Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 28

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 28

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

آپ سب ؟؟

حمزہ کے چہرے پر یخلقت خوشی پھوٹ پڑی تھی ۔وہ حیران تھا سب کو دہکھ کر۔ ۔۔

“ارے چاچو آپ یہ اپنا اتنا بڑا کھلا ہوا منہ بند کریں نہیں تو مکھی گھس جائے گی ۔۔”

جزدان نے حمزہ کا حیرت سے کھلا ہوا منہ دیکھ کر چوٹ کی ۔۔

“ادھر آ تو موٹے میں تجھے بتاتا ہوں “۔۔۔

حمزہ نے چہکتے ہوئے جزدان کے پیٹ میں مکا رسید کیا تھا ۔۔۔

“کوئی بات نہیں چاچو ٹھیک ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں آج آپ کا دن ہے ۔۔۔”

وہ بڑے مزے سے اپنی گول گول آنکھیں پٹ پٹا کر بولا مگر اچانک کہتے ہوئےجزدان کر رہا اٹھا تھا ۔۔

ننھی ایشل نے ننھے ننھے قدم اٹھاتی نہ جانے کب میں جزدان کے پیر پر اپنے چار نئے نئے نکلے دانتوں سے کٹا کر چکی تھی ۔۔

وہ بلبلاتے ہوئے پلٹا تھا اور اسکو ٹکر ٹکر تکتی ایشل کو اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا اور گود میں لے کر بولا ۔۔

“اے تم نے مجھے کیوں کاٹا “۔۔۔۔؟؟

وہ ابرو اچکا کر اسکو دیکھ کر بولا تھا ۔۔

“نی نی آئی تتا۔ ۔”

وہ اپنی زبان میں خوش ہو کر تالیاں بجاتی ناجانے کیا بول رہی تھی ۔۔

“موٹویہ کہہ رہی ہے کہ آپ کے برگر جیسے پیر کو دیکھ کر میری بھوک چمک اٹھی تھی۔ اس لئے میرے دانتوں سے رہا نہ گیا اور آپکو پپوکر لیا ۔۔”

حمزہ نےحساب برابر کیا ۔۔۔

“ارے یار اب کیا تم لوگ باتوں میں ہی لگے رہو گے یا کیک بھی کاٹو گے “؟؟؟

بشر نے بیٹے کے سر پر چپت لگا کر باقی سب کو بھی لپیٹا ۔۔

اوکے تو پھر کیک کاٹ لیا جائے ؟؟؟

کیا خیال ہے؟؟؟؟؟

شفا کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔

“کیک۔ ۔۔۔۔۔کاٹ لیا جائے۔۔۔۔۔۔”

وہ جان کر تھوڑا اونچا بولی تھی کیونکہ آئمہ کچن میں کیک لیے کھڑی تھی چھپ کے سب سے۔ ۔

‘ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ڈیر ہومی “

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو” ۔۔

ائمہ کیک اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے مامتا سے چور لہجے میں اس کو مبارکباد دیتی محبت سے اس کا ماتھا چوم چکی تھی۔۔

” مما آپ بھی”۔۔۔۔

وہ ششدر سہ خوشی سے جھوم اٹھا تھا ماں کو دیکھ کر۔

‘ بالکل میری بیٹی نے میرے بیٹے کے لئے اتنا پیارا سرپرائز پلان کیا تھا میں کیوں نہ آتی ۔”

چلیں اب جلدی سے کیک کاٹ لیتے ہیں حجاب ندیدوں کی طرح کیک کو دیکھ کر بولی تھی اور جلدی سے بچوں کے لئے لایا گیا برتھ ڈے کیپ اٹھا کر اپنے سر پر پہنا تھا ۔،

“ارے بیٹا تم تو پہن لو “۔۔

شفا نے جزدان کو کہا ۔۔

“نہیں میرے بدلے میری ماما پہن چکی ہیں کافی ہے ۔۔۔”

وہ منہ کا بسور کہ چڑھ کر حجاب کو دیکھتے ہوئے ایسے بولا جیسے بہت بڑا اور عقلمند ہو۔۔

