Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 41
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 41
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
ان دونوں کو رحمان صاحب نے سمیرا اور ائمہ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بجائے ہنی مون پہ بھیجنے کے عمرے کے لیے را ضی کر لیا تھا ۔۔۔
گھر والوں سے ان دونوں کے مابین وابستہ تلخ تعلقات کوئی ڈھکے چھپے نہ تھے۔۔۔
حمزہ اپنے کمرے میں مجنو کا بھی ریکارڈ توڑتا افسردہ گھومتا نظر آتا تھا جب کہ شفا نے تو شاید ہٹلر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی تھی۔ ۔۔۔
وہ اپنےارد گرد حمزہ کی موجودگی تو دور کی بات پرچھائی تک کو پہنچنے نہیں دے رہی تھی۔ ۔۔۔۔ احتیاطی تدابیر کرچکی تھی ۔۔۔
بارہاں حمزہ نے اس کو منایا کئی دفعہ اپنے کئے کی تلافی بھی کی !!معافی تک طلب کر ڈالی جب کہ اللہ کے علاوہ وہ کسی سے بھی معافی مانگنا اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا ۔۔۔۔
شفا کی محبت نے اس کو سراپا بدل ڈالا تھا دل نرم ہو چکا تھا اس کا کافی حد تک۔۔۔۔۔
رحمان صاحب نے دونوں کو بلا کہ ایسے کڑک و روبدار لہجے میں حکم صادر کیا تھا جانے کے لیے کہ حمزہ تو خوشی سے جھوم اٹھا تھا جبکہ شفا تلملا کر رہ گئی ۔۔۔
وہ دونوں کراچی سے سعودی ائیرلائن میں مکہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔۔۔
جہاز میں میقات آنے پہ دونوں نے احرام باندھا تھا اور پھر مکہ منورہ جا کہ سب سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کرنا تھی ۔۔
اور اب جہاز میں بیٹھنے کے بعد سے حمزہ اس کو مستقل کسی نہ کسی بات پر بری طرح سے زچ کئے جا رہا تھا ۔۔۔۔
حمزہ کی پیاری سی شرارتوں پر شفاء حیران ضرور تھی مگر ظاہر نہ کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے کہا ں دیکھا تھا حمزہ کا یہ شریر چلبلا سہ روپ ۔۔۔۔۔!!
گھر سے جب وہ نکلی تھی تبھی وہ دل سے حمزہ کے لئے ساری کدورت دھوکہ دل کو بالکل شفاف کر کے عمرے کے سفر کے لیے روانہ ہوئی تھی ۔۔۔
خدا کے گھر جا رہے تھے وہ دونوں اس سے زیادہ خوش نصیبی کی بات کیا ہوسکتی ہے ایک مسلمان کے لئے!! مگر حمزہ کے سامنے ابھی کچھ وقت اور کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔
اس کی بھرپور کوشش تھی کہ وہ اس کے اندر موجود ایک نر م خو شخص کو پہلے باہر نکالے۔۔۔۔۔
حمزہ پورے سفر میں اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رہا تھا نہ جانے کہاں کہاں کہ قصے اس وقت اس کو سناکہ اس کا سر کھا رہا تھا ۔۔۔۔
کئی دفعہ تو شفا نے اس کو خطرناک گھوریوں سے بھی نوازا تھا۔ ۔۔۔
شفا کو لگ رہا تھا کہ اب وہ مزید خود پہ ضبط نہیں کرسکے گی اپنی ہنسی پہ مگر پھر بھی وہ بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کررہی تھی۔۔۔۔
کچھ وقت تک اس کو بہت مضبوط ثابت ہونا تھا ۔۔۔
پہنچ کر ان دونوں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا ۔اللہ نے ان کو اس قابل سمجھا تھا کہ اپنے گھر بلایا ۔۔۔۔
وضوع کرلو ادھر خواتین کا حمام ہے۔۔
مم۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اکیلی ۔۔۔۔۔۔”
میرا مطلب ہے میں اکیلی ہی اندر جا کے کیا کرو گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ بھی چلیں نہ اندر میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔”
وہ تنہا جانے سے گھبرائی۔۔۔ ۔
یار یہ اب فاول ہے جب میں اندر آنا چاہتا ہوں تمہارے روم میں تب تو تم مجھے آنے نہیں دیتی ہو۔ ۔۔۔۔ “
جہاں میں آ نہیں سکتا وہاں تم مجھے گھسیٹ گھسیٹ کے لے کر جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
تو اس کا مطلب آپ میرے ساتھ نہیں چلیں گے ۔۔۔۔۔؟؟
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
چاہ کر بھی نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔!!!
