Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 13

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 13

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

ایسا کیا ہے جو وہ آگ سے ڈرتی ہے ؟؟؟؟

کس بات کا اس قدر اس کو خوف تھا کہ میرے ایک معمولی سہ لائٹر جلانے کی وجہ سے وہ اس حد تک خوفزدہ ہو گئی تھی ؟؟؟

ارمغان لان میں بیٹھا رات کے ڈھائی بجے ٹھٹرتی ہوئی ٹھنڈ میں سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا اور مسلسل صرف اور صرف فجر کے متعلق ہی سوچے چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔

کتنی حسین اور خوبصورت تھی وہ بالکل اس کی گڑیا جیسی ،،

گڑیا کی سوچ آتے ہیں وہ ایکدم ٹھٹک سا گیا اور کِی لمحے سوچنے کے بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔

فجر اس کے لئے ایک مسٹری بن چکی تھی ۔۔۔۔

وہ چھوٹی سی نازک سی لڑکی کہیں نہ کہیں اس کے دل کو اندر سے نرم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

نہیں نہیں بابا ۔۔۔۔ما ما ما ۔۔۔۔۔ما بھائی آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے ۔۔۔

بابا انکل بچائیں نہ میرے مما بابا کو میرے بھائی کو بچائیں نہ ۔۔۔۔۔

وہ چیختے ہوئے نیند سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کیا حقیقت تھی کیا حادسہ؟ ؟؟

وہ ایک حادثہ تھا یا پھر سوچا سمجھا پلان ۔۔۔۔۔؟؟

یا پھر تیسرا رخ جو اس نے سنا تھا وہ سچ تھا ؟؟؟

پسینے میں شرابور وہ اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر بری طرح سے سسکنے لگی تھی ۔۔۔۔

اور جو سچ اس کے سامنے آیا تھا کیا واقعی وہ سچ تھا ؟؟؟؟

یا وہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش ؟؟؟؟

السلام علیکم۔۔۔!

پھپو کیسی ہیں آپ اور باقی سب کیسے ہیں ؟؟؟

عمر زینب پھوپھی کے گھر پہنچ چکا تھا اور ملازم اس کو بڑے سے ہال کمرے میں بٹھا کر پھپو کو بلانے چلا گیا تھا۔۔۔۔

چند ہی سیکنڈ بعد پھپو عمر کا سن کر لپڑ جھپڑ اس کے پاس آ ن پہنچی تھیں۔ ۔۔

ان کے احترام میں عمر ان کو دیکھ کر یکدم کھڑا ہواور جھک کر ان کے آگے اپنا سر جھکایا ۔۔

عمر کےسر پر ہاتھ پھیر کر محبت سے زینب نے اسکواپنے پاس ہی بٹھا لیا تھا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔!

بچہ میں ٹھیک ہوں بس ذرا یہ بی پی کبھی اوپر کبھی نیچے لگا رہتا ہے ۔۔۔۔۔

پھپو اپنے ہاتھ کی مٹھی میں دبی گولی سامنے ٹیبل پر موجود خوبصورت کانچ کےگلاس میں پانی انڈیل کر پھانکتے ہوئے بولیں ۔۔۔

پھپو آپ یہ دوائیں اور ہر نت نئے مشہور ڈاکٹروں کو دکھانا چھوڑ دیں ۔۔

میری مانیں آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔۔

عمر نے مخلصانہ مشورے سے نوازا۔۔۔۔

پھپو کی فیملی میں رواج تھا کہ اگر کسی کو ذرا سی خراش بھی آتی بس ملہ کی دور مسجد چلو ڈاکٹر کے پاس۔۔۔

جبکہ عمر کے گھر کا یہ حساب تھاکہ زیادہ دوائی کھانے سے بندہ آدھا مزید خودساختہ بیمار بن جاتا ہے ۔۔۔۔

