Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 32

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 32

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

کیا ہوا آپ کو حمزہ ؟؟؟

جو آپ اس طرح سے میرے ساتھ پیش آ رہے ہیں کیا مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے ؟؟؟

وہ بھاگتی ہوئی حمزہ تک پہنچی تھی۔

ابھی تو زندگی نے نئی کروٹ بدلی تھی ۔۔

چند گھنٹوں قبل ہی تو خوابوں نے حقیقت کا روپ دھارا تھا ۔۔

پھر اچانک یہ غم کے بادل کہاں سے آگئے ؟؟

بغیر کسی آندھی کی اطلاع کیے اس کا سب کچھ برباد کرنے کو ؟؟؟

وہ تو تہے دل سے اپنے اور ہمزہ کے بنائے گئے قدرت کی طرف سے اس خوبصورت رشتے کو دل و جان سے قبول کر بیٹھی تھی ۔۔۔

اس کو اپنا دل و جان سے من محرم تسلیم کرچکی تھی ۔۔

اپنا آپ اسکو خوشی خوشی سونپ گئی تھی۔ ۔

ہا ۔۔۔۔۔۔۔

تو پھر اچانک کیوں یہ کالی آندھی اس کا سب کچھ اپنے ساتھ اڑا کر لے جانے کے لئے آندھمکی؟؟؟

کتنی خوش تھی وہ چند لمحوں قبل ۔۔۔

اپنے وجود کو حمزہ کی قربت سے مہکتا محسوس کرتی۔ ۔۔۔۔

تو کیا اس کی خوشیوں کو اسی کی نظر کھا گئی ؟؟

صحیح معنوں میں خود کو سہاگن تو آج کی صبح ہی اس نے تسلیم کیا تھا۔۔۔۔

پھر اب کیوں اس سے اپنا نام چھیننا چاہتا تھا وہ ستمگر ۔۔۔!!!

وہ اسی وقت سن رہ گئی تھی جب حمزہ اس کو ہمیشہ کے لئے خود سے دور کرنے کے لئےآزادی کے تین لفظ کہنے کو تھا ۔۔

وہ اس وقت ہی خود کو جیتا جاگتا قبر میں اترتا محسوس کر چکی تھی ۔۔

دور ہو جاؤ شفا مجھ سے۔۔۔!!

میں فیصلہ کر چکا ہوں اور میرے فیصلے میں ردوبدل کی اب کوئی گنجائش نہیں نکلتی ۔۔۔۔

وہ کٹھور بنا سنگ دلی سے کہہ رہا تھا ۔جبکہ لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔۔۔

نظر یں کچھ اور ہی داستان سنا رہی تھیں۔ ۔

شفا سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آنکھوں کی زبان کو سچ مانے یا پھر زبان سے نکلے جان لیوا تیروں کو حقیقت جان کر اپ نے برباد ہونے کا یقین کر سوگ منائے ماتم کرے ۔۔

ہم کو ستم عزیز ۔۔!

ستم گر کو ہم عزیز ۔۔!!

تم نے مجھے کسی ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا رات بھر ۔۔۔!!

بقول تمہارے میں تمہاری ضرورت ہوں۔۔

تو کیا تمہاری ضرورت پوری ہو گی محض ایک ہی رات میں؟؟

بھر گیا تمہارا دل مجھ سے ؟؟؟

اگر عورت کےجسم کی طلب تھی یا پھر اپنے منہ زور ہوتے جزبات کو لگام نہیں ڈال پارہے تو تم جاکر کسی کوٹھے پہ طوائف کے وجود سے بھی اپنی ضرورت کو پورا کرسکتے تھی۔ ۔۔۔

پوری ہوجاتی ضرورت ۔۔۔!!!

وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے خوفی سے کہتی ہاتھ مار کے صوفہ کے پاس رکھا گلدان توڑ چکی تھی۔

طوائف کے وجود سے کھیلنا اور اپنی روتیں کوٹھوں پہ رنگین کرنا بیوی ہونے کے باوجود تمہارے باپ کی فطرت ہے۔

میرا شوق نہیں۔ ۔۔۔!!!

