Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 3)

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 3)

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

آدم بھائی میں آپ کو بتاؤں میرا دل کیا چاہتاہے؟ ؟؟

میرا دل چاہتا ہے میں اس دنیا کو آگ لگادوں تہس نہس کر دو ۔۔۔!!

شفا میری اب ضد کے ساتھ ساتھ جنون بھی بن چکی ہے !!میں اس کے ذریعے اس شخص کو اتنا تڑپاؤ گا اتنا تڑپاؤ گا کہ وہ تو کیا پھر کوئی بھی

دوسری آئمہ وجود میں نہیں آ سکے گی ۔۔

اس کی آنکھیں غصہ سےسرخ ہو رہی تھی ۔۔۔

واقعی تم دوسری عائمہ کو جود میں لانا نہیں چاہتے ہو ؟؟؟

تو پھر شفاء کو تم خود اپنے ہاتھوں سے دوسری آئمہ بنا رہے ہو ۔۔۔!!!اسکے بارےمیں کیا کہوگے؟ ؟

میری ایک بات سنو اور اس کو دماغ میں بھی بیٹھا لو ۔۔۔۔

ہوسکے تو اس پر غور ضرور کرنا !!عورت مرد کی ٹیڑھی پسلی سےبنی ہے ۔۔۔

اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ توجائے گی مگر سیدھی نہیں ہوگی ۔۔۔۔!!

وہ اس کی کمر پہ تھپکی دیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔

ایک اور بات اگر تم نے شفا کے ساتھ کسی بھی قسم کا ظلم ڈھایا !!یاپھر اس کے او پر ہاتھ بھی اٹھایا نہ توتم میری ایک بات یاد رکھنا میرا اور تمھارا تعلق ختم ہو جائے گا ۔۔۔!!

میں شفا کو نہیں جانتا ۔۔

نہ ہی میں نے شفا کو آج تک کبھی دیکھا ہے مگر وہ ہے ۔۔!!

ایک لڑکی ایک معصوم لڑکی !!!

جو بھی ہے میری گود میں بھی بیٹی بیٹھی ہوئی ہے اور میں اتنا سنگدل ہرگز بھی نہیں ہوں کہ ایک بیٹی کا باپ ہوکر کسی معصوم لڑکی کے ساتھ ظلم وستم ہوتا دیکھ کر خاموش بیٹھا رہوں ۔۔۔۔۔

میں برداشت نہیں کرسکتا کسی بھی مرد کی بربریت ایک بے بس اور لاچار لڑکی پہ۔ ۔۔۔

اور ہوسکے تو اس کو بدلنے کے بجائے تمہیں خود کو بدلنا ہوگا ۔۔۔

مخلصانہ مشورہ ہے میرا تمہیں کہ ۔۔۔

تم اس معصوم لڑکی کی زندگی برباد کرنے کی بجائے اپنے ماضی کو بھول کر مستقبل کو بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش کرنا ۔۔۔!!

آپ کہاں جا رہے ہیں نکاح کے بعد جائیے گا۔ ۔۔

اگر یہ واقعی محبت کا سودا ہوتا تو میں ضرور ہوتا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔

آدم کو شدید غصہ آ رہا تھا حمزہ کی باتوں پہ وہ کیسے اتنا خود غرض ہو سکتا تھا کہ ایک لڑکی کو اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھانے کے لیے پاگل ہوا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔!!!

ایک آخری بات وہ مرد جو عورت پہ ایک دفعہ اٹھا لے تو وہ پھر کبھی بھی عورت کو عزت نہیں دے سکتا ۔۔۔۔!!