کیوں۔ ۔۔۔؟تنہا جانے کا سوچ کے شفا کے حواس گم ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔
کیوں تم خود کو بھری جوانی میں بیوہ کرنا چاہتی ہوں خدا کا خوف کرو یار۔ ۔۔۔۔۔!!
ظاہری سی بات ہے خواتین کے حصے میں!! میں تو تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا نہ۔ ۔۔۔۔۔۔!!
اور اگر تم اپنا انتقام لینا مجھ سے چاہتی ہو!! تو مجھے اپنا عبایہ پہناکے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔”
پھر بھی مجھے ڈنڈے پڑیں گے امید پوری ہے اس بات کی کیونکہ تم اندر جا کے اعلانیہ کہوں گی کہ یہ آدمی ہے عورت نہیں اس کو خوب مارو پیٹو اور ایک ڈنڈا اتنی زور سے پڑے گا کہ میں بتا بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے۔ ۔۔۔۔ !!
تم تو میری خدمت بھی نہیں کروں گی ۔۔۔۔
خدمت کروانے کے لیے پھر مجھے دوسری شادی کرنی پڑے گی ۔۔۔
میری دوسری شادی ہوتے دیکھ تم جلن حسد سے پاگل ہو جاؤں گی پھر اپنا عورتوں والا دماغ چلاؤں گی میری بیوی اور مجھے ستانے کی پ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کو کرنے سے پہلے اگر تم میرے ہاتھوں زندہ بچوگہ تو نہ۔ ۔۔۔۔ تب تم اس تمام عمل کر سکو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ ایک دفعہ پھر اپنی ہاتھ میں میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔۔جب شفا نے بیچ میں ہی اس کے بعد کاٹی تھی وہ ویسے ہی پریشان تھی اکیلے جانے کی وجہ سے ادھر حمزہ پھر ایک دفعہ شروع ہو چکا تھا ۔ ۔
اگر کوئی مشکل درپیش آئے تو تمہارے پاس عمرہ کے طریقہ کی کتاب موجود ہے اس میں دیکھ لینا ۔۔۔۔۔”
میں تمہیں یہی ملونگا اور اگر دیر لگ جائے مجھے تو تم مجھے یہیں کھڑی ملنا ادھر ادھر مت ہو جانا۔۔۔۔۔۔ “
نرمی سے کہتے ہوئے حمزہ اس کے سر پر پیار بھری چپت لگا کے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔
جدہ سے مکہ کا راستہ ایک گھنٹے کا تھا رات میں ہی ان کا عمرے کا ارادہ تھا تقریبا ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان ۔۔۔
اس دوران رش کم ہوتا ہے حرم میں شفا کا رویہ احرام باندھنے کے بعد کافی حد تک نرم پڑ چکا تھا وہ پہلے کی طرح اس کی باتوں پہ چڑ چڑھانے کے بجائے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دے رہی تھی ۔۔۔
مزاجی خدا کو ناراض کرکے بھلا وہ اپنے حقیقی خدا کو کیسے راضی کر سکتی تھی ؟؟حمزہ کافی حد تک شفاء کا بہتر سلوک دیکھ کے مطمئن ہوا دل پہ جیسے بھاری سل کی مانند بوجھ اترا تھا۔۔۔۔۔
زم زم ٹاور کے روم نمبر 634 جو کہ 26 ویں منزل پر تھا ۔۔۔کمرے کی کشادہ شیشے سے بنی خوبصورت کھڑکی سے حرم کا احاطہ نظر آرہا تھا بہت خوبصورت کمرہ تھا اور کمرے سے نظر آتا حرم۔۔۔۔۔۔
اللہ اکبر !!
