Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 30
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 30
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
مم۔۔۔۔ مجھ سے؟؟؟
کچھ دیر پہلے کی خود اعتمادی ہوا ہو چکی تھی وہ گھبرا ہی توگئی تھی ۔ حمزہ کی بولتی آنکھوں اور مہکتی قربت سے ۔۔
اس کمرے میں تمہارے علاوہ تو کوئی اور نہیں ہے نہ ؟؟
پھر بھی تمہاری معلومات میں اضافہ کیلئے بتادیتا ہوں کہ میں تم ہی سے مخاطب ہو ۔۔۔۔۔
اس لحاظ سے میرا مطلب واضح ہے کہ مجھے تمہاری ہی ” ضرورت” ہے ۔۔
جذبات سے چور بھاری لہجے میں کہا گیا اورکمرے سے باہر نکلنے کے لئے ٹیرس سے بھاگتی شفا کے پیچھے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کا فرار کا ارادہ بھانپ کر تیزی سے کمرے کے دروازے تک پہنچا تھا۔۔۔۔۔ مبادا کہیں وہ دروازہ کھول کے کمرے سے چلی ہی نہ جاتی ۔۔
مجھے جانا ہے ۔۔۔
باہر ابھی بہت سے کام باقی ہے ۔۔۔
راستہ چھوڑیں میرا ۔۔۔۔۔۔
چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا ۔آنکھوں میں سراسیمگی لیے وہ اپنا راستہ روکے چٹان جیسے مرد کے سامنے کوئی نازک سی نوخیز کلی ہی لگ رہی تھی ۔۔
راستے سے ہٹنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔وہ گہرے لہجے میں کہتا شفا کو بری طرح سے حواس باختہ کر گیا تھا ۔۔۔
وہ اسکے لوہ دیتے لہجے کو محسوس کرکے خود میں سمٹ سی گئی تھی۔۔۔۔۔
بوکھلا کے حمزہ کو کمرے کا دروازہ لاک کرتے دیکھا تھا ۔۔
نازک احمریں لب ایک دوسرے میں پیوست ہو کر رہ گئے تھے ۔۔جیسے آئندہ نہ بولنے کی قسم کھا بیٹھے ہو ں۔۔
کچھ دیر پہلے پہلے خود تم ہی نے مجھ سے اقرار مانگا تھا نا؟ ؟؟
وہ اس کی ہیر نی جیسی وحشت زدہ آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالتا اپنے اور اس کے درمیان چند قدموں کا فاصلہ بھی مٹا چکا تھا ۔۔۔
میرے جذبوں کو اپنی محبت کی دھیمی آنچ سے تم ہی نے دہکایا تھا نہ ؟؟؟
وہ اس کا جھکا حیاء سے سرخ پڑھا چہرہ ۔۔۔۔اپنی انگشت شہادت کو اس کی تھوڑی پہ ٹکا کے اونچا کرکے بولا تھا ۔۔۔
“تو پھر اب یہ گریز اور ہچکچاہٹ کیوں ؟؟؟؟
میں آج سارے پردے گرا دینا چاہتا ہوں ۔۔۔!
میرا دل تمہارے وجود کو صندل کرنے کی خواہش کر بیٹھا ہے۔ ۔”
وہ الٹے قدموں پیچھے ہوتی شفا کے تھر تھر کانپتےحسین سراپہ کو دیکھتا دلکشی سے مسکرایا تھا ۔۔۔
یکایک حمزہ نے اس کی دونوں کلائیوں کو لے جاکر اسکی پشت پہ اپنے مضبوط ہاتھوں سے باندھا تھا ۔۔۔
شفا کے پورے وجود میں حمزہ کے دہکتے لمس نے ایک طوفان سہ برپا کردیا تھا ۔۔
حمزہ پلیز میں کسی جذباتی لمحے کی زد میں آکر اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔!!!
لہجے میں بے چارگی رقم تھی ۔۔۔۔
نقصان تو پہلی رات ھی تم اٹھا چکی ہو ۔۔۔۔۔!!
پھر اب نفع اور نقصان کیسا؟ ؟؟؟
گمبھیر اور بھاری لہجے میں باور کرایا گیا تھا ۔۔۔
ابھی وہ خود کو سنبھال بھی نہ سکی تھی۔۔ حمزہ کی بڑھتی ہوئی قربت اس کو نڈھال کئے دےر رہی تھی۔
مگر حمزہ نے یکلخت اس کی کلائیوں کو اپنی قید سےآزاد کیا تھا اور اس کے دونوں شانوں کے اوپر زور ڈال کے اس کو جہازی سائز بیڈ پہ گرا چھوڑا تھا ۔۔
یہ تھی نہ تمہاری خواہش ؟؟؟؟
لہجہ کسی بھی قسم کے طنز سے عاری تھا ۔۔بہت سادہ سے لہجے میں استفسار کیا گیا تھا ۔۔
نن۔۔۔۔نننن۔ ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔!!!!
