Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 52 (Last Episode)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 52 (Last Episode)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

“ایسے تو ہم آپ کو قطعی بیڈروم میں جانے نہیں دیں گے پہلے ہماری جیب گرم کریں اس کے بعد آپ کو ہماری پیاری سی بھابی بیگم کے دیدار کا شرف حاصل ہوسکے گا ۔۔۔۔”

کیوں فجر ٹھیک کہا نہ ۔۔؟؟

شفا نے آنکھ دبا کے فجر سے تائید چاہی لبوں پہ شوخ و شنگ مسکراہٹ تیر رہی تھی دونوں کے۔ ۔۔

ایک دم درست فرمایا!!

” ہم دونوں عمربھائی تھانے دار نیاں ہیں اس وقت آپ کے بیڈ روم کے باہر دلہن کی حفاظت کرنے کے لئے مامور ۔۔۔۔۔۔”

شفا اور فجر عمر کے بیڈروم کے دروازہ کے باہراسکا راستہ روکے کھڑی تھیں۔

“ارے بھئی میرے بچے کو تنگ مت کرو اور اس کو جانے دو تھک گیا ہے وہ بہت بچارا اسٹیج پر بیٹھنا کوئی معمولی بات ہے چلو نکلو تم نگوڑیوں یہاں سے۔۔۔۔۔”

“یہ چیز میری اچھی بڑی امی” ۔۔

عمر چوڑا ہوا ہمدردی پاکہ۔ ۔۔۔۔

جبکہ ائمہ نے شفا اور فجر دونوں کی بڑی فراخدلی سے ڈانٹ لگائی۔۔

“ایسے کیسے یہی تو وقت ہے اس کنجوس سے رقم نکلوانے کا ۔۔۔۔”

“ہاں تو اور نہیں تو کیا یہی تو وقت ہے اس سے اپنی تمام باتیں منوانے کا”۔۔۔

“خالا جانی آپ بھی۔ ۔۔”

عمر نے معصوم سی شکل بناکہ کہا۔ ۔۔

” ہاں تو میں تو تھالی بینگن ہوں “۔۔۔۔

غزل تفریوں میں اپنے نام کی ایک تھی۔۔

دلہا جی ذرا ایک بات طے ہو جائے آج کہ آپ ہمیشہ ہماری بات مانیں گے دلہن کی بعد میں سنیں گے کہو منظور ہےیق نہیں؟ ؟؟

غزل نے بھی مزید لقمہ دیا ہنستے ہوئے جبکہ سمیرا نے دونوں لڑکیوں کے گرد شانوں پہ ہاتھ رکھ کے سائیڈ لی انکی ۔۔۔

” میرا بچہ تو بالکل تنہا ہے میں ہوں تیرے ساتھ ساری رات بھی اگر یہاں گزارنی پڑی تو گزادونگی۔ ۔۔۔”

ائمہ نے کچھ اس ادا سے لاڈ کا مزاہرہ کیا کہ وہاں موجود سبھی افراد ھنس دئئے جبکہ عمر کھسینا بلا بنا دروازہ نوچنے نہی بلکہ توڑنے کو تھا۔ ۔

“میں کیا کروں میں تو خود مضلوم ہوں تمہاری بھابھی صاحبہ نے اسٹیج پر بیٹھتے ہی میری جیب خالی کر ڈالی تھی والٹ ہتھیا کہ اور کہا تھا کہ خبردار جو میری نکمی نندوں کو ایک دھیلا بھی دیا ہو تو” ۔

حیرت انگیز طور پر اس وقت ارمغان اور حمزہ غائب تھے ورنہ وہ دونوں تو اس کے بچاؤ کے لیے ضرور حاضر ہوتے ۔۔

“دیکھیں عمر بھائی ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے کہ بھابھی ہماری میسنی نکلی ہے” ۔۔۔

” ہمیں تو بس اپنے نیک سے مطلب ہے اگر بھابھی کا دیدار کرنا ہے تو جلدی سے نیگ نکالیں اور ہمیں چلتا کریں ورنہ ہم یہاں دھرنا دے دیں گے ایک نہ دو دن بلکہ پورے ہفتے کا اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔”

شفانے کہتے ہوئے فجر کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو بیٹا عمراندر تو جائو ابھی امتحان اور بھی ہیں۔

” اچھا یہ لو میرا وولٹ اور اب میرا پیچھا چھوڑو میری بہنوں وہاں اندر میری دلہن میری منتظر ہے میں مزید انتظار کی کوفت میں دبلا ہونے نہیں دے سکتااسکو۔ “

عمر نے دونوں کو والٹ تھما کہ باقی سب کے ساتھ چلتا کیا اور خود جلدی سے اندر کمرے میں گھس گیا ۔۔۔

۔۔۔

“انتحا ہوگئی انتظار کی آئی نہ ایک جھلک میرے یار کی۔۔۔۔۔۔”

عمر نے گانے کولنگڑا لولا کرڈالا اور جلدی سے گاتا ہوا کمرے کا دروازہ اچھی طرح سے لاک کر کے مکمل اطمینان کر لینے کے بعد وہ بیڈ کی طرف آیا جہاں لائبہ مکمل گھونگھٹ کئے ایسے بیٹھی تھی جیسے چہرہ نہ دیکھ لینے کا عہد کر رکھا ہو۔ پورا سراپا دوپٹے میں چھپا ہوا تھا سر سے پیر تک !!

چند لمحوں کیلئے تو عمر کو لگا جیسے وہ کوئی انیس سو نا معلوم کی دلہن ہو اور وہ ففٹیس کے زمانے کا دولہا ۔۔۔

“آج نہ چھوڑوں گا تجھے دن دنادن” ۔۔

عمر فل چھچور پن پہ آمادہ دھپ سے بیڈ پہ کودنے کے انداز میں گرکہ کونہی نیم دراز ہوا ۔۔۔

پیڈ پر بیٹھا ہوا جود عمر کی بے ہودہ گوئی اور چھچھورپن کی کنگنآہٹیں سن کر شاید حیرت و بے یقینی کی۔ آخری حودود کو چھوتا بے ہوش ہونے کے قریب تھا ۔

“دیتی انویٹیشن یہ تیری جوانی

دل کرے کروں تجھ سے چھیڑخانی

مانتا نہیں ہے یہ دل بڑا اناڑی ۔۔۔”

عمر نان سٹاپ ایسے گانا شروع ہوا جیسے دنیا کا سب سے مشہور سنگر ہو۔

“یار کچھ تو کہو دیکھو آج میں کتنے منفرد انداز میں تم سے سے مخاطب ہوں “۔۔

“ذرا پردہ اٹھا دوں

زرا مکھڑا دکھادو

میں تیرا گھر والا ہوں

کوئی اور نہیں

ارے میں تجھ پہ مرنے والا ہوں ۔”

آج نہ جانے اس کو یہ سارے گانے کہاں سے دماغ سے ہوتے ہوئے زبان پہ آ رہے تھے اور وہ بڑے مزے کے موڈ میں گنگنائے چلا جا رہا تھا اور پھر تھوڑا سا جھک کہ عمر نے لائبہ کے گھونگھٹ میں سے ہاتھ ٹتولنا چاہا مگر لائبہ اسکے گھونگھٹ الٹنے کیلئے ہاتھوں کو بڑھتا دیکھ مزید اپنا عروسی دوپٹہ پیروں کے نیچے دبا گئی ۔۔۔

