Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 24
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 24
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
وہ سوہاکو لے کر ریسٹ ہاؤس پہنچ چکا تھا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا ۔۔۔
محترمہ آپ چیپ سے خود اترنا پسند کریں گی یا پھر میں اب آپ کے لئے بلڈوزر منگواؤ ۔۔
مجھے آپ کے ساتھ اندر نہیں جانا ۔۔
وہ نروٹھے پن سے بولی ۔۔
تو پھر کیا رات بھر اس جیپ میں بیٹھ کے بھوتنیوں کے ساتھ کیرم بورڈ کھیلنے کا ارادہ ہے ؟؟؟
وہ اب بری طرح سے زچ ہو چکا تھا اس لئے قدر برہم لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
میرا پالا جس قسم کے بھوت سے پڑھ چکا ہے اس کے بعد تو کوئی بھی بھوتنی میرے قریب تک آنے سے گھبرائے گی۔ ۔
وہ بھی اسی کے لہجے میں برجستہ بولی ۔۔
تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں میری بانہوں میں آنے کا بہت شوق ہے ؟؟؟
اور تم اس وقت بھی یہی چاہ رہی ہوں کہ میں تمہیں اپنی گود میں اٹھا کر اندر تک لے کر جاؤں ؟؟؟
ایویں۔ ۔۔۔۔ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کی گود میں کسی گھسی پٹی ہیروئن کی طرح جھولنے کا آپ خود ہی مجھے ہر وقت اپنی گود میں اٹھا کر گھومتے رہتے ہیں جیسے کہ میں کوئی کنڈر گارڈن کی بچی ہو ۔۔۔
مجھے بہت اچھی طرح پتا ہے کہ تم بچی نہیں بلکہ پوری ہو اس بات کا تو اندازہ مجھے اسی دن ہو گیا تھا جس دن تم نے بڑی دیدہ دلیری سے کچن میں کھڑے ہو کر مامی کو میرے پروپوزل کے لئے انکار کیا تھا ۔۔
وہ اب بہت بری طرح سے سوہا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے عاجز ہوکر آتش فشاں کی طرح غصے سے پھٹ پڑا تھا ۔
مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ میں جارہی ہوں ۔۔
اچھا جاؤ کہاں جانا ہے؟؟؟
میں نے اجازت دی جدھربھی جاسکتی ہو جاؤ پر مگر مجھے بتاؤ ذرا جاؤں گی تو آخر کہاں ؟؟؟
وہ بھی رات کے بارہ ساڑھے بارہ بجے کے وقت ؟؟؟؟؟
سینے پہ دونوں بازو لپیٹے آنکھوں میں شدید غصے کی سرخی لیے وہ چنگھاڑا ۔۔
واپس اپنے ٹیچرز کے پاس ۔۔
وہ اس کے بری طرح سے چلانے پر سہم کر اب اپنے نین کٹوروں سے آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
دیکھو سوہا میری بات کو سمجھو اس وقت تم کہیں بھی نہیں جاسکتی ۔۔
تم اندر چلو اس کے بعد اس مسئلے کا حل سوچتے ہیں میں سمجھتا ہوں تمہاری پریشانی کو۔ ۔
تم مجھ پہ ٹرسٹ کرو میں تمہارے ساتھ کوئی بھی غلط حرکت نہیں کروں گا ۔۔۔
جب تک تمہارے مکمل جملہ حقوق اپنے نام نہیں لکھوا لیتا میں تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کا سوچنا بہت دور کی بات ہے ۔۔۔
وہ جیپ سے اترتے ہوئے بولا پریشانی اسکے چہرے پہ رقم تھی کیونکہ لینڈسلائیڈنگ ہونے کی وجہ سے راستے بری طرح سے بلاک ہو چکے تھے جس کی وجہ سے وہ اب سوہا کو اس کے گھر بہ حفاظت جلدازجلد نہیں پہنچا پا رہا تھا ۔۔
اس وقت اس پر صرف ایک ہی پریشانی سوار تھی کہ اس کو سوہا کی حفاظت کرنی ہے ہر طرح سے ۔۔۔۔۔
اور یہی سوچ اس کو پریشان کر رہی تھی کہ کس طرح وہ تن تنہا سوہا کو اکیلا ریسٹ ہاؤس میں رکھے گا ؟؟؟؟
آپ نے جھوٹ بولا کہ آپ کا مجھ سے نکاح ہوا ہے ۔۔
میں پھر اب آپ پہ کیسے یقین کرلو کہ آپ واقعی سچ سچ بول رہے ہیں ؟؟؟
وہ آنسو پوچھ کے اب اپنی اپنی بڑی بڑی گول گول آنکھیں پٹ پٹا کر بولی تھی ۔۔۔
تم اتنی سی ہو مگر تمہاری عقل بڑی نہیں بلکہ بہت بڑی ہو چکی ہے ۔۔۔
موویز اور ڈرامے ذرا کم دیکھا کرو خود بھی چلتا پھرتا ایک ڈرامہ بن چکی ہو ۔۔۔
اب اگر اترنا ہے تو اتروں نہیں تو میں اندر جا رہا ہوں ۔۔۔۔
اس کو دھمکاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا ۔۔
وہ اس کو اندر جاتا دیکھ کر خود بھی اب جلدی سے اتر چکی تھی وہ مبادہ کہیں واقعی اندر جا کر اس کو باہر ہی چھوڑ دے اور دروازہ لاک کردے ۔۔
سوہا کی اس حرکت پر اتنی ٹینشن کے باوجود بھی مصطفی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔۔
بیوقوف لڑکی ۔۔۔۔!!!!!