میں بس آپ کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکھڑتی سانسوں اور تیز تیز دھڑکتی دھڑکنوں کے درمیان بہت اٹک اٹک کے اپنا حال دل بیان کرپائی تھی ۔۔۔۔آنکھیں ہنوز جھکی ہوئی تھیں۔ ۔۔۔
جیسے حمزہ کی لوہ دیتی نظروں کا سامنا کرنے سے گریزاں ہو ں۔۔۔
اپنی محبت کا جواب آپ کے عشق کی صورت میں وصول کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔؛؛؛
بے خیالی میں عجیب سی خواہش کر بیٹھی تھی اپنے ہی دل سے مگر اس دشمنی جاں کے سامنے چاہتے ہوئے بھی کہنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا چپ کیوں ہو گئیں؟ ؟؟
کس سوچ میں گم ہو؟؟؟
حمزہ نے اپنی زیب تن کی ہوئی شرٹ اتار کے دور اچھال تھی اور اس پہ جھک کر ایسے دریافت کر رہا تھا جیسے وہ دنیا کا سب سے زیادہ محبت کرنے والا بہترین شوہر ۔۔
وہ اس کے دو پٹے سے ڈھکے چھپے وجود کو اپنے بائیں ہاتھ کی مدد سے دوپٹہ کھنچ کر اس بےزرر سے پردہ سے بھی آزاد کرا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
شفا نے حواس باختہ ہوکہ کچھ فاصلے پہ اچھالے گئے اپنے دوپٹے کو سٹپتا کر اٹھانا چاہا تھا مگر حمزہ نے اس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھ کر اس پہ جھکا تھا اور اس کی کوشش کو ناکام کر گیا تھا ۔۔
لبوں پہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں معنی خیز چمک لیے وہ اس کی سہمی اور خوفزدہ کیفیت سے حد درجہ محضوض ہوا تھا ۔۔۔
کوئی اور وقت ہوتا تو وہ کسی بھپری ہوئی شیرنی کی طرح اس کے سامنے ڑٹ کر کھڑی ہو جاتی اور دو بدو مقابلے پر اتر آتی مگر اس وقت وہ حمزہ کی بانہوں کے حصار میں قید اس کے ہی رحم وکرم پہ تھی ۔۔۔۔
نن نہیں تو۔۔۔!!!!
کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔!
وہ اٹک اٹک کر بڑی دیر بعد اس قابل ہوئی تھی کہ حمزہ کے چند منٹ پہلے والے کئے گئے سوال کا جواب دےسکتی ۔۔۔
حمزہ کی بڑھتی ہوئی جسارتیں اور اس کا دہکتا ہوا لمس شفاء کو مدہوش کر رہا تھا ۔۔۔۔
ت
و کیا وہ جیت گئی ہے؟؟؟؟
یا پھر جیت کے بھی ہار گئی ہے ؟؟؟؟
کیا حمزہ کو حاصل کرنے میں فتح اس کا مقدر ٹھہری تھی ؟؟؟؟
وہ سوچ رہی تھی مگر سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔
وہ اس کی صراحی دار گردن پہ جھکا تھا اور اپنے لبوں سے کئی جسارتیں کرتا چلا گیا ۔۔۔
تم نے مجھے بہت تڑپا یا ۔۔۔
اتنا کہ میں خود کو بہت بےبس و لاچار محسوس کرنے لگا ہوں۔۔۔۔
تم سے اور تمہارے اس دلکش سراپہ سے مزید دوری میرے لئے ناممکنات میں سے ہے ۔۔۔
آج کی رات میں سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں ۔
تمہارے اور میرے درمیان موجود ہر پردہ گرا دینا چاہتا ہوں ۔۔۔
تمہاری وجود کی خوشبو اپنے اندر اتارکر اپنے وجود میں بسا لینا چاہتا ہوں اور اپنے وجود کی خوشبو سے تمہاری حسین سراپے کو مہکادینا میری ضد بن چکی ہے ۔۔۔۔!!!!!