آج عمر اپنی عادت کے برخلاف جان کے اس طرح تفریح کے موڈ میں کمرے میں آیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اب دوبارہ سے کوئی بھی چپکلش یا پھر لائبہ کے دل میں کوئی برائی پیدا ہو۔

وہ اب اس کو ایک نئی اور مکمل زندگی دینے کا خواہا تھا جس میں تلخ یادیں اور تکلیف دا باتیں استک چاہ کر بھی بھٹک نہ سکے ۔

اس لئے وہ آج کی رات کو ایک مکمل اور بہترین یاد بنا کے نئی شروعات کرنے کا متمنی تھا ۔۔۔۔

“ارے بس بھی کرو اتنا شرمانہ “۔

تمہارا شوہر ہوں کیا خیال ہے اب دیدار ہوجائے ؟؟

وہ کہتے ہوئے گھونگھٹ کے اندر موجود ہنستی یا پھر کا نپتے وجود کا مکھڑا دیکھنے کی غرض گھونگھٹ الٹنے کو تھا ۔

“چھچورا پیا

چھچورا پیا

تو ہے بڑا کوئی

چھچورا پیا “

ارمغان نے ہاتھ ہلا ہلا کے گانا شروع کیا بلکہ یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ ناکے ڈانس کرنا شروع کیا تھا ۔۔

کھودا پہاڑ نکلا چوہا گھونگھٹ کے اندر سے بجائے لائبہ کے برآمد ہونے کہ ارمغان نے یکدم اپنا دیدار کا شرف بخشا تھا۔

عمر اچھل کے بیڈ سے نیچے گرا وہ دم بخود ہی تو رہ گیا تھا بھلا دلہن کے بجائے یہ دلہن نما مرد کہاں سےنمودار ہوگیا تھا اس کی سیج سجانے کو ۔۔

عمر جیسے کچھ بولنے کی حالت میں ہی نہ تھا اس کی تو سدھ بدھ ہی کھو چکی تھی وہ خاموش ہیران پریشان سرمغان کو دیکھتا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

” ایسے نہ مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لونگا ۔۔۔”

“ابے تجھے سینے سے لگانے سے پہلےبہتر ہےکہ میں اس گاؤتکیے کوگلےسے نہ لگا لو “۔۔

آورتوکیا کر رہا ہے یہاں پہ ؟؟؟

عمر اپنی شرمندگی چھپاتا جھینپ مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے خشمگیں نظروں سے ارمغان کوگھورتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔

“”دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے ۔۔ “””

ارمغان نے مزید اس کو چھڑانے کے لیے ہانک لگائی ۔۔

میں نے ماری اینٹریاںں

تو دل میں بجی گھنٹیاں

رے ٹن ٹن ٹن ٹن ۔۔۔

حمزہ بیڈ کے نیچے سے برآمد ہوا بالکل عمر کے انداز میں گاتا ہوا وہ عمرکے سینے سے جا لگا ۔۔

اور اب حمزہ اور مان ملکر دونوں کمرے میں بھنگڑا ڈالنے میں مصروف تھے ۔۔

بغیرتوں تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟؟

میں نےکیا تھا تم دونوں کی شادیوں کے وقت ایسا گندا مذاق؟؟؟

ابھی عمر کا ایک غم غلط نہیں ہوا تھا جب بیڈ کے نیچے سے حمزہ گاتا ہوا پھڑکتے انداز میں نکلا ۔۔

بغیرتوں تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟؟

میں نےکیا تھا تم دونوں کی شادیوں کے وقت ایسا گندا مذاق؟؟؟

جلدی سے میرے کمرے سے تم دونوں نودوگیارہ ہو جاؤ اور بتاؤ میری امانت کہاں ہے؟؟؟

“اتنی دیر میں مجھے ہاٹ اٹیک ہو جانا ہے اس منہوس دلہن کو دیکھ دیکھ کے۔۔۔۔”

عمر نے حمزہ کو کہا ارمغان کو خون آشام نظروں سے گھورتے ہوئے بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں کا سر ہی پھاڑ دے۔ ۔۔

“آجا پیا تجھے پیار دوں پیاسی بہاہیں تجھ پہ واردوں۔ ۔۔”

حمزہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے عمر کے غصے کا جواب کوئی بہت ھی پھڑکتے ہوئے گانے کو گا کہ دیا ۔۔۔۔

“بھائی تم بھی اس چور پن میں شامل ہوں خدارا تم لوگ بیوی تک پہنچا دو مجھے میری”۔۔۔

” ابے او انسان بن پہلے ہم تو اپنے ارمان پورے کرلیں”

مان نے کہا آج وہ بالکل بھی عمر کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔

آرزو پوری کرو اپنی والیوں سے لنگوروں میرے ارمانوں کا کیوں گلا گھوٹنے کوآندھمکے ہو؟؟؟؟

عمراب مزید لڑائی جھگڑے کرنے کے بجائے معاملے کو نرمی سے لے دے کر حل کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔

” ہمارے ارمان آنسوؤں میں بہ گٙئے تیری والی جانے کے بعد ہم ادھر ٹرانسفر ہوگئے۔ ۔۔

تو کیسے خوش رہے گا اکیلےچل اب ہم تینوں کبڈی کھیلتے ہیں ۔۔۔۔”

مان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ سے بھنگڑا ڈالنا شروع کیا ۔۔

“مت سوگ منا میرے بھائی میری بیوی اور اسکی بیوی اور تیری بیوی !!تینو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہیں ۔۔۔۔”

کک۔ ۔۔۔کیا واقعی؟ ؟؟

عمر رونی صورت بنا کر بولا اسکور ہے رہے کہ اپنے ارمانوں کا اس طرح سے ناس ہوجانا غمگین بنا گیا تھا ۔

ہاں جی سچی پاجی! !!

حمزہ اور ماننے ایک ساتھ زور سے کہا ۔۔

یہ لے بھائی اب آپ کی دلہن آپ کے حوالے خوش ہو جائیں۔۔۔۔”

شفا اور فجر لائبہ کو کمرے میں چھوڑ کے یہ جا وہ جا ۔۔

جناب اب کیا میں خود چل کے آؤں؟ ؟؟

وہ شوخ لہجے میں بولی۔۔۔

نہیں تو کیا پوری بارات دوبارہ کمرے میں لے کر آؤ کہو تو؟؟؟

اچھا نہ چلو اب موڈ کرو اپنا سب کی طرف سے میں سوری کرتی ہوں۔۔۔”

لائبہ نے حناء آلود ہاتھ جوکہ چوڑیوں سے سجے تھے کانو تک لیجاکہ سوری کری۔۔

چہرے پہ بلا کی معصومیت تھی جبکہ آنکھوں میں شریر ترین مسکراہٹ ہچکولے لے رہی تھی۔۔

نہیں اسے تو میں نہیں مانوں گا یار شوہر ہوں تمہارا اور پیا کو منانے کا ہنر بھی سیکھ لیتی اتنی دیر میں ان دونوں چڑیلوں سے ۔۔”

بیویاں تو نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلتی ہیں اپنے روٹھے پیا کو منانے کے لئے اور ایک تم ہو۔ ۔۔!!