نہیں بیٹا یہ دوا تو بہت اچھی ہے پچھلے چارما ہ سے میں کھا رہی ہوں۔۔

شوگر بہت کنٹرول میں آگئی ہے ۔۔

بہت بڑا ڈاکٹر ہے اس سے علاج کروارہے ہیں تمہارے پھپا کافی افاقہ ہوا ہے مجھے ۔۔۔

پھپو ڈاکٹر، ڈاکٹر ہوتا ہے بڑا ہو یا چھوٹا۔۔۔۔

عمر نے بھی جراح کی!! یہ اس کی فطرت میں تھا جس چیز کو و ہ صحیح تصور کرتا اس کے لئے اگلے بندے سے بحث میں پڑ جاتا اور اپنی باتوں اور خیالات سے وہ کسی نہ کسی حد تک دوسرے بندے کو قائل کرنے کا ہنر جانتا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں ہاں امی یہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔

یہ ابھی ابھی پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر ہی تو آئے ہیں۔۔

اس لئے یہ ہم سب سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ہر چیز کی!! ہم سب تو بس ایویں ہی ہیں ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔

لائبہ بھی وہاں آ گئی تھی ملازم سے عمر کا سن کر اور آتے ہی بڑے مزے سے عمر کا مذاق اڑانا شروع کردیا ۔۔۔۔

شروع ہوگی ڈرامہ کوئین۔ ۔۔

عمر اس کو دیکھ کر بر بڑھایا مگر بر بڑا ہٹ اتنی اونچی ضرور تھی کہ جس کو سامنے دیکھ کر سنانے کے لئے کی گئی تھی اس تک بخوبی پہنچ چکی تھی ۔۔۔

وہ چھوٹی سی تھی جب سے وہ اس کو ڈرامہ کوئین کہتا تھا۔۔۔

اور یہ وقت کے ساتھ ساتھ لائبہ کی چڑ ھ بھی بنتی چلی گئی ۔۔۔

جس سے عمر نے مزید اس کو چڑھانے کے کئی کئی حربہ تلاش کیے تھے ۔۔۔۔

وہ اس سے چھوٹی تھی مگر خود کوہر وقت اس سے بہت بڑا صابت کرنے کی کوشش میں کچھ نہ کچھ الٹا کرکے اپنا ہی نقصان کد بیٹھتی۔ ۔۔

جبکہ اس کی نٹ کھٹ سی شرارتیں اور بیوقوف کی عمر کو اکسایا کرتیں تنگ کرنے کیلئے۔ ۔۔۔

کیا کہا ابھی آپ نے؟؟؟؟

وہ خطرناک تیوروں سے اسے دیکھتے ہوئے اور غرائی ۔۔۔۔

میں نے تو یہ کہا ہے بس کہ گھر آئے مہمان سے سلام دعا کرتے ہیں ۔۔

کچھ کھانے پینے کا پوچھتے ہیں ۔۔۔۔

وہ چہرے پہ بلا کی معصومیت طاری کرکے ایسے بولا جیسے وہ بہت سیدھا سادہ بندہ ہوں جلیبی جیسا ۔۔۔

ویسے پھپو لگتا نہیں ہے یہ آپ کی ہی بیٹی ہے ۔۔۔

عمر نے زینب کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے لارڈ سے کہا ۔

سہی کہہ رہے یو بلکل اپنے ددھیال پہ گئی ہے۔۔۔۔۔ کتنا کہتی ہوں کچھ گھر گرہستی سیکھ لے مگر مجال ہے جو میری سن لے۔ ۔۔۔