وہ جسار تو پہ آمادہ مدھم مدھم سرگوشیاں کرتاجیسے شفا پہ سحر سہ پھونک رہا تھا ۔۔۔۔اس کو اپنے بس میں کر ان لمحات میں قید کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
جیسے اس کی خواہش تھی۔ ۔ شفا کو بے بس کر کے اس کی تمام راہ فرار مسدود کردینا ۔۔۔۔
بہت انوکھا انداز تھا وارفتگی لوٹانے کا ۔۔۔
محبت جتاتا ،جذبات سے چور قرب کی پر حدت آنچ بخشتہ۔ ۔۔۔۔!!
ایک تو کمرے کی تاریکی عجب اسرار پھونک رہی تھی اس پہ ۔۔۔یا پھر شاید کوئی خاص منتر جنتر ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔
جانے کیا چاہتا تھا وہ اب اسے ؟؟؟؟
کیا واقعی وہ اس کو قبول کرچکا تھا دل سے ؟؟؟؟
یا پھر یہ بھی انتقام کا ایک حربہ تھا اس کے لئے ۔۔۔؟؟؟؟؟؟
جو بھی تھا وہ خود بھی ان محبت بھرے لمحوں کو قید کر لینا چاہتی تھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔!!!
پلیز حمزہ میں جھلس رہی ہو ۔۔
میری سانسیں تھم رہی ہیں۔۔
مجھے جانے دیں ۔۔۔۔!!!!
ششش۔ ۔۔۔۔!!!
اس کے لبوں پر انگشت شہادت کو رکھ کے اس کو چپ کرا گیا تھا ۔۔۔۔
میں محرم ہوں تمھارا ۔۔۔۔
مجھ سے یہ جھجھک تم پہ سوٹ نہیں کرتی ۔۔۔!!!!!
وہ اسکی دونو کلائیوں کو جھکڑکے اپنے مضبوط بھاری ہاتھوں سے تالا لگا گیا تھا ۔۔۔۔۔
شفا کے لئے تمام راہ فرار بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
پلکیں لرزاہٹ کا شکار ہوئی ۔۔۔
کٹاو دارہونٹ کپکپائے تھے۔۔۔۔
پورا وجود اس کا سر د پٰڑ چکا تھا۔۔۔۔۔
حمزہ نے وارفتگی لٹاتی نظروں سے لرزتی، سہمتی حیا سے چور اس دشمنی جان کو دیکھا تھا اور پھر آہستہ سے اس کی کمر کے گرد حصار باندھتے ہوئے چند انچ کا فاصلہ بھی مٹا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کے تھرتھراتے سرد لبوں کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے اسکے کپکپاتے لبوں پہ اپنے دہکتے ہوئے انگارے کی مانند لب رکھ دئے تھے ۔۔۔۔
چاندنی رات تھی تاروں بھری ۔۔۔۔!؛؛؛
جبکہ چاند اس خوبصورت میلن پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
دادی اسپتال سے گھر آ چکی تھیں۔
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے رات کے کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئےساتھ ساتھ خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔ خلاف معمول حماد بھی خوشگوار موڈ میں فجر سے ہلکی پھلکی گفتگو کررہے تھے ۔۔۔
بابا سائین مجھے حویلی جانا ہے ۔۔۔!!
بات چیت کے دوران یکایک فجر نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تھا اور طائرانہ و جانچتی ہوئ نظر وہاں بیٹھے سبہی نفوسوں پہ ڈالی تھی ۔۔۔۔۔
بیٹا یہ ہی تو ہے ہویلی۔ ۔۔!!
غزل نے گڑبڑا کر کہا جبکہ حماد کے تاثرات میں ویرانگی سی گھر کر گئی تھی ۔۔
نہیں اماں جان مجھے آپ لوگوں کی آبائی حویلی جانا ہے ۔۔!!
بیٹا آپ سے کس نے کہا اس حویلی کا کہا؟؟؟
میرا مطلب ہے کس نے اس ویران حویلی کی بابت تمہیں بتایا ۔۔۔؟؟؟
وہ غمگین ہوئے جبکہ چہرہ تاریکی کی زد میں تھا ۔۔ لہجے میں کرب نمایاں تھا ۔
مجھے کون بتائے گا ؟؟
طنزیہ مسکراہٹ نے فجر کے چہرے احاطہ کیا کا۔ ۔۔
یہ تو وہ بات ہے جو میں ازل سے جانتی ہوں۔۔!!!
آنکھوں میں وہی خاص چمک ابھری تھی ۔دادی نے ٹھٹک کر فجر کے چہرے اور اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔۔
السلام علیکم ۔۔!!