وہ باور کرارہا تھا۔ کتنی سفاکی تھی اسکے لہجے میں۔ ۔۔۔!!

تمہارا باپ۔ ۔۔

تمہارا باپ۔ ۔۔۔۔۔۔!!

بس کرو یہ جملہ بار بارکہنا ۔۔۔

تم نے کونسا بہت اچھا کام سرانجام دیا ہے آخر کر ہی دیا صابت کہ میرے باپ کے ہی بھائی کا لہو تمہاری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ ۔۔!!

ٹھپہ لگا کہ تم نے اس بات کا ثبوت پیش کردیا ہے کہ تم ہو آخر میرے باپ کے ہی بھتیجے۔ ۔۔!!

شفاء اپنی آنکھوں میں ویرانی لیے ہذیانی انداز میں چیختی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔

میرے وجود کی “ضرورت “سے پہلے تم میرے لئے صرف اور صرف تمہارے باپ سے پورا کیا گیا انتقام ہو ۔۔

تمہارے ذریعے مجھے اپنا انتقام لینا تھا جو کچھ میری ماں کے ساتھ گزری تھی۔۔ اب تمہارے باپ کو پتہ چلے گا جب تم لٹی پھٹی اپنے باپ کے گھر پہنچوں گی ۔تب تمہارے باپ کو بیٹی کے دکھ کا اندازہ ہوگا ۔۔

ہوگیا تمہارا انتقام پورا ۔۔؟؟؟

ویسے سوچ ہے تمہاری یہ کہ میں اپنے باپ کے در پہ جاونگی ۔۔۔

موت کو گلے تو لگاسکتی ہوں مگر اپنے ماں کی آنکھوں کا غرور اور فخر نہیں چھین سکتی۔ ۔۔

موت کا وقت مقرر ہے سب کا ۔جانا تو تمہیں اپنے باپ کی دہلیز پہ ہی پڑے گا ۔اسکے علاوہ کوئی ٹھکانہ بھی تو نہیں ہے تمہارے باس۔ ۔۔۔۔!!

وہ شاید خود کو بہلارہا تھا۔ ۔

خدا کی زمین بہت کشادہ ہے تمہیں فکر مند ہونے ضرورت نہیں۔ ۔

آور بہت کہہ چکے ہو تم اپنی۔۔

اب زدامیری بھی سنو ۔۔

جو میرے باپ نے بڑی ماں کے ساتھ کیا اس کے لیے میرا باپ ان سے معافی بھی مانگ چکا ہے ۔

اور وہ انہیں تہہ دل سے بخوشی معاف بھی کر چکی ہیں ۔

تو کیا ایک معافی سے میری ماں کے ساتھ تمام کئے گئے مظالم کا مداوا ہو جائے گا ؟؟

آنکھوں میں کرب لیے وہ اس کے سامنے سراپا سوال تھا ۔۔۔

وہ پل بھر کو خاموش رہی ۔

کچھ سوالوں کے جاب وقت دیتا ہے۔ ۔

اور اس سوال کا بھی تمہارے جواب وقت ہی دیگا۔ ۔۔

ٹھیک ہے ہوگیا نا تمہارا انتقام پورا اب؟ ؟؟

وہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ تے ہوئے بے بس اور تڑپتی غم سے چور لہجے میں بولی ۔۔۔

واقعی حمزہ اگر تم اپنے نام کے اصل معنی جانتے تو کبھی بھی ایک عورت کو اپنے انتقام کی بھہنٹ نہ چڑھاتے۔۔

تم تو وہ مرد ہو جو اپنے نام تک کا پاس نہ رکھ سکا

۔۔۔وہ خاموش رہے کر جانا نہیں چاہتی تھی۔ اپنے ساتھ کئے گئے عظیم ستم کو اس ہرجائی کو احساس دلا کر ہی وہ اسکی زندگی سے دور ہونا چاہتی تھی۔ ۔۔

