Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 8

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 8

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

کیا ہورہا ہے؟؟؟؟

رحمان صاحب روتی ہوئی ائمہ کے اوپر چلا کر بولے تھے۔۔۔۔

مجھے نہیں پتا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔

ائمہ نے سہم کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔۔

آپی پھر اندر شفا کے کمرے سے حمزہ کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں دھاڑنے کی اتنی زور زور سے؟؟؟؟

جنکہ غزل نے نرمی سے آئمہ سے دریافت کیا ۔۔۔۔۔

پتا نہیں سمیرا میں تو خود حمزہ کے کمرے میں گئی تھی!! اس سے بات ہی کر رہی تھی جب اچانک باہر کچھ گر کر ٹوٹنے کی آواز آئی تھی۔۔۔

تب حمزہ بھاگا تھا باہر!!

جب تک میں اٹھی اور کمرے کے باہر پہنچی تب تک حمزہ اپنے کمرے کے باہر نہیں تھا ۔۔۔۔۔

بس ایک کپ ٹوٹا پڑا تھا ۔۔۔

جب کہ شور کی آوازیں زور رو سے شفا کے کمرے سے آرہی تھی ۔۔۔۔

ایمانداری سے سچ سچ بتا گئی۔۔۔۔۔

مگر وہ دل ہی دل میں سہم کر رہ گئی تھی ۔۔

کہیں حمزہ نے اپنی بات پر عملدرآمد تو نہیں کر لیا؟؟؟؟

کہیں اس نے شفاء کے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کر دیا؟؟؟؟

آپنے بدلے کی آگ میں کہیں وہ ایک معصوم لڑکی کی نازوک عزت کو تار تار تو نہیں کر بیٹھا تھا ۔۔؟؟؟؟

ائمہ کے دل میں کئی خدشات جنم لے رہے تھے ۔۔

اس کے ذہن میں کئی خوفناک سوچیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہی تھیں ۔۔۔

عمر حواس باختہ ساہو کر اپنے کمرے سے نکلا تھا اور باہر کی صورتحال دیکھ کر بھو نچکا رہ گیا۔۔۔۔

وہ پریشان سہ بہن کے بیڈ روم کے دروازے کی طرف دوڑا تھا ۔۔۔۔

اس نے دروازہ زور سے پکڑ کر کھینچا بھی مگر دروازہ ھلا تک نہ اپنی جگہ سے ،۔۔

ماما دروازہ اندر سے لاکڈ ہے ۔۔

عمر نے ماتھے پہ آیا پسینہ اپنے بازو سے پوچھا ۔۔

میں دروازہ بچاتا ہوں ۔۔۔۔

رحمان صاحب پریشانی کے عالم میں بولے۔۔۔

نہیں آپ اس کی ایکسٹرا چابی لیکر آئیے جب تک میں دروازہ کھولو آنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔

عمر کے چہرے پہ موجود پریشانی کی جگہ اب غصے اور اشتعال نے لے لی تھی۔۔۔۔

اندر سے آتی آواز وں سے اس کو بہت کچھ سمجھ آ گئی تھی ۔۔۔۔

چند منٹ دروازہ بجانے کے باوجود بھی جب اندر سے دروازہ نہ کھلا تو باہر موجود وہ دونوں خواتین کھڑی مزید خوفزدہ ہو گئیں تھیں۔ ۔۔

سمیرا اور ائمہ کو اس نازک صورتحال کا بہت اچھے سے اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔نن

جسکا اب ان لوگوں نے کچھ دیر بعد سامنا کرنا

تھا ۔۔۔

عمر نے اپنی پوری طاقت صرف کرکے دروازہ آخرکار کھول ہی لیا تھا۔۔۔۔

سامنے منظر اس کے لئے تو کیا کسی بھی عزت اور غیرت کے مارے بھائی کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ ۔۔