!روٹھے روٹھے لہجے میں کہا گیا ۔۔۔

“عمر پلیز مجھے وہ خاص ٹرکس فلحال ازبر نہیں ہے اس لیے مجھے تو معاف ہی رکھیں اور ویسے بھی رات بہت ہوگئی ہے اور تھکن بھی بہت زیادہ ہو رہی ہے میں تو چلی چینج کرکے سونے کے لئے ۔”

کک۔ ۔۔۔کیا کہا پھر سے کہنا ذرا ۔۔؟؟؟

وہ خشمگین لہجے میں کہتا چٹخ اٹھا چہرے کے تیور بگڑے ۔۔۔

یہی کے مجھے آپ نیند آرہی ہے۔۔۔”

وہ اباسی لیتی آنکھوں میں نیند کا خمار لیے واقعی نیند میں جھوم رہی تھی ۔۔

آؤ تو پھرمیں تمہیں لوری دے کے سلاتا ہوں بہت اچھی والی۔۔۔”

وہ کہتا ہوا اس کی طرف بڑھا تھا اور ایک جھٹکے سے اس کو بازو میں بھر کر پھولوں سے سجی سیج تک لے آیا ۔۔

عع۔ ۔۔۔عمر پلیز میں تھک گئی ہو ۔۔۔۔”

شششش۔ ۔۔!!!

فکر نہیں کرو تمہاری تھکن خود میں سمیٹ لونگا۔۔۔۔۔۔۔”

عمر نے اس کے کپکپاتےلبوں پر اپنی انگشت شہادت رکھ کے گویا چاموش کروایا ۔

کچھ مت بولو بس ان لمحوں کو محسوس کرو بہک نہ جائو توکہنا ۔۔۔”

سکا ۔

بوجھل لہجے میں کہتا آہستہ سے اپنی انگشت شہادت سے لائبہ کے سرخ رخصار کو چھوا تھا ۔۔۔۔

میں تم سے آج خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنی پاکیزہ محبت کا اقرار کرتا ہوں لائبہ۔ ۔۔۔”

میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں بہت بڑے بڑے دعوے ہرگز نہیں کروں گا بس یہ جانتا ہوں جب سے میرا اور تمہارا یہ پاکیزہ رشتہ وجود میں آیا ہے میں اپنے ایمان سے کہتا ہوصرف تمہارا ہوا ہوں تمہی کو سوچا ہے اور تمہی سے دلی وابستگی پیدا ہوئی ہے اور تمہی میرے دل کی ملکہ ہوبس۔ ۔۔”

تم نے میری زندگی میں آکر میری زندگی کو بہت خوبصورت بنا دیا ہے مجھے مکمل کر دیا ہے تمہارے وجود نے لائبہ ۔۔۔”

آنکھوں میں خمار تھا لب و لہجے میں اس کو پالینے کا غرور نشہ بن کر گنگناہ رہا تھاچارسو اپنی موجودگی کا اس احساس دلانے پہ بضد تھا۔

چہرہ خوشی سے کھلا پڑا تھا آنکھوں میں آلوھی سی چمک لیے وہ لائبہ پہ چھکا۔۔۔۔

میرا دل تمہارا طلبگار بن بیٹھا ہے لائبہ کیا آج مجھے اجازت ہے تمہاری روح سمیت تمہارے وجود کو تصخیر کرنے کی؟؟؟

لائبہ اتنے پیارے اقرار محبت پہ دنگ سی رہ گئی تھی تمام تر حقوق کا مالک ہونے کے باوجود وہ آج بھی اس کو اس کی اجازت کے بغیر اپنا جائز حق وصولنے سے گریزاں تھا۔

کتنا پیارا تھا وہ؟؟

کیسی پاکیزہ اور مقدس محبت کی تھی اس نے کہ اسکے جسم کے بجائے روح کو چاہتا تھا۔۔!!

میں بھی آج آپ سے اقرار کرتی ہوں کہ مجھے صرف آپ سے محبت ہے۔۔۔”

میں آپ کی ہو اور ساری زندگی آپ کی محبتوں پر صرف میں ہی قابض رہوں گی”

وہ کھلے دل سے اقرار کر بیٹھی تھی کیونکہ وقت پہ ہی محبت کا جواب پورے خلوص اور اپنائیت سے دے دینے میں عقلمندی اور دلی اطمینان کے ساتھ روح کا سکون بھی وابستہ ہے۔۔

تو پھر اجازت ہے ؟؟؟

وہ اس کی تھوڑی اونچی کرکے مخمور لہجے میں استفسار کر رہا تھا۔۔

لائبہ نے شرماکہ حیاء سے اپنے حنا آلود ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ لیا ۔

عمر اس کو خود میں سمیٹتا چلا گیا ۔۔

کانچ کی گڑیا کی طرح وہ اس کو نرمی سے صندل کرتا ا سکے پور پور کو اپنی بے لوث محبتوں کی پھوار سے بھیگوتا چلا گیا ۔۔۔

بیٹا اگر پانچ منٹ اور وہاں رکتے تو شامت پکی تھی عمر ہم دونوں کا بھیڑیا بنا دیتا اور ہماری بیویاں ہماری حالتوں پہ افسوس کرنے کے بجائے زندگی بھر تاک تاک کے ظنزوں کے تیر چلاتی پھرتی ۔۔

نہیں تیری بھابھی بہت معصوم ہے وہ تو بے چاری۔۔۔”

ارے فجر بھابھی یہ دیکھیں مانی بھائی کیا کہہ رہے ہیں آپکےبارے میں ذرا۔۔۔۔”

حمزہ نے کچن سے چائے کا کپ لئے فجر کو نکلتے دیکھ کے ہانک لگائی۔۔۔

یقین ہے کچھ بہت ہی اچھا کہہ رہے ہونگے ۔۔”

فجر ہمزہ کی شرارت بھانپ کر آنکھوں میں مسکراہٹ لیے مان کو دیکھ کے بولی۔۔۔

نہیں بھابھی مانی کہہ رہا تھا کہ آپ کو کہ۔۔۔۔۔

حمزہ کی بات لبوں میں ہی رہ گئی جو فجر نے جلدی سے اس کا جملہ اچک لیا۔

میں بہت معصوم اور سادہ ہو کبھی ان کو غلط کہیں نہیں سکتی ہیں نہ ۔۔۔؟

ہیں آپ کو کیسے پتا ؟؟

حمزہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔

فجر کے اس قدر درست اندازے پہ ۔

مجھے تو اور بھی بہت کچھ پتہ ہے دیور جی ذرا اپنے بیڈ روم میں تو جائیں شفا کافی دیر سے وومیٹنگ کر رہی ہے ۔

اوئے ہوئے تو کیا جو میں سمجھ رہا ہوں وہی ہے نہ فجر؟؟؟؟

ارمغان نے خوشی کا نعرہ بلند کیا ۔

جی ہاں بالکل خیر سے آپ ہی کی لائن میں آنے والے ہیں جناب۔۔۔”

فجرکھلکھلا کے ہنستی ہوئی مان کا ہاتھ پکڑ کے لان کی طرف نکل آئی اس کا ارادہ تازہ ہوا لینے کا تھا ۔۔