یہ کہہ کر آدم رکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر جا چکا تھا ڈرائنگ روم سے۔ ۔۔

جبکہ صوفے پر بیٹھا حمزہ اس وقت شدید قسم کے طوفان کی زد میں تھا ۔۔۔۔

وہ اس کو لے کر واپس چغتائی میشن پہنچ چکا تھا ان دونوں کو شام کے چھ بجے کے قریب گھر میں آتا دیکھ کر آئمہ اور سمیرا جلدی سے سجی سنوری شفاء تک پہنچی تھیں اور اس کو سہارا دے کر صوفہ پہ بٹھایا تھا ۔ ۔۔۔

ٹی پنک اور محرون کلر کے جوڑے میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی انوکھا ہی روپ اس پہ چڑھا تھا ۔۔۔

معصومیت اور کمسنی نے اس کے سراپے کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔۔۔۔

چھوٹی ماما ٹھیک سے دیکھ لیں یہ آپ کی ہی بیٹی ہےنہ؟ ؟؟

وہ سمیرہ کو دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے بولا تھا اور ساتھ ہی موبائل پہ نمبر ملا کہ کسی سے بات بھی کرتا جا رہا تھا ۔۔۔

جبکہ پاس کھڑی ائمہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر خود تیار ہونے اپنے روم میں جانے سے پہلے مڑا تھا۔

رحمان صاحب کدھر ہے ؟؟؟

بیٹا وہ بھی بس ابھی تیار ہونے کے لئے گئے ہیں روم میں ۔۔۔

وہ جواب سن کے بغیر کچھ بھی بولے اپنے کمرے کی سمت بڑھ چکا تھا ۔۔۔

آپی مجھے لگتا ہے ہمزہ اور رحمان کا اس نکاح کے ہونے سے تعلق بھی بہتر ہو جائے گا ۔۔۔

میری دعا ہے سمیرا ایسا ہی ہو۔۔۔!!

عائمہ پر سوچ لہجئے میں بولی تھی ۔۔۔

ماں تھی نہ بیٹے کی ایک ایک ادا سے واقفیت رکھتی تھی ۔۔۔۔

بیٹا تم فریش ہو کے آگئے کی طرح ۔۔۔۔۔؟؟

آئمہ نے سیڑھیاں اترتے مصطفی سے پوچھا تھا ۔۔

اسی نے اس کو عمر کے کمرے میں بھیجا تھا کیونکہ وہ ڈائریکٹ فلائٹ سے آرہا تھا اپنی ڈیوٹی سر انجام دے کر ۔۔۔

جی مامی میں بہت اچھی طرح سے فرش ہوا ہوں آج۔۔۔

مصطفی نے گھمبیر لہجے میں جواب دیا ۔۔۔

چلو بیٹا پھر ایک کام کرو لاؤنج میں بیٹھو میں نے شنو سے چائے بنوائی ہے!!

سکون سے پہلے چائے پی لو پھر نکاح کیلئے قاضی صاحب بھی آ جائیں گے۔۔۔

شنو سے چائے بنوائی ہے ؟۔؟

وہ چونک کر بولا تھا ۔۔۔

ہاں بیٹا اگر تمہیں شنو کے ہاتھ کی چائے نہیں پی نی ہےتو میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔

آئمہ کو لگا تھا جیسے وہ ملازمہ کے ہاتھ کی چائے نہیں پیتا ۔۔۔۔

نہیں نہیں مامی ایسی کوئی بات نہیں میں پی لو گا ۔۔۔۔

اس نے جلدی سے اپنے لہجے اور چہرے کے تاثرات کو تبدیل کیا تھا ۔۔۔

شفاء بیٹا سائین کرو!!سمیرہ نے بیٹی کو نرمی سےکہا۔

بیٹا مولوی صاحب آپ سے بات کررہے ہیں رحمان صاحب نے قدرِ دھیمے مگر تنبیہی لہجے میں جتایا ۔

چررر ۔۔۔۔ ڈرائنگروم دروازہ دکھیلا گیا۔۔۔

اور وہ اپنے مخصوص شہانہ دل جلانے والے انداز میں مغرورانہ چال چلتا اندرداخل ہوا ۔۔۔

آپ لوگ 5منٹ دے سکتے ہیں مجھے ؟؟؟میں اکیلے میں کچھ اپنی ہونے والی بیوی سے بات کرنا چاہتا ہوں اور بے فکر رہیں اس کے بعد ایجاب و قبول کا مرحلہ بھی بہت آسانی سے طے پاجائے گا ۔۔۔۔وہ آنکھوں میں فاتحانہ چمک لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔

رحمان صاحب نے ایک نظر بیٹی پہ ڈالی اور پھر ان (رحمان صاحب)کےاشارے پر سب ایک ایک کر کے ڈرائنگ روم سے باہر جا چکے تھے ۔۔۔

چلے جائیں آپ یہاں سے!! اب کیا لینے آئے ہیں؟ ؟ ۔۔۔شفاء ہذیانی انداز میں چلائی۔۔

کس بات کی اکڑ ہے تم میں ؟؟؟چھٹانک بھر کی تو تم ہو ۔۔۔وہ ہاتھ میں موجود ٹشو پیپر کے ذرےذرے کرتے ہوئے بولا جیسے کہہ رہا ہوں میرے نزدیک تمہاری وقعت اس سے زیادہ نہیں ہے ۔۔۔

ھمزہ تھوڑا اب اس پہ جھکا تھا اور اس کی کلائی بےدردی سے مروڑی۔ ۔۔

تم جیسا شخص اور کر بھی کیا سکتا ہے ؟؟؟وہ گرجی ۔۔۔

مجھ جیسا شخص کیا کیا نہیں کرسکتا یہ سوچو ۔۔۔۔۔

اس سوچ میں مت پڑو کہ میں کس حد تک جا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔

اور کس حد تک تم کرو گے ؟؟؟؟

وہ آنکھوں میں بڑے بڑے موتی لئے رندھی ہوئی اواز میں کہہ رہی تھی ۔۔۔

شفاء تمہیں پتہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟؟؟

تمہیں اصل میں پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔۔

حمزہ سپاٹ مگر دل جلانے والے لہجے میں بولا ۔۔۔۔

تمہارا یہ طنطنہ میں چندی لمحوں میں ہوا کر سکتا ہوں ۔۔

تم جیسا کم ظرف شخص اور کر بھی کیا سکتا ہے؟؟ سوائے توڑنے کے کبھی کسی کو جوڑنا سیکھا ہی کہاں ہے ۔۔؟؟۔وہ تنفر سے گویا تھی ۔

بڑی بڑی باتیں مت کرو ایسا نہ ہو کہ منہ کی کھانی پڑے ۔۔اور تم تو اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں کبھی بھی گری ہوئی چیز نہیں اٹھاتا ۔۔۔

اندر بھیج رہا ہوں قاضی صاحب سمیت پوری فوج کو شرافت سے تین دفعہ قبول ہے کہدینا۔ ۔۔

کسی قسم کا ڈرامہ کھڑا کیا تو تم مجھے تو بہت اچھی طرح سے جانتی ہی ہو !!آفٹراول بچپن ساتھ گزرا ہے !!میں کیا کر سکتا ہوں کیا نہیں اس کا اندازہ تو تمہیں بہت اچھی طرح سے ہوگاہی۔

ارے میرا نہیں تو !!اپنے اور میرے درمیان رشتے کا ہی مان رکھ لیتے ۔۔۔مسٹر حمزہ جلال۔۔۔

ہنہہ۔ ۔۔۔۔رشتہ۔۔۔۔۔ وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔

دس منٹ ۔۔۔۔!!!

وہ اپنی ہاتھ میں بندھی گھڑی کے شیشے پر اس کی انگشت شہادت ‏سے ٹک ٹک کر کے بولا ۔۔۔۔

اچھی طرح دیکھ لو صرف اور صرف دس منٹ ہے تمہارے پاس میرے نکاح میں آنے کے لئے ۔۔۔۔۔

۔۔۔وہ اس کو اچھی طرح سے دھمکا کر واپس ڈرائنگ روم سے باہر جا چکا تھا ۔۔

کچھ ہی دیر بعد مبارک ہو مبارک ہو کا شور اٹھا تھا۔۔۔۔۔

تو گویا تم نے مجھے مات دے ہی دی ۔۔۔

آج میں شفا رحمان سے شفا حمزہ چغتائی بن گئی ہو ۔۔۔۔۔۔

کیا ایسے بنتے ہیں نئے رشتے ؟؟؟؟

بیٹا تمہیں بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔

ائمہ اس کے پاس آکر بیٹھی تھی اور اس کو گلے سے لگا کر مبارکباد دی تھی ۔۔

بڑی امی مجھے پلیز میرے کمرے میں چھوڑنے چلیں میرے سر میں بہت بری طرح درد ہو رہا ہے میرا سر درد سے پھٹنے کو ہے ۔۔۔۔!!!!