وہاں پہ موجود سب کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی جزدان کے اس طرح کہنے سے ۔۔۔

“کیا ہے یہاں تو اپنا بن بتوڑی والا چہرہ مت دکھاؤ اور یہ تم کیا کیک کو ندیدوں کی طرح دیکھ رہی ہوں ۔۔۔”

بشر نے ڈانت پیسے اوور خشمگین لہجے میں کہتے ہوئےاسکو ٹہوکا دیا جبکہ جزدان نے حجاب کو گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔

“ارے پہلے یہ شاپنگ بیکس تو ہٹا لو آئمہ نے ٹیبل پہ بکھرے شاپرز کو دیکھ کر کہا ۔۔۔”

“اوہو۔ ۔۔ شاپنگ” ۔۔۔

“پہلےیہ دیکھ لیتے ہیں نا” ۔۔۔

حجاب شاپر ز کی طرف بڑھتے ہوئے بولی تھی وہ آج بھی بالکل ویسے ہی تھی نٹ کھٹ اور عقل سے پیدل ۔۔۔

حمزہ سٹپٹایا تھا جبکہ شفا کا حال بھی حمزہ جیسا ہی تھا اس کے چہرے پر بوکھلاہٹ کا عنصر نمایاں تھا کیونکہ وہ شاپنگ ہرگز بھی کسی کو دکھانے والی نہ تھی۔ ۔۔

ھورم نے حمزہ کے سٹپٹائے چہرے کو دیکھ کر شفا سے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے سے استفسار کیا “کہ کیوں اس قدر بوکھلا رہی ہو”؟؟؟

شفا نے بیحز کی طرف اشارہ کر کے اسکو سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی تھی ۔۔

“ارے حجاب پہلے کے کاٹ لیتے ہیں پھر شاپنگ آرام سے شفاء کے ساتھ مل کر دیکھیں گے”۔۔

وہ نرمی سے کہتی تمام شاپرز اٹھا چکی تھی حجاب اور حورم کی کافی دفعہ ملاقات کی وجہ سے بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی بلکہ کئی دفعہ تو حورم اس کی شامت بھی لے لیا کرتی تھی جب وہ خفا ہوکر بشر سے ڈانٹ پٹنے کے بعد اس کو فون کر کے اپنے کارناموں کے بارے میں ہمدردی بٹورنے کی کوشش کرتی ۔۔

حمزہ نے شفا کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا تھا ورنہ آج بھری محفل میں کام ہو جانا تھا اس کا ۔۔۔

کیک کاٹنے کے بعد خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا ۔کھانے کے بعد سب لوگ ڈائننگ روم میں بیٹھ چکے تھے اور اب خوش گپیو ں میں مصروف تھے۔۔۔

ارے بیٹا یہ تمہارا ایک ہی بیٹا کیوں ہے ابھی تک ۔۔؟؟؟؟؟

ائمہ نے حجاب سے پوچھا تھا ۔۔

حورم اور شفا بھی کچھ فاصلے سے سنگل صوفے پر ٹکی ہوئی تھیں جبکہ بشر آدم اور حمزہ بڑے مزے سے زمین پر بچھے کارپٹ پر ریلیکس ہو کر بیٹھے ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔۔

مگر بشر چوکنا ہوچکاتھا ائمہ کی بات کو سن کے اس کو حجاب سے کسی بھی قسم کی” پیاری پیاری” باتوں کی امید تھی ۔۔

“بس آنٹی یہ بھی بہت مشکل سے پیدا ہوا ہے کیونکہ بشر سے جب بھی میں کہتی ہوں ایک اور بیبی پلان کر لیں تب وہ کہتے ہیں کہ پہلے تم بڑی ہو جاؤ اور جزدان کو پال پوس کر بڑا کر دو پھر سوچیں گے اس بارے میں” ۔۔