یار یہ کیا بات ہوئی ہے ایک کپ چائے کا لیے تم

مجھے لان میں لے آئی ہوں میں کیا خالی پیلی تمہیں چائے پیتے دیکھوں گا ۔۔؟؟؟

جناب یہ چائے میں نے آپ کے لئے ہی بنائی ہے نہ کہ اپنے لیے ۔۔”

فجر نے تیوری چڑھا کے جواب دیا۔۔

تمہارا بہت شکریہ ۔۔۔”

وہ تاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھی اور مان اپنے برابر میں بیٹھے چاند کو۔۔۔۔

چائے کے لئے شکریہ کرہے ہیں؟ ؟؟

استفسار ہو ا۔۔

نہیں کائنات کے لئے ۔۔”

بہت خوبصورت تحفہ تم نے مجھے دیا تم نہیں جانتی ہو فجر جب سے کائنات میری زندگی میں آئ میری زندگی مکمل ہوگئی ہے مجھے لگتا ہے ہم اور تم اب کبھی علیحدہ نہیں ہونگے اب۔۔۔۔”

تاروں بھری رات ٹھنڈی ہوا اعصاب کو پرسکون کر رہی تھی۔

مان کے پیار سے اظہار محبت کرنے پہ فجر مسکرا دی۔۔۔

مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے ۔۔”

کہو پوچھ کیوں رہی ہو ؟؟؟

مجھے ہماری آبائی حویلی میں اپنی باقی کی زندگی بسر کرنا ہے جہاں میرے بھائیوں اور والدین کی خوشبو بستی ہے ۔”

مگر۔۔۔۔۔۔فجر۔ ۔”

پلیز ۔۔!!!مان اس کو میری خواہش سمجھیں ۔۔”

دادی جان تائی اور ہم پلیز واپس حویلی میں جاکے رہیں گے کائنات کے ساتھ وہ ادھر ہی پلی پڑھے گی جہاں ہم دونوں کا بچپن گزرا ہے۔۔۔”

ٹھیک ہے۔۔۔”

جیسی تمہاری خواہش ۔”

مگرمان پلیز مجھے آئندہ زندگی میں کوشش کیجئے گا حماد صاحب نا می بھیڑیے کا دیدار کرنا نصیب نہ ہو اور میری بچی پر اس شخص کا کبھی پرچھاواں بھی مت پڑھنے دیجئے گا میں بہت مشکل سے خود کو اس درد ناک کیفیت سے نکالنے کی کوشش کررہی ہوں دوبارہ سے اس شخص کو اپنی زندگی میں دخل اندازی کرتے دیکھ میں برداشت نہیں کر سکوں گی کوشش کیجئے گا وہ شخص دوبارہ میری آنکھوں کے سامنے نہ آئے ۔۔۔”

فجر ان کو ان کے کیے کی سزا قدرت نے دے دی ہے اور آئندہ بھی ملتی رہےگی تم اب بس اپنے اور ہمارے بارے میں سوچو ۔۔۔”

بس مان میں نے بہت سوچا کہ میں اپنا دل اتنا بڑا کرسکوکہ حماد صاحب کو معاف کرنے کی گنجائش نکل آئے مگر میں خود کو اس معاملے میں بے بس تصور کر رہی ہو ۔۔۔”

انہوں نے غلط کیا اور غلط کا انجام ہی عبرت پہ ہوتا ہے ۔۔”

فجر نے کہتے کے ساتھ ہی مان کے شانے پر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔۔”

بس اب پرسکون ہونا چاہتی ہو جیسے ۔۔۔

خدا تیرا شکر ہے جو حماد نامی درندے کو دنیا کے سامنے عبرت کا نشانہ بنا دیا ۔۔۔”

دو موتی فجر کی آنکھوں سے گر کر مان کے شانے میں جذب ہوئے تھے مگر وہ بہت پرسکون تھی ۔۔۔۔

کوئی آدھے گھنٹے سے وہ واشروم میں واش بیسن میں منہ دیے کھڑی۔۔

بدحال سی الٹیاں کئے جا رہی تھی کافی دیر تک فجر اس کی پشت سہلاتی رہی اور جب کچھ دیر کے لئے اسکی طبیعت سنبھلی الٹی تو وہ اس کو سہارا دے کے بیڈروم میں لے آئی ۔

فجر کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ایک دفعہ پھر شفا کا دل متلایا تھا اور وہ دوبارہ واش روم میں بھاگی تھی منہ پہ ہاتھ رکھ کہ ۔۔

حمزہ خوشی سے جھومتا ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر کمرے میں آیا تھا مگر کمرے میں شفا کو نہ پا کر پریشان سہ ہو اٹھا اور ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ڈریسنگ روم کے برابر میں تھوڑے فاصلے پر موجود واش روم کا دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا اور نلکے سے پانی بہنے کی آواز آرہی تھی ساتھ ہی شفاکی کے کرنے کی بھی وہ دوڑا دوڈا ادھر ہی چلاآیا۔۔۔

شفا کی طبیعت مزید خراب ہونے کے ڈر سے وہ کمرے میں ٹھہرا نہیں تھا اسی لیے سیدھا واش روم میں ہی آ گیا تھا ۔۔

کیا ہوا شفا تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔؟؟؟

وہ واش بیسن کے اوپر جھکی الٹیاں کرتی شفا کی پشت کو پریشانی سے سہلانے لگا ۔

حمزہ کے ہر ہر انداز سے شفاء کو اپنی زات کیلئےفکرمندی ٹپکتی محسوس ہورہی تھی۔ ۔۔

اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کو سہارا دے کے وہ بیڈ تک لاکر بٹھا دینے کے بعد اے سی کا ٹیمپریچر مزید کم کر کے اس کے پاس ہی بیڈ پہ ٹک گیا۔

اب کیسا فیل کر رہی ہو؟ ؟؟

ٹھنڈے ٹھار پانی کا گلاس اس کے سامنے بڑھاتے ہوئے پریشان کن لہجے میں دریافت کیا گیا ۔۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں بس میرے خیال سے کچھ غلط کھا لیا ہے جس کی وجہ سے طبعیت آپسیٹ ہوگئی ہے ۔”

وہ گڑبڑائی تھی مگر پھر خود کو بمشکل سنبھال کے آہستہ آواز میں گویا ہوئی ۔۔

“اووووو۔ ۔۔آئیییییی ۔۔۔۔سی ۔۔۔”

پکّانا؟؟؟

ایسی ہی بات ہے نہ؟ ؟؟

کوئی اور مسئلہ تو نہیں ہے؟؟؟

اگر کہو تو ابھی ڈاکٹر کے لےچلوں میں تمہیں یا پھر “کسی لیڈی ڈاکٹر کو گھر پہ بلا لوں ۔۔۔”

کہو تم ۔۔۔۔۔بس حکم کرو ۔۔۔۔”

ھمزہ بڑی مشکل سے چہرے پہ مصنوعی سنجیدگی طاری کرکے بولا تھا ساتھ ہی ریسٹ واچ اتار کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور شیروانی کے بٹن وا کرنے لگا انداز سرسری ہی رکھا تھا ۔۔۔

“نن۔ ۔۔۔۔نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے کہا نہ کچھ غلط کھا لیا ہے ۔۔۔۔۔”