میں ڈائیورس پیپر تیار کروا رہا ہوں ۔۔

اگلے دو چار دن میں تمہیں مل جائیں گے ۔

پھر تم آزاد ہو جس طرح چاہو اپنی زندگی گزارنا ۔۔

وہ سفا کی سے کہتا اس کی حیثیت ٹکے کی کر گیا تھا ۔

کیا بات ہے واہ بہت شاطر دماغ کے حامل شخص ہو۔ ۔۔۔

وہ چاہ کر بھی اس ستمگر سے اب بھی نفرت نہیں کر پا رہی تھی ۔

دل کو اب بھی ایک مو ہوم سی امید باقی تھی کہ شاید اس ستمگر کو وہ عزیز ہوجائے ۔۔۔!!

اپنا حق وصول کر کے تم نے مجھے چھوڑ دیا بہت اچھا انتقام لیا ہے ویسے تم نے میرے باپ سے ۔۔۔

آپ نے اپنا انصاف کر لیا مسٹر حمزہ جلال ٹھیک ہے مگر میں اپنا انصاف اپنے اللہ پر چھوڑتی ہوں۔۔۔

میں کسی بھی قسم کا انصاف تو کیا فیصلہ کرنے تک کی قابل نہیں ہوں کیونکہ میں اللہ پہ پورا ایمان رکھتی ہوں کہ وہ مجھے بہتر انصاف دلائے گا ۔۔

“یا اللہ پاک میں تو اس شخص کو معاف کر رہی ہوں مگر تو بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔۔”

وہ فرش پہ بیٹھتی دھپ سے کعبہ شریف کی طرف منہ کرے اپنی جھولی پہلا کہ اس کل کائنات کے مالک سے ہم کلام ہوئی تھی ۔

آنکھوں سے اشک روا تھے ۔

لہجہ درد لیے ہوئے تھا جبکہ دل ۔۔۔

ظالم دل اب بھی صرف ایک دعا کر رہا تھا کہ۔۔

کاش وہ اس کو نہ چھوڑے ۔۔۔

اسکے نام کے ساتھ اپنا نام نہ ہٹائے مگر وہ ہرجائی کہاں اسکے دکھ اور فریاد کو سنتا؟ ؟؟

خوش تو تم بہت ہوگے نہ آج کیونکہ تمہارا آج بہت بڑا مقصد جو پورا ہوا ہے۔

تمہاری کم ضرف زہنیت کے مطابق میں اپنا سب کچھ لٹا کر واپس اپنے باپ کی دہلیز پہ قدم رکھوں گی ۔؟۔

مگر تم یہ مت بولنا جس کے وجود کے ساتھ تم نےسارہ وقت کھیلا ۔ اپنی رات کورنگین بنایا اورجس کے وجود سے ہی تم نے اپنے وجود کو راحت بخشی ۔وہ کوئی اور نہیں بلکہ تمہاری بیوی ہی ہے ۔۔

وہ لبوں پہ قفل چڑھائے اس سر پھری بپھری ہوئی نازک سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔۔

کس قدر حوصلہ اور ہمت تھی اس میں کہ وہ اب بھی اپنا سب کچھ گواہ دینے کے باوجود بھی اس کو معاف کر چکی تھی ۔۔

کتنا بڑا ظرف تھا اس کا ۔۔

مجھے بدلے کی آگ میں لپیٹ کر خاکستر کر کے تمہاری وجود میں جمی ہوئی برف پگلی ہے نہ ؟؟

وہ اب وہ بہت مشکل سے اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی تھی ۔

میں پیپر بنوا رہا ہوں پہلے تم سائن کر دینا پھر میں کردوں گا اپنا۔۔۔

وہ اسکی بات کو سن کے باوجود بھی ان سنا کرگیا

یہ شوق بھی پورا کرلیں۔ ۔۔

میں آپ کو روکو میں نہیں ۔۔!!