اس کس طرح کہنے کے ائمہ بھی یکدم بوکھلا گئی تھی ۔۔

حجاب بڑے مزے سے گرین ٹی کی چسکیاں لیتی کہہ گئی تھی مگر پھر بشر کی خشمگین نظروں کو دیکھ کر بہت جلد اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ضرور کچھ غلط گوہر افشانی کر بیٹھی ہے ۔۔

جبکہ شفاء ،ائمہ کے سامنے اس طرح کی بات کو سن کر جلدی سے چولہا دیکھنے کا بہانہ کرکے وہاں سے اٹھ چکی تھی اور بیچاری حورم جلدی سے ایشل سی باتوں میں لگ گئی اورپوچھنے لگی تھی کہ۔۔۔

” بیٹا آپ کو بھوک تو نہیں لگی ہے “۔۔۔

آدم نے حورم کے چہرے کو دیکھا جو کہ سرخ ہوچکا تھا حجاب کی بات پہ ۔۔۔

“بڑا کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔”

آدم نے بشر کاشانہ ہمدردی سے تھپتھپا کےچہرے پر افسردگی سمو کر کہا ۔۔

” اب کر ہی لو دوسرا بیبی نہیں تو اگلی دفعہ اشتہار لگے ملیں گےجگہ جگہ “۔۔۔

آدم نے کچھ اس انداز میں کہا کہ اس کی بات سنکر حمزہ کا فلک شگاف کہہ کا بلند ہوا تھا ۔۔

جب کہ آدم نے بہت آہستہ سے کہا تھا مگر ان تینوں کے فلک شگاف قہقوں نے سب کو متوجہ کر ڈالا تھا ۔۔۔۔

“اپنے بارے میں کیا خیال ہے “؟؟؟

میری تو ابھی کاف سے کچی ہے ذرامیں پہلے دو بچوں کو تو بڑا کرلوں پہلے” ۔۔۔

پیر میری چھوڑو تم اپنی بات کرو ۔۔!!!

وہ آدم کو خفگی سے گھورتے ہوئے لہجے میں حددرجہ بیچارگی سمو کر بولا تھا ۔۔۔

“میری فکر مت کرو میرا ارادہ تو پوری کرکٹ ٹیم بنانے کا ہے “۔۔۔

“ابھی فی الحال کوچ سے بات چیت چل رہی ہے دیکھو نتیجہ جلد ہی مثبت اندازسامنے آجائے گا ۔۔”

وہ شریر لہجے میں حورم کو دیکھ کر بولا تھا جو گھبرا کر اپنا پہلو بچا کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل چکی تھی ۔۔۔

بچاو۔۔۔ بچاو۔۔۔!!

“مجھے اس جنگلی بلی سے بچاؤ نہیں تو یہ آج مجھے اپنے دانتوں سے زخمی کر دے گی۔۔۔”

جزد ان کی بلبلاتی آواز گونجی تھی۔۔

جو پورے لاؤنج میں ادھر سے ادھر چکر آتا پھر رہا تھا ۔۔۔

ایشل کےسوڑوں میں اچنگ ہو رہی تھی وہ مستقل اس کے پیچھے پیچھے اس کو کاٹنے کے لئے گھٹنوں گھٹنوں کرولنگ کر رہی تھی ۔۔

لگتا ہے ایشو آج دان کا وزن کم کرکے ہی اس کا پیچھا چھوڑے گی۔۔۔

بشر نے اپنے بیٹے کی گد بنتے دیکھ کر کہا تھا چہرے پر شرارت رقم تھی ۔۔۔

“کیا خیال ہے رشتہ پکا کر دیں ا بھی سے؟”

بشرنے آدم اورحمزہ کو دیکھ کر بڑے مزے سے کہا تھا۔۔

” نا بابا میری بیٹی میرے پیارے سے بھتیجے کو ناکوں چنے چبوا دے گی پوری آفت کی پر کالا ہے”

آدم نے ڈرایا تھا۔۔۔

حمزہ غائب دماغی سے ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا اس کی نظریں مسلسل شفا کا طواف کر رہی تھی ۔۔

سب کو الوداع کہنے کے بعد شفا کچن میں تھی جلدی جلدی کام سمیٹ رہی تھی ایک کپ چائے کا روم میں لے آنا ۔۔