صبح فجر کے وقت اس کی آنکھ کھلی تھی ۔۔
وہ پابندی سے نمازیں ادا کرنے کا عادی تھا ۔۔
ابھی بھی فجر میں پورا آدھا گھنٹہ باقی تھا مگر وہ اٹھ چکا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے ہاتھ اور سینے پر دباؤ سا محسوس ہوا اور بینیٹن کی خوشبو نے اس کو مزید چونکایا تھا وہ یکدم حواسوں میں آنے کی کوشش کرتے ہوئے لیمپ کا بٹن ٹٹول کر اس کو جلا چکا تھا ۔۔
ہلکی ہلکی لیمپ کی روشنی میں وہ موندی موندی آنکھوں سے شفا کا سر اپنے بازو جبکہ چوڑیوں اور مہندی سے سجا ہاتھ اپنے سینے پہ دھر آ دیکھ کر وہ لمحے بھر کے لیے ساکت و صامت سا رہ گیا تھا ۔۔
مہرون نائٹی ،کھلے بکھرےریشمی بال، نازک سراپا ،چہرے پے بلا کی معصومیت ۔۔۔۔۔!
حمزہ مبہوت سا اسکو دیکھیے گیا ۔۔۔
نہیں بالکل نہیں ۔ ۔۔۔
ابھی تو رحمان صاحب آپ کو بہت تڑپنا ہے ۔۔
میں آپکے تڑپنے کا تماشہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اپنا بازو سوہا کے سر کے نیچے سے نکال کر اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔
مگر کیا ایک معصوم لڑکی کو اپنے بدلے کے لئے استعمال کرنا اچھی بات ہے ؟¿¿
کیوں میرا دل شفا کی طرف مائل ہو رہا ہے ؟؟؟
کیوں میں چاہ کر بھی اسکے ساتھ کچھ بھی برا نہیں کر پا رہا ؟؟؟
کیا مجھے شفا کو اس نام نہاد رشتے سے آزاد کر دینا چاہیے ؟؟؟؟
شفاعت تھوڑی سی کلبلا کر ایک دفعہ پھر اس کے سینے پر سر رکھ کے سو چکی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ عمر کی اس حرکت پر دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا تی واپس جانے کا فیصلہ کرچکی تھی اپنے گھر ۔۔
“چاہے مجھے اکیلی ہی کیوں نہ رہنا پڑےمگر اب ہرگز بھی اتنی شرمندگی کے بعد سب کا سامناکرنا میرے لیے انتہائی مشکل کام ہے”۔۔
اس سے بہتر تو یہی ہے کہ میں ٹکٹس کروا کے واپس اپنے گھر چلی جاؤ ۔۔۔۔
وہ اپنی اس سوچ کے آتے ہی بغیر کسی کو بتائے ٹکٹ کروانے نکل چکی تھی ۔۔
یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ کراچی کہ کسی بھی راستے سے وا کیفیت نہیں رکھتی ۔۔
چلتے چلتے اس کو پتہ ہی نہیں چلا کے وہ کدھر نکل آئی تھی۔۔۔۔
کافی دیر سے وہ کسی کیب کی متلاشی ادھر سے ادھر خوار ہو رہی تھی ۔۔۔
یکدم ایک ہائی روف اس کے بہت قریب آکر رکی تھی اور دو لڑکے اس میں سے اترے تھے جن میں سے ایک لڑکے نے اس کے بازو میں ایک انجکشن بہت برے طریقے سے لگایا تھا ۔۔
وہ بجلی کی سی رفتار سے مصطفی کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی ۔
مبادہ وہ اسکا انتظار کرنے بجائے غصہ میں اندر جا کر دروازہ ہی بند نہ کر دے ۔۔۔۔
وہ تیز جلدی آگے پہنچنے کے چکر میں بغیر نیچے دیکھیے دھڑام سے سوئمنگ پول میں جاگری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی گہرا ہونے کے باعث وہ بری طرح سے پول میں مچل رہی تھی۔۔۔
چھپپپپپپ۔ ۔۔۔!!!