بلکہ۔ اب تو میری خود کی بھی یہی خاوہش ہے۔ ۔۔

وہ کہہ کر رکی نہیں تھی اور حمزہ کو تنہا کر اس کے گھر کی دہلیز ہمیشہ کیلئے پار کر گئی تھی ۔۔۔

آنکھیں پانیوں سے تر ہو چکی تھی اور وہ بے ہمت سی ہوئی پلکوں کی چلمن گرا گئی تھی ۔۔۔

مصطفی کو ٹوٹ کر پیار آیا تھا اس دشمنی جہاں پہ۔۔۔۔۔۔

اس لمہے وہ اسکوکسی موم کی گڑیا سی لگی تھی جو ذرا سی لوح دینے سے پگھلنے کو تھی ۔۔۔

اسکو سوہاکے اس طرح معصومانہ انداز میں سٹپٹا کر سر جھکانے سے جیسے رحم سا آگیا تھا اس ۔۔

یکایک اپنے دونوں ہاتھ اس کی چھریری کمر سے ہٹا کر مصطفی نے اس کو بھرپور نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔

اور پھر اس کے گلابی چہرے کو وارفتگی لٹاتی نظروں سے تکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اس کے چہرے کو قید کر گیا۔ ۔حیا کے کئی رنگ اس پل سوہا کے چہرے کا طواف کر رہے تھے ۔۔

تمہاری اسی کمسنی اور معصومیت نے ہی تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔”

وہ بڑبڑایا تھا ۔۔۔

وہ بہت اچھی طرح سے محسوس کر سکتا تھا کہ سوہا اس کی آنچ دیتی قربت سے بری طرح سہم گئی تھی ۔۔

جج۔ ۔۔ججیییییی۔ ۔۔؟؟

میں کچھ سمجھیں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔

منمنائی تھی ۔۔۔

یہی تو مشکل ہے کہ تم جانتے بوجھتے بھی سمجھنے سے قاصر ہوں یا پھر سرے سے سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہو۔۔۔!!!

وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا جیسے کچھ پوچھنا چاہ رہا ہو۔۔

یا پھر کسی پہلی کو سلجھانے کی تگ و دو میں ہو ۔۔

کچھ چیزوں کو وقت سے پہلے سوچنا اور ان کے تانے بانے بنا بیوقوفی ہے ۔۔۔۔

وہ آنکھیوں کے جھروکوں کو گرائے ہوئے بولی تھی خوبصورت دلکش چہرہ مصطفی کے ہاتھوں کے پیالے میں قید تھا۔۔۔

سوہا کو اپنا وجود اس وقت اس کے سحر کے زیر اثر محسوس ہوا ۔وہ بے خیالی میں ہی سر اٹھا ئے اس کو تکے چلی گئی تھی ۔۔۔

وہ ایک کسرتی انتہائی مضبوط جسامت کا مالک شخص تھا۔۔۔ بھرپور مردانہ وجاہت کا مالک ۔۔!!!!

وہ اس کو اس لمحے ایک گھنے سایہ دار درخت کی مانند معلوم ہوا تھا خود کیلئے ۔۔۔

وہ جب جب اسکو دیکھتا تھا کبھی بھی سوہا کو اس کی نظروں میں بے ایمانی نہیں نظر آئی تھی ورنہ عورت تو اپنے اوپر پڑنے والی ایک ہی غلط نظر کو پہچان لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔

“جاؤ آزاد کیا ابھی کے لئے ۔۔۔۔”

اتناہی میرا خوف ٹھیک ہے اب مجھے اندازہ ہے کہ کچھ گھنٹوں تک تم مجھ سے مزید پنگے لینے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ہلکی پھلکے لہجے میں کہتا اس کو اپنے حصارکی قید سے آزاد کرگیا تھا ۔۔۔

وہ بڑے مزے سے کھانا کھانے میں مصروف بھی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔

ویسے کھانا بنانے میں تو تم نے ماسٹر شیف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے بہت بہترین کھانا بنانے لگی ہو۔۔۔۔۔”

ماشااللہ ۔۔۔۔۔”

وہ سچے دل سے تعریف کر رہا تھا سوہا کے ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا۔۔۔۔۔۔۔کچھ لمحوں پہلے کی خفگی کا اب نام و نشان تک نہ تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ لمحوں کا اثر زائل کرنے کے لیے ٹی وی چلا آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم ناظرین ۔۔۔۔۔!!!

لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جو راستے بند تھے وہ اب صاف کر دیے گئے ہیں ۔۔۔ٹئورسٹ سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اپنے رہائش گاہوں کا رخ اختیار کریں کیونکہ اگلے 24گھنٹے میں دوبارہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہونے کا خطرہ موجود ہے ۔۔

سوہا کی حلق میں موجود رائس اسکو کانٹوں کی مانند چھبتے محسوس ہوئے جبکہ مصطفی کے بھی فرائیڈ رائس کے بعد شاشلک کی ڈش اٹھاتے ہاتھ ساکت ہو گئے تھے ۔۔۔

زندگی میں کوئی خوشی کوئی جذبہ مستقل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ ان کےپوشیدہ پاؤں ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارا سلوک اور رویہ دیکھ کہ کبھی یہ دور چلے آ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تو کبھی ذرا سی محبت دینے سے یہ کھنچےچلے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!

بس انسان کو ہر حال میں ثابت قدم اور انصاف پسندی کا دامن پکڑے رہنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔!!!

بس اسی کٹھن کشمکش میں کوئی آباد ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کوئی برباد ہو جاتا ہے۔۔!!!

لائبہ نے وحشت زدہ سی نظر اس مہربان پہ ڈالی تھی جو ہر طرح سے اس کی عزت پہ آنچ نہ آنے کی بھرپور کوششوں میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی محافظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی مضبوط رکھوالے کی طرح ۔۔۔۔!!

وہ ہر صورت اس کا دامن سیاہی کے نہ مٹنے والے داغ سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔!!!

وہ واقعی ایک مہرباں تھا۔۔۔۔۔ جو اس کی زندگی سنوارنے کے لئے خود کو برباد کرنے کے درپہ تھا ۔۔۔۔!!

کیا تھا اب لائبہ کے پاس ؟؟؟؟

کچھ بھی تو نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

کیا دے سکتی تھی وہ عمر کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

سوائے کھوکلے وجود اور زخمی روح کے ۔۔۔۔ !!!!

وہ خالی و ہاتھ تہی دامن تھی۔ ۔۔۔!

بنجر زمین پہ بھی تھا کبھی پھول کھلا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

اس کے باوجود بھی کہ وہ اپنا سب کچھ لٹا بیٹھی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ہار چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!

اسکی عزت کا جنازہ ایک جسم کاپجاری ،ہوس پرست شخص نکال گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔۔

سب کچھ جانتے بوجھتے بھی وہ ڈٹا ہوا تھا اسکے لئے۔ ۔۔۔۔۔!!

کتنی صفائی سے وہ لائبہ کو ہر الزام سے بری کروا کہ خود مجرم نہ ہوتے ہوئے بھی قصوروار ٹھہرا گیا تھا ۔۔۔۔

کیا تھا وہ شخص کیا کوئی فرشتہ ؟؟؟؟

یا پھر انسانیت کی جیتی جاگتی مثال ۔۔۔۔!!!

لائبہ آنکھوں میں نمی لیے بھیگی پلکو ں سے بس اس فرشتہ صفت شخص کو تکے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ابھی وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ کیا اس مطلبی دنیا میں واقعی کوئی اس قدر نیک فطرت ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

درندوں اور گدھ سے بھری پڑی اس دنیا کے بیچ میں ۔۔۔!!!