دونوں نے بس روم میں سامان رکھا تھا اور فوری حرم کے لیے روانہ ہوگئے رش کم تھانہ بہت زیادہ رات کے پونے دو کا وقت ہو چکا تھا حمزہ اور شفا کی نظریں حرم کے فرش پہ تھی جبکہ آنکھیں نم اور پورے جسم کا رواں رواں کھڑا ہو رہا تھا ،کپکپاہٹ تاری تھی جیسے جیسے وہ دونوں کعبہ شریف کی طرف بڑھ رہے تھے دونوں کی کیفیات ناقابل بیان تھی۔۔۔
وہ شفاء کا ہاتھ تھاما ہوا تھا سختی سے ۔۔
لبوں پہ بس ایک ہی صدا تھی۔
” لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک” ۔
شفاء نظریں اونچی کر کے دیکھو سامنے۔۔۔۔۔۔”
حمزہ کی آواز میں نمی تھی لہجے میں خوشی جبکہ چہرہ خدا تعالیٰ کے گھر کا دیدار کر کے نور سے دمک اٹھا تھا۔۔۔
آشفاء جیسے ہی فرش سے نظریں اونچی کر کے دیکھا سامنے “خانہ کعبہ ” تھا ۔۔۔
“سبحان اللہ “دونوں کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا ۔۔۔۔
حاجی کعبہ کا طواف کر رہے تھے کانوں میں لبیک کی صدائیں رس گھول رہی تھی شفا کے پورے وجود میں جیسے کپکپی سی طاری ہوئی اور وہ وہیں سیڑھیاں اترنے سے پہلے آخری سرے پر بیٹھ گئی سجدے میں جا کے وہ بری طرح سے سسک تھی حمزہ کی بھی کیفیت شفا کے ہی جیسی تھی ۔۔
دونوں کعبہ کے عین سامنے اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز تھے۔ ۔۔
ان دونوں نے ہی خانہ کعبہ کو دیکھ کے پہلی نظر پڑتے ہی ڈھیر ساری دعائیں مانگی تھی۔ ۔۔۔
” اے میرے پروردگار تمام جہانوں کے مالک مجھے اور میرے خاندان سے چلنے والی نسلوں کو نیک صلح اور دین اسلام کی پیروی کرنے والا سچا مومن مسلمان بنا دے ۔۔۔میرے تمام جہانوں کے مالک تو غفور الرحیم ہے بخشنے والا مہربان ہے۔۔۔ میرے اللہ تو ہمیں معاف کردے ۔۔۔۔۔اےمیرے اللہ میرےگناہِ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو بخش دے ۔۔۔۔۔میرے اللہ تو مہربان ہے میرے رب تو میرے شریک حیات کے دل میں میری محبت ڈال دے اور مجھے ہمیشہ اس کی عزت اور محبت کرنے والا بہترین ہمسفر بنا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
حمزہ نے اللہ سے ہاتھ اٹھا کے گڑگڑا گڑگڑا کہ دل ہی دل میں دعا کی تھی ۔۔۔
طواف کرنے کے بعد ہمزہ شفا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کے انتہائی رش میں حجرے اسود تک لے کے گیا تھا پہلے شفا نے حجر اسود کو بوسہ دیا تھا پھر ہمزہ نے۔۔۔۔۔
اس قدر بھیڑ ہونےکے باوجود بھی وہ شفا کو لے کے حجرے اسود تک آخر کار پہنچ ہی گیا تھا۔۔۔
وہ اس کی ممنون ہوئی ورنہ تو اس قدر بھیڑ میں وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی حجرہ اسود تک پہنچنے کا ۔۔
سات دفعہ صفا سے مروہ تک چکر مکمل کر کے صحیح کا اختتام ہوا تھا پھر دونوں نے دو دو نفل شکرانے کے ادا کیے تھے ۔۔۔
“تھکی تو نہیں ہونا”؟؟؟
حمزہ نے محبت سے دھیمے لہجے میں استفسار کیا بالکل بھی نہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا وجود بہت ہلکا پھلکا ہو گیا ہو گناہوںسے پاک۔ ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ حمزہ کے پرنور چہرے کو دیکھ کے بولی تھی جو ابھی ابھی گنجہ ہوکہ بالوں کا دم دیکے آیا تھا ۔۔۔۔۔
مبارک ہو تمہیں ہمارا عمرہ مکمل ہوا ۔۔۔”
اللہ پاک قبول فرما دے۔۔۔
آمین !!
دونوں نے ایک ساتھ مل کے آمین کہا تھا ۔۔۔۔
لائبہ کچن میں تھی آج اسنے زبردستی رات کے کھانے کا اہتمام کر ڈالا تھا گھر والوں کے لیے ۔۔۔
سمیرا اور ائمہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ بہت محبت سے ان سب کے لئے کھانا تیار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔!!
طبیعت بھی اس کی شام سے نہ جانے کیوں گری گری سی تھی۔ سر بری طرح سے چکرا رہا تھا مگر پھر بھی سب لوگوں کے لئے کھانا بنانے کا سوچ کہ ہی وہ ایک دفعہ پھر سے تازہ دم ہو کہ اپنے کام میں جت جایا کرتی ۔۔۔
آج اسکے پیرنٹس کو بھی رات میں آنا تھا۔ لائبہ کی خوشی کا تو مانو ٹھہکانہ ہی نہ رہا تھا۔ ۔اپنے والدین کی آمد کا سن کہ مگر وہ انکے آنے کہ مقصد سے لاعلم تھی۔ ۔۔
کیا مینیو ہے آج کا ؟؟؟
سنا ہے کھانا آج ہماری زوجہ محترمہ نے بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
عمر افس سے آکہ اپنے روم سےفریش ہونے کے بعد سیدھا لائبہ کو ڈھونڈتا نیچے ہی آ گیا تھا ۔۔
ائمہ نے اس کو ڈھیر ساری آوازیں لائبہ کو دیتا دیکھ کہ کچن میں جانے سے روکا تھا۔
وہ شریر سے لہجے میں گویا ہوئی تھی عمر کو روک کہ ۔۔۔۔۔۔
آنکھوں شوخی لئے آہستہ آہستہ چلتی کچن سے کچھ فاصلے پہ کھڑے عمر تک آئ۔ ۔۔۔
بھئی آج تو ہم دونوں ساسوں نے تمہاری بیوی کے اوپر کام کا پہاڑ توڑ ڈالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
جی مجھےخبر ملگئی ہےبابا سے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ دانتوں کی بھرپور نمائش کرتا ڈھٹائ سے مسکرایا۔ ۔۔۔
ھمممم ۔۔۔۔۔!