” ڈاکٹر واکٹر کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور لیڈی ڈاکٹر کو تو بالکل بھی نہیں “۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے تھوک نگل کے گویا ہوئی چہرے پہ ننھے ننھے پسینے کے قطرے پھوٹ پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

نظریں تھیں کہ حیاءاور جھجک کے مارے حمزہ سے ٹاکرا کرنے سے انکاری ہوئی ۔۔۔

شفا آر یو شور نہ۔۔۔۔؟؟

تم ٹھیک ہو ؟؟؟؟؟؟

آنکھوں میں شرارت کے بہت ہی پیارے رنگ لیے وہ مزید اس کو تنگ کرنے کے لیے گویا ہوا ۔۔۔

“ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں تم بلا وجہ پریشان ہو رہے ہوں اور مجھے میں کر رہے ہو۔۔۔۔”

شفاء بے دردی سے اپنی مخروطی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے اپنے تئیں حمزہ کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی اس بات سے بے خبر کہ وہ اس کے چہرے اور باڈی لینگویج کو بہت اچھی طرح پڑھنا جانتا ہے اور پھر یہ اتنی پیاری اور اہم خبر تو وہ باہر سے ہی سن کر آ چکا تھا ۔۔

“ہونھہ۔ ۔۔۔۔”

معنی خیز ہنکارہ بھرا گیا ۔

“چلو پھرٹھیک ہے۔ ۔ ۔۔۔۔”

حمزہ کو جیسے اب شفا پہ تھوڑا ترس آیا اور اپنی حالت پہ بھی وہ اب تک شیروانی ہی پہنا ہوا تھا ۔۔۔

” میں ذرا چینج کرکے آتا ہوں جب تک تم بھی ریلیکس ہو جاؤ ۔۔۔۔”

“میرے خیال سے اب تم بھی کپڑے چینج کرلو پریشان ہو رہی ہوگی ساڑھی کو سنبھالنا اففففف۔ ۔۔۔۔”

پتا نہیں تم لڑکیاں کیسے اتنے ہیوی ڈریسز کو کیر ی کر لیتی ہوں ؟؟؟

وہ اس کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔

شیروانی میں مزید اب اس کا دم گھٹنے کو گھا اسلئے پہلے وہ جلد سے جلد آرامدہ کپڑوں میں آنا چاہ رہا تھا ۔۔۔

جب وہ فریش ہونے کے بعد واش روم سے نکلا تو شفا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی جیولری اتار رہی تھی ۔

ومنٹنگ کر لینے سے اس کا دل ہلکا پھلکا ہو گیا تھا اب وہ خود کو قدرے بہتر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

بالوں میں سے کیچر نکال کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا گیا تھا ۔اسٹیپ میں کٹے کھلے ریشمی بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے ۔

سامنے کا منظر دیکھ کے وہ جیسے مبہوت سہ رہ گیا ۔۔

بلڈ ریڈ ساڑھی کا پلو سیفٹی پنز سے آزاد ہونے کے باعث بازو پہ ڈھلکا ہوا تھا ۔۔

وہ مکمل حسن کا شاہکار تھی۔ دیکھنے والے کو لگتا ہے جیسے قدرت نے اس کو بہت ہی فرصت سے بنایا ہوگا ۔۔

بڑی بڑی سیاہ نشیلی آنکھیں جن میں سے کاجل وامٹ کرنے سے آنسو آنے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد پھیل کر شفا کے حسن کو دوآتشہ کر گیا تھا ۔۔

حمزہ کا دل چاہا اس کو باہوں میں بھر لے آخر کو آج اتنی بڑی خوشی کا دن تھا اس کے لیے بھی اور شفا کے لیے بھی وہ دونوں مکمل ہونے والے تھے ان کے آنگن میں بھی ایک ننھہ منا فرشتہ اللہ کے رحم وکرم سے ان کی جھولی میں آنے والا تھا ۔۔۔

باپ بننے کا احساس اتنا خوبصورت تھا اسکے لئے کہ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔۔

بہت خوش تھا آج وہ۔ ۔۔۔

شفاء اس کا عشق ،جنوں اور دیوانگی ہی تو بن بن گئی تھی یہ کہنا غلط نہیں تھا وہ حقیقتاً حمزہ کے لئے اس کی زندگی کا مرکز اس کی زیست کا حاصل بن بیٹھی تھی ۔۔

حمزہ کون لگا جیسے اس پل تو لمحات ٹھہر سے گئے تھے۔۔۔

وقت رک سا گیا ۔۔

ہر شے اپنی جگہ ساقط اور صامت ہو کر رہ گئی تھی ۔وہ خوشبو کی طرح اس کے آس پاس مہکتی اس کو شفا یاب کر رہی تھی۔مہکارہی تھی۔ ۔

اپنی زلف کا اسیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے لئے کمرکس چکی تھی ۔۔

حمزہ نے بھرپور نظروں سے اس کے سراپہ کا جائزہ لیا۔ شفا نے چونک کے اس کو دیکھا اور نظروں سے استفسار کیا کہ ۔۔۔

کیا ؟؟؟

ایسا کیوں دیکھ رہے ہو ؟؟؟

آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکرا کے پوچھا گیا ۔۔۔

حمزہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا آنکھوں میں مسکراہٹ لیے بغیر کوئی لبوں سے جواب دیے اس تک پہنچا تھا اور اپنی ہتھیلوں ںسے اس کے شانوں کو مضبوطی سے تھام کر گویا ہوا ۔۔۔

“جانتی ہوں شفا تمہیں جب جب میں دیکھتا ہوں تمہارے نقوش میں کھو سہ جاتا ہوں !!تمہارے چہرے کے تیکھے نقوش اور خاص کر یہ ستواں ناک مجھے اپنی نظروں کا زاویہ بدلنے ہی نہیں دیتی اور یہ جو دل ہے نہ۔۔۔۔۔۔”

وہ اس کا رخ اپنی طرف پھیر کے اپنے ہاتھ میں اس کا مرمریں ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھ کے مزیدگویا ہوا ۔

“یہ میرے سینے میں کہلاتا تو میرا ہے مگر بہت ہی بغاوت پر آمادہ ہے ظالم!! یہ بڑا ہی بے ایمان ہے تمہیں دیکھ کہ ہر دفع چھونے کی خواہش کر بیٹھتا ہے ۔۔۔۔”

“اور دماغ کی تو بات ہی نہ کروں یہ بھٹک جاتا ہے اور کہتا ہے چھو لو نا ۔۔۔۔چھو لو نا”

“حمزہ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔۔۔”

وہ کترا رہی تھی ۔۔

جھجک اس کے لہجے سے عیاں تھی لبوں کی لرزش اور وجود کا سرد پڑنا اس کے اندر کی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی کا بولتا ثبوت تھا حمزہ کو اس پل شفاء پہ ٹوٹکے کر پیار آیا مگر پھر اس کو تھوڑا اور تنگ کرنے کی غرض سے شریر لہجے میں بولا تھا کہ ۔۔

کہو جان حمزہ ؟؟؟

سن رہا ہوں کچھ کہنا چاہتی ہوں؟؟

مگر ایک منٹ یار یہ تمہارے چہرے پہ اسقدر پسینہ کیوں آ رہا ہے۔؟؟؟

اے سی تو میں نے اٹھارہ ٹیمپریچر پہ ہی چلایا ہوا ہے پھر بھی تم اتنی پسینے میں شرابور کیوں ہو رہی ہو بھلا؟؟

اےسی کے ریموٹ سے چھیڑ چھاڑ کرتا اس کو بغور دیکھنے میں مصروف وہ شرارت پہ آمادہ تھا ۔۔

نن۔ ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔مم۔ ۔۔ میں تو نہیں۔۔۔۔۔ بب۔ ۔ بالکل ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔!!