وہ بے چارگی اور غم کی ملی جلی کیفیت میں بولی تھی ائمہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی اس کے احساسات کو اس لئے بغیر کچھ بھی کہے سب کے بیچ میں سے اس کو اٹھا کر کمرے میں چھوڑ آئی تھی اس کے کمرے میں۔

ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔

فجر نے ہاتھ ہلا کر زید سے کہا ۔۔۔

دیکھ لو تم آ جاؤ گی نہ کوئی تمہیں گھر تک چھوڑدے گانا ؟؟

زید کیا ہو گیا ہے؟ ؟؟

میں کوئی دودھ پیتی بچی تو نہیں ہو ں ۔۔

تم جاؤ آرام سے میں آ جاؤں گی ۔۔۔

مجھے اب پریشانی لاحق ہورہی ہے یار ۔۔۔۔

میں ایک کام کرتا ہوں کہ آج پھر اوف کر لیتا ہوا نہیں کرتا آج کی نائٹ ڈیوٹی ۔۔۔

میں کہہ رہی ہوں نا زید تم جاؤ میں آ جاؤں گی شفا کا ڈرائیور مجھے ڈروپ کر دے گا۔۔۔

تم کیوں پریشان ہو رہے ہو تم جاؤ اپنی ڈیوٹی کرو اور کتنی چھٹیاں ی کرو گے؟؟؟؟

پہلے ہی تین چھٹیاں تم کر چکے ہواس مہینے ۔۔۔۔ !!!

ڈپٹ کے بولی تھی ۔۔۔

یار دیکھ لو اچھا میں ایک کام کرتا ہوں میں بابا کو کہہ دیتا ہوں وہ تمہیں لے لیں گے ۔۔۔

بابا مجھے نہیں لے سکتے میں تمہیں بار بار کہہ رہی ہو! !بابا کی طبیعت آج کافی آپسیٹ ہے ان کو میں خود دوا کھلا کے آئی ہو ۔ ۔۔۔

یار تم میری بات کو بھی تو سمجھو دیکھو ابھی آتے وقت تم نے باہر کے حالات دیکھے؟ ؟

شہر کے مشہور پولیٹیشن کو زخمی کردیا ہے ۔۔

اگر وہ مرگیا تو شہر کے حالات بہت بگڑ جائیں گے ۔۔۔

زید کے چہرے پر پریشانی رقم تھی وہ کسی صورت بھی فجر کو اکیلا چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔

تم پریشان نہیں ہوں اگر ایسے ہی حالات زیادہ خراب ہوئے تو پھر میں شفاء کے بابا کے ساتھ آ جاؤ نگی یا۔ پھر اس کے بھائی مجھے ڈراپ کردیں گے ۔۔۔

وہ کیا کہتا کہ وہ کس وجہ سے اس پر زور دے رہا ہے ؟؟؟

وہ اندر سے خوفزدہ ہو رہا تھا کیوں کہ شہر کے حالات ابھی بھی کافی حد تک بگڑ چکے تھے جگہ جگہ آنسو گیس اور گاڑیاں ٹائر وغیرہ جلائے جا رہے تھے ۔۔۔

زید کی پریشانی کی وجہ شہر کے حالات خراب ہونا نہیں تھے بلکہ فجر کا خوف تھا کہ اگر وہ آح کو دیکھ لے گی تو پھر اس کا ری ایکشن بہت ہی خطرناک قسم کا آنا تھا سب کے سامنے ۔۔۔۔

وہ لوگ شام چار بجے کے نکلے ہوئے تھے پہلے فجر نے گفٹ شاپ سے شفا کے لئے گفٹ خریدا تھا۔۔۔