عمر کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔

شفا نے وحشت زدہ نظروں سے باپ بھائی کے شعلے برساتے چہروں کو دیکھا تھا ۔۔

انرجی سیور کی روشنی بھی اس کے چہرے کی زردی کو نمایاں ہونے سے نہ بچاسکی تھی۔۔۔۔

کیا تماشہ ہے یہ سب ؟؟؟؟

عمر نے چنگھاڑتے ہوئے حمزہ کا گریبان پکڑ ا ۔۔

مجھ سے کیا پوچھتے ہو ۔۔؟؟؟

یہ اپنی بہن سے پوچھو ۔۔۔۔

ھمزہ نے طیش کے عالم میں آگ بگولا ہوئے عمر کے ہاتھ جھٹکے تھے اور اس سے بھی زیادہ تیز آواز میں دھاڑا۔۔

جبکہ باقی سب نفوسوں کو گویا سانپ سونگ گیا تھا۔۔۔۔

آئمہ کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا جبکہ غزل خود بھی زلزلوں کی زد میں تھیں۔۔۔

رحمان صاحب کو لگا جیسے آج کئی پوشیدہ باتیں جو اتنے عرصے سے راز تھی وہ آشکار ہونے کو ہے ۔۔

اس بات کا کیا مطلب ہے کہ یہ میری بہن ہے ؟؟؟

تم بھی اس کے بھائی ہو ۔۔۔

عمر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر طرف آگ لگا دے۔۔۔۔

پہلی بات یہ کہ یہ میری بہن نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر بہنیں اس جیسی ہوتی ہیں تو میں اکلوتا ہی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔

اس نے اکلوتے لفظ پہ زور دے کے بولا ۔۔

ہاں نہیں ہے یہ میرا بھائی اور یہی سچ تو میں جان گی تھی ۔۔۔

جس کی وجہ سے یہ شخص میرے ساتھ اس حد تک ۔۔۔۔

شفا سسکتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو جانتے بھی ہو کیا خرافات اپنی منہ سے بک رہے ہو ؟؟

اب کی دفعہ ائمہ نے حمزہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔۔۔

ماما جان یہ بات آپ مجھ سے نہیں یہ بات آپ رحمان صاحب سے پوچھا۔۔۔۔۔۔

کیوں بابا میں ٹھیک کہہ رہا ہوناکہ میں اکلوتا ہوں ؟؟؟؟؟

یہ لوگ میرے بہن بھائی نہیں ہے نا ؟؟؟؟

اس نے ائمہ کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ رحمان صاحب کو بھی مخاطب کر ڈالا تھا ۔۔۔

رحمان صاحب حمزہ کے اس قدر سفاک سوال پہ حق دق رہ گئے تھے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت یخلقت مفقود ہو کر رہ گئی تھی . ۔۔

بابا میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔

یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔

شفا نے ایک دفعہ پھر اپنی صفائی پیش کرنا چاہی۔۔۔

تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔

آپ دیکھ لیں اس نے کچھ بھی تو نہیں کیا ۔۔۔۔

یہ تو بہت شریف سیدھی سادھی لڑکی ہے کچھ کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔

حمزہ نے طنزیہ کہا اور اپنی طرف اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو ۔۔۔

میری حالت اور اپنی بیٹی کی حالت کو دیکھ کر خود ہی فیصلہ کرلیں ۔۔

۔کون کتنے پانی میں ہے ۔۔

رحمان صاحب اور ائمہ کو تو گویا جیسے سناٹوں نے آن گھیرا تھا ۔۔

جس رازکی حفاظت ان دونوں نے اتنے عرصے سے کی تھی وہ آج اس طرح سے فاش ہوگیا تھا بچوں کے سامنے ۔۔

بھائی آپ تو یقین کریں۔۔۔۔

آپ تو میری بات پر یقین رکھتے ہیں نہ ؟؟؟؟

یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے میں تو کوریڈور سے گزر رہی تھی جب اچانک ۔۔۔

چٹا خ۔ ۔۔۔۔۔۔

بس اب ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔۔۔

شفا کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب سمیرا نے آگے بڑھ کر بیٹی کے چہرے پر زور سے زناٹے دار چماٹا جڑ دیا تھا ۔۔۔

اگلے دن شام کے وقت ۔۔!!!