یہ تو بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔”

وہ اٹک اٹک کے کہہ رہی تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح سے اتنی بڑی خوشخبری حمزہ کے گوش گزار کرے۔ ۔۔

“چلو چھوڑو میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے تمہارے لیے ۔۔۔”

کیا ۔۔شفا نہ کچھ دیر کیلئے سکون کا سانس لیا اب یہ بات اس نے کل پہ لےجا چھوڑی تھی ۔۔

میں بابا بننے والا ہوں عنقریب ۔۔۔!!!

وہ معنی خیزی سے کہتا اس کو کمر سے تھام کر خود سے قریب کر گیا ۔۔۔

ہیں؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟

وہ شدید حیران ہوئی ۔

منہ کھلا کا کھلا رہ گیا آنکھیں جو کچھ دیر پہلے جھکی ہوئی تھیں وہ اب ٹکٹکی باندھے حمزہ کے چہرے پہ نجانے کیا کھوج رہی تھی ۔۔

اوئے تیری آپ کو کیسے پتا ؟؟؟

شفاء کے لبوں سے خوشی میں بے ساختہ پھسلا تھا پھر یکدم اپنی حد درجہ بے ساختگی کا اندازہ ہوا دانتوں تلے لب داب گئی ۔۔۔

“ہاں تو جب تم نہیں بتاؤ گی تو مجھے تو پتا چل ہی جانا اب کہاں کیسے کب اس سب کو چھوڑ دو ۔۔۔”

“بس یہ یاد رکھو کہ میری بیٹی جب تک تمہارے وجود میں سانس لے رہی ہو اس کا بہت خیال رکھنا میری بیٹی کو ذرا سی بھی تکلیف نہیں آنی چاہیے شفا میں تمہیں بتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔”

لہجے کو روب دار بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔۔۔

اچھاااااااا !!!

“ہونھہ بڑے آئے میری بیٹی کا خیال رکھنا کہنے والے۔ ۔۔۔۔۔۔”

میرا بیٹا ہوگا میں اس کا خیال رکھوں گی دیکھ لینا تم بھی ۔۔۔۔۔۔!!

شفا ہنکارہ بھر کے بولی تھی اور چہرے پہ آئی شریر سی لٹ کو لبوں سے پھونک مارکر سیٹی بجا نے کے انداز میں ایک ادا سے اڑا ۔۔۔۔۔۔

اچھا ایسی بات ہے !!!

چلو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔”

حمزہ نے کشن اٹھایا اور اب دونوں گتھم گتھا پلو فائٹ میں مصروف تھے۔۔۔

یہ کیا بچوں جیسی حرکت ہے سوہا ۔۔؟!!

شادی ہوچکی ہے تمہاری اب تم بڑی ہوجائو ۔۔۔۔۔”

وہ برہم ہوا ۔۔

“تو بڑوں کے جیسی باتیں آپ کر لیں نہ اگر شرما شرما کے میرا دوپٹہ چبانے سے دل بھر گیا ہو تو ؟؟”

سوہانے خونخوار لہجے میں کہتے ہوئے مصطفی کا ہاتھ جھٹکا تھا صحیح معنوں اسنے اپنے تئیں روٹھے صنم کا دماغ درست کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور غصے میں جلدی سےدروازے کا ہینڈل گھمانے لگی کمرے سے جانے کی غرض سے اس وقت وہ صرف اور صرف بپھری ہوئی شیرنی بنی ہوئی تھی۔۔

” تم نے پہلے ہی مجھے بہت ستایا ہے سوہا !!بہت زیادہ میرے ضبط کو آزما چکی ہو اب تک۔۔۔”

” بہت بڑے بڑے کئی امتحان لے لئے ہے تم نے میرے صبر کے سمجھیں!! مزید مجھ سے کسی بھی مفاہمت یا نرمی کی امید مت رکھنا ۔۔۔۔۔”

مصطفی نے بھی اب کی بار حساب برابر کیا ۔آخر کو اتنے دنوں سے ایک کرب میں گرفتار تھا اور سوہا کی باتوں نے کہیں نہ کہیں اس کے دل کو گہری ٹھیس پہنچائی تھی تو وہ کیوں نہ اپنا دل ہلکا کرتا؟؟

دل کا غبار نکلنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے کبھی کبھی!!

“ورنہ رشتوں میں ڈراڑ بڑھتی چلی جاتی ہے ۔۔”

“میرا راستہ چھوڑیں!! مجھے ابھی اور اسی وقت پھوپھو اور پھوپھا کے بیچ میں جا کے سونا ہے”۔۔۔

“نہیں جھوڑونگا میرے بیڈروم میں آئی تو تم اپنی مرضی سے تھیں نگر جاوگی صرف میری مرضی سے۔ ۔۔۔۔۔”

“ایسی کی تیسی آپکی مرضی کی یہ مت بھولیں آپ نے مجھے پھلجڑی کا کقب دیا تھا ماضی میں۔ ۔۔۔”

تو تم ایسے نہیں مانوگی؟ ؟؟

“آیسے کیسے ویسے مجھے اب کچھ نہیں سن نا بس باہر جانا ہے۔ ۔۔۔۔”

مصطفی نےبھرپور نظروں سے فل لڑاکہ تیارا بنی اپنی چھوٹی سی پرکالا کو دیکھا تھا اور بغیر اسکو لمحے بھر کی بھی مہلت دئیے!!مصطفی نے یکدم سوہا کی کلائی کو اپنی مٹھی میں قید کیا تھا اور ایک جھٹکے سے اسکی کلائی مروڑ کہ خود سے بے حد نزدیق کرڈالا ۔سوہا شاید اس حد تک فلحال مصطفی سے ایسے کسی ریکشن کی امید نہ کر رہی تھی اسلئے بغیر سنبھلے لڑکھڑاتی ہوئی مصطفی کے چوڑے سینے سے آلگی ۔۔۔

“ھٹیں میرے راستے سے نہیں تو آپکی ایسی پھینٹی لگوائونگی پھپو سے کہ زندگی بھر آپکو اپنی گولڈن نائٹ کسی ڈراونے خواب کی طرح یاد رہے گی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔ ۔۔”

“پہلے گولڈن نائٹ سلیبرٹ تو کرلوں اچھی طرح سےپھر میں خود یادگار بنائونگا اوراب مزید مجھے رسوا مت کرو کم از کم میرے گھر والوں کے سامنے ہی میرا بھرم رکھ لو شرافت سے چلو اور بیڈ پہ نہیں سونا تو نہ لیٹو میں کونسامرا جارہا ہوں صوفے پر سو جاؤ بے شکیری بلا سے” ۔۔۔

نرم مگر دھونس بھرے لہجے میں کہتا وہ سوہا کو بازووں میں بھر کر صوفے تک لے گیا اس طرح وہ اب بس اسکے رحم و کرم پہ ہوکر رہ گئی تھی ۔۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔!!