یہ کیا آپ لوگوں نے میرے بغیر ہی کھانا شروع کردیا؟؟؟؟
لہجے میں مصنوعی خفگی تاری کی گئی تھی ۔
ابھی فجر مزید کچھ اور بھی کہتی جب ارمغان نے ڈائننگ ایریا میں آ کر سلام کیا تھا ۔فجر کی آنکھوں کی چمک ماند پڑچکی تھی ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔!!
فجر نے چہکتے ہوئے جواب دیا تھا ار مغان کے سلام کرپہ ۔۔
وہ بالکل نارمل انداز میں ارمغان کو مسکرا کر اپنے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی ۔۔۔
ہماد اور غزل حیران تھے فجر کی کہی بات پہ مگر پھر یہ سوچ کے مطمئن ہو گئے تھے کہ شاید ارمغان نے ہی ذکر کیا ہوگا اس سے آبائی حویلی کا جبکہ دادی کی آنکھوں میں الجھن سی تھی فجر کولیکر۔ ۔۔
فجر ان کو عجب پراسرار سی لگی تھی اس وقت ۔۔۔۔
چلے نہ ہمت کر کے چھت پہ چلتے ہیں۔۔۔!!
رات کے ایک بجے کا وقت ہوچکا تھا جب فجر اس کے بازو پر سر رکھے لیٹی تھی اور انوکھی خواہش کر ڈالی تھی ۔۔۔
یار کبھی تم مجھے سونے نہیں دیتی ہو اور کبھی تمہاری یہ ننھی ننھی سی خواہشات ۔۔۔۔!!!
وہ اس کے چہرے پہ آئی شریر لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولا تھا۔۔۔
آپ کی باتوں میں تضاد ہے۔۔۔۔!
وہ خفگی سے کہتی اس کے چوڑے سینے پہ مکا رسید کرکے بولی تھی۔۔
کیوں بھائی بیگم صاحبہ ایسا کیا کہہ دیا میں نے؟؟؟
وہ اس کی ستواں ناک میں پر وئی ہوئی بالی کو گھماتے ہوئے پر حدت لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔
اتنے بھی معصوم نہیں ہے آپ۔۔۔!
میں خوب اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔
خوب اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں آپ میری باتوں کا مطلب ہو ۔۔۔۔۔۔!!
فجرمنہ کھلا کر خفا خفا سے انداز میں کہہ کر اس سے دور ہونے کی تگ و دو کرنے لگی ۔۔۔۔
یار مجھے تمہارے اس تربوز جیسے منہ سے سننے کا شوق ھے نہ !!کیا کرو ؟؟؟یہ سب اس آوارہ دل کا پھیلایا ہوا کھڑا ک ہے۔ ۔۔!!
وہ اس کو خود سے قریب کر چکا تھا ایک دفعہ پھر اور لہجے میں مصنوعی بیچارگی سموئی گئی تھی ۔۔۔
چلئے نہ پلیز مانی مجھے چھت پے جانا ہے ۔ !!
فجر تمہارہ دماغ خراب ہو گیا ہےرات کے اس وقت مجھے چھت پہ لے کے جاوں گی ؟؟؟
ٹائم دیکھا ہے؟؟
2 بچنے والا ہے اور اب تو دوسرا پہر بھی شروع ہو گیا ہے۔۔۔!!
ارمغان شدید نیند میں تھا وہ کسی نہ کسی طریقے سے فجر کو اس وقت ٹالنا چاہتا تھا ۔۔۔
دیکھو آج چوہدویں کی رات ہے تم کیا کرو گی چھت پہ جاکر ؟؟؟
مجھے آج کی چاندنی سے نہائی ہوئی رات کو محسوس کرنا ہے چاند نی رات میں اور آپ ۔۔۔۔!!!
اففففف۔ ۔۔۔۔!!
کتنا رومینٹک ماحول ہو گا ۔۔۔
چہرے پہ چمک ابھری تھی وہ اپنی بات پر بضد تھی ۔۔
مانتا ہوں محبت اندھی ہوتی ہے مگر ابھی میں اتنا اندھا نہیں ہوا محبت میں کہ رات کے اس وقت اپنی نیند کی قربانی دیکر چھت پر جا کےتمہارے ساتھ مٹرگشت کرتا پھروں ۔۔۔!!
وہ اباسی لیتے ہوئے نرمی سے بولا تھا ۔۔۔
پھر دادی بھی منع کرتی ہیں اس وقت بلاوجہ چھت پہ جانے سے اور آج تو پھر پورے چاند کی رات ہے ۔۔۔۔۔!!