مصطفی پانی کی چھپٹ سے زودار سناٹے کو چیرتی آواز سن کر بوکھلاکرپیچھے مڑ ا تھا اور سوہا کو دیکھا تھا۔۔۔۔
جو بچاؤ بچاؤ کی گردان کر رہی تھی ۔۔۔
مصطفی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنی شرٹ اتار کر دور اچھالی۔۔
وہ اسکو تیرنے کی کوشش کرتے اور گہرےپانی میں ہاتھ مارتا دیکھ تیزی سے پانی میں غوطہ مار کر تیرتا ہوا سوہا تک پہنچ چکا تھا ۔ ۔۔
یہ ریسٹ ہاوس اس کو ادارے کی طرف سے ملا تھا تین سو گز کی زمین کو بائفرکیٹ کرکے دیڑھ سو گز کا ریسٹ ہاوس جدید طرز رہائش سے آراستہ و پیراستہ ایک کمرہ ، لاؤنج اور کچن پہ مشتمل تھا جبکہ باقی زمین پر لان ،سوئمنگپول اور کارپوچ وغیرہ ۔۔۔
وہ سوہا کو بازوں میں بھر کر پول سے باہر لایا تھا اور اب اس کو فرش پہ بٹھا چکا تھا ۔۔۔۔
“جب تیرنا نہیں آتا تو پانی سے بلاوجہ بیر لینے کا کیا فائدہ؟؟؟؟”
سردی سے کانپتی اور پانی کی وجہ سے کھانستی سوہا کو خشمگین نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
” یہ سب کچھ کیا دھرا ہے”۔۔
کیوں میرا اس سب میں اب بھلا کیا قصور؟؟؟؟ میں نے کہا تھا کہ تم اندھوں کی طرح چلو اور پانی میں ڈبکی لگا دو ۔۔۔؟؟؟؟
وہ بھناکر بولا ۔۔
“نہیں آپ نے یہ نہیں کہا تھا مگر نہ آپ مجھے گاڑی میں اکیلا چھوڑ کر جاتے نہ میں پول میں گرتی۔ ۔”۔۔۔
وہ بچوں کی طرح منہ بسورتی ضددی لہجے میں بولی ۔۔
“میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم پانی کے اوپر چلنا شروع کر دو تمہارا بس چلے تو ہواوں سے بھی جنگیں لڑنا شروع کر دو ۔۔”
وہ اسکوفرش سے اٹھا کر اپنے بازوؤں میں بھر کے اندر کی طرف بڑھتا وہ بری طرح سےجھنجلا رہا تھا ۔ ۔ ۔۔۔۔
“خدا نے مجھے پیروںکی نعمت سے نوازہ ہے میں کوئی بچی نہیں ہوں کہ آپ مجھے ہر دفعہ گود میں اٹھا کر چلنا شروع کردیتے ہیں ۔۔
وہ سانس بحال کرکےاس پر غرائی ۔۔
“بچی نہیں ہو تم یہ تو مجھے بھی پتہ ہے ۔۔”
“کالج جاکر تمہارے بہت پر نکل آئی ہیں ۔۔”
تمہاری یہ بے قابو ہوتے پر میں بہت جلدی کاٹنے والا ہوں مگر میری ایک بات سنو تمہیں زمین پر چلنا تو دور کی بات سہی سے نیچے دیکھ کر دیکھ کر چلنا تک نہیں آتا ۔۔۔”
مصطفی کہاں کسی کو بخشنے والوں میں سے تھا ۔۔۔
سردی اور پھر پانی میں بھیگنے کی وجہ سے اس کا بھیگا ہوا سراپا۔۔۔۔!!!
اس کا پورا وجود ٹھنڈ سے بری طرح کپکپاہٹ کا شکار ہو رہا تھا ۔۔
ٹھنڈ کی زیادتی سے اب اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ہڈیوں کو ڈرا دینے والی ٹھنڈ تھی اس پہ تضاددونوں کا بھیگا وجود ۔۔!!!
مصطفی کے خود کے منہ سے دھواں نکل رہا تھا ۔
وہ تو پھر ایک نرم و نازک سی چھوٹی سی لڑکی تھی ۔۔۔۔
“بہت شوق ہے نہ تمہیں بھی ٹرپس پہ آنے کا اب اوگی آئندہ ؟؟؟”
وہ اس کو شرم دلانے والے لہجے میں بولتا صوفے پر بٹھا چکا تھا ۔۔۔
ھاں ھاں ھا ں سو دفع آونگی ۔۔
وہ چڑ ھ کر ہٹ دھرمی سے بولی تھی ۔
“توبہ تم جیسی آفت کی پرکالہ سے نمٹنا میرے بس کا کام نہیں ہے “۔۔۔۔
“ابھی جلدی سے چینج کرو جلد از جلد اپنے ڈریس کو نہیں تو بیمار پڑ جاؤ گی ۔۔”
وہ فکرمندی سے کہتے ہوئے اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولنے لگا سوہا نے ایک نظر موصوفہ کو دیکھا اور پھر ریسٹ ہاؤس کا اندر سے جائزہ لینے لگی وہ خود لاؤنج میں بیٹھی تھی جبکہ لاؤنج سے ملحق ایک بیڈ روم تھا واحد جہاں ابھی ابھی مصطفی گیا تھا بیڈروم کے برابر تھوڑا فاصلے سے کچن تھا ۔۔۔
یہ ایک لکڑیوں سے بنا خوبصورت ریسٹ ہاوس تھا اندر کا انٹیرئیر بھی خاصے اعلی ذوق کا تھا جو کہ آرکیٹیکچر کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔
وہ صوفے پہ ٹکی ہوئی تھی اس کے بالکل سامنے وال پر باریک پتھروں سے ایک بڑا سا جہاز بنایا گیا تھا جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کے یہ رہائش اسکو ادارے کی طرف سے موصول کی گئی ہے پورے گھر میں آرکیٹیکٹ کی مہارت بہت خوبصورتی سے آپنے رنگ دکھا رہی تھی ۔۔
“تم ابھی تک یہی بیٹھی ہوں ؟؟”
مصطفی ڈھیلے ڈھالے آرامدہ کپڑوں میں ملبوس روم سے باہر نکلا تھا اور اس کو ہنوز اسی طرح بیٹھا دیکھ کر چڑھ سہ گیا تھا۔۔
اس کو فکر تھی سو ہا کی کہ کہیں وہ ٹھنڈ کی وجہ سے بیمار ہی نہ پڑجائے!! ادارے کا ڈاکٹر موجود تھا مگر سوہا کے لیے وہ ہد درجہ پوزیسو تھا وہ اس کی ایک جھلک بھی کسی غیر مرد کو دکھانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ کوئی بہت ہی دقیانوسی اور سطحی سوچ رکھنے والا مرد تھا مگر نہ جانے کیوں سوہا کو لے کر وہ انتہائی احساس ہونے لگا تھا۔ ۔
وہ بالکل اس کو سنو وائٹ کی طرح لگتی تھی جو صرف اور صرف اس کی تھی جس کو دیکھنے اور چھونے کا حق صرف وہی رکھتا تھا ۔۔۔
“چینج کرنے کے لیے کیا کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور ادھر سوائےاس رگ کے مجھے کچھ اور نہیں دیکھ رہا”۔۔۔
” اگر آپ کہیں تو ٹیبل ہٹا کے یہ زمین پہ بچھہ رگ لپیٹ کر ما ڈلنگ کرنا شروع کردوں” ۔۔۔
وہ بلبلا کر کہتی اپنی گول گول آنکھیں پٹ پٹانے لگی گلابی چہرہ غصے کی شدت سے مزید سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
“اچھا اچھا بس کرو میرے روم میں جاؤ سامنے وار ڈروب میں سے میرا کوئی کرتااور ٹراؤزر دیکھ لو ۔۔”
۔
وہ بڑی مشکل سے اپنی نظریں اس کے بھیگے بھیگے سراپا اور پرکشش نشیب و فراز سے ہٹا سکا تھا ۔۔۔
آپ کی واڈروب میں موجود کرتا دیکھ کر کیا کرو نگی بھنگڑے ڈالوگی ؟؟؟؟مجھے اپنے پہننے کے لئے کپڑے چاہئے ۔۔۔
وہ بری طرح سے جھنجلا رہی تھی۔۔۔
پتا نہیں تم اتنی انجان ہو یا پھر جان بوجھ کر مجھے آزما رہی ہو؟؟؟؟
کو گھمبیر لہجے میں بولا تھا اور اس کے اور اپنے درمیان چند قدموں کا فاصلہ لمحے میں ٹاپتاوہ اس کی نازک سی کلائی کو اپنی مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لے چکا تھا اور اس کو لے کر بیڈروم کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
“چھوڑیں مجھے “۔۔
میں کیوں جاوں آپ کے ساتھ آپ کے بیڈروم میں؟؟؟؟۔۔
کیوں مجھے لے کر جا رہے ہیں اپنے ساتھ آپ کو نہیں پتا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟؟؟؟
وہ خوف زدہ ہو کر بولی تھی ۔۔
“مستقبل میں بھی تو میرے بیڈروم میں ہی جانا ہے تم نے” ۔۔۔
تو ہے تو پھر ابھی جانے میں کیا پرابلم ہے ۔۔؟؟؟
اس کے لہجے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی تپیش سوہا کو محسوس ہوئی تھی ۔۔
“میرے لیے تمہیں رخصت کروانا صرف ایک چٹکی بجانے کے برابر فعل ہے۔ ۔”
وہ اپنی باتوں سے اس کو صحیح معنوں میں زچ کر چکی تھی اب اسکادماغ بری طرح سے کھول کر بھنوٹ ہوچکا تھا سوہا اس کو جان بوجھ کر ستآرہی تھی یہ وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس جیساڈیسنٹ بندہ زیادہ کسی سے بات کرنا نہیں پسند کرتا تھا اور یہ لڑکی تھی جو اس کی مسلسل ناک میں دم کر کے رکھ رہی تھی مگر اس سب میں قصورسوہاکا بھی نہیں تھا اصولآ ً خطا وار اسکا اپنق دل تھا جو انجانے میں ہی سہی مگر سوہا کو اپنا مان بیٹھا تھا۔
آج ہمزہ کی برتھ ڈے تھی پہلے کبھی اس نے حمزہ کی برتھ ڈے کے لیے اتنا اہتمام نہیں کیا تھا وہ ہمیشہ عمر کی برتھ ڈے بہت زور و شور سے منایا کرتی تھی مگر حمزہ کا کا لیہ دیا رویہ ہی ایسا تھا کہ کوئی اس کی خوشیوں تو کیا غم تک میں شریک ہونے کی جرات نہیں کرسکتا تھا ۔۔
حمزہ صبح سویرے ہی گھر سے نہ جانے کہاں چلا گیا تھا جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ گھر میں کہیں بھی نہیں تھا ۔۔
شفاء پریشان ہو کر اس کے نمبر پہ فون کرنے لگی تھی ۔۔
تین سے چار بیل جانے کے بعد فون رسیو کر لیا گیا تھا ۔۔
کہاں ہیں آپ ؟؟؟
شفاء نے چھوٹتے ہی بے صبری سے پوچھا اور حمزہ کو احساس دلانا چاہا تھا کہ خیر سے اب وہ ایک عدد بیوی بھی رکھتا ہے ۔۔
اورشوہر کے اعلی عہدے پر فائز ہو چکا ہے ۔۔۔
“کام بتاؤ کیوں فون کیا ہے ؟؟؟
وہ سرد مہری سے کہتا ہوا اس ایک ہی بات کو یکسر نظر انداز کر گیا تھا ۔۔
“میرا دماغ اور دل آپ کی محبت میں بے قابو ہو چکا ہے !!میں دن ہوتے ہوئے سوچتی ہوں جیسے رات ہو رہی ہے ۔۔”
“ہر طرف آپ ہی آپ نظر آ رہے ہیں پلیز جلدی سے گھر آ جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ جو حمزہ مجھے اپنے اردگرد نظر آرہا ہے میں اس سے اپنا حال دل کہہ بیٹھو ۔۔”
وہ چہرے پہ شرارتی سی مسکراہٹ سجائے اس کو زچ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی اپنے سے کئے گئے عہد کی تکمیل کے لئے وہ پہلا قدم ہمزہ کے دن تک جاتی ہوئی سیڑھی پہ رک چکی تھی ۔۔
“تمہارا دل اور دماغ قابو میں نہیں ہے سٹھیاگیا ہے اس قسم کی ہانکنےکے بجائے ٹو ڈی پوائنٹ بات کرنا سیکھو “۔۔
“میرے پاس فضول وقت نہیں ہے جو میں تمہاری اوٹ پٹانگ بے سروپا باتیں تفصیل سے سنتا پھرو ۔۔”
حمزہ کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری شدید سرد مہری لیے ہوئے تھا ۔۔
شفاء کا دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ اُس کا دماغ درست کر دے مگر پھر خود سے کل رات کیا گیا اپنا عہد یاد آ گیا وہ صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی ۔۔۔۔
“سارے حساب برابر کرونگی بس ایک دفعہ تمہارے دماغ کےکیلے اور زنگ سے گیلے پرزوں کو ذرا ٹائٹ کر دو اور تمہیں اپنے ٹریک پر تو لے آؤں ۔۔پھر دیکھنا نہ تم کو میں نے ناکوں چنے چبوائے تو میرا نام بھی شفا حمزہ چغتائی نہیں ۔۔۔”
وہ دل میں سوچتی ایک دفعہ پھر سے حمزہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی شفاء اچھی طرح جانتی تھی حمزہ کبھی بھی اس کو تنہا نہیں بھیجے گا کہیں بھی ایک دم چھلا ساتھ ضرور لگائے گا اس کے وہ شروع سے ہی ایسے ہی تھا ۔۔۔
اس کے اور سوھا کے معاملے میں ۔۔
سوہا کو تو پھر تھوڑی ڈھیل دے دیا کرتا تھا اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے مگر اس کے معاملے میں ہرگز بھی وہ کسی بھی قسم کی چوک برداشت نہیں کرتا تھا اور شفا نے اب اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بات اس کے گوش گزارنی شروع کی ۔
“مجھے شوپنگ پہ جانا ہے ۔۔”
“ہآں تو جاؤں مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ڈرائیور کھڑا ہے باہر اس کو ساتھ لے جاؤ ۔۔۔”
“ٹھیک ہے میں ڈرائیور کو ساتھ لے جاتی ہو مگر اس کو باہر کھڑا رہنا ہوگا بازار میں اندر خود اکیلی جاونگی ۔۔۔۔”
اس نے ہوا میں تیر چلایا تھا اور اب اس اس کے ٹھیک جگہ نشانے پہ لگنے کی منتظر تھی ۔۔
“نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ڈرائیور کو اپنے ساتھ ہی رکھنا اندر”۔۔۔
وہ برہم ہوا ۔۔
“مجھے کچھ پرسنل شاپنگ کرنی ہے کیا وہ بھی ڈرائورکو دیکھا کر کروں گی؟؟؟؟”
وہ لہجے میں مصنوعی درشتگی سمو کر بولی ۔۔
کب چلنا ہے ؟؟
شدید بے زاری اور سرد مہری شفا کو اس چھوٹے سے حمزہ کے ادا کردہ جملے میں بڑی شدت سے محسوس ہوئی تھی ۔۔
وہ صبر کا گھونٹ بھر کر رہ گئی تھی ورنہ اس پر غصہ اس کو بھی بہت بری طرح سے آیا تھا ۔۔
وہ کہاں کبھی کسی کی منتیں کرنے کی عادی تھی ؟؟؟؟
مگر اس پتھر کو پگھلانے کے لئے اس نے ابھی کئی ایسے جتن کرنے تھے ۔۔۔
اپنا آپ بھی ماننا پڑتا اور شاید اپنی معصوم خواہشات کا گلا بھی گھوٹنا پڑناتھا۔ ۔۔
“مجھے ابھی اور اسی وقت امیجیٹلی بازار جانا ہے ۔۔۔۔””
شفا کا لہجہ پہلی کی بہ نسبت اب کچھ بجھا بجھا سہ تھا۔ ۔
مگر پر واہ کس کو تھی ؟؟؟
“ایک گھنٹے میں آتا ہوں اور خدارا دیر مت کرنا جلدی سے باہر آجانا میرے پاس فارغ وقت نہیں ہے کہ میں تمہارے چونچلے اٹھا سکو ۔۔۔”
لہجہ سپاٹ تھا مگر شفا کو اپنے اندر ایک چھوٹی سی کو نپل پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی کچھ دیر پہلے جو وہ اداس ہو چکی تھی ۔۔
موڈ ایک دفعہ پھر سے فریش ہوا تھا ۔۔
“مبارک ہو شفاء تمہیں تمہاری پہلی کامیابی ۔۔۔”
“میں تمہیں خود سے محبت کرنے پہ مجبور کر دوں گی ۔۔”
“ہر دفع عورت قربانی نہیں دیتی اپنی خوشیوں کی پہلے کی بات دوسری تھی تب میں شفا رحمان تھی مگر اب زبردستی ہی سہی مگر تم نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑ ہی لیا ہے ۔۔۔”
“میں اب اتنی آسانی سے تمہیں اپنی حقوق و فرائض سے دستبرداری اختیار کرنے نہیں دوں گی ۔۔۔
اب جب تم نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑ ہی لیا ہے تو میرے پیارے اینگری ہبی۔۔”
اب تم دیکھنا کہ۔۔۔۔
میں مسز حمزہ بن کے تمہیں ایک شیر کی شیرنی کی طرح اپنی ایک انگلی پہ نچاؤ نگی ۔۔۔۔”
“اب کیا کروں میں بھی یہ سب تو تمہارے نام کے اثرات ہیں جو کہ اب میرا نام تمہارے نام سے جڑ نےکے بعد مجھ پہ بھی اثر انداز ہو رہے ہیں ۔۔۔”
تمہاری نام کا مطلب ہے شیر، بہادر ،چیر پھاڑ کر دینے والا اور اب میں شیرنی بن کے تمہیں شفا پہنچاؤں گی ۔۔۔
“بازار میں بالکل ایک من شاہی بیوی کی طرح تم مجھے شاپنگ کراؤ گے ۔۔”
“ابھی تو مجھے تمہاری باجے کے ساتھ بینڈ بجانی ہے۔۔۔۔۔ “
“میں تمہیں خود میں اس طرح سے الجھاؤ گی کہ تم میرے اور صرف میرے ہو کر رہ جاؤ گے ۔۔۔”۔
وہفون سینے سے لگائے خوش آئندہ مستقبل کے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتی تیار ہونے کے لئے ڈریسنگ روم میں بڑھنے لگی اور ساتھ ساتھ گنگنا بھی رہی تھی ۔۔۔
“”روٹھے ہو تم کو میں کیسے مناو پیا ۔۔۔
بولو نہ بولو نہ ۔۔۔”””۔۔۔۔
“میں آج کا پورا دن حمزہ آپ کی زندگی کا سب سے پیارا اوریادگاردن بناو گی ان شاء اللہ ۔۔”
وہ اب رات کے سرپرائز کے بارے میں سوچ رہی تھی جو وہ اج ہمزہ کی برتھ ڈے پہ دینا چاہتی تھی ۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ جلدی جلدی اپنے الجھے بال بھی سمجھانے لگی ۔۔۔
شادی کے دوسرے دن دوپہر کے وقت وہ دونوں بابا کے گھر سے واپس آرہے تھے ارمغان اس کو صبح کے ناشتے کے بعد اس کے بابا اور بھائی سے ملوانے لے گیا ۔۔۔
ہم حویلی کب چلیں گے ؟؟؟
“مجھے آپ کےپیرنٹس سے ملنا ہے”۔۔
وہ ایک سردآہ خارج کرکے فضا میں بولی تھی مگر لہجہ ہنوز لاپرواہی لیے ہوئے تھا ۔۔
“آج ہی چلیں گے “۔۔
وہ پیار بھری نظر اس پہ ڈالتا اسٹیرنگ گھماتےہوئے بولا ۔۔
کیا واقعی آپ سچ کہہ رہے ہیں؟؟
ہم شام کو حویلی جائیں گے؟؟
وہ بے ساختہ بولی تھی خوشی اس کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔۔
ارے ارے حویلی جانے کے لئے اس قدر ایکسائٹمنٹ ؟؟؟
وہ وائٹ اور نیوی بلو کر کے لباس میں ملبوس سر کو دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپے ،میک اپ کے نام پہ صرف ہلکی سی لائٹ کلر کی لپسٹک اور ہاتھوں میں اس کے بابا کے دیئے گئے طلائی کنگن ۔۔!!
سادگی میں بھی وہ حوروں کے حسن کو مات دے رہی تھی ۔۔
مممم۔ ۔۔
میرا مطلب ہے کہ اب تو ہماری شادی ہو چکی ہے اب تو کوئی بھی ہمیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتا اور پھر جب آپ کے پیرنٹس کو پتہ چلے گا کہ میں آپ کی محبت ہوں ،آپ کی خواہش، آپ کی پسند ہوں تو وہ مجھے بآسانی قبول کرلیں گے ۔۔”
اب خیر سے میں آپ کی اور آپ کے گھر باہرحویلی کی عزت ہو ۔۔
اگر ہماری شادی اس طرح نہیں ہوئی ہوتی تو شاید میں آپ کے گھر والوں کو کبھی بھی ایک بہو کے طور پر پسند نہیں آتی ۔۔۔
میں ان کے شایان شان حیثیت جو نہیں رکھتی ۔میں ٹھہری ایک سفید پوش شخص کی بیٹی ۔۔۔
وہ ٹھنڈی آہ بھر کے بولی تھی چہرے پہ ایک اداسی سی رقم کی گئی تھی ۔۔
وہ پہلے کی گئی اپنی جلد بازی پر سٹپٹائی تھی اور دل میں خود کو لعن طعن کرتی کہ ۔۔
“اتنی بے صبری اور خوشی کا اظہار کرنے کی تک نہیں بنتی اسکے سامنے ۔۔”
وہ یکایک اپنے تئیں بات کو ایک دفعہ پھر سے سنبھال کر چہرے پہ بیچارگی طاری کرکے ارمغان کو اپنی باتوں میں الجھا گئی تھی ۔۔
صحیح کہہ رہی ہو اب بابا کو ہمارے اس رشتے کو قبول کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا وہ ارمغان کی بات سن کر اندر تک پرسکون ہو ئی تھی ور نہ شک میں ڈالنے کی اس نیں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ارمغان کو ۔۔
وہ گھر پہنچ کر جلدی جلدی اپنی پیکنگ کر رہی تھی حویلی پہنچنے کی اس کو بہت جلدی تھی بس نہیں چل رہا تھا کہ پر لگا کر اڑ ھکر حویلی
کے اندر پہنچ جائے اور اس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے۔ ۔۔
کیا بات ہے مسزارمغان بن کر تو آپ ہمیں بھول ہی گئی؟؟؟
بلکل بھی لفٹ نہیں کروا رہی ہیں۔۔۔
وہ چائے پیتے ہوئے مسلسل اس کو دلجمی سے پیکنگ کرتے ہوئے دیکھ کر بولا اور چائے کا آخری گھونٹ بھر کر اس نے کپ کافی ٹیبل پہ رکھی پر چ میں آہستہ سے رکھا تھا اور خود بغیر قدموں کی چاپ پیدا کیے وہ اپنی تھوڑی اس کی شانے پر ٹکاتے ہوئے اس کے گرد حصار مضبوط کرتا چلا گیا ۔۔
وہ اس اچانک افتاد پر ڈر کر ہلکا سا اچھلی تھی ۔۔اس کی پشت مانی کی طرف ہونے کی وجہ سے وہ اس کو شرارت پر آمادہ دیکھ نہیں پائی تھی ۔۔۔
یہ کیا مان آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا ؟؟؟
وہ خفگی سے بولی تھی ۔۔۔
کیا کروں میں بھی تو دنیا کا ایک اکلوتا ہی ایسا شوہر ہو جس کی بیوی اس سے زیادہ اپنے سسرالیوں کے لیے بے تاب ہے ۔۔۔۔
لہجے میں بیچارگی پنہاں تھی ۔۔
دیکھ لیں آپ کی ایک اکلوتی بیوی جو ہمیشہ اکلوتی ہی رہنے والی ہے کس قدر فیملی اورئینٹڈ ہے ۔۔۔
وہ جتاتے لہجے میں ایک اکلوتی پہ زور دے کر بولی۔۔
آپ اتنے خراب ہیں آپنے نکاح سے پہلے دادی کو بھی حویلی بھیج دیا ان کو روکا کیوںنہیں یہاں ؟؟؟
رکنے دیتے میرے پاس ۔ ۔۔
وہ اس کی بڑھتی ہوئی جسارتوں سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ ناراضگی سے بولی ۔۔۔۔
ِیار دادی کو میں سب حالات بتا چکا ہوں اور ان کو وہاں اسی لیے پہلے بھیج دیا تھا کہ وہ سب کچھ سنبھال سکے ۔۔۔
فجر اس کی دوراندیشی پہ مطمئن سی ہو کر گویا ہوئی۔۔۔
مجھے چھوڑئے بھی مجھے پیکنگ کرنی ہے دیر ہو جائے گی عصر کا وقت ہو رہا ہے کچھ دیر میں مغرب ہوجائے تو پھر اندھیرا ہونا شروع ہونے لگے گا ۔۔۔۔۔
وہ اب خود کو چھڑوانے کی تگ و دو میں تھی ارمغان کے مضبوط قید کے حصار سے ۔۔۔
ابھی نہیں گڑیا۔۔۔۔!!!
تھوڑا اپنا قیمتی وقت مجھ ناچیز کو بھی عنایت کر دو ۔۔۔”
وہ اس کا رخ اپنی طرف پھیرتے ہوئے اسکو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
نہ بالکل بھی نہیں مان پلیز باز آ جائیں مجھے ابھی آپ کی بھی پیکنگ کرنی ہے ۔۔۔
وہ اس کا ارادہ بھانپ کر گھبرا ئی تھی اور منمنا کر بولی ۔۔
اس کی شرماہٹ اور گھبراہٹ پہ وہ مسکرا دیا تھا جبکہ فجر کے گردحصار کچھ اور بھی تنگ ہوچکا تھا ۔۔۔
وہ اس کی پشت پہ اپنی ہتھیلی جماتے ہوئے اس پر جھکا تھا اور اس کے ریشمی بالوں کو کیچڑ کی قید سے آزاد کراکر کیچر بیڈ پہ اچھالا۔۔
کل کی رات حویلی کو میں کسی دلہن کی طرح سجا وائو نگا کیونکہ میں نے سوچا ہے کہ حویلی میں ہی ہمارے ولیمے کی تقریب منعقد کی جائے۔۔۔
کیا؟؟؟؟
مان آپ سچ کہہ رہے ہیں؟؟؟
وہ پرجوش لہجے میں بولی تھی ۔۔۔
بالکل سچ جان مان۔ ۔۔
اس کے لہجے میں فجر کے لیے محبت سے زیادہ احترام اور عزت جھلک رہا تھا ۔۔۔
چلو اب دیر مت کرو ایسا نہ ہو کہ پھر میرا ارادہ بدل جائے۔۔۔
اس نے اس کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی اور خود تیار ہونے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
فجر اس کی پشت کو پر سوچ نظروں سے دیکھتی رہی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی جبکہ کچھ دیر پہلے مسکراتے لبوں سے مسکراہٹ سمٹی کر سکڑ چکی تھی ۔۔۔
جو چہرہ کچھ لمحوں پہلے زندگی کی رمق سے روشن تھا اب اس پہ قبرستان کی سی ویرانی تھی ۔۔۔۔۔