“ٹھیک ہے آئمہ اور سمیرا آپ لوگ تیاری کریں ان دونوں کا نکاح آج صبح فجر کے بعد ہی کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔”

رحمان صاحب آنکھوں میں شدید اشتعال لیے حکم صادر کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لائبہ نے بوکھلا کر آئمہ اور سمیرا کو دیکھا تھا جن کی آنکھوں میں بھی حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی رقم تھی ۔۔۔

“مگر بغیر لائبہ کے ماں باپ کی موجودگی کےکیسے ممکن ہے نکاح۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

ائمہ نے کانپتے لہجے میں دریافت کیا تھا ورنہ رحمان صاحب کے غصے کے آگے تو وہ بولنے کی سکت ہی نہیں پیدا کر پا رہی تھی خود میں ۔۔۔!!!

جو تمہارے صاحبزادے کرچکے ہیں میری بھانجی کے ساتھ اس کے بعد اب میں اپنی بہن کو زمانے بھر کے سامنے رسوا نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔۔۔!

تمہارے بیٹے نے تو میرے سر میں اس اس عمر میں خاک ڈالنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔۔۔!

“برخوردار ویسے تو تم نے مجھے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ہے مگر مجھے میری بہن اور اسکی امانت بہت عزیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اور آپ دونوں خواتین اس بات کو میرا حکم جان کر جلد از جلد نکاح کی تیاری مکمل کرئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی رہی لائبہ کے ماں باپ کی بات تو وہ میرا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“اور میں اپنے مسائل بہت بہتر انداز میں حل کرنا جانتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

وہ ایک کہ قہر برسات نظر عمر پہ ڈالتے تنفن کرتے جا چکے تھے ۔ !

ناشتے کی ٹیبل پہ گھر کے سبہی افراد موجود تھے سوائے فجر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

بیٹا فجر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

” وہ اٹھی نہیں ابھی تک ۔۔۔۔۔۔۔”

حماد صاحب نے چائے کا کب لبوں سے لگاتے ہوئے گھونٹ بھر کہ استفسار کیا۔ ۔۔۔۔۔ لہجے کو سرسری بنانے کی حد درجہ کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔۔

“جی بابا سائیں وہ سو رہی ہے رات شاید دیر سے سوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے ابھی تک جاگی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

پراٹھا چائے کے ساتھ کھاتے ہوئے ارمغان نے تفصیل سے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“دیر سے سوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟”

حماد صاحب ارمغان کا کہا جملہ زیر لب بڑبڑایا تھا۔ دل میں مزید کی ابہام نے جگہ بنائی۔۔۔۔

ابھی وہ مزید کچھ اور کہنے کو تھے مگر اپنی ماں کو بیٹے سے ہم کلام ہوتے دیکھ خاموشی اختیار کر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ارے بیٹا مجھے ذرا فجر بیٹی کے والد صاحب کے گھر کا ایڈریس تو دیتے جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شگن کے تحائف ان کو بھجوانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

دادی نے جلدی سے کہا !! مبادا کہیں وہ بھول ہی نہ جائیں اور ارمغان آفس کے لیے روانہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

ان کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی فجر کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے دل و جان سے عزیز پوتے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” شادی اتنی جلدبازی میں ہوئی کہ میں کچھ کر ہی نہ سکی اک ارمان تک پورا نہ ہوا میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنے ارمان تھے تیری شادی کو لے کر کے میرے دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تو ہے کہ اکیلا ہی دولہا بن کر نکاح پڑھوا کہ بہو کو بھی گھر لے آیا ۔ ۔ ۔۔”

وہ خفگی۔ سے بولی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

اپنے ریت و رواج کو بھولنا ان کی عادات میں سے نہ تھا ۔۔

“چلو پھر ایسا کرتے ہیں کہ آپ اور غزل ان کو شگن کے تحائف بھی دے آئیں اور ساتھ ساتھ جو ہے آپ دونوں جا کر انکو پرسوں ارمغان اور فجر کے ولیمے کی بھی دعوت دے کر آئیں خود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

پورا پروگرام ترتیب دے کر حماد صاحب نے روبدار انداز میں حکم جاری کیا تھا ۔۔۔۔۔۔!!!

غزل کو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک نرم وگدا ز تاصر پیدا ہوا کرتا تھا ۔۔۔

“ٹھیک ہے بابا سائیں جیسا آپ کا حکم اور دادو میں ڈرائیور کو سمجھا دوں گا ایڈریس ۔۔۔۔۔۔ جب آپ نے اور اماں جان نے جانا ہو تو وہ آپ کو بآسانی پہنچا دے گا وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

“بابا سائیں آج میری غفور سنس کے ساتھ میٹنگ ہے کچھ ہی دیر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے حوالے سے میں آپ سے کچھ اہم نکات پہ تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

اب وہ دونوں باپ بیٹے خالصتاً کاروباری گفتگو میں مشغول ہوچکے تھے ۔جب کہ دونوں ساس و بہو جلدی جلدی ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد فجر کے گھر لے جانے والے شگن کے تحائف کی تیاری میں جت گئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

وہ آنکھوں میں شدید برہمی لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

مم۔ ۔۔۔۔میں نے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

“ما۔ ۔مم۔ ۔۔۔میں نے تت ۔۔۔۔۔تو۔ ۔۔بب۔ ۔۔۔۔۔بس مزاق کک۔ ۔۔۔کیا تھا۔ ۔۔”

سوہا کی تو گویا سٹی گم ہو چکی تھی مصطفی کے خطرناک حدتک خشمگین تیوروں کو دیکھ کر۔ ۔۔

وہ اٹک اٹک کے بڑی مشکل سے تھوک نگل کر بول پائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک لمحہ کی بھی تاخیر کیے بغیر جلدی سے صوفہ کے اوپر چڑھ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اپنے بچاؤ کا ہتھیار بھی جھٹ سے ہاتھ میں اٹھایا ۔۔

وہ کشن ہاتھ میں لئے بڑے مزے سے مصطفی کے ساتھ صحیح معنوں میں دو دو ہاتھ کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاندار تیاری کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

“سوہا یہ کیابچوں والی حرکت ہے نیچے اترو۔ ۔۔۔۔”

“تو آپ بڑوں والی حرکتیں کر لیجئے نہ میرے پیارے مصطفی بھائی ۔۔”

وہ بڑے مزے سے جان بوجھ کر “بھائی” پہ زور دیتی اپنی گول گول آنکھیوں کوپٹپٹا کر بغیر اس کے روب میں آئے بولی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جبکہ تھوڑا سا جھک کہ صوفے پر رکھا دوسرا کشن بھی جلدی سے اٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!

“کشن نہ ہو گئے سیف گارڈ کی پروٹیکٹنگ شیلڈ ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔رکھو ان کو نیچے اپنا آپ تو سنبھال لو پہلے بڑی آئیں مجھ سے مقابلہ کرنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔”۔۔۔۔۔

جلال میں آ کر ہنکارہ بھرا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“جانے دیں تھوڑی ہوا آنے دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ کیا ہے نہ باہر اتنی ڈھنڈ ہونے کے باوجود بھی ریسٹ ہاؤس کے اندر کا موسم 50 ڈگری سے تجاوز کرنے کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے بہت ہی بری طرح دم گھٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔ہائےمیرا تو سانس بند ہونے کو ہے اتنی گھٹن ہو گئی ہے یکدم سے ۔۔۔۔۔۔۔ میرے اللہ رحم کر مجھ معصوم کنواری دوشیزہ پہ ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

لہجے میں حد درجہ بیچارگی سموئی گئ۔ ۔۔۔۔۔۔

وہ آتش فشاں بنے مصطفی پہ چوٹ کرتے ہوئے بولی یہ سوچے سمجھے بغیر کے آخری جملہ نادانستگی میں کیا کہہ گئی ھے ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