اب تم ہی بتاؤ اپنے گھر جا کر پھر کیا منہ دکھائے گی؟؟؟؟

ان کو تو گویا موقع ہاتھ لگ گیا تھا لائبہ کی کلاس لینے کا ۔۔۔

جبکہ لائبہ بری طرح کھسیا کر دانت پیس رہی تھی ۔۔۔۔

رہنے دیں میں بھی اپنے ددھیال سے زیادہ اٹیچ ہوں۔۔۔۔

یہ شاید اپنی فطرت آپ ہی ہے۔۔

آپ کی ساس سے میں ملا ہو کتنی اچھی تھی نہ اللہ جنت نصیب کرے ان کو ۔۔۔۔

عمر نے جھٹ کہا وہ ننھیال اور ددھیال میں موازنے کا قائل نہیں تھا ۔۔

ننھیال اور ددیال دونوں کو وہ دل وجان سے چاہتا تھا اپنے۔۔۔۔

پھوپی اور خالہ ایسا رشتہ ہوتے ہیں جو ماں جیسا ہی چاہتے ہیں ۔۔۔

جبکہ نانا نانی اور دادا دادی اللہ کی طرف سے ہمارے لئے تحفہ ہوتے ہیں ان کا نعم البدل دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے ۔۔۔۔

وہ بہت بڑا چڑا کرتا تھا ۔۔

آج کل کی فضول قسم کے میسجز اور لطیفوں سے جو کبھی پھپھو کی ریڑھ لگاتے تو کبھی خالہ کی۔ ۔۔

اس کی سوچ یہ تھی کہ لوگ فضولیات لکھتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی ہمیں بھی کسی ایسے رشتے سے وابسطہ ضرور ھونا ہے ۔۔۔

پرائے گھر جائے گی تو تب پتا چلے گا سسرال کے لڈو کھانے کو ملیں گے نہ تو پھر ٹھیک طرح سے عقل ٹھکانے پہ لگ جائے گی ۔۔۔۔

زینب نے آج کی بیٹی کی خوب اچھی طرح عزت افزائی کا ڈالی تھی ۔۔۔

صحیح کہہ رہی ہیں آپ واقعی یہ توبات بہت قابل غور بات ہے۔۔۔۔۔۔

وہ ایسے بولا جیسے وہ اسی مسئلے کو تو حل کرنے کے لئے ہی اسلام آباد آیا ہے ۔۔۔

کب تک نکلنا ہے؟؟

فلائٹ کب کی ہے کراچی کی ؟؟

وہ بری طرح جب تپ چکی تھی اس لیے جلدی سے ٹائم معلوم کرنے کے بعد اپنے کمرے میں جانے کے لئے پر تول رہی تھی ۔۔۔

فلائٹ؟؟؟؟؟

وہ ایسے چونکا جیسے اس نے کوئی خلائی مخلوق کے بارے میں پوچھ لیا ہو یا اڑن طشتری میں بیٹھنے کا ٹائم معلوم کر رہی ہو ۔۔۔

عمر کو اب ایک دم مذاق سوجھا تھا اس کو تپانے کے لئے اس نے ایک نئی ترکیب نکالی ۔۔۔

ہاں تو اور نہیں تو کیا ۔۔۔

سائیکل سے تو نہیں جائیں گے نا کراچی۔۔۔۔

وہ تڑخ کر بولی اور واپسی تو ہم بائ روڈ جائینگے۔۔۔۔

کیونکہ مجھے فوری نکلنا تھا اور اتنی جلدی کی سیٹ نہیں مل سکی وہ تنگ کرنے کو بولا تھا ۔۔۔

میں ہرگز بھی نہیں جاؤں گی بائ روڈ وہ ماں سے بولی تھی عمر کو یکسر اگنور کرکے ۔۔۔

اے لڑکی جانا ہے تو جاؤ ورنہ یہاں ہی پہ اکیلی رہ لو رات میں تو کمرے میں اکیلے سویا نہیں جاتا ۔۔۔۔

اکیلے رہوں گی بھلا چالیس دن ؟؟؟؟

کچی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔

کچی ہوگئی ۔۔۔۔

کچی ہوگئی ۔۔۔چچ۔ ۔چچ۔ چچچچچچچ۔ ۔۔۔!!۔

جب کہ عمر نے جلدی سے میسج ٹیکس کرکے اس کے موبائل پر سینڈ کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کو پڑھ کے وہ آگ بگولہ ہو چکی تھی ۔۔۔