وہ سنجیدہ لہجے میں ڈرنے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
کیوں کیا آپ کو خوف آتا ہے بھٹکتی ہوئی روحوں سے ؟؟؟
لہجہ معنی خیزی لئے ہوئے تھا جبکہ آنکھوں میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہی خاص چمک ابھری تھی جو لمحے کے ہزارویں حصے میں معدوم ہو کر غائب ہو چکی تھی ۔۔۔
نہیں مجھے بھٹکتی ہوئی روحوں سے خوف نہیں آتا۔۔۔۔۔!!!
مجھے تو بس ایک ہی روح سے خوف آتا ہے جو اس وقت بڑے مزے سے مجھے نیند میں جانے سے روک رہی ہے ۔ ۔۔۔!!
اور اگر واقعی آپ کے ساتھ آپ کے بیڈ پہ ایک روح ہو میرے روپ میں “تو “؟؟؟
“تو”پہ زور دے کے کہا گیا تھا جبکہ لہجہ پراسراریت لیے ہوئے تھا ۔۔۔
تو میں “آیت الکرسی “کا وردکروں گا اور اس چوڑیل کو بھگا دوں گا۔۔۔
وہ بڑے مزے سے کہتا ۔ اس کی طرف دیکھے بغیر کروٹ بدل چکا تھا اور منہ پہ تکیہ رکھ کے سونے کی تیاری مکمل کی گئی تھی ۔۔
فجر کچھ دیر تک ایک ہی زاویہ میں بیٹھی خونخوار نظروں سے اس کی پشت کو گھورتی رہی تھی ۔۔۔
جب کہ وہ تو اب گہری نیند کی وادیوں میں بھی قدم رکھ چکا تھا ۔مانی کے ہلکے ہلکے خراٹے کمرے میں گونج رہے تھے ۔جس کا مطلب واضح تھا کہ وہ واقعی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا ہے ۔۔۔
فجر میکانکی انداز میں اٹھی تھی اور کمرے کا دروازہ کھول کر کوریڈور سے گزرتی ہوئی چھت پہ جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔
عجب سی مقناطیسیت تھی فضا میں اس وقت ۔۔جو پورے کوریڈور کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھی ۔۔۔
جیسے جیسے وہ قدم بڑھاتی ویسے ویسے تیز ہوا کے جھونکے کوریڈور میں سرایت کرنے لگے تھے ۔۔۔۔
کوریڈور سے آتی تیز ہوا کے جھونکوں کو محسوس کرکے ہمادصحاب جو کہ کوریڈور سے ملحق اپنے اسٹڈی روم میں تھے ۔
وہ اکثر رات کو نیند نہ آنے کی وجہ سے اسٹڈی روم میں آکر بیٹھ جایا کرتے اور داؤد کی پسندیدہ کتابوں میں سے ایک کتاب نکال کر کئی دفعہ پڑھی ہوئی کتاب کو بھی بڑی دلجمعی سے دوبارہ پڑھناشروع کردیتا کرتے تھے ۔۔
وہ کوریڈور سے آتی تیز موتیے کی خوشبو اوراعصاب کو جھنجوڑتی ہوئی ہوا کو محسوس کرکے اپنی اسٹڈی سے باہر نکل کے کوریڈور میں آئے تھے۔۔
اس خیال کے تحت شاید کسی ملازم سے غلطی ہوئ ہو اور کھڑکی کھلی چھوڑ دی ہو اس نے بے خیالی میں ۔۔۔
فجر۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اس وقت۔۔۔۔۔؟؟؟
ہمادصحاب نے نہ سمجھی سے کوریڈور عبور کرتی فجر کو دیکھا تھا اور پھر ایک نظر کوریڈور میں لگی دیوار گیر گھڑی پہ ڈالی تھی۔۔۔۔۔
ٹن۔ ۔۔ٹن۔ ۔۔۔۔!!!
جوٹھیک دو بجنے کا پتہ دیتی اپنا مخصوص گھنٹہ بجا رہی تھی ۔۔۔
وہ کچھ پریشان سے ہو کر اس کے پیچھے چل دیے تھے ۔۔
یہ سوچ کر کہ کہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔۔
کیونکہ فجرکو حویلی آئے آج چوتھا دن تھا۔ وہ کہاں اس وسیع وعریض حویلی کی بھول بھلیوں سے واقفیت رکھتی تھی ۔۔۔۔؟؟
حماد صاحب جیسے ہی کوریڈور کے آخری حصے پہ پہنچے تھے ۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کر وہ اپنی جگہ جم سے گئے تھے ۔۔۔!!!