“سوچ سمجھ کے بولا کرو میرے سامنے ۔۔۔۔۔۔ نہیں تو صحیح طریقے سے بتاؤں گا کہ دم گھٹنا کسے کہتے ہیں اور رہی بات بڑی بڑی باتیں اور حرکتیں کرنے کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت انے دو ذرا ۔۔۔۔۔۔اتنی بڑی بڑی باتیں اور حرکات کر کے دکھاؤں گا کہ تمہاری سوچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑا انتظار کر لو بس ۔۔۔۔اور الٹی گنتی بھی شروع کردو اب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

وہ کاٹ دار لہجے میں کہتا ہاتھ بھر کے فاصلے پر پھرنکی کی طرح ادھر سے ادھر کودتی سوہا کو نیچے اتارنے کے لیے ایک قدم بڑھا کر صوفے سے صرف دو قدم کے فاصلے پر جا کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

“نن ۔۔۔نہیں ایسےتو میں آپ کے ہاتھ آنے والوں میں سے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ڈرانا بند کریں مجھے۔۔۔۔”

“نہیں تو انارکلی خود کو دیوار میں چنوا دے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ انارکلی کے انداز میں اسٹائل مارتی ماتھے پہ ہاتھ کی پشت ٹکا کر ایک ادا سے بولی تھی ۔۔۔

“او یو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

تمہارے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں تم بھلا کوئی ڈرنے والی شہہ ہو کسی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ کاٹ کھانے والے لہجے میں گویا ہوا تھا ۔۔صحیح معنوں میں وہ اس کی اول جلول حرکتوں سے شدید عاجز آ چکا تھا ۔۔۔

“”شیر اگر سامنے آ کےدھاڑے گا تو اس سے بھی میں ڈرنے کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر آپ۔۔۔۔۔۔۔ آپ سے توروح قبض کرنے کو آئی ملک الموت بھی گھبرا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ اب نہ چاہتے ہوئے بھی سوہا پہ سختی کرنے پر مجبور تھا ۔۔

“خبردار جو مجھ تک پہنچنے یا مجھے چھونے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کود کر اپنی جان دے دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ہاتھ میں پکڑے کشن میں سے ایک اس کے اوپر اچھالتے ہوئے مانو خود کا دفاع کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ ۔۔۔۔۔سوہاکا اچھالا گیا کشن سیدھا مصطفی کے منہ پہ آکے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور مصطفی کے غصے کو مزید تیلی دکھا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصطفی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ہاتھ میں پکڑ کے اس کشن کو اپنے اندر کی پوری طاقت سرف کردیوار پر دے مارا ۔۔۔۔۔

۔وہ صحیح معنوں میں آتش فشاں بنا اس چھٹانک بھر کی لڑکی پہ پھٹنے کو تیار تھا ۔۔۔۔

“سوہا آخری دفعہ کہہ رہا ہوں میرے سامنے زیادہ افلاطون بن نے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔تمہارے ان ٹچ پعیاں قسم کے ہتھیاروں سے میرا کچھ بھی بگڑنے والا نہیں ہے۔۔۔۔ ۔ انہیں اپنے پاس ہی رکھو۔ ۔۔۔۔۔ جن باربی ڈولز سے تم کھیلتی ہو اپنی ان کو سلادینا ان پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ شدید زچ ہو کہ اس کو تھیکے چتونوں سے گھورتے ہوئے وارننگ دینے لگا ۔۔

بولتے رہو ۔۔۔

بس بولتے رہو ۔۔۔

بولو ۔۔۔بولو۔۔۔۔ بولو ۔۔۔۔بس کیا کرو تم ؟؟

بولو بولو بولو؟؟؟

وہ بڑے مزے سے صوفے پر اپنے ہاتھ کی مٹھی سے مائیک بنا کر ایک اوٹ پٹانگ قسم کا خودساختہ گانا بنا کہ گنگنانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آج پورا پورا مصطفی کے صبر کا امتحان لینے در پہ تلی ہوئی تھی ۔