اوپر سے پھپو مزید اس کو خوب نانی پر دادی یاد دلانے کے موڈ میں آ چکی تھیں ۔۔۔

عمر بڑی مشکل سے اپنی بے ساختہ امڈتی ہنسی کو روک سکا تھا ۔۔۔

پھر پھپو اب کیا کریں ؟؟؟

وہ چہرے پر حد درجہ فکر کے تاثرات تاری کرکے بولا ۔۔۔۔

۔۔۔

کیا کریں کیا بیٹا۔۔۔۔

یہ جائے گی کیوں نہیں جائے گی ۔ ۔

اگلے مہینے پورے 19 سال کی ہوجائے گی اور ابھی تک میرے اور تمہارے پھوپھا کے بیچ میں گھس کے سوتی ہیں محترمہ ۔۔۔

لائبہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے یا اپنی اماں کو کسی طرح سے ہاتھ جوڑ کے چپ کروا دے۔۔۔۔

اس کی بہت تعریف کر چکی تھی وہ اب تک ۔۔۔۔

وہ بھی اس اس کے ازلی جانی دشمن کے سامنے ۔۔۔

عمر اب اس کو دیکھ کر بڑے مزے سے مزید پھلجڑیاں چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔

چلیں پھرخان پھپو اب اجازت دیں ۔۔۔۔۔

تم لے آؤ اپنا سامان اور پھپو آپ مجھے ایک گاڑی کی چابی دے دیں ۔۔

اس نے بیٹھے بیٹھے پروگرام تبدیل کر دیا تھا اور وہ بائی ائیر جانے کی بجائے بائ روڈ سفر کرنے کے لئے تیار تھا۔۔۔۔۔۔

آج کا موقع ملا تھا تمام اپنے دشمن سےحساب برابر کرنے کا ۔۔۔۔۔۔

آپی آپ کیا سوچ رہی ہے ؟؟؟؟

اس قدر خاموش کیوں ہے ؟؟

رحمان نے دس سالہ مصطفی کے ساتھ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے بہن پر سرسری نظر ڈال کر استفسار کیا۔۔۔ ۔

تم جانتے ہو آج میں کس سے ملی تھی؟؟؟

زینب کے چہرے پر شدید کرب کے آثار موجود تھے۔۔۔۔۔

رحمان کو لگاتھا کہ معاملہ کچھ گھمبیر اور الجھا ہوا ہے وہ مصطفی کو گیم میں لگا کر بہن کے نزدیک ہی کائوچ گھسیٹ کے زمین پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔

کیا ہوا آپی سب خیریت تو ہے؟؟؟؟

بھائی کو تو میں نے ابھی سلا کر آیا ہوں۔۔۔۔

پھر کیا پریشانی ہے آپ کا چہرہ بہت اترا اترا سا ہے؟؟؟؟؟

وہ سمجھا تھا کہ زینب جلال کی وجہ سے پریشان ہے اس کی دن بدن بگڑتی حالت کی وجہ سے۔۔۔

جلال کو کینسر ڈائگنو س ہوا تھا وہ بھی بالکل آخری اسٹیج پر۔۔۔۔

اس کی وجہ سے زینب بھی بھائی کی بیماری کا سن کر آئی ہوئی تھی!! ماں کا انتقال ہوچکا تھا پچھلے چھ ماہ پہلے ہی ۔۔۔۔۔