آپ میرے اک سوال کاجواب دیں زرا؟؟

مجھے آپ اتنا بتائیں کیا کرتی میں آخرکو؟ ؟

” ماں باپ کی عزت کو پامال کر دیتی محبت حاصل کرنے کے لیے۔۔۔۔”

“اس عمر میں ان کے سروں میں خاک بھر دیتی؟؟

جبکہ بڑھاپیں میں ماں باپ کو اولاد کے نیک کرم سے ہی پہچانہ جاتا ہے ۔۔”

“محبت ہے مجھے آپ سے بے شک ہے آج بھی ہے کل بھی تھی اور ہمیشہ رہے گی مگرآپ مجھے تو کیا میری دلی کیفیات کو سمجھے ہی کہاں آج تک؟ ؟؟”

“میں اپنی محبت کو گالی نہیں بننے دیں دینا چاہتی تھی معاشرے کی نظر میں!! میری مقدس محبت ہے۔۔۔”

پاکیزہ محبت کرتی ہوں میں آپ سے!!

“ہر ایک کی زبان پر مجھے اپنی اور آپ کی محبت نیلام کرنا ہرگز بھی منظور نہیں تھا ۔۔”

سمجھے آپ۔ ۔۔۔۔۔۔!!!

وہ اس کے چوڑے سینے پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے بری طرح سے بھپر کے رودی ۔ایک گلیشیئر تھا جو پگھلا تھاشاید سوہا کے اندر سے!!

مصطفی اس کو اپنا ضبط کھوتا دیکھ مزید ناراضگی برقرار نہ رکھ سکا ۔خود سے کئے گیا سوہا سے خفا رہنے کا فیصلہ دھرا کا دھرا گیا ۔سوہا کو سسکتا دیکھ وہ بھی پیچین تھا نہیں دیکھ سکتا تھا اسکے آنسووں شاید نہیں یقینن!! ۔۔

وہ اب بھی مسلسل مصطفی کے چوڑے سینے پر مکوں کی برسات کرنے میں مصروف تھی۔۔۔

” آئی نو بہت گھٹن بھر چکی ہےتمہارے اندرگزرے شب و روز کی وجہ سے “۔۔

“رولو آخری دفعہ جتنا رونا چاہتی ہو دل ہلکا کرلو اپنا پوری طرح۔ ۔۔۔۔”

“آج کے بعد تمہارے میرے درمیان کوئی نہیں آئے گا یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔۔”

“یعنی کہ تمہارے مسٹر پائلٹ کا وعدہ!! تمہاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دوں گا ۔۔”

وہ سرگوشیانہ انداز میں کہتا ہوا اس کی پشت کو تھپکی دینے لگا ۔جیسے اپنے ساتھ کا مکمل اعتماد اور یقین بخشنا چاہ رہا تھا۔

” آپ بہت خراب ہیں میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی”۔

نروٹھے پن سے سڑ سڑ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ۔رونے کی وجہ سے چھوٹی سی ستواں ناک سرخ ہوگئ تھی جو اسکے دلہناپہ کو مزید دوآتشہ کر گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔

” یار ابھی تو میں بالکل بھی خراب نہیں ہوا ہوں سوچ رہا ہو ذرا اپنی پرکالہ کو تھوڑا سا خراب ہو کر دکھا ہی دوں۔۔۔”

وہ اس کے کانوں میں موجود نورتن جھمکوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا لو دیتے لہجے میں گویا ہوا تھا ۔۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے خبردار جو میرے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت کی ہو تو “۔۔

جوڈو کراٹے جانتی ہوں۔ ۔۔۔!!

ہونھہ۔ ۔۔۔۔”

وہ مصطفی کے ارادے بھانپ کے سٹپٹائی اور پوکھلا کر جو لبوں پہ آیا کہہ گئ کسی کراٹے ماسٹر کی طرح باقائدہ ایکٹ بھی کیا گیا ساتھ ہی۔ جس کو سن اور دیکھ نے کے بعد مصطفی کا جاندار کہکہ پورے کمرے میں گونجھ اٹھا تھا۔ ۔۔۔۔

“میرے ساتھ زیادہ فری ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اور اوور اسمارٹ تو بلکل بھی نہیں۔ ۔۔۔۔”

“ارےارے یہ کیا بات ہوئی میں تو اپنہی دلہن سے رومانس فرمارہا ہوں !!محترمہ اگر آپکی یاد داشت برقرار ہے تو آپ نے ہی تو مجھے دلہن وہ بھی اپنی اور پھر نئی نویلی کے ساتھ احسن سلوک کے کافی سارے اہم نکات سمجھائے تھے”

سوہا اسکو پٹھری سے اترتا دیکھ اپنی کھساہٹ کوچھپانے کی بھرپور کوشش کرتی تھوڑا پرے کھسکی کیونکہ فرار تو مصطفی کی قید سے ناممکنات میں سے تھی۔ ۔۔

ابھی وہ اپنی سی فاصلے پہ ہونے کی کوشش کر ہی رہی تھی جب مصطفی نے اسکو موقع دیئے بغیر ہاتھ بڑھا کہ اپنے چوڑے سینے پہ ایک جھٹکے لا گرایا۔ ۔

قطعی نہیں!!

” اب نہیں برداشت کرونگا تمہاری دوری سوہا!”

اگر اب میں نےتمہیں چھوڑا تو تم سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔۔”

وہ اسکی ہرنی جیسے خوف اور حیاء کے ملے جھلے تاثرات لئے گہری نشیلی آنکھوں میں بغور دیکھتا شریر لہجے میں گویا تھا۔

“مم۔ ۔۔مجھے ش۔ ۔شاید پھپو پلارہی ہیں” ۔۔۔

شش۔ ۔۔۔!

اب اگر تمہیں اپنی بانہوں کے گھیرے میں سے آزاد کیا تو پھر تمہیں اماں اور ابا کے بیڈروم میں سوتا دیکھنے کا ھوسلہ نہیں کرسکتا پیدا خود میں” ۔۔۔۔۔

خمار آلود مخمور لہجے میں کہتا وہ سوہا پہ کچھ اور بھی جھکا تھا اور اسکےکان کے قریب جاکہ بہت دھیمے سے اس نے سرگوشی میں کہتے ہوئے سوہا کے یخ بستہ رخسار پہ اپنے دہکتے ہوئےلب رکھ کے محبت کی پہلی مہر صبط کر ڈالی تھی۔

“مم۔ ۔۔مصطفی۔ ۔۔۔مم۔ ۔مجھے جانا ہے”

وہ تھمتی سانسیں اور شور مچاتی دھڑکنوں سے بوکھلا ہی تو گئ تھی ۔کہاں عادت تھی مصطفی کی قرب بھری جسارتوں کی ،وارفتگیوں اور الفتوں کی۔ ۔۔۔۔

” ایسے تو نہیں رہائی ملے گی بھاری جرمانہ لازمی بھر ناہوگا آج کی رات۔۔”

” اور یار آج تو ایسی ویسی حرکت کرنے کا مکمل سرٹیفیکیٹ بھی لے چکا ہوں ۔۔”

“تم تو کیا اب تو کوئی بھی مجھے تم پہ اپنی محبت کی پھوار برسانے اور اس میں پور پور بھیگا کےسیراب کرنے سے نہی روکسکتا” ۔۔۔

“کوئی ظالم سماج بننا چاہے بھی تو نہیں بن سکتا میں ایسا تم پہ سحر تاری کردوں کا اپنی زات کا! !