اس میں ہی اس نے ڈیڑھ گھنٹہ لگا دیا تھا !!جب وہ لوگ گفٹ شاپ سے باہر نکلے اور شفا کے گھر تک پہنچنے کو تھے اس وقت اس کے ایک دوست کا فون آیا جس نے بتایا کہ مشہور پولیٹیشن وقار حسین کو گولی مارکر زخمی کردیا ہے۔۔۔۔

وقار حسین ملک کے نامور پولیٹیشنزمیں سے ایک تھا جس پر آج ساڑھے چھ بجے کے قریب قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

میں کہہ رہی ہوں نہ میں دیکھ لوں گی تم جاؤ ۔۔۔

فجر اس کی اب ایک بھی سنی بغیر اندر جا چکی تھی شفا کے گھر کے ۔۔۔۔

جب کہ گاڑی میں بیٹھا زید بیچارگی سے اسکو اندر جاتا دیکھ کے رہ گیا ۔۔۔

بھائی آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے پلیز بھائی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔

امی بھی چلی گئی اور اب آپ بھی چلے گئے ۔۔۔

رحمان اپنے بھائی کے جنازے کے پاس بیٹھا بری طرح سے تڑپ تڑپ کے رو رہا تھا ۔۔۔۔

صبر کرو صبر کرو بیٹا ۔۔۔۔

رحمان کے چچا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے تھپتھپا کے دلاسہ دیا ۔۔۔

چچا دیکھئے نہ امی میں بھی چلی گئی بھائی بھی چلے گئے مجھے کیوں چھوڑ گئے یہ دونوں ؟؟؟

بیٹا جانے والے کو کوئی نہیں روک سکتا اور تم یہ کیوں سوچ رہے ہوں کہ تم تنہا رہ گئے تمہاری بہن بھی تو ہے وہ بھی تو تمہارے ہی طرح اس کرب سے گزر رہی ہے تم بجائے اس کی ہمت بننے کے خود اس طرح سے ٹوٹ کر دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔

ہمت کرو اور خود کو سنبھالو جلدازجلد تاکہ زینب بھی سنبھل سکے ۔۔۔

اس کا حال دیکھو وہ بالکل سکتے میں ہے پہلے ماں اور بھائی ۔۔۔

وہ ایک عورت ہے تم اس کو سنبھالو بجائے اس کے کہ تم خود ۔۔۔۔

چلو بیٹا اٹھو شاباش اپنے بھائی کے جنازے کو کاندھا دو۔ ۔

جتنا روُو گے اس کی روح کو تکلیف پہنچے گی اٹھو شاباش ۔۔۔۔۔!!!!

وہ جود پہ جبر و صبر کرکے اٹھ گیا تھا اور اپنے بھائی کو آخری آرام گاہ میں سپردخاک کر کے واپس لٹا پیٹاسہ گھر لوٹا تھا اور آتے ہی اپنے کمرے میں جا کربند ہوا تھا ۔۔۔۔

بھائی میں نہیں چھوڑوں گا میں اس عورت کو برباد کرچھوڑونگا!! جس نے میرے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ کے رکھ دیا میری ماں اس غم میں چلی گئی ہے اور پھر میرا بھائی بھی۔۔۔۔

میرا وعدہ ہے آج آپ سے کہ میں اس عورت کو کبھی خوش نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔

اس نے میرے بھتیجے کو میرے ہی بھائی سے نہیں ملنے دیا۔۔۔

میرے بھائی کی آخری خواہش تھی کہ وہ اپنا بیٹے کو دیکھ سکے مگر اس صورت میں وہ آخری خواہش تک نہیں نہیں ہونے دی ۔۔۔۔

اب آپ دیکھئے گا بھائی کہ وہ کس طرح ہر دن تڑپے گی اور ہر رات جئے کی ہر لمحہ مرے گی ۔۔۔۔۔۔

میں اس پر زندگی تنگ کر دوں گا ۔۔۔

وہ شدید جنونی ہو رہا تھا اور اپنے کمرے کی حالت ہر چیز ادھر سے ادھر پھینکتا توڑتا کسی بھی زاویے سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ایک پڑھا لکھا باشعور شخص ہے ۔