نہ آنگھیرا تھا کہ ۔۔۔
کل رات حمزہ نے اس کو خود ۔۔۔۔۔!!!
اس سے آگے اس کا سوچنا محال تھا ۔۔
۔