اس وقت چائے وہ حیران ہوئی تھی کیونکہ حمزہ چائے صبح کے ناشتے میں بھی شاذونادر پینا ہی پسند کرتا تھا اس کو چائے زیادہ پسند نہ تھی شفا نے سوچتے ہوئے چائے کا پانی چڑھایا ۔۔۔۔

کچھ پتہ چلا لائبہ کا؟؟؟

رحمان صاحب کی پریشانی سے پر آواز گونجی تھی فون پہ ۔۔

جی بابا لائبہ بالکل ٹھیک ہے وہ اس وقت اپنی ایک دوست کے گھر ہے ۔۔۔

وہ لائبہ کے سر کو سہلاتے ہوئے بولا تھا آنکھیں شدید سرخی لیے ہوئے تھی ۔۔

دوست ؟؟

کونسی دو ست اسکی؟ ؟؟

یہاں تو کوئی دوست نہیں رہتی اسکی ۔۔۔

رحمان صاحب ٹھٹکے۔ ۔

بابا دراصل اس کی ایک بیسٹ فرینڈ ثانیہ شادی کے بعد کراچی ہی بہا کر آئی ہے ۔۔

مجھ سے صبح جھگڑا ہونے کی وجہ سے وہ ناراض ہو کر کسی کو بھی بتائے بغیر گھر سے نکل آئی تھی ۔۔۔

اس نے باپ کو مطمئن کرنا چاہتا وہ کسی طور بھی لائبہ کی عزت پر حرف نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔۔۔

اسے تمہاری بات کب ہوئی ہے؟ ؟

وہ میری تو کالر آٹھاہی ہی نہیں رہی ہے ۔۔

رحمان صاحب مطمئن نہیں ہو پا رہے تھے ۔۔۔

ابو آپ بے فکر ہو جائیں میں خود ابھی لائبہ سے مل کر آ رہا ہوں وہ بالکل ٹھیک آپ پریشان نہ ہوں ۔۔

میں تھوڑی دیر میں اس کو واپس گھر لے آؤں گا آپ بے فکر ہو جائیں ۔۔

چلو ٹھیک ہے دیکھ کر ڈرائیو کرنا کیونکہ موسم کی تیور بہت گڑبڑ ہورہےہیں۔ ۔

جی بہتر کچھ دیر میں پہنچتا ہوں لائبہ کے ساتھ خدا حافظ۔۔۔۔۔

رحمان صاحب پرسکون ہوئے خ۔۔

کیا لائبہ اور عمر کی کوئی لڑائی ہوئی تھی صبح ؟؟؟

فون رکھنے کے بعد وہ سمیرا اور آئمہ سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔

جی ہاں ایسے ہی عمر نے شرارت میں لا ئبہ کو تنگ کیا تھا ۔

جس کی وجہ سے وہ خفا ہو گئی تھی اس سے ۔۔۔

سمیرا نے شوہر کو تعجب سے دیکھا تھا بھلا اس سوال کا اس وقت کیا کام تھا۔ ۔۔

وہ بھی اس قدر پریشان کن صورتحال میں ۔وہ استہفامیہ نظروں سے شوہر کو دیکھ رہی تھی جبکہ آئمہ بالکل خاموش تھی جیسے درمیان وہ موجود ہی نہ ہو ۔۔

تمہارے صاحبزادے کی وجہ سے لائبہ ناراض ہو کر اپنی دوست کے گھر چلی گئی تھی۔۔۔

کیا ؟؟؟

سمیرا حیرت سے بولی تھی۔۔۔۔

جی ہاں ۔۔!!