تو محترم پوری پکی انکوائری کرواکہ تشریف آوری نیچےلائے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔””
خیر اب ہماری بھی سن لو برخودار ۔۔۔۔۔۔۔”
روب دار لہجہ بنایا گیا۔ ۔
ارشاد۔ ۔۔۔۔۔۔ارشادددد۔ ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
جھک کہ آداب عرض کیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا آج ہماری بہو بنا رہی ہے اور ہم دونوں جلاد صفت ساسیں تمہاری اہلیہ کہ بنائے گئے کھانے پہ ریمارکس دیں گے ۔۔۔۔”
دیکھتے ہیں تمہاری زوجہ محترمہ کتنی کامیاب ہوتی ہیں آج کے ڈنر میں ۔۔۔۔!!
خونخوار ساس بننے کی بھرپور اداکاری کی گئی۔ ۔۔
او شکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
میں تو تھک گیا تھا ایک ہی بورنگ کھانا کھا کھاکہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
آج تو کچھ بہت عرصے بعد نیا یم یم سہ کھانے کو ملے گا ڈنر میں ۔ ۔۔۔۔۔۔ !!
عمر باقاعدہ شکر بجا لایا تھا۔۔۔۔
واہ بیٹا واہ ۔۔۔۔۔۔”
بالکل صحیح جا رہے ہو تم۔۔۔۔ !!
جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے تمہاری شادی کو اور محترم کی باتیں تو غور فرما ئو زرا۔ ۔۔۔۔۔۔۔”
ائمہ نے عمر کا کان مروڑا ۔۔۔۔۔۔
نہ۔ ۔۔نہ غلط ایکدم غلط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بڑی مما آپ میری بات کا مطلب نہیں سمجھی ہیں میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
آپ دونوں امائیں کھانا بنانا بھول چکی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہی کہنے والے تھے نہ بیٹا جی۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سمیرا نے اس کی بات بیچ کے سہی وقت کے جملہ جڑا اور ساتھ ہی ایمہ کی گرفت میں مچھلی کی طرح پھڑپھڑاتے عمر کی کمر کے اوپر زوردار قسم کا ایک دھماکا بھی جڑ ڈالا تھا ۔۔
بڑی ماما اور چھوٹی ماما ۔۔۔۔۔”
چھوڑیں نہ درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
رحم کوئی تو بچائو۔ ۔۔۔۔!!
لائبہ۔ ۔۔۔۔”
بچاؤں اپنے مزاجی خدا کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ غمگین لہجے میں دہائیاں دینے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
پہلے کہو کہ تمہاری دونوں امائیں بہترین کک ہیں۔۔۔۔۔”
ہاں۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔ ۔۔۔۔۔ہا۔ ۔۔۔۔۔!!وہ ایسے گردن ہلا کر بولا جیسے نکاح کے لیے قاری صاحب کو زبردستی گن پوائنٹ پہ قبول ہے کہہ رہا ہو۔۔۔۔۔۔
میری دونوں اماں پوری دنیا میں سب سے زبردست کک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری امائیں ہی تو یہی کام ٹی وی میں آنے والے سب شیف کو سکھاتی ہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
عمر نے بٹ رنگ کرنے میں مکھن کی فیکٹری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔
شاباش اب تم آزاد ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ہماری طرف سے پوری اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاؤ عمر جی لو تم اپنی زندگی آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
تمہیں تمہاری بیوی سے ملنے کی دی اجازت ہم نے ۔۔!!
ائمہ نے شاہانہ انداز میں اجازت دے کہ گویا اس کی سات پشتوں پر احسان کر ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔
مگر میری بیوی کے ہاتھ میں جو ذائقہ ہے نہ وہ آپ دونوں کے ہاتھ میں کہاں ۔۔۔۔۔۔؟
چچچ۔ ۔چچچچ۔ ۔۔۔۔!!۔
وہ کہتا ہوا کچن تک پہنچ کے بولا تھا اور ساتھ ہی چڑانے والے انداز میں اچھل کود کرتا کچن کے اندر غڑاپ سے غائب ہو گیا پیچھے وہ دونوں شفقت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔
