Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 50

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 50

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

“بہت شکریہ تعریف کیلئے ۔۔۔”

“مگر بلکل سادھے سفید کرتے شلوار میں میری بیوی کو بھلا کیا آچھا لگا زرا ہمیں تو پتو چلے۔۔۔۔”

“کیا ہے مجھے ستائے تو مت آپ۔۔۔”چہرے پہ حیا کی لالی پھوٹ پڑی۔۔۔

وہ مزید شوخ ہوا اسکے چہرے پہ بکھرے قوس و فزح کے رنگوں کو دیکھ کہ اور اسکو ڈریسر کی چئیر کھینچ کے اسپہ بٹھا کر خود لائبہ کے مقابل دوزانو فرش پہ بیٹھ گیا۔۔۔

“اگر ایک نظر سامنے میرے اور اپنے جھلمل کرتے آئینے میں نظر آتے عکس کو دیکھ لو تو خود کو کبھی ادھورا محسوس نہیں کروں گی ۔۔۔۔”

اس کے مرمری ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ کےحصار میں لیتا اور ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اس کی تھوڑی اونچی کر کے شیشے میں اس کا اپنے ساتھ دو آتشہ دمکتا ہوا روپ سروپ دکھا گیا ۔۔

آئینہ عمر اور لائبہ کو ایک مکمل فریم میں ڈھال گیا تھا ۔۔۔

“ماشااللہ ۔۔۔”یکدم بولی

“میں نہیں دیکھنا چاہتی آپنے اور آپ کے عکس کو شیشے میں !!مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔”

‘آئینہ دیکھنے سے ہمیں کبھی ڈرنا نہیں چاہیے لائبہ “

“نہیں عمرہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہی میری نظر ہی خدا ناخواستہ ہماری خوشیوں کو نہ کھانا چاہیے ۔۔”

“مت ڈرو ان بے جا دھڑکوں سے ۔۔”

“اچھا چلو مجھے ایک بات بتاؤ ہم کون ہیں ۔۔۔۔؟؟”

وہ بغور اسکو دیکھتے ہوئے حددرجہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔ ۔

“ہزبینڈ اینڈ وائف “۔۔۔

نہ سمجھیں سے جواب موصول ہوا ۔

“اس سے پہلے ہم کیاہیں ؟؟ ہماری پہچان مطلب ہمارا مذہب کیا ہے ۔۔۔؟”

اس کی معصومیت سے دئے گئے جواب پر مسکرایا اور پھر واضح کیا آپنے پوچھے گئے سوال کو ۔

یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے بھلا؟ ؟

“بے شک ہم مسلمان ہیں “۔۔۔

“بالکل صحیح اب یہ بتاؤ کہا۔ ۔۔۔”

ہم مسلمان الحمدللہ اور ہم کس کی امت سے ہے ۔۔؟

وہ اس کے چہرے کے تاثرات جانچ رہا تھا لائبہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ ان سوالات کا اس وقت مقصد کیا تھا عمر کے پوچھنے کا ۔۔۔؟؟

“ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم “کی امت سے ہے اور ہمارا ایمان کل کائنات کے مالک اللہ رب العزت پہ ہے ۔۔۔۔۔۔!!

اب کی دفعہ وہ عمر کو نہ سمجھی ضرور دیکھتے ہوئے مگر اس کے سوال کو اچھی طرح سمجھ کہ جواب دہ ہوئی۔۔۔

۔

“بالکل ٹھیک کہا ۔۔۔”

“اب میری بات بہت خور سے سننا۔۔۔۔۔”

” لائبہ یہ بھی ہو سکتا ہے میری بات کو سننے کے بعد تمہارا دل بدل جائے اور تمہارے اوپر تاری بے جا اداسی یا پھر ڈپریشن کہلو دور ہو ہو جائے مگر اس کے لیے تمہیں میری بات کو سمجھنا ہوگا غور سے ۔۔”۔

“ٹھیک ہے عمر میں آپ کی ہر بات کو غور سے سنو گی بلکہ کوشش کروں گی کے سمجھ بھی سکوں” ۔۔۔۔

“ہم مسلمان ہیں”۔۔

” پیارے نبی کی امت میں سے ہے “

ہمارا کامل یقین اللہ رب العزت پہ ہے جو وحدہ و لاشریک ہے۔ “

بولو لائبہ!! کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔؟؟

“مجھے گناہ گار مت کریں بے شک اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔۔۔”

وہ آنکھیں بند کرکے ایسے بولی جیسے اپنے دل میں ایمان تازہ ہوا ہو ۔۔۔

“تو پھر جو ہو رہا ہے وہ بھی اللہ رب العزت کے حکم سے ہو رہا ہے “۔۔۔

“جو ہوگا وہ بھی اسی کے حکم سے ہوگا “۔۔۔۔

“اور جو ہوچکا ہے وہ بھی اس کے حکم سے ہوا تھا” ۔۔۔۔۔۔

“میری اس بات کو سمجھنا “۔۔۔۔

‘یقین مانو تمہارا سارا ڈپریشن ہر پریشانی ختم ہو جائے گی۔ ۔۔”

“جتنی الجھنے ہیں جو بھی تناؤ ہے تمہارے دل و دماغ پہ سب جھاگ کی طرح اڑ جائے گا ۔۔۔”

” اگر تم میری ایک چھوٹی سی بات سمجھ لو کہ جو بھی کچھ ہوگا اور ہونے والا ہے یا ہو چکا ہے وہ سب اللہ کے حکم سے ہی ہے ۔وہ ہر چیز پہ قادر ہے یہی نہیں چلو ایک چھوٹی سی مثال تمہیں دیتا ہوں کہ ایک پتہ بھی تب ہی ہلتا ہے جب میرے رب کا حکم ہوتا ہے ورنہ بڑے سے بڑا طوفان بھی اس بے ضرر سے پتے کو ہلانے کی خود میں طاقت نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔”

“یہ سب فضول قسم کی باتوں کو تم ذہن سے نکال دو ٹھیک ہے میں مانتا ہوں نظر اور جادو برحق ہے لیکن اس چیز کو اپنا مرض مت بناؤ ۔”

‘بس یہ اپنے دماغ میں رکھو کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ہر مرض کا ایلاج بتا دیا ہے کوئی مرض لا علاج نہیں ہے ۔”

‘وہم انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا لائبہ اپنے دل و دماغ میں سے ہر قسم کے وہم و وسوسوں ،ڈر اور خوف اور پریشانیوں کو نکال باہر کرو ۔۔۔’

اور بس اپنے آپ کو پرسکون کرو اللہ تعالی کی پاک ذات پہ یقین کامل رکھو اور یہ سوچ لو کہ ۔۔۔

“ہو سکتا ہے جو ہم نے سمجھا اور مانگا اس رب سے اس میں ہمارے لیے بہتری نہ ہو اور بہتری ہمارے لئے اس چیز میں ہوں جو اللہ نے ہمارے لیے منتخب کر رکھی ہو ۔”

اس کل کائنات کا مالک اللہ رب العزت ہے جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والاہے ہم سے تو پھر وہ ہمارے ساتھ کبھی بھی غلط نہیں ہونے دے گا ” ۔۔

“وقت وقت کی بات ہے اللہ تعالی کے ہائے ری کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں پتہ چلتا رہتا ہے ۔۔”

“یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہارے ساتھ جو بھی کچھ ہوا اس میں بھی کوئی نہ کوئی مصلحت ہواللہ تعالی کی اور تم دیکھنا لائبہ میں تمہیں یہ بات لکھ کے دے رہا ہوں تمہارا مجرم ایک نہ ایک دن تمہاری سامنے ضرور آئے گا بس تھوڑا سا انتظار اور خدا پہ یقین رکھو ۔۔۔۔”

عمر آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں واقعی اگر ہم انسان اس بات کو صرف ایک دفع ہی سمجھنے کی کوشش کر لیں کہ جو بھی کچھ ہو رہا ہے یا ہو چکا ہے یا آئندہ ہوگا وہ سب اللہ تعالی کے حکم سے ہے اور اسی کے اختیار میں ہےسب کچھ تو واقعی ہم میں سے کبھی کوئی بھی پریشان یا ڈپریشن کا شکار نہ ہو۔۔”

” اللہ پہ توکل رکھنا ہی ایک سچے مومن مسلمان کی نشانی ہے ۔۔۔۔”

“آپ کی تمام باتیں سننے اور سمجھنے کے بعد آپ کو میں بتا نہیں سکتی لفظوں میں بیان نہیں کر پا رہی کہ میرا دل کتنا پر سکون ہوا ہے ۔”

اے میرے اللہ !

“اے میرے پاک پروردگار !!وہ معاملات جن میں میرا اختیار نہیں جہاں میں بے بس ہوں ان میں میری مدد فرما اور مجھے اکیلا نہ چھوڑ ۔۔۔۔”

آمین ثم آمین۔۔!!!

کیا خیال ہے اب چلیں ۔۔۔۔؟؟

وہ اٹھتے ہوئے اپنی چوڑی ہتھیلی لائبہ کے سامنے پھیلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

جی بالکل ۔۔ “

وہ سچے دل سے کھلکھلا ئی۔ ۔

دل و دماغ پہ طاری مایوسی کے بادل جیسے کہ تم چھٹے تھے ۔۔۔

تو پھر اس سے دوستی پکی ۔۔۔۔؟؟؟

ایک دم پکی باس ۔۔۔۔۔”

“کہاں چلا گیا صبح ھی تو استری کرکہ یہاں رکھا تھا!! سب لوگ حال پہنچ چکے ہیں ایک میں ہی ہوں جو ابھی تک گھر میں نظر آ رہی ہوں”۔۔

وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے ادھر سے ادھر اپنا مہندی کے فنکشن میں پہننے والا ڈریس تلاش کر رہی تھی جو آج صبح ہی تو شفاء نے استری کرکہ سوٹ ادھر ہی استری اسٹینڈ پہ رکھ دیا تھا ۔

۔

“اف ایک تو ڈریسنگ روم کا دروازہ بھی لاک ہے! !حمزہ دیکھ تو لیتے جاتے وقت کے ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کر کہ جا رہے ہو “

۔بہت ہی لا پرواہ ہو تم ۔۔۔!!

ہونہہ۔ ۔۔۔

اب میں کیا کروں اورکیا نہ کرو۔۔۔؟

وہ اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کہ بے بسی سے اپنے ہونٹوں کو کچل رہی تھی۔ پریشانی اس کے چہرے سے ہویدا تھی حمزہ بھی نہیں تھا جو اس کے ساتھ مل کے ڈھونڈ والیتا۔

وہ کچھ دیر پہلےہی سوہا کو لے کہ گیا تھا حال !!رحمان صاحب نے حمزہ کو فون کرکہ سوہا کے سسرالیوں کا مہندی لے کر ہال میں پہنچ جانے کا بتا کہ سوہا کو فوری حال لانے کا حکم صادر کیا تھا چونکہ شفا تیار نہ تھی اس لیے حمزہ کو سوہا کو چھوڑکہ گھر واپس آکر خود بھی تیار ہوناتا اور شفاء کو بھی لے کر جانا تھا ۔

وہ اب آنے ہی والا تھا اس کو لینے۔ ادھر وہ تیار تو تب ہوتی نہ جب ڈریس موجود ہوتا!! فی الحال تو پہننے والا ڈریس ہی ندارد تھا ۔

“کہاں چلا گیا منہوس! ! زمین نگل گئی یا آسمان ہڑپ کر گیا “۔

“کتنے چاہ سے میں نے وہ ڈریس لیا تھا اب کیا کروں؟”

اففففف۔ ۔۔۔!

” میرے خدایا میری مدد کر۔۔۔۔۔۔”

وہ اپنا سر تھام کہ صوفے پر بیٹھ چکی تھی اسکو اپنی بے بسی پہ ٹوٹکے رونا آیا اس پل ۔

ایسا نہیں تھا کہ اور کپڑے نہیں تھے کپڑے بہت تھے ایک سے ایک بہترین لباس اس کی بورڈ گروپ میں موجود تھا مگر مہندی کے فنکشن کے لیے اس نے بہت چاہ سے بازار میں 2 گھنٹے کی خواری کے بعد ڈریس لیا تھا جو کہ اب غائب تھا بیڈروم میں سے ۔۔۔

“کیا ہوا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہو؟”

‘ اور یہ منہ کیوں اس قدرگول گپا بنا ہوا ہے جیسے کسی نے ٹھیک ٹھاک تواضع کر ڈالی ہو ؟؟؟”

حمزہ کمرے میں آ کے اس کےسو جھے ہوئے چہرے اور ہاتھوں میں سر تھامے دیکھ کہ اچھمبے سے بولا اس کے مطابق تو اب تک وہ تیار اس کا انتظار کرتی نظر آنی تھی مگر یہاں تو کوئی آثار ہی نہیں تھے مہندی میں جانے کے ۔

کیسے تیار ہوتی ۔۔؟؟؟

پلکیں اٹھا کر لاچار سی شکل بنا کہ کہا گیا چہرے پہ ہنوز بارہ بج رہے تھے۔

کیا مطلب کیسے تیار ہو ں ؟؟

کپڑے تبدیل کرو ہلکا ہلکا میک اپ کرو اور تیار بس !!۔۔۔

وہ تیوری چڑھا کہ بولا جیسے اس وقت وہ شفا سے اس قسم کے بے تکے سوال کی توقع ہرگز نہ کر رہا تھا ۔اسکو جلدی تھی ابھی خود اسنے بھی تیار ہونا تھا۔ ۔

“کپڑے نہیں ہے میرے پاس”۔

منہ بسور کہ کہا گیا ساتھ ہی دل سے منسلک کو

انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی سے چھیڑ چھاڑ جاری تھی ۔۔

“کیوں کپڑے نہیں ہیں بنایا تو تھا تم نےوہ عجیب سہ گولے گنڈے نما سوٹ آج پہننے کے لئے ۔۔”

وہ تنک کے بولا چہرے پہ شفا کو محسوس ہوا جیسے اس کے غصہ منڈلانے لگا تھا ۔۔

“ہاں بنایا تھا مگر وہ اب کہیں بھی نہیں ہے کمرے میں پورا کمرہ چھان مارا میں نے ایک ایک کونا دیکھ لیا ۔۔۔۔”

شفاء بچوں کی طرح رو دینے کو تھی ۔۔

ڈریسنگ روم میں دیکھا ؟؟

وہاں تو نہیں ہے ؟؟

بیزاری سے کہا گیا بار بار گھڑی کو دیکھتا وہ دیر ہوجانے کی وجہ سے زچ ہو رہا تھا۔ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر رکھا ہیئر برش اٹھا کے جلدی جلدی بالوں میں چلانے لگا ۔

شفا کو اس کے ہر انداز سے جلد بازی ظاہر ہو رہی تھی ۔وہ اب صحیح معنوں میں خود کو بے بسی کی انتہاؤں کو چھوتا محسوس کر رہی تھی ۔۔

“کہاں سے دیکھتی آپ لاک جو کر گئے تھےڈریسنگ روم کے دروازے کو “۔

اپنی لاچاری پہ دل خون کے آنسو رونے لگا ۔

“ہوسکتا ہے غلطی سے کردیا ہو جلدی جلدی میں چلو وہاں چلکر دیکھلیتے ہیں” ۔

ہونہہ۔ ۔۔۔۔

شفا کا چہرہ رونا ضبط کرنے سے سرخ پڑتا دیکھ وہ قدرے نرم پڑا اور ہنکارا بھرتا اس کی کلائی کو تھام کے اپنے ساتھ لیے ڈریسنگ روم کے دروازے کے سامنے آ روکا اور جیب میں پہلے سے موجود درواز

ے کی چابی نکال کے کھٹ سے دروازہ کھول دیا ۔

“یہ کیا بات ہوئی بھلا کیا پورے گھر کی چابیاں آپ جیب میں لئے گھومتے ہیں ہر جگہ؟؟؟”

اس کا دماغ شدید بھنوٹ ہو رہا تھا ۔ایک تو حمزہ کا سابقہ رویہ اس کو دلبرداشتہ کر رہا تھا اوپر سے اپنا پسندیدہ ترین لباس آنکھوں میں بار بار گھوم کر اس کا منہ چڑا رہا تھا ۔بڑی مشکل تھی وہ تو ہر طرف سے تھک چکی تھی ۔۔

“پہلے نہیں رکھتا تھا چابیاں مگر جب سے میرے روم میں ایک عدد ڈاکو رانی کا اضافہ ہوا ہے تب سے چوکس رہنے لگا ہوں کیا پتا میرے دل پر ڈاکہ ڈالنے کے بعد تمہارا اگلا شکار میری ذاتی استعمال کی اشیاء ہو” ۔

“لاحول ولا قوۃ میں کیوں آپ کی ذاتی اشیاء کو ضبط کرنے لگی “۔۔۔۔

وہ شرارت سے پرمعنی خیز لہجے میں بولا اور شفا کا ہاتھ چھوڑ کے چلتا ہوا اس کو دروازے کی چوکھٹ کے بیچ و بیچ پیچ و تاب کھاتا چھوڑ کہ وارڈ روب کھول کر نہ جانے کیا نکالنے لگا اور پھر جیسے کچھ ہی لمحوں میں اس کو اپنی مطلوبہ اشیاء مل ہی گئی تھی یا پھر وہ دانستہ دیر لگا رہا تھا جیسے کچھ اندر موجود ہونے کے باوجود اس کو نہیں مل کے دے رہا تھا ۔

ہٹو اب میری الماری کاکیوں بھیڑیا بنا رہے ہو ؟؟

کیا تلاش کر رہے ہو ؟

کیوں سردیئے کھڑے کو اتنی دیر سے۔۔۔؟؟؟

شفاء تنفر کرتی آگے بڑھئی اور جیسی ہی الماری کا پہلے سے وا پٹ دھکیل کر الماری کے اندر جھانکا وہ دنگ رہے گئی۔ حیرت سے چکرا کے رہ گئی آنکھوں کے سامنے ستارے ناچ اٹھے تھے ۔۔۔

یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کس کا ہے۔۔۔؟؟

شفا ء دیدہ زیب سامنے جھلملاتا اورینج رنگ کا انگرکھا دیکھ چکرا گئ جو بہت نفیس مگر بھاری کندن اور نگینوں سے سجا بے حد پیارے سے کام والا تھا ۔جس کا دوپٹہ ڈارک پرپل اورماتھا پٹی اورنج اور ہلکے دھانی رنگ کی تھی۔ دوپٹہ تاروں سے بھرا ہوا تھا جبکہ پلازو دھانی رنگ کا بنارسی فرشی اسٹائل خوبصورتی سے کلی دار سلا ہوا تھا ۔۔۔

“میرا ہے”

یہ میں پہنونگا آج اور دیکھو اس کے ساتھ میچنگ جیولری اور سینڈل بھی لی ہے میں نے بس اب ایک مسئلہ ہے جو تم بخوبی حل کر سکتی ہو۔۔۔۔”

“بس میرا میک اپ تم کر دینا کیسا لگونگا نا پھر میں ۔۔””

وہ اس کے بے تکے سوال پہ شدید چڑھ چکا تھا۔

” ظاہر سی بات ہے یہ میرا تو نہیں ہوسکتا تمہارا ہی ہے نا ۔۔۔۔”

جھنجھلا کہ کہتا وہ واپس پلٹنے لگا جب شفاء کسی جنگلی شیرنی کی طرح اس کے اوپرجھپٹی تھی ۔۔

“اس کا مطلب ہے کہ میرا سوٹ کھویا نہیں تھا بلکہ اس کو تم نے غائب کر دیا ہے کہیں ۔۔۔”

تم ہضم کر گئے ہو نہ میرے ڈریس کو بغیر ڈکار مارے ۔ ۔۔۔؟؟؟؟؟؟

نہیں چھوڑوں گی میں تمہیں بچو گےنہیں تم مجھ سے ۔۔!!!

وہ اب جا کہ اس کی شرارت کو سمجھی تھی ۔آپنے اتنی آرام سے بیوقوف بنائے جانے پہ اس کا دماغ بالکل ہی بھک سے اڑ گیا جبکہ دوسری طرف کچھ دیر پہلے طاری ہوئی مصنوعی سنجیدگی کا شائبہ اب حمزہ کے چہرے پہ ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔

بچے !!

کون سے بچے ؟

کس بچوں کا ذکر کر رہی ہو بھئی؟؟

اتنی بڑی خوشی کی خبر تم نےمجھ سے چھپائی۔۔۔۔؟؟

وہ آنکھیں پھاڑے لہجے میں حیرت لیے بتیسی کی نمائش کر نے لگا ۔حمزہ کی آنکھیں اس وقت شرارتوں پہ امادہ تھیں۔ ۔

“تم بہت خراب ہو بہت پریشان کرتے ہو مجھے !!کوئی خوشخبری نہیں ہے۔۔۔”

” اب مزید مت پکاؤ میرا دماغ چلو نکلو یہاں سے “۔۔

“یار ایک تو تمہاری پرابلم حل کر دی ہے میں نے بیٹھے بیٹھائے کتنا دیدہ زیب ڈریس مل گیا تمہیں اور تم ہو ایک ناشکری ۔۔۔”

دو اسے اور شکریہ کرتی ہے میری جوتی !!!!

وہاس کے ہاتھ سے سوٹ جھپٹتے ہوئے بولی ۔

“یار وہ جو تم نے لیا تھا وہ مجھے کچھ خاص تو کیا ذرہ برابر بھی پسند نہیں آیا تھا اس لئے میں وہ واپس کر آیا اور یہ دیکھو میری زبردست قسم کی چوائس کتنا خوبصورت ڈریس میں تمہارے لئے لایا ہوں بالکل پریوں جیسا ۔۔۔”

“اور پتہ ہے میں نے یہ واردات دوپہر میں کی تھی جب تم پالر میک اپ کروانے گئی ہوئی تھی ۔”

“میک اپ کروانے نہیں بدھو !! مہندی لگوانے اور فیشل وغیرہ کروا نے ۔۔”

اس کے چہرے پہ انتہائی معصومیت رقصاں تھی ۔۔

شفاء اس کے اس طرح سے کہنے پر کھلکھلا کے ہنس پڑی تھی ۔اتنی محبت ملنے پہ وہ خدا کی بے حد مشہور تھی یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ وہ ستمبر مہرباں بن بیٹھا تھا اس کیلئے ۔۔۔۔۔!!

مصطفیٰ تم کیوں جا رہے ہو ؟؟

تمھیں نہیں جانا چاہئے وہاں۔۔۔۔۔۔۔”

کیوں خود کو اذیت دینے کے لیے وہاں جا رہے ہو ؟؟؟

۔سوائے تکلیف کے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا میری مجبوری ہے جو مجھے جانا پڑرہا ہے ورنہ تمہارے بابا کو دیکھو وہ کس قدر تمہاری وجہ سے دلبرداشتہ ہوئےہے کہ انہوں نے صاف انکار کردیا سوہا کی شادی کو اٹینڈ کرنے کے لئے مگر میرا جانا تو ضروری ہے میرے بیٹے!! میرا ایک ہی بھائی ہے لے دے کے بڑا بھائی تو دنیا میں ہی نہیں رہا ۔۔۔۔”

میں اب ایک ماجائے سے منہ نہیں موڑ سکتی مگر میرے بچے میں تمہاری ماں ہوں تمہارا بھی مجھے اتنا ہی خیال ہے جتنا کہ اپنے بھائی کا ۔۔”

زینب اپنے بیٹے کی اجڑی حالت دیکھ کے شدید غم زدہ تھی۔کوشش کر رہی تھی اس کو سمجھانے کی مگر وہ بس ایک ہی بات پر بضد تھا کہ وہ سوہا کی شادی میں جائے گا ہر قیمت پہ اس کو اسکی شادی اٹینڈ کرنا مقصود تھا!!!

اس وقت بھی مصطفی خاموشی سے لب بھینچے ڈرائیو کر رہا تھا مہندی میں پہنچنے کی اس کو نہ جانے کیوں اتنی جلدی تھی کہ انتہائی ریش قسم کی ڈرائیونگ کرتا جلد از جلد لان پہنچنے کی تگ و دو میں تھا ۔۔۔۔

“میں آپ کا بیٹا ہوں امی !!خود پہ اختیار ہے مجھے میں بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس شادی کو کتنی خوشی ہے اور کتنا سکون ملا ہے اس کو مجھ سے بے وفائی کرکہ۔ ۔ ۔۔۔”

آخری جملہ وہ ماں کے سامنے نہیں بولا تھا بلکہ خود سے دل میں گویا ہوا ۔۔۔

خزیمہ اور اس کے گھر والے مہندی لے کے آ چکے تھے ہال میں ۔۔

خزیمہ اسٹیج پر بیٹھا ہوا سوہا کے انتظار میں تھا اور اس کے گھر والے ہال میں موجود مہمانوں سے علیک سلیک میں مصروف تھے ۔۔۔

سمیرا مجھے رحمان کا فیصلہ نہیں سمجھ میں آرہا ۔۔”

آئمہ سٹیج پر بیٹھے خزیمہ کو دیکھ کر بولی ۔۔۔

“کیوں آپی اتنا اچھا رشتہ ہے ہر لحاظ سے سوھا کے لیے بہترین ھے اور پھر رحمان صاحب کی پسند ہے ۔۔۔۔۔۔”

میں آج پہلی دفعہ خزیمہ کو دیکھ رہی ہوں جس روز یہ لوگ اچانک مٹھائی لے کے آئے تھے اس روز میں نہیں تھی نہ اسلئے ۔۔”

“مگر آپی آپ کی بھی تو مجبوری تھی آپ کا انایہ کے پاس جانا بھی ضروری تھا کیونکہ وہ عائشہ آپی کی بیٹی جو نکلی ہے اس لیے ۔”

ہاں مجھے بہت خوشی ہوئی ہے فجر کو آپنی بانجی انایہ کے روپ میں دیکھ کہ بے شک ۔۔”

آئمہ کو جیسے ہی پتہ چلا تھا کہ فجر ہی ان کی عنآیہ ہے اور خیر سے اب اس کی ننھی گڑیا بھی دنیا میں آنکھیں کھول چکی ہے وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کہ فوری ہسپتال روانہ ہوئی تھی ۔جبکہ سمیرا نہیں جا سکی تھی اس کے ساتھ کیوں کہ خزیمہ کے گھر والے مٹھائی لے کر آ رہے تھےاس دن۔ ۔۔!!

وہ اگلے دن گئی تھی رحمان صاحب کے ساتھ یہی وجہ تھی کہ آئمہ خزیمہ کو پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی ۔۔

اس کی عمر کیا ہے ۔۔۔؟

آئمہ خزیمہ کو دیکھتے ہوئے سمیرا سے استفسار کر رہی تھی وہ عجیب سے شش و پنج کا شکار ہوئی خزیمہ اس کو سوہا سے کافی بڑا لگ رہا تھا ۔۔

“آپی 30 سے 35 سال کے درمیان اس کی عمر بتائی تھی مجھے رحمان نے میں نے اس آگے پھر کچھ پوچھا نہیں آپ کو پتہ ہے ان کا پتہ ہی نہیں لگتا کب ہتھے سے اکھڑ جائیں ۔۔”

“پتہ نہیں سمیرا مجھے یہ 35 سال سے بھی بڑی عمر کا پختہ مرد لگ رہا ہے ۔ اس کو لڑکا تو کہیں سے بھی نہیں کہیں گے ۔۔”

نہیں آپی دیکھیں کتنا اسمارٹ سہ دبلا پتلا ڈیشنگ سہ توہے خزیمہ ۔۔”

“پتہ نہیں تمہیں کہاں سے ڈیشنگ لگ رہا ہے اس کی کاٹھی ایسی ہے مگر اس کے چہرے پہ موجود پختگی اور سختی گواہی دے رہی ہے کہ یہ 35 سے اوپر کا ہی ہے !!پتا نہیں رحمان کو ہماری بچی کیلئےیہی بر کیوں ملا تھا ۔۔”

“مصطفی میں کیا برائی تھی کتنا پیارا بچہ ہے کتنی خوبصورت جوڑی لگتی دونوں کی چاند سورج کی ۔۔۔”

آئمہ کو رحمان کے اوپر اٹھ کے غصہ آیا تھا ۔۔

“چلیں آپ بھی اپنا دل نہ جلائیں چوسوہا کا “

نصیب ۔۔۔”

ارے آج غزل اور ارمغان وغیرہ کے آنے کا ہے ؟؟؟؟

ائمہ نے یاد آنے سے پوچھا ۔۔۔۔۔

“نہیں غزل آپیا سے میری بات ہوئی تھی انہوں نے کہا ہے وہ کل صبح عنایہ کا ڈاکٹر سے اپوائنمنٹ ہے اس کو دکھا کہ پھر سیدھا یہیں پہنچیں گے اور پھر ولیمہ کرکے ہی جائیں گے ۔۔۔۔۔”

“چلو یہ بھی ٹھیک ہے ڈاکٹرسے ہر بات کا اطمینان کر لینے کے بعد آئینگے تو دل بھی مطمئن رہے گا “

وہ دیکھیں مصطفی اور آپیا بھی آ گئی ۔۔۔

ہال کے اندر داخل ہوتے مصطفی اور زینب کو دیکھ کہ وہ دونوں خوشی سے کھل اٹھیں۔

امید نہیں تھی کہ مصطفی آئے گا مگر اس وقت مصطفی نے آکے واقعی بہت بڑے ظرف مظاہرہ کیا تھا ۔

سمیرا کی پلکیں بےساختہ نم ہوئیں تھی مگر وہ بڑی خوبصورتی سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو واپس اندر اتار دی ۔۔۔

آئمہ کو تو اس نے بہلا دیا تھا مگر اپنے دل کو کیسے بہلاتی ؟؟؟؟

وہ اندر سےاپنی بیٹی اور مصطفی کے دکھ میں گھل رہی تھی ۔

دونوں محبت میں گرفتار ہو کہ اپنی منزل کو چھو نہ سکے تھے منزل پہ پہنچ کے بھی ۔۔۔!!!

سیراب نہ ہو سکے تھے دونوں کے دلوں میں ایک تشنگی سی اپنے پنجے گاڑ کے رہ گئی تھی ۔۔۔

تم لوگ کس کے انتظار میں ہو جاؤ اور سوہا کو کوئی اسٹیج پہ لے کر آؤں خزیمہ کتنی دیر سے انتظار کر رہا ہے اس کا ۔۔۔”

رحمان صاحب نے اپنا حکم جاری کیا ائمہ اور سمیرا کو دیکھ کہ۔۔

ہمیں کیا پریشانی ہوگی ہم تو بس عمر اور ہمزہ !!سوہا کے دونوں بھائیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کو پالکی میں بٹھا کہ اس کو چلاکر لے کہ جائیں اسٹیج تک۔۔۔

“رکو میں عمر کو فون کرتا ہوں “۔۔

رحمان صاحب جھلس کے بولے ۔۔

کہاں ہو یار تم ابھی تک کیوں نہیں آئے پتہ بھی ہے کتنا لیٹ ہو گئے ہو ۔۔؟؟

“دھت تیری ساری مصیبتیں ابھی نازل ہونی تھی ۔۔”

وہ غصے میں فون کاٹ کہ بولے۔ ۔۔

کیا ہوا رحمان سب ٹھیک ہے نا ؟؟؟

“ہاں سب ٹھیک ہے آپ کے بیٹے کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا ہے ان کو مزید ایک گھنٹہ لگے گا اب دوسرے شیر دل کو فون کرتا ہوں وہ کیا کہتے ہیں ذرا ان کی بھی تو سن لو ۔۔”

رحمان صاحب چڑھ چکے تھے اور ساتھ ہی حمزہ کی موبائل پے کال کرنے لگے ۔

۔

حمزہ بیٹا تم کہاں ہو ابھی تک کیوں نہیں پہنچے ہو؟؟؟

” شا باش!! چلو تم بھی اپنا ٹائم لو جتنی دیر میں پہچنا چاہو پہنچ سکتے ہو ۔۔”

کیا ہوا حمزہ کیوں نہیں آیا سمیرہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا کیوں کہ دوسری طرف ہونے والی گفتگو کا اندازہ دونوں کو ہی رحمان صاحب کے آگ بگولا تاثرات سے ہو چکا تھا ۔۔

“گجر ےلینے کے چکر میں آپ کے بڑے موصوف جو ہیں وہ سگنل میں بری طرح پھنس چکے ہیں ان کو پونا گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں تقریباً بقول انکے ۔۔۔”

رحمان صاحب ٹائم کے پابند شخص تھے گھر میں ان کو چھپکے سوہا اور شفاف میجر صاحب کا لقب دیتی تھیں۔

جس ٹائم کا وہ حکم جاری کرتے ٹھیک اس ٹائم پہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مگر ان کو گھر کا ایک ایک فرد بھی دیرکرتا نہیں ملنا چاہیے ۔۔

کیا میں آپ لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں ۔۔؟؟؟

بھاری گھمبیر آواز ان تینوں کی سماعتوں میں ٹکرائی تھی ۔تینوں نے چونک کے ایک دم پیچھے پلٹ کے دیکھا تھا جہاں مصطفی بڑھی ہوئی شیو۔کالا کرتا صفید شلوار اور گلے میں لال مفلر ڈالے چہرے پہ ہزن لیے ان کے جواب کا منتظر تھا ۔۔

رت جگے اسکی آنکھوں میں رقم تھےاور آنکھوں کے نیچے حلقے اس کی کئی دنوں سے بے خوابی کی چغلی کھا رہے تھے ۔۔۔

سمیرا کو اپنا دل جیسے سکڑتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

“برخوردار تم کیا مدد کر سکتے ہو میری میرے بچوں نے ہی مجھے فی الحال رسوا کرنے پر کمر کسی ہوئی ہے ۔۔”۔

رحمان صاحب اس وقت سب کچھ بھلائے صرف اور صرف اس فکر میں تھے کہ سوہا کو اسٹیج تک پالکی میں کون لے کے جائے گا ۔۔۔

ظاہر سی بات تھی وہ لوگ تو لے کر جانے سے رہی یہ کام تو بھائی بھابھی یا پھر دوستیں ، کزنز کیا کرتے ہیں مگر یہاں پر تو سرے سے ہی کوئی موجود نہیں تھا ادھر امجد گوندل صاحب شور مچا رہے تھے جلدی جلدی کا دونوں ایک جیسے ٹکرائے تھے میجر صاحب ۔۔۔!!!

سوہا کو پالکی میں اسٹیج تک لے کے جانا ہے ۔!!

سمیرا نے افسردگی سے کہا ۔۔

“میں لے کر آتا ہوں سوہا کو آپ لوگ اسٹیج پہ انتظار کریں ہمارا ۔۔۔”

وہ کہہ کے رکا نہیں تھا لمحہ زایہ کئے بغیر پلٹ گیا تھا ۔۔

چہرے پہ مرے زلف کو بھکر آؤ کسی دن

کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن

رازوں کی طرح اُترو مرے دل میں کسی شب

دستک پہ مرے ہاتھ کی کھُل جاؤ کسی دن

پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں

بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن

خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے

پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن

گزرے جو میرے گھر سے تو اڑھ جائیں ستارے

اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن

میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دو

سر رکھ کے میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن !!

وہ آخری دفعہ مصطفی کا بھیجا ہوا خوبصورت میسج پڑھ کے ڈیلیٹ کرنا چاہ رہی تھی مگر کئی دفعہ ڈریسنگ روم میں پڑھ لینے کے بعد بھی اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا سوہا اس کو ڈلیٹ کرنے کا۔

چاہت بھری نظم اس کے دل میں جیسے مصطفی کو بسآ گئی تھی ۔

وہ خوابوں خیالوں میں کھوئی ہوئی ماضی کی حسین یادوں میں قید مصطفی کے ساتھ گزارے گئے خوبصورت لمحات کو یاد کر کے مسکرا رہی تھی ۔بہت پیاری سے مسکان اس پل اس کے لبوں پے رقصاں تھی ۔۔۔

اس کو پتہ ہی نہ چلا جب کوئی بغیر دستک دیئے دروازہ کھول کے ڈریسنگ روم کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔

اس کے لبوں ہنوز ماضی کی حسین یادوں پہ مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔

“مبارک ہو تمہیں سوہامیری طرف سے “۔۔۔۔۔

مصطفی مغرورانہ چل چلتا ہوا اس کے بالکل مقابل آن کھڑا ہوا ۔۔۔

“میری زندگی کو برباد کرکہ تم کتنی خوشی خوشی کسی اور کی سیج سجانے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔”

“خزیمہ کی حسین سوچوں میں گم مسکرایا جا رہا ہے ۔۔”

آمیزینگ! !!

“کیا بات ہے مان گیا تمیں آج مجھے یقین ہو گیا سوہا کہ تم نے مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں تھی ۔۔۔”

وہ حیران پریشان سی ڈریسنگ روم کے اندر موجود مصطفی کو دیکھ رہی تھی پوری آنکھیں اور منہ اس کا کھلے کاکھلا رہ گیا۔

وہ یقین ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ سامنے کھڑا شخص مصطفی ہے۔ وہ اس کی سن ہی کہاں رہی تھی اس کو بس ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بہت پیارا خواب دیکھ رہی ہے سوتے میں ۔وہ تو جیسے کھو چکی تھی مصطفی کے سحر میں گم ہو چکی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں لینے آیا ہوں چلو میرے ساتھ ۔۔۔

کک کہاں۔ ۔۔؟؟؟

مصطفی نے اچٹتی سی نظر سے کچھ دیر قبل مسکراتے چہرے پر ڈالی تھی جہاں اب ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔۔۔

جہاں تم کو ہونا چاہیے ۔۔۔۔!!

مصطفی نے اس کی کلائی کو بے دردی سے اپنی مضبوط ہتھیلی میں جکڑا تھا ۔۔۔

کئی چوڑیاں ٹوٹکے سوہا کی کلائی میں کھب چکی تھی مگر وہ مصطفی کے آتش فشاں جلوے سے بھرےروپ کو دیکھ کہ اتنی تکلیف میں بھی کراہ نہ سکی اور خاموشی سے کھینچی چلی اس کے ساتھ ڈریسنگ روم کے باہر چلی آئی ۔۔۔۔

ڈریسنگ روم ہال کی پچھلی طرف تھا جہاں پر لوگوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی ۔مصطفی نے ادھر ادھر دیکھنے کے بعد سوہا کو اپنے بازوؤں میں بھر کے پالکی میں بٹھایا اور تیزی سے پالکی کو دھکیلتا ہوا حال کے اندرونی حصے میں بڑھنے لگا جہاں پہ مہمان موجود تھے ۔۔

“بہت مکمل تیاری کی گئی ہے خزیمہ کی دلہن بننے کے لیے ۔۔۔”

وہ لبوں پہ زخمی مسکراہٹ سجائے طنز کے تیر چلانے سے باز نہ آیا اور سوہاکو شرمندگی کے گہرے سمندر میں دھکیل گیا ۔۔۔

پلیز اسماعیل کیجئے آپ میم۔۔۔!!!

کئی کیمرہ مین بھاگتے ہوئے اس کی طرف آئے تھے دلہن کو ہال کے اندر آتا دیکھ ۔۔

اردگرد مہمانوں کو دیکھ کر وہ خود پہ بہت مشکل سے ضبط کر پا رہی تھی ورنہ آنسووں کو آنکھوں کی دہلیز پھلانگنے سے روکنے کے لیے خود پہ بہت جبر کر نا پڑرہاتھا۔ ۔۔

اس نے اپنے لبوں پہ جبری مسکراہٹ چسپاں کی تھی ۔جبکہ مصطفی تو ہنوز کب سے زہریلی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالنے سے دریغ نہیں کرہاتھا۔ ۔۔

وہ اسٹیج تک لا کے اس کو اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا کے خزیمہ کے اٹھ کھڑا ہونے سے پہلے تھام چکا تھا اور اسٹیج پر بٹھانے کے بعد خود اس کے برابر والے سنگل صوفے پہ ٹک گیا۔۔۔

خزیمہ نے بہت عجیب سی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا تھا ۔۔۔

سامنے سے حمزہ اور شفا بھی چلے آئے تھے بس اب عمر اور لائبہ کا آنا باقی تھا ۔۔۔

سب سے پہلے رسم مصطفی نے خود سوہا کی کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا سب لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا یہ کیا تھا ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔

وہ اس طرح ہر چیز میں پیش پیش تھا جیسے سب سے زیادہ خوشی اسی کو ہی تھی سوہا کی شادی کی۔ دکھ کا شائبہ تک ڈھونڈے سے اس وقت مصطفی کے چہرے پہ نظر تک نہیں آرہا تھا ۔۔۔

لاؤ ذرا اسے مجھے دینا ۔۔۔””

اسٹیج کے تھوڑے فاصلے پر موجود سنگر گانا گا رہا تھا جب مصطفی نے اشارہ کرکے اس سے مائک مانگ لیا ۔۔۔

حمزہ شفا سمیت سمیرا اور ائمہ کو مصطفی کی بے بسی پہ شدید افسوس نےآگھیرا تھا مگر وہ سبھی بے بس تھے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے چاہ کر بھی ۔۔!!!

“اوہو واہ مصطفی تمہیں سنگنگ بھی آتی ہے کیا بات ہے چلو بھائی شروع ہو جاؤ “

حمزہ نے فضا میں تاری تلخی کو دور کرنے کے لیے شور شرابہ شروع کردیا ہنسی مذاق میں وہ اس وقت ماحول کو ہلکا پھلکا کرنا چاہ رہا تھا ۔۔

مصطفی دھیمے سے مسکرایا تھا اور مائیک کو سختی سے ہاتھ میں پکڑ کر جالی کےگھونگھٹ میں سے جھانکتے سوہا کے چہرے کو دیکھا تھا ۔

وہ لا چار تھی۔۔

بے بس تھی۔۔۔۔۔

کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی سوائے رونے کے اور اس وقت بھی وہ بے آواز رو رہی تھی ۔۔!!!

وہ گنگناتے ہوئے گیت گانا شروع ہوا ۔۔۔

وہ میرے آنے پہ کھل جانا تیرا

وہ میرے جانے سے چڑ جانا تیرا

وہ میرے آنے پہ کھل جانا تیرا

یاد ہے نا ۔۔۔۔؟

یاد ہے نا ۔۔۔۔؟

سوہا کی ہلکی ہلکی سسکیاں اب باقاعدہ حمزہ کو محسوس ہو رہی تھی سنائی دے رہی تھی اس کے دل کو بہت تکلیف پہنچ رہی تھی مگر اس وقت وہ بھی اپنا حال دل بیان کرنے گریز نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔

دل کی گھٹن بڑھنے سے اسکو اپنا دل بند ہوجانے کا خدشہ تھا اس لیے آج تہیہ کر بیٹھا تھا کہ ساری بھڑاس نکال چھوڑے گا ۔۔۔

پاس آنے پہ بکھر جانا تیرا

بوند بوند مجھ پہ برس جانا تیرا

تل تل مجھ کو ترسانہ تیرا

یاد ہے نا ۔۔۔۔؟

یاد ہے نا ۔۔۔؟؟

سوہا روتے روتے کانپ اٹھی تھی۔اب وہ بے آواز رو رہی تھی مگر اس کی گھٹی گھٹی سی سسکیاں اس کے چاہنے والوں کو اندر تک ہلا کے رکھ گئی تھی۔سوہا کے ساتھ اس وقت کئی اور دوسری آنکھیں بھی برس رہی تھی ۔۔

جو تیرے تکیہ پہ نیندیں تھیں پڑی

جو تیری نیندوں میں راتیں ڈھلی

جو تیری راتوں میں سانسیں تھی چلی

یاد ہے نا ۔۔۔؟

یاد ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

آ جانا پھر سے چاند تلے

میں اور تو ایک ساتھ جلے

میں اور تو ایک ساتھ بجھے

یاد ہے نا۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟

یاد ہے نا۔۔۔۔۔۔ ؟؟

وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی ابھی وہ بے بس ہو کہ مصطفی کے ہاتھ سے مائیک چھین نےہی والی تھی جب ایک عجیب سا شور اٹھا تھا۔ لائبہ اور عمر اسٹیج پر آ ہی رہے تھے جب لائبہ نے پہلا قدم رکھتے ہی عمر کے بازوکو مضبوطی سے پکڑا تھا اور بغیر کچھ بولے وہ عمر کے بازووں میں جھول گئی تھی ۔۔۔