۔۔۔

“اور اگر پھر بھی کسی نے ہم دونوں کے درمیان پھاپھا کٹنی بننے کی کوشش کی تو میں صحیح سے نمٹ لونگا کافی لڑاکا طیارے میرے پاس موجود ہیں” ۔۔۔

“اپنے بارے میں کیا خیال ہے آپ کیا کسی کم ہو کسی لڑاکا طیارے سے بڑے آئے ہونھہ” ۔۔

سوہا چڑھ کہ ناک چڑھا کے بولی ۔۔

او یارا۔۔۔۔!!

” اب تو ناراضگی ختم کرو اور ویسے بھی اب ایسی ویسی حرکت کرنے کو دل مچل رہا ہے آج تو پھر ہماری اسپیشل نائٹ ہے”۔

وہ شوخ ہوا تھا مگر سوھا کے تو جیسے اوسان خطا کر گیا کچھ دیر قبل والی بولڈنس یکدم ہوا ہوئی تھی چہرہ حیاء کے خوبصورت رنگوں سے گلنار ہو چلا تھا ۔۔

دل سو کھے پتے کی مانند لرزا تھا۔

پلکوں کی چلمن گری تھی ۔ماتھے پہ سجی نورتن حیدرآبادی بنیاد مصطفی کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اس کا دل چاہا کہ وہ مزید گستاخ ہو جائے سوہا کے سجے سنورے سراپہ سے وہ نگاہ ہٹا نہیں پا رہا تھا یا شاید وہ ایسا چاہتابھی نہیں تھا۔۔۔

کتنی منتیں مانی تھیں اسنےسوہا کے حصول کےلئے ہر رات تہجد میں گڑگڑایا تھا ۔۔

خدا کے آگے سجدوں میں بکھرا تھا۔۔

نماز میں اس کنے رورو کر خدا تعالیٰ سے سوہا کا ساتھ طلب کیا تھا اسکی ہمسفری چاہی تھی ۔۔۔

اپنے رب سے کبھی روٹھاتھا تو کبھی اسکو گڑگڑاکہ منایا تھا۔

اور آج وہ بہت مسرور تھا بےحدخوش تھا بے شک اللہ رب العزت اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا صرف مانگنے کا طریقہ آنا چاہیے ۔۔

وہ مان گیا تھا کہ واقعی سوہا کاخدا پہ پختہ ایمان اوریقین جیت گیا تھا ۔

اگر خدا نے اسکو کی قسمت میں لکھا تھا تو کوئی چاھ کر بھی اس کو قسمت کی لکیر سےمٹانے کی صلاہیت خود میں نہیں رکھتا تھا ۔۔۔

مصطفی کے حد درجہ محبت سے دیکھنے پر سوہا کے رخصار حیاء کی حدت سےتپ اٹھے ۔

ماضی میں جو بھی ہوا تھا دونوں اپنی اپنی جگہ حق بجانب تھے ۔

ماحول کی خوبصورتی اور نکاح کے خوبصورت بندھن میں بندھنے کے بعد جیسے دونوں ہی اپنے اندر نامعلوم سی سرشاری پھیلتی محسوس کر رہے تھے ۔خوشی اور طمانیت دونوں کے دلوں میں بکھرکہ گھر کر گئی تھی۔

واقعی محبت کو پالینے کی خوشی اور تمانیت و ہی محسوس کر سکتا ہے جس کی قسمت میں محبت اور اسکا حصول لکھا گیا ہو اور پھر جس نے اپنے خدا کے آگے محبت کی فریاد کی ہو ،نمازوں میں تڑپہ ہو ،گڑگڑایاہو توپھر اس مقام پہ آکہ محبت کا ملنا محبت کی لذّت ہی الگ ہوتی ہے اور اس وقت اللہ کی محبت اس کے بندے کے دل میں بھی قابل دید ہوتی ہے ۔۔۔

مصطفی اس کے چہروں کو آنکھوں میں بسائے نرم گرم جذبات کی حدت لئے تکے چلا جارہا پھر بہت بے ساختہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کے اک اک نقوش کو چھو کہ محسوس کررہا تھا۔ جیسے اسکے خوبصورت ساتھ کا بے یقینی سے یقین کرنا چاہ رہا تھا۔

“تم بہت پیاری لگ رہی ہو اور یہ میں نہیں میرا دل کہ رہا ہے ۔۔۔”

“مم ۔۔۔میں جاؤں تھک گئی ہو بہت۔۔۔”

” نیند بھی ڈھیر ساری آ ْرہی ہے۔۔۔۔”

مزید اس کے سامنے اس کی قربت میں رہنا سوہا کے لیے ناممکن تھا ۔۔۔

“ہاں تو بس اب ہم دونوں سوئیں گے ہی ملکر ظاہر سی بات ہے ۔۔۔”

سوہانےمصطفی کے کہنے پر جھٹ پر سکون سی ہوکہ پلکیں اٹھا کراس کو دیکھا مگر پھر زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی وجہ اسکے لبوں پہ رقصاں شوخ و شریرمسکراہٹ تھی وہ چہرے پہ بہت پیاری اور معنی خیز سی مسکراہٹ لیے اسی کو تک رہا تھا ۔۔

وہ سٹپٹائ اور گڑبڑاکہ دوبارہ نظریں جھکا لیں۔۔۔

” تمہاری یہ اٹھتی گرتی پلکے میرے ہوا سوں کو جھنجوڑ رہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میرا دل پھر سے بے ایمانی پہ اکسائے مجھے اور ایمانداری سے بے ایمانی کا مستحق ہوجاوُں چلو اٹھو شاباش آؤ دو نفل شکرانے کے ادا کرلیں پہلے۔ ۔”

وہ مسکرایا اور سو ہا سےفاصلے پر ہو کے محبت بھری نظر ڈال کے وضو بنانے کی غرض سے واشروم کی طرف ہو لیا ۔

“شکر میرے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے مجھ گناہ گار کو اتنے پیارے انداز میں میری محبت سے نوازا ہے۔ ۔”

“میں نے شدتِ غم میں تیری رضا کا مزہ ڈھونڈا ہے اب میں تاحیات بڑے مزے میں رہوں گی ۔۔”

واقعی میرے رب تجھ سے عشق میں ایک مقام وہ بھی آتا ہے جب دعا تو دور کی بات ہے انسان صرف سوچتا ہے اور تو نواز دیتا ہے بس تیرا بننے کے لیے تیرہ ہونا ضروری ہے ۔۔۔

وہ سوچتے ہوئے مسکرا دی مصطفی کے وضو کرنے کے بعد خود بھی وضو کر کے شکرانے کے نوافل ادا کرنے جائے نماز پے جا کھڑی ہوئی ۔۔۔۔