کیا میں شفا رحمان سے مل سکتی ہو ؟؟؟

فجر نے دوسری دفعہ بیل پہ ہاتھ رکھا ہی تھا بجانے کو جب ایک لمبا تڑنگا چوکیدار نمودار ہوا ۔۔۔

آپ کون ہو بی بی جی اور کیوں شفا بیٹی سے ملنا چاہتی ہوں ؟؟؟

چوکیدار نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔

کیونکہ کل ہی تو حمزہ نے سختی سے کہا تھا کہ شفا کے بارے میں کوئی بھی پوچھے تو کچھ بھی مت بتانا ۔۔

میں شفا کی دوست ہوں ۔۔۔

شفا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔

اس لئے اس سے ملنے آئی تھی۔۔۔

فجر نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا ۔۔۔

اچھا آجائیے ۔۔۔۔

چوکیدار نے اندر آنے کی اجازت دی تھی اور لان میں رکھی کین کی کرسی اس کی طرف بڑھائی ۔۔

بی بی جی آپ یہاں بیٹھ کر انتظار کریں۔ ۔

ابھی سب لوگ ہسپتال گئے ہیں۔۔۔

شفا بی بی کو لے کر ۔۔

ہوسکتا ہے کچھ دیر میں واپس آجائے ۔۔۔۔

مگر کتنی دیر ؟؟؟

فجر نے بوکھلا کر پوچھا تھا کیونکہ وہ تو بھائی کو واپس بھیج چکی تھی ۔۔۔۔۔

یہ تو مجھے علم نہیں۔۔۔۔

مگر آپ تھوڑا ٹائم دیکھو پھر چلی جانا ۔۔۔

وہ کیمرے سے دیکھ چکا تھا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ آئی تھی ۔۔

جی بہتر وہ بھی مجبور تھی ۔۔

کیونکہ اکیلے جا نہیں سکتی تھی ہمیشہ بابا یا بھائی ہی اس کو ہر جگہ چھوڑتے اور لیتے تھے ۔۔۔

کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا ۔۔؟؟؟

ارمغان چوکیدار کے ساتھ اندر آتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

جی ارمغان بابا سب خیریت ہے بس شفاء بی بی شاید بیہوش ہو گئی تھیں۔ ۔۔

اس لئے ان کو اسپتال لے کے گئے ہیں ۔۔۔

چوکیدار اس کو بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اس کی مالکن کا لاڈلا بھانجا ہے ۔۔

اس لئے بغیر کسی تفشیش کے اس کو اندر آنے کی اجازت دے ڈالی تھی ۔۔۔

کچھ پتہ ہے کون سے اسپتال گئے ہیں؟؟؟

ارمغان نے اپنی ہلکی بڑی ہوئی شیخ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔۔۔

بابا یہ تو ہم کو نہیں معلوم ۔۔۔۔

چوکیدار نے خوامخواہ شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اچھا چلیں ٹھیک ہے میں فون کر کے پوچھتا ہوں ۔۔

۔

اس نے کہتے کہ ساتھ ہی اپنے موبائل میں موجود عمر کا نمبر ملا ڈالا جو مسلسل بزی جا رہا تھا ۔۔۔۔۔

چلیں کوئی بات نہیں ۔۔۔۔

میں انتظار کر لیتا ہوں ہو سکتا ہے تھوڑی دیر میں آ جائے ۔۔

اس کو مناسب نہ لگا تھا اب مزید کال کرنا اس لیے چوکیدار کو مطمئن کرنے کو کہا ۔۔۔

بابا اگر آپ کہو تو اندر کا دروازہ کھلواؤ گھر کے ۔۔۔۔

بوہ ہوگی اندر۔۔۔۔

نہیں رہنے دو میں بس لان میں ہی بیٹھ جاتا ہوں ۔۔۔۔

لان میں پہنچ کر وہ ٹھٹک کر رک سا گیا تھا ۔۔۔

لان میں بیٹھی لڑکی سوہا تو ہرگز بھی نہ تھی ۔۔۔۔

اس الجھن بھری نظروں سے چوکیدار کو دیکھا تھا۔۔۔۔

بابا یہ شفاء بی بی کی دوست ہیں۔۔۔

ان سے ملنے کے واسطے آئی ہے۔۔۔

وہ اس کی الجھن بھانپتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

پرانا ملازم تھا برسوں سے چوکیدار تھا رہمان صاحب کے گھر کا ۔۔

تمام ہی رشتے داروں کو اچھی طرح پہچانتا تھا ۔.

ٹھیک ہے ۔۔۔۔

ارمغان بھی اس کے سامنے موجود کین کی کرسی کھسکا کر ۔۔ اس کے مقابل ہی بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

بیچ میں ایک گول ٹیبل تھی سفید رنگ کی ۔۔۔

جس کے اوپر چھتری لگی ہوئی تھی ۔۔

اسلام وعلیکم ۔۔۔۔

ارمغان نے سلام کیا ۔۔۔

وعلیکم السلام ۔۔۔۔

فجر نے بے رخی سے جواب دیا تھا۔۔

انداز ایسا تھا جیسے سلام کا جواب دے کر بہت بڑا احسان کیا ہو اسکی کی ذات پر ۔۔۔

ویسے محترمہ لڑکیوں کو اپنے حواسوں میں رہنا چاہیے ہمیشہ خاص کر کسی غیر کے گھر ہوتو ضرور ۔۔۔۔

ارمغان نے اپنے تئیں ہلکی پھلکی بات کا آغاز کیا تھا ۔

میں نے آپ سے مشورہ نہیں مانگا۔۔۔۔

فجر نے روکھے لہجے میں جواب دیا اور دوپٹے کو مزید پیشانی پہ گرایاں ۔۔۔۔

ارمغان نے بڑی دلچسپی سے اس کی یہ حرکت نوٹ کی تھی ۔۔۔

اندر سے وہ ارمغان کی موجودگی سے کچھ خوفزدہ بھی ہو رہی تھی مگر ہنوز خود کو پراعتماد ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔

میں تو ایک بات کر رہا تھا آپ شاید برا منا گئ۔۔۔

ارمغان کے لہجے کا ٹھہراؤ گھمبیر آواز فجر کو مزید کچھ بھی تمیزی کرنے سے بعض دکھ رہی تھی ۔۔۔

فجر خامخوا ہاتھ میں تھاما رجسٹر کھول کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

ارمغان نے ایک نظر اس چھوٹی سی لڑکی پر ڈالی جو اسے تو کافی چھوٹی لگی تھی۔۔۔

اس کی معصومیت اور اس کے چہرے پر موجود نور اور پاکیزگی ۔۔۔

اس کو لمحے بھر کے لیے کھٹکا گئی تھی۔ ۔۔۔

اپنی زندگی میں اس نے پہلی دفعہ اتنا پیارا اور پرنور چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔

بلا کی معصومیت تھی چہرے پر تھوڑی تھوڑی دیر میں دوپٹے کو پیشانی پہ کی چھینچتی ۔۔

وہ نازک سی لڑکی ڈھلتی شام کا ہی خوبصورت حصہ لگ رہی تھی ۔۔۔

بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی۔۔۔

ارمغان کی آنکھوں میں ایک سایہ سا لہرایا تھا ۔۔۔

جب کہ فجر اس کی آنکھوں کی تپش سے کچھ خائف ہو کر مزید خود میں سمٹتی ۔۔

پہلو پہ پہلو بدل رہی تھی ۔۔۔

ارمغان نے اپنا دھیان بٹانے کی غرض سے سگریٹ کے ڈبے میں سے سگریٹ نکالی تھی اور اس کو جلانے کے لیے لائٹر کا استعمال کیا ہی تھا جب ۔۔۔۔۔

نہیں ایسا نہیں کرو ۔۔۔۔

تم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔

مجھے جانے دو یہاں سے ۔۔۔

بچاو۔۔۔

بچاو۔۔۔

کوئی تو میری مدد کرو ۔۔۔

بچاو۔۔

بچاو۔۔۔

بچاو ۔۔۔

وہ دیوانہ وار زور زور سے چیخ رہی تھی ۔۔۔۔۔