جلال کی رپورٹس دیکھ کر اور اس نے رحمان کو بھی دبئی سے فوری بلوا لیا تھا۔۔۔۔

وہ بھی اپنی نوکری کو خیرباد کہہ کر واپس اپنے ملک کا چکا تھا ۔۔

میں آج صبح بھا بھی اور اپنے ننھے منے بھتیجے سے ملی ہوں۔ ۔۔۔

زینب اب باقاعدہ آنسووُں سے رونے لگی تھی۔۔۔۔۔

بتیجہ؟ ؟؟

وہ اچھمبے سے بولا ۔۔۔۔۔

رحمان ہمارا بھتیجا۔۔۔

زینب نے سسکاری بھری تھی۔۔۔۔۔

بھابھی کو دیکھ کر دل چاہا ان کے گلے سے لگ جاؤ ۔۔۔

آپی آپ ایسی کریکٹر لیس عورت کے لئے رو رہی ہے؟۔۔

جس عورت کی وجہ سے ہمارے گھر میں بربادی آئی پورا گھر اجڑ کر رہ گیا۔۔۔

امی بھائی کی ا جڑی زندگی دیکھ کر دنیا سے چل بسیں۔۔۔۔

یہی نہیں بھائی اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

میرے سامنے اگر وہ عورت ایک دفعہ آ جائے تو میں اس کا چہرہ بگاڑ کے رکھ دوں۔ ۔۔۔

مجھے نفرت ہے اس عورت سے شدید نفرت ۔۔۔!!!!

میں نہیں مانتی کہ بھابھی بری تھیں۔

وہ تو بہت اچھی تھی ۔۔۔

تم یہاں نہیں تھے ۔۔

تمہیں بھائی کی عادتوں کا علم نہیں ہے شاید ۔۔۔۔۔۔

آپی میں بہت اچھی طرح سمجھ رہا ہوں کہ آپ کس کی زبان بول رہی ہیں۔ ۔ ۔۔۔

مجھے اچھی طرح اندازہ ہو رہا ہے بخوبی۔۔۔۔۔

میں خوب اچھے سے اس عورت کی سازشیں سمجھ رہاہوں ۔۔۔

مجھے پتا ہے اچھی طرح سے کہ اس عورت کو اب ہمارا بھتیجہ کھل رہا ہوگا۔۔۔۔۔

وہ اس کو پال نہیں سک رہی ہو گی ۔۔۔

اس لیے آپ سے وہ ہر ماہ کا خرچہ اینٹھنے کیلئے ہی آپ کو شیشے میں اتار رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

نہیں رحمان ایسا نہیں ہے ۔۔۔

بھابھی نے تو مجھ سے ایک لفظ بھی نہیں کہا وہ تو مجھے دیکھ کر ۔۔

دھڑام ۔۔۔۔۔۔۔۔

دھڑ سے کسی کے گرنے کی آواز آئی تھی دونوں نے چونک کر دیکھا ۔۔۔

جلال زمین پر اوندھا گرا پڑا تھا ۔۔۔

کیا بات ہے؟؟؟؟

آج تو ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھ سے چھپنے کے لئے سات پردوں کی تلاش میں ہیں ہماری زوجہ محترمہ ۔۔۔۔

داود عائشہ کے پیچھے پیچھے ہی کچن میں نکل آیا تھا جہاں غزل بڑے مزے سے بیکنگ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔

دیور جی آپ نے عاشی کو کچن میں کیوں آنے دیا؟؟۔۔

آپ کو نہیں پتا کہ عاشی کی طبیعت کتنی خراب ہے ؟؟؟

ڈاکٹروں نے محترمہ کو اچھی غذا اور آرام کرنے کی سخت تاکید کی ہے ۔۔۔

اب آپ اس کو سمجھائیں اچھی طرح کہ یہ ٹھیک سے کھانا پینا کر ے۔ ۔

چوزے جیسا کھانا یہ چھگتی ہے بالکل ۔۔۔

غزل بیٹر کو سانچے میں انڈیل کر اوون میں رکھتے ہوئے بولی تھی۔۔۔

چہرہ حددرجہ سنجیدگی لئے ہوئے تھا۔۔۔۔

کیا ہوا بھابھی سب خیریت تو ہے نہ ؟؟؟

وہ صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا ۔۔۔

جبکہ عائشہ موقع کا فائدہ اٹھا کر کچن سے نو دو گیارہ ہو گئی ۔ ۔۔

بس داود کیا بتاؤں میرے پاس تو الفاظ ہی نہیں ہے کچھ کہنے کے تم خودجاکر اپنے کمرے میں بیڈ پہ رکھے لفافہ کو کھول کے دیکھ لو ۔۔۔

میں بیڈ پہ کر رکھ کر آئی ہوں اس میں عائشہ کی رپورٹس ہے ۔۔۔۔

وہ لہجے کو حد درجہ غمگین بنا کر بولی ۔۔۔