آپ اپنے صاحب زادے کو سمجھائیے کہ فضول حرکات میں وقت برباد کرنے کے بجائے حمزہ کی طرح بزنس ورلڈ میں اپنا نام بنائے ۔۔۔

رحمان صاحب کی لہجے میں غصے کی آمیزش تھی مگر اب وہ قدرےپرسکون بھی ہو چکے تھے ۔۔

یہ جان کر کہ۔ ۔۔

واقعی عمر سچ کہہ رہا تھا وہ خفا ہو کر گئی تھی۔۔۔۔۔

وہ مزید کچھ بھی سنیں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کا رخ کرنے کے بجائے ائمہ کے بیڈروم کا رخ کر گئے تھے ۔۔

سمیرا اورآئمہ نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا تھا ۔۔

یہ ایک معجزہ ہی تھا ۔۔

عمر لائبہ کو لے کر اپنے دوست کے خالی اپارٹمنٹ میں آگیا تھا۔۔

لائبہ کی حالت ہرگز بھی ایسی نہ تھی کہ وہ فوری اس کو گھر لے جا سکتا ۔۔

وہ ہوش کی دنیا میں جیسی ہی لوٹی تھی خود کوایک انجان کمرے اور عمر کو خود سے کچھ فاصلے پر بیٹھا اس کا سر سہلاتے دیکھ ۔۔

وہ یخلقت اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔

عمر تت۔ ۔ تم؟؟؟

لہجے میں بے یقینی تھی۔

چہرہ پہ شدید ترین کرب اور بے بسی کی تحریر رقم تھی جبکہ آنکھوں کے گوشے بھیگے ہوئے تھے ۔۔۔

بس خاموش ہو جاؤ اور پریشان مت ہوں میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔

عمر بہت مشکل سے خود پہ ضبط کر سکا تھا ورنہ لائبہ کی ابتر حالت دیکھ کر اس کا دل کر رہا تھا کہ پوری دنیا کو تہس نہس کرکے آگ لگا دے۔ ۔۔

وہ لائبہ کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتا تھا ابھی تو اس نے لائبہ کی ڈھال بن کرخے کئی کٹھن راستوں سے گزرنا تھا۔۔۔

عمر تم اس وقت کہاں تھے جب وہ شخص مجھے اپنی درندگی کا نشانہ بنا رہا تھا ؟؟

وہ سسکیوں سے روتے ہوئے عمر کا گریبان سختی سے جکڑتے ہوئے بولی تھی۔۔

میری بدقسمتی یہ ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوئے ظلم کے وقت تمہیں بچا نہیں سکا ۔۔

عمر کے لہجے میں آنسوؤں کی آمیزش گھلی ہوئی تھی۔ ۔۔

عمر تم ایک کام کرو مجھے مار دو۔۔

مجھے جینے کا کوئی حق نھیں ھے۔۔

وہ ہذیانی انداز میں کہتی عمر کے دونوں ہاتھوں کو اپنی سراہی دار گردن کے گرد جماتے ہوئے بولنے لگی ۔

پاگل ہو گئی ہو ؟؟؟

تمہارا دماغ ٹھیک نہیں ہے ۔۔

مت کرو اس قسم فضول باتیں کچھ نہیں ہوا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔!!

ایک دردناک خواب تھا وہ بھول جاؤ اسکو۔ ۔۔

عمر اس کو سینے سے لگا کر خودمیں بھیجتے ہوئے بولا تھا۔

دو موتی ضبط کے باوجود بھی اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے تھے جو لائبہ کے بالوں میں کہیں جزب ہو گئے تھے ۔۔

عمر تم میری بات کو سمجھو ۔۔۔

میرے پاس اب کچھ نہیں بچا وہ شخص مجھے زندہ لاش بنا گیا ہے۔۔

اس نے میرے وجود کو تار تار کردیا ،میری عزت نسوانیت کچھ بھی تو باقی نہیں چھوڑا میرے پاس۔۔۔۔

تم سمجھو میری بات کو میں معاشرے کے لئے گالی بن چکی ہوں ۔۔

وہ اس کے چہرے کو اپنی ہتھیلیوں کےپیالےمیں لےکر ایسے سمجھا رہی تھی جیسے یہ سب جان بوجھ کے کر گزری ہو وہ اب چیخنے چلانے کے بجائے نرمی سےعمر کو بتا رہی تھی۔۔

سمجھا رہی تھی اور شاید خود کو بہلا رہی تھی ۔۔