Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 2
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 2
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔۔
وہ ٹہلتے ٹہلتے گھر سے قریب پارک سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل آئی تھی۔۔۔
ڈیفنس کی سنسان گلیا اکا دکا ہی کوئی گزر جاتا۔۔ کسی کو کسی سے سروکار نہ تھا ۔۔۔۔
چاہے کوئی جئے یا مرے ۔۔۔۔
اگر کسی کا انتقال بھی ہوجاتا تو برابر والے کو علم تک نہ ہوتا ۔۔۔۔
“چڑھتی جا وا نی تیری چال مستانی”۔۔
ایک آوارہ لڑکے نے اس کے بالکل برابر اپنی بی ایم ڈبلیو روک کر آنکھ کے اشارے سے شفا کو ساتھ بیٹھنے کا کہا اور بے سری اور آواز لوفرانہ اندازمیں گنگنانے لگا ۔۔۔۔
شفاء ایک دم چونکی تھی اور پھر ایک نظر اپنے آس پاس ڈالنے کے بعد اس کو بہت اچھی طرح سے اندازہ ہو گیا تھا کہ ۔۔
وہ پارک بہت زیادہ آگے نکل آئی ہے ۔۔
مغرب کی اذانیں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔
رات اپنے پر پھیلا رہی تھی شام ڈھل چکی تھی ۔۔۔
اے مسٹر ایکس وائےزہیڈ ۔۔۔
شرافت سے اپنا راستہ ناپو نہیں تو میری یہ جو ہیل تم دیکھ رہے ہو نا ۔۔۔۔۔
اس نے پیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
یہ تمہارے چودہ طبق روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔۔۔
شفا ءنے اپنے تئیں اس کو دھمکی سے نوازا تھا ۔۔۔
یہ سینڈل تو مجھے لگتے ہوئے کسی پھول کی طرح ہی محسوس ہوگی۔۔۔۔
کہتے کے ساتھ ہی اس آوارہ لڑکے نے شفا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑ لیا ۔۔۔
بہت شوق ہے نہ تجھے لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کا ؟
اب تو دیکھ۔۔۔۔
نہ تیرا یہ شوق باقی رہے گا آج کے بعد اور نہ ہی تیرا یہ ہاتھ۔۔۔۔۔۔!!
شفا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔۔
جب حمزہ نے اس کو بازو سے جکڑکرگاڑی میں لیجا کرپٹخا اور کہا ۔۔۔۔
تم سے تومیں گھر جا کے صحیح طریقے سے نمٹتا ہوں۔۔۔
ابھی ذرا پہلے اس سے تو دو دو ہاتھ کر لو ۔۔۔
حمزہ کی آنکھوں میں شفا کے لئے نفرت پنہاں تھی ۔۔۔۔
شدید نفرت۔ ۔۔۔۔!
ہی اس نومور۔ ۔۔!
ڈاکٹر نے اس کے شان پہ ہاتھ رکھ کے کہا اور آگے نکل گیا کہہ کے ۔۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔
آپ کیسے مجھے چھوڑ کر جا سکتے ہیں؟؟!
اٹھئے آنکھیں کھولئے۔۔۔۔
آپ کے سوا میرا ہے ہی کون؟؟؟؟
پلیز مجھے اس دنیا میں تنہا نہ چھوڑیں۔ ۔۔۔
مجھے بھی ساتھ لے جاتے ۔۔۔۔۔
جانے والے کو بھلا کوئی روک سکتا ہے ؟؟
ائمہ رخصت ہو کر پیا دیس سدھار چکی تھی۔۔۔۔
آج ولیمے کی تقریب تھی۔۔۔
وہ سجی سنوری دلہن بنی خوبصورتی سے تیار ہوئی۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی تھی مگر اس کے چہرے کی چمک ماند پڑگئی تھی۔۔۔
ایک ہی رات میں وہ سرتاپا بدل کے رہ گئی تھی۔۔۔۔
جبکہ برابر میں بیٹھا اس کا شوہر جلال سب سے بہت گہک کے مل رہا تھا ۔۔۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں تھی ۔۔۔۔
کاش اللہ پاک میری آنے والی نسلیں میرے لئے اچھی ثابت ہوں۔ ۔۔
نیک اور ایمان والی ہوں۔۔۔
آئمہ دلہن بنی اپنی ہی سوچوں میں مگن سی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والا وقت اس کے لئے کیا کیا سوچیں بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی اور آہستہ آہستہ تمام جیولری احتیاط سے اتار کرٹیبل کے اوپر رکھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
جب دھاڑ کی آواز سے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور جلال کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔
وہ آج بھی دو گھنٹے بعد آیا تھا کمرے میں کل کی طرح اس کے آنے کے بعد اور آج بھی اس کی حالت کل سے منفرد نہ تھی ۔۔۔
لڑکھڑاتے ڈگمگاتے قدم ۔۔۔۔۔
وہ آپ ہی تھی اپنے آپے میں نہ تھا ۔۔۔۔
لگتا ہے آج جتنا بھی میک اپ تھا چہرے پر تھوپ دیا ہے ۔۔۔
عائشہ کھانا نکال رہی تھی ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی ۔۔۔
سجی سنوری عائشہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔
جب اس سے تھوڑا فاصلے پر موجود داود نے ایک دفعہ پھر طنز کا تیر چلایا ۔۔
میری مرضی میں تھوڑا میک اپ کروں یا زیادہ ۔۔۔۔
یہ پھر پوری پیسٹری ہی نہ بن جاؤ۔۔۔۔
آپ کو اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔
عائشہ نے تڑخ کر جواب دیا۔۔۔۔
مجھے اس سے کیا؟؟؟
واقعی صحیح کہا۔۔
میں تو اس لئے کہہ رہا تھا کہ۔۔۔
زرا اچھا تیار ہوتیں تو۔۔۔
کیا پتا تم “جیسی” کو بھی کوئی آنکھوں کا اندھا اور سماعتوں سے بہرہ رشتہ دے ہی دیتا ۔۔۔۔
داود کو تو گویا موقع ہاتھ لگ گیا تھا۔۔۔
وہ ایسے کیسے اس کو ستائے بغیر سکون سے رہ سکتا تھا ۔۔۔؟؟؟
ایک منٹ۔۔۔۔
کیا کہا ؟؟؟؟
ذرا دوبارہ کہنا۔۔۔۔۔
” مجھ جیسی” سے آپکی کیا مراد ہے؟؟؟؟
عائشہ نے پلیٹ سائیڈ میں رکھی اور لڑاکو عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کےکڑے طیور لیے استفسار کرنے لگی ۔۔۔
یار اب میں کیا بولوں ماشاءاللہ تم خود بھی بہت سمجھدار ہو ۔۔۔۔
“تبھی تو گھر سے باہر ہو “۔۔۔
داود نے الٹی سیدھی ھانک لگائی۔ ۔
اللہ کرے آپکا جس لڑکی پہ دل آئے وہ چڑیل ہو۔۔
لنگڑی ہو ،لولی ہو،بدروح ہو۔۔۔۔
سب کچھ ہو۔۔۔۔۔۔
اپنے بارے میں کیا خیال ہے ویسے؟ ؟؟؟
داود نے تیوری چڑھائی۔ ۔۔۔
آپ دیکھنا میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا ۔۔۔۔۔
آخر میں اس نے کہتے کہتے فرضیہ کالر بھی جھاڑے ۔۔
اور اگر وہ لڑکی میرے سامنے کھڑی ہوئی ہے تو؟!! جس پر بقول تمہارےمیرا دل آگیا ہے ۔۔۔۔
وہ اب معنے خیزی بولا
منہ دھو رکھیں ۔۔
ہنہہ۔ ۔۔۔ اپنے آپ کو تو پہلے شیشے میں دیکھ لیتے بڑے آئے ۔۔۔
وہ غر آئی تھی اس کا دماغ بھک سے اڑھ گیا تھا ۔۔۔
۔
یار ایسا تو مت کہو ۔۔۔۔
اب میرا جس پہ دل آ چکا ہے۔۔
وہ کیا سوچے گی ؟؟؟
اگر اس کو پتہ چلا تو ؟؟؟؟تمہارے نادراورنایاب خیالات کا ۔۔۔۔
وہ ایکدم بات بدک گیا اور اب مصنوعی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے گویا تھا ۔۔۔
وہ کیا بولے گی مجھ سے کچھ!!میں خود اس کو بتاؤں گی کہ۔۔۔۔
وہ آتش فشاں بنی ہوئی تھی ۔۔۔
بولتے بولتے بے دھیانی میں جب اس کا پیر فرش پہ بچھے کار پیٹ میں الجھااور وہ زمین بوس ہونے کو تھی ۔۔۔
لگتا ہے عقل کے ساتھ آنکھیں بھی ادھار دے آئی ہو کسی کو ۔۔۔۔
داؤد نے اس کو کمر سے تھامتے ہوئے کہا اور سہارا دے کر گرنے سے بچایا ۔۔۔
آپ ۔۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ؟؟؟؟
حال یہ تھا کہ وہ اس کی باہوں کے حصار میں اس کے کرتے کو سختی سے مٹھیوں میں جھکڑے خود کو گرنے سے بچا بھی رہی تھی اور چیخ۔چلا بھی رہی تھی ۔۔۔۔
ارے ارے محترمہ کسی خوش فہمی میں مت رہنا میں نے تمہیں گرنے سے بچایا ہے ۔۔۔
اور ذرا غور فرماؤ تو اس وقت تم میرے سینے کے کئی بال اپنی جانگلوس والی گرفت سے شہید کر چکی ہو۔۔
داود نے تیوری چڑھا کر بتایا اور کہتے کے ساتھ ہی اسکی نازک سی کمر پر سے اپنے مضبوط بازوؤں کا حصار توڑ دیا ۔۔۔
اس کے جتانے پر عائشہ سٹپٹائی تھی اور سوچے سمجھے دھیان دیئے بغیر کہ۔۔
وہ اب داود کے مضبوط حصار سے رہا ہو چکی ہے۔۔۔۔
اس نے اس کا گریبان جھٹ اپنی مٹھیوں کی قید سے آزاد کیا تھا ۔۔۔۔
ابھی وہ ایک بار پھر دھڑام ہونے کو تھی ۔۔۔
جب داور نے لمحہ زایہ کئے بغیراس کو تھاما تھا ۔۔۔۔
پھر آہستہ سے سرگوشی کرتے ہوئے تھوڑا اس پہ جھکتے ہوئے بولا۔۔۔
دیکھ لو اس دفعہ پھر تم گرنے کو تھی۔۔
مجھے مجبور تاً تمہیں چھونا پڑا ۔۔۔
داود کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ عائشہ سے مزید اپنی پلکیں اٹھائی نہ گئیں اور وہ اسے اپنی نظریں چرا گئی تھی ۔۔۔۔۔
ابو یہ حمزہ کا کیا دماغ خراب ہو گیا ہے؟؟؟؟
عمر دندناتا ہوا شام کی چائے پیتے رحمان صاحب کے پاس آیا تھا مگر ادب کا دامن نہ چھوڑا تھا ۔۔۔
کیوں کیا ہوا بیٹا؟۔۔
یہ تم اس طرح کیوں کہہ رہے ہو؟؟
بڑا بھائی ہے تمہارا وہ۔۔۔
سمیرا نے بیٹے کو تمبیہی انداز میں ٹو کا۔۔۔
ا می بھائی ایسے نہیں ہوتے۔۔
آپ کو پتہ ھے آج انہوں نے مجھے کتنا شرمندہ کروایا ہے آفس میں ۔۔۔۔؟؟؟
عمر نے اب کی دفعہ قدرے دھیمی مگر ناراضگی سے پر لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔
ایک منٹ پتہ بھی تو چلے کہ آخر ہوا کیا آفس میں ایسا ؟؟؟
رحمان صاحب نے بیٹے کے بگڑے تاثرات کو جانچتے ہوئے کہا۔۔
وہ سمجھ تو چکے تھے کہ ان کا اتنا نرم خو بیٹا کسی معمولی بات پہ اتنا بر ہم کبھی بھی نہیں ہوا کرتا تھا ،۔
معاملہ کچھ زیادہ ہی بگڑا ہوا لگا تھا ان کو ۔۔۔
دوسری طرف آئمہ رحمان صاحب کے لئے پانی لے کر آرہی تھی ۔۔۔
وہ لان کے کھلنے والے دروازے کی اوٹ میں ہوتی وہی رک گئی۔۔۔
حمزہ کا ذکر سن کر اس کو وہیں تھم نا پڑا تھا ۔۔۔
آفس میں آج میٹنگ کے دوران حمزہ نے کلائنٹس کے سامنے مجھے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا ہے ابو ۔۔۔۔
عمر نے ابھی ابھی اپنی بات شروع ہی کی تھی جب حمزہ کی گاڑی مین گیٹ سے اندر آکر رکی کار پورچ میں اور وہ جارحانہ انداز میں شفا کو دوسری سائیڈ سے اتار کے کلائی سے تھامے گھسیٹنے کے انداز میں ان تینوں کے سامنے لایا اور ایک زور دار جھٹکے اسکو چھوڑا ۔۔۔
شفا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور عمر کے چوڑے سینے سے جا لگی ۔۔۔۔۔
یہ کون سا انداز ہے؟؟؟
عمر نے بہن کو اپنے حصار میں لے کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
غصے سے عمر کا دماغ گھوم گیا تھا ۔۔۔
رحمان صاحب اور سمرا بھی بوکھلا کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
جبکہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی آئمہ بری طرح لرز رہی تھی ۔۔۔
مجھ سے پوچھنے کے بجائے اپنی چہیتی بیٹی سے پوچھیں کہ یہ اس وقت کہاں تھی؟؟؟؟
حمزہ نے عمر کو بالکل اگنور کرکے سمیرا اور رحمان کو مخاطب کیا ۔۔۔
جیسے عمر کی اس کی نظروں میں کوئی اہمیت ہی نہ ہو ۔۔۔
شفاء بری طرح اسے عمر سے لی گئی سسکنے لگی تھی ۔۔۔
تم کب تک آؤ گے بیٹا ؟؟؟؟
ارمغان سے ماں نے پوچھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ حویلی میں اس وقت بالکل تنہا تھا رات کے نو بجنے والے تھے۔۔۔
کیا مطلب پتا نہیں؟؟؟؟
تہمینہ بگڑ کر غصے میں بولیں ۔۔
امی میں کچھ دن کے لئے ہربکھیڑے سے دور حویلی آیا ہوں دماغ کو پرسکون کرنے۔۔۔
پلیز مجھے کچھ دن تک پرسکون رہنے دیں کوئی سوال نہ کریں ۔۔۔
میں نے تم سے کہا بھی تھا کہ تم کراچی میں رحمان بھائی کے گھر چلے جانا ۔۔۔
مگر تم وہاں بھی نہ گئے ۔۔
امی میں وہاں بھی جاؤں گا۔۔
مگر ابھی میں کچھ دن کے لئے یہاں حویلی میں ہی ہوں۔۔۔
ادھر سے ان کے گھر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔
بے فکر رہیں وہاں پہنچ کے آپ کو انفارم بھی کردوں گا ۔۔۔
تہمینہ کچھ چپ سی رہ گئی تھیں۔۔
پھر گہرا سانس لے کر ایک دفعہ پھر گویا ہوئیں۔۔۔
تم جانتے بھی ہو اس حویلی سے کس طرح طرح کی باتیں منسوب ہیں؟؟؟
تم پھر بھی اس بند ویران حویلی میں تنہا جا پہنچے ہو۔۔۔۔
اماں مجھے اب خوف سے بھی خوف نہیں آتا ۔۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے خاموشی سے خداحافظ کرکے فون بند کردیا ۔۔۔
ابھی اس نے اپنی آنکھیں بند ہی کی تھیں ۔۔۔
وہ روکنگ چئیر پر بیٹھا اپنے اعصاب کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ تھنڈی ہوا کا جھو نکہ اس کو بہت قریب سے چھو کر گزرا تھا ۔۔۔
اس نے چونک کر اپنی آنکھیں فوراً کھولی تھیں ۔۔